Explained with ayahs 82–85
نزول عذاب کے وقت کا ایمان بےفائدہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ان اگلے لوگوں کو خبر دے رہا ہے جو رسولوں کو اس سے پہلے جھٹلا چکے ہیں۔ ساتھ ہی بتاتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا کچھ انہوں نے بھگتا ؟ باوجود یکہ وہ قوی تھے زیادہ تھے زمین میں نشانات عمارتیں وغیرہ بھی زیادہ رکھنے والے تھے اور بڑے مالدار تھے۔ لیکن کوئی چیز ان کے کام نہ آئی کسی نے اللہ کے عذاب کو نہ دفع کیا نہ کم کیا نہ ٹالا نہ ہٹایا۔ یہ تھے ہی غارت کئے جانے کے قابل کیونکہ جب ان کے پاس اللہ کے قاصد صاف صاف دلیلیں، روشن حجتیں، کھلے معجزات، پاکیزہ تعلیمات لے کر آئے تو انہوں نے آنکھ بھر کر دیکھا تک نہیں اپنے پاس کے علوم پر مغرور ہوگئے۔ اور رسولوں کی تعلیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
سورة الْمُؤْمِن 113
یہ کہ توبہ اور ایمان بس اسی وقت تک نافع ہیں جب تک آدمی اللہ کے عذاب یا موت کی گرفت میں نہ آجائے۔ عذاب آجانے یا موت کے آثار شروع ہوجانے کے بعد ایمان لانا یا توبہ کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
معارف و مسائل
(آیت) فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ۔ یعنی ان عاقبت نااندیش منکرین کے پاس جب اللہ تعالیٰ کے رسول دلائل واضحہ توحید و ایمان کو لے کر آئے تو یہ لوگ اپنے علم کو انبیاء کے لائے ہوئے علم سے بہتر اور حق سمجھ کر انبیاء کے کلام کا رد کرنے لگے۔ یہ علم جس پر کفار خوش اور مگن تھے اور اس کے مقابلہ میں انبیاء کے علوم کو رد کرتے تھے۔ یا تو ان کا جہل مرکب تھا کہ ناحق اور باطل کو حق و صحیح سمجھ بیٹھے تھے۔ جیسے یونانی فلاسفہ کے بیشتر علوم و تحقیقات جو الہیات سے متعلق ہیں اسی نمونہ کی ہیں جن کی کوئی دلیل نہیں۔ ان کو جہل مرکب تو کہہ سکتے ہیں۔ ان کا نام علم رکھنا علم کی توہین ہے۔ یا پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
یعنی رسولوں کے دلائل سے تو وہ نہیں مانے لیکن جب انہوں نے اللہ کا عذاب دیکھ لیا تب وہ پکار اٹھے کہ ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جن چیزوں کو اب تک خدا کا شریک گردانتے رہیت ہے، ان کا ہم نے انکار کیا ! فرمایا کہ ان کا یہ ایمان جو وہ عذاب دیکھ چکنے کے بعد لائے، ان کے لئے کچھ نفع دینے والا نہیں بنا بلکہ عذات نے ان کو پامال کر کے رکھ دیا۔ ایمان معتبر وہ ہے جو عذاب دیکھنے سے پہلے دلائل کی روشنی میں لایا جائے۔ اگر اس کا وقت گزر گیا اور عذاب کی گھڑی سر پر آگئی تو اس وقت کا ایمان بالکل بےسود ہوتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہمیشہ سے اس کے بندوں میں جاری رہی ہے۔ جب عذاب آجاتا ہے تو اس وقت اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
85۔ 1 یعنی اللہ کا یہ معمول چلا آ رہا ہے کہ عذاب دیکھنے کے بعد توبہ اور ایمان مقبول نہیں یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے۔
85۔ 2 یعنی معاینہ عذاب کے بعد ان پر واضح ہوگیا کہ اب سوائے خسارے اور ہلاکت کے ہمارے مقدر میں کچھ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–85
20: کفار مکہ حضور اقدس ﷺ سے بار بار نت نئے معجزے دکھانے کی فرمائش کرتے رہتے تھے، اور اصرار کرتے تھے کہ وہی معجزہ دکھائیں جو ہم کہیں، اور مقصد سوائے وقت گزاری کے کچھ نہیں تھا، کیونکہ آپ کے کئی معجزات دیکھنے کے باوجود وہ ایمان لانے پر تیار نہیں تھے، اس لئے یہاں ان کو دینے کے لئے یہ جواب سکھایا جارہا ہے کہ معجزہ دکھانا کسی پیغمبر کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا، وہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے دکھایا جاسکتا ہے۔ اس لیے آپ ان سے صاف کہہ دیں کہ میں تمہاری نت نئی فرمائشیں پوری کرنے سے معذور ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–85
آیت نمبر 81 تا 85
انسانی تاریخ میں گزشتہ اقوام کی تباہی روایات کے ذریعے ان کی کہانیاں محفوظ ہیں۔ بعض کی کہانیاں کتابوں کے اوراق میں محفوظ ہیں۔ قرآن کریم باربار ان ایام اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس لیے کہ انسانیت جس لائن پر بڑھتی چلی آئی ہے اس میں جا بجا حقائق موجود ہیں۔ پھر ان ایام اللہ کا اثر بھی انسان پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ اور قرآن چونکہ خالق فطرت کی طرف سے نازل ہورہا ہے اس لیے وہ فطرت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کرتا ہے۔ قرآن فطرت کی راہ رسم سے خوب واقف ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ اس کی یہ مخلوق کس بات سے متاثر ہوتی ہے اور کس انداز سے اس کے دل میں بات اتاری جاسکتی ہے ، اللہ کو پتہ ہے کہ…
Read the full tafseer →7 یعنی جس وقت آفت آنکھوں کے سامنے آگئی اور عذاب الٰہی کا معائنہ ہونے لگا تب ہوش آیا اور ایمان و توبہ کی سوجھی۔ اب پتہ چلا کہ اکیلے خدائے بزرگ ہی سے کام چلتا ہے۔ جن ہستیوں کو خدائی کا درجہ دے رکھا تھا سب عاجز اور بیکار ہیں۔ ہماری سخت حماقت اور گستاخی تھی کہ ان چیزوں کو تخت خدائی پر بٹھا دیا۔
Read the full tafseer →آیت 84 { فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَحْدَہٗ } ”پھر جب انہوں نے دیکھ لیا ہمارا عذاب تب انہوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے اللہ واحد پر“
تب کہنے لگے کہ اب ہم توحید کے قائل ہوگئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی وحدا نیت کو تسلیم کرتے ہیں۔
{ وَکَفَرْنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشْرِکِیْنَ } ”اور ہم نے انکار کیا ان معبودوں کا جنہیں ہم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے رہے تھے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
104 ایمان کی شرط اول ایمان بالغیب ہے اور عذاب دیکھ لینے یا موت کے وقت تو سب حقیقت مشاہدہ میں آجاتی ہے، غیب رہتی ہی نہیں اور مشاہدہ پر تو سب ہی لوگ یقین رکھتے ہیں خواہ کافر ہوں یا دہریے ہوں یا مشرک ہوں۔ لہذا عذاب دیکھنے یا موت کے آثار شروع ہوجانے کے بعد ایمان لانا بےسود ہے۔ بلکہ اس طرح مشاہدے پر لفظ ایمان کا اطلاق بھی درست معلوم نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
80۔ مشاہدہ ومعاینہ عذاب کے بعد جو ایمان حاصل ہوتا ہے وہ تو ایمان اضطراری ہے جو مقصود ومطلوب نہیں، اور اس لئے اس موقع پر لا حاصل رہتا ہے، مقصود ومطلوب تو ایمان اختیاری ہے جس کا دوسرا نام ایمان بالغیب ہے۔ اصطلاح میں ایمان اضطراری وغیرمقصود کا نام ایمان باس ہے۔ (آیت) ” فلم یک ینفعھم ایمانھم “۔ ایمان کا لفظ ملحوظ رہے جو شے اس حالت میں غیر مقبول رہتی ہے وہ کفر سے رجعت ہے نہ کہ معصیت سے، کافر کا ایمان ایسے وقت میں غیر مقبول ونامستند رہے گا، لیکن مومن عاصی کی توبہ اس وقت بھی انشاء اللہ ضرور قبول ہوجائے گی۔ وھذا الحکم خاص بایمان الباس واما توبۃ الباس فھی مقبولۃ نافعۃ بفضل اللہ تعالیٰ وکرمہ والفرق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
آیت نمبر 79 تا 85
ترجمہ : اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے (مویشی) پیدا کئے کہا گیا ہے کہ یہاں (انعام) سے خاص طور پر اونٹ مراد ہے اور ظاہر یہی ہے اور بقروغنم بھی معراد ہوسکتے ہیں تاکہ ان میں سے بعض پر تم سواری کرو اور بعض کو ان میں سے کھاتے ہو اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت منافع ہیں (مثلاً ) دودھ، نسل، اونٹ کے بال، اور اون تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنی دلی مراد کو حاصل کرو اور وہ (مختلف) شہروں تک بوجھ لاد کرلیجاتا ہے، اور ان سواریوں پر خشکی میں اور کشتیوں پر دریا میں چڑھے پھرتے ہو اور وہ تمہیں اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے، پس تم وحدانیت پت دلالت کرنے والی کون کون سی نشانیوں کا انکار…
Read the full tafseer →فلما راوا باسنا قالوا امنا باللہ وحدن وکفرنا بما کنا بہ مشرکین سو جب (مرنے کے وقت)
ہمارے عذاب کی شدت کو دیکھا تو کہنے لگا : ہم اکیلے اللہ پر ایمان لائے اور جس کو ہم اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے ‘ اس کے شریک ہونے کا ہم انکار کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم بت پرستی سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →چناچہ جب انہوں نے اپنی ہلاکت کے لیے ہمارا عذاب آتے ہوئے دیکھا تو توحید الہی کا اقرار کرنے لگے اور یہ عذاب کے دیکھنے کی وجہ سے صرف زبانی اقرار تھا جس کا ان کے دلوں پر کوئی اثر نہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
85, 84 فلما راوا باسنا قالوا امنا باللہ وحدہ … ان دونوں آیات کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نساء (18) انعام (158) اور سورة یونس (51، 90، 91)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–84
( افلم یسیروا فی الارض۔۔۔۔۔۔۔۔ )
افلم یسیروا فی الارض کیا انہوں نے زمین میں سیرو سیاحت نہیں کی کہ وہ سابقہ قوموں کے آثار کا مشاہدہ کرتے جو ان سے تعداد میں زیادہ تھے فما اغنی عنھم ما کانو یکسبون۔ یعنی عمارات، اموال، اولاد اور پیروکاروں نے انہیں کچھ نفع نہ دیا یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ دلوت بفلان الیک یعنی میں نے اسے تیرے پاس سفارش کے لیے بھیجا۔ اس تاویل کی بناء پر ما نافیہ ہے یعنی اس چیز نے انہیں کوئی نفع نہ دیا ایک قول یہ کیا گیا ہے : ما استفہامیہ ہے یعنی جب وہ ہلاک ہوئے تو کسی چیز نے انہیں نفع نہ دیا۔ اکثر غیر منصرف ہے کیونکہ وہ فعل کے وزن پر ہے کو فیوں کا خیال ہے کہ ہر وہ اسم جو غیر منصرف ہو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–85
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولتبلغوا علیھا حاجۃ فی صدورکم “ (تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنے دلی مقصد کو پہنچ جاؤ یعنی تمہارے سفر تمہاری اپنی ضرورت کے لئے ہوں (آیت ) ” وآثارفی الارض “ (اور نشانات جو ان میں چھوڑ گئے) یعنی زمین میں ان کا پیدل چلنا (آیت) ” فرحوا بما عندھم من العلم “ (وہ لوگ اپنے اس علم (معاش) پر بڑے خوش ہوئے جو ان کے پاس تھا یعنی ان کا قول تھا ہم ان سے زیادہ جاننے والے ہیں اور ہم کو ہرگز عذاب نہیں ہوگا (آیت ) ” وحاق بھم ماکانوا بہ یستھزء ون “ (اور وہ جس چیز کا مذاق بناتے تھے اسی نے ان کو گھیر لیا) یعنی ان کے رسول انکے پاس حق کو لائے…
Read the full tafseer →فَلَمَّا رَاَوْا [ پھر جب انہوں نے دیکھا ] بَاْسَنَا [ ہماری سختی کو ] قَالُوْٓا [ تو انہوں نے کہا ] اٰمَنَّا بِاللّٰهِ [ ہم ایمان لائے اللہ پر ] وَحْدَهٗ [ اس کے واحد ہوتے ہوئے ] وَكَفَرْنَا بِمَا [ اور ہم نے انکار کیا اس کا ] كُنَّا بِهٖ [ ہم تھے جسے ] مُشْرِكِيْنَ [ شریک کرنے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–85
گزشتہ قوموں کی بربادی کا تذکرہ
(اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ) (الیٰ اخر السورۃ) کیا ان لوگوں نے سفر نہیں کیا اور نافرمان پرانی امتوں کے مکان اور کھنڈر اور کنوئیں اور اینٹ پتھر نہیں دیکھے ؟ دیکھے ہیں اور بار بار دیکھے ہیں ان امتوں کا انجام بھی دیکھ چکے ہیں اور یہ بھی معلوم ہے کہ وہ لوگ ان سے عدد میں بڑھ کر تھے اور طاقت میں بھی زیادہ تھے اور زمین میں ان کے نشانات بھی بہت ہیں انہوں نے مضبوط قلعے بنائے پتھروں کو تراش کر گھر بنائے لیکن رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے عذاب آیا تو سب چیزیں دھری رہ گئیں جو کچھ کماتے تھے وہ کچھ بھی کام نہ آیا۔
جب اللہ کے رسول کھلے ہوئے معجزات اور آیات واضحات لے کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
ذکر انعامات و توحید رب العالمین، وتہدید منکرین ومشرکین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اللہ الذی جعل لکم الانعام ....... الی ........ وخسرھنالک الکفرون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں سلسلہ مضمون توحید خداوندی تھا اور دلائل قدرت کے بیان کے ساتھ مجرمین کے انجام ہلاکت پر افسوس وملامت کا اظہار ہے، اور یہ کہ خود مجرمین آخرت میں اپنے اعمال پر کس قدر پچھتائیں گے، آیات میں مزید انعامات خداوندی ذکر فرما کر مضمون توحید اور منکرین ومشرکین کی تہدید پر سورت کو ختم فرما دیا گیا، ارشاد ہے، اللہ ہی ہے جس نے تمہارے ہی نفع کے لیے مویشی بنائے تاکہ ان میں سے بعض سے تم سواری لو اور ان میں سے بعض کو کھاؤ، اور بھی بہت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
76:۔ ” فلما راو باسان “ جب ہمارے پیغمبروں نے دلائل وبراہین کے ساتھ ان کو مسئلہ توحید سمجھایا۔ یا اس وقت تو نہ سمجھے، بلکہ ضد میں آکر انکار کردیا، لیکن جب ہمارا عذاب آپہنچا، تو خود بخود ہی مان لیا اور صاف صاف کہنے لگے، ہم خدائے واحد کی وحدانیت پر ایمان لائے اور جن معبودوں کو خدا کے شریک ٹھہراتے تھے ان سب سے منکر اور بیزار ہوئے۔ ” فلم یک ینفعہم الخ “ لیکن ہمارا عذاب دیکھ کر اضطراراً جو ایمان لائے اس سے انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکے، کیونکہ اضطراری ایمان معتبر اور قابل قبول نہیں۔ ایمان وہی معبتر ہے جو اختیاری ہو۔ ” سنۃ اللہ الخ “ یہ فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے ” ای سن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی تردید فرمائی اور ساتھ ساتھ پیغمبر ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی بھی دی کہ پہلی قوموں نے بھی اپنے انبیاء کرام کی تکذیب کی ان کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں مگر بالاخر کامیابی اللہ کے نبیوں کو ہوئی اور مکذبین دنیا وآخرت دونوں جگہ ناکام اور دائمی عذاب کے مستحق ٹھہرے اب آج کی آیات میں پہلے کچھ دلائل توحید بیان ہوئے ہیں اور پھر کفار و مشرکین کی توجہ سابقہ اقوام کی طرف دلائی گئی ہے جو ان سے زیادہ تعداد میں اور زیادہ طاقتور تھے مگر وہ اپنے غرور وتکبر کی وجہ سے مبتلائے عذاب ہوئے اس وقت انہوں نے توبہ کی مگر اس بےوقت ایمان لانے کا کچھ فائدہ حاصل نہ…
Read the full tafseer →فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاللہِ وَحْدَہٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِہٖ مُشْرِكِيْنَ 84
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ،
( ر ء ی )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
تفسیر : خوف دلانے کے بعد پھر وہ دلائل بیان فرماتا ہے کہ جو اللہ حکیم رحیم کے وجود پر دلالت کرتے ہیں اور جن سے اس کا بندوں پر انعام و احسان ثابت ہوتا ہے۔ فقال اللہ الذی الخ کہ اللہ وہ محسن و رحیم و کریم و قادر ہے کہ جس نے تم سے بڑے زور آور جانوروں کو تمہارے بس میں کردیا کہ ان میں سے تم کسی پر سوار ہوتے ہو۔ جیسا کہ اونٹ، گھوڑا، گدھا بعض ملکوں میں بیل ہاتھی بھی یہی کام دیتے ہیں اور بعض کو تم ذبح کرکے کھاتے ہوگائے، بھیڑ، بکری وغیرہ۔
اور اسی پر بس نہیں بلکہ ولکم فیہا منافع اس کے علاوہ تمہارے لیے ان میں اور بھی فوائد ہیں، ان سے نفع لیتے ہو۔ دودھ، گھی فروخت کرتے ہو کھاتے پیتے ہو ہل جو تتے ہو، ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
فَلَمَّا رَاَوْبَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَحْدَہٗ وَکَفَرْنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشْرِکِیْنَ ۔ فَلَمْ یَکُ یَنْفَعُھُمْ اِیْمَانُھُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا ط سُنَّتَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْخَلَتْ فِیْ عِبَادِہٖ ج وَخَسِرَ ھُنَالِکَ الْـکٰفِرُوْنَ ۔ (المؤمن : 84، 85)
(پس جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو پکار اٹھے کہ ہم نے مان لیا اللہ وحدہ لاشریک کو، اور ہم انکار کرتے ہیں ان سب معبودوں کا جنھیں ہم شریک ٹھہراتے تھے۔ پس نہ نفع دیا ان کے ایمان نے جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا، یہی اللہ کی سنت ہے جو اس کے بندوں میں جاری رہی ہے، اور اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑگئے۔ )
عذاب دیکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–85
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی نعمتوں اور اس کے واضح دلائل کو جھٹلانے والوں کا انجام۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی راہنمائی کے لیے خارجی اور داخلی اسباب پیدا فرمائے ہیں۔ لیکن ان کی حقیقت پانے کے لیے انسان کا سلیم الفطرت ہونا ضروری ہے۔ انسان کی فطرت جتنی زندہ اور بیدار ہوگی اتنا ہی وہ ہدایت قبول کرنے میں مستعد ہوگا۔ خارجی اسباب میں خوف اور ڈر ایک ایسا سبب ہے کہ اگر انسان کو اپنے رب کا خوف پیدا ہوجائے تو وہ خود بخود نافرمانی کا راستہ چھوڑ کر اپنے رب کی تابعد اری کی شاہراہ پر گامزن ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خوف کے ساتھ اور بھی خوف ہیں جن کی بنا پر آدمی نافرمانی کو چھوڑ کر ہدایت قبول…
Read the full tafseer →فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا (پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا) باسنا سے شدت عذاب مراد ہے۔ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ (تو کہنے لگے ہم اللہ تعالیٰ جو واحد ہے اس پر ایمان لائے اور ان سب چیزوں سے ہم منکر ہوئے جن کو ہم اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
(83۔ 84) ۔۔۔۔۔ ، فلما جاء تھم رسلھم بالبینات فرحوا، وہ راضی ہوگئے۔ ، بما عندھم من العلم، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ان کا وہ قول ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ نہ ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور نہ ہم عذاب دیئے جائیں گے۔ اس کو علم کا نام دیا گیا ہے۔ ان کے دعویٰ کے مطابق ورنہ یہ حقیقت میں جہالت ہ۔ ، وحاق بھم ما کانوابہ یستھزء ون فلما راواباسنا قالوا امنا باللہ وحدہ وکفرنابما کنا بہ مشرکین، یعنی جو ہم اللہ کے برابر ٹھہراتے تھے اس سے ہم برأت ظاہر کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–85
81۔ 85۔ اللہ نے انسان کی پیدائش انسان کی ضرورت کے کھیتی کے بوجھ لادنے کے سواری کے جانوروں کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی قدرت سے اللہ کے معبود حقیقی ہونے سے بیخبر ہیں ان کے خبردار کرنے کے لئے یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں یہ سب نشانیاں دیکھ کر بھی یہ بیخبر لوگ اپنی بیخبر ی سے باز نہیں آتے تو ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آخر یہ لوگ اللہ کی قدرت کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کریں گے خود اپنی پیدائش کے منکر ہیں کہ سوا اللہ کے کسی اور کو ان کی پیدائش میں دخل ہے یا ان کی ضرورت کی چیزیں کسی اور نے پیدا کردی ہیں اور جب اللہ کے اس سوال کا جواب یہ لوگ نہیں دے سکے تو پھر جن بتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–84
آیت 81
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احاسنات کا ذکر کترا ہے کہ اس نے ان کے لئے چوپائے پیدا کئے جن پر ان کے مفادات کا دار و مدار ہے۔ ان میں سے کچھ مویشیوں کو وہ سواری اور نقل و حمل کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ کچھ چوپایوں کا گوشت کھاتے اور ان کا دودھ پیتے ہیں۔ کچھ مویشیوں کی اون سے گرمی حاصل کرتے ہیں۔ ان کے بالوں، پشم اور اون سے آلات اور استعملا کا اسمان بناتے ہیں اور ان سے دیگر فوائد حاصل کرتے ہیں۔
(آیت) ” اور تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنی حاجت و ضرورت کو پہنچو جو تمہارے سینوں میں ہے۔ “ یعنی تم ان دور دراز ملکوں میں پہنچ سکو جہاں پہنچنے کی اپنے دلوں میں ضرورت محسوس کرتے ہو اور تاکہ ان کے باعث ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–85
دعا ہی عبادت ہے
قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
157 ایمان بالمشاہدہ کا کوئی فائدہ نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے منکروں نے جب ہمارے عذاب کو دیکھ لیا تو اس وقت وہ چیخ چیخ کر کہنے لگے کہ ہم ایمان لائے اکیلے اللہ پر اور ہم نے انکار کردیا ان سب چیزوں کا جن کو ہم اس کا شریک ٹھہرایا کرتے تھے۔ مگر بےوقت کے اس عذاب سے ان کوئی فائدہ نہ پہنچ سکا۔ " کچھ فائدہ نہ دیا انکو انکے اس وقت کے ایمان نے " کہ عذاب آچکنے کے بعد نہ کسی کی توبہ و معذرت قبول کی جاتی ہے اور نہ ہی اس کے بعد کسی کو کسی طرح کی کوئی مہلت اور چھوٹ مل سکتی ہے ۔ { وَلَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰہُ نَفْسًا اِذَا جَآئَ اَجَلُہَا } ۔ (المنافقون : 11) اور عذاب آجانے کے بعد کا ایمان اس لئے معتبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–85
جھٹلانے والوں کا انجام
تشریح : یہ ان بدنصیب لوگوں کی داستان ہے جن کو پیغمبروں نے ہدایت کی طرف بلایا توحید کی دعوت دی ‘ توحید کی خوبیاں بتائیں ‘ اللہ سے ڈرایا ‘ برے کاموں سے منع کیا اور بار بار دلیلوں کے ساتھ سمجھایا کہ برے کام نہ صرف دنیا میں ہی نقصان دیتے ہیں بلکہ آخرت کو بھی خراب کردیتے ہیں۔ جہنم کے عذاب کا نقشہ بیان کیا جس کو اگر انسان غور ‘ یقین اور توجہ سے دیکھے تو چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ مـگر کفار پہلے بھی اب بھی اور آئندہ بھی شیطان کی گرفت میں اتنی بری طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ روشنی اور ہدایت کی بات ان پر اثر ہی نہیں کرتی بلکہ الٹا پیغمبروں کو ہی جھٹلاتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں اور نیکی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
رکوع نمبر 9: آیات 79 تا 85:
اسرار و معارف :
اللہ وہ ذات کریم ہے جس نے تمہاری خدمت کے لیے کتنی اقسام کے جانور پیدا کردئیے اور تمہیں ان پر یہاں تک اختیار بخشا کہ کسی پر سواری کرتے ہو تو کسی کو ذبح کرکے کھالیتے ہو کبھی ان کی تجارت کرکے اپنے لیے دولت کماتے ہو غرض جو جی میں آئے اپنی سب ضرورتیں پوری کرتے ہو اور تم زمین پر پانی میں ہر جگہ مختلف سواریاں استعمال کرتے ہو یہ سب تو اس کی عظمت کے گواہ ہیں تم بھلا کون کون سی دلیل کا انکار کروگے۔ کیا روئے زمین پر پھر کر نہیں دیکھا کہ پہلی اقوام کا کیا انجام ہوا ان کے چھوڑے ہوئے آثار اور کھنڈرات بتاتے ہیں کہ وہ تم لوگوں سے کہیں زیادہ طاقتور اور مالدار تھے…
Read the full tafseer →ف 5 عذاب سے مراد وہ عذاب ہے جو ان پر اترنا شروع ہوگیا تھا نہ کہ وہ جس کے ابھی آثار نمودار ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →(40:84) فلما میں فاء تعقیب کا ہے اور لما جیسا کہ آیر سابقہ میں گذرا۔ پھر جب۔
باسنا : مضاف مضاف الیہ۔ ہمارا عذاب۔ باس عذاب، سختی، آفت، دبدبہ، جنگ کی شدت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 85 : الانعام ( مویشی ، جانور) لترکبوا ( تا کہ تم سواری کرو) حاجۃ (ضرورت) تنکرون ( تم انکار کرو گے) ما اغنی (کام نہ آیا) خلت (گزر گئی) سنت اللہ ( اللہ کا قانون ، اللہ کا دستور)
تشریح : آیت نمبر 79 تا 85 : سورة مومن کی آخرت آیات میں انسانی زندگی گزارنے کی بہت سی چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے مثلاً غذا ، سواری ، صنعتیں ، سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لانے لے جانے کے اسباب وغیرہ ۔ اگرچہ چیزیں نہ ہوں تو انسان کو اپنی زندگی اور تہذیب و تمدن کے تقاضوں کو پورا کرنا مشکل ہوجائے۔
اللہ نے انسان کو ان بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے جس پر ہر انسان کو ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–85
آثار موت کے وقت ایمان قبول نہیں۔
(ف 3) اس آیت میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی قدرت سے اللہ کے معبود حقیقی ہونے سے بیخبر ہیں ان کے خبردار کرنے کے لیے یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں یہ سب نشانیاں دیکھ کر بھی یہ بیخبر لوگ اپنی بیخبر ی سے باز نہیں آتے، تو ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آخریہ لوگ اللہ کی قدرت کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کرتے ہیں خود اپنی پیدائش کے منکر ہیں سو اللہ کے کسی اور کو ان کی پیدائش میں دخل ہے یا ان کی ضرورت کی چیزیں کس اور نے پیدا کردی ہیں اور جب اللہ کے اس سوال کا جواب یہ لوگ نہیں دے سکتے، تو پھر جن بتوں کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں ان بتوں کو اللہ کا شریک کرنے کا کون ساحق حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–85
[30] دستور الٰہی یہی ہے کہ نزول عذاب کے وقت ایمان لانا نافع نہیں ہوتا کیونکہ اس وقت کا ایمان اللہ کے نزدیک مقبول و معتبر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
علم نبوت کی وسعت
1: گمراہ قوموں میں سب سے بڑا غیب یہ ہوتا ہے کہ ان میں خود پسندی آجاتی ہے ۔ اور وہ اپنے مادی علوم پر فخر و غرور کرنے لگتی ہیں اور ان معارف وحکم پر غور وفکر نہیں کرتیں ۔ جن کا براہ راست دل کی پاکیزگی اور لطافت سے تعلق ہوتا ہے ۔ جب انبیاء (علیہم السلام) تشریف لاتے ہیں ۔ تو ان کو ہدف استہزاء بنالیتی ہیں ۔ اور اپنے مزخرفات واوہام پر لگی رہتی ہیں ۔ اور ان حقیر معلومات کو علوم نبوت سے زیادہ بیش قیمت جانتی ہیں ۔ جو ان کے پاس ہوتی ہیں ۔ حالانکہ پیغمبر اپنے وقت کا بہت بڑا عارف اور بہت بڑا عالم ہوتا ہے ۔ اس کی نظریں بہت وسیع اور بلند ہوتی ہیں ۔ وہ اپنی حلیم بصیرت سے ان حقائق کو دیکھ…
Read the full tafseer →(84) پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو کہنے لگے ہم ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر جو یگانہ اور اکیلا ہے اور ہم نے ان چیزوں سے کفر کیا اور انکار کیا جن کو ہم شریک ٹھہراتے تھے۔ یعنی ہمارے عذاب کو جب دیکھا تو شرک سے توبہ کرنے لگے اور کہنے لگے جن معبودوں کو ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے ان سب کو ہم نے چھوڑ دیا اور ان سے کفر کیا اور ہم تو خدائے یکتا ویگانہ پر ایمان لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
ف 5۔ یعنی معاش کو مقصود سمجھ کر اور اس میں جو ان کو لیاقت حاصل تھی اس پر خوش ہوئے، اور معاد کا انکار کر کے اس کی طلب کو دیوانگی اور اس کے انکار پر وعید عذابی کو مایہ تمسخر ٹھہرایا۔
Read the full tafseer →جب ان کو عذاب نے آلیا انہوں نے ایمان کا اقرار کرنا شروع کرد یا
84۔ ہر رسول کی دعوت اور ہر رسول کی قوم کی مخالفت ایک لمبی مدت تک چلتی رہی اور کسی قوم نے بھی اپنے نبی ورسول کے بیان کردہ دلائل کو تسلیم نہ کیا اور نہ صرف یہ کہ اس کے دلائل کو تسلیم نہ کیا بلکہ اس کو طرح طرح سے مذاق اور استہزا کا نشانہ بنایا لیکن انجام کار جب وہ قوم اپنے کیے کی پاداش میں پکر لی گئی تو وہ پکار اٹھی کہ ہم اس اللہ وحدہ لا شریک لہ پر ایمان لائے اور ہم نے اپنے ان شریکوں سے انکار کیا جن کی دہایاں آج تک ہم دیتے رہے۔ غور کرو فرعون نے کتنی مدت تک موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کی اور کیا کیا نشانات کا مطالبہ کیا اور موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
In verse 85, it was said: فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ (But, their profession of faith was not [ competent ] to benefit them, once they had seen Our punishment), that is, it is after seeing the punishment that these people are confessing to the true faith, but a declaration of faith at this late hour is not acceptable and trustworthy with Allah. It appears in Hadith: یَقبَلِ اللہ توبۃ العبد مالم یغرغر (Allah accepts the taubah [ repentance ] of the servant before the agony and rattle of death overtakes him). (Ibn Kathir) Similarly, once Divine punishment has come face to face, no…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
113 "The standing Law of AIlah" : the Law that repentance and faith are beneficial only till the time man is not seized by the torment of Allah or death. Believing or repenting after the torment has arrived or the signs of death have appeared, is not acceptable to Allah.
Read the full tafseer →