40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsبیان القرآن

Ayahs 40:77–79

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

(اور جب ان سے اس طرح کا انتقام لیاجاوے گا) تو آپ (چندے) صبر کیجیئے بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے پھر جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں اس میں سے کچھ تھوڑا سا (عذاب) اگر ہم آپ کو دکھلا دیں (ف 4) یا (اس کے نزول کے قبل ہی) ہم آپ کو وفات دے دیں سو ہمارے پاس ان کو آنا ہوگا۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے بہت سے پیغمبر بھیجے جن میں بعضے تو وہ ہیں کہ ان کا قصہ ہم نے آپ سے بیان کیا ہے اور بعضے وہ ہیں جن کا ہم نے آپ سے قصہ بیان نہیں کیا اور (اتنا امر سب میں مشترک ہے کہ) کسی رسول سے یہ نہ ہوسکا کہ کوئی معجزہ بدون اذن الہیٰ کے ظاہر کرسکے پھر جس وقت اللہ کا حکم (نزول عذاب کے لیے) آوے گا ٹھیک ٹھیک فیصلہ ہوجاوے گا اور اسوقت اہل باطل خسارہ میں رہ جاویں گے۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے مویشی بنائے تاکہ انمیں بعض سے سواری لو اور ان میں بعض (ایسے ہیں کہ ان) کو کھاتے بھی ہو۔

ف 4۔ یعنی آپ کی حیات میں ان پر اس کا نزول ہوجائے۔
Ayah 40:80

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

اور تمہارے ان میں اور بھی بہت فائدے ہیں (ف 1) اور (اس لیے بنائے) تاکہ تم ان پر اپنے مطلب تک پہنچو جو تمہارے دلوں میں ہے اور ان پر (بھی) اور کشتی پر (بھی) لدے لدے پھرتے ہو۔

ف 1۔ مثلا ان کے بال اور اون کام آتی ہے۔
Ayah 40:81

وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ١ۖۗ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ Open ayah 40:81 in the Quran reader

اور (ان کے علاوہ) تم کو اپنی ہی نشانیاں دکھلاتا رہتا ہے (ف 2) سو تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نشانیوں سے انکار کروگے۔

ف 2۔ چناچہ ہر مصنوع اس کی صنعت پر ایک نشان ہے۔
Ayah 40:82

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 40:82 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ جو (مشرک) لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا کیا انجام ہوا (ف 3) (حالانکہ) وہ لوگ ان سے زیادہ تھے اور قوت اور نشانوں میں (بھی) جو کہ زمین پر چھوڑ گئے ہیں بڑھے ہوئے تھے سو ان کی (یہ تمام تر) کمائی ان کے کچھ بھی کام نہ آئی۔ (ف 4)

ف 3۔ یعنی کیا ان کو شرک کے وبال کی خبر نہیں۔ 4۔ کیونکہ وہ عذاب الہی سے نہ بچ سکے۔
Ayahs 40:83–84

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 40:83 in the Quran reader

غرض جب ان پیغمبر ان کے پاس کھلی دلیلیں لے کر آئے تو وہ لوگ اپنے (اس) علم (معاش) پر بڑے نازاں ہوئے جو ان کو حاصل تھا (ف 5) اور ان پر وہ عذاب آ پڑا جس کے ساتھ تمسخر کرتے تھے۔

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ Open ayah 40:84 in the Quran reader

پھر جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو کہنے لگے (اب) ہم خدائے واحد پر ایمان لائے اور ان سب چیزوں سے ہم منکر ہوئے جن کو ہم اس کے ساتھ شریک ٹھیراتے تھے۔

ف 5۔ یعنی معاش کو مقصود سمجھ کر اور اس میں جو ان کو لیاقت حاصل تھی اس پر خوش ہوئے، اور معاد کا انکار کر کے اس کی طلب کو دیوانگی اور اس کے انکار پر وعید عذابی کو مایہ تمسخر ٹھہرایا۔
Ayah 40:85

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 40:85 in the Quran reader

سو ان کو انکا ایمان لانا نافع نہ ہوا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا (ف 6) اللہ تعالیٰ نے اپنا یہی معمول مقرر کیا ہے جو اس کے بندوں میں پہلے سے ہوتا چلا آیا ہے اور اس وقت کافر خسارہ میں رہ گئے۔ (ف 7)

ف 6۔ کیونکہ وہ ایمان اضطراری تھا، اور عبد مکلف ہے ایمان اختیاری کا۔ 7۔ پس ان مشرکین کو بھی یہ سب مضامین سمجھ کر ڈرنا چاہئے، ان کے لئے ابھی وقت ہے پھر کچھ تلافی نہ ہوسکے گی۔ (مسئلہ) جب عذاب آخرت و ملائکہ نظر آجاویں، پھر اس وقت ایمان لانا مقبول نہیں، اور اس کو ایمان باس کہتے ہیں۔