42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 42:1–3

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

اسی طرح وہی بھیجتا ہے تیری طرف اور تجھ سے پہلوں کی طرف اللہ زبردست حکمتوں والاف ہے

5 یعنی جس طرح یہ سورت (جو نہایت اعلیٰ و اکمل مضامین پر مشتمل ہے) آپ کی طرف وحی کی جا رہی ہے، ایسے ہی اللہ تعالیٰ کی عادت آپ کی طرف اور دوسرے انبیاء کی طرف وحی بھیجنے کی رہی ہے۔ جس سے اس کی شان حکمت و حکومت کا اظہار ہوتا ہے۔
Ayahs 42:4–5

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہی ہے سب سے اوپر بڑا

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

قریب ہے کہ پھوٹ پڑیں آسمان اوپر سے6 اور فرشتے پاکی بولتے ہیں خوبیاں اپنے رب کی اور گناہ بخشواتے ہیں زمین والوں کے7 سنتا ہے وہی اللہ معاف کرنے والا مہربان8

6 یعنی آسمان پھٹ پڑیں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے زور سے، یا بیشمار فرشتوں کے بوجھ سے، یا ان کے ذکر کی کثرت سے خاص تاثیر ہو اور پھٹ پڑے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آسمانوں میں چار انگشت جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ سربسجود نہ ہو۔ اور بعض نے آیت کا مطلب یہ لیا ہے کہ جب مشرکین خدا تعالیٰ کے لیے شریک اور بیٹے بیٹیاں ٹھہراتے ہیں تو خداوند قدوس کی جناب میں یہ ایسی سخت گستاخی ہے جس سے کچھ بعید نہیں کہ آسمان کی اوپر والی سطح تک پھٹ کر ٹکڑے ہوجائے۔ کما قال تعالیٰ فی سورة مریم (تَكَاد السَّمٰوٰتُ يَــتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا 90 ۝ ۙ اَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا 91۝ۚ ) 19 ۔ مریم :91-90) مگر اللہ کی شان مغفرت و رحمت اور ملائکہ کی تسبیح و استغفار کی برکت سے یہ نظام تھما ہوا ہے۔ 7 یعنی اللہ تعالیٰ مومنین کی خطاء و لغزش کو معاف فرمائے اور کفار کو دنیا میں ایک دم پکڑ کر بالکلیہ تباہ و برباد نہ کر دے۔ 8 یعنی اپنی مہربانی سے فرشتوں کی دعا قبول کر کے مومنین کی خطاؤں کو معاف کرتا اور کافروں کو ایک عرصہ کے لیے مہلت دیتا ہے ورنہ دنیا کا سارا کارخانہ چشم زدن میں درہم برہم ہوجائے۔
Ayah 42:6

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور جنہوں نے پکڑے ہیں اس کے سوا رفیق اللہ کو وہ سب یاد ہیں اور تجھ پر نہیں ان کا ذمہ9

9 یعنی دنیا میں مشرکین کو مہلت تو دیتا ہے لیکن یہ نہ سمجھو کہ وہ ہمیشہ کے لیے بچ گئے۔ ان کے سب اعمال و احوال اللہ کے ہاں محفوظ ہیں جو وقت پر کھول دیے جائیں گے۔ آپ اس فکر میں نہ پڑیں کہ یہ مانتے کیوں نہیں۔ اور نہ ماننے کی صورت میں فوراً تباہ کیوں نہیں کردیے جاتے۔ آپ ان باتوں کے ذمہ دار نہیں صرف پیغامِ حق پہنچا دینے کے ذمہ دار ہیں۔ آگے ہمارا کام ہے وقت آنے پر ہم ان کا سب حساب چکا دیں گے۔
Ayah 42:7

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور اسی طرح اتارا ہم نے تجھ پر قرآن عربی زبان کا کہ تو ڈر سنا دے بڑے گاؤں کو اور اس کے آس پاس والوں کو1 اور خبر سنا دے جمع ہونے کے دن کی اس میں دھوکا نہیں ایک فرقہ بہشت میں اور ایک فرقہ آگ میں2

1 " ام القریٰ " (بڑا گاؤں) فرمایا مکہ معظمہ کو کہ سارے عرب کا مجمع وہاں ہوتا ہے اور ساری دنیا میں اللہ کا گھر وہیں ہے۔ اور وہی گھر روئے زمین پر سب سے پہلی عبادت گاہ قرار پائی۔ بلکہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائے آفرینش میں اللہ تعالیٰ نے زمین کو اسی جگہ سے پھیلانا شروع کیا جہاں خانہ کعبہ واقع ہے۔ اور مکہ کے آس پاس سے اول ملک عرب اس کے بعد ساری دنیا مراد ہے۔ 2 یعنی آگاہ کردیں کہ ایک دن آنے والا ہے جب تمام اگلے پچھلے خدا کی پیشی میں حساب کے لیے جمع ہوں گے۔ یہ ایک یقینی اور طے شدہ بات ہے۔ جس میں کوئی دھوکا، فریب اور شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ چاہیے کہ اس دن کے لیے آدمی تیار ہوجائے اس وقت کل آدمی دو فرقوں میں تقسیم ہوں گے ایک فرقہ جتنی اور ایک دوزخی۔ سوچ لو کہ تم کو کس فرقہ میں شامل ہونا چاہیے اور اس میں شامل ہونے کے لیے کیا سامان کرنا چاہیے۔
Ayah 42:8

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور اگر چاہتا اللہ تو سب لوگوں کو کرتا ایک ہی فرقہ لیکن وہ داخل کرتا ہے جس کو چاہے اپنی رحمت میں اور گناہگار جو ہیں ان کا کوئی نہیں رفیق اور نہ مددگار3

3 یعنی بیشک اس کو قدرت تھی اگر چاہتا تو سب کو ایک طرح کا بنا دیتا اور ایک ہی راستہ پر ڈال دیتا۔ لیکن اس کی حکمت اسی کو مقتضی ہوئی کہ اپنی رحمت و غضب دونوں قسم کی صفات کا اظہار فرمائے۔ اس لیے بندوں کے احوال میں اختلاف و تفاوت رکھا کسی کو اس کی فرمانبرداری کی وجہ سے اپنی رحمت کا مورد بنایا اور کسی کو اس کے ظلم و عصیان کی بناء پر رحمت سے دور پھینک دیا۔ جو لوگ رحمت سے دور ہو کر غضب کے مستحق ہوئے اور حکمت الٰہیہ ان پر سزا جاری کرنے کو مقتضی ہوئی ان کا ٹھکانا کہیں نہیں۔ نہ کوئی رفیق اور مددگار ان کو مل سکتا ہے جو اللہ کی سزا سے بچا دے۔
Ayah 42:9

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے پکڑے ہیں اس سے ورے کام بنانے والے سو اللہ جو ہے وہی ہے کام بنانے والا اور وہی جلاتا ہے مردوں کو اور وہ ہر چیز کرسکتا ہے4

4 یعنی رفیق و مددگار بنانا ہے تو اللہ کو بناؤ جو سارے کام بنا سکتا ہے حتی کہ مردوں کو زندہ کرسکتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے یہ بیچارے عاجز و مجبور رفیق تمہارا کیا ہاتھ بٹائیں گے۔
Ayah 42:10

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور جس بات میں جھگڑا کرتے ہو تم لوگ کوئی چیز ہو اس کا فیصلہ ہے اللہ کے حوالے5 وہ اللہ ہے رب میرا اسی پر ہے مجھ کو بھروسہ اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے6

5 یعنی سب جھگڑوں کے فیصلے اسی کے سپرد ہونے چاہئیں۔ عقائد ہوں یا احکام، عبادات ہوں یا معاملات جس چیز میں بھی اختلاف پڑجائے اس کا بہترین فیصلہ اللہ کے حوالہ ہے وہ دلائل کونیہ کے ذریعہ سے یا اپنی کتاب میں یا اپنے رسولوں کی زبان پر صراحتہً یا اشارۃً جس مسئلہ کا جو فیصلہ فرما دے بندہ کو حق نہیں کہ اس میں چون و چرا کرے۔ توحید جو اصل اصول ہے۔ اللہ تعالیٰ جب قولاً و فعلاً برابر اس کا حکم دیتا رہا ہے پھر کیونکر جائز ہوگا کہ بندہ ایسے قطعی اور محکم فیصلہ میں جھگڑے ڈالے اور بیہودہ شبہات نکال کر اس کے فیصلہ سے سرتابی کرے۔ 6 یعنی میں اسی پر ہمیشہ سے بھروسہ رکھتا ہوں اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف رجوع ہوتا رہتا ہوں۔
Ayah 42:11

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

بنا نکالنے والا آسمانوں کا اور زمین کا بنا دیے تمہارے واسطے تمہی میں سے جوڑے اور چوپایوں میں سے جوڑے7 بکھیرتا ہے تم کو اسی طرح8 نہیں ہے اس کی طرح کا سا کوئی9 اور وہی ہے سننے والا دیکھنے والاف 10

7 یعنی چوپایوں میں سے ان کے جوڑے نر اور مادہ بنا دیے کہ وہ بھی تمہارے کام آئے ہیں۔ 8 یعنی آدمیوں کے الگ اور جانوروں کے الگ جوڑے بنا کر ان کی کتنی نسلیں پھیلا دیں جو تمام روئے زمین پر اپنی روزی اور معیشت کی فکر میں جدوجہد کرتی ہیں۔ 9 یعنی نہ ذات میں اس کا کوئی مماثل ہے نہ صفات میں، نہ اس کے احکام اور فیصلوں کی طرح کسی کا حکم اور فیصلہ ہے نہ اس کے دین کی طرح کوئی دین ہے، نہ اس کا کوئی جوڑا ہے نہ ہمسر نہ ہم جنس۔ 10 یعنی بیشک ہر چیز کو دیکھتا سنتا ہے، مگر اس کا دیکھنا بھی مخلوق کی طرح نہیں۔ کمالات اس کی ذات میں سب ہیں، پر کوئی کمال ایسا نہیں جس کی کیفیت بیان کی جاسکے۔ کیونکہ اس کی نظیر کہیں موجود نہیں۔ وہ مخلوق کی مشابہت و مماثلت سے بالکلیہ پاک اور مقدس و منزہ ہے۔ پھر اس کی صفات کی کیفیت کس طرح سمجھ میں آئے۔
Ayah 42:12

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

اسی کے پاس ہیں کنجیاں آسمانوں کی اور زمین کی پھیلا دیتا ہے روزی جس کے واسطے چاہے اور ناپ کردیتا ہے وہ ہر چیز کی خبر رکھتا ہے11

11 تمام خزانوں کی کنجیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ اسی کو قبضہ اور اختیار حاصل ہے کہ جس خزانہ میں ہے جس کو جتنا چاہے مرحمت فرمائے۔ تمام جانداروں کو وہ ہی روزی دیتا ہے، لیکن کم و بیش کی تعیین اپنی حکمت کے موافق کرتا ہے۔ اسی کو معلوم ہے کہ کون چیز کتنی عطا کی مستحق ہے اور اس کے حق میں کس قدر دینا مصلحت ہوگا۔ جو حال روزی کا ہے وہ ہی دوسری عطایا میں سمجھو۔
Ayah 42:13

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

راہ ڈال دی تمہارے لیے دین میں وہی جس کا حکم کیا تھا نوح کو اور جس کا حکم بھیجا ہم نے تیری طرف اور جس کا حکم کیا ہم نے ابراہیم کو اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو1 یہ کہ قائم رکھو دین کو اور اختلاف نہ ڈالو اس میں2 بھاری ہے شرک کرنے والوں کو وہ چیز جس کی طرف تو ان کو بلاتا ہے اللہ چن لیتا ہے اپنی طرف سے جس کو چاہے اور راہ دیتا ہے اپنی طرف اس کو جو رجوع لائے3

1 آدم (علیہ السلام) کے بعد سب سے پہلے رسول حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں۔ بلکہ کہنا چاہیے کہ فی الحقیقت تشریع احکام کا سلسلہ ان ہی سے شروع ہوا۔ اور آخری نبی حضور ﷺ ہیں جن پر سلسلہ رسالت و نبوت منتہی ہوا۔ درمیان میں جو انبیاء و رسل آئے ان میں حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام، یہ تین زیادہ مشہور ہوئے جن کے نام لیوا ہر زمانہ میں بکثرت موجود رہے۔ ان پانچوں کو اولوالعزم پیغمبر کہتے ہیں۔ بہرحال اس جگہ حق تعالیٰ نے صاف طور پر بتلا دیا کہ اصل دین ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے۔ کیونکہ عقائد، اخلاق اور اصول دیانات میں تمام متفق رہے ہیں۔ البتہ بعض فروع میں حسب مصلحت زمانہ کچھ تفاوت ہوا اور دین کے قائم کرنے کے طور و طریق ہر وقت میں اللہ نے جدا ٹھہرا دیے ہیں۔ جس کو دوسری جگہ فرما دیا۔ ( لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا) 5 ۔ المائدہ :48) 2 یعنی سب انبیاء اور ان کی امتوں کو حکم ہوا کہ دین الٰہی کو اپنے قول و عمل سے قائم رکھیں اور اصل دین میں کسی طرح کے تفریق و اختلاف کو روا نہ رکھیں۔ 3 یعنی آپ جس دین توحید کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں، مشرکین پر وہ بھاری ہے گویا آپ کوئی نئی اور انوکھی چیز پیش کر رہے ہیں جو کسی نے پہلے پیش نہیں کی تھی، بھلا توحید جیسی صاف، معقول اور متفق علیہ چیز بھی جب بھاری معلوم ہونے لگی اور اس میں بھی لوگ اختلاف ڈالے بدون نہ رہے، تو جہالت اور بدبختی کی حد ہوگئی۔ سچ تو یہ ہے کہ ہدایت وغیرہ سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جسے وہ چاہے بندوں میں سے چن کر اپنی طرف کھینچ لے اور اپنی رحمت و موہبت سے مقام قرب و اصطفاء پر فائز فرما دے۔ اور جو لوگ اپنی حسن استعداد سے اس کی طرف رجوع ہوتے اور محنتیں کرتے ہیں ان کی محنت کو ٹھکانے لگانا اور دستگیری کر کے کامیاب فرمانا بھی اسی کا کام ہے۔ قال اللہ تعالیٰ (وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ وَيَخْتَارُ ۭ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ ) 28 ۔ القصص :68) وقال (اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ) 22 ۔ الحج :75) وقال۔ (وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ ) 29 ۔ العنکبوت :69) بہرحال حکمت الٰہی جس کی ہدایت کو مقتضی ہو وہ ہی ہدایت پاسکتا اور فائز المرام ہوسکتا ہے۔
Ayah 42:14

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور جنہوں نے اختلاف ڈالا سو سمجھ آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو نکلی ہے تیرے رب سے ایک مقررہ وعدہ تک تو فیصلہ ہوجاتا ان میں اور جن کو ملی ہے کتاب ان کے پیچھے وہ البتہ اس کے دھوکے میں ہیں جو چین نہیں آنے دیتا4

4 یعنی توحید اور اصول دین میں جنہوں نے اختلاف ڈالا اور کتب سماویہ میں تحریف کی، وہ کچھ غلط فہمی یا اشتباہ کی وجہ سے نہ تھی۔ ایسی صاف وصریح اور مجمع علیہ تعلیمات میں اشتباہ و التباس کیا ہوسکتا تھا۔ محض نفسانیت، ضد، عداوت اور طلب مال و جاہ وغیرہ اسباب ہیں جو فی الحقیت اس تفریق و اختلاف مذموم کا باعث ہوئے ہیں۔ بعدہ جب اختلاف قائم ہوگئے اور مختلف مذاہب نے الگ الگ مورچے بنا لیے تو پیچھے آنے والی نسلیں عجیب خبط اور دھوکا میں پڑگئیں اور ایسے شکوک و شبہات پیدا کرلیے گئے جو کسی حال ان کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتے۔ مگر یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے بندوں کو ڈھیل دی۔ اگر وہ چاہتا تو سارے اختلافات کو ایک دم میں ختم کردیتا۔ لیکن ایسا کرنا تکوین کی غرض اصلی کے منافی تھا۔ اس کی حکمت بالغہ اسی کو مقتضی تھی کہ ان اختلافات کا عملی اور دو ٹوک فیصلہ ایک وقت معین پر زندگی کے دوسرے دور میں کیا جائے۔ اگر یہ بات پہلے سے نہ نکل چکی ہوتی تو سب جھگڑے قصے فوراً ہاتھوں ہاتھ ختم کردیے جاتے۔
Ayah 42:15

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

سو تو اسی طرف بلا اور قائم رہ جیسا کہ فرما دیا ہے تجھ کو اور مت چل ان کی خواہشوں پر اور کہہ میں یقین لایا ہر کتاب پر جو اتاری اللہ نے اور مجھ کو حکم ہے کہ انصاف کروں تمہارے بیچ میں اللہ رب ہے ہمارا اور تمہارا ہم کو ملیں گے ہمارے کام اور تم کو تمہارے کام کچھ جھگڑا نہیں ہم میں اور تم میں اللہ اکٹھا کرے گا ہم سب کو اور اسی کی طرف پھرجانا ہے5

5 یعنی جب دین حق کے متعلق تفریق و اختلاف کے طوفان چاروں طرف سے اٹھ رہے ہیں تو آپ کا فرض یہ ہے کہ غیر متزلزل عزم کے ساتھ اسی دین و آئین کی طرف لوگوں کو بلاتے رہیں جس کی دعوت آدم و نوح اور ان کے بعد تمام انبیاء دیتے چلے آئے ہیں۔ آپ اپنے پروردگار کے حکم سے ذرا ادھر ادھر نہ ہوں۔ قولاً و فعلاً اور علماً و حالاً برابر اسی راستہ پر گامزن رہیں جس پر اب تک رہے ہیں۔ مکذبین اور معاندین کی خواہشات کی ذرا پروا نہ کریں اور صاف اعلان کردیں کہ میں اللہ کی نازل کی ہوئی ہر کتاب پر خواہ وہ تورات ہو یا انجیل یا قرآن یا کوئی صحیفہ جو کسی زمانہ میں کسی پیغمبر پر نازل ہوا ہو سچے دل سے یقین رکھتا ہوں۔ میرا کام پہلی صداقتوں کو جھٹلانا نہیں بلکہ سب کو تسلیم کرنا اور باقی رکھنا ہے اور مجھ کو حکم ہے کہ تمہارے درمیان انصاف کروں۔ جو اختلاف تم نے ڈالے ہیں ان کا منصفانہ فیصلہ دوں اور تبلیغ احکام و شرائع یا فصل خصومات میں عدل و مساوات کا اصول قائم رکھوں۔ ہر وہ سچائی جو کسی جگہ یا کسی مذہب میں ملے اس بےتکلف تسلیم کروں۔ جس طرح تم کو خدا کی بندگی اور فرمانبرداری کی طرف بلاؤں۔ تم سے پہلے میں خود احکام الٰہی کی پوری تعمیل کر کے اس کا کامل فرمانبردار بندہ ہونا ثابت کروں۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تمہارا اور ہمارا رب ایک ہی ہے۔ اس لیے ہم سب کو اسی کی خوشنودی کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو ہمارا تم سے کچھ تعلق نہیں۔ ہم دعوت و تبلیغ کا فرض ادا کر کے سبکدوش ہوچکے ہم میں سے کوئی دوسرے کے عمل کا ذمہ دار نہیں۔ ہر ایک کا عمل اس کے ساتھ ہے وہ ہی اس کے آگے آئے گا۔ چاہیے کہ اس کے نتائج برداشت کرنے کے لیے تیار رہے۔ آگے ہم کو تم سے جھگڑنے اور بحث و تکرار کی ضرورت نہیں۔ سب کو خدا کی عدالت میں حاضر ہونا ہے۔ وہاں جا کر ہر ایک کو پورا پتہ لگ جائے گا کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کما کر لایا ہے۔ (تنبیہ) یہ آیات مکی ہیں۔ قتال کی آیتیں مدینہ میں نازل ہوئی۔
Ayah 42:16

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

اور جو لوگ جھگڑا ڈالتے ہیں اللہ کی بات میں جب لوگ اس کو مان چکے ان کا جھگڑا باطل ہے ان کے رب کے یہاں اور ان پر غصہ ہے اور ان کو سخت عذاب ہے1

1 یعنی اللہ کے دین، اس کی کتاب، اور اس کی باتوں کی سچائی جب اعلانیہ ظاہر ہوچکی، حتی کہ بہت سے سمجھدار لوگ اس کو قبول کرچکے اور بہترے قبول نہ کرنے کے باوجود ان کی سچائی کا اقرار کرنے لگے۔ اس قدر ظہور و ضوع حق کے بعد جو لوگ خواہ مخواہ جھگڑے ڈالتے یا ماننے والوں سے الجھتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے غضب اور سخت عذاب کے مستوجب ہیں اور ان کے سب جھگڑے جھوٹے اور سب بحثیں باطل ہیں۔
Ayah 42:17

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جس نے اتاری کتاب سچے دین پر اور ترازو بھی2 اور تجھ کو کیا خبر ہے شاید وہ گھڑی پاس ہو3

2 اللہ نے مادی ترازو بھی اتاری جس میں اجسام تلتے ہیں اور علمی ترازو بھی جسے عقل سلیم کہتے ہیں اور اخلاقی ترازو بھی جسے صفت عدل و انصاف کہا جاتا ہے اور سب سے بڑی ترازو دین حق ہے جو خالق و مخلوق کے حقوق کا ٹھیک ٹھیک تصفیہ کرتا ہے اور جس میں بات پوری تلتی ہے نہ کم نہ زیادہ۔
Ayah 42:18

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

جلدی کرتے ہیں اس گھڑی کی وہ لوگ کہ یقین نہیں رکھتے اس پر اور جو یقین رکھتے ہیں ان کو اس کا ڈر ہے اور جانتے ہیں کہ وہ ٹھیک ہے سنتا ہے جو لوگ جھگڑتے ہیں اس گھڑی کے آنے میں وہ بہک کر دور جا پڑے4

4 یعنی اپنے اعمال و احوال کو کتاب اللہ کی کسوٹی پر کس کر اور دین حق کے ترازو میں تول کر دیکھ لو، کہاں تک کھرے اور پورے اترتے ہیں۔ کیا معلوم ہے کہ قیامت کی گھڑی بالکل قریب ہی آلگی ہو، آخر دیر کیا ہے ؟ جلدی کیوں نہیں آجاتی ؟ لیکن جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان و یقین سے بہرہ ور کیا ہے، وہ اس ہولناک گھڑی کے تصور سے لرزتے اور کا پنتے ہیں اور خوب سمجھتے ہیں کہ یہ چیز ہونے والی ہے کسی کے ٹلائے ٹل نہیں سکتی۔ اسی لیے اس کی تیاری میں لگے رہتے ہیں۔ اسی سے سمجھ لو کہ ان جھگڑنے والے منکرین کا حشر کیا ہونا ہے۔ جب ایک شخص کو قیامت کے آنے کا یقین ہی نہیں وہ تیاری کیا خاک کرے گا۔ ہاں جتنا اس حقیقت کا مذاق اڑائے گا گمراہی میں اور زیادہ دور ہوتا چلا جائے گا۔
Ayah 42:19

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

اللہ نرمی رکھتا ہے اپنے بندوں پر5 روزی دیتا ہے جس کو چاہے اور وہی ہے زور آور زبردست6

5 یعنی باوجود تکذیب و انکار کے روزی کسی کی بند نہیں کرتا۔ بلکہ بندوں کے باریک سے باریک احوال کی رعایت کرتا اور نہایت نرمی اور تدبیر لطیف سے ان کی تربیت فرماتا ہے۔ 6 جس کو چاہے، جتنی چاہے دے۔
Ayah 42:20

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

جو کوئی چاہتا ہو آخرت کی کھیتی زیادہ کریں اس کے واسطے اس کی کھیتی7 اور جو کوئی چاہتا ہو دنیا کی کھیتی اس کو دیویں ہم کچھ اس میں سے اور اس کے لیے نہیں آخرت میں کچھ حصہ8

7 ایک نیکی کا دس گناہ ثواب دیں، بلکہ سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ۔ اور دنیا میں ایمان و عمل صالح کی برکت سے جو فراخی و برکت ملے وہ الگ رہی۔ 8 دنیا کے واسطے جو محنت کرے موافق قسمت کے ملے، پھر اس محنت کا فائدہ آخرت میں کچھ نہیں۔ کما قال تعالیٰ (مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا) 17 ۔ الاسراء :18)
Ayah 42:21

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا ان کے لیے اور شریک ہیں کہ راہ ڈالی ہے انہوں نے ان کے واسطے دین کی کہ جس کا حکم نہیں دیا اللہ نے9 اور اگر نہ مقرر ہوچکی ہوتی ایک بات فیصلہ کی تو فیصلہ ہوجاتا ان میں اور بیشک جو گناہگار ہیں ان کو عذاب ہے دردناک10

9 یعنی اللہ تعالیٰ نے نبیوں کی زبانی آخرت کا اور دین حق کا راستہ بتلا دیا۔ کیا اس کے سوا کوئی اور ہستی ایسی ہے جسے کوئی دوسرا راستہ مقرر کرنے کا حق اور اختیار حاصل ہو کہ وہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال اور حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرا دے۔ پھر آخر ان مشرکین نے اللہ کی وہ راہ چھوڑ کر جو انبیاء (علیہم السلام) نے بتلائی تھی دوسری راہیں کہاں سے نکال لیں۔ 10 یعنی فیصلہ کا وعدہ ہے اپنے وقت پر۔
Ayah 42:22

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

تو دیکھے گا گناہ گاروں کو کہ ڈرتے ہوں گے اپنی کمائی سے اور وہ پڑ کر رہے گا ان پر11 اور جو لوگ یقین لائے اور بھلے کام کیے باغوں میں ہیں جنت کے ان کے لیے ہے جو وہ چاہیں اپنے رب کے پاس یہی ہے بڑی بزرگی12

11 یعنی اپنی کرتوت کے نتائج سے خواہ آج نہ ڈریں مگر اس دن ڈرتے ہوں گے اور یہ ڈر ان پر ضرور پڑ کر رہے گا۔ کوئی سبیل رہائی اور فرار کی نہ ہوگی۔ 12 یعنی جنت میں ہر قسم کی جسمانی اور روحانی راحتیں اور اپنے رب کا قرب، یہ ہی بڑا فضل ہے۔ دنیا کے عیش اس کے سامنے کیا حقیقت رکھتے ہیں۔
Ayah 42:23

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader

یہ ہے جو خوشخبری دیتا ہے اللہ اپنے ایماندار بندوں کو جو کرتے ہیں بھلے کام2 تو کہہ میں مانگتا نہیں تم سے اس پر کچھ بدلہ مگر دوستی چاہیے قرابت میں3 اور جو کوئی کمائے گا نیکی ہم اس کو بڑھا دیں گے اس کی خوبی بیشک اللہ معاف کرنے والا حق ماننے والا ہے4

2 یعنی اللہ جو خوشخبری دے وہ لامحالہ واقع ہو کر رہے گی۔ 3 یعنی قرآن جیسی دولت تم کو دے رہا ہوں اور ابدی نجات و فلاح کا راستہ بتلاتا اور جنت کی خوشخبری سناتا ہوں۔ یہ سب محض بوجہ اللہ ہے۔ اس خیر خواہی اور احسان کا تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتا۔ صرف ایک بات چاہتا ہوں کہ تم سے جو میرے نسبی و خاندانی تعلقات ہیں کم ازکم ان کو نظر انداز نہ کرو۔ آخر تمہارا معاملہ اقارب اور رشتہ داروں کے ساتھ کیا ہوتا ہے، بسا اوقات ان کی بےموقع بھی حمایت کرتے ہو۔ میرا کہنا یہ ہے کہ تم اگر میری بات نہیں مانتے نہ مانو، میرا دین قبول نہیں کرتے، یا میری تائید و حمایت میں کھڑے نہیں ہوتے، نہ سہی۔ لیکن کم ازکم قرابت و رحم کا خیال کر کے ظلم واذیت رسانی سے باز رہو، اور مجھ کو اتنی آزادی دو کہ میں اپنے پروردگار کا پیغام دنیا کو پہنچاتا رہوں۔ کیا اتنی دوستی اور فطری محبت کا بھی میں مستحق نہیں ہوں۔ (تنبیہ) آیت کے یہ معنی حضرت ابن عباس سے صحیحین میں منقول ہیں۔ بعض سلف نے " الا المودۃ فی القربی " کا مطلب یہ لیا ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرو۔ اور حق قرابت کو پہچانو۔ اور بعض نے " قربی " سے اللہ کا قرب اور نزدیکی مراد لی ہے یعنی ان کاموں کی محبت جو خدا سے قریب کرنے والے ہوں مگر صحیح اور راجح تفسیر وہ ہی ہے جو ہم نے اول نقل کی ہے۔ بعض علماء نے " مودۃ فی القربیٰ " سے اہل بیت نبوی کی محبت مراد لے کر یوں معنی کیے ہیں کہ میں تم سے تبلیغ پر کوئی بدلہ نہیں مانگتا، بس اتنا چاہتا ہوں کہ میرے اقارب کے ساتھ محبت کرو۔ کوئی شبہ نہیں کہ اہل بیت اوراقارب نبی کریم ﷺ کی محبت و تعظیم اور حقوق شناسی امت پر لازم و واجب اور جزو ایمان ہے اور ان سے درجہ بدرجہ محبت رکھنا حقیقت میں حضور ﷺ کی محبت پر متفرع ہے لیکن آیت ہذا کی تفسیر اس طرح کرنا شان نزول اور روایات صحیحہ کے خلاف ہونے کے علاوہ حضور ﷺ کی شان رفیع کے مناسب نہیں معلوم ہوتا واللہ اعلم۔ 4 یعنی انسان بھلائی اور نیکی کا راستہ اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی بھلائی کو بڑھاتا ہے، آخرت میں تو اجرو ثواب کے اعتبار سے اور دنیا میں نیک کوئی عطا فرما کر اور ایسے آدمی کی لغزشوں کو بھی معاف فرماتا ہے۔ شاید یہاں اس مضمون کا ذکر اس لیے فرمایا کہ کم از کم قرابت کی محبت مطلوب ہے جس کا حاصل ایذاء اور ظلم سے روکنا تھا۔ لیکن جو اس سے زائد نیکی دکھلائے وہ خوب سمجھ لے کہ خدا کے ہاں کسی کی نیکی ضائع نہیں جاتی، بلکہ بڑھتی رہتی ہے۔
Ayah 42:24

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے باندھا اللہ پر جھوٹ سو اگر اللہ چاہے مہر کر دے تیرے دل پر اور مٹاتا ہے اللہ جھوٹ کو اور ثابت کرتا ہے سچ کو اپنی باتوں سے اس کو معلوم ہے جو دلوں میں ہے5

5 یعنی بفرض محال اگر کوئی بات بھی خدا کی نسبت جھوٹ بنا کر کہہ دے تو اللہ کو قدرت ہے کہ تیرے دل پر مہر کر دے، پھر فرشتہ یہ کلام معجزے لے کر تیرے قلب پر نہ اتر سکے اور سلسلہ وحی کا بند ہوجائے۔ بلکہ پہلا دیا ہوا بھی سلب کرلیا جائے کما قال (وَلَىِٕنْ شِـئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَيْنَا وَكِيْلًا 86؀ۙ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۭ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْرًا 87؀) 17 ۔ الاسراء :86) مگر چونکہ واقع میں قطعاً کذب و افتراء کا شائبہ نہیں۔ اس لیے محض بدبختوں کی قدر ناشناسی اور طعن وتشنیع کی بناء پر یہ فیض منقطع نہیں کیا جاسکتا۔ بیشک اللہ اس کو جاری رکھے گا اور اپنی باتوں سے عملی طور پر جھوٹ کو جھوٹ اور سچ کو سچ ثابت کر کے رہے گا۔ اس وقت سب کو صاف کھل جائے گا کہ فریقین میں جھوٹا اور مفتری کون ہے اور کس کے دل پر اللہ نے فی الواقع مہر لگا دی ہے کہ خیر کے اترنے اور حق کے قبول کرنے کی اس میں مطلقاً گنجائش نہیں رہی۔ رہا یہ سوال کہ اللہ کی وہ باتیں کیا ہیں جن سے جھوٹ ملیامیٹ ہو اور حق ثابت ہوجائے تو میرے نزدیک وہ ہی دلائل وبراہین ہیں جو قرآن اور پیغمبر کی صداقت پر اس نے قائم کی ہیں۔ بالخصوص وہ آیات آنفسیہ و آفاقیہ جن کا ذکر سورة " حم السجدہ " کے آخر پر " سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ۔ " کے حاشیہ میں کیا گیا ہے۔ ان آیات کے ظاہر ہونے پر سب کھرے اور کھوٹے دلوں کا حال اعلانیہ واضح ہوجائے گا۔ (تنبیہ) آیت ہذا کی تفسیر میں بہت اقوال ہیں۔ بندہ کے نزدیک بےتکلف یہ ہی مطلب ہے جو اوپر عرض کیا۔ اس تفسیر پر " ۭ وَيَمْــحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ " جملہ مستانفہ ہوا۔ جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہے اور اکثر محققین نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ البتہ مضارع کے معنی مترجم (رح) نے حال کے لیے ہیں جو بالکل صحیح ہیں۔ مگر بندہ کے خیال میں یہاں استقبال لینا زیادہ چسپاں ہے۔ واللہ اعلم۔ حضرت شاہ صاحب قدس سرہ " ۭ وَيَمْــحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ " کا عطف " یختم علی قلبک " پر کر رہے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ " یعنی اللہ اپنے اوپر کیوں جھوٹ بولنے دے۔ دل کو بند کر دے کہ مضمون ہی نہ آئے جس کو باندھ سکے اور چاہے تو کفر کو مٹا دے بےپیغام بھیجے۔ مگر وہ اپنی باتوں سے دین کو ثابت کرتا ہے اس واسطے نبی پر اپنا کلام بھیجتا ہے۔ "
Ayahs 42:25–26

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

اور وہی ہے جو قبول کرتا ہے توبہ اپنے بندوں کی اور معاف کرتا ہے برائیاں اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

اور دعا سنتا ہے ایمان والوں کی جو بھلے کام کرتے ہیں اور زیادہ دیتا ہے ان کو اپنے فضل سے6 اور جو منکر ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے

6 یعنی نبی خدا کا پیغام پہنچاتا ہے، تم جھوٹ سمجھو یا سچ، اس کے بعد بندوں کا سارا معاملہ خدا سے ہر ایک بندہ سے دنیا اور آخرت میں اس کے حال و استعداد کے موافق معاملہ ہوتا ہے۔ توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور باوجود سب کچھ جاننے کے کتنی برائیوں سے درگزر کرتا ہے جو ایماندار اور نیک بندے اس کی بات سنتے ہیں وہ ان کی دعائیں سنتا اور ان کی طاعات کو شرف قبولیت بخشتا ہے اور جس قدر اجر وثواب کے وہ عام ضابطہ سے مستحق ہوں اپنے فضل سے اس سے کہیں زائد مرحمت فرماتا ہے۔ رہ گئے منکر اور پکے کافر جن کو مرتے دم تک رجوع و توبہ کی توفیق میسر نہیں ہوتی ان کا انجام اگلے جملہ میں مذکور ہے۔
Ayah 42:27

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader

اور اگر پھیلا دے اللہ روزی اپنے بندوں کو تو دھوم اٹھاویں ملک میں لیکن اتارتا ہے ناپ کر جتنی چاہتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں کی خبر رکھتا ہے دیکھتا ہے7

7 خدا کے خزانوں میں کسی چیز کی کمی نہیں۔ اگر چاہے تو اپنے تمام بندوں کو غنی اور تونگر بنا دے لیکن اس کی حکمت مقتضی نہیں کہ سب کو بےاندازہ روزی دے کر خوش عیش رکھا جائے۔ ایسا کیا جاتا تو عموماً لوگ طغیان و تمرد اختیار کر کے دنیا میں اودھم مچا دیتے۔ نہ خدا کے سامنے جھکتے نہ اس کی مخلوق کو خاطر میں لاتے، جو سامان دیا جاتا کوئی اس پر قناعت نہ کرتا حرص اور زیادہ بڑھ جاتی جیسا کہ ہم بحالت موجودہ بھی عموماً مرفہ الحال لوگوں میں مشاہدہ کرتے ہیں، جتنا آجائے اس سے زیادہ کے طالب رہتے ہیں، کوشش اور تمنا یہ ہوتی ہے کہ سب کے گھر خالی کر کے اپنا گھر بھر لیں۔ ظاہر ہے کہ ان جذبات کے ماتحت عام غنا اور خوشحالی کی صورت میں کیسا عام اور زبردست تصادم ہوتا اور کسی کو کسی سے دینے کی کوئی وجہ نہ رہتی۔ ہاں دنیا کے عام مذاق و رجحان کے خلاف فرض کیجئے کسی وقت غیر معمولی طور پر کسی مصلح اعظم اور مامور من اللہ کی نگرانی میں عام خوشحالی اور فارغ البارلی کے باوجود باہمی آویزش اور طغیان و سرکشی کی نوبت نہ آئے اور زمانہ کے انقلاب عظیم سے دنیا کی طبائع ہی میں انقلاب پیدا کردیا جائے وہ اس عادی اور اکثری قاعدہ سے مستثنیٰ ہوگا۔ بہرحال دنیا کو بحالت موجودہ جس نظام پر چلاتا ہے اس کا مقتضی یہ ہی ہے کہ غناء عام نہ کیا جائے بلکہ ہر ایک کو اس کی استعداد اور احوال کی رعایت سے جتنا مناسب ہو جانچ تول کردیا جائے۔ اور یہ خدا ہی کو خبر ہے کہ کس کے حق میں کیا صورت اصلح ہے۔ کیونکہ سب کے اگلے اور پچھے حالات اسی کے سامنے ہیں۔
Ayah 42:28

وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader

اور وہی ہے جو اتارتا ہے مینہ بعد اس کے کہ آس توڑ چکے اور پھیلاتا ہے اپنی رحمت اور وہی ہے کام بنانے والا سب تعریفوں کے لائق1

1 یعنی بہت مرتبہ ظاہری اسباب و حالات پر نظر کر کے جب لوگ بارش سے مایوس ہوجاتے ہیں اس وقت حق تعالیٰ باران رحمت نازل فرماتا اور اپنی مہربانی کے آثار و برکات چاروں طرف پھیلا دیتا ہے۔ تاکہ بندوں پر ثابت ہوجائے کہ رزق کی طرح اسباب رزق بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں جیسے وہ روزی ایک خاص اندازہ سے عطا کرتا ہے، بارش بھی خاص اوقات اور خاص مقدار میں مرحمت فرماتا ہے۔ بات یہ ہے کہ سب کام اسی کے اختیار میں ہیں اور جو کچھ وہ کرے عین حکمت و صواب ہے کیونکہ تمام خوبیاں اور کمالات اس کی ذات میں جمع ہیں۔ اور ہر قسم کی کارسازی اور اعانت و امداد وہیں سے ہوسکتی ہے۔ (تنبیہ) اللہ کی رحمت وقدرت کی طرف سے مایوس ہوجانا کافروں کا شیوہ ہے لیکن ایک مومن کی نظر میں اسباب کا سلسلہ یاس انگیز ہوسکتا ہے جیسے فرمایا (فَلَمَّا اسْتَيْـــَٔـسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِيًّا) 12 ۔ یوسف :80) اور (حَتّٰٓي اِذَا اسْتَيْــــَٔـسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَاۗءَهُمْ نَصْرُنَا ۙ فَنُجِّيَ مَنْ نَّشَاۗءُ ۭ وَلَا يُرَدُّ بَاْسُـنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ ) 12 ۔ یوسف :110)
Ayah 42:29

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:29 in the Quran reader

اور ایک اس کی نشانی ہے بنانا آسمانوں کا اور زمین کا2 اور جس قدر بکھیرے ہیں ان میں جانور3 اور وہ جب چاہے ان سب کو اکٹھا کرسکتا ہے4

2 یعنی جس طرح رزق پہنچانا اور اس کے اسباب (بارش وغیرہ کا) مہیا کرنا اس کے قبضہ میں ہیں۔ ان اسباب کے اسباب سماویہ و ارضیہ اور ان کے آثار و نتائج بھی اسی کی مخلوق ہیں۔ 3 آیت سے ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی طرح آسمانوں پر بھی جانوروں کی قسم سے کوئی مخلوق پائی جاتی ہے۔ 4 یعنی جس نے بکھیرے وہ سب کو اکٹھا کرسکتا ہے۔ اور یہ قیامت کے دن ہوگا۔
Ayah 42:30

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ Open ayah 42:30 in the Quran reader

اور جو پڑے تم پر کوئی سختی سو وہ بدلہ ہے اس کا جو کمایا تمہارے ہاتھوں نے اور معاف کرتا ہے بہت سے گناہ5

5 یعنی جیسی نعمتیں ایک خاص اندازہ اور خاص اوقات و احوال کی رعایت سے دی جاتی ہیں، مصائب کا نزول بھی خاص اسباب و ضوابط کے ماتحت ہوتا ہے۔ مثلاً بندوں کو جو کوئی سختی اور مصیبت پیش آئے اس کا سبب قریب یا بعید بندوں ہی کے بعض اعمال و افعال ہوتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے ایک آدمی غذا وغیرہ میں احتیاط نہ کرنے سے خود بیمار پڑجاتا ہے بلکہ بعض اوقات ہلاک ہوجاتا ہے یا بعض اوقات والدہ کی بدپرہیزی بچہ کو مبتلائے مصیبت کردیتی ہے، یا کبھی کبھی ایک محلے والے یا شہر والے کی بےتدبیری اور حماقت سے پورے محلہ اور شہر کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ ہی حال روحانی اور باطنی بدپرہیزی اور بےتدبیری کا سمجھ لو۔ گویا دنیا کی ہر مصیبت بندوں کے بعض اعمال ماضیہ کا نتیجہ ہے۔ اور مستقبل میں ان کے لیے تنبیہ اور امتحان کا موقع بہم پہنچاتی ہے اور یہ اس پر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بندوں کے بہت گناہوں سے درگزر کرتی ہے۔ اگر ہر ایک جرم پر گرفت ہوتی تو زمین پر کوئی متنفس بھی باقی نہ رہتا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ خطاب عاقل بالغ لوگوں کو ہے گنہگار ہوں یا نیک۔ مگر نبی اس میں داخل نہیں (اور چھوٹے بچے بھی شامل نہیں) ان کے واسطے اور کچھ ہوگا۔ اور سختی دنیا کی بھی آئے گی۔ اور قبر کی اور آخرت کی۔ "
Ayah 42:31

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:31 in the Quran reader

اور تم تھکا دینے والے نہیں بھاگ کر زمین میں اور کوئی نہیں تمہارا اللہ کے سوا کام بنانے والا اور نہ مددگار6

6 یعنی محض اپنی مہربانی سے معاف کرتا ہے ورنہ جس جرم پر سزا دینا چاہے، مجرم بھاگ کر کہیں روپوش نہیں ہوسکتا۔ اور نہ اس کے سوا کوئی دوسرا حمایت و امداد کے لیے کھڑا ہوسکتا ہے۔
Ayah 42:32

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ Open ayah 42:32 in the Quran reader

اور ایک اس کی نشانی ہے کہ جہاز چلتے ہیں دریا میں جیسے پہاڑ7

7 یعنی جیسے زمین کی سطح پر پہاڑ ابھرے ہوئے ہیں سمندر کی سطح پر بڑے بڑے جہاز ابھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔
Ayah 42:33

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ Open ayah 42:33 in the Quran reader

اگر چاہے تھام دے ہوا کو پھر رہیں سارے دن ٹھہرے ہوئے اس کی پیٹھ پر8 مقرر اس بات میں پتے ہیں ہر قائم رہنے والے کو جو احسان مانے9

8 یعنی ہوا بھی اللہ کے قبضہ میں ہے۔ اگر ہوا کو ٹھہرا رکھے چلنے نہ دے تو تمام بادبانی جہاز دریا کی پیٹھ پر جہاں کے تہاں کھڑے رہ جائیں۔ غرض پانی اور ہوا سب اسی کے زیر فرمان ہیں۔ 9 دریائی سفر میں موافق اور ناموافق دونوں قسم کے حالات سے سابقہ پڑتا ہے۔ اس لیے بہت ضروری ہے کہ انسان موافق حالات پر شکر اور ناموافق حالات پر صبر کرتا ہوا اللہ تعالیٰ کی قدرت اور نعمت کو پہچانے۔
Ayah 42:34

اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘ Open ayah 42:34 in the Quran reader

یا تباہ کر دے ان کو بسبب ان کی کمائی کے اور معاف بھی کرے بہتوں کو10

10 یعنی چاہے تو مسافروں کے بعض اعمال کی پاداش میں جہازوں کو تباہ کر ڈالے اور اس تباہی کے وقت بھی بعض کو معاف فرما دے۔
Ayah 42:35

وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 42:35 in the Quran reader

اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں ہماری قدرتوں میں کہ نہیں ان کے لیے بھاگنے کی جگہ11

11 یعنی تباہ اس لیے کیے جائیں کہ ان کے بعض اعمال کا بدلہ ہو اور بڑے بڑے جھگڑالو بھی دیکھ لیں کہ ہاں ! خدائی گرفت سے نکل کر بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " جو لوگ ہر چیز اپنی تدبیر سے سمجھتے ہیں اس وقت عاجز رہ جائیں گے۔ " کوئی تدبیر بن نہ پڑے گی۔
Ayah 42:36

فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ Open ayah 42:36 in the Quran reader

سو جو کچھ ملا ہے تم کو کوئی چیز ہو سو وہ برت لینا ہے دنیا کی زندگانی میں اور جو کچھ اللہ کے یہاں ہے بہتر ہے اور باقی رہنے والا واسطے ایمان والوں کے جو اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں12

12 یعنی یہ تمام باتیں سننے کے بعد انسان کو چاہیے کہ اللہ کو راضی رکھنے کی فکر کرے اس چند روزہ زندگانی اور عیش فانی پر مغرور نہ ہو۔ اور خوب سمجھ لے ایمانداروں کو جو عیش و آرام اللہ کے ہاں ملے گا وہ اس دنیا کے عیش و آرام سے بہتر ہے اور پائدار بھی۔ نہ اس میں کسی طرح کی کدورت ہوگی نہ فناء وزوال کا کھٹکا ہوگا۔
Ayah 42:37

وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ Open ayah 42:37 in the Quran reader

اور جو لوگ کہ بچتے ہیں بڑے گناہوں سے اور بےحیائی سے اور جب غصہ آوے تو وہ معاف کردیتے ہیں1

1 اس کا بیان سورة " نسا " کی آیت " اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ " کے فوائد میں گزر چکا، وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔ شاید یہاں " کبائر الاثم " سے وہ بڑے گناہ مراد ہوں جو قوت نظریہ کی غلط کاری سے پیدا ہوئے ہیں۔ مثلاً عقائد بدعیہ اور " فواحش " وہ گناہ جن میں قوت شہوانیہ کی بےاعتدالی کو دخل ہو۔ آگے (وَاِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ يَغْفِرُوْنَ ) 42 ۔ الشوری :37) میں تو ظاہر ہے کہ قوت غضبیہ کی روک تھام کی گئی ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 42:38

وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ Open ayah 42:38 in the Quran reader

اور جنہوں نے کہ حکم مانا اپنے رب کا اور قائم کیا نماز کو اور کام کرتے ہیں مشورہ سے آپس کے2 اور ہمارا دیا کچھ خرچ کرتے ہیں

2 مشورہ سے کام کرنا اللہ کو پسند ہے دین کا ہو یا دنیا کا۔ نبی کریم ﷺ مہمات امور میں برابر اصحاب ؓ سے مشورہ فرماتے تھے اور صحابہ آپس میں مشورہ کرتے تھے حروب وغیرہ کے متعلق بھی اور بعض مسائل و احکام کی نسبت بھی۔ بلکہ خلافت راشدہ کی بنیاد ہی شوریٰ پر قائم تھی۔ یہ ظاہر ہے کہ مشورہ کی ضرورت ان کاموں میں ہے جو مہتم بالشان ہوں اور جو قرآن و سنت میں منصوص نہ ہوں۔ جو چیز منصوص ہو اس میں رائے و مشورہ کے کوئی معنی نہیں۔ اور ہر چھوٹے بڑے کام میں اگر مشورہ ایسے شخص سے لیا جائے جو عاقل و عابد ہو۔ ورنہ اس کی بیوقوفی یا بددیانتی سے کام خراب ہوجانے کا اندیشہ رہے گا۔
Ayah 42:39

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ Open ayah 42:39 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جب ان پر ہو وے چڑھائی تو وہ بدلہ لیتے ہیں3

3 یعنی جہاں معاف کرنا مناسب ہو معاف کرے مثلاً ایک شخص کی حرکت پر غصہ آیا اور اس نے ندامت کے ساتھ اپنے عجزو قصور کا اعتراف کرلیا۔ انہوں نے معاف کردیا۔ یہ محمود ہے اور جہاں بدلہ لینا مصلحت ہو مثلاً کوئی شخص خواہ مخواہ چڑھتا ہی چلا آئے اور ظلم و زور سے دبانے کی کوشش کرے، یا جواب نہ دینے سے اس کا حوصلہ بڑھتا ہے یا ہماری شخصی حیثیت سے قطع نظر کر کے دین کی اہانت یا جماعت مسلمین کی تذلیل ہوتی ہے، ایسی حالت میں بدلہ لیتے ہیں، وہ بھی بقدر اس کی زیادتی کے جرم سے زائد سزا نہیں دیتے۔
Ayah 42:40

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 42:40 in the Quran reader

اور برائی کا بدلہ ہے برائی ویسی ہی4 پھر جو کوئی معاف کرے اور صلح کرے سو اس کا ثواب ہے اللہ کے ذمہ بیشک اس کو پسند نہیں آتے گناہگار5

4 بدلہ کے طور پر جو برائی کی جائے وہ حقیقتا نہیں محض سورة ً برائی ہوتی ہے۔ " سیئۃٍ " کا اطلاق اس پر مشاکلۃً کیا گیا۔ 5 یعنی ظلم اور زیادتی تو اللہ کے ہاں کسی حالت میں پسند نہیں۔ بہترین خصلت یہ ہے کہ آدمی جتنا بدلہ لے سکتا ہے اس سے بھی درگزر کرے۔ بشرطیکہ درگزر کرنے میں بات سنورتی ہو۔