40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 40:1
Ayah 40:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

یہ کتاب اتاری گئی ہے اللہ کی طرف سے جو زبردست ہے سب کچھ جاننے والا ہے

Ayah 40:3

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

گناہ کا بخشنے والا ہے اور توبہ قبول کرنے والا ہے سخت سز دینے والا قدرت والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

اللہ تعالیٰ گناہ بخشنے والا ہے، توبہ قبول کرنے والا ہے، سخت عذاب والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں یہاں سے سورة المومن شروع ہو رہی ہے جس کا دوسرا نام سورة الغافر بھی ہے یہ پہلی سورت ہے جو حٰمٓ سے شروع ہوئی ہے اس کے بعد حٰآ سجدہ اور سورة الشوریٰ اور سورة الزخرف اور سورة الدخان اور سورة الجاثیہ اور سورة الاحقاف بھی حٰمٓ سے شروع ہیں انہیں حوامیم سبعہ کہا جاتا ہے روح المعانی نے بحوالہ فضائل القرآن لابی عبید حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ہر چیز کا ایک خلاصہ ہوتا ہے اور بلاشبہ قرآن کا خلاصہ وہ سورتیں ہیں جو حٰمٓ سے شروع ہوتی ہیں سنن ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے صبح کو سورة المومن اول سے لے کر اِلَیْہِ الْمَصِیْرُ تک تلاوت کی اور ساتھ ہی آیۃ الکرسی بھی پڑھی تو یہ شخص شام تک اس کی وجہ سے (مصائب اور تکالیف سے) محفوظ رہے گا اور جس نے ان دونوں کو شام کے وقت پڑھا وہ صبح ہونے تک محفوظ رہے گا حٰآ حرف مقطعات میں سے ہے جو متشابہات ہیں ان کا معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اوپر سورة المومن کی دو آیتوں کا ترجمہ کیا گیا ہے اول تو یہ فرمایا کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتاری گئی ہے پھر اللہ تعالیٰ کی چھ صفات بیان فرمائیں اول یہ کہ وہ عزیز ہے یعنی زبردست دوم یہ کہ وہ علیم ہے یعنی ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے سوم یہ کہ وہ گناہوں کا بخشنے والا ہے اور چہارم یہ کہ وہ توبہ قبول فرمانے والا ہے پنجم یہ کہ وہ گناہ بھی بخشتا ہے توبہ بھی قبول فرماتا ہے مومن بندہ سے کوئی گناہ ہوجائے تو اس کے حضور میں توبہ کرے اور اپنے گناہ معاف کرائے اگر کوئی شخص گناہ کرتا رہے توبہ کی طرف متوجہ نہ ہو تو یہ نہ سمجھے کہ دنیا میں اور آخرت میں میری کوئی گرفت نہیں ہوگی اللہ تعالیٰ گناہ بخشنے والا بھی اور سخت سزا دینے والا بھی ہے نیز وہ قدرت والا بھی ہے وہ جسے جو سزا دینا چاہے اسے اس پر پوری طرح قدرت ہے کوئی اسے روک نہیں سکتا (لَآ اِِلٰہَ اِِلَّا ھُوَ ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو لوگ اس کے سوا کسی کو معبود بناتے ہیں وہ سخت عذاب کے مستحق ہیں ان پر لازم ہے کہ شرک سے توبہ کریں تاکہ عذاب شدید سے بچ جائیں (اِِلَیْہِ الْمَصِیْرُ ) (سب کو اسی کی طرف واپس ہو کر جانا ہے) دنیا میں تو آگئے ہیں لیکن ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آئے مرنا ہے یہاں سے جانا ہے اسی وحدہ لا شریک لہ کے سامنے پیش ہونا ہے لہٰذا دنیا سے ایسی حالت میں جائیں کہ عقائد، اعمال و احوال درست ہوں جن پر اجر وثواب ملے اور وہاں کے عذاب سے محفوظ رہ سکیں۔
Ayahs 40:4–6

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

اللہ کی آیات میں جھگڑا نہیں کرتے مگر وہی لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا سو آپ کو دھوکہ میں نہ ڈالے ان کا شہروں میں چلنا پھرنا،

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم نے ان کے بعد دوسری جماعتوں نے جھٹلایا اور ہر امت نے اردہ کیا کہ اپنے رسول کو پکڑ لیں اور باطل کے ذریعہ جھگڑا کریں تاکہ اس کے ذریعہ حق کو باطل کردیں، سو میں نے ان کو پکڑ لیا سو کیسا تھا میرا عذاب،

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح آپ کے رب کا قول کافروں پر ثابت ہوچکا کہ وہ دوزخ والے ہیں۔

کافر لوگ اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں، شہروں میں ان کا چلنا پھرنا دھوکہ میں نہ ڈالے، سابقہ امتوں اور جماعتوں نے جھٹلایا جس کی وجہ سے ان کی گرفت کرلی گئی قرآن مجید کی آیات نازل ہوتی تھیں تو جو لوگ ایمان نہیں لاتے تھے اور اپنے کفر پر جمے رہتے تھے ان آیات کے بارے میں یہ لوگ طرح طرح کی باتیں نکالتے تھے اور جھگڑے کی باتیں کرتے تھے ان لوگوں کی باتوں سے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچتی تھی یہ لوگ دنیاوی اعتبار سے کھاتے پیتے اور مالدار تھے ان کے پاس سواریاں بھی تھیں اس شہر سے دوسرے شہر میں جاتے تھے اور زمین میں گھومتے پھرتے تھے، جو لوگ آپ کے ساتھی تھے ان کو خیال ہوسکتا تھا کہ ہم اہل ایمان ہیں غریب ہیں اور یہ لوگ کافر اور منکر ہیں ان کے پاس دنیا ہے عیش کے اسباب ہیں مال کی فروانی ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان شہروں میں گھومنا پھرنا آپ کو دھوکہ میں نہ ڈالے یہ ان کی چند روزہ زندگی ہے آخرت میں تو ہر کافر کو عذاب ہی ہے اور دنیا میں بھی انبیائے کرام (علیہ السلام) کے معاندوں اور منکروں اور جدال کرنے والوں پر عذاب آتا رہا ہے اور ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم گزری ہے اور ان کے بعد بہت سی جماعتیں گزری ہیں مثلاً عادو ثمود وغیرہ۔ انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا اور مبتلائے عذاب ہوئے۔ جو امتیں پہلے گزری ہیں ان میں سے ہر امت نے اپنے نبی کو پکڑنے کا اردہ کیا تاکہ قتل کردیں اور بعض انبیاء کرام (علیہ السلام) کو تو قتل بھی کردیا اور ان لوگوں نے باطل کے ذریعہ جھگڑا کیا تاکہ حق کو مٹا دیں کچھ دن ان کا یہ طریقہ کار رہا بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کی گرفت فرمائی انہیں پکڑ لیا اور عذاب چکھا دیا اور عذاب بھی معمولی نہیں ان پر سخت عذاب آیا، ہلاک اور برباد ہوئے اسی کو فرمایا (فَاَخَذْتُہُمْ فَکَیْفَ کَانَ عِقَابِ ) (سو میں نے ان کی گرفت کرلی، سو کیسا ہوا میرا عذاب) اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی ہے کہ ان لوگوں کے جدال اور عناد اور کفر و انکار کی وجہ سے غمزدہ نہ ہوں سابقہ امتوں نے بھی اپنے اپنے نبیوں کے ساتھ جدال وعناد کا معاملہ کیا ہے۔ دنیا میں کافروں کو جو عذاب ہوگا اسی پر بس نہیں ہے کافروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ثابت ہوچکا ہے کہ ان کو دوزخ میں ضرور جانا ہے۔
Ayahs 40:7–9

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

جو فرشتے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو فرشتے ان کے گردا گرد ہیں وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے استغفار کرتے ہیں جو ایمان لائے، اے ہمارے رب آپ کی رحمت اور آپ کا علم ہر چیز کو شامل ہے، سو ان لوگوں کو بخش دیجیے جنہوں نے توبہ کی اور آپ کے راستے کا اتباع کیا اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیجیے

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اے ہمارے رب اور انہیں ہمیشہ رہنے کی بہشتوں میں داخل فرمائیے جن کا آپ نے ان سے وعدہ فرمایا ہے اور ان کے آباء ازواج ذریتوں میں جو صالح ہوئے ان کو بھی داخل فرمائیے بلاشبہ آپ زبردست ہیں، حکمت والا ہیں

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور ان کو تکلیفوں سے بچائیے اور اس دن جسے آپ نے تکلیفوں سے بچالیا سو آپ نے اس پر رحم فرما دیا اور یہ بڑی کامیابی ہے۔

حاملین عرش کا مومنین کے لیے دعا کرنا، اہل ایمان اور ان کی ازواج اور زریات کے لیے جنت میں داخل ہونے کا سوال اوپر اہل کفر کی سزا کا بیان ہوا، ان آیات میں اہل ایمان کی فضیلت بیان فرمائی اور یہ فرمایا کہ اہل ایمان کے لیے حاملین عرش اور وہ فرشتے جو ان کے آس پاس ہیں دعاء کرتے ہیں یہ حضرات اللہ تعالیٰ کی تحمید و تقدیس میں مشغول رہتے ہیں جو اللہ پر ایمان لائے ہیں اور دنیا میں جو اہل ایمان ہیں ان کے لیے استغفار کرتے ہیں اور یوں دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار آپ کی رحمت اور آپ کا علم ہر چیز کو شامل ہے لہٰذا آپ ان لوگوں کو بخش دیجیے جنہوں نے شرک و کفر سے توبہ کی اور آپ کے راستہ پر چلتے رہے ان کو آپ عذاب جہنم سے بھی بچا لیجیے اور ان کو ان بہشتوں میں داخل فرمائیے جو ہمیشہ رہنے کے لیے ہیں جن کا آپ نے ان سے وعدہ فرمایا ہے یہ لوگ اہل ایمان ہیں اور رحمت کے مستحق بھی ہیں لہٰذا ان کو بخش ہی دیا جائے۔ حاملین عرش اور ان کے آس پاس جو فرشتے ہیں ان کی دعا اہل ایمان کے آباؤ اجداد اور ازواج و اولاد کے لیے بھی ہے کہ ان کو بھی ہمیشہ رہنے کی بہشتوں میں داخل فرمائیے اس مضمون کو (وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَاءِہِمْ وَاَزْوَاجِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ ) میں بیان فرمایا صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ وَمَنْ صَلَحَ کا عطف ادخلھم کی ضمیر منصوب پر ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان حضرات کے ساتھ ان کے آباؤ ازواج اور زریات کو بھی جنات عدن میں داخل فرمائیے ان میں سے جو جنت میں داخل ہونے کے قانون میں آسکیں ان کی صلاحیت اگرچہ متبوع کی صلاحیت سے کم ہو پھر بھی انہیں ان کے ساتھ داخل جنت فرما دیجیے تاکہ ان کی خوشی مکمل ہو بلکہ خوشی میں خوب زیادہ اضافہ ہوجائے۔ اَبآء أبٌ کی جمع ہے جس سے باپ دادے مراد ہیں اور أزْوَاجٌ زَوْجٌ کی جمع ہے یہ لفظ جوڑے کے لیے بولا جاتا ہے اس کا عموم مرد اور عورت دونوں کے لیے شامل ہے اور ذرِّیّٰت ذُرِّیّت کی جمع ہے ذریت آل و اولاد کے لیے مستعمل ہوتا ہے۔ سورۂ الطور میں فرمایا ہے (وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِاِِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ ) (اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی ذریت نے ایمان کے ساتھ ان کا اتباع کیا ہم ذریت کو ان کے ساتھ ملا دیں گے) اس میں جو (وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِاِِیْمَانٍ ) فرمایا ہے یہاں سورة المومن میں اسی کو (وَمَنْ صَلَحَ ) سے تعبیر فرمایا ہے جو شخص باایمان نہ ہو وہ دخول جنت کا مستحق نہیں ہے لہٰذا کسی کے تعلق کی وجہ سے وہ جنت میں داخل نہیں ہوسکتے اہل ایمان کی اہل ایمان اولاد ہی جنت میں داخل ہوگی اسی طرح آباؤ وازواج بھی وہی جنت میں داخل ہوسکیں گے جو اہل ایمان ہوں۔ (وَقِہِمُ السَّیِّءَاتِ ) اور ان کو بدحالیوں سے بچائیے (وَمَنْ تَقِی السَّیِئَاتِ یَوْمَءِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَہُ ) (اور اس دن آپ نے جسے بدحالیوں سے بچالیا تو آپ نے اس پر رحم فرما دیا (وَذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ) (اور یہ بڑی کامیابی ہے) یَوْمَءِذٍ سے قیامت کے دن کی اور اس کے بعد عذاب جہنم کی تکلیفیں مراد ہیں بعض حضرات نے یَوْمَءِذٍ سے دنیا والی زندگی مراد لی ہے اور اس صورت میں سیٰات کے معروف معنی مراد ہوں گے اور مطلب یہ ہوگا کہ ان لوگوں کو دنیا میں گناہوں سے بچائیے اور جسے آپ نے دنیا میں گناہوں سے بچالیا آپ اس پر آخرت میں رحم ہی فرما دیں گے۔ جن حضرات سے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے ان کے لیے داخل جنت ہونے کی دعا ان لوگوں کے اظہار فضیلت اور تقرب الی اللہ کے لیے ہے، مومنین کو ہمیشہ اپنے لیے اور اپنے متعلقین کے لیے خیر ہی کی دعا کرتے رہنا چاہیے جن حضرات صحابہ کو رسول اللہ ﷺ نے دخول جنت کی بشارت دے دی تھی وہ بھی اعمال صالحہ اور دعاؤں سے غافل نہیں ہوئے اور ارتکاب سیٰات سے بچتے رہے، بندگی کا تقاضا یہی ہے۔
Ayahs 40:10–11

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

بلاشبہ جنہوں نے کفر کیا ان کو پکارا جائے گا کہ یہ بات واقعی ہے کہ اللہ کا جو تم سے بغض ہے وہ اس بغض سے بہت بڑا ہے جو تمہیں خود اپنی جانوں سے ہے تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے تو کفر اختیار کرتے تھے

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے رب آپ نے ہمیں دو بار موت دی اور دو بار زندگی سو ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا تو کیا نکلنے کی کوئی راہ ہے

کافروں کا اقرار جرم کرنا اور دوزخ سے نکلنے کا سوال کرنے پر جواب ملنا کہ تم نے توحید کو ناپسند کیا اور شرک کی دعوت پر ایمان لائے دنیا میں اہل کفر اپنے کو اچھا جانتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بہت اچھے ہیں ایمان والوں سے بہتر ہیں اور برتر ہیں، لیکن جب قیامت کے دن اپنی بدحالی دیکھیں گے تو خود اپنے نفسوں سے اور اپنی جانوں سے بغض کرنے لگیں گے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ تمہیں جتنا اپنے نفسوں سے بغض ہے اللہ تعالیٰ کو تمہارے نفسوں سے اس بغض سے بھی زیادہ بغض ہے اور یہ بغض اب سے نہیں ہے جب سے تم دنیا میں تھے اسی وقت سے اللہ تعالیٰ کو تم سے بغض ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جب دنیا میں تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم اس کے قبول کرنے سے انکار کرتے تھے اور کفر پر جمے رہتے تھے تمہیں بار بار ایمان کی دعوت دی گئی لیکن تم نے ہر بار حق کے قبول کرنے سے انکار کیا۔ (مَّقْتِکُمْ اَنْفُسَکُمْ ) کا ایک مطلب تو وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا اور بعض حضرات نے فرمایا وجُوِّز اَنْ یراد بہٖ مقت بعضھم بعضا یعنی آپس میں تم میں جو آج ایک دوسرے سے بغض اور نفرت ہے کہ بڑے چھوٹوں کو اور چھوٹے بڑوں کو الزام دے رہے اور ایک دوسرے سے برأت ظاہر کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کو تم سے اس سے زیادہ بغض ہے یہ تفسیر (یَلْعَنُ بَعْضُکُمْ بَعْضًا) کے ہم معنی ہے جو سورة عنکبوت میں مذکور ہے۔ کافر عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب آپ نے ہمیں دو مرتبہ موت دی پہلی بار جب ہمیں پیدا کیا اس وقت ہم بےجان تھے کیونکہ منی کا نطفہ تھے آپ نے ہمیں زندہ فرما دیا ماؤں کے پیٹوں میں روح پھونک دی پھر ماؤں کے پیٹوں سے نکالا اور آپ کی مشیت کے مطابق زندگی بڑھتی رہی پھر آپ نے ہمیں موت دے دی جس کی وجہ سے ہم قبروں میں چلے گئے پھر آج آپ نے ہمیں قیامت کے دن زندہ فرمایا ہم پر دو موتیں طاری ہوئیں اور دو زندگیاں آئیں ایک پہلے اور ایک اب یہ آپ کے تصرفات ہیں ہمیں چاہیے تھا کہ ہم دنیا والی زندگی میں ایمان قبول کرتے اور شرک اور کفر سے بچتے ہم یہی سمجھتے رہے کہ دنیا والی زندگی کے بعد جو موت آئے گی اس کے بعد پھر زندہ ہونا نہیں ہے یہ ہماری غلطی تھی اب ہم اس زندگی میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں اب تو ہمیں عذاب سے چھٹکارا مل جائے اور دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو وہاں ایمان قبول کریں گے اور نیک اعمال اختیار کریں گے اور اس کے بعد پھر جب موت آئے تو اچھی حالت میں میدان حشر میں حاضر ہوں۔ وھذا کما حکی اللّٰہ تعالیٰ فی قولہ فی سورة الم السجدۃ ربنا ابصرنا وسمعنا
Ayah 40:12

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے ہے کہ جب صرف اللہ کا نام لیا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک بنایا جاتا تھا تو اسے مان لیتے تھے سو فیصلہ اللہ ہی کے لیے ہے جو بلند ہے بڑا ہے۔

اللہ کا ارشاد ہوگا (ذٰلِکُمْ بِاَنَّہٗ اِِذَا دُعِیَ اللّٰہُ وَحْدَہٗ کَفَرْتُمْ وَاِِنْ یُشْرَکْ بِہٖ تُؤْمِنُوْا) (تمہارا یہ عذاب میں مبتلا ہونا اس وجہ سے ہے کہ جب دنیا میں اللہ وحدہٗ لا شریک کو پکارا جاتا تھا تو تمہیں اچھا نہیں لگتا تھا تم اللہ کی وحدانیت کا انکار کرتے تھے اور اسی انکار پر جمے رہتے تھے اور اگر تمہارے سامنے کوئی ایسا موقع آجاتا کہ اللہ کے ساتھ شرک کیا جاتا تو تم اسے مان لیتے تھے اور اسے صحیح کہتے تھے اور اس کے اقراری ہوجاتے تھے، وہ دنیا گزر گئی تم اس میں برابر کافر ہی رہے آج چھٹکارا کا راستہ نہیں اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ تمہیں عذاب میں ہی رہنا ہے اللہ تعالیٰ برتر بھی ہے اور بڑا بھی ہے اس کے سارے فیصلے حق ہیں حکمت کے مطابق ہیں اس کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا اس کی صفت علو اور کبریا کی طرف تم نے نہیں دیکھا اور اپنے من مانے خیالات اور اعتقادات میں منہمک رہے اب عذاب اور عقاب کے سوا تمہارے لیے کچھ نہیں۔
Ayah 40:13

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لیے آسمان سے رزق اتارتا ہے، اور نصیحت حاصل نہیں کرتے مگر وہ لوگ جو رجوع کرتے ہیں

اللہ تعالیٰ رفیع الدرجات ہے، ذوالعرش ہے، جس کی طرف چاہتا ہے، وحی بھیجتا ہے، قیامت کے دن سب حاضر ہوں گے، اللہ سے کوئی بھی پوشیدہ نہ ہوگا، صرف اللہ تعالیٰ ہی کی بادشاہی ہوگی ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے بعض انعامات اور صفات جلیلہ اور قیامت کے دن کے بعض مناظر بیان فرمائے ہیں، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اس کی مخلوق میں بیشمار نشانیاں ہیں جو اس کے قادر مطلق اور وحدہ لا شریک ہونے پر دلالت کرتی ہیں پھر فرمایا کہ وہ تمہارے لیے آسمانوں سے رزق نازل فرماتا ہے اس میں بیان قدرت بھی ہے اور اظہار انعام بھی پھر بھی (وَمَا یَتَذَکَّرُ اِِلَّا مَنْ یُّنِیبُ ) (اور نشانیوں کو دیکھ کر وہی لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو رجوع کرتے ہیں) یعنی اپنی عقل کو استعمال کرتے ہیں اور فکر کو کام میں لاتے ہیں اور نشانیوں سے فائدہ حاصل کرتے ہیں ان کا یہ غور و فکر انہیں قبول حق تک پہنچا دیتا ہے۔
Ayah 40:14

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

سو تم اللہ کو پکارو دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے اگرچہ کافروں کو ناگوار ہو،

(فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہٗ الدِّیْنَ ) (سو تم اللہ کو پکارو اسی کی عبادت کرو اور دین کو اس کے لیے خالص رکھو) یعنی اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بناؤ (وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ ) (اگرچہ کافروں کو ناگوار ہو) تم اللہ کے بندے ہو خالص اسی کی عبادت کرو توحید اور ایمان پر مستقیم رہنا اور خالص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرنا یہ تمہارا فریضہ ہے جو لوگ تمہارے دین کو قبول نہیں کرتے وہ تم سے اور تمہارے عقیدہ توحید اور اخلاص فی العبادۃ سے راضی نہیں انہیں ناراض رہنے دو ان کی ناراضگی اور ناگواری کی کوئی پروا نہ کرو۔
Ayahs 40:15–16

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہ رفیع الدرجات ہے عرش والا ہے وہ اپنے حکم سے وحی نازل فرماتا ہے اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے تاکہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرائے

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس دن وہ لوگ ظاہر ہوں گے اللہ تعالیٰ پر ان میں سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہ ہوگی آج کس کے لیے ملک ہے اللہ واحد قہار کے لیے ہے۔

(رَفِیع الدَّرَجٰتِ ) یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، مفسرین نے اس کے دو معنی بیان کیے ہیں اول یہ کہ وہ درجات کو بلند فرمانے والا ہے جو بندے مومن ہیں اور نیک کاموں میں لگے ہوئے ہیں قیامت کے دن ان کے درجات بلند فرمائے گا اور اس دنیا میں بھی اس نے اپنے بندوں میں فرق مراتب رکھا ہے کما قال تعالیٰ (وَرَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ وقال تعالیٰ یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ) یہ معنی زیادہ واضح ہے اس میں رفیع بمعنی رافع ہوگا (گو صاحب روح المعانی نے فرمایا ہے کہ اس میں بعد ہے) اور دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مرتفع الدرجات ہے یعنی عظیم الصفات ہے۔ (وقال صاحب الروح عن ابی زید انہ قال ای عظیم الصفات وکانہ بیان لحاصل المعنی الکنائی) (ذُو الْعَرْشِ ) (عرش والا ہے) (یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ ) (وہ نازل فرماتا ہے روح کو یعنی وحی کو اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے) وحی کو روح اس لیے فرمایا کہ اس کے ذریعہ قلوب کو حیات حاصل ہوتی ہے اور لفظ من امرہ کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ روح کا بیان ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ من ابتدائیہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ یہ روح یعنی وحی کا نازل ہونا اس کے حکم سے ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ روح سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جبرائیل (علیہ السلام) کو اپنا حکم پہنچانے کے لیے نازل فرماتا ہے۔ (عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ ) جو فرمایا ہے اس میں یہ بتادیا کہ وہ خود ہی اپنی رسالت کے لیے اپنے بندوں میں سے اشخاص اور افراد کو چن لیتا ہے کما قال تعالیٰ فی سورة الحج (اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلآءِکَۃِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ ) نبوت اور رسالت کوئی ایسا عہدہ نہیں ہے جسے ہنر اور کسب کے ساتھ حاصل کرلیا جائے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر خاتم النبیین ﷺ تک جس کو چاہا منتخب فرمایا اور نبوت اور رسالت سے نواز دیا۔ (لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلاَقِ ) (تاکہ اللہ کا یہ بندہ جس کی طرف وحی بھیجی ملاقات کے دن سے ڈرائے) لفظ التلاق لَقِیَ یَلْقٰی سے باب تفاعل کا مصدر ہے جو جانبین سے ملاقات کرنے پر دلالت کرتا ہے اس کے آخر سے یا حذف کردی گئی ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جس بندہ پر چاہا وحی بھیج دی تاکہ وہ قیامت کے دن کے عذاب سے ڈرائے اس دن نیک بندے اپنے اچھے اعمال کی جزاء سے اور برے بندے اپنی بد اعمالیوں کی سزا سے ملاقات کریں گے۔
Ayah 40:17

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج کے دن ہر جان کو اس کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا آج کے دن ظلم نہیں ہے بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔

(اَلْیَوْمَ تُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ ) (آج کے دن ہر جان کو اس کا بدلہ دیا جائے گا جو کچھ اس نے کسب کیا) یعنی جو کچھ کمایا یا خیر ہو یا شر ہو اس کا بدلہ دیا جائے گا (لاَ ظُلْمَ الْیَوْمَ ) (آج کے دن کوئی ظلم نہیں) نہ کسی کی کوئی نیکی ضائع جائے گی اور نہ کسی کے اعمالنامے میں کسی برائی کا اضافہ کیا جائے گا جو اس نے نہ کی ہو (اِِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ) (بلاشبہ اللہ جلد حساب لینے والا ہے) وہ سب کا حساب بیک وقت لینے پر قادر ہے ایسا نہیں ہے کہ ترتیب وار حساب لینے کی ضرورت ہو اور ایک کا حساب لینا دوسرے کے حساب سے مانع ہو۔
Ayah 40:18

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور آپ ان کو قریب آنے الی مصیبت کے دن سے ڈرائیے جس وقت قلوب گلوں کے پاس ہوں گے گھٹن میں پڑے ہوئے ہوں گے ظالموں کے لیے نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارش کرنے والا ہوگا جس کی بات مانی جائے

انہیں قیامت کے دن سے ڈرائیے جس دن دل گھٹن میں ہوں گے، ظالموں کے لیے کوئی دوست یا سفارش کرنے والا نہ ہوگا ان آیات میں بھی قیامت کا منظر بتایا ہے ارشاد فرمایا کہ آپ انہیں یوم الاٰزفۃ سے ڈرائیے یہ ازف یازف سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جو قرب کے معنی پر دلالت کرتا ہے سورة النجم میں فرمایا (اَزِفَتِ الْاٰزِفَۃُ ) (قریب آنے والی قریب آگئی) اس سے قیامت مراد ہے جو جلد ہی آجانیوالی ہے آیت بالا میں فرمایا کہ آپ ان کو قیامت کے دن سے ڈرائیے یہ ایسا دن ہوگا کہ قلوب حلقوم کو پہنچے ہوئے ہوں گے اور ایسا معلوم ہوگا کہ دل اندر سے اٹھ کر گلوں میں آکر پھنس گئے ہیں اور باہر آنا چاہتے ہیں یہ قلوب بڑی گھٹن میں ہوں گے اس وقت سخت تکلیف ہوگی گھٹن اور غم اور بےچینی بہت زیادہ ہوگی جو لوگ دنیا میں ظلم والے تھے وہ وہاں مصیبت سے چھٹکارا کے لیے دوست اور سفارشی تلاش کریں گے تو کوئی بھی دوست نہ ملے گا اور نہ کوئی سفارشی ملے گا جس کی بات مانی جائے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ ظالمین سے کافر مراد ہیں کیونکہ ظلم میں کامل ہونا انہیں کی صفت ہے۔
Ayah 40:19

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

وہ جانتا ہے آنکھوں کی خیانت کو اور ان چیزوں کو جنہیں سینے پوشیدہ رکھتے ہیں

اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت کو اور دلوں کی پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے (یَعْلَمُ خَاءِنَۃَ الْاَعْیُنِ ) قیامت کے دن محاسبہ ہوگا نیکیوں کی جزا ملے گی اور برائیوں پر سزا یاب ہوں گے اعضائے ظاہرہ کے اعمال کو بھی اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور سینوں میں جو چیزیں پوشیدہ ہیں برے عقیدے، بری نیتیں، برے جذبات، اللہ تعالیٰ ان سب سے بھی باخبر ہے کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ میرے باطن کا حال پوشیدہ ہے اس پر مواخذہ نہ ہوگا اعضاء ظاہرہ میں آنکھیں بھی ہیں بری جگہ نظر ڈالنا جہاں دیکھنے کی اجازت نہیں اور بد اعمالیوں میں آنکھوں کا استعمال کرنا یہ سب گناہ ہے آنکھوں کے اعمال میں سے ایک عمل خیانت بھی ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ وہ آنکھوں کی خیانت کو اور دلوں میں پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے آنکھ کے گوشے سے نا محرم کو دیکھ لیا چپکے سے گناہ کی نظر کہیں ڈال لی آنکھ کے اشارہ سے کسی کی غیبت کردی یہ سب گناہ میں شمار ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کو سب کا علم ہے۔ حضرت ام معبد ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ یوں دعا کرتے تھے : اَللّٰھُمَّ طَھِّرْ قَلْبِیْ مِنَ النِّفَاقِ وَعَمَلِی مِنَ الرِّیَآءِ وَلِسَانِیْ مِنَ الْکَذِبِ وَعَیْنِیْ مِنَ الْخِیَانَۃِ فَانَّکَ تَعْلَمُ خَآءِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ (رواہ البیہقی فی الدعوات الکبیر کما فی المشکوٰۃ ص 220) ترجمہ دعاء یہ ہے۔ (اے اللہ میرے دل کو نفاق سے اور میرے عمل کو ریا سے اور میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھ کو خیانت سے پاک فرما دے کیونکہ آپ آنکھوں کی خیانت اور ان چیزوں کو جانتے ہیں جنہیں سینے چھپائے ہوئے ہیں۔ )
Ayah 40:20

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا اللہ کے سوا جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی فیصلہ نہیں کرسکتے بلاشبہ اللہ سننے والا ہے دیکھنے والا ہے۔

(وَاللّٰہُ یَقْضِی بالْحَقِّ ) (اور اللہ حق کے ساتھ فیصلے فرماتا ہے) (وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لاَ یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ ) (اور جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں یعنی معبودان باطلہ کچھ بھی فیصلہ نہیں کرسکتے) (اِِنَّ اللّٰہَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ ) (بلاشبہ اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے) اسی کا فیصلہ حق ہے جو واقعی علم کے مطابق ہے۔
Ayahs 40:21–22

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے تاکہ دیکھ لیتے ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو ان سے پہلے تھے، وہ قوت کے اعتبار سے ان سے زیادہ سخت تھے اور زمین میں نشانوں کے اعتبار سے بھی بڑھ کر تھے، سو اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کی گرفت فرمالی اور انھیں اللہ سے بچانے والا کوئی بھی نہ تھا،

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی ہوئی دلیلیں لے کر آئے سو انہوں نے کفر کیا پھر اللہ نے ان کو پکڑ لیا، بیشک وہ قوی ہے سخت عذاب والا ہے۔

کیا زمین میں چل پھر کر سابقہ امتوں کو نہیں دیکھا، وہ قوت میں بہت بڑھے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے گناہوں کی وجہ سے ان کی گرفت فرمالی کفار مکہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتے تھے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ایمان لاؤ ورنہ کفر پر عذاب آجائے گا تو اس کا بھی مذاق بناتے تھے حالانکہ ایک سال میں دو مرتبہ تجارت کے لیے ملک شام جاتے تھے راستے میں ان قوموں کی تباہ شدہ عمارتوں اور کھنڈروں پر گذرتے تھے جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی نافرمانیوں کی وجہ سے ہلاک ہوئیں آیت بالا میں ان کو اسی طرف متوجہ کیا اور فرمایا کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیا انجام ہوا ؟ عاد اور ثمود کی بستیوں پر گزرتے ہیں وہ لوگ ان سے بہت زیادہ طاقتور تھے اور بڑی قوت رکھتے تھے زمین میں ان کے بڑے بڑے نشان تھے جو اب بھی ٹوٹی پھوٹی حالت میں نظروں کے سامنے ہیں انہوں نے بڑے بڑے قلعے بنائے، شہروں کو آباد کیا لیکن انبیائے کرام (علیہ السلام) کی بات نہ مانی، ایمان نہ لائے اور کفر ہی کی وجہ سے ہلاک اور برباد ہوئے ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑ لیا ان کا گھمنڈ رکھا رہ گیا جو یوں کہتے تھے کہ (مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ) (ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے ؟ ) ان کی ساری قوت دھری رہ گئی، عذاب آیا اور ہلاک ہوئے، جب اللہ تعالیٰ نے عذاب کو بھیجا تو کوئی بھی انہیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا نہیں تھا، اللہ تعالیٰ شانہٗ کی طرف سے جو ان کی گرفت ہوئی اور مبتلائے عذاب ہوئے اس کا یہی سبب تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو رسول ان کے پاس بھیجے وہ کھلی ہوئی نشانیاں معجزات لے کر آئے انہوں نے ان کی دعوت پر کان نہ دھرا برابر انکار کرتے رہے اللہ تعالیٰ نے پکڑا تو کہاں بچ سکتے تھے اللہ تعالیٰ قوی ہے اور شدید العقاب ہے، گذشتہ امتوں کے حالات اور واقعات سے ہر زمانے کے کافروں کو عبرت لینا ضروری ہے۔
Ayahs 40:23–27

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیات اور واضح دلیل کے ساتھ

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

فرعون اور ہامان اور قارون کے پاس بھیجا سو ان لوگوں نے کہا کہ یہ جادو گر ہے بڑا جھوٹا ہے،

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

سو جب ان کے پاس ہمارے پاس سے حق لے کر آیا تو کہنے لگے کہ جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دو اور کافروں کی تدبیر محض بےاثر رہی،

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑو میں موسیٰ کو قتل کردوں اور وہ اپنے رب کو پکارے بلاشبہ میں ڈرتا ہوں کہ وہ تمہارے دین کو بدل دے یا زمین میں فساد پھیلا دے

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا بلاشبہ میں اپنے رب کی پناہ لیتا ہوں جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی ہر متکبر سے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا۔

ہم نے موسیٰ کو فرعون، ہامان، قارون کی طرف بھیجا، انہوں نے ان کو ساحر اور کذاب بتایا، فرعون کے برے عزائم کا تذکرہ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے رب کی پناہ مانگنا گزشتہ آیات میں اجمالی طور پر بعض اقوام کی تکذیب اور ہلاکت و تعذیب کا تذکرہ فرمایا آیات بالا میں اور ان کے بعد ڈیڑھ رکوع تک فرعون اور اس کی قوم کے عناد اور تکذیب کا اور بالآخر ان کے غرق اور تعذیب کا تذکرہ فرمایا درمیان میں ایک ایسے شخص کی نصیحتوں کا تذکرہ بھی فرمایا، جو آل فرعون میں سے تھا، یہ شخص ایمان لے آیا تھا اور اپنے ایمان کو چھپاتا تھا۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات یعنی معجزات کے ساتھ اور واضح حجت کے ساتھ فرعون اور ہامان اور قارون کے پاس بھیجا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو معجزات دکھائے توحید کی دعوت دی لیکن ان لوگوں نے جمود اور عناد اور انکار سے کام لیا کہنے لگے یہ تو جادو گر ہے بڑا جھوٹا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی تکذیب کی کوئی پرواہ نہ کی اور برابر تبلیغ فرماتے رہے۔ فرعونیوں نے جب دیکھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بات اثر کر رہی ہے اور کچھ لوگ مسلمان ہوگئے ہیں اور کچھ لوگ متاثر ہوتے جا رہے ہیں تو باہم مشورہ کرکے کہنے لگے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کے لڑکوں کو قتل کردو اور ان کی عورتوں کو باقی رکھو، یعنی وہی عمل لڑکوں کے قتل کرنے کا پھر شروع کردو جو کاہنوں کے خبر دینے پر بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا تاکہ ان کا کوئی بچہ ایسی پرورش نہ پا جائے جو فرعونی حکومت کو تہہ وبالا کرنے کا ذریعہ بن جائے ان لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت توحید کو دبانے کے لیے مشورہ تو کرلیا اور ممکن ہے اس پر عمل بھی کرلیا ہو لیکن ان کی سب تدبیریں ضائع ہوئیں جسے (وَمَا کَیْدُ الْکٰفِرِیْنَ اِِلَّا فِیْ ضَلاَلٍ ) میں بیان فرمایا ہے۔ فرعون نے اپنی قوم کے سرداروں سے کہا کہ تم مجھے چھوڑو میں موسیٰ کو قتل کردوں اور جب میں اسے قتل کرنے لگوں تو وہ اپنے رب کو پکارے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو اس کی قوم کے سرداروں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے سے روکا اور یہ سمجھایا کہ تو انہیں قتل کردے گا تو عامۃ الناس یہ سمجھ لیں گے تو دلیل سے عاجز آگیا اس لیے قتل کے درپے ہوگیا لیکن وہ سمجھتا تھا کہ ان کے قتل کردینے ہی سے میرا ملک بچ سکتا ہے۔ فرعون نے یہ جو کہا کہ میں جب اسے قتل کرنے لگوں تو یہ اپنے رب کو پکارے یہ ظاہری طور پر ڈینگ مارنے والی بات ہے اندر سے گھبرایا ہوا تھا اور ان کی بد دعاء سے ڈر رہا تھا اور ظاہر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مذاق اڑانے کے لیے یہ الفاظ بول رہا تھا۔ فرعون نے اپنے ماننے والوں سے یہ بھی کہا کہ اگر موسیٰ کو چند دن اور چھوڑ دیا تو ڈر ہے کہ تمہارے دین کو بدل دے میرے عبادات کو چھڑا دے اور بتوں کی عبادت سے ہٹا دے اور یہ بھی ڈر ہے کہ یہ زمین میں کوئی فساد کھڑا کردے کیونکہ جب اس کی بات بڑھے گی اس کے ماننے والے تعداد میں بہت ہوجائیں گے تو اس کے ماننے والوں میں اور میرے ماننے والوں میں لڑائی جھگڑے ہوں گے اور اس سے نظام معطل ہوگا۔ جو لوگ دنیا دار ہوتے ہیں اور دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں ان کے سوچنے کا یہی طریقہ ہوتا ہے کہ اپنے مقابل کو قتل کرا دیں اور خود دنیاوی مال و جائیداد اور اختیار و اقتدار پر قابض رہیں اور یہ اس بارے میں عوام کو یہ سمجھاتے ہیں کہ میں تمہارے بھلے کے لیے ایسا کر رہا ہوں اس شخص کے وجود سے تمہارے دین دنیا کو خطرہ ہے لہٰذا اس کو قتل کردینا ضروری ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی بات کا جب علم ہوا تو فرمایا کہ میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں جو تمہارا رب ہے اور میرا بھی رب ہے کہ وہ مجھے ہر متکبر سے محفوظ رکھے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی حفاظت کی دعا کی اور لوگوں کو بتادیا کہ جو میرا رب ہے وہی تمہارا رب ہے جو بھی کوئی شخص تکبر کرے آخرت کے دن کو نہ مانے ایسا منکر اور معاند کافر ہے اللہ تعالیٰ مجھے محفوظ رکھے گا، مجھے اس کی دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں۔
Ayahs 40:28–29

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اور آل فرعون میں سے ایک مومن نے کہا جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے حالانکہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں لے کر آیا ہے اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کا جھوٹ اسی پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہوگا تو تمہیں بعض وہ مصائب پہنچ جائیں گے جن کی وہ بطور پیشین گوئی خبر دے رہا ہے بلاشبہ اللہ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا ہو بہت جھوٹا ہو

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے میری قوم آج زمین میں تمہاری حکومت ہے تم غلبہ پائے ہوئے ہو سو اگر اللہ کا عذاب ہم تک آپہنچا تو ہمیں اس سے بچانے کے لیے کون مدد کرے گا ؟ فرعون نے کہا میں تو تمہیں وہی رائے دوں گا جسے میں خود ٹھیک سمجھ رہا ہوں اور میں تمہیں راہ بتاؤں گا جو ہدایت کا راستہ ہے۔

آل فرعون میں سے ایک مومن بندہ کی حق گوئی نیز تنبیہ اور تہدید آل فرعون میں سے ایک شخص حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا تھا (جیسا کہ فرعون کی بیوی مسلمان ہوگئی تھی) کہا جاتا ہے کہ یہ شخص فرعون کے چچا کا لڑکا تھا اور یہ بھی لکھا ہے کہ وہ فرعون کا ولی عہد سمجھا جاتا تھا اور محکمہ پولیس کا ذمہ دار تھا یہ مومن تو تھا لیکن اپنے ایمان کو چھپاتا تھا اس نے بطور ہمدردی فرعون سے اور اس کے ساتھیوں سے جو اس کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے یوں کہا کہ تم جو اس شخص کو قتل کرنے کے منصوبے بنا رہے ہو یہ کوئی سمجھداری کی بات نہیں اول تو اس کا کوئی قصور نہیں کوئی چوری نہیں کی کوئی ڈاکہ نہیں ڈالا اس نے ایک حق بات کہی اور یوں کہا کہ میرا رب اللہ ہے یہ کوئی ایسی بات نہیں جسے قتل کرنے کا سبب بنالیا جائے پھر وہ جو کچھ کہتا ہے وہ اس کے لیے دلائل بھی پیش کرتا ہے دلائلِ واضح اور معجزات دیکھتے ہوئے جو تمہارے رب کی طرف سے اسے دئیے گئے ہیں قتل کردو گے تو تمہارا کیا بنے گا ؟ سمجھداری کی بات یہ ہے کہ اسے قتل نہ کرو اگر یہ اپنی باتوں میں جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اس پر پڑجائے گا یعنی اسی دنیا میں اس کی سزا پالے گا تمہیں اس کے قتل میں ہاتھ ملوث کرنے کی ضرورت کیا ہے ؟ یہ تو ایک رخ کی بات ہوئی اب دوسرے رخ پر بھی غور کرلو اور وہ یہ ہے کہ اگر یہ اپنے دعوے میں سچا ہو واقعی پروردگار جل مجدہٗ کا پیغمبر ہو اور تم برابر اسے جھٹلاتے رہے اور جھٹلانے کی وجہ سے پروردگار جل مجدہٗ کی طرف سے تم پر عذاب آگیا جس کا اس شخص نے اپنی باتوں میں تذکرہ کیا ہے اور تمہیں یہ بتایا ہے کہ میری بات نہ مانو گے تو ایسے ایسے عذابوں میں مبتلا ہوگے، تو تم کہیں کے نہ رہو گے یہ دنیا بھی برباد ہوگی اور موت کے بعد بھی عذاب کا سامنا ہوگا۔ سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے بندہ مومن نے یہ بھی کہا (اِِنَّ اللّٰہَ لاَ یَہْدِیْ مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ) (بلاشبہ اللہ اسے ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھنے والا ہو بہت جھوٹا ہو) اس میں یہ بتادیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں اگر یہ سچے نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزات کے ذریعے ان کی تائید نہ کی جاتی اور یہ جو دلائل پیش کرتے ہیں یہ دلائل ان کو نہ دئیے جاتے اور اس میں اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ فرعون مسرف ہے حد سے بڑھنے والا ہے بات بات میں لوگوں کو قتل کرتا ہے فساد پر تلا ہوا ہے اپنے معبود ہونے کا دعویٰ کرکے بہت بڑا کذاب یعنی جھوٹا بھی ہے اس کی سب تدبیریں فیل ہوں گی اور یہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل نہ کرسکے گا بندہ مومن نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے یوں بھی کہا کہ آج تم لوگ اس سرزمین یعنی مصر میں حکومت والے ہو تمہارا غلبہ ہے لیکن اللہ کی گرفت کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں اگر ہم پر اللہ کا عذاب آئے تو یہ ساری حکومت اور سلطنت دھری رہ جائے گی اور ہمیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا وعید اور تہدید کو استفہام کے پیرائے میں بیان کیا جو اصحاب موعظت کا طریقہ ہے فرعون پر یہ باتیں سن کر مزید خوف طاری ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بات بڑھتی رہی تو لوگوں میں اسلام پھیل جائے گا اور میری حکومت اور دعوائے خدائی سب کچھ خاک میں مل جائے گا اس لیے بندہ مومن کی بات سن کر حاضرین سے کہنے لگا کہ میں تو تمہیں وہی بات بتاتا ہوں جسے اپنی رائے میں درست سمجھتا ہوں میرے نزدیک تو موسیٰ کو قتل ہی کردینا چاہیے میں جو تمہیں رائے دے رہا ہوں یہی رائے ٹھیک ہے جو مصلحت کے موافق ہے۔ (لعنہ اللہ تعالیٰ )
Ayahs 40:30–34

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

اور اس شخص نے کہا کہ جو ایمان لایا تھا کہ اے میری قوم میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم پر سابقہ جماعتوں جیسا دن نہ آپڑے

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

جیسا کہ قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد والوں کا حال ہوا اور اللہ بندوں پر کسی طرح بھی ظلم کا ارادہ نہیں فرماتا،

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اور اے میری قوم بلاشبہ میں تمہارے بارے میں یوم التناد کا اندیشہ رکھتا ہوں

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جس دن تم پشت پھیر کر واپس لوٹو گے تمہارے لیے اللہ سے بچانے والا کوئی بھی نہ ہوگا اور اللہ جسے گمراہ کرے اسے کوئی بھی ہدایت دینے والا نہیں۔

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ یوسف تمہارے پاس اس سے پہلے واضح معجزات لے کر آئے سو وہ جو کچھ تمہارے پاس لائے تم اس میں برابر شک کرتے رہے یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہوگئی تو تم نے کہا کہ اللہ ان کے بعد کسی کو مبعوث نہ فرمائے گا اللہ ایسے ہی گمراہ کردیتا ہے اس شخص کو جو حد سے بڑھ جانے والا ہو شک میں پڑنے والا ہو

بندہ مومن کا سابقہ امتوں کی بربادی کو یاد دلانا اور قیامت کے دن کی بدحالی سے آگاہ کرنا بندہ مومن نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے تہدید اور تخویف سے بھی کام لیا اور یوں کہا کہ اے میری قوم تم جو حق کے انکار پر اور اس شخص کی تکذیب پر تلے ہوئے ہو تمہارا یہ رویہ خود تمہارے حق میں صحیح نہیں ہے تم سے پہلے بھی قومیں گزری ہیں ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیجے تو قوموں نے ان کی تکذیب کی اور برباد ہوئے اس طرح کی ہلاک شدہ جو جماعتیں گزری ہیں ان میں سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی گزری ہے عاد اور ثمود بھی اس دنیا میں آئے اور بسے یہ سب قومیں حق کو ٹھکرانے کی وجہ سے ہلاک اور برباد ہوئیں ان کے بعد بہت سی قومیں آئیں جنہوں نے اپنے اپنے نبیوں کو جھٹلایا اور جھٹلانے کا مزہ پایا یعنی ہلاکت اور بربادی کے گھاٹ اتر گئے اللہ تعالیٰ نے جن قوموں کو ہلاک کیا ہے ان لوگوں کی بری حرکتوں کی وجہ سے ہلاک فرمایا ہے وہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے کا ارادہ نہیں فرماتا۔ بندہ مومن نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے مزید یوں کہا کہ دیکھو تمہیں ہمیشہ دنیا میں نہیں رہنا ہے مرنا بھی ہے قیامت کے دن پیشی بھی ہونی ہے وہاں حساب کتاب ہوگا، فیصلے ہوں گے اور پکارا جائے گا (اسی پکارے جانے کی وجہ سے یوم القیامہ کو یوم التناد کے نام سے موسوم کیا، اس دن بہت سی ندائیں ہوں گی) پہلی پکار نفخ صور کے وقت ہوگی جسے (یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِیْ مِنْ مَّکَانٍ قَرِیْبٍ ) میں بیان فرمایا اور میدان حشر میں مختلف قسم کے لوگ ہوں گے انہیں ان کے اپنے اپنے پیشوا کے ساتھ بلایا جائے گا جسے (یَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِھِمْ ) میں بیان فرمایا ہے اور جب اہل ایمان کو داہنے ہاتھ میں کتاب دی جائے گی تو پکار اٹھیں گے (ھَآؤُمُ اقْرَءُ وْا کِتٰبِیَہْ ) نیز اہل جنت دوزخ والوں کو اور اہل دوزخ جنت والوں کو اور اہل اعراف بہت سے لوگوں کو پکاریں گے جیسا کہ سورة اعراف رکوع 5 اور 6 میں ذکر فرمایا ہے۔ جب پکار پڑے گی تو تم پشت پھیر کر چل دو گے یعنی محشر سے دوزخ کی طرف روانہ ہوجاؤ گے دوزخ سے بھاگنا چاہو گے تو بھاگ نہ سکو گے اس میں داخل ہونا ہی پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ جب فیصلہ فرما دے گا کہ تمہیں دوزخ میں جانا ہی ہے تو کوئی بھی چیز تمہیں عذاب سے نہیں بچاسکتی اور اس کے حکم کو نہیں ٹال سکتی۔ دیکھو تم راہ حق قبول کرلو ہاں اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری گمراہی کا فیصلہ ہو ہی چکا ہے تو پھر تمہیں کوئی ہدایت دینے والا نہیں (وَّمَنْ یُّضْلِلْ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ھَادٍ ) بندہ مومن نے اپنے مخاطبین کی ہدایت سے ناامید ہو کر ایسا کہا۔
Ayah 40:35

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

جو اللہ کی آیات میں بغیر دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو جھگڑے بازی کرتے ہیں اللہ کے نزدیک اور اہل ایمان کے نزدیک یہ بڑے بغض کی چیز ہے اسی طرح اللہ مہر لگا دیتا ہے ہر متکبر جبار کے دل پر۔

مسرف و مرتاب کا گمراہ ہونا اور ہر متکبر جبار کے دل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہر لگ جانا مرد مومن کا سلسلہ کلام جاری ہے اس نے پہلے فرعون اور اس کی قوم کو ڈرایا اور یاد دلایا کہ دیکھو تم سے پہلے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلا کر گزشتہ امتیں ہلاک ہوچکی ہیں اس کے بعد ان سے خصوصی طور پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بعثت کا تذکرہ کیا جو اہل مصر کی طرف مبعوث ہوئے تھے انہیں یاد دلایا کہ دیکھو حضرت یوسف (علیہ السلام) دلائل کے ساتھ تمہارے پاس آئے لیکن تم نے ان کو بھی جھٹلایا اور انہوں نے جو دعوت پیش کی اور اللہ تعالیٰ کے احکام بتلائے تم اس میں برابر شک کرتے رہے تم نے یہ تسلیم نہ کیا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں اور ان کی دعوت حق ہے اور تم نے نہ صرف یہ کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رسالت کا انکار کیا بلکہ ان کی وفات ہوجانے پر یوں کہہ دیا کہ اگر بالفرض رسول تھے تو اب ان کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی رسول نہ بھیجے گا اللہ کے رسول کی رسالت کا انکاری ہونا اور اپنی طرف سے یہ تجویز کردینا کہ اللہ تعالیٰ اب کوئی بھی رسول نہ بھیجے گا عناد در عناد اور بغاوت در بغاوت ہے۔ جو لوگ بغاوت اور سرکشی میں حد سے بڑھ جائیں اور ان کا مزاج شک کرنے کا بن جائے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ گمراہ فرما دیتا ہے ان کا کام یہ ہوتا ہے کہ خواہ مخواہ بلا دلیل اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے رہیں ان کی یہ جھگڑے بازی اللہ کے نزدیک اور اہل ایمان کے نزدیک بہت زیادہ بغض اور نفرت کی چیز ہے۔ مرد مومن نے مزید کہا کہ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ تمہارے دلوں پر مہر لگ چکی ہے اب تمہیں حق قبول کرنا نہیں ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں پر مہر لگا دی ہے وہ اسی طرح ہر متکبر مغرور اور جابر کے دل پر مہر لگا دیتا ہے ایسے شخص کے دل میں ذرا بھی حق قبول کرنے کی طرف جھکاؤ نہیں رہتا، اس میں حق سمجھنے اور حق قبول کرنے کی بالکل ہی گنجائش نہیں رہتی۔ فائدہ : صاحب روح المعانی نے اول تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے نام سے ساتھ یعقوب لکھ دیا ہے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) جو کنعان سے آکر مصر میں صاحب اقتدار ہوگئے تھے اور ان کے سامنے ہی ان کے والدین اور بھائی تمام اہل و عیال کے ساتھ مصر میں آکر بس گئے تھے انہیں یوسف (علیہ السلام) کو مراد لیا ہے اور (جَاءَ کُمْ ) میں جو ضمیر خطاب ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے اہل مصر کے آباؤ اجداد مراد ہیں پھر ایک یہ قول نقل کیا ہے کہ آیت بالا میں جس یوسف کا ذکر ہے وہ حضرت یوسف الصدیق (علیہ السلام) کے پوتے تھے ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے نبی بنا کر بھیجا تھا انہوں نے بھی مصر میں بیس سال قیام کیا اور یہ لوگ ان کی دعوت میں شک ہی کرتے رہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayah 40:36

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا کہ اے ہامان میرے لیے ایک محل بنا دے ہوسکتا ہے کہ میں راستوں میں پہنچ جاؤں

فرعون کا اوپر چڑھنے کے لیے اونچا محل بنانے کا حکم دینا اور اس کی تدبیر کا بربادی کا سبب بننا جب فرعون کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی دعوت پیش کی تو اس نے سوال و جواب کیے قتل کی دھمکی دی بڑی ڈینگیں ماریں اور اپنے عوام کو دھوکہ دینے کے لیے طرح طرح کی باتیں نکالیں انہیں باتوں میں سے ایک یہ بات تھی کہ اس نے اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ ذرا ایک محل یعنی اونچی عمارت تو بناؤ میں اوپر چڑھوں گا۔ آسمانوں کے راستوں میں پہنچوں گا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے معبود کا پتہ چلاؤں گا جھوٹے معبود ایسے ہی ہوتے ہیں دعویٰ تو اس کا یہ تھا کہ میں سب سے بڑا رب ہوں اور حال اس کا یہ تھا کہ آسمانوں کی خبر جاننے کے لیے اونچی عمارت کا اور سیڑھیوں کا محتاج تھا چونکہ صرف عوام کو دھوکا دینا مقصود تھا اس لیے بلند عمارت کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ اس نے پہلے ہی سے یوں کہہ دیا کہ میں موسیٰ کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ فرعون نے جو اونچا محل بنانے کو کہا تھا اس کا ذکر سورة القصص میں بھی گزر چکا ہے (فَاَوْقِدْ لِیْ یٰھَامٰنُ عَلَی الطِّیْنِ ) (ع 4) کی تفسیر کا مطالعہ بھی کرلیا جائے۔ (جلد کے شروع میں گزر چکی ہے)
Ayah 40:37

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

یعنی آسمان کے راستوں تک میری رسائی ہوجائے پھر میں موسیٰ کے معبود کا پتہ چلاؤں اور بیشک میں تو اسے جھوٹا ہی سمجھتا ہوں اور اسی طرح فرعون کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا اور وہ راستہ سے روک دیا گیا اور فرعون کی تدبیر ہلاکت ہی میں لے جانے والی تھی۔

(وَکَذٰلِکَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِہٖ ) اور اسی طرح فرعون کے لیے اس کی بد کرداری مزین کردی گئی جسے وہ اچھی سمجھتا تھا۔ (وَصُدَّ عَنْ السَّبِیْلِ ) اور وہ راہ حق سے روک دیا گیا موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرنے کے لیے تدبیریں سوچتا رہا مگر کوئی تدبیر کام نہ آئی (وَمَا کَیْدُ فِرْعَوْنَ اِِلَّا فِیْ تَبَابٍ ) اور فرعون کی تدبیر ہلاکت ہی میں لے جانے والی تھی جو سوچا سب الٹا پڑا بالآخر ہلاک ہوا خود بھی ڈوبا اپنے لشکروں کو بھی لے ڈوبا۔ قال تعالیٰ فی سورة طٰہٰ ، (فَاَتْبَعَھُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِہٖ فَغَشِیَھُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَھُمْ وَاَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَہٗ وَ مَا ھَدٰی) (سو فرعون نے ان (بنی اسرائیل) کا پیچھا کیا اپنے لشکروں کے ساتھ سو ان کو سمندر کے ایک بڑے حصہ نے ڈھانپ لیا اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور صحیح راہ نہ بتائی۔ )