Al-Ghaafir 40:83

Al-Ghaafir · from ayah 83

40:83

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ ۟فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَرِحُوۡا بِمَا عِنۡدَهُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ

اور جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو جو علم (اپنے خیال میں) ان کے پاس تھا اس پر اترانے لگے اور جس چیز سے تمسخر کیا کرتے تھے اس نے ان کو آ گھیرا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when their messengers came to them with clear proofs, they [merely] rejoiced in what they had of knowledge, but they were enveloped by what they used to ridicule.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 9 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:83

جب ان کے رسول ان کے پاس بینات لے کر آئے تو وہ اُسی علم میں مگن رہے جو ان کے اپنے پاس تھا، اور پھر اُسی چیز کے پھیر میں آ گئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو جو علم (اپنے خیال میں) ان کے پاس تھا اس پر اترانے لگے اور جس چیز سے تمسخر کیا کرتے تھے اس نے ان کو آ گھیرا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس جب بھی ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تو یہ اپنے پاس کے علم پر اترانے لگے، بالﺂخر جس چیز کو مذاق میں اڑا رہے تھے وه ان پر الٹ پڑی

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی کھلی دلیلیں لے کر آئے تب بھی وہ اپنے اس علم پر ہی ناز کرتے رہے جو ان کے پاس تھا، اور جس چیز کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے، اسی نے ان کو آگھیرا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو جب ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لائے، تو وہ اسی پر خوش رہے جو ان کے پاس دنیا کا علم تھا اور انہیں پر الٹ پڑا جس کی ہنسی بناتے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب اُن کے پیغمبر اُن کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے تو اُن کے پاس جو (دنیاوی) علم و فن تھا وہ اس پر اِتراتے رہے اور (اسی حال میں) انہیں اُس (عذاب) نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جب ان کے رسول ان کے پاس واضح دلیلیں لے کر آئے تو وہ اس پر پھول گئے جو ان کے پاس کچھ علم تھا اور انھیں اس چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب ان کے رسول، ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے تو جو علم ان کے پاس تھا وہ اسی میں مگن رہے اور جس (عذاب) کا وہ مذاق اڑاتے تھے اسی نے انہیں آگھیرا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس جب ان کے پاس ان کے رسول نہایت واضح دلیلوں کے ساتھ آئے تو وہ اپنے اسی علم پر نازاں رہے جو ان کے اپنے پاس تھا اور ان کو گھیر لیا اس عذاب نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

چناچہ جب ان کے پاس ان کے رسول (حق و صداقت کے) کھلے دلائل لے کر آئے تو یہ (اس سے لاپرواہ ہو کر مست و) مگن رہے اپنے اس علم (و فن) کی بناء پر جو کہ ان کے پاس تھا اور (آخرکار) ان کو گھیر لیا اسی چیز نے جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

غرض جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے تو وہ لوگ اس علم پر (بڑے) نازاں ہوئے جو انہیں حاصل تھا اور ان پر وہ (عذاب) آپڑا جس پر وہ تمسخر کرتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو جب آگئے ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر تو وہ اتراتے رہے اسی پر جو بھی علم ان کے پاس تھا اور گھیرے میں لے لیا انہیں اسی چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو جو علم ان کے خیال میں ان کے پاس تھا اس پر اترانے لگے اور جس چیز کا مذاق اڑایا کرتے تھے اس نے ان کو آگھیرا (عذاب)۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When their Messengers came to them with Clear Signs, they arrogantly exulted in whatever knowledge they had. They were then encompassed by what they had mocked.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When their messengers came to them with manifest signs, they exulted because of whatever knowledge they had, and they were encircled by what they used to ridicule.

— Muhammad Taqi Usmani

When their messengers came to them with manifest signs, they exulted because of whatever knowledge they had, and they were encircled by what they used to ridicule.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then when their Messengers came to them with clear proofs, they were glad (and proud) with that which they had of the knowledge (of worldly things). And that at which they used to mock, surrounded them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when their messengers brought them clear proofs (of Allah's Sovereignty) they exulted in the knowledge they (themselves) possessed. And that which they were wont to mock befell them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when their messengers came to them with clear proofs, they [merely] rejoiced in what they had of knowledge, but they were enveloped by what they used to ridicule.

— Saheeh International

They were far too content with their own knowledge (to pay attention to the Messengers) when Our Messengers came to them with illustrious evidence. They were encompassed by the torment for mocking Our guidance.

— Muhammad Sarwar

Then when their apostles came to them with clear arguments, they exulted in what they had with them of knowledge, and there beset them that which they used to mock.

— Muhammad Habib Shakir

And when their apostles came Unto them with evidences, they exulted in the knowledge which was with them, and there surrounded them that which they had been mocking.

— Abdul Majid Daryabadi

For when their messengers came to them with Clear Signs, they exulted in such knowledge (and skill) as they had; but that very (Wrath) at which they were wont to scoff hemmed them in.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:83

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 82–85

نزول عذاب کے وقت کا ایمان بےفائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان اگلے لوگوں کو خبر دے رہا ہے جو رسولوں کو اس سے پہلے جھٹلا چکے ہیں۔ ساتھ ہی بتاتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا کچھ انہوں نے بھگتا ؟ باوجود یکہ وہ قوی تھے زیادہ تھے زمین میں نشانات عمارتیں وغیرہ بھی زیادہ رکھنے والے تھے اور بڑے مالدار تھے۔ لیکن کوئی چیز ان کے کام نہ آئی کسی نے اللہ کے عذاب کو نہ دفع کیا نہ کم کیا نہ ٹالا نہ ہٹایا۔ یہ تھے ہی غارت کئے جانے کے قابل کیونکہ جب ان کے پاس اللہ کے قاصد صاف صاف دلیلیں، روشن حجتیں، کھلے معجزات، پاکیزہ تعلیمات لے کر آئے تو انہوں نے آنکھ بھر کر دیکھا تک نہیں اپنے پاس کے علوم پر مغرور ہوگئے۔ اور رسولوں کی تعلیم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِن 112 یعنی اپنے فلسفے اور سائنس، اپنے قانون، اپنے دنیوی علوم، اور اپنے پیشواؤں کے گھڑے ہوئے مذہبی افسانوں (Mythology) اور دینیات (Theology) ہی کو انہوں نے اصل علم سمجھا اور انبیاء (علیہم السلام) کے لائے ہوئے علم کو ہیچ سمجھ کر اس کی طرف کوئی التفات نہ کیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–84

معارف و مسائل (آیت) فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ۔ یعنی ان عاقبت نااندیش منکرین کے پاس جب اللہ تعالیٰ کے رسول دلائل واضحہ توحید و ایمان کو لے کر آئے تو یہ لوگ اپنے علم کو انبیاء کے لائے ہوئے علم سے بہتر اور حق سمجھ کر انبیاء کے کلام کا رد کرنے لگے۔ یہ علم جس پر کفار خوش اور مگن تھے اور اس کے مقابلہ میں انبیاء کے علوم کو رد کرتے تھے۔ یا تو ان کا جہل مرکب تھا کہ ناحق اور باطل کو حق و صحیح سمجھ بیٹھے تھے۔ جیسے یونانی فلاسفہ کے بیشتر علوم و تحقیقات جو الہیات سے متعلق ہیں اسی نمونہ کی ہیں جن کی کوئی دلیل نہیں۔ ان کو جہل مرکب تو کہہ سکتے ہیں۔ ان کا نام علم رکھنا علم کی توہین ہے۔ یا پھر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرمایا کہ جب اللہ کے رسول ان قوموں کے پاس توحید، آخرت اور جزاء و سزا کی نہایت کھلی کھلی دلیلیں لے کر آئے تو انہوں نے ان کی باتوں کا مذاق اڑایا اور اپنے علم پر نازاں رہے۔ بالآخر اس عذاب نے ان کو گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ یعنی اپنے تھوڑے سے علم کو اپنی تنگ ظرفی کے سبب سے انہوں نے بہت بڑی چیز سمجھا اور یہ خیال کرلیا کہ جو کچھ وہ دیکھتے ہیں بس دنیا کل اتنی ہی ہے۔ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ ع ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

83۔ 1 علم سے مراد ان کی خود ساختہ شبہات اور باطل دعوے ہیں، انہیں علم سے بطور استہزاء تعبیر فرمایا وہ چونکہ انہیں علمی دلائل سمجھتے تھے، ان کے خیال کے مطابق ایسا کہا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اور رسول کی باتوں کے مقابلے میں یہ اپنے توہمات پر اتراتے اور فخر کرتے رہے۔ یا علم سے مراد دنیاوی باتوں کا علم ہے، یہ احکام و فرائض الٰہی کے مقابلے میں انہیں ترجیح دیتے رہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 78–85

20: کفار مکہ حضور اقدس ﷺ سے بار بار نت نئے معجزے دکھانے کی فرمائش کرتے رہتے تھے، اور اصرار کرتے تھے کہ وہی معجزہ دکھائیں جو ہم کہیں، اور مقصد سوائے وقت گزاری کے کچھ نہیں تھا، کیونکہ آپ کے کئی معجزات دیکھنے کے باوجود وہ ایمان لانے پر تیار نہیں تھے، اس لئے یہاں ان کو دینے کے لئے یہ جواب سکھایا جارہا ہے کہ معجزہ دکھانا کسی پیغمبر کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا، وہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے دکھایا جاسکتا ہے۔ اس لیے آپ ان سے صاف کہہ دیں کہ میں تمہاری نت نئی فرمائشیں پوری کرنے سے معذور ہوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 81–85

آیت نمبر 81 تا 85 انسانی تاریخ میں گزشتہ اقوام کی تباہی روایات کے ذریعے ان کی کہانیاں محفوظ ہیں۔ بعض کی کہانیاں کتابوں کے اوراق میں محفوظ ہیں۔ قرآن کریم باربار ان ایام اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس لیے کہ انسانیت جس لائن پر بڑھتی چلی آئی ہے اس میں جا بجا حقائق موجود ہیں۔ پھر ان ایام اللہ کا اثر بھی انسان پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ اور قرآن چونکہ خالق فطرت کی طرف سے نازل ہورہا ہے اس لیے وہ فطرت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کرتا ہے۔ قرآن فطرت کی راہ رسم سے خوب واقف ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ اس کی یہ مخلوق کس بات سے متاثر ہوتی ہے اور کس انداز سے اس کے دل میں بات اتاری جاسکتی ہے ، اللہ کو پتہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی وجوہ معاش اور مادی ترقیات کا جو علم ان کے پاس تھا اور جن غلط عقیدوں پر دل جمائے ہوئے تھے اسی پر اتراتے رہے۔ اور انبیاء (علیہم السلام) کے علوم و ہدایت کو حقیر سمجھ کر مذاق اڑاتے رہے۔ آخر ایک وقت آیا جب ان کو اپنی ہنسی مذاق کی حقیقت کھلی، اور ان کا استہزاء و تمسخر خود ان ہی پر الٹ پڑا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 83 { فَلَمَّا جَآئَ تْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ } ”تو جب آگئے ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر“ الْبَیِّنٰتِسے مراد حسی معجزات بھی ہیں اور واضح تعلیمات اور دلائل بھی۔ { فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَہُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ } ”تو وہ اتراتے رہے اسی پر جو بھی علم ان کے پاس تھا اور گھیرے میں لے لیا انہیں اسی چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔“ وہ لوگ اپنے آبائی عقائد و توہمات پر جمے رہے اور انہی کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتے رہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اس حق کا بھی مذاق اڑایا جو ان کے رسولوں علیہ السلام نے ان کے سامنے پیش کیا اور عذاب کی وعیدوں کا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

103 وحی کے علاوہ لوگوں کے پاس اپنے علوم کون سے تھے ؟ وہ علم ان کے پاس کیا تھا ؟ یہی دیومالائی علم (Mythology) جس کی رو سے انہوں نے ہزاروں دیوتاؤں اور دیویوں کو اللہ کے اختیارات میں شریک بنا رکھا تھا۔ پھر ان کا آپس میں بھی اور اللہ سے نسبی رشتہ قائم کر رکھا تھا۔ علاوہ ازیں علم سے مرادہر قوم کے اختراعی مذہبی فلسفے اور سائنس اور اپنے ضابطہ حیات سے متعلق قوانین وغیرہ ہیں۔ جب انبیاء ان کے پاس آئے اور انہیں وحی الٰہی کے علم کی دعوت دی تو انہوں نے اپنے ہاں مروجہ علوم کے مقابلہ میں وحی الٰہی کے علم کو ہی ہیچ سمجھا اور اس طرف توجہ ہی نہ دی۔ کہتے ہیں کہ ارسطو حکیم کو، جو خود اپنے فلسفہ الہیات کا موجد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

79۔ یہ ایک واقعہ تاریخی ہے کہ انبیاء کرام نے جب جب اپنی دعوتیں دلائل وبراہین کے ساتھ پیش کی ہیں تو انکی مخاطب ” مہذب “ قوموں اور ” متمدن “ امتوں نے اپنے علوم وفنون کے زعم میں اپنے علوم معاشی وسیاسی کے مقابلہ میں ہمیشہ ان دعوتوں کو ٹھکرا ٹھکرا دیا ہے۔ لیکن انجام میں یہ قومیں قانون الہی کی مخالفت کی پاداش میں تباہ ہی ہو کر رہی ہیں۔ یہاں ذکر اسی حقیقت تاریخی کا ہے۔ (آیت) ” ما عندھم من العلم “۔ یعنی ان کے علوم دنیوی۔ یرید علمھم بامور الدنیا (مدارک) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں ایسے علم پر فخر کرنے ممانعت ہے جو شریعت کے مخالف ہو اور اسی میں تصوف باطل بھی شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 79–85

آیت نمبر 79 تا 85 ترجمہ : اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے (مویشی) پیدا کئے کہا گیا ہے کہ یہاں (انعام) سے خاص طور پر اونٹ مراد ہے اور ظاہر یہی ہے اور بقروغنم بھی معراد ہوسکتے ہیں تاکہ ان میں سے بعض پر تم سواری کرو اور بعض کو ان میں سے کھاتے ہو اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت منافع ہیں (مثلاً ) دودھ، نسل، اونٹ کے بال، اور اون تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنی دلی مراد کو حاصل کرو اور وہ (مختلف) شہروں تک بوجھ لاد کرلیجاتا ہے، اور ان سواریوں پر خشکی میں اور کشتیوں پر دریا میں چڑھے پھرتے ہو اور وہ تمہیں اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے، پس تم وحدانیت پت دلالت کرنے والی کون کون سی نشانیوں کا انکار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلما جاء تھم رسلھم بالبینت فرحوا بما عندھم من العلم جب انکے پیغمبر انکے پاس کھلی دلیلیں لے کر آئے تو وہ لوگ اپنے (اس) علم (معاش) پر بڑے نازاں ہوئے جو ان کو حاصل تھا (ترجمہ تھانوی) ۔ بِالْبَیِّنٰتِ ۔ بیّنات سے مراد ہیں معجزات اور واضح آیات و نشانات۔ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَھُمْ مِّنَ الْعِلْمِ تو جو علم انکے پاس تھا ‘ اس پر مغرور ہوگئے اور پیغمبروں کے علم کو حقیر سمجھا۔ علم سے مراد ہیں وہ مفروضات جن کے علم ہونے کے وہ مدعی تھے اور انہی کو علم سمجھتے تھے ‘ ورنہ حقیقت میں دینی امور میں ان کا علم جہل مرکب تھا ‘ جیسے الہٰیات ‘ طبیعیات اور بعض ریاضیات میں یونانیوں کے اقوال و افکار تھے ‘ یا جیسے کفار…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جب ان کے پاس رسول اوامرو نواہی لے کر آئے تو وہ اپنے دین و عمل پر بڑے نازاں ہوئے جو کہ محض ان کا خیال تھا اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کے ساتھ ان کے مذاق کرنے کی وجہ سے ان پر عذاب نازل ہوا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) فلما جآء تھم رسلھم بالبینت …:”من العلم“ میں ”من“ تبعیض کیلئے ہے، یعنی علم کا وہ معمولی سا حصہ جو ان کے پاس تھا۔ اس علم سے مراد دو چیزیں ہوسکتی ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کے متعلق ان کے وہ عقائد و رسوم جو ان کے فلسفیوں نے یا ان کے مذہبی پیشواؤں نے گھڑ رکھے تھے، جن کی بنیاد ہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک پر تھی، جیسا کہ یونانیوں اور ہندوؤں کا دیوی دیوتاؤں پر مبنی سلسلہ تھا اور جیسا کہ نوح، ہود، صالح، ابراہیم اور دوسرے ابنیائے کرام ﷺ کی بت پرست اقوام کا عقیدہ تھا، جسے وہ علم سمجھتے تھے، حالانکہ وہ سرا سر جہل تھا۔ چناچہ جب ان کے رسول ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے متعلق خود اس کے عطا کردہ توحید و آخرت کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 82–84

( افلم یسیروا فی الارض۔۔۔۔۔۔۔۔ ) افلم یسیروا فی الارض کیا انہوں نے زمین میں سیرو سیاحت نہیں کی کہ وہ سابقہ قوموں کے آثار کا مشاہدہ کرتے جو ان سے تعداد میں زیادہ تھے فما اغنی عنھم ما کانو یکسبون۔ یعنی عمارات، اموال، اولاد اور پیروکاروں نے انہیں کچھ نفع نہ دیا یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ دلوت بفلان الیک یعنی میں نے اسے تیرے پاس سفارش کے لیے بھیجا۔ اس تاویل کی بناء پر ما نافیہ ہے یعنی اس چیز نے انہیں کوئی نفع نہ دیا ایک قول یہ کیا گیا ہے : ما استفہامیہ ہے یعنی جب وہ ہلاک ہوئے تو کسی چیز نے انہیں نفع نہ دیا۔ اکثر غیر منصرف ہے کیونکہ وہ فعل کے وزن پر ہے کو فیوں کا خیال ہے کہ ہر وہ اسم جو غیر منصرف ہو تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 81–85

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولتبلغوا علیھا حاجۃ فی صدورکم “ (تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنے دلی مقصد کو پہنچ جاؤ یعنی تمہارے سفر تمہاری اپنی ضرورت کے لئے ہوں (آیت ) ” وآثارفی الارض “ (اور نشانات جو ان میں چھوڑ گئے) یعنی زمین میں ان کا پیدل چلنا (آیت) ” فرحوا بما عندھم من العلم “ (وہ لوگ اپنے اس علم (معاش) پر بڑے خوش ہوئے جو ان کے پاس تھا یعنی ان کا قول تھا ہم ان سے زیادہ جاننے والے ہیں اور ہم کو ہرگز عذاب نہیں ہوگا (آیت ) ” وحاق بھم ماکانوا بہ یستھزء ون “ (اور وہ جس چیز کا مذاق بناتے تھے اسی نے ان کو گھیر لیا) یعنی ان کے رسول انکے پاس حق کو لائے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَلَمَّا [ پھر جب ] جَاۗءَتْهُمْ [ آئے ان کے پاس ] رُسُلُهُمْ [ ان کے رسول ] بِالْبَيِّنٰتِ [ واضح (نشانیوں ) کے ساتھ ] فَرِحُوْا [ تو وہ لوگ شاداں رہے ] بِمَا [ اس کے ساتھ جو ] عِنْدَهُمْ [ ان کے پاس تھا ] مِّنَ الْعِلْمِ [ علم میں سے ] وَحَاقَ [ اور گھیر لیا ] بِهِمْ [ ان کو ] مَّا [ اس نے ] كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ [ یہ لوگ مذاق اڑاتے تھے جس کا ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 83 ۔ میں کافروں کا اپنے علم پر خوش رہنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے فلسفے اور سائنس ، اپنے قانون ، اپنے دنیوی علوم اور اپنے پیشواؤں کے گھڑے ہوئے مذہبی افسانوں (Mythology) وغیرہ کو ہی انھوں نے اصل علم سمجھا اور انبیاء (علیہم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 82–85

گزشتہ قوموں کی بربادی کا تذکرہ (اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ) (الیٰ اخر السورۃ) کیا ان لوگوں نے سفر نہیں کیا اور نافرمان پرانی امتوں کے مکان اور کھنڈر اور کنوئیں اور اینٹ پتھر نہیں دیکھے ؟ دیکھے ہیں اور بار بار دیکھے ہیں ان امتوں کا انجام بھی دیکھ چکے ہیں اور یہ بھی معلوم ہے کہ وہ لوگ ان سے عدد میں بڑھ کر تھے اور طاقت میں بھی زیادہ تھے اور زمین میں ان کے نشانات بھی بہت ہیں انہوں نے مضبوط قلعے بنائے پتھروں کو تراش کر گھر بنائے لیکن رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے عذاب آیا تو سب چیزیں دھری رہ گئیں جو کچھ کماتے تھے وہ کچھ بھی کام نہ آیا۔ جب اللہ کے رسول کھلے ہوئے معجزات اور آیات واضحات لے کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 79–85

ذکر انعامات و توحید رب العالمین، وتہدید منکرین ومشرکین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اللہ الذی جعل لکم الانعام ....... الی ........ وخسرھنالک الکفرون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں سلسلہ مضمون توحید خداوندی تھا اور دلائل قدرت کے بیان کے ساتھ مجرمین کے انجام ہلاکت پر افسوس وملامت کا اظہار ہے، اور یہ کہ خود مجرمین آخرت میں اپنے اعمال پر کس قدر پچھتائیں گے، آیات میں مزید انعامات خداوندی ذکر فرما کر مضمون توحید اور منکرین ومشرکین کی تہدید پر سورت کو ختم فرما دیا گیا، ارشاد ہے، اللہ ہی ہے جس نے تمہارے ہی نفع کے لیے مویشی بنائے تاکہ ان میں سے بعض سے تم سواری لو اور ان میں سے بعض کو کھاؤ، اور بھی بہت سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

75:۔ ” فلما جاءتہم رسلہم “ جب انبیاء (علیہم السلام) کھلے معجزات اور روشن دلائل لے کر ان کے پاس آئے تو ان کی پیروی کرنے کے بجائے وہ اپنے علم وعقیدے پر ہی خوش اور مطمئن رہے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں درست ہے اور جن معبودان غیر اللہ کو پکارتے ہیں وہ ان کی پکار سنتے اور ان کی مدد کرتے ہیں۔ انہوں نے چونکہ اپنے باپ دادا کو اسی روش پر پایا ہے، اس لیے وہ ان کی روش پر ہی چلیں گے۔ کما قال تعالیٰ ” انا وجدنا اباءنا علی امۃ فانا علی اثارہم مقتدون “ (زخرف رکوع 2) ۔ المراد بالعلم عقائدہم الزائغۃ و شبہم الداحضۃ (روح ج 24 ص 91) ۔ یہ مشرکین اپنے عقائد باطلہ پر نازاں تھے اور انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 79–85

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی تردید فرمائی اور ساتھ ساتھ پیغمبر ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی بھی دی کہ پہلی قوموں نے بھی اپنے انبیاء کرام کی تکذیب کی ان کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں مگر بالاخر کامیابی اللہ کے نبیوں کو ہوئی اور مکذبین دنیا وآخرت دونوں جگہ ناکام اور دائمی عذاب کے مستحق ٹھہرے اب آج کی آیات میں پہلے کچھ دلائل توحید بیان ہوئے ہیں اور پھر کفار و مشرکین کی توجہ سابقہ اقوام کی طرف دلائی گئی ہے جو ان سے زیادہ تعداد میں اور زیادہ طاقتور تھے مگر وہ اپنے غرور وتکبر کی وجہ سے مبتلائے عذاب ہوئے اس وقت انہوں نے توبہ کی مگر اس بےوقت ایمان لانے کا کچھ فائدہ حاصل نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمَّا جَاۗءَتْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَہُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِہِمْ مَّا كَانُوْا بِہٖ يَسْتَہْزِءُوْنَ۝ 83 جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 79–85

تفسیر : خوف دلانے کے بعد پھر وہ دلائل بیان فرماتا ہے کہ جو اللہ حکیم رحیم کے وجود پر دلالت کرتے ہیں اور جن سے اس کا بندوں پر انعام و احسان ثابت ہوتا ہے۔ فقال اللہ الذی الخ کہ اللہ وہ محسن و رحیم و کریم و قادر ہے کہ جس نے تم سے بڑے زور آور جانوروں کو تمہارے بس میں کردیا کہ ان میں سے تم کسی پر سوار ہوتے ہو۔ جیسا کہ اونٹ، گھوڑا، گدھا بعض ملکوں میں بیل ہاتھی بھی یہی کام دیتے ہیں اور بعض کو تم ذبح کرکے کھاتے ہوگائے، بھیڑ، بکری وغیرہ۔ اور اسی پر بس نہیں بلکہ ولکم فیہا منافع اس کے علاوہ تمہارے لیے ان میں اور بھی فوائد ہیں، ان سے نفع لیتے ہو۔ دودھ، گھی فروخت کرتے ہو کھاتے پیتے ہو ہل جو تتے ہو، ان کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَلَمَّا جَآئَ تْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَھُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِھِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ (المؤمن : 83) (اور جب ان کے پاس ان کے رسول بینات لے کر آئے تو وہ اسی علم پر نازاں رہے جو ان کے پاس تھا۔ پھر اسی چیز نے ان کو گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ ) جب اللہ تعالیٰ کے رسول ان کی زندگی کی اصلاح کے لیے ان کے پاس وہ علم لے کر آئے جس کے نتیجے میں انسانی زندگی کی ہر چول اپنی جگہ بیٹھ جاتی ہے۔ فکری صلاحیتوں کو جلا ملتی ہے، قلبی انتشار سکون میں تبدیل ہوجاتا ہے، معاملات میں اعتدال پیدا ہوتا اور حقوق میں ایثار و اخلاص کی خو جنم لیتی ہے۔ تو یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 82–85

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی نعمتوں اور اس کے واضح دلائل کو جھٹلانے والوں کا انجام۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی راہنمائی کے لیے خارجی اور داخلی اسباب پیدا فرمائے ہیں۔ لیکن ان کی حقیقت پانے کے لیے انسان کا سلیم الفطرت ہونا ضروری ہے۔ انسان کی فطرت جتنی زندہ اور بیدار ہوگی اتنا ہی وہ ہدایت قبول کرنے میں مستعد ہوگا۔ خارجی اسباب میں خوف اور ڈر ایک ایسا سبب ہے کہ اگر انسان کو اپنے رب کا خوف پیدا ہوجائے تو وہ خود بخود نافرمانی کا راستہ چھوڑ کر اپنے رب کی تابعد اری کی شاہراہ پر گامزن ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خوف کے ساتھ اور بھی خوف ہیں جن کی بنا پر آدمی نافرمانی کو چھوڑ کر ہدایت قبول…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفار نے علم الٰہی کی بجائے علم دنیا کو ہی نفع بخش خیال کیا : فَلَمَّا جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ (غرض جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی دلیلیں لے کر آئے تو وہ لوگ اپنے علم پر بڑے نازاں ہوئے جو ان کو حاصل تھا) اس سے مراد امور دنیا کے متعلق ان کی معلومات اور اس کی تدابیر سے واقفیت ہے۔ جیسا دوسرے مقام پر فرمایا۔ یعلمون ظاہرا من الحیاۃ الدنیا وھم عن الاخرۃ ھم غافلون (الروم :7) جب ان کے ہاں انبیاء علیہم الصلوت والسلام دینی علوم لائے وہ ان کے علم کے لحاظ سے بہت بعید چیز تھی کیونکہ وہ دنیا کے انکار پر آمادہ کرتے ہیں اور شہوات و لذات سے روکتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

82، افلم یسیروافی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم کانوا اکثر منھم واشد قوۃ واثارافی الارض، یعنی ان کے محلات اور تعمیر کردہ عمارتیں۔ ، فمااغنی عنھم ، نہیں نفع دیا ان کو ، ماکانوایکسبون، کہا گیا ہے کہ یہ استفہام کے معنی میں ہے اور اصل عبارت یوں ہے کہ ان کی کمائی میں سے کس چیز نے ان کو نفع دیا ہے ؟

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 81–85

81۔ 85۔ اللہ نے انسان کی پیدائش انسان کی ضرورت کے کھیتی کے بوجھ لادنے کے سواری کے جانوروں کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی قدرت سے اللہ کے معبود حقیقی ہونے سے بیخبر ہیں ان کے خبردار کرنے کے لئے یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں یہ سب نشانیاں دیکھ کر بھی یہ بیخبر لوگ اپنی بیخبر ی سے باز نہیں آتے تو ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آخر یہ لوگ اللہ کی قدرت کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کریں گے خود اپنی پیدائش کے منکر ہیں کہ سوا اللہ کے کسی اور کو ان کی پیدائش میں دخل ہے یا ان کی ضرورت کی چیزیں کسی اور نے پیدا کردی ہیں اور جب اللہ کے اس سوال کا جواب یہ لوگ نہیں دے سکے تو پھر جن بتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 81–84

آیت 81 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احاسنات کا ذکر کترا ہے کہ اس نے ان کے لئے چوپائے پیدا کئے جن پر ان کے مفادات کا دار و مدار ہے۔ ان میں سے کچھ مویشیوں کو وہ سواری اور نقل و حمل کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ کچھ چوپایوں کا گوشت کھاتے اور ان کا دودھ پیتے ہیں۔ کچھ مویشیوں کی اون سے گرمی حاصل کرتے ہیں۔ ان کے بالوں، پشم اور اون سے آلات اور استعملا کا اسمان بناتے ہیں اور ان سے دیگر فوائد حاصل کرتے ہیں۔ (آیت) ” اور تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنی حاجت و ضرورت کو پہنچو جو تمہارے سینوں میں ہے۔ “ یعنی تم ان دور دراز ملکوں میں پہنچ سکو جہاں پہنچنے کی اپنے دلوں میں ضرورت محسوس کرتے ہو اور تاکہ ان کے باعث ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 60–85

دعا ہی عبادت ہے قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

155 حضرات انبیاء و رسل کی تکذیب باعث ہلاکت و تباہی : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنے موروثی اور خودساختہ علم و فن کی بنا پر وحی الہی اور دین سماوی سے منہ موڑنا محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ان لوگوں کے پاس اس نام نہاد علم کی دو صورتیں تھیں اور ہیں۔ یعنی پہلے بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ ایک تو رسم و رواج اور آبائی تقلید کی خرافات کا وہ انبار جسے وہ علم کہتے اور دین اور نیکی سمجھتے تھے۔ اور اس کے خلاف حق و صداقت کی کوئی بات سننے کو تیار نہ ہوتے تھے۔ جیسا کہ دور حاضر میں جاہل پیروں اور گمراہ ملاؤں کی ماری ہوئی قوم کا حال ہے کہ ہمارے بڑے یوں کرتے آئے۔ لہذا ہم بھی ایسے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–85

جھٹلانے والوں کا انجام تشریح : یہ ان بدنصیب لوگوں کی داستان ہے جن کو پیغمبروں نے ہدایت کی طرف بلایا توحید کی دعوت دی ‘ توحید کی خوبیاں بتائیں ‘ اللہ سے ڈرایا ‘ برے کاموں سے منع کیا اور بار بار دلیلوں کے ساتھ سمجھایا کہ برے کام نہ صرف دنیا میں ہی نقصان دیتے ہیں بلکہ آخرت کو بھی خراب کردیتے ہیں۔ جہنم کے عذاب کا نقشہ بیان کیا جس کو اگر انسان غور ‘ یقین اور توجہ سے دیکھے تو چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ مـگر کفار پہلے بھی اب بھی اور آئندہ بھی شیطان کی گرفت میں اتنی بری طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ روشنی اور ہدایت کی بات ان پر اثر ہی نہیں کرتی بلکہ الٹا پیغمبروں کو ہی جھٹلاتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں اور نیکی سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 79–85

رکوع نمبر 9: آیات 79 تا 85: اسرار و معارف : اللہ وہ ذات کریم ہے جس نے تمہاری خدمت کے لیے کتنی اقسام کے جانور پیدا کردئیے اور تمہیں ان پر یہاں تک اختیار بخشا کہ کسی پر سواری کرتے ہو تو کسی کو ذبح کرکے کھالیتے ہو کبھی ان کی تجارت کرکے اپنے لیے دولت کماتے ہو غرض جو جی میں آئے اپنی سب ضرورتیں پوری کرتے ہو اور تم زمین پر پانی میں ہر جگہ مختلف سواریاں استعمال کرتے ہو یہ سب تو اس کی عظمت کے گواہ ہیں تم بھلا کون کون سی دلیل کا انکار کروگے۔ کیا روئے زمین پر پھر کر نہیں دیکھا کہ پہلی اقوام کا کیا انجام ہوا ان کے چھوڑے ہوئے آثار اور کھنڈرات بتاتے ہیں کہ وہ تم لوگوں سے کہیں زیادہ طاقتور اور مالدار تھے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی اپنے فلسفہ، سائنس اور دوسرے دنیوی علوم ہی کو سب کچھ سمجھ کر اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے لگے اور انبیاء ( علیہ السلام) کے پیش کردہ وہ علم کا مذاق اڑانے لگے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:83) فلما۔ فاء تفسیریہ ہے اور لما یہاں شرطیہ استعمال ہوا ہے۔ پس جب لما نافیہ بھی آتا ہے مثلا : ان کان کل نفس لما علیہا حافظ (86:4) کوئی نفس ایسا نہیں ہے کہ اس (کے اعمال) کا نگران (فرشتہ) نہ ہو۔ گو بعض نے اس کو یہاں استثنائیہ (الا کا ہم معنی) لیا ہے اس صورت میں ترجمہ یوں ہوگا :۔ کوئی نفس نہیں مگر اس پر نگران (فرشتہ) مامور ہے۔ جاء تھم : جاءت ماضی۔ ضمیر واحد مؤنث غائب رسل کیلئے ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع کفار ہیں۔ ایسے ہی رسلہم میں ضمیر ہم کفار کیلئے ہے فلما جاء تھم رسلہم بالبینت پس جب (بھی) ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ فرحوا بما عندھم من العلم : اس کی مندرجہ ذیل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 79–85

لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 85 : الانعام ( مویشی ، جانور) لترکبوا ( تا کہ تم سواری کرو) حاجۃ (ضرورت) تنکرون ( تم انکار کرو گے) ما اغنی (کام نہ آیا) خلت (گزر گئی) سنت اللہ ( اللہ کا قانون ، اللہ کا دستور) تشریح : آیت نمبر 79 تا 85 : سورة مومن کی آخرت آیات میں انسانی زندگی گزارنے کی بہت سی چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے مثلاً غذا ، سواری ، صنعتیں ، سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لانے لے جانے کے اسباب وغیرہ ۔ اگرچہ چیزیں نہ ہوں تو انسان کو اپنی زندگی اور تہذیب و تمدن کے تقاضوں کو پورا کرنا مشکل ہوجائے۔ اللہ نے انسان کو ان بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے جس پر ہر انسان کو ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 81–85

آثار موت کے وقت ایمان قبول نہیں۔ (ف 3) اس آیت میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی قدرت سے اللہ کے معبود حقیقی ہونے سے بیخبر ہیں ان کے خبردار کرنے کے لیے یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں یہ سب نشانیاں دیکھ کر بھی یہ بیخبر لوگ اپنی بیخبر ی سے باز نہیں آتے، تو ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آخریہ لوگ اللہ کی قدرت کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کرتے ہیں خود اپنی پیدائش کے منکر ہیں سو اللہ کے کسی اور کو ان کی پیدائش میں دخل ہے یا ان کی ضرورت کی چیزیں کس اور نے پیدا کردی ہیں اور جب اللہ کے اس سوال کا جواب یہ لوگ نہیں دے سکتے، تو پھر جن بتوں کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں ان بتوں کو اللہ کا شریک کرنے کا کون ساحق حاصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 82–85

[30] دستور الٰہی یہی ہے کہ نزول عذاب کے وقت ایمان لانا نافع نہیں ہوتا کیونکہ اس وقت کا ایمان اللہ کے نزدیک مقبول و معتبر نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 83–85

علم نبوت کی وسعت 1: گمراہ قوموں میں سب سے بڑا غیب یہ ہوتا ہے کہ ان میں خود پسندی آجاتی ہے ۔ اور وہ اپنے مادی علوم پر فخر و غرور کرنے لگتی ہیں اور ان معارف وحکم پر غور وفکر نہیں کرتیں ۔ جن کا براہ راست دل کی پاکیزگی اور لطافت سے تعلق ہوتا ہے ۔ جب انبیاء (علیہم السلام) تشریف لاتے ہیں ۔ تو ان کو ہدف استہزاء بنالیتی ہیں ۔ اور اپنے مزخرفات واوہام پر لگی رہتی ہیں ۔ اور ان حقیر معلومات کو علوم نبوت سے زیادہ بیش قیمت جانتی ہیں ۔ جو ان کے پاس ہوتی ہیں ۔ حالانکہ پیغمبر اپنے وقت کا بہت بڑا عارف اور بہت بڑا عالم ہوتا ہے ۔ اس کی نظریں بہت وسیع اور بلند ہوتی ہیں ۔ وہ اپنی حلیم بصیرت سے ان حقائق کو دیکھ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(83) پھر جب ان امم سابقہ کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے تو وہ لوگ اپنے اس دنیوی علم وہنر پر ناز کرتے رہے جو ان کو حاصل تھا اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اسی عذاب نے ان کو گھیر لیا اور ان کے کفروشرک کا وبال ان پر آپڑا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے اور جس سے وہ تمسخر کرتے تھے۔ یعنی وہ اپنے جس دنیوی علم پر اتراتے تھے اور جس کے بل بوتے پر عذاب الٰہی کا مذاق اڑاتے تھے ان کو اسی عذاب نے گھیر لیا اور آخر کار تباہ ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 83–84

ف 5۔ یعنی معاش کو مقصود سمجھ کر اور اس میں جو ان کو لیاقت حاصل تھی اس پر خوش ہوئے، اور معاد کا انکار کر کے اس کی طلب کو دیوانگی اور اس کے انکار پر وعید عذابی کو مایہ تمسخر ٹھہرایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ کے رسول ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے لیکن انہوں نے مذاق ہی اڑایا 83۔ ان قوموں کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب رسول آئے اور انہوں نے اپنی اپنی قوم کو توحید الٰہی کا درس دیا اور آخرت کی یاددہانی کرائی تو ہر قوم نے اپنے رسول کی ان باتوں کی تردید کی اور اس کا مذاق اڑایا یہ دونوں عقیدے ہی ان کو ہضم نہ ہو سکے۔ جب انبیاء کرام اور رسل عظام نے ان کو دلائل سے رام کرنا چاہا تو وہ ڈٹ گئے اور ان کے دلائل کا جواب ڈنڈے کے زور سے دیا کسی قوم نے کہا کہ ” اگر تم اپنی اس تعلیم سے باز نہ آئے تو تم کو پتھر مار مار کر ہلاک کردیا جائے گا “ اور کسی نے آپس میں مخاطب ہو کر کہا کہ ” ان لوگوں کو اپنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 78–83

Commentary In verse 83, it was said: فَرِ‌حُوا بِمَا عِندَهُم مِّنَ الْعِلْمِ (they exulted because of whatever of knowledge they had,) that is, when the messengers of Allah Ta’ ala came to these deniers, who were utterly oblivious to their end, with clear arguments in favor of tauhid (Oneness of Allah) and 'iman (faith), they took their knowledge to be better and truer than the knowledge brought by prophets, and started rejecting what they said. What was this knowledge with which the disbelievers were exultant to the extent that they would even reject the body of knowledge brought by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

112 That is, "They took their philosophy and their science, their law, their secular sciences and their mythology and theology invented by their religious guides as the real knowledge, and regarded the Knowledge brought by the Prophets of Allah as worthless and therefore paid no heed to it. "

Read the full tafseer →