Explained with ayahs 26–35
امام الموحدین کا ذکر اور دنیا کی قیمت
قریشی کفار نیکی اور دین کے اعتبار سے چونکہ خلیل اللہ امام الحنفا حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی طرف منسوب تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی ان کے سامنے رکھی کہ دیکھو جو اپنے بندے آنے والے تمام نبیوں کے باپ اللہ کے رسول امام الموحدین تھے انہوں نے کھلے لفظوں میں نہ صرف اپنی قوم سے بلکہ اپنے سگے باپ سے بھی کہہ دیا کہ مجھ میں تم کوئی تعلق نہیں۔ میں سوائے اپنے سچے اللہ کے جو میرا خالق اور ہادی ہے تمہارے ان معبودوں سے بیزار ہوں سب سے بےتعلق ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اس جرات حق گوئی اور جوش توحید کا بدلہ یہ دیا کہ کلمہ توحید کو ان کی اولاد میں…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 25
ان الفاظ میں حضرت ابراہیم ؑ نے محض اپنا عقیدہ ہی بیان نہیں کیا بلکہ اس کی دلیل بھی دے دی۔ دوسرے معبودوں سے تعلق نہ رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ نہ انہوں نے پیدا کیا ہے، نہ وہ کسی معاملہ میں صحیح رہنمائی کرتے ہیں، نہ کرسکتے ہیں۔ اور صرف اللہ وحدہ لاشریک سے تعلق جوڑنے کی وجہ یہ ہے کہ وہی پیدا کرنے والا ہے اور وہی انسان کی صحیح رہنمائی کرتا ہے اور کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
خلاصہ تفسیر
اور (وہ وقت قابل ذکر ہے) جبکہ ابراہیم ؑ نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں (کی عبادت) سے بیزار (اور بےتعلق) ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو مگر ہاں (اس خدا سے تعلق رکھتا ہوں) جس نے مجھ کو پیدا کیا، پھر وہی مجھ کو (میرے دین و دنیا کی مصلحتوں تک) رہنمائی کرتا ہے (مطلب یہ کہ ان لوگوں کو ابراہیم ؑ کا حال یاد کرنا چاہئے کہ وہ خود بھی توحید کے معتقد تھے) اور (وصیت کے ذریعہ) وہ اس (عقیدہ) کو اپنی اولاد میں (بھی) ایک قائم رہنے والی بات کر گئے (یعنی اپنی اولاد کو بھی وصیت کی جس کا اثر کچھ کچھ حضور ﷺ کی بعثت تک بھی برابر رہا، یہاں تک کہ زمانہ جاہلیت میں بھی عرب میں بعض لوگ شرک…
Read the full tafseer →الا الذی فطرنی فانہ سیھدین 27
میرے نزدیک یہ استثناء مما تعبدون سے ہے۔ جس طرح مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کی بندگی کرتے تھے لیکن اس کے شریک ٹھہرا کر، اسی طرح حضرت ابراہیم ؑ کی قوم بھی خدا کی منکر نہیں تھی بلکہ اس کے شریک ٹھہراتی تھی۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے اس اعلان سے قوم پر یہ واضح فرمایا کہ اللہ کے سوا، دوسرے دیوی دیوتا جو تم نے بنا رکھے ہیں، وہ تو بالکل بےحقیقت ہیں۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی بندگی میں کرتا ہوں اور کروں گا اس لئے کہ وہ میرا خالق و فاطر ہے اس وجہ سے بندگی کا حق دار ہے۔
فانہ سیھدین کا تعلق ان کے اعلان برأت سے ہے یعنی میں اپنے باپ اور اپنی قوم کو چھوڑنے کا جو اعلان کر رہا ہوں تو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
27۔ 1 یعنی جس نے مجھے پیدا کیا وہ مجھے اپنے دین کی سمجھ بھی دے اور اس پر ثابت قدم بھی رکھے گا، میں صرف اسی کی عبادت کروں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
7: دو بستیوں سے مراد مکہ مکرمہ اور طائف کے شہر ہیں۔ چونکہ اس علاقے میں یہی دو بڑے شہر تھے، اس لیے مشرکین نے یہ کہا کہ ان شہروں کے دولت مند سرداروں پر قرآن نازل ہونا چاہیے تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
درس نمبر 232 ایک نظر میں
قریش کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں۔ اور یہ دعویٰ برحق تھا۔ پھر ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ وہ ملت ابراہیمی پر ہیں اور ان کی یہ بات غلط تھی۔ حضرت ابراہیم نے تو عقیدۂ توحید کا اعلان نہایت کھل کر کیا تھا۔ جس کے اندر کوئی التباس اور پیچیدگی نہ تھی۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنے باپ کو چھوڑا ، اپنی قوم کو چھوڑا ، اس سے پہلے ان کو قتل کرنے اور جلانے کی سعی کی گئی۔ اور ان کی شریعت بھی عقیدۂ توحید پر قائم تھی اور اسی کی انہوں نے اپنی اولاد کو تاکید کی تھی۔ اس لیے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت اور شریعت میں شرک کا شائبہ تک نہ تھا۔
اس سبق میں قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
1 یعنی صرف ایک خدا سے میرا تعلق ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور وہ ہی مجھے منزل مقصود کے راستہ پر آخر تک لے چلے گا۔ (تنبیہ) یہاں یہ قصہ اس پر بیان کیا کہ دیکھو تمہارے مسلم پیشوا نے باپ کی راہ غلط دیکھ کر چھوڑ دی تھی۔ تم بھی وہ ہی کرو۔ اور اگر آباؤ اجداد کی تقلید ہی پر مرتے ہو تو اس باپ کی راہ پر چلو جس نے دنیا میں حق و صداقت کا جھنڈا گاڑ دیا تھا اور اپنی اولاد کو وصیت کر گیا تھا کہ میرے بعد ایک خدا کے سوا کسی کو نہ پوجنا۔ کما قال تعالیٰ (وَوَصّٰى بِهَآ اِبْرٰھٖمُ بَنِيْهِ وَيَعْقُوْبُ ) 2 ۔ البقرۃ :132)
Read the full tafseer →آیت 27 { اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّہٗ سَیَہْدِیْنِ } ”سوائے اس ہستی کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے ‘ تو یقینا وہی مجھے راستہ دکھائے گا۔“
Read the full tafseer →25 سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنا یہ حال تھا کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے آباء و اجداد اور ان کی قوم سب کے سب اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرنے لگ گئے ہیں تو انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اپنے باپ دادا کے دین کو کیسے چھوڑوں۔ بلکہ انہوں نے برملا کہہ دیا تھا کہ مجھے ان بتوں کی بندگی سے سخت نفرت ہے۔ اور ساتھ ہی یہ دلیل بھی پیش کردی کہ میں تو صرف اسی ذات کی بندگی کرسکتا ہوں جس نے مجھے پیدا بھی کیا ہے اور ہدایت کی راہ بھی دکھاتا ہے اور جن چیزوں کا نہ میری پیدائش میں دخل ہے اور نہ ہی ہدایت دے سکتے ہیں بلکہ خود بےجان مخلوق ہیں اور سنتے بولتے بھی نہیں ہیں آخر ایسی بےکار چیزوں کی بندگی میں…
Read the full tafseer →19۔ ایک موحد کی یہی شان ہے کہ وہ اسی طرح شرک و متعلقات شرک سے اپنی بےتعلقی وبیزاری کا اظہار کرتا رہے۔ آیت میں اثبات توحید دوگونہ صفات کے لحاظ سے ہے۔ سب کا فاطر و خالق بھی وہی ہے اور سب کا ہادی ومرشد حقیقی بھی وہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
آیت نمبر 26 تا 35
ترجمہ : اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو بجز اس ذات کے کہ جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے اپنے دین کی ہدایت بھی دے گا اور اس کو یعنی کلمہ توحید کو جو کہ اس کے قول اِنَّنِی تا سَیَھْدِیْنِ سے مفہوم ہے، اپنی اولاد میں باقی رہنے والی بات کر گئے چناچہ ہمیشہ ان میں توحید پرست رہیں گے تاکہ اہل مکہ اپنے موجودہ دین کو چھوڑ کر اپنا ابّا، ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی طرف آجائیں بلکہ میں نے ان مشرکوں کو اور ان کے آباء کو سامان راحت دیا، اور ان کی سزا میں جلدی نہیں کی، یہاں…
Read the full tafseer →الا الذی فطرنی فانہ سیھدین مگر ہاں جس نے مجھے پیدا کیا (اس کی عبادت کرتا ہوں) سو وہی میری رہنمائی کرتا ہے۔
بَرَآءٌ یہ مصدر ہے ‘ اسی لئے نہ اس کی جمع آتی ہے ‘ نہ تثنیہ۔ اس جگہ مصدر صیغۂ صفت کے معنی میں بطور مبالغہ ذکر کیا گیا ہے۔
مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ- ما مصدری ہے ‘ یعنی تمہاری اس پوجا سے میں بیزار ہوں ‘ یا موصولہ ہے یعنی تمہارے معبودوں سے بیزار ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ اس زمانہ کا ذکر کرو ‘ جب ابراہیم نے اپنے باپ اور قوم سے یہ بات کہی تھی تاکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ ابراہیم نے باپ دادا کی تقلید سے کیسا اظہار بیزاری کیا تھا اور تقلید سے بیزاری کو کس طرح دلیل سے ثابت کیا تھا۔ یا یہ مطلب ہے کہ اگر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(26۔ 27) اور جبکہ ابراہم نے اپنے باپ آزار اور اپنی قوم سے ان کے پاس آنے کے بعد کہا کہ میں اس سے اللہ سے تعلق رکھتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا وہی اپنے دین اور اپنی اطاعت کی طرف میری رنمائی کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(1) واذ قال ابراہیم لابیہ وقومہ…: یہاں ابراہیم ؑ کے قصے کی مناسبت یہ ہے کہ قریش اور قوم عرب سے کہا جا رہا ہے کہ تمہارے پیشوا اور جد امجد نے باپ کی راہ غلط دیکھ کر چھوڑ دی تھی، تم بھی ایسا ہی کرو۔
(2) اننی برآء مما تعبدون…:”برآئ“ مصدر ہے، واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر ر مونث کے لئے یہی لفظ استعمال ہوتا ہے ، جو ”بری“ کے معنی میں ہے، مگر اس میں مبالغہ ہے، جیسے ”زید عادل“ میں وہ زور نہیں جو ”اتنا عادل ہے کہ سراپا عدل ہے) میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ابراہیم ؑ نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ میں تمہارے تمام معبودوں سے سراپا برأت ہوں، دل ، زبان اور عمل کے ساتھ۔ غرض ہر طرح سے ان سے برأت کا اعلان کرتا ہوں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
واذ قال ابرھیم لا بیہ و قومہ اننی برآء مما تعبدون۔ الا الذی فطرنی نانہ سیھدین۔ ” اور یاد کیجئے جب کہا ابرہیم نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہ میں بےزارہوں ان سے جن کی تم عبادت کرتے ہو بجز اس کے جس نے مجھے پیدا فرمایا بیشک وہی میری راہنمائی کرے گا “۔
واذ قال انہیں یاد دلا یئے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا : جن کی تمام عبادت کرتے ہو میں ان سے بری ہوں۔ براء کا لفظ واحد اور اس سے اوپر کے لیے استعمال ہوتا ہے اس کا نہ تثنیہ بنایا جاسکتا ہے نہ جمع اور نہ ہی اس کا مونث بنایا جاتا ہے کیونکہ یہ مصدر ہے اور صفت کی جگہ اسے رکھا گیا ہے یہ نہیں کہا جاتا : البراء ان، البراء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ابراہیم (علیہ السلام) کا آبائی دین سے بیزار ہونا :
1:۔ الفضل بن شاذان نے کتاب القرأت میں اپنی سند کے ساتھ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھا (آیت) ” اننی برآء مما تعبدون “ (کہ میں ان چیزوں سے جن کو تم پوجتے ہو بیزار ہوں یاء کے ساتھ پڑھا۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اننی برآء مما تعبدون ‘ (26) الا الذی فطرنی فانہ سیھدین “ (اور میں ان چیزوں سے جن کو تم پوجتے ہو بیزار ہوں مگر ہاں جس نے مجھے پیدا کیا (اس کی عبادت کرتا ہوں) سو وہی میری رہنمائی کرتا ہے) فرمایا کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے (آیت ) ” ولئن سالتھم من خلقھم لیقولن اللہ “ (الزخرف آیت 87) اور اگر آپ…
Read the full tafseer →اِلَّا الَّذِيْ [ سوائے اس کے جس نے ] فَطَرَنِيْ [وجود بخشا مجھ کو ] فَاِنَّهٗ [ تو یقینا وہ ] سَيَهْدِيْنِ [ ہدایت دے گا مجھ کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
اس کے بعد فرمایا ﴿بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ (الآیۃ) ان لوگوں کے پاس حق تو آگیا ہے لیکن قبول کرنے سے گریز کر رہے ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ ان کو اور ان کے باپ دادوں کو میں نے دنیا کا سامان دے دیا یہ لوگ اس میں مشغول ہیں اس مشغولی نے ان کو یہاں تک پہنچا دیا کہ جب ان کے پاس حق آگیا اور رسول مبین یعنی محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے جنہوں نے واضح طور پر توحید کی دعوت دے دی جسے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بعد میں آنے والوں کے لیے باقی رکھا تھا تب بھی حق کو قبول کرنے سے اعراض کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
بیان استقامت ابراہیم (علیہ السلام) بر توحید خداوندی ونفرت وبرات از شرک :
قال اللہ تعالیٰ : واذ قال ابرھیم لابیہ وقومہ ....... الی ....... عند ربک للمتقین “۔
(ربط) ” گذشتہ آیات میں مشرکین ومنکرین کے عناد وتعصب اور ان کے قبول حق سے انکار ونفرت کا بیان تھا، اب ان آیات میں حضرت ابراھیم (علیہ السلام) جن کا لقب ہی حنیف مسلم تھا ایک رنگ بیان کیا جارہا ہے کہ وہ کسی طرح توحید پر مضبوطی کے ساتھ قائم تھے اور انہوں نے اسی جذبہ توحید میں اپنی قوم اور اپنے باپ سے بھی نفرت وبراءت کا اعلان کردیا، حقیقت یہ ہے کہ توحید وشرک در متناقض چیزیں ہیں، ظاہر ہے کہ جس کے دل میں ایمان و توحید کا رنگ رچ گیا ہو وہ شرک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
18:۔ ؎” واذا قال ابراہیم “ پہلی دلیل نقلی تفصیلی از حضرت ابراہیم علیہ السلام۔ ” الا الذی ‘ میں استثناء منقطع ہے (مدارک و بحر) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو جد الانبیاء اور مشرکین قریش کے جد اعلی تھے ان کی تعلیم یہ تھی کہ انہوں نے اپنے باپ آز اور اپنی قوم کے سامنے واشگاف الفاظ میں اعلان فرما دیا تھا کہ تم جن معبودان باطلہ کی عبادت و تعظیم بجالاتے ہو اور جنہیں حاجات و مشکلات میں غائبانہ پکارتے ہو، میں ان سب سے سخت بیزار ہوں۔ التہ وہ ذات پاک جس نے مجھے پیدا کیا ہے میں اسی کی عبادت کرتا ہوں اور اسی ہی کو حاجات میں پکارتا ہوں۔ وہی مجھے اس ہدایت پر قائم رکھے ہے۔ ” سیہدین “ میں سین تاکید کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کی مذمت بیان فرمائی جو اپنے آبائواجداد کے طریقے پر چلتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم تو اپنے باپ دادا کے نقش قدم پر ہی چلیں گے اگرچہ خدا کا نبی حق بات لے کر آیا ہو۔ اپنے آبائو اجدا کے رسم و رواج کو بغیر دلیل اور بغیر سوچے سمجھے اپنانا اندھی تقلید کہلاتا ہے جو نزول قرآن کے زمانے کے مشرک اختیار کیے ہوئے تھے۔
ابراہیم (علیہ السلام) کا اظہار بیزاری
اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی توجہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ کی طرف دلائی ہ۔ اور یاد دلایا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہی اسحاق اور بنی اسماعیل یعنی یہود و نصاری اور مشرکین عرب سب کے جد امجد…
Read the full tafseer →اِلَّا الَّذِيْ فَطَرَنِيْ فَاِنَّہٗ سَيَہْدِيْنِ 27
«أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء
«أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] وقوله : أولئك : اسم مبهم موضوع للإشارة إلى جمع المذکر والمؤنث، ولا واحد له من لفظه، وقد يقصر نحو قول الأعشی: هؤلا ثم هؤلا کلّا أع طيت نوالا محذوّة بمثال
الا) الا یہ حرف استفتاح ہے ( یعنی کلام کے ابتداء میں تنبیہ کے لئے آتا ہے ) ( الا) الا یہ حرف استثناء ہے اولاء ( اولا) یہ اسم مبہم ہے جو جمع مذکر و مؤنث کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس کا مفرد من لفظہ نہیں آتا ( کبھی اس کے شروع ۔ میں ھا تنبیہ بھی آجاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
ترکیب : قراء الجمہور قل و قریٔ قال حکایۃ لماجری بین النذروقومھم۔ ای قال کل نذیر لقومہ۔ اَہمزۃ انکار وللعطف علی المحذوف ای تتبعون ذالک۔ و جواب لو محذوف۔ الا الذی استثناء منقطع اومتصل علی ان کلمۃ مافی ممایعم لانھم کانویعبدون اللہ والاوثان اوصفۃ بمعنی غیر علی ان ماموصوفۃ ای اننی براء من الہۃ تعبدونھا غیر الذی فطرنی وجعلہا فاعلجعل الضمیر یرجع الی اللہ اوالی ابراھم وھا الی کلمۃ التوحید التی قالھا ابراھیم۔
تفسیر : یہ بقایا ہے اس گفتگو کا جو انبیائِ سابقین اور ان کی قوم میں ہوئی تھی کہ کیا جب تمہارے باپ دادا کے طریقہ سے اچھا اور ہدایت کا طریقہ ہم تمہارے پاس لاویں جب بھی تم اپنے باپ دادا کے طریقہ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
وَاِذْقَالَ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖٓ اِنَّنِیْ بَرَآئٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ ۔ اِلاَّ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّـہٗ سَیَھْدِیْنِ ۔ (الزخرف : 26، 27)
(اور یاد کرو جبکہ ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا تم جن کی بندگی کرتے ہو میں ان سے یکسر بری ہوں۔ میں صرف اس کی بندگی کرتا ہوں جس نے مجھ کو پیدا کیا ہے اور وہی میری رہنمائی کرے گا۔ )
مشرکین کی آبا پرستی پر ملت ابراہیم سے تنقید
گزشتہ متعدد آیات میں قریش مکہ اور دیگر مشرکین کا بنیادی مرض یہ بتایا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کو خالق ومالک مانتے اور اس کی بندگی بجا لاتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ کبھی اللہ تعالیٰ کی ذات، کبھی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح ہر قوم کے حکمران اور امیر لوگوں نے اپنے رسول کی مخالفت کی اور اپنے آباء و اجداد کے رسم و رواج پر قائم رہے۔ اسی طرح ہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد اور ان کی قوم باطل عقیدہ اور اپنے رسم و رواج پر قائم رہے۔
اہل مکہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کا وارث سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) بھی اسی طریقہ سے اپنے رب کی عبادت کرتے تھے جس انداز میں ہم عبادت کرتے ہیں۔ قرآن مجید نے مختلف الفاظ میں اس بات کی تردید کی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا شرکیہ عقیدہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی ان کا مشرکین کے ساتھ کوئی واسطہ تھا وہ صرف…
Read the full tafseer →آیت 27: اِلاَّ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ (مگر ہاں جس نے مجھے پیدا کیا) : یہ استثناء منقطع ہے۔ گویا اس طرح فرمایا لکن الذی فطرنی۔ فَاِنَّہٗ سَیَہْدِیْنِ (پھر وہی میری راہنمائی کرتا ہے) یعنی ہدایت پر ثابت قدمی بخشتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(26۔ 27) ۔۔۔۔۔۔ ، واذ قال ابراھیم لابیہ وقومہ اننی براء ، یعنی بری ہوں ۔ براء کا تثنیہ اور جمع اور مؤنث نہیں آتا کیوں کہ یہ مصدر ہے جس کو صفت کی جگہ رکھا گیا ہے۔ ، مماتعبدون الا الذی فطرنی فانہ سیھدین، مجھے اپنے دین کے لیے رہنمائی کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
16۔ 30۔ مشرکین مکہ نے بت پرستی کے کفر میں یہ کفر جمع کئے تھے ایک تو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد ٹھہرایا تھا دوسرے اولاد کی قسم میں لڑکیوں کو خود اپنے حق میں اچھا نہیں جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کو منسوب کرتے تھے تیسرے بغیر جانے بوجھے غیب کی باتوں میں دخل دیتے تھے کہ فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں طرح طرح سے ان مشرکوں کو قائل کیا ہے پہلے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم کو تو بیٹے دیئے اور اپنی ذات کے لئے بیٹیاں چھانٹیں خود تمہارا تو یہ حال ہے کہ لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر منہ بنا لیتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف لڑکیوں کو نسبت دیتے ہو پھر فرمایا کہ لڑکی کی ذات جو گہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے خلیل حضرت ابراہیم کی ملت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جن سے یہ مشرکین اور اہل کتاب اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، ان میں سے ہر ایک اس زعمز باطل میں مبتلا ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے طریقے پر چل رہا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے دین کے بارے میں جو ان کی ذریت کو وراثت میں ملا ہے خبر دی ہے، لہٰذا فرمایا : (وا قال ابراہیم لابیہ وقومہ) ” اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا۔ “ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کچھ دوسرے معبود بنا لئے تھے، وہ ان کی عبادت کرتے تھے اور ان کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ (اننی برآء مما تعبدون) ” جن چیزوں کی تم عبادت کرتے ہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–60
تقلید کی تردید
قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
34 حضرت ابراہیم کا ترکہ اپنے اخلاف کے لیے کلمہ توحید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی بات کو حضرت ابراہیم چھوڑ گئے اپنے پچھلوں میں "۔ کہ ایمان والوں کی ہر عبادت و بندگی کی اساس و بنیاد یہی کلمہ توحید ہو اور شرک والے اپنے شرکیہ عقائد و اعمال سے تائب ہو کر حق کی طرف رجوع کرتے رہیں۔ اور اسوئہ ابراہیمی اپنی بےمثال تابانیوں کے ساتھ ہمیشہ ان کی راہنمائی کرتا رہے۔ اور اس طرح ایک طرف تو دنیا کو حق و ہدایت کی روشنی ملتی رہے اور دوسری طرف حضرت ابراہیم خلیل ۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والتسلیم ۔ کے ذخیرئہ اجر وثواب میں بھی برابر اضافہ ہوتا رہے ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے ایسی پاکیزہ و مثالی بلکہ بےمثال زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–31
مشرکین کا بدترین فعل
تشریح : یہ تمام آیات ان بیوقوف لوگوں کی بےبنیاد باتوں کے جواب میں ہیں جو کفر و شرک کی دلدل میں پھنس کر الٹی سیدھی دلیلیں دیتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دین اسلام اور اسے لے کر آنے والے حضرت محمد ﷺ سب جھوٹے ہیں اور اللہ پر الٹے سیدھے بہتان لگاتے ہیں۔ مثلاً پہلا بہتان کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسرا یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تیسرا صرف اپنے باپ دادا کی دیکھا دیکھی مخلوق خدا کی ہی پرستش شروع کردی۔ چوتھا یہ کہ اللہ کی مرضی تھی تب ہی تو ہم اللہ کے سوا کسی اور کو پوجتے ہیں۔ یہ غلط ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو عقل اور ارادہ کی آزادی دے کر اس کو نیکی و بدی میں تمیز کرنے کے لیے رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
آیات 26 تا 35۔
اسرار ومعارف۔
اور انہیں باپ دادا ہی کی بات قبول تھی تو ابراہیم (علیہ السلام) کی بات قبول کرتے جنہوں نے باپ دادا کی رسومات قبول کرنے کے بجائے اللہ کی طرف سے عطا کردہ دین اپنایا اور انہیں صاف بتادیا کہ یہ جو کچھ رسومات تم کرتے ہو میں ان سے الگ اور بےزار ہوں بلکہ جس قادر مطلق نے مجھے پیدا فرمایا ہے وہ ہدایت کا راستہ بھی بتائے گا کہ وہ محض پیدا کرکے چھوڑ نہیں دے گا بلکہ انہوں نے نہ صرف پہلوں کے کفر وشرک کی تردید کی بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی حق اور توحید کی اس قدر تاکید فرماگئے کہ ان کے بعد صدیوں تک لوگ عقیدہ توحید پر قائم رہے اور آج تک یعنی بعثت نبوی تک بعض عرب اس پر قائم تھے اور…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی میرا تعلق صرف اسی سے ہے کیونکہ اسی نے مجھے پیدا کیا اور وہی میری دستگیری و رہنمائی کرسکتا ہے اور کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
(43:27) فطرنی۔ فطر ماضی واحد مذکر غائب فطر (باب ضرب و نصر) بمعنی عدم سے وجود میں لانا۔ پیدا کرنا۔ فطر کے مفہوم میں پھاڑنے کے معنی ضرور ہونا چاہیے کیونکہ لغت میں فطر کے معنی پھاڑنے کے ہیں۔ عدم کے پردہ کو پھاڑ کر وجود میں لانا۔ یعنی پیدا کرنا اسی مناسبت سے اس کا مفہوم قرار پایا۔ نی ضمیر مفعول واحد متکلم ۔ فطرنی اس نے مجھے پیدا کیا۔
سیھدین : س مضارع کو مستقبل کے ساتھ خاص کردینے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یھدین مضارع واحد مذکر غائب۔ ھدایۃ باب ضرب مصدر نون وقایہ یاء متکلم محذوف ہے وہ مجھے ہدایت کر دے گا۔ وہ میری راہنمائی کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 35 : برائ (بیزار ہوتا) فطرنی ( اس نے مجھے پیدا کیا) کلمۃ باقیۃ (باقی رہنے والا پیغام) عقب (پیچھے) متعت ( میں نے سامان دیا) قریتین (دو بستیاں ( مکہ و طائف) یقسمون ( وہ تقسیم کرتے ہیں) معیشت (روزی) سخریا ( ذلیل ، ذلت) سقف ( چھتیں) فضۃ ( چاندی) معارج ( معراج) (سیڑھیاں) سرر ( سریر) تخت ، بیٹھنے کی جگہیں) زخرف (سونا)
تشریح : آیت نمبر 26 تا 35 : اوپر کی آیات میں گمراہ باپ دادا کے نقش قدم پر چلنے ، اللہ کے پیغمبروں کی تعلیمات سے منہ پھیر کر زندگی گزارنے ، حق و صداقت کا انکار کرنے والے کے سامنے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر وہ قریش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–30
بت پرستی کا انجام۔
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان مشرکوں سے یہ تو پوچھو کہ جس وقت اللہ نے فرشتوں کو پیدا کیا اس وقت یہ مشرک لوگ کیا وہاں آسمان میں موجود تھے انہوں نے دیکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں یا اللہ نے ان مشرکوں پر کوئی کتاب آسمان سے اتاری ہے جس میں لکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے عورتیں ہیں، فرمایا یہ جھوٹی شہادت دیتے ہیں یہ لکھی جائے گی اور نامہ اعمال میں چڑھائی جائے گی اور انسے بروز قیامت اس شہادت کا حال پوچھاجائے گا تب حقیقت کھلے گی پھر فرمایا کہ نہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت یہ مشرک موجود تھے نہ قرآن سے پہلے کوئی کتاب اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے ان پر، بلکہ اپنے بڑؤں سے جو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
[9] یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ قریش کا یہ دعویٰ بالکل باطل ہے کہ جس دین کی وہ پیروی کر رہے ہیں یہ ان کو ان کے آباؤ اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ ان کے اصل جد امجد تو ابراہیم (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے شرک سے اعلان برأت کیا۔ پھر یہ کیسے کہتے ہیں کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے طریقے پر چل رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
ف 2: ان کی اس سرکشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ لوگ صفحہ ہستی سے مٹ گئے ۔ اور قدامت پرستی کے عمیق غاروں میں مدفون ہوگئے ۔
Read the full tafseer →(27) مگر ہاں جس نے مجھ کو پیدا کیا پھر وہی میری رہنمائی کرتا ہے اور مجھ کو ہدایت دیتا ہے - یعنی اوپر کی آیتوں میں باپ دادا کے نقش قدم پر چلنے اور پیغمبروں کی تعلیم سے روگردانی کرنے کی مذمت سے بیان فرمائی تھی اسی سلسلے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ کا ذکر فرمایا چونکہ قریش بھی ان کو اپنا جد اعلیٰ مانتے تھے اس لئے ان کا ذکر فرمایا کہ دیکھو تمہارے جد اعلیٰ نے کس طرح اپنے باپ دادا کی رسوم اور طریقوں سے بیزاری کا اعلان کردیا تم بھی آبائی طریقوں سے اپنی علیحدگی کا اعلان کردو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ف 2۔ مطلب یہ کہ ان لوگوں کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حال یاد رکھنا چاہئے کہ وہ خود بھی توحید کے معتقد تھے۔
Read the full tafseer →مگر ہاں وہ ذات جس نے مجھے پیدا کیا اور میری راہنمائی کرتا ہے
27 ؎ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کا استثنائیہ کلمہ ہے کہ جب آپ نے اپنے والد بزرگوار اور قوم کے معبودوں کی عبادت سے بیزاری کا اظہار کیا تو چونکہ ان ہی معبودوں میں اللہ رب ذوالجلال والا کرام کو بھی وہ شامل سمجھتے تھے اس لیے ابراہیم (علیہ السلام) نے اس ذات الٰہ کو جو حقیقی طور پر الٰہ اور معبود ہے اس کی استثناء کردی کہ میں سب سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں مگر ہاں ! اس ذات کو میں بھی اپنا معبود و الٰہ مانتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور میری ہر طرح کی راہنمائی بھی کر رہا ہے اور جس کی توحید کے وہ والد اور قوم کے سامنے گیت گاتے رہے اور قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ (And he made it a word lasting among his posterity.) It means that Ibrahim t did not keep the belief in 'tauhid' restricted to himself, rather he emphasized upon his posterity also to remain firm on this faith, as a result of which a large number of his posterity adhered to tauhid. In Makkah and its surroundings, there were many blessed souls, even till the advent of the Holy Prophet ﷺ ، who had remained steadfast in the original 'din' of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) .
We learn from this verse that it is one of the obligatory duties of a Muslim…
Read the full tafseer →25 In these words not only did the Prophet Abraham state his creed but also gave the argument for it. The reason for not having any connection with the other deities is that they neither havc created nor they give right guidance in any matter, nor they can; and the reason for having a connection only with Allah Almighty is that He alone is the Creator and He alone gives, and can give, the right guidance to mankind.
Read the full tafseer →