40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsبیان القرآن

Ayahs 40:1–3

حٰمٓۚ Open ayah 40:1 in the Quran reader

حم (ف 3) (اس کے معنی اللہ ہی کو معلوم ہیں) ۔

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

یہ کتاب اتاری گئی ہے اللہ کی طرف سے جو زبردست ہے ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

گناہ کا بخشنے والا ہے اور توبہ کا قبول کرنے والا ہے سخت سزا دینے والا ہے قدرت والا ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اسی کے پاس (سب کو) جانا ہے۔

ف 3۔ یہاں سے سورة احقاف تک متصل سات سورتیں حم سے شروع ہوئی ہیں، اور عجیب لطیفہ ہے کہ ساتوں قرآن مجید کے منزل و موحی من اللہ ہونے کے مضمون سے شروع ہوئی ہیں۔
Ayahs 40:4–5

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کی ان آیتوں میں (یعنی قرآن میں) وہی لوگ (نا حق کے) جھگڑے نکالتے ہیں جو (اس کے منکر ہیں سو ان لوگوں کا شہروں میں (امن وامان سے) چلنا پھرنا آپ کو اشتباہ میں نہ ڈالے۔ (ف 4)

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اور دوسرے گروہوں نے بھی جو ان کے بعد ہوئے (جیسے عاد ثمود وغیرہ ہم دین حق کو) جھٹلا دیا تھا اور ہر امت (میں سے جو لوگ ایمان نہ لائے تھے انہوں) نے اپنے پیغمبر کے گرفتار کرانے کا اردہ کیا اور ناحق کے جھگڑے نکالے تاکہ اس (نا حق) سے حق کو باطل کردیں سو میں نے آخر ان پر داروگیر کی سو (دیکھو میری طرف سے ان کو) کیسی سزا ہوگی۔

ف 4۔ آپ کے اس خطاب سے دوسروں کو سنانا مقصود ہے۔
Ayah 40:6

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح تمام کافروں پر آپ کے پروردگار کا یہ قول ثابت ہوچکا ہے کہ وہ لوگ (آخرت میں) دوزخی ہوں گے۔ (ف 5)

ف 5۔ یعنی یہاں بھی سزا ہوئی اور وہاں بھی ہوگی۔ اسی طرح کفر کے سبب ان کفار حاضرین کو بھی داروگیر اور سزا ہونے والی ہے، خواہ دونوں عالم میں یا آخرت میں۔
Ayah 40:7

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

جو (فرشتے) کہ عرش الہیٰ کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو فرشتے اس کے ارد گرد ہیں وہ اپنے رب کی تسبیح و تمحید کرتے رہتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے (اس طرح) استغفار کیا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار آپ کی رحمت (عامہ) اور علم ہر چیز کو شامل ہے (ف 6) سو ان لوگوں کو بخش دیجیئے جنہوں نے (شرک و کفر سے) توہ کرلی ہے اور آپ کے رستے پر چلتے ہیں اور ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لیجیئے۔ (ف 7)

ف 6۔ پس اہل ایمان پر بدرجہ اولی رحمت ہوگی۔ 7۔ جو کہ مقتضی ہے مغفرت کا کیونکہ سبب عذاب کا ذنوب ہیں، ان کے ارتفاع سے وہ بھی مرتفع ہوجاوے گا۔
Ayah 40:8

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار اور ان کو ہمیشہ رہنے کی بہشتوں میں جن کا آپ نے ان سے وعدہ کیا ہے داخل کر دیجیئے اور ان کے ماں باپ اور بیبیوں اور اولاد میں جو (جنت کے) لائق (یعنی مومن) ہوں ان کو بھی ذرا داخل کر دیجیئے بلا شک آپ زبردست حکمت والے ہیں۔ (ف 1)

ف 1۔ یعنی آپ مغفرت پر قادر ہیں اور ہر ایک کے مناسب اس کو درجہ عطا فرماتے ہیں۔
Ayah 40:9

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور ان کو (قیامت کے دن ہر طرح کی) تکالیف سے بچا لیجیئے (ف 2) اور آپ جس کو اس دن کی تکالیف سے بچا لیں تو اس پر آپ نے (بہت) مہربانی فرمائی اور یہ بڑی کامیابی ہے۔ (ف 3)

ف 2۔ گو وہ جہنم سے خفیف ہو، جیسے میدان قیامت کی پریشانیاں۔ 3۔ یعنی مغفرت و حفاظت عذاب اکبر و اصغر سے اور دخول جنت بڑی چیز ہے۔
Ayah 40:10

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے (اس وقت) انکو پکارا جاوے گا کہ جیسی تم کو (اس وقت) اپنے سے نفرت ہے اس سے بڑھ کر خدا کو (تم سے) نفرت تھی جب کہ تم (دنیا میں) ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے پھر تم نہیں مانا کرتے تھے۔ (ف 4)

ف 4۔ اس کہنے سے مقصود تحییر و تندیم ہے۔
Ayah 40:11

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار آپ نے ہم کو دو بار مردہ رکھا اور دو بار زندگی دی (ف 5) سو ہم اپنی خطاؤں کا اقرار کرتے ہیں تو کیا (یہاں سے) نکلنے کی کوئی صورت ہے۔

ف 5۔ دو بار مردہ رکھا، یعنی ایک بار قبل تولد، جبکہ حالت جمادیت میں تھے، جس میں جان متعارف نہیں ہوتی، اور دوسری بار جس کو سب موت کہتے ہیں، اور دو بار زندگی دی، یعنی ایک دنیا کی زندگی دوسری آخرت کی۔ (فائدہ) یہ سب چار حالتیں ہوئیں، گو ان میں انکار ایک ہی کا تھا، اور اسی کا اقرار اس وقت مقصود ہے، لیکن بقیہ تین حالتیں اس لئے ذکر کردیں کہ وہ یقینی تھیں۔ پس مقصود یہ ہوگا کہ یہ رابعہ بھی مثل ان ہی ثلثہ کے متیقن و متحقق ہے۔
Ayahs 40:12–18

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

وجہ اس کی یہ ہے کہ جب صرف اللہ کا نام لیا جاتا تھا تو تم انکار کیا کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے تھے سو (اس پر) یہ فیصلہ اللہ کا ہے جو عالیشان (اور) بڑے رتبہ والا ہے۔ (ف 6)

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھلاتا ہے اور (وہی ہے) جو آسمانوں سے تمہارے لیے رزق پہنچاتا ہے اور صرف وہی شخص نصیحت قبول کرتا ہے جو (خدا کی طرف) رجوع (کرنے کا ارادہ) کرتا ہے۔

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

سو تم لوگ خدا کو خالص اعتقاد کر کے پکارو گو کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ ہو۔

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہ رفیع الدرجات ہے وہ عرش کا مالک ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی یعنی اپنا حکم بھیجتا ہے تاکہ (وہ صاحب وحی لوگوں کو) اجتماع کے دن (یعنی قیامت کے دن) سے ڈرائے۔

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس دن سب لوگ (خدا کے سامنے آموجود ہوں گے کہ) ان کی بات خدا سے مخفی نہ رہے گی آج کے روز کس کی حکومت ہوگی بس اللہ ہی کی ہوگی جو یکتا (اور) غالب ہے۔

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج ہر شخص کو اس کے کہنے کا بدلہ دیا جائے گا آج (کسی پر) کچھ ظلم نہ ہوگا اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور آپ ان لوگوں کو ایک قریب آنے والے مصیبت کے دن سے (کہ روز قیامت ہے) ڈرائیے جس وقت کلیجے منہ کو آ جاویں گے (اور غم سے) گھٹ گھٹ جاویں گے (اس روز) ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی ہوگا جس کا کہنا مانا جاوے گا۔

(ف 6) یعنی چونکہ حق تعلای کے علو و کبریاء کے اعتبار سے یہ جرم عظیم تھا اس لئے فیصلہ میں عقوبت بھی عظیم تجویز ہوئی، یعنی خلود۔
Ayah 40:19

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

وہ (ایسا ہے کہ) آنکھوں کی چوری کو جانتا ہے اور ان (باتوں) کو بھی جو سینوں میں پوشیدہ ہیں۔ (ف 1)

ف 1۔ مطلب یہ کہ اس کو تمام اعمال عباد کا احاطہ علمیہ ہے جس پر مجازات موقوف ہے۔
Ayah 40:20

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا اور خدا کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کسی طرح کا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے کیوں کہ اللہ ہی سب کچھ سننے والا سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ (ف 2)

ف 2۔ اس سے دو باتیں ثابت ہوئیں، ایک عجز انداد کا نصرت سے، دوسرے نفی شرکت کی۔
Ayah 40:21

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ جو (کافر) لوگ ان سے پہلے گذرے ہیں ان کا کیسا انجام ہوا وہ لوگ قوت اور ان نشانوں میں جو کہ زمین پر چھوڑ گئے ان سے بہت زیادہ تھے سو ان کے گناہوں کی وجہ سے خدا نے ان پر داروگیر فرمائی (ف 3) اور ان کا کوئی خدا (کے عذاب سے) بچانے والا نہ ہوا۔

ف 3۔ یعنی عذاب نازل کیا۔
Ayahs 40:22–23

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

یہ (مواخذہ) اس سبب سے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں (ف 4) لے کر آتے رہے پھر انہوں نے نہ مانا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر مواخذہ فرمایا بیشک وہ بڑی قدرت والا سخت سزا دینے والا ہے۔ (ف 5)

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے احکام اور کھلی دلیل کے ساتھ۔

ف 4۔ یعنی معجزات کہ دلائل نبوت ہیں۔ 5۔ پس جب علت مواخذہ کی کفر و شرک ہے جو ان میں بھی مشترک ہے، پھر یہ مواخذہ سے کیسے مامون ہیں، خواہ دارین میں خواہ دار آخرت میں۔
Ayah 40:24

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

فرعون اور ہامان (علیہ السلام) اور قارون کے پاس بھیجا تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ جادوگر (اور) جھوٹا ہے۔ (ف 6)

ف 6۔ جادوگر معجزہ میں کہا اور کذاب دعوائے نبوت و احکام میں کہا۔
Ayahs 40:25–27

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

پھر (اس کے بعد) جب وہ (عام) لوگوں کے پاس دین حق جو ہماری طرف سے تھا لے کر آئے تو ان (مذکور) لوگوں نے (بطور مشورہ کے) کہا کہ جو لوگ انکے ساتھ ایمان لائے ان کے بیٹوں کو قتل کر ڈالو اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دو اور ان کافروں کی تدبیر محض بےاثر رہی۔ (ف 7)

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور فرعون نے (اہل دربار سے) کہا کہ مجھ کو چھوڑو میں موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کر ڈالوں اور اس کو چاہئیے کہ رب کو (مدد کے لیے) پکارے مجھ کو اندیشہ ہے کہ وہ (کہیں) تمہارا دین (نہ) بدل ڈالے یا ملک میں کوئی خرابی (نہ) پھیلا دے۔

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے (جب یہ بات سنی تو) کہا کہ میں تو اپنے اور تمہارے (یعنی سب کے) پروردگار کی پناہ لیتا ہوں ہر خر دماغ شخص (کے شر) سے جو روز حساب پر یقین نہیں رکھتا۔

ف 7۔ چناچہ آخر میں موسیٰ (علیہ السلام) غالب آئے۔
Ayah 40:28

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اور ( اس مجلس مشورہ میں) ایک مومن شخص نے جو کہ فرعون کے خاندان سے تھے (اور اب تک) اپنا ایمان پوشیدہ رکھتے تھے کہا کیا تم ایک ایسے شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے (اس دعوے پر) دلیلیں (بھی) لے کر آیا ہے (ف 8) اور اگر (بالفرض) وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہوا تو وہ خود کچھ پیش گوئی کر رہا ہے اس میں سے کچھ تو تم پر (ضرور ہی) پڑے گا (ف 1) اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو مقصود تک نہیں پہنچاتا جو اپنی حد سے گزر جانے والا بہت جھوٹ بولنے والا ہو۔

ف 8۔ یعنی معجزات بھی دکھلاتا ہے، جو دلیل ہے صدق دعوائے نبوت اور مامور من اللہ بتبلیغ التوحید ہونے کی، اور دلیل موجود ہوتے ہوئے صاحب دلیل کی مخالفت کرنا اور مخالفت بھی اس درجہ کی کہ قتل کا قصد کیا جاوے نہایت نازیبا ہے۔ 1۔ غرض اس کے کذب کی صورت میں قتل فضول اور صدق کی صورت میں مضر، پھر ایسا فعل کیوں کیا جاوے۔
Ayahs 40:29–30

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے میرے بھائیو آج تو تمہاری سلطنت ہے کہ اس سر زمین میں تم حاکم ہو سو خدا کے عذاب میں ہماری کون مدد کرے گا اگر (ان کے قتل کرنے سے) وہ ہم پر آ پڑا فرعون نے (یہ تقریر سن کر جواب میں) کہا کہ میں تو تم کو وہی رائے دوں گا جو خود سمجھ رہا ہوں (کہ ان کا قتل ہی مناسب ہے) اور میں تم کو عین طریق مصلحت بتلاتا ہوں۔ (ف 2)

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

اور اس مومن نے کہا صاحبو مجھ کو تمہاری نسبت اور امتوں کے سے روز بد کا اندیشہ ہے۔

ف 2۔ اس مومن نے جب دیکھا کہ نصیحت میں نرمی اور رعایت خیال مخاطب یعنی تلطیف سے کام نہیں چلتا تو اب تہدید و تخویف سے کام لیا۔
Ayah 40:31

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

جیسا قوم نوح (علیہ السلام) اور عاد (علیہ السلام) اور ثمود (علیہ السلام) اور ان کے بعد والوں (یعنی قوم لوط وغیرہ) کا حال ہوا تھا اور خدائے تعالیٰ تو بندوں پر کسی طرح کا ظلم نہیں کرنا چاہتا۔ (ف 3)

ف 3۔ یہ تہدید تھی عذاب دنیا سے، آگے تہدید ہے عذاب آخرت سے۔
Ayahs 40:32–34

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اور صاحبو مجھ کو تمہاری نسبت اس دن سے اندیشہ ہے جس میں کثرت سے سزائیں ہوں گی۔ (ف 4)

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جس روز (موقف حساب سے) پشت پھیر کر (دوزخ کی طرف) لوٹو گے اور (اس وقت) تم کو خدا سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا اور جس کو خدا ہی گمراہ کرے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں۔

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اور اس کے قبل تم لوگوں کے پاس یوسف (علیہ السلام) دلائل (توحید و نبوت کے) لے کر آ چکے ہیں سو تم ان امور میں بھی برابر شک ہی میں رہے جو وہ تمہارے پاس لے کر آئے تھے حتیٰ کہ جب ان کی وفات ہوگئی تو تم لوگ کہنے لگے کہ بس اب اللہ کسی رسول کو نہ بھیجے گا اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ سے باہر ہوجانے والوں (اور) شبہات میں گرفتار رہنے والوں کو غلطی میں ڈالے رکھتا ہے۔

ف 4۔ یعنی وہ دن مشتمل ہے واقعات عظیمہ پر، کیونکہ نداوں کی کثرت واقعات کے عظیم ہونے میں ہوتی ہیں۔
Ayahs 40:35–37

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

جو بلا کسی سند کے ان کے پاس موجود ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑے نکالا کرتے ہیں اس (کج بحثی) سے خدا تعالیٰ کو بھی بڑی نفرت ہے اور مومنین کو بھی اور اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر مغرور جابر کے پورے قلب پر مہر کردیتا ہے۔ (ف 5)

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا اے ہامان میرے واسطے ایک بلند عمارت بناواؤ شاید میں آسمان پر جانے کی راہوں تک پہنچ جاؤں۔

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

پھر (وہاں جا کر) موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کو دیکھوں بھالوں اور میں تو موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں اور اسی طرح (فرعون کی اور) بدکرداریاں (بھی) اس کو مستحسن معلوم ہوئی تھیں اور (سیدھے) راستوں سے رک گیا اور فرعون کی (ہر) تدبیر غارت ہی گئی۔

ف 5۔ اس لئے اس میں اصلا گنجائش حق فہمی کی نہیں رہتی۔ (فائدہ) یہ تقریر تھی ان مومن بزرگ کی اور اس تقریر سے ان بزرگ کا کتمان ایمان جاتا رہا۔