Explained with ayahs 49–50
اولاد کا اختیار اللہ کے پاس ہے
فرماتا ہے کہ خالق مالک اور متصرف زمین و آسمان کا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے جو چاہے پیدا کرے اور بنائے جسے چاہے صرف لڑکیاں دے جیسے حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے صرف لڑکے ہی عطا فرماتا ہے جیسے ابراہیم خلیل علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے لڑکے لڑکیاں سب کچھ دیتا ہے جیسے حضرت محمد ﷺ اور جسے چاہے لا ولد رکھتا ہے جیسے حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ۔ پس یہ چار قسمیں ہوئیں۔ لڑکیوں والے لڑکوں والے دونوں والے اور دونوں سے خالی ہاتھ۔ وہ علیم ہے ہر مستحق کو جانتا ہے۔ قادر ہے جس طرح چاہے تفاوت…
Read the full tafseer →سورة الشُّوْرٰی 77
یہ اللہ کی بادشاہی کے مطلق (Absolute) ہونے کا ایک کھلا ہوا ثبوت ہے۔ کوئی انسان، خواہ وہ بڑے سے بڑے دنیوی اقتدار کا مالک بنا پھرتا ہو، یا روحانی اقتدار کا مالک سمجھا جاتا ہو، کبھی اس پر قادر نہیں ہوسکا ہے کہ دوسروں کو دلوانا تو درکنار، خود اپنے ہاں اپنی خواہش کے مطابق اولاد پیدا کرسکے۔ جسے خدا نے بانجھ کردیا وہ کسی دوا اور کسی علاج اور کسی تعویذ گنڈے سے اولاد والا نہ بن سکا، جسے خدا نے لڑکیاں ہی لڑکیاں دیں وہ ایک بیٹا بھی کسی تدبیر سے حاصل نہ کرسکا، اور جسے خدا نے لڑکے ہی لڑکے دیے وہ ایک بیٹی بھی کسی طرح نہ پاسکا۔ اس معاملہ میں ہر ایک قطعی بےبس رہا ہے، بلکہ بچے کی پیدائش سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
معارف و مسائل
آیات مذکورہ کی ابتدائی آیات میں ان لوگوں کا انجام مذکور ہے جو مومنین صالحین کے بالمقابل بجائے فکر آخرت کے صرف دنیا کی لذت و راحت کے طلب گار رہے۔ اس کے بعد (آیت) اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ میں ان کو نصیحت کی گئی کہ قیامت کا عذاب آنے سے پہلے توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں۔ اور پھر رسول اللہ ﷺ کو تسلی اور اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ کی بار بار تبلیغ اور کوشش کے باوجود اگر یہ لوگ ہوش میں نہ آویں تو آپ غم نہ کریں، (آیت) فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا۔ کا یہی مطلب ہے۔
آخرت آیات میں (آیت) لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ سے آخر تک تخلیق کائنات میں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
للہ ملک السموت ولارض ط یخلق مایشآء یھب لمن یشآء انثا ویھبلمن یشآء الذکورہ اویزروجھم ذکرانا وانثا ج ویجعل من یشآء عقیماً ط انہ علیم قدیر (50-49)
تنک ظرفی کا باعث صحیح عقیدے سے محرومی ہے
یہ اس عقیدے کا بیان ہے جس سے محروم ہونے کے باعث ان لوگوں کے اندر یہ تنک ظرفی اور ناشکری پیدا ہوئی ہے۔ اگر یہ لوگ اس حقیقت پر ایمان رکھتے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ وہی جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جس کو جو کچھ چاہتا ہے بخشتا ہے تو اس حالت میں مبتلا نہ ہوتے بلکہ نعمت پر اپنے رب کے شکر گزار ہوتے اور کوئی مصیبت پیش آتی تو اس پر صبر کرتے۔
یخلق مایشآء کے بعد یھب المن یشآء انثا …الآیۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
51۔ 1 اس آیت میں وحی الٰہی کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں پہلی یہ کہ دل میں کسی بات کا ڈال دینا یا خواب میں بتلا دینا اور یقین کے ساتھ کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ دوسری، پردے کے پیچھے سے کلام کرنا، جیسے حضرت موسیٰ ؑ سے کوہ طور پر کیا گیا، تیسری، فرشتے کے ذریعے اپنی وحی بھیجنا، جیسے جبرائیل ؑ اللہ کا پیغام لے کر آتے اور پیغمبروں کو سناتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
9: یعنی کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ سے یہ پوچھ سکے کہ اس شخص کو یہ سزا کیوں دی گئی ہے، کیونکہ تمام انسانوں پر حجت پہلے ہی تمام ہوچکی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
آیت نمبر 49 تا 50
اولاد کسی شخص پر فضل و کرم ہونے یا اس سے محروم ہونے کی بڑی نشانی ہے۔ پھر اولاد انسانی نفس کے بہت ہی قریب پسندیدہ چیز ہے ۔ اولاد سے انسان کو بہت محبت ہوتی ہے۔ اس لیے کسی پر اللہ کے فضل ہونے یا اس سے محروم ہونے کے حوالے سے یہ بہت ہی حساس اور قوی الاثر چیز ہے۔ اس سورت میں رزق کے اعتبار سے خوشحالی اور بدحالی کی بات گزر چکی ہے۔ یہاں اولاد کے حوالے سے بھی انسان کے نصیب کی بات کردی تا کہ مال و الاد دونوں کی بات ہوجائے ، کیونکہ اولاد بھی اللہ کی طرف سے ایک بہترین رزق ہے۔ مال کی طرح بلکہ اس سے پیارا۔
جہاں بھی اللہ کے ملک کی بات ہوتی ہے وہ ملک سماوات اور پوری زمین سے شروع ہوتی ہے ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
7 یعنی سختی ہو یا نرمی سب احوال خدا کے بھیجے ہوئے ہیں۔ آسمان و زمین میں سب جگہ اسی کی سلطنت اور اسی کا حکم چلتا ہے جو چیز چاہے پیدا کرے اور جو چیز جس کو چاہے دے، جس کو چاہے نہ دے۔ دنیا کے رنگا رنگ حالات کو دیکھ لو۔ کسی کو سرے سے اولاد نہیں ملتی، کسی کو ملتی ہے تو صرف بیٹیاں، کسی کو صرف بیٹے، کسی کو دونوں، جڑواں یا الگ الگ۔ اس میں کسی کا کچھ دعویٰ نہیں۔ وہ مالک حقیقی ہی جانتا ہے کہ کس شخص کو کس حالت میں رکھنا مناسب ہے اور وہ ہی اپنے علم و حکمت کے موافق تدبیر کرتا ہے کسی کی مجال نہیں کہ اس کے ارادہ کو روک دے یا اس کی تخلیق و تقسیم پر حرف گیری کرسکے، عاقل کا کام یہ ہے کہ ہر قسم کے نرم و گرم…
Read the full tafseer →آیت 50 { اَوْ یُزَوِّجُہُمْ ذُکْرَانًا وَّاِنَاثًا } ”یا وہ انہیں ملا کردیتا ہے بیٹے اور بیٹیاں۔“
{ وَیَجْعَلُ مَنْ یَّشَآئُ عَقِیْمًاط اِنَّہٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ} ”اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔ یقینا وہ سب کچھ جاننے والا ‘ ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔“
وہ اپنی مرضی و منشا میں قادر مطلق ہے ‘ جس کو جو چاہے عطا کر دے ‘ لیکن وہ جس کو جو عطا کرتا ہے اپنے علم و حکمت کی بنیاد پر عطا کرتا ہے۔
اگلی آیات میں وحی کی حقیقت اور اس کی اقسام بیان ہوئی ہیں۔ اس موضوع پر یہ قرآن کا اہم ترین مقام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
70 اولاد کے بارے میں انسان کی بےبسی :۔ اس سے پہلی آیت کا آغاز یوں فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں جملہ تصرفات صرف اللہ اکیلے کے ہاتھ میں ہیں۔ پھر ان تصرفات کے صرف ایک پہلو کو دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے کہ دیکھ لو انسان اولاد کے بارے میں کس قدر بےبس ہے۔ انسان کی فطری خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کے ہاں اولاد ہو۔ مگر اللہ جسے بانجھ بنا دے یا اولاد نہ دینا چاہے وہ خواہ کتنے ہی جتن کر دیکھے اس کے ہاں اولاد نہیں ہوتی۔ اس کی دوسری خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کے ہاں بیٹے ہوں بیٹیاں نہ ہوں۔ لیکن اللہ بعض لوگوں کو بیٹیاں ہی دیئے جاتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
56۔ دنیا میں جو کچھ بھی ہورہا ہے۔ کسی کے اولاد خوب ہوتی ہے کوئی لاوالد رہتا ہے کسی کے صرف بیٹیاں ہوتی ہیں کسی کے صرف بیٹے، کسی کے دونوں۔ سو یہ سب کچھ محض اٹکل پچو، اندھا دھند نہیں ہورہا ہے، فرد، جماعت، کائنات سب کی بےانتہا حکمتوں اور بیشمار مصلحتوں کے پیش نظر ایک حکیم مطلق کے زیر انتظام ہورہا ہے۔ پھر اسی حکیم مطلق کی قدرت اور اختیارات بھی محدود نہیں، لامحدود ہیں۔ (آیت) ” یخلق مایشآء “۔ اس کی قوت تخلیق بھی غیر محدود ہے، جس کو جب اور جس طرح چاہے پیدا کرے۔ آیت میں عام قدرت الہی کا بیان ہے۔ کسی خاص واقعہ کی تعیین مراد نہیں، وقال الاکثرون من المفسرین ھذا الحکم عام فی حق الناس لان المقصود بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–53
آیت نمبر 44 تا 53
ترجمہ : اور اللہ جسے گمراہ کر دے اس کے بعد اس کا کوئی کارساز نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے اس کو گمراہ کرنے کے بعد اس کی ہدایت کا کوئی ولی نہیں، اور (اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ ظالم لوگ عذاب کو دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے کہ کیا دنیا کی طرف لوٹنے کی کوئی صورت ہے اور (اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ وہ جہنم کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے، خوف وذلت کے مارے جھکے جار ہے ہوں گے، اور کنکھیوں سے دزدیدہ نظروں سے اسے (جہنم کو) دیکھ رہے ہوں گے، مِنْ ابتدائیہ ہے یا بمعنی باء ہے مومنین کہیں گے کہ حقیقی زیاں کار وہ ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو دائمی عذاب میں مبتلا کر کے اور ان…
Read the full tafseer →او یزوجھم ذکرانا واناثا ویجعل من یشاء عظیما ان علیم قدیر یا ان کو جمع کردیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی۔ اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔ بیشک وہ بڑا جاننے والا (اور) بڑی قدرت والا ہے۔
لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ جب ساری کائنات پر اسکی حکومت ہے تو اسی کو اس میں جیسا چاہے تصرف کرنے کا حق ہے ‘ نعمت دے یا جرم کا انتقام لے۔
یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ یہ کلام سابق کی علت ہے۔
یَھَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا بعض اہل علم نے کہا کہ یہ آیت یخلق ما یشاء کا بیان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بعض لوگوں کو لڑکیاں عطا فرماتا ہے ‘ ان کے کوئی لڑکا نہیں ہوتا اور بعض کو لڑکے دیتا ہے ‘ ان کے کوئی لڑکی نہیں ہوتی۔ آیت میں لڑکی…
Read the full tafseer →اور جس کے لیے چاہے جمع کردیتا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں دیتا ہے جیسا کہ رسول اکرم کی ذات اقدس کو آپ کے صاحبزادے اور صاحبزادیاں دونوں تھیں اور جسے چاہے بےاولاد رکھتا ہے جیسے حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) وہ ان تمام باتوں کو جاننے والا اور بڑی قدرت والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
(1) للہ ملک السموت والارض ، یخلق ما یشآء : اس سے پہلی آیت میں انسان کا ذکر فرمایا کہ اگر اسے اس کے اپنے اعمال بد کے نتیجے میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو انسان بہت ناشکرا ہے، وہ فوراً اللہ تعالیٰ کا شکوہ شروع کردیتا ہے کہ اس نے مجھ سے نعمت چھین لی اور مجھ پر ظلم کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا۔ اس کی طرف ظلم کی نسبت سے بڑا ظلم کوئی نہیں، کیونکہ ایک تو انسان کو پہنچنے والی مصیبت اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، دوسرے اللہ تعالیٰ آسمان و زمین یعنی پوری کائنات اور اس میں موجود ہر نعمت کا بادشاہ اور مالک ہے۔ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اپنی جو نعمت جسے چاہے دیتا ہے، جسے چاہے نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
(آیت نمبر 49‘ 50 )
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ للہ ملک السموت والارض یہ مبتدا اور خبر ہیں یخلق ما یشآء یعنی مخلوقات میں سے جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے یھب لمن یشآء انا ثا ویھب لمن یشآ الذکور۔ ابو عبیدہ ‘ ابو مالک ‘ مجاہد ‘ حسن اور ضحاک نے کہا (1): جن کے بارے میں چاہتا ہے انہیں مونث عطا کرتا ہے ان کے ساتھ مذکر نہیں ہوتے اور جن کے بارے میں چاہتا ہے مذکر عطا فرماتا ہے ان کے ساتھ مونث نہیں ہوتے ذکور پر الف لام داخل کیا اناث پر الف لام داخل نہیں کیا کیونکہ مذکر شرف والے ہیں پس الف لام تعریف کے ساتھ مذکروں کو ممتاز کیا۔
واثلہ بن استع نے کہا : عورت کی برکت میں سے یہ ہے (2) کہ اس کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
کسی کے لیے اولاد ہونا نہ ہونا اللہ کے اختیار میں ہے :
1:۔ ابن ابی حاتم وحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہاری اولاد اللہ کا ہبہ ہیں (آیت ) ” یھب لمن یشآء اناثاویھب لمن یشآء الذکور “ (جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے) اور اولاد اور ان کے مال تمہارے لئے ہیں جب تم ان کی طرف محتاج ہوجاؤ۔
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورت کی برکت میں سے ہے جو پہلی مرتبہ بچی جنے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت ) ” یھب لمن یشآء اناثاویھب لمن یشآء الذکور “ (یعنی اس…
Read the full tafseer →اَوْ يُزَوِّجُهُمْ [ یا وہ ملا کردیتا ہے ان کو ] ذُكْرَانًا وَّاِنَاثًا ۚ [ مذکر اور مؤنث (بیٹے اور بیٹیاں ) ] وَيَجْعَلُ [ اور وہ بناتا ہے ] مَنْ يَّشَاۗءُ [ اس کو جس کو وہ چاہتا ہے ] عَــقِـيْمًا ۭ [ بانجھ ] اِنَّهٗ عَلِيْمٌ [ بیشک وہ جاننے والا ہے ] قَدِيْرٌ [ قدرت والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
بندے اللہ تعالیٰ سے کیسے ہم کلام ہوسکتے ہیں ؟
معالم التنزیل ج، ص 132 میں لکھا ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ اللہ سے بات کیوں نہیں کرتے اور اللہ کو دیکھتے کیوں نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کو دیکھا آپ کی تائید میں یہ آیت نازل ہوئی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کسی بشر کے لیے یہ بات حاصل نہیں کہ اللہ سے بات کرے بجز تین طریقوں کے، ایک طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو الہام فرما دے یعنی قلب میں کوئی بات ڈال دے یا خواب میں کوئی بات بتادے (مفسرین نے وحیاً کا مصداق بتاتے ہوئے یہ دو صورتیں لکھی ہیں) یا اللہ تعالیٰ پردہ کے پیچھے سے کلام فرمائے جیسا کہ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
قباحت حال و محرومی وذلت کفار وروز قیامت وبیان کمزوری فطرت انسان :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ومن یضلل اللہ فمالہ من ولی من بعدہ ....... الی ...... انہ علیم قدیر “۔
(ربط) اس سے قبل آیات میں اہل ایمان وتقوی اور ان کے اوصاف خاصہ کا ذکر تھا اب ان آیات میں گمراہوں اور مجرموں کی بدنصیبی ذلت و محرومی کا بیان ہے، ساتھ ہی انسان کی اس فطری کمزوری کا بھی بیان ہے جو اکثر مراحل میں اس کو افعال رذیلہ اور خصائص ذمیمہ کا مرتکب بناتی ہے ہے ارشاد ہے اور جس کو گمراہ کردے اللہ تو پھر اس کے بعد اس کے واسطے کوئی چارہ ساز نہیں کہ اس کو ہدایت دیدے، اور اے مخاطب تو دیکھے گا قیامت کے روز ظالموں کو جبکہ وہ عذاب خداوندی…
Read the full tafseer →40:۔ ” وما کان لبشر۔ الایۃ “ یہ آیت ” شرع لکم من الدین۔ الایۃ “ کی طرح دوسرے دعوے سے متعلق ہے اور دلیل نقلی کی طرف اشارہ ہے۔ انبیاء سابقین (علیہم السلام) اور خود حضرت خاتم النبیین ﷺ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تین طریقوں سے کلام فرمایا ہے اور انہی تین طریقوں سے ان کی طرف احکام کی وحی فرمائی ہے۔ اول یہ کہ اللہ تعالیٰ بیداری میں یا خواب میں کوئی بات دل میں ڈالدے دوسرے لفظوں میں اسے الہام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے ” ان روح القدس نفث فی روعی “ (قرطبی ج 16 ص 53) ۔ ” الا ویا “ الھا ما کما روی نفث فی روعی اور ؤیا فی المنام کقولہ (علیہ السلام) رؤیا الانبیاء وحی وھو کامر ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دین کے بہت سے اہم اصول بیان فرمائے تھے جن پر انسانیت کی فوز و فلاح کا دارومدار ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور بھروسہ ، کبائر اور بےحیائی سے اجتناب ، غصے کی حالت میں در گزر ، حکم الٰہی کی تعمیل نماز کا قیام ، انفرادی اور اجتماعی معاملات میں باہمی مشاورت ، خدا کی عطا کردہ روزی میں سے مستحقین پر انفاق ، سرکشی کرنے والے سے انتقام مگر در گزر کی پسندیدگی وغیرہ موٹے موٹے اصول ہیں جو اللہ نے گزشتہ درس میں بیان کیے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی کی بات سمجھائی ہے۔ پھر رسالت اور توحید کا مسئلہ بھی بیان فرما دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق…
Read the full tafseer →اَوْ يُزَوِّجُہُمْ ذُكْرَانًا وَّاِنَاثًا 0 ۚ وَيَجْعَلُ مَنْ يَّشَاۗءُ عَــقِـيْمًا 0 ۭ اِنَّہٗ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ 50
زوج
يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی في الحیوانات الْمُتَزَاوِجَةُ زَوْجٌ ، ولكلّ قرینین فيها وفي غيرها زوج، کالخفّ والنّعل، ولكلّ ما يقترن بآخر مماثلا له أو مضادّ زوج . قال تعالی: فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39] ، وقال : وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ
[ البقرة/ 35] ، وزَوْجَةٌ لغة رديئة، وجمعها زَوْجَاتٌ ، قال الشاعر : فبکا بناتي شجوهنّ وزوجتي وجمع الزّوج أَزْوَاجٌ. وقوله : هُمْ وَأَزْواجُهُمْ [يس/ 56] ، احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
ترکیب : من اللہ صلۃ لامرد وقبل صلۃ یاتی ای یاتی یوم من اللہ لایمکن ردہ۔ اذا شرطیہ فرح بہا جواب وان شرطیہ والجواب ینسی النعمۃ راساو اقیم مقامہ فان الانسان کفورلانہ علۃ الجزاء عقیما الخ بدل من یخلق بدل البعض۔
تفسیر : کفار کی حالت مذکورہ کو ازلی تقدیر کا باعث بنا کر اطاعت و فرمانبرداری کا ارشاد فرماتا ہے فقال استجیبوالربکم کہ اپنے رب کا کہا مانو جو تم کو راہ راست کی طرف بلاتا ہے من قبل الخ اس دن سے پہلے کہ تم پر اللہ کی طرف سے کوئی دن آوے اور وہ کسی کے ٹالے سے نہ ٹلے۔ اس دن سے مراد موت کا دن ہے یا قیامت کا دن اس دن تمہارے لیے کوئی پناہ کی جگہ نہ ہوگی اور نہ انکار کی گنجائش ہوگی۔ نکیر کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط یَخْلُقُ مَایَشَآئُ ط یَھَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ اِنَاثًا وَّیَھَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ الذُّکُوْرَ ۔ اَوْیُزَوِّجُھُمْ ذُکْرَانًا وَّاِنَاثًا ج وَیَجْعَلُ مَنْ یَّشَآئُ عَقِیْمًا ط اِنَّـہٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۔ (الشوری : 49، 50)
(اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے۔ جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے، بیشک وہ سب کچھ جاننے والا اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ )
کفار کا ایمان نہ لانا ان کی اپنی محرومی ہے
آنحضرت ﷺ کی تسلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ اور کسی دوسرے کو ہدایت دینے کا اختیار نہیں دیا۔ ہدایت اور ہر قسم کے اختیارات صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ یہاں تک انسان اپنی اولاد کے بارے میں بھی اختیار نہیں رکھتا۔
اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمانوں کا مالک اور بادشاہ ہے۔ اس کے اختیارات کا عالم یہ ہے کہ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے صرف بیٹیاں ہی عنایت کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے اسے صرف بیٹے عطا کرتا ہے۔ کسی کو بیٹے اور بیٹیاں دیتا ہے اور کسی کو زندگی بھر بانجھ رکھتا ہے۔ وہ ہر چیز کا کامل اور اکمل علم رکھنے کے ساتھ ہر کسی پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق کے…
Read the full tafseer →50: اَوْیُزَوِّجُھُمْ (یا ان کو جمع کر کے دیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی) ذُکْرَانًا وَّ اِنَا ثًا وَیَجْعَلُ مَنْ یَّشَآ ئُ عَقِیْمًا (مذکر اور مؤنث اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے)
جب انسان کو رحمت چکھانے کا تذکرہ فرمایا گیا۔ اور انسان کو اس کی ضد کے پہنچ جانے کا تذکرہ ہوچکا تو اس کے بعد توحید کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ بادشاہ مطلق ہیں۔ وہی نعمتیں اور نقمتیں تقسیم کرتا ہے جس طرح وہ ارادہ فرماتا ہے اور اپنے بندوں کو جو چاہتا ہے اولاد نصیب کردیتا ہے بعض کو صرف بیٹیاں اور بعض کو صرف بیٹے اور بعض کو دونوں قسمیں اور بعض کو بےاولاد رکھتا ہے۔ ( یہ سارے اس کی قدرت کے کرشمے ہیں) العقیم جو اولاد…
Read the full tafseer →49، للہ ملک السموات والارض، اس کے لیے ان میں تصرف کا حق ہے جو بھی اورادہ کرے۔ ، یخلق مایشاء یھب لمن یشاء اناثا، پس اس کی مذکراولا د نہیں ہوتی۔ کہا گیا ہے کہ عورت کی برکت میں یہ بات بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت مومؤنث کا ذکر پہلے کیا ہے۔ ، ویھب لمن یشاء الذکور، پس اس کی مؤنث اولاد نہیں ہوتی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
44۔ 50۔ اوپر اچھے لوگوں کی عادتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا یہ اچھی عادتوں کے وہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک قرار پا چکے ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں بد قرار پا چکے ہیں وہ اپنے ارادہ سے تو اچھی عادتوں کو اختیار نہیں کرتے اور مجبور کرکے کسی کو راہ راست پر لانا اللہ کو منظور نہیں ہے اس واسطے مرتے دم تک ایسے لوگ اپنی بد عاتوں پر رہیں گے اور قیامت کے دن ان لوگوں کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ میدان حشر میں جب جہنم کو اس طرح لایا جائے گا کہ جہنم کی ستر ہزار نکیلیں اونٹ کی سی ہوں گی اور ہر ہر نکیل پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے اور ان نکیلوں کو کھینچ رہے ہوں گے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
آیت 49
اس آیت کریمہ میں اللہ، تعالیٰ کے لامحدود اقتدار، اپنی مخلوق اور اپنی ملکیت میں اپنی مشیت کے مطابق تصرف کے نفاذ اور تمام امور کی تدبیر کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عمومی تدبیر اسباب سے پیدا شدہ ان اشیاء کو بھی شامل ہے جنہیں بندے اختیار کرتے ہیں، پس نکاح اولاد کے لئے ایک سبب ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ انہیں جو چاہتا ہے اولاد عطا کرتا ہے، مخلوق میں کسی کو بیٹیاں عطا کرتا ہے، کسی کو بیٹے عطا کرتا ہے، کسی کو بیٹے بیٹیاں دونوں عطا کرتا ہے۔ کسی کو بانجھ رکھتا اور ان کے ہاں اولاد پیدا نہیں ہوتی۔ (انہ علیم) بیشک وہ ہر چیز کا علم اور (قدیر) ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، وہ اپنے علم اور مہارت کے ذریعے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–53
انتقام لینا کب جائز ہوتا ہے ؟
قول باری ہے (والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون۔ اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم واقع ہوتا ہے تو وہ (برابر کا ) بدلہ لے لیتے ہیں) ابراہیم نخعی سے آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ لوگ مسلمانوں کے لئے اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو دبا کر اور عاجز بنا کر رکھیں جس کی بنا پر فاسق وفاجر لوگوں کو ان کے خلاف جرات دکھانے کا موقعہ مل جائے۔
سدی کا قول ہے کہ (ھم ینتصرون) کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ ان لوگوں سے بدلہ لے لیتے ہیں جو ان پر ظلم کرتے ہیں لیکن وہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے۔ ابولکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر ہمیں اس بات کی…
Read the full tafseer →100 اولاد دینا اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی جس کو چاہے بچے دے یا بچیاں یا دونوں۔ اور جسکو چاہے بانجھ کر دے " ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یعنی یہ سب احوال صرف اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ پس انسان دست سوال اسی کے آگے دراز کرے۔ اور جو مانگنا ہو اسی سے مانگے۔ اس کے سوا نہ کوئی بچے بچیاں دے سکتا ہے اور نہ کسی سے بچے بچیاں مانگنا جائز ہے۔ اسباب کے درجے میں دوسروں سے کچھ مانگنا اور لینا دینا تو اگرچہ منع نہیں، کہ یہ دنیا ہے ہی دار الاسباب۔ مگر مافوق الاسباب طور پر کسی بھی مخلوق سے مانگنا جائز نہیں۔ کہ یہ حضرت خالق کی صفت ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
اللہ کو کوئی پوچھنے والا نہیں
تشریح : یہاں پھر دہرایا گیا ہے کہ نیکی ہی نجات کا راستہ ہے اگر اختیار کرلو گے تو اپنا ہی بھلا ہوگا نہیں کرو گے تو پھر سوچ لو تمہارا کوئی مدد گار، سفارش کرنے والا اور بچانے والا کوئی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ تمام اختیارات صرف اور صرف اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ ہر قسم کی نعمت، عزت اور آسائش دینے والا صرف اللہ ہی ہے تمام حکمتیں اس کو معلوم ہیں۔ جس کے لیے جو بہترین سمجھتا ہے وہ اس کو دیتا ہے۔ یہاں خاص طور پر ان پیروں فقیروں کی طرف جانے سے منع کیا گیا ہے جن کے پاس لوگ اپنی مرادیں مانگنے کے لیے جاتے ہیں خاص طور سے اولاد مانگنے جاتے ہیں یہ بڑی سخت شرک کی بات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–53
آیات 44 تا 53۔
اسرار ومعارف۔
اور جس شخص کے کردار کے باعث اللہ نے ہی اس پر ہدایت کے دروازے بند کردیے اور گمراہی مقدر کردی پھر اسے کوئی بھی راہ پر نہیں لاسکتا بلکہ اسے مخاطب ایسے لوگ اپنے انجام کو پہنچیں گے اور تو دیکھے گا کہ ان ظالموں کو جب عذاب کا مشاہدہ ہوگا تو پکار اٹھیں گے کہ کیا کوئی ایسا طریقہ کہ ہم دنیا میں واپس جاسکیں تاکہ اب نیکیاں کرکے لائیں اور ایمان کی حالت میں یہاں پہنچیں اور دیکھو گے کہ جب دوزخ کی آگ کے روبرو ہوں گے توشرمندگی اور ذلت کے سبب نظریں جھکائے ہوئے ہوں گے اور کن اکھیوں سے دوزخ کی آگ کو ڈرتے ڈرتے دیکھیں گے تب مومن کہیں گے خسارہ اور بہت بڑا نقصان حقیقتا یہ ہے کہ جن لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
ف 1 کسی کی مجال نہیں کہ اس کے فیصلہ کو نافذ ہونے سے روک سکے یا اس کی تخلیق و تقسیم پر حرف گیری کرسکے۔
2 یعنی اس طرح کہ دل میں کوئی بات ڈال دے یا خواب میں کچھ دکھا دے جیسے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) اور حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو خواب دکھایا گیا۔ ( الصافات :103، یوسف 4) ایک حدیث میں ہے کہ ” روح القدس ( جبریل ( علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات ڈال دی کہ کوئی جان اس وقت تک نہ جائے گی جب تک اپنا رزق پورا نہ کرے اور اس کی ہوئی اجل نہ آجائے اور حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر وحی آنے کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی۔ ( ابن کثیر) ۔
3 یعنی اس طرح کہ بندہ آواز سنے مگر بولنے والانظر نہ آئے، جیسے…
Read the full tafseer →(42:50) اویزوجھم : یزوج مضارع واحد مذکر غائب تزویج (تفعیل) مصدر زوج جوڑا۔ یزوج وہ جوڑا بناتا ہے۔ باہم ساتھی بناتا ہے (ان کو جمع کردیتا ہے ۔ (مولنا اشر علی (رح)) ۔ ان یجمع بنھما۔ دونوں کو جمع کردیتا ہے یعنی بیٹے بھی دیتا اور بیٹیاں بھی دیتا ہے۔ ہم۔ ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ (یعنی بیٹے اور بیٹیاں جو وہ عطا کرتا ہے) ۔
ذکر انا وانثا : ذکران، ذکر کی جمع۔ مرد، بیٹے۔ اور اناث انثی کی جمع عورتیں۔ بیٹیاں۔ دونوں ہم ضمیر سے حال ہیں۔
یجعل : مضارع واحد مذکر غائب جعل (باب فتح) مصدر۔ کرتا ہے۔ کردیتا ہے۔
عقیما۔ منصوب بوجہ یجعل کا مفعول ہونے کے۔ یا یہ یخلق سے بدل ہے۔ عقیم بانجھ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 50 : ملجائ ( ٹھکانہ ، پناہ کی جگہ) نکیر ( مکر جانا) اذقنا ( ہم نے چکھایا) فرح (خوش ہوگیا) کفور ( بہت زیادہ نا شکرا) یھب ( وہ دیتا ہے) اناث ( بیٹیاں ، لڑکیاں) الذکور (بیٹے ، لڑکے) یزوج ( وہ جوڑے بنا دیتا ہے) عقیما (بانجھ ، اولاد سے مایوس)
تشریح : آیت نمبر 47 تا 50 : دین اسلام نے توحید کا یہ بنیادی تصور پش کیا ہے کہ اس کائنات کے ذرے ذرے میں اور آخرت کے ہر فیصلے میں صرف ایک اللہ کو مکمل اختیار حاصل ہے اس کے سوا کوئی اس کے اس اختیار میں شریک نہیں ہے ۔ وہ ہر چیز کے بنانے بگاڑنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
وہ جس طرح چاہتا ہے نظام کائنات کو چلا رہا ہے۔ وہ اپنی رحمت اور فضل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–51
قرآن خدا کی کتاب ہے۔
(ف 1) شان نزول : یہود نبی کی نبوت پر لوگوں کے بہکانے کے لیے اور حسد کے سبب سے یہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ اگر یہ نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے بلاواسطہ فرشتے کے کلام کرتے وقت اس کو کیوں نہیں دیکھتے جیسا کہ حضرت موسیٰ دیکھتے تھے ان کے اس اعتراض کو جواب نبی ﷺ نے یہ دیا کہ حضرت موسیٰ بھی نہیں دیکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اصل مطلب یہ ہے کہ بلاپردہ کی آڑ کی تو نہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا اور نہ کسی آدمی میں یہ طاقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے روبروباتیں بےپردہ حجاب فرمائے، ہاں پچھلے تمام انبیاء مین جو وحی کا طریقہ تھا کہ خواب میں کوئی بات معلوم ہوجاتی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–51
[26] یعنی دل میں کوئی بات ڈال دے یا خواب میں کچھ دکھا دے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) کو دکھایا گیا۔
[27] یعنی بلاواسطہ پردے کے پیچھے سے کلام فرمائے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر پیش آیا۔
[28] یعنی فرشتہ کے ذریعے وحی بھیجتا ہے جیسے قرآن مجید جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے نبی ﷺ کو بھیجا گیا۔ اس آیت میں جواب ہے مخالفین کے اس مطالبے کا جو قرآن میں متعدد مقامات پر مختلف اسلوبوں سے نقل ہوا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ محمد ﷺ سے بات کرتا ہے جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے تو آخر وہ ہم سے روبرو ہو کر بات کیوں نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
آیت 49 ۔ 50:
حل لغات :۔ کفور ۔ نہایت ناشکر گزار یھب ۔ بخشتا ہے عنیما ۔ بانجھ وراءی حجاب ۔ پس پردہ روحا ۔ یعنی کتاب حیات ۔
اولاد اللہ کی اختیار میں ہے
ولی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کاملہ کے معنی یہ ہیں ۔ کہ انسان عملاً تمام اختیارات کو اسی جنب منسوب کرے ۔ اور ہر حالت میں خوش وخرم رہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ لڑکیاں دے ۔ جب بھی اعتراض نہ کرے ۔ اور اگر لڑکے ہی عطا کرے ۔ تو بھی کبروغرور کا اظہار نہ کرے ۔ اگر دونوں قسم کی اولاد یعنی لڑکے اور لڑکیاں ملیں ۔ تو بھی خوش رے ۔ اور اگر اولاد ہی سے محروم رکھا جائے ۔ تب بھی گلہ نہ کرے ۔ اور بہرحال اللہ ہی کی حکمتوں پر بھروسہ رکھے ۔ اور یہ سمجھے ۔ کہ وہ تیرے حالات اور…
Read the full tafseer →(50) یا جس کے لئے چاہتا ان لڑکوں اور لڑکیوں کو جمع کردیتا ہے یعنی دونوں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد کردیتا ہے بلا شبہ وہ بڑے علم والا بڑی قدرت والا ہے یعنی آسمان و زمین میں ہر قسم کا تصرف اس کو حاصل ہے جو چاہتا ہے سو کرتا ہے انسان کی تخلیق پر اس کو پورا اخیار ہے اولاد کے بارے میں چار صورتیں ہوسکتی ہیں یا فقط بیٹے یا بیٹیاں یا دونوں یعنی بیٹے بھی اور بیٹیاں یا دونوں نہیں۔ ان چاروں پر اپنے اختیار کا اظہار فرمایا۔
چاہتا ہے جس کو لڑکیاں دیتا ہے لڑکیوں کو مقدم فرمایا چونکہ انسان بیٹیوں کو نہیں چاہتا تو بیٹیاں اہم ہیں اور اہم واجب التقدیم ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ بات عورت کی برکت سے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
ف 5۔ للہ ملک السموات الخ عام ہے جمیع تصرفات کو۔
Read the full tafseer →جس کو چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے
50 ؎ اللہ تعالیٰ کا چاہنا کیا ہے ؟ وہی جو اس نے کسی چیز کے لیے قانون بنا دیا ہے وہی اس کی چاہت ہے کیونکہ اس کا مخلوق میں سے نہ تو کوئی مشیر ہے اور نہ ہی اس میں کوئی اس کا شریک ہے لہٰذا اس نے جو چاہا اس کا اپنی مرضی و رضا سے ایک ضابطہ مقرر کردیا اور پھر اسی ضابطہ کا اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ اعلان کروا دیا اس کو کہیں سنت اللہ کا نام دیا کہیں وعدہ کا لفظ استعمال فرمایا اور کسی جگہ اسی سنت اللہ اور وعدہ کے لفظ کو { مایشاء } کے الفاظ سے تعبیر فرمایا اور پھر سنت اللہ کی وضاحت یوں فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی سنت کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
Commentary
The earlier three of the above verses state the end of those people who, as against the virtuous Muslims, remained desirous of the delights and luxuries of this world, instead of caring about the Hereafter. Then in verse 47, they have been advised to repent and embrace faith before the scourge of Doomsday comes upon them. Thereafter, in verse 48, the Holy Prophet ﷺ has been comforted and assured that if these people do not come to their senses, despite your preaching again and again, and despite your tireless efforts, then you should not worry: فَإِنْ أَعْرَضُوا فَمَا…
Read the full tafseer →77. This is a manifest proof of Allah’s Sovereignty being absolute. No man, whether he be posing as owner of the highest worldly authority, or regarded as owner of great spiritual powers, has ever been able to produce children for himself according to his own choice and desire, not to speak of providing children for others. The one whom Allah made barren could not have children through any medicine, any treatment, any amulet or charm. The one whom Allah gave only daughters could not get a single son by any device, and the one whom Allah gave only sons could not have a single daughter by any…
Read the full tafseer →