Ayahs 40:1–6ترکیب : حم تنزیل الکتاب مثل الم تنزیل الکتاب، غافر الذنب و قابل التوب صفۃ قال الاخفش التوب جمع توبۃ کدوم ودومۃ واد خال الواوفی ھذا الوصف لافادۃ الجمع المذنب التائب بین قبول توبتہ و محو حوبتہ اولتغائر الوصفین اذر بما یتوھم الاتحاد، بیضاوی، شدید العقاب نکرۃ لان التقدیر شدید عقابہ فیکون بدلا و یجوزان یکون شدید بمعنی مشدد فیتعرف ذی الطّول بالفتح المن (الجوہری) صفۃ لا الہ الخ صفۃ و یمکن ان تکون مستانفا۔
تفسیر : اس سورة کا نام سورة غافر اور سورة مومن بھی ہے۔ قرطبی کہتے ہیں کہ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے اور یہی قول عطا و جابر و عکرمہ کا ہے۔ حسن کہتے ہیں، مگر یہ قول و سبح بحمد ربک کس لیے کہ نماز مدینہ میں فرض ہوئی ہے۔ قتادہ کہتے ہیں۔ یہ دو آیتیں ان الذین یجادلون فی آیات اللہ الخ مدینہ میں نازل ہوئیں۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں۔ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی اور سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ سب حوامیم مکہ میں نازل ہوئیں اور یہی بات ٹھیک ہے۔ بہیقی نے نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حم سات ہیں اور جہنم کے بھی سات دروازے ہیں تو ہر دروازہ پر سورة حم ہوگی، کہے گی یا اللہ جس نے مجھ کو پڑھا اور مجھ پر ایمان لایا اس کو اس دروازہ سے نہ داخل کریو۔
اس سورة کا منجانب اللہ ہونا بیان کرکے اللہ تعالیٰ کے چند اوصاف بیان فرمائے تاکہ ناظرین کو واضح ہوجائے کہ یہ زبردست علم والے کا ایسا کلام ہے کہ جس میں بندوں کی تمام مصلحتیں رکھی گئی ہیں اور نہ صرف علم والا بلکہ زبردست بھی ہے جو نہ مانے تو اس کو سزا بھی دے سکتا ہے اور عمل کرنے پر انعام و اکرام بھی بےحد کرسکتا ہے۔ گناہ بھی معاف کردیتا ہے، پھر اس کے پاس پھر کر بھی جانا ہے، بارِدگر بھی اس سے کام پڑنا ہے۔ پس ان صفات کے لحاظ سے عاقل کو اس بات کے تسلیم کرنے میں کوئی بھی خطرہ باقی نہیں رہتا، وہ صفات یہ ہیں۔ (1) عزیززبردست۔ (2) علیم تمام علوم اور حکمتیں اس کے آگے حاضر ہیں۔ (3) غافر الذنب گناہ بھی معاف کردیتا ہے۔ اطاعت کرنے والوں کے اہل سنت کے نزدیک بےتوبہ کے بھی معاف کردیتا ہے۔ (4) قابل التوبتوبہ کرنے والوں کی توبہ بھی قبول کرلیتا ہے۔ (5) شدید العقاب مگر سرکشوں کو سخت سزا بھی دے دیا کرتا ہے، گردن کشوں کی گردنیں توڑ ڈالتا ہے۔ (6) ذی الطولبڑی بخشش بھی کیا کرتا ہے، اس کے ہاں کسی چیز کی کمی نہیں۔ (7) لا الہالخ کہ وہ خدا یکتا ہے، کوئی اس کا شریک نہیں جو اس کو کسی بات سے روک سکے۔ (8) الیہ المصیراُس کے پاس پھر بھی جانا ہے، مر کر بھی اس کی طرف حاجت باقی رہتی ہے۔ ایسی کتاب اور ایسے نازل کرنے والے کا جو انکار و تکرار کرتے ہیں، سو وہ کافر ہیں۔ دنیا میں وہ جو پھرتے اور مکہ سے شام تک تجارت کے لیے شہروں میں پھرتے ہیں، اس سے اے محمد ﷺ ! آپ یہ خیال نہ کیجئے کہ یہ ہمارے قابو سے نکل گئے، ان سے پہلے نوح کی قوم اوردیگر اقوام نے اپنے انبیاء سے ایسا کیا تھا، برباد ہوئے، یہی حال ان کا ہونا ہے۔
Ayahs 40:7–9ترکیب : الذین مبتدء و من مرفوع عطفا علی الذین یسبحون خبرہ یؤمنون، ویستغفرون معطوف علیہ ربنا وسعت مصدرہ محذوف ای یقولون والجملۃ حال رحمۃ و علما تمیز والاصل وسع کل شیء علمک و من صلح معطوف علی الضمیر فی ادخلہم ای و ادخل من صلح و قیل معطوف علی الضمیر فی وعدتہم فھی فی محل النصب من آباء ھم بیان لمن صلح و ازواجہم و ذریاتھم علی الجمع عطف علیٰ آباھم۔
تفسیر : پہلے بیان ہوا تھا کہ ایسی کتاب میں (جو ایسے زبردست علیم کی نازل کی ہوئی ہے) کافر ناحق کو جھگڑے مچاتے ہیں تاکہ اس کو پست کریں اور اس آفتاب کی شعاعوں کو روکیں، سو یہ ان کی رذالت و دناء تِ جبلی کا مقتضٰی ہے، اب یہاں بیان فرماتا ہے کہ دیکھو ملائکہ اور ان میں سے بھی وہ جو تخت رب العالمین کو اٹھائے رہتے ہیں اور وہ جو اس کے آس پاس ہیں، یعنی اعلیٰ رتبہ کے ملائکہ وہ خدا کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں اور وہ باوجودیکہ تخت کے پاس ہیں اور تخت پر کسی مجسم چیز کو بیٹھے ہوئے نہیں دیکھتے، پھر بھی اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمانداروں کے لیے خدا سے دعا کرتے ہیں کہ ان کو جنت عدن میں داخل کر اور جہنم سے بچا۔ فقال الذین یحملون العرش الخ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ اراذل جو ایمانداروں کی عداوت میں ایسے بڑھے ہوئے ہیں کہ کچھ ٹھکانا نہیں، ان کی کچھ پروا نہ کرنی چاہیے۔ حاملان عرش اور حاضران بارگاہ قدس دل سے اظہار مسرت و محبت کررہے ہیں اور اس طرف اشارہ ہے کہ ان کے مٹائے سے یہ کتاب و دین کیا مٹ سکتا ہے۔ بارگاہ اقدس کا منشاء اس کے پھیلانے کا ہے اور اس طرف بھی کہ انسان کا تو یہ حال ہے کہ وہ اپنی فائدہ بخش چیز کا دشمن ہورہا ہے۔ باوجودیکہ سخت محتاج ہے اور اس پر اس کی سرتابی سے بلا نازل ہونے والی ہے اور حاملان عرش کہ جو گناہوں سے پاک ہیں۔ خدا تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں مصروف ہیں اور اس طرف بھی کہ وہ ملائکہ جو انسان کے پیدا ہونے کے وقت یہ کہتے تھے کہ یہ دنیا میں فساد و گناہ کرے گا، اب اس کے لیے استغفار و معافی کے خواستگار ہیں انسان کو شرم چاہیے۔
فائدہ : (1) تسبیح اللہ تعالیٰ کو جو اس کے لائق نہیں ان سے بری ثابت کرنا۔ تحمید اس کے منعم حقیقی اور محسن علی الاطلاق ہونے کا اقرار کرنا پس تسبیح جلال کی طرف اور تحمید کمال کی طرف اشارہ ہے۔
(2) ملائکہ کے حال میں تسبیح وتحمید کے بعد یہ فرمایا۔ ویؤمنون بہ کہ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں، حالانکہ تسبیح وتحمید وہی کیا کرتا ہے جو اس پر ایمان لایا ہوتا ہے، پھر اس لفظ کے ذکر کرنے سے یہ مقصود ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ عرش پر ان کو عیانا و مشاہدۃً بیٹھا ہوا دکھائی دیتا تو ان کا ایمان لانا اس پر چنداں مدح وثناء کی بات نہ ہوتی، کس لیے کہ حاضر و مشاہدہ اور معائنہ کی چیز کا اقرار کرنا کوئی قابل تعریف بات نہیں، اگر کوئی آفتاب کو دیکھ کر اس کے روشن اور نورانی ہونے کا اقرار کرے تو کیا تعریف کی بات ہے ؟ اس سے معلوم ہوا کہ ملائکہ نے خدائے تعالیٰ کو تخت پر بیٹھے نہیں دیکھا، غائبانہ اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ صاحب کشاف نے یہ نکتہ بیان کیا ہے اور امام رازی نے اس کو ازحد پسند کیا ہے۔
(3) اس سے یہ شبہ بھی اٹھ گیا کہ خدا تعالیٰ کے تخت کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ تخت پر بیٹھا ہے تو خدا تعالیٰ کے وہ محافظ قرار پائے اور خدائے تعالیٰ محدود مانا جاتا حالانکہ ان باتوں سے پاک ہے اور شبہ یوں اٹھ گیا کہ خدا تعالیٰ عرش پر اس طرح نہیں بیٹھا ہے کہ جس سے یہ شبہات پیدا ہوں بلکہ جس کو تخت رب العالمین کہتے ہیں، اس کی حقیقت تو وہی جانتا ہے مگر وہ اس کی تجلی کی جگہ ہے، جس کی کیفیت احاطہ بیان سے باہر ہے اور یہی مذہب تمام اہل سنت والجماعت کے سلف و خلف محدثین و فقہاء و متکلمین کا ہے اور اس بارے میں جو احادیث صحیحہ وارد ہیں، ان سے یہی مراد ہے نہ وہ کہ جو ظاہر الفاظ سے بعض نے سمجھ کر مجسمہ کا مذہب اختیار کرکے اس کو اہل حدیث کا مذہب قرار دیا ہے اور لوگوں کو خطرہ میں ڈالا ہے اور اسلام کو مورد طعن ملاعین بنایا ہے۔ ایاک ثم ایاک۔
(4) ملائکہ کے حق میں یہ بھی فرمایا۔ ویستغفرون للذین آمنوایہ بھی ان کی ایک خوبی ہے، کس لیے کہ کمال سعادت دو باتوں میں ہے، ایک تعظیم امر اللہ دوسرے شفقت برخلق خدا۔ پس یسبحون بحمد ربہم میں تو پہلی بات ثابت کی ویستغفرون میں دوسری للذین آمنوا کی قید اس لیے لگائی کہ خدا کے دشمنوں پر قہر الٰہی ہے، ایسے موقع پر مالک کے مخالفوں کی کون خیر خواہی کرسکتا ہے ؟ اب ملائکہ کی استغفار کا تو یہ اثر ہوتا ہے کہ مسلمان بندے کو توبہ کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ یا اللہ اس کے گناہ معاف کردیتا ہے اور عام ہے کہ عموماً ایمانداروں کے لیے معافی مانگتے ہیں یا خاص خاص نیک بندوں کا نام بھی لیتے ہوں، اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ کفار جو ملائکہ کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھ کر پوجتے ہیں تو وہ ان کے لیے دنیا لینا ‘ مراد برلانا تو درکنار خدا تعالیٰ سے ان کے حق میں معافی بھی نہیں مانگتے۔ معافی بھی مانگتے ہیں تو صرف ایمان والوں کے لیے اور دعا بھی کرتے ہیں تو انہی کے لئے۔
(5) ربنا وسعت کل شیء رحمۃ و علماء یہ ان کی خدا تعالیٰ سے دعا ہے، ایمانداروں کے لیے مگر دعا سے پہلے اس کی تسبیح وتحمید کرنا جو داعی کے لیے نورانیت اور اجابت کا مستحق ثابت کرتی ہے اور جس سے وہ کی جاتی ہے، اس کو متوجہ کرتی ہے اور پھر اس کو بلفظ ربنا سے شروع کرنا اور مقصود سے پہلے بھی اس کی رحمت کا ذکر کرنا اور اس کے علم کا ذکر کرنا جو اپنی حاجت اور اخلاص کا یاد دلانا ہے، دعا کے لیے رکن یا شرط یا عمدہ وصف ہے۔ گویا بندوں کو یہ بتلادیا کہ وہ مانگنے کا یہ طریقہ ہے اور حاملان عرش یوں مانگا کرتے ہیں۔ گستاخانہ سوال رد ہوجایا کرتا ہے۔ دعا سے پہلے کوئی عمل خیر ‘ ذکرِ الٰہی وغیرہ باعث قبولیت دعا ہے۔ رحمت کو علم سے مقدم اس لیے کیا غرض اصلی تو اس کی رحمت کا اظہار ہے جو مدعا برآری کا باعث ہے اور علم کا بعد میں ذکر محض اس لیے آیا ہے کہ آپ ہر حاجت مند کی حاجت اور درد مند کے درد سے واقف ہیں۔ سو یہ عارضی بات ہے، اس لیے موخر ہوئی۔
(6) فاغفر للذین تابوا و اتبعوا سبیلک اول وہ ان لوگوں کے لیے کہ جو شرک و کفر سے تائب ہو کر دین الٰہی کے تابع ہوگئے ہیں، ان کے بعض افعال پر جو از قسم معاصی بمقتضائے بشریت ان سے صادر ہوگئے ہیں۔ مغفرت مانگتے ہیں، یہ اس یستغفرون کا بیان ہے پھر ان کے لیے عذاب جہنم سے رست گاری چاہتے ہیں جو ان کے معاصی پر ہونے والا تھا، پھر اسی پر بس نہیں بلکہ یہ بھی کہتے و ادخلہم جنت عدن الخ کہ ان کو اس جنت عدن میں داخل کر کہ جس کا تو نے انبیاء کی معرفت ان سے وعدہ کیا تھا اور انہی پر بس نہیں بلکہ و من صلح کہ ان کے بزرگوں اور بیویوں اور اولاد میں سے جو نیک ہوں ان کو بھی ان سے ملا کہ مل کر نہایت محظوظ رہیں، جدائی احباء کا بھی غم نہ رہے۔ باپ اور بیوی اور اولاد کا ذکر اہتمام شان کے لیے آیا ہے، ورنہ مراد عموماً اہل قرابت و محبت ہیں۔ بشرطیکہ وہ نیک ہوں۔
وقہم السئیات اور دیگر تکالیف سے بھی ان کو بچا اور جس کو تو نے ان برائیوں اور تکلیفوں سے اس روز بچادیا تو اس پر بڑی مہربانی فرمائی اور یہ بڑی مراد پانا ہے۔
Ayahs 40:10–12ترکیب : من مقتکم مصدر مضاف الی الفاعل و انفسکم منصوب بہ اذتدعون ظرف لفعل محذوف تقدیرہ مقتکم اذ تدعون المقت دشمن گرفتن یقال مقتہ فھو مقیت و ممقوت (صراح) اثنتین لغتان لمصدر محذوف ای امتنا اماتتین اثنتین و احیتنا احیاء تین اثنتین ذلکم مبتدء خبرہ محذوف العذاب بانہ ای بسبب انہ وحدہ مصدر فی موضع الحال من اللہ اے دعی مفرداً ۔
تفسیر : ایمانداروں کی حالت بیان کرنے کے بعد کہ ان کے لیے آخرت کے امر میں ملائکہ یوں دعا کرتے ہیں جو مستجاب ہوگی اور وہاں جنت عدن میں اپنے صلحاء اقارب کے ساتھ جاویں گے۔ مصائبِ آخرت سے محفوظ رہیں گے۔ کفار کا حال بیان فرماتا ہے۔ ان الذین کفروا ینادون لمقت اللہ اکبر من مقتکم انفسکم الخ کہ قیامت کے روز کفار کو پکار کر سنادیا جاوے گا، جبکہ وہ جہنم اور وہاں کی سختیاں دیکھ کر ناخوش اور ناراض اور غصہ ہوں گے کہ دنیا میں جب کہ تم کو ایمان لانے کے لیے کہا جاتا تھا اور تم انکار کرتے تھے، اس وقت خدا تعالیٰ کو تم پر غصہ اور ناخوشی ہوتی تھی۔ سو وہ غصہ اس کا تمہارے آج کے غصہ سے جو تم کو اپنے اوپر آرہا ہے بڑھ کر تھا، تم نے اس کے غصہ کی پروا نہ کی اب وہ تمہاری ناراضگی اور دل تنگی اور غصہ کی بھی کچھ پروا نہیں کرتا۔
یہ سن کر کفار عذر کریں گے، قالوا ربنا امتنا کہ اے رب ! تو نے ہم کو دو بار موت اور دو بار زندگی دی اس سے ہم کو تیری قدرت اور حشر پر یقین آگیا۔ دنیا میں نہ آیا تھا، اب ہم اپنے گناہوں کے مقر ہوگئے، پھر اب بھی کوئی رستگاری کا رستہ اور چھٹکارے اور رہائی کی کوئی صورت ہے۔
اول موت سے مراد عدم کا زمانہ ہے کہ جس میں انسان نہ تھا یا وہ تھا مگر ماں کے پیٹ میں گوشت و پوست کا ایک پتلا تھا، اس میں جب تک روح نہ پڑی تھی اور ماں کا پیٹ اس کی گور تھا، کیونکہ اماتت کے معنی کسی شے کا معدوم الحیات کردینا ہے، عام ہے کہ ابتداء ہو یا بعد میں کردیا جاوے۔ اس لیے کہتے ہیں سبحان من صغر البعوض و کبر الفیل، اس کے یہ معنی نہیں کہ مچھر پہلے بڑا تھا، پھر اس کو چھوٹا کردیا بلکہ ابتدائً چھوٹا پیدا کیا اور دوسری موت بھی عرفی موت ہے کہ جس وقت انسان کی روح اس کے بدن سے الگ ہوجاتی ہے، اسی طرح پہلی زندگی سے مراد دنیا کی زندگی دوسری بار زندہ کرنے سے مراد آخرت کی زندگی کہ جس کی ابتداء قبر سے ہے، جیسا کہ جمہور اہل سنت کا مذہب ہے اور احادیث صحیحہ اس پر دال ہیں اور عذاب وثواب قبر پر یہ شبہ کرنا (کہ وہ کسی کو دکھائی نہیں دیتا ہے) غلط ہے، کس لیے کہ انسان کچھ اس ہیکل مخصوص ہی کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ جسم نورانی کا نام ہے جو اس بدن میں سرایت کئے ہوئے ہے۔ پس وہ تم کو نظر نہیں آتا نہ اس کا عذاب وثواب۔ یہ دو موت اور دو زندگی سب کے لیے ہیں اور سورة صافات میں جو مومنین کا قول نقل ہے اس کے منافی نہیں اور وہ یہ ہے۔ افما نحن بمیتین الاموتتنا الاولیٰ کس لیے کہ ان کی مراد موت یا اماتۃ سے وہ ہے جو زندہ ہونے کے بعد طاری ہوئی تھی، سو وہ ایک ہی تھی اور اس کے بعد سے ان کو حیات ابدی نصیب ہوگئی اور جگہ بھی یہ مضمون آیا ہے۔ فقال فی سورة البقرۃ کیف تکفرون باللہ وکنتم امواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم۔
کفار کو جواب ملے گا۔ ذلکم بانہالخ کہ تمہاری یہ سزا تمہارے شرک کی وجہ سے ہے۔ پس ہر حکم اللہ کے ہاتھ ہے۔ وہ تم کو باردگر دنیا میں نہیں بھیجے گا جو دو بار مرنے اور جینے سے تم نے اس کی خواہش کی ہے۔
Ayahs 40:13–17ترکیب : ھو الذی مبتدء یریکم خبرہ و ینزل خبرثان ولو وصیلۃ یتعلق بادعوا اللہ رفیع الدرجات خبر ثالث ذوالعرش خبر رابع یلقی الروح خبر خامس من امرہ متعلق بیلقی من عبادہ بیان لمن یشاء لینذر فاعلہ الضمیر یرجع الی اللہ و المفعول محذوف العذاب یوم التلاق مفعول فیہ للعذاب و یمکن ان یکون مفعولا بہ یوم ھم بدل منہ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ مشرکوں کا یہ حال ہے کہ جب صرف اللہ کا نام لیا جاتا ہے تو ناخوش ہوتے ہیں اور جو اس کے ساتھ اوروں کو بھی ملایا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں، اب یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ اس کے ساتھ کون شریک ہوسکتا، تمام کاروبار اور جمیع منافع انسانیہ دینیہ و دنیویہ اسی کے ہاتھ ہیں۔ فقال ھو الذی الخ انسان کے درجات ہیں، ایک روحانی کہ اس کی روح کو دلائلِ دینیات کے سبب ورطہ جہالت سے نکالا جائے، اس کی نسبت فرماتا ہے۔ یریکم آیاتہ کہ وہ تم کو ہر وقت اپنی قدرت کی نشانیاں دکھایا کرتا ہے۔ دوسری حاجت بدنی ہے۔ رزق و روزی تندرستی وغیرہ چیزیں عطاء کرنا اس کی نسبت فرماتا ہے۔ و ینزل لکم من السماء رزقا کہ وہ آسمان سے تمہارے لیے روزی بھیجتا ہے، پانی برسانا اوپر سے اور آفتاب و ماہتاب و دیگر ستاروں کی تاثیرات سے کھیتی ‘ غلہ ‘ میوہ جات پکانا ‘ ہوائوں کا بدلنا سب کام جو صحت و رزق کے اسباب میں سے ہے، آسمان سے نازل ہوتا ہے۔ یتذکرالامن ینیب مگر ان باتوں کو ہر کوئی نہیں سمجھتا بلکہ وہی جو خدا کی طرف دھیان رکھتے ہیں، پس جب تمہارے معبودوں میں سے کوئی بھی ان باتوں میں شریک نہیں تو فادعوا اللہ الخ خاص اللہ ہی کو پکارا کرو، نیاز مندی اور اخلاص سے گو کافر ناخوش ہوں ہوا کریں۔ اس کے بعد اپنے اور چند اوصاف ذکر کرتا ہے، جو اس کی شان الوہیت کی دلیل ہیں۔ اول رفیع الدرجات رفیع بمعنی رافع اور بمعنی مرتفع بھی ہوسکتا ہے۔ پہلی صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ وہ انبیاء و اولیاء کے دنیا میں درجے بلند کرتا ہے یا مخلوق کے علم و دولت ‘ عقل و صورت ‘ سعادت و شقاوت میں درجے بلند کیا کرتا ہے، ایک کو ایک سے بالا کرتا ہے نہ کہ تمہارے معبود کرتے ہیں۔ دوسری صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ وہ جمیع صفات کمال و جلال میں تمام موجودات سے بلند رتبہ ہے۔ اس کے مرتبہ کو کوئی نہیں پہنچ سکتا نہ کسی کی حیات اس کی حیات کے برابر ہے نہ قدرت و علم اس کے برابر ہے نہ کوئی واجب الوجود ہے بلکہ سب اس کی ذات وصفات میں محتاج ہیں، وہ کسی بات میں کسی کا محتاج نہیں۔ دوم ذوالعرش وہ تخت کا مالک ہے۔ تخت حکومت اسی کے لیے ہے اور جو کوئی ہے اس کی رعیت و مطیع ہے، وہی انصاف کرتا ہے، وہی دیتا لیتا ہے۔ پہلی صفت مراتب دنیا کی طرف دوسری آخرت کے مراتب پست وبالا کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سوم یلقی الروح کہ اپنے بندوں میں سے وہ جس پر چاہتا ہے روح کا القا کرتا ہے۔ روح سے مراد وحی ہے کہ جس طرح روح سے ابدان کو حیات حاصل ہوتی ہے اسی طرح وحی سے حیات ابدی حاصل ہوتی ہے۔ کما قال و کذلک اوحینا الیک روحامن امرنا اور بعض کہتے ہیں۔ جبرئیل مراد ہیں کما قال نزل بہ الروح الامین علی قلبک مقصد یہ ہے کہ رفع درجات کے لیے یا بندوں کی تدبیرِ آخرت کے لیے اللہ جس پر چاہتا ہے وحی نازل کرتا ہے، اس میں تمہارا اختیار نہیں اور وحی کیوں نازل کرتا ہے۔ لینذر الخ کہ اللہ یا اس کا رسول بندوں کو ملنے کے دن سے ڈراوے کہ ایک دن خدا سے ملنے اور جزاء و سزا ملنے کا بھی دن آنا ہے۔ وہ کون سا دن ہوگا۔ یوم ھم بارزون کہ جس روز بندے قبروں سے نکل کر ظاہر ہوں گے یا کسی ٹیلے یا پردے کی آڑ نہ ہوگی یا کوئی اور اس کے اعمال نہ چھپیں گے، لاتخفی الخ اللہ پر ان کی کوئی بات مخفی نہ ہوگی، اس دن کہا جائے گا کہ آج کس کی حکومت ہے ؟ سب کہیں گے اللہ کی جو اکیلا اور زبردست ہے، اس روز کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ ہر ایک اپنے کئے کا بدلہ جلد پاوے گا۔
Ayahs 40:18–20ترکیب : کا ظمین حال من القلوب و جمع جمع العقلاء للاسناد الیہا مایسندالی العقلاء و قیل باعتبار اہل القلوب لان لامعنی اذ قلوب الناس لدی حناجر ھم فیکون حالا منھم والخائنۃ مصدر کا لعافیۃ والکاذبۃ و الجملۃ خبر آخر عن المبتداً و ھو الذی وفیہ تقدیم و تاخیر ای یعلم الاعین الخائنۃ وقیل الاضافۃ بمعنی من ای الغائبۃ من الاعین۔
تفسیر : اس جگہ قیامت کا دوسرا وصف بیان فرمایا کہ اس سے ہول دلاتا ہے۔ فقال و اندزھم یوم الازفۃ کہ لوگوں کو اس قریب آنے والے دن سے ڈرا آزفۃ بروزن فاعلۃ من ازف الامر اذا ادنا و حضر، یہی لفظ اسی معنی میں ایک اور جگہ بھی آیا ہے۔ از فت الازفۃ لیس لہامن دون اللہ کاشفہ کوئی شاعر کہتا ہے۔ ؎
ازف الترحل غیر ان رکابنا
لمانزل برعالنا وکائن قد
یہ محذوف کی صفت ہے اے یوم القیامۃ الازفۃ اس سے مراد قیامت کا دن ہے، لوگوں کی نظروں میں بعید ہے، مگر یقینا آنے والی چیز ہے اور آنے والی چیز بہت قریب سمجھی جاتی ہے۔ عقلاء کے نزدیک وہ سو کوس پرے کی بلا کو آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں، اس سے مراد موت کا دن ہے جو بہت ہی قریب ہے۔ یہ ابو مسلم کا قول ہے، پھر اس دن کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ اذ القلوب لدی الحناجر کا ظمین کہ وہ بڑی مصیبت اور رنج و محن کا دن ہے کہ دل گھٹ کر گلوں تک آجاویں گے، یہ کنایہ ہے شدت خوف سے جیسا کہ ہمارے محاورہ میں کہتے ہیں ناک میں دم آگیا اور یہ بھی ہوتا ہے کہ شدت غم و الم کے وقت پھیپھڑا پھول کر اوپر کو اٹھ آتا ہے اور اسی میں دل بھی۔ یہ ایک محاورہ کی بات ہے، اس پر اعتراض کرنا جہالت ہے۔
کا ظم اس ساکت اور چپ کرنے والے کو کہتے ہیں جو دل میں تو جوش یا رنج بھرا ہو مگر منہ سے کچھ نہ کہے۔ ما للظالمین من حمیم ولا شفیع یطاع کہ اس روز ظالموں کا نہ کوئی حمایتی و مددگار ہوگا اور نہ کوئی سفارشی کہ جس کی بات ضرور مانی جاوے، جیسا کہ مشرکین اپنے معبودوں کی طرف گمان کرتے ہیں۔ معتزلہ کہتے ہیں ہر کبیرہ ظلم ہے اور ظالم کا کوئی شفیع نہیں، پس ثابت ہوا کہ اہل کبائر کے لیے شفاعت نہ ہوگی بلکہ اہل صغائر کے لیے بھی کیونکہ یہ بھی ظلم ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ظلم سے مراد کفر و شرک ہے اور کفار و مشرکین کو ظالمین کہا گیا، جیسا کہ سیاق دلالت کرتا ہے، البتہ ان کے لیے کوئی سفارشی نہ ہوگا نہ مطاع نہ غیر مطاع۔ یعلم الخ یہ ایک اور دہشت ناک بات بیان فرماتا ہے کہ جس حاکم کے سامنے اس روز ہونا ہوگا وہ ایسا ہے کہ آنکھ کی چوری (چھپا کر بدنظری کرنا جس کا دیکھنا جائز نہیں، اس کو چوری سے یا کن انکھیوں سے دیکھنا) اور دل کے خطرات اور ارادات بھی جانتا ہے، کوئی عمل اس سے مخفی نہیں ہاتھ پائوں وغیرہ اعضاء کا نہ دل کا اور دوسری بات یہ ہے واللہ یقضی بالحق کہ اس روز اللہ ہی فیصلہ و انصاف کرے گا نہ اور کوئی اور انصاف بھی کس طرح سے بےلاگ نہ کسی سے رشوت لے گا نہ کسی سے دبے گا، عدل کرے گا نہ شریف کی شرافت نہ رذیل کی رذالت کو دیکھا جائے گا۔ امیر و غریب ‘ شاہ و گدا برابر ہوں گے اور تیسری بات یہ ہوگی کہ والذین یدعون من دونہ لایقضون بشیئٍ کہ اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ اس دن کی امید پر پکارتے ہیں، کچھ بھی فیصلہ کرنے کے مجاز نہ ہوں گے، چوتھی بات یہ ہے کہ ان اللہ السمیع البصیر اللہ ہر بات سنتا، ہر کام دیکھتا ہے، کوئی بات اس سے مخفی نہیں، برخلاف ان کے معبودوں کے۔
Ayahs 40:21–25تفسیر : منکرین کو عذاب آخرت سے متنبہ کرکے دنیاوی مصیبتوں کا خوف دلاتا ہے، اس لیے کہ وہ سنگدل آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔ پھر وہاں کے عذاب سن کر اور بھی تمسخر کرتے تھے، اس لیے اب ان کو دنیا کی بلائوں سے ڈراتا اور اس کا کامل یقین دلاتا ہے۔ ان سے پہلوں کی ہلاکت اور ان کے آثار باقیہ کو یاد دلاکر جو ان کی آنکھوں کے سامنے موجود تھے۔ اس لیے فرماتا ہے۔ اولم یسیروا کہ کیا ان کفار قریش نے جو یمن و شام میں تجارت کے لیے آیا جایا کرتے ہیں، پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے منکروں کا کیا انجام ہوا جو ان سے زیادہ طاقتور تھے اور بڑے بڑے نشان دنیا میں چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے مکانات اور نشانوں سے زیادہ ان کے نشان تھے۔ اب تک مستحکم قلعے اور ان کے آثار شکستہ ان کے یادگار ہیں، پھر ان کو اللہ نے ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا اور ان کو کوئی نہ بچاسکا، جیسا کہ قوم عاد وثمود و قوم لوط۔ ذلک بانہم یہ مصیبت ان پر صرف اس لیے آئی کہ ان کے رسول ان کے پاس نشانیاں معجزات و آیات لے کر آئے تھے۔ اُنہوں نے ان کا انکار کیا اور بدی سے باز نہ آئے۔ پس اللہ نے ان کو پکڑ لیا اور وہ بڑا زبردست اور سخت سزا دینے والا ہے۔ عذاب دنیوی سے کفار زیادہ ڈرتے ہیں، کس لیے کہ ان کا مقصود اصلی دنیا اور اس کے تجملات ہی ہوتے ہیں، ان پر مصیبت آنے کا تصور بھی ان پر شاق ہوتا ہے۔ ولقد ارسلنا موسیٰ وہ ایک اجمالی بیان تھا، اس کے بعد تفصیل شروع کرتا ہے اور ان سے طاقت ور فرعون کی حقیقت بیان کرتا ہے جو موسیٰ ( علیہ السلام) کے مقابلہ سے کھلی تھی کہ ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف نشانیاں نو معجزے اور کھلی ہوئی حجت اور صداقت کی دلیل دے کر بھیجا تھا۔ اگرچہ موسیٰ ( علیہ السلام) سب قوم کی طرف بھیجے گئے تھے، مگر یہ ان کے سردار تھے، اس لیے ان کا بالتخصیص نام لیا گیا۔ فقالوا ساحر کذاب تو سب نے جھوٹا جادوگر بتایا۔ قارون گو بنی اسرائیل میں سے تھا اور بظاہر اس نے یہ نہ کہا تھا مگر اس کا مقابلہ کرنا جیسا کہ پہلے بیانہ ہوا، گویا زبان حال سے یہ کہہ دینا ہے۔ فلما جائھم بالحق الخ جب قوم فرعون کے پاس موسیٰ ( علیہ السلام) دین حق لے کر آئے تو بجائے اس کے کہ مانتے فرعون نے یہ حکم دے دیا کہ ان بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرو جو موسیٰ ( علیہ السلام) پر ایمان لائے ہیں، ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دو کہ فرعونیوں کے کام میں آویں، یہ دوبارہ حکم تھا جو موسیٰ ( علیہ السلام) کے دین حق لے کر آنے کے بعد ایمان داروں کے برباد و خراب کرنے کے لیے اس لعین نے دیا تھا، مگر اس سے کیا ہوتا کس لیے کہ وما کید الکافرین الا فی ضلال کفار کے سب داؤ اور کل تدبیریں خدا تعالیٰ کی مشیت کے مقابلہ میں کچھ کام نہیں آتیں۔ سب بیکار اور ضائع جاتی ہیں، آخر کار وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ فرعون اور اس کے سردار اور لشکر غارت ہوا، موسیٰ ( علیہ السلام) اور بنی اسرائیل سلامت چلے گئے۔
Ayahs 40:26–31تفسیر : یہ اسی قصہ کا تتمہ ہے کہ فرعون نے لوگوں کی تسلی اور اپنی شوکت جتلانے کے لیے یہ بھی کہا کہ مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ کو قتل کروں اور وہ اپنے رب کو بلاوے ‘ دیکھیں، وہ کیا کرتا ہے اور کیونکر بچاتا ہے۔ (جانتا تھا کہ قتل کروں گا تو بلا آجاوے گی کس لیے کہ معجزات دیکھ چکا تھا، گویا لوگوں نے اس کو قتل سے روک رکھا تھا) یہ اس لیے کہ اگر قتل نہ کروں تو مجھے ڈر ہے کہ تمہارے دین کو بدل دے گا ‘ بت پرستی چھوڑ کر خدا پرستی پر لگا دے گا یا ملک میں فساد برپا کرے گا کہ وہ سرغنہ ہے، بہت لوگ اس کے تابع ہو کر سرکشی اور بغاوت پر آمادہ ہوجائیں گے۔
اس کے جواب میں موسیٰ ( علیہ السلام) نے یہ کہا انی عذت الخ کہ میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں ہوں، ہر ایک متکبر سے جو حساب کے دن سے نہیں ڈرتا، مطلب یہ کہ میرا محافظ اللہ ہے۔ وقال رجل مومن الخ اور فرعون کے خاندان میں سے ایک ایماندار مرد نے جو کہ موسیٰ ( علیہ السلام) پر ایمان لے آیا تھا، مگر فرعون کے ڈر سے اس کو مخفی رکھتا تھا۔ یہ کہا کہ تم ایک شخص کو کیا اس جرم پر قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ اللہ کو اپنا رب کہتا ہے اور حال یہ ہے کہ وہ تمہارے پاس معجزات و نشانیاں لے کر ہی اپنی صداقت پر آیا ہے، یعنی یہ جرم نہیں کہ جس پر قتل کیا جاوے۔ پس اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا وبال اس پر پڑے گا۔ آپ خراب ہوجاوے گا، کس لیے کہ جھوٹے کو فلاح نہیں اور اگر وہ سچا ہے تو فرض کرو کہ کل باتیں نہیں مگر بعض تو ضرور تم پر پڑیں گی کہ جن کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے، وہ شخص دل میں موسیٰ ( علیہ السلام) کو سچا جانتا تھا، مگر ان کے سمجھانے کے لیے اس طریق پر مصلحت آمیز کلام کرتا تھا کہ جو ان کے دل میں اثر کرے بشرطیکہ کچھ عقل سلیم بھی ہو، پھر کہا یا قوم لکم الملک الیوم الخ کہ آج کے دن تمہاری حکومت اور تم کو غلبہ ہے، مگر اس پر گھمنڈنہ کرنا، اگر اللہ کی طرف سے ہم پر اس کے مقابلہ سے کوئی بلا آگئی تو کوئی بھی ہماری مدد کرنے والا نہ ہوگا۔ فرعون نے کہا جو میری رائے ہے، تم پر ظاہر کرتا ہوں اور تم کو اچھی اور عمدہ بات اور سیدھا رستہ بتاتا ہوں، اس مرد خدا نے کہا انی اخاف کہ اگلی قوموں نے جیسا کہ قوم نوح و عاد ثمود اور ان کے بعد تھیں برے کام کئے تھے، برباد ہوگئیں۔ ویسا ہی حال تمہارا ہوتا معلوم ہوتا ہے، اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا، انسان آپ اپنے پائوں پر کلہاڑی مارتا ہے۔
Ayahs 40:32–35تفسیر : یہ اس مومن کا ایک اور قول ہے یا قوم انی اخاف علیکم یوم التناد تناد کو جمہور نے تخفیف دال و حذف یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کی اصل تنادی ہے، باب تفاعل ہے۔ نادیٰ ینادی نداء بمعنی آواز سے مشتق ہے کہ اے قوم ! مجھے تمہاری نسبت آواز دینے کے دن سے ڈر ہے۔ اس سے مراد قیامت کا دن ہے کہ ملائکہ پکاریں گے اور اہل جنت کو ان کے مقامات کی طرف آنے کو کہیں گے یا ایک دوسرے کو مدد کے لیے پکارے گا، جس طرح کہ مصیبت کے وقت پکارا کرتے ہیں اور ممکن ہے کہ اس سے غرض اس کی دنیا میں مصیبت اور ہزیمت کا دن ہو، جس کے آنے کی خبر اس کو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے دی تھی یا اس کو خود سنت اللہ کو دیکھ کر معلوم ہوگیا ہو کہ انبیاء سے مقابلہ کرنے والے ایک روز آسمانی بلا میں گرفتار ہوتے ہیں اور اس مصیبت کے وقت اپنے یار و انصار کو پکارا کرتے ہیں، ان پر بھی وہ دن آنے والا ہے وہ کون سا دن ہے۔ یوم تولون مدبرین وہ کہ جس روز تم پیٹھ دے کر بھاگو گے اور خدا کے قہر سے تم کو کوئی نہ بچاوے گا چناچہ یہ معاملہ بحر قلزم میں غرق ہونے کے دن پیش آیا۔
نصیحت تمام کرکے یہ بھی فرمادیا۔ ومن یضلل اللہ فمالہ من ھاد کہ جس کو اللہ گمراہ کرتا ہے، اس کو کوئی ہدایت نہیں کرسکتا، یعنی اگر تم نے میری نصیحت پر عمل نہ کیا اور نہ کرو گے تمہاری حالت سے معلوم ہوتا ہے تو سمجھ لو کہ تم کو خدا ہی نے گمراہ کردیا۔ پھر میری ہدایت کیا نفع دے سکتی ہے۔ یہ مایوسی کا کلمہ ہے۔ ولقد جاء کم یوسف من قبل الخ یہ بھی اسی مومن کا کلام ہے، بعض کہتے ہیں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا کہ موسیٰ کا نبی ہو کر تمہارے پاس آنا کوئی نئی بات نہیں، ان سے کئی سو برس پہلے فرعون سابق کے عہد میں حضرت یوسف ( علیہ السلام) تمہارے پاس دلائل و معجزات لے کر آئے تھے، انہوں نے بھی مصریوں کو بہت کچھ سمجھایا، بت پرستی سے منع کیا مگر نہ مانا۔ آخر جب ان کا انتقال ہوگیا تو کہنے لگے کہ اب ان کے بعد خدا تعالیٰ کسی رسول کو نہ بھیجے گا، ان کی زندگی میں تو ان کے منکر رہے اور ان کے بعد اور آیندہ آنے والے رسولوں کے منکر ہوگئے اور سلسلہ رسالت کا ہی انقطاع کر بیٹھے۔ یہ بڑی گمراہی اور سخت سرکشی ہے اور ان پر کیا موقوف ہے۔ کذلک یضل اللہ من ھو مسرف مرتاب بلکہ ہر بےہودہ اور حد سے باہر ہونے والے اور شک کرنے والے کو اللہ تعالیٰ یوں ہی گمراہ کردیا کرتا ہے۔ ان کو جو یجادلون الخ اللہ کی آیتوں میں بغیر کسی سند اور دلیل کے ناحق جھگڑا کیا کرتے ہیں جو عنداللہ اور عندالمومنین بڑی نازیبا بات ہے اور اس طرح سے ان کے دلوں پر مہر بھی کردیا کرتا ہے، پھر ان کے دلوں میں حق بات نہیں جاتی، یہ ان کی سرکشی اور تکبر سے ہوتا ہے۔ اس میں قریش مکہ کی طرف اشارہ ہے کہ فرعونیوں پر کیا موقوف ہے، تمہارا بھی یہی حال ہے، پھر جو ان کا انجام ہوا تمہارا بھی ہوگا۔ گو قریش بحر قلزم میں نہ ڈوبے مگر قحط اور قتل بدر کی بلا کے بحر عمیق میں ایسے غرق کئے گئے کہ الٰہی توبہ الٰہی توبہ !