40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 40:1

حٰمٓۚ Open ayah 40:1 in the Quran reader

حا۔ میم،1۔

1۔ (آیت) ” حم ٓ “۔ حروف مقطعات کے لیے ملاحظہ ہو سورة البقرۃ کا حاشیہ (آیت) ” ا آآ “۔ پر۔ ابن عباس ؓ صحابی سے اس کے تین معنی نقل ہوئے ہیں، ایک یہ کہ یہ اللہ کا اسم اعظم ہے، دوسرا یہ کہ یہ قسم کے معنی میں ہے تیسرا یہ کہ الرحمن کا مخفف ہے اور یہی قول زجاج لغوی کا بھی ہے (روح) سعید بن جبیر (رح) تابعی اور عطاء خراسانی سے مروی ہے کہ ح مخفف ہے اسماء الہی حکیم۔ حمید۔ حی۔ حلیم۔ حنان، کا اور م مخفف ہے اسماء الہی۔ ملک۔ مجید۔ منان۔ کا (معالم)
Ayahs 40:2–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

یہ کتاب اتاری گئی ہے اللہ کی طرف سے جو زبردست ہے، علم والا ہے

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

گناہ کا بخشنے والا ہے اور توبہ کا قبول کرنے والا ہے سخت سزا دینے والا ہے قدرت والا ہے اس کے سوا کوئی خدا نہیں، اسی کے پاس (سب کو) جانا ہے،2۔

2۔ قرآن مجید کے نازل کرنے والے کے اسماء صفات قرآن مجید میں کسی اور جگہ بجز سورة حشر کے آخر کے یکجانہ ملیں گے۔ اور ان میں سے ہر صفت قابل غور ولحاظ ہے۔ (آیت) ’ العزیز “۔ وہ غلبہ والا ہے۔ ہر چیز پر قادر۔ جو چاہے کر ڈالے۔ (آیت) ” العلیم “۔ صاحب علم کامل ہے۔ جس پر کتاب اتاری ہے، اس سے اور جس غرض سے اتاری ہے اس سے، جو ان کے مخاطب ہیں، ان سے جو اور جس غرض سے اتاری ہے اس سے، جو ان کے مخاطب ہیں، ان سے، جو اور جتنی بھی اس کے اندر حکمتیں اور مصلحتیں رکھ دی ہیں ان سے، غرض ان سب سے خوب واقف ہے۔ (آیت) ” غافر الذنب “۔ گناہوں کو محض اپنے ارادہ ومشیت سے بخش دینے والا نہ کسی قانون عدل سے مجبور نہ ” کفارہ “۔ کا محتاج۔ (آیت) ” قابل التوب “۔ وہ توبہ قبول کرسکتا ہے جس گناہ سے اور جب چاہے۔ وہ معطل اور محدود الاختیار خدا نہیں۔ (آیت) ” شدید العقاب “۔ حسب ضرورت ومصلحت سزا بھی شدید ترین دے سکتا ہے۔ سوڈرنا اسی کی نافرمانی سے چاہیے۔ (آیت) ” ذی الطول “۔ بڑی قدرت والا ہے۔ (آیت) ” لا الہ الا ھو “۔ وہ ہر طرح واحد، متفرد بلاشریک ہے۔ (آیت) ” الیہ المصیر “۔ سب کا مرجع ومنتہی وہی ہے، یہ نہیں کہ کوئی اس کے حضور میں آنے سے بچ جائے، سابقہ سب کو صرف اسی سے پڑنا ہے۔
Ayah 40:4

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

اللہ کی آیتوں میں بس وہی لوگ جھگڑے نکالتے ہیں جو کافر ہیں سو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا کہیں آپ کو دھوکے میں نہ ڈال دے،3۔

3۔ (کہ یہ باوجود انکار شدید وعناد کے جب اس آزادی اور فارغ البالی کے ساتھ تجارت، حکومت، سیر و تفریح کے لیے زمین پر چل پھر رہے ہیں تو کہیں ایسا تو نہیں کہ سزا سے ہمیشہ ہی کے لیے بچ جائیں) منکروں ملحدوں اور مشرکوں کی ظاہری کامیابیاں، کامرانیاں، ترقیاں آج بھی کمزور مسلمانوں کے دلوں میں کیسی مرعوبیت اور ان کی آنکھوں میں کیسی خیر گی پیدا کیے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” ما ..... کفروا “۔ توحید، معاد، رسالت کے بنیادی عقیدوں سے انکار کرنا کسی سلیم الفطرت انسان کا کام تو نہیں ہوسکتا۔ ان سے انکار تو بس وہی لوگ کرتے ہیں۔ جن کی فطرت ہی مسخ ہوچکی ہے۔ (آیت) ” مایجادل “۔ کے ظاہر سے کہیں یہ نہ سمجھ لیاجائے کہ جدال اپنی مطلق صورت میں ممنوع و مذموم ہے۔ جدال ممنوع صرف وہ ہے جو باطل کی نصرت وحمایت میں ہو۔ باقی جو جدال حق کی نصرت وحمایت میں اور طریق صحیح پر ہو وہ تو عین مطلوب ہے جیسا کہ متعدد آیتوں میں یہ صراحت ہے، وجادلھم بالتیھی احسن اور (آیت) ” وجدلوابالباطل لیدحضوابہ الحق “۔ وغیرھا۔ فاما الجدال فیھا لایضاح ملتبسھا وحل مشکلھا واستنباط معانیھا ورد اھل الزیغ بھا اعظم جھاد فی سبیل اللہ (مدارک)
Ayah 40:5

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان سے قبل قوم نوح تکذیب کرچکی ہے اور ان کے بعد کے گروہ بھی اور ہر امت نے اپنے پیغمبر کے گرفتار کرنے کا قصد کیا، اور ناحق کے جھگڑے نکالے، تاکہ اس ناحق سے حق کو دبالیں سو میں نے ان کی گرفت کی سو میری طرف سے انہیں کیسی سزا ملی،4۔

4۔ (سو یہ ساری پچھلی تاریخ انبیاء عبرت اور سبق حاصل کرنے کے لیے ہے) (آیت) ” وھمت ...... لیاخذوہ “۔ یعنی ہر قوم نے یہی چاہا کہ اپنے پیغمبر کو پکڑ کر قید یا قتل یا جلاوطن کردے۔ (آیت) ” امۃ “۔ امت سے یہاں ظاہر ہے کہ منکرین امت مراد ہیں۔ (آیت) ” الاحزاب من بعدھم “۔ مراد منکرین کے وہ گروہ اور جتھے ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے کے بعد گزرے ہیں۔ قوم عاد، قوم ثمود وغیرہا۔
Ayah 40:6

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح آپ کے پروردگار کی بات (تمام کافروں پوری ہوچکی کہ وہ اہل دوزخ ہوں گے،5۔

5۔ یعنی جس طرح یہاں سزا ملی، آخرت میں بھی سزا مل کر رہے گی۔
Ayah 40:7

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

جو (فرشتے) کہ عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو (فرشتے) اس کے گردا گرد ہیں وہ اپنے پروردگار کی تسبیح حمد کے ساتھ کرتے رہتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے استغفار کیا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور علم ہر چیز کو شامل ہے،6۔ سو تو ان لوگوں کو بخش دے جنہوں نے توبہ کرلی اور تیرے راستہ پر چلتے ہیں، انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا دے،7۔

6۔ (سو ان کا ایمان تو تجھ پر بدرجہ اولی روشن ہوگا، اور تو انہیں اپنی رحمت سے بدرجہ اولی سرفراز کرے گا) (آیت) ” یستغفرون للذین امنوا “۔ اللہ اللہ ! ان مومنین کے مرتبہ قرب کا کیا ٹھکانا جس کے حق میں ملائکہ، مقربین استغفار کرتے رہتے ہیں، محققین نے یہیں سے یہ بھی نکالا ہے کہ مومنین کے حق میں دعائے خیر شعار ملائکہ اور موجب قرب و قبول ہے۔ وفیہ اشارۃ الی شرف الایمان وجلالۃ قدر ال مومنین والی انہ ینبغی لل مومنین من بنی ادم ان یستغفر بعضھم لبعض (روح) اس میں اشارہ ہے ایمان اور اہل ایمان کی عظمت و جلالت کی طرف اور اس طرف بھی کی مومنین کو ایک دوسرے کے حق میں دعائے مغفرت کرتے رہنا چاہیے :۔ (آیت) ” ویستغفرون للذین امنوا “۔ فقہاء نے یہاں سے یہ نتیجہ بھی نکالا ہے کہ جب ایمان مشترک ہو تو شفقت وخیر اندیشی کا تقاضا یہی ہے کہ ان لوگوں کے حق میں دعاء کی جائے اگرچہ دوسری قوم اور ملک کے لوگ ہوں۔ وفیہ دلیل علی ان الاشتراک فی الایمان یجب ان یکون ادعی شئی الی النصیحۃ والشفقۃ وان تباعدت الاجناس والاماکن (مدارک) (آیت) ” یؤمنون بہ “۔ اس پر سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ جب فرشتوں کی تسبیح وحمد کا ذکر آہی چکا تھا تو پھر اب ان کے ایمان کی تصریح کی کیا حاجت تھی ؟ زمخشری ” صاحب کشاف “ نے کہا ہے کہ یہ ایمان ملائکہ کا تذکرہ موقع مدح پر آیا ہے لیکن حاملان عرش اگر مشاہدہ حضرت حق کے بعد ایمان رکھے ہوتے تو اس میں کوئی بات خاص مدح وتحسین کی نہ تھی۔ یہ تو ایسا ہی تھا جیسا کوئی دن دہاڑے آفتاب روشن کو دیکھ کر اس کے وجود کا قائل ہو۔ مدح کی توجیہ بھی یہی ہے کہ رویت ومشاہدہ ان ملائکہ کو بھی نصیب نہیں اور ان کا ایمان تمامتر دلائل و شواہد پر مبنی ہے۔ امام رازی (رح) اس قول کو نقل کرنے کے بعد کمال فراخ دلی سے لکھتے ہیں :۔ رحم اللہ صاحب الکشاف فلولم یحصل فی کتابہ الاھذہ النکتۃ لکفاہ فخرا وشرفا۔ اللہ صاحب کشاف پر رحمت کرے اپنی کتاب میں اس ایک نکتہ کے سوا اور کچھ نہ لکھتے جب بھی ان کے فخر وشرف کے لیے کافی تھا۔ بیشک حق تعالیٰ کی شان تنزیہ ہے ایسی ہی عالی کہ اہل ناسوت کا کیا ذکر ملائکہ حاملان عرش تک اسے اپنے حواس کی گرفت میں نہیں لاسکتے۔ 7۔ اور یہی معنی ہیں مغفرت کے۔ (آیت) ” للذین تابوا “۔ یعنی کفر وشرک سے توبہ کرلے۔ عذاب کا سبب تو ذنوب ومعاصی ہی ہوتے ہیں جب وہ رفع ہوگئے تو عذاب بھی رفع ہوگیا۔
Ayah 40:8

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار انہیں ہمیشگی کی بہشتوں میں داخل کردے جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو (بہشت کے) لائق ہوں سو انہیں بھی (داخل کردے) ،8۔ بیشک تو تو زبردست ہے حکمت والا ہے،9۔

8۔ (گو وہ ان کے درجہ و مرتبہ کے قائل نہ ہوں) (آیت) ” من صلح “۔ کا ٹکڑا قابل لحاظ ہے، ملائکہ کی دعائے علومراتب مومنین کے اعزہ کے حق میں مطلق صورت میں نہ ہوگی بلکہ صرف انہیں کے حق میں ہوگی جن میں جنت کی صلاحیت ہوگی، یعنی اہل ایمان کے۔ کافر تو وہی ہے جو اپنے لیے بہشتی ہونے کی صلاحیت ہی کو فناء کردیتا ہے اور یہ جو حدیث میں آیا ہے کہ آخرت میں کسی کا نسب اس کے کام نہ آئے گا وہاں مراد ہے کہ عدم ایمان کی حالت میں (مدارک، جصاص، ابن العربی) 9۔ ہر درجہ تقرب ومغفرت کے عطا پر قادر ہے اور ہر ایک کو اس کے مناسب حال ہی درجہ عطا کرتا ہے۔
Ayah 40:9

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور انہیں تکلیفات سے بچا لے اور تو نے جس کو اس دن کی تکالیف سے بچا لیا اس پر تو نے (بڑی) مہربانی کی اور یہی بڑی کامیابی ہے،10۔

10۔ (جس کے سامنے ساری دنیوی کامیابیاں بست، عارضی اور ہیچ ہیں) خوب خیال رہے قرآن مجید نے مقصود اعظم اسی نجات اخروی اور دخول جنت کو بتایا ہے اس کے علاوہ اور جتنے مقاصد ہیں سب پست اور محض ضمنی ہیں۔ (آیت) ” وقھم السیات “۔ یعنی علاوہ دوزخ کے عذاب اعظم کے اور بھی روز قیامت کی ہر تکلیف سے بھی بچالے۔ (آیت) ” السیات “۔ کے معنی جزاء السیات کے سمجھے گئے ہیں۔ وقیل التقدیر قھم عذاب السیات (قرطبی) ومن تق السیات اے جزاء ھا (بحر)
Ayah 40:10

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

یقیناً جو لوگ کافر ہیں انہیں پکارا جائے گا کہ جیسی تم کو اپنے سے نفرت ہے اس سے بڑھ کر اللہ کو تم سے نفرت تھی جبکہ تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے اور تم انکار کرتے تھے،11۔

11۔ یہ اس وقت کا نقشہ ہے جب کافر دوزخ میں داخل ہو کر خوداپنے اوپر نفریں اور غصہ کریں گے کہ دنیا میں ہم کیسے اندھے ہوگئے تھے۔ اور اس ندا سے مقصود اس وقت ان کی حسرت وندامت میں اور اضافہ کرنا ہوگا۔
Ayah 40:11

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو بار مردہ رکھا اور دو بار زندگی دی سو ہم اپنی خطاؤں کا اقرار کرتے ہیں تو کیا کوئی صورت ہے نکلنے کی،12۔

12۔ (اور دنیا میں دوبارہ جاکر اپنی خطاؤں کے تدارک وتلافی کی) ظاہر ہے کہ یہ درخواست قبول نہ ہوگی اور اہل جن ہم پر یاس کامل طاری ہوکر رہے گی۔ (آیت) ” فاعترفنا بذنوبنا “۔ اس میں یہ اعتراف بھی آگیا کہ جس زندگی سے ہمیں انکار تھا۔ اس کا خود مشاہدہ و تجربہ ہوگیا۔ (آیت) ” امتنا اثنتین “۔ دو مردہ حالتوں میں سے ایک تو یہی موت متعارف ہے۔ دو سے قبل ولادت کی بےجان حالت یا جمادیت کی حالت۔ (آیت) ” احییتنا اثتین “۔ دوزندگیاں، یعنی ایک زندگی دنیا کی، دوسری آخرت کی۔
Ayah 40:12

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

وجہ اس (سزائے دائمی) کی یہ ہے کہ جب صرف اللہ کا نام لیا جاتا تھا تو تم انکار کیا کرتے تھے اور اگر اس کیساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے تھے، سو فیصلہ تو اللہ کا ہے جو عالیشان ہے بڑے رتبے والا ہے،13۔

13۔ (سوانکار کی سزا بھی اسی حاکم مقتدر کی جلالت قدرومرتبہ کے لحاظ سے ملے گی) (آیت) ” اذا ..... تؤمنوا “۔ بس یہی خلاصہ ہے دین شرک کا، خدا کے وجود سے مشرکوں کو انکار نہیں، انکار صرف اس کے خدائے واحد ہونے سے ہے۔ اسے خدائے اعظم کی حیثیت سے مانا جائے اور دوسرے چھوٹے چھوٹے خداؤں کی حیثیت تسلیم کرلی جائے تو ان مشرکوں کو بھی تامل نہ رہے۔
Ayah 40:13

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہ وہی ہے جو اپنی نشانیاں تمہیں دکھاتا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے رزق اتارتا ہے،14۔ اور نصیحت تو بس وہی قبول کرتا ہے جو (اللہ سے) رجوع کرتا رہتا ہے

14۔ (جو دلیل ہے اس کی کہ وہ رب اور منعم بھی ہے) (آیت) ’ ’ ایتہ “۔ یعنی نشانیاں اپنی قدرت و توحید کی۔
Ayah 40:14

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

سو تم لوگ اللہ کو پکارو اس سے خالص اعتقاد رکھ کر گو کافروں کو ناگوار ہو،15۔

15۔ یعنی ہر شائبہ شرک سے اور ہر آمیزش کفر سے پاک صاف ہو کر حق تعالیٰ کو پکارو اور یہ توحید خالص ہی تو کافروں کو شاق گزرتی ہے۔ (آیت) ” وما یتذکر الا من ینیب “۔ یعنی پندونصیحت کارگر اسی کے حق میں ہوتی ہے جو حق تعالیٰ کی طرف قصد رجوع رکھتا ہو۔ غور وتامل اسی قصد رجوع سے پیدا ہوتا ہے۔ اور وہی حق تعالیٰ تک پہنچا دیتا ہے۔
Ayah 40:15

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہ مرتبوں کو بلند کرنے والا ہے مالک عرش کا ہے وہ بندوں میں سے جس پر چاہے وحی یعنی اپنا حکم بھیجتا ہے تاکہ یوم الاجتماع سے ڈرائے،16۔

16۔ (آیت) ” یوم التلاق “۔ مراد ظاہر ہے کہ یوم آخرت سے ہے۔ (آیت) ” رفیع الدرجت “۔ یہاں رافع الدرجات کے معنی میں ہے۔ یعنی بندوں کے درجات و مراتب کا بڑھانے والا، رافع درجات الانبیاء والاولیاء فی الجنۃ (معالم) اے رافع درجات ال مومنین ومنازلھم فی الجنۃ (بحر) بعض نے مرتفع الدرجات کے معنی میں لیا ہے۔ یعنی صفات عظیم وبلند رکھنے والا، یحتمل ان یکون المراد منہ الرافع وان یکون المراد منہ المرتفع (کبیر) (آیت) ” ذوالعرش “۔ لفظی معنی ہوئے عرش والا، اس سے یہ مراد نہیں کہ نعوذ باللہ اللہ میاں عرش کے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں، حق تعالیٰ ہر جسمیت، ہر مکانیت سے پاک و برتر ہیں، مراد صرف یہ ہے کہ وہ اس کا بھی مالک اس کا خالق اور اس پر ہر طرح قادر ہے۔ ومعناہ انہ مالک العرش ومتدبرہ وخالقہ (کبیر) اے خالقہ ومال کہ لاانہ محتاج الیہ (قرطبی) اور مقصود اس سے اس کے کمال قدرت اور منتہائے ہیبت کا اظہار ہے۔ والفائدۃ فی تخصیص العرش بالذکر ھو انہ اعظم الاجسام (کبیر) (آیت) ” الروح “۔ سے مراد وحی ہے۔ الروح من امرہ اے الوحی من امرہ (ابن جریر، عن قتادۃ) اختلفوا فی المراد بھذا الروح والصحیح ان المراد ھو الوحی (کبیر) سماہ روحا لانہ تحیابہ القلوب کما تحیا الابدان (معالم) اے الوحی والنبوۃ وسمی ذلک روحا لان الناس یحیون بھا (قرطبی) دوسرے معنی قرآن و کتاب کے لیے گئے ہیں۔ وقال اخرون عنی بہ القران والکتاب (ابن جریر) قاموس میں ہے کہ روح، قرآن ووحی کے معنی میں ہے، اور تاج میں ابو العباس کا قول نقل کیا ہے کہ جس طرح روح جسد انسانی کو زندہ کرتی ہے، وحی موت کفر سے نجات دیتی ہے، اور ایمان کی زندگی پھونکتی ہے اس لیے وحی کو بھی روح سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
Ayah 40:16

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

(یعنی) اس دن سے جس دن سب لوگ سامنے آموجود ہوں گے ان کی کوئی بات اللہ سے مخفی نہیں رہے گی آج کے روز کس کی حکومت ہے ؟ بس اللہ واحد و غالب ہی کی ہے،17۔

17۔ حکومت تو آج بھی خدائے واحد و غالب ہی کی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اس روز یہ سب پر بالکل عیاں و روشن ہو کر رہے گی، (آیت) ” الواحد القھا ر، الواحد “۔ اور القھار دونوں پر حایشے پہلے گزر چکے۔
Ayahs 40:17–18

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جائے گا آج کچھ ظلم نہ ہوگا اللہ بہت جلد حساب لے ڈالنے والا ہے

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور آپ انہیں ایک قریبی مصیبت والے دن سے ڈرائیے جب کلیجے منہ کو آجائیں گے (غم سے) گھٹ گھٹ جائیں گے ظالموں کا نہ کوئی ولی دوست ہوگا اور نہ سفارشی جس کی بات مان ہی لی جائے،18۔

18۔ (آیت) ” یوم الازفۃ “۔ کے لفظی معنی ” قریب آجانے والی “ ایک نام یوم قیامت کا بھی پڑگیا۔ عبرعنھا بساعۃ (راغب) یعنی یوم القیامۃ (ابن جریر) (آیت) ” الیوم ..... کسبت “۔ آیت کے الفاظ سے یہ نکل رہا ہے کہ ثواب و عذاب بندہ ہی کا کسب کیا ہوا ہوتا ہے اور یہی اشاعرہ کا مذہب ہے۔ قال ابن عطیۃ وھذہ الایۃ نص فی ان الثواب والعقاب متعلق باکتساب العبد وھو علی طریقۃ الاشعریۃ (بحر) (آیت) ” لاظلم الیوم “۔ یعنی یہ نہ ہوگا کہ کسی کا اجڑ گھٹا دیا جائے اور کسی کا عذاب بڑھا دیا جائے۔
Ayah 40:19

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

(اللہ) جانتا ہے آنکھوں کی چوری کو اور جو کچھ سینہ میں چھپا ہوا ہے اس کو بھی،19۔

19۔ یہاں یہ بتا دیا کہ اقوال وافعال کیا معنی، احوال و کیفیات، جذبات وداردات قلب تک سب وہاں حاضر وعیاں ہوں گے۔ یہ اور بات ہے کہ اضطراری اعمال و کیفیات معاف کردی جائیں۔
Ayah 40:20

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور اللہ ٹھیک ہی فیصلہ کرے گا، اور جن لوگوں کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی طرح کا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے، اللہ ہی (سب کچھ) سننے والا ہے (سب کچھ) دیکھنے والا ہے،20۔

20۔ یعنی وہی ان صفات کمال میں کامل اور دوسرے معبود ان صفات ہی سے عاری، اس لیے اس کے سوا کوئی اور فیصلہ کر ہی نہیں سکتا۔ آیت سے دو پہلوؤں پر اور زیادہ روشنی پڑگئی۔ ایک شرکت الوہیت ومعبودیت کی نفی، دوسرے ان معبودوں کا نصرت سے عجز۔
Ayah 40:21

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین پر چلے پھرے نہیں جو یہ دیکھ لیتے کہ ان سے قبل والوں کا انجام کیسا ہوا وہ لوگ ان سے بھی بڑھے ہوئے تھے بلحاظ قوت اور زمین پر اپنے چھوڑے ہوئے نشانات کے، سو اللہ نے ان کی گرفت کی بہ سبب ان کے گناہوں کے اور ان کا کوئی اللہ (کے عذاب) سے بچانے والا نہ ہوا،21۔

21۔ یہ تاریخ اور اثریات کے مطالعہ کے لیے اپیل ہے کہ ان فنون سے مدد لے کردیکھو اور بڑی بڑی پر قوت سرکش قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کرو۔ (آیت) ” اثارا فی الارض “۔ مثلا محل، قلعہ، باغ وغیرہا۔ (آیت) ’ ’ الذین ...... الارض۔ اشارہ ان قبل اسلام کی متمدن وسربرآوردہ جاہلی قوموں کی جانب ہے جن کی ترقی تہذیب و تمدن کے نشان اب بھی کھنڈروں کی صورت میں موجود ہیں۔
Ayah 40:22

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

یہ (گرفت) اس لئے ہوئی کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر واضح دلیلیں لاتے رہے، اس پر بھی وہ کفر ہی کئے گئے، سو اللہ نے انہیں پکڑ لیا، بیشک وہ بڑی قوت والا ہے، سخت سزا دینے والا ہے،22۔

22۔ (تو اس کی گرفت سے یہ لوگ کب تک باہر رہ سکتے ہیں) (آیت) ’ ’ بالبینت “۔ بینات کے تحت میں عقلی دلائل اور عملی معجزے سب کچھ آگئے۔
Ayahs 40:23–24

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنے احکام اور کھلی ہوئی دلیل دے کر

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

فرعون اور ہامان اور قارون کے پاس بھیجا تو وہ لوگ بولے یہ جادو گر ہے بڑا جھوٹا ہے،23۔

23۔ قرآن جیسا کہ بار بار بیان ہوچکا ہے، کوئی تاریخ کی کتاب نہیں اس کے پیش نظر صرف مقاصد ونتائج رہتے ہیں۔ نبوت موسوی سے انکار کا جزء ان تینوں مشاہیر میں مشترک تھا اور یہاں اسی کے نتیجہ پر نتبیہ مقصود تھی اس لیے قرآن نے بھی تینوں کا نام ایک ساتھ لے دیا، ورنہ ظاہر ہے، کہ قارون مصری نہیں اسرائیلی تھا اور اس کی تکذیب و انکار کا واقعہ زمانا بھی فرعون وہامان سے متاخر ہے۔ (آیت) ” فرعون وھامن وقارون “۔ فرعون پر حاشیے وسورۃ البقرہ پ 1 میں گزر چکے اور ہامان وقارون پر سورة القصص پ 20 میں۔ قارون اسرائیلی نے جس شدومد سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے انکار کیا ہے اور بغاوت پر آمادہ ہوا ہے اس کا ذکر توریت میں بصراحت موجود ہے۔
Ayah 40:25

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

جب وہ لوگوں کے پاس دین حق ہمارے پاس سے لے کر آئے تو وہ لوگ بولے کہ جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہوئے ہیں ان کے لڑکوں کو قتل کرڈالو اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دو اور کافروں کی چال محض ناکام رہی،24۔

24۔ کافروں کی چالیں تو مالا اور آخرکار تو ہمیشہ ہی ناکام رہتی ہیں اور کبھی حالا اور فوری طور پر بھی ناکام رکھی جاتی ہیں۔ (آیت) ” قالوا “۔ یہ مشورہ دینے والے اور آپس میں صلاح کرنے والے مصر کے اعیان سلطنت وارکان حکومت تھے۔ (آیت) ” الذین امنوا معہ “۔ یہ ایمان لانے والے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کے ہم قوم بنی اسرائیل تھے
Ayah 40:26

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور فرعون بولا مجھے چھوڑ دو میں موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرڈالوں اور یہ اپنے پروردگار کو پکار دیکھے،25۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ تمہارا دین بدل ڈالے گا یا یہ کہ ملک میں فساد پھیلا دے گا،26۔

25۔ (دیکھیں تو سہی وہ ہمارے عتاب سے اسے کیونکر بچالیتا ہے) (آیت) ” قال فرعون “۔ یہ فرعون نے جھنجھلا کر اپنے وزراء وامراء سے کہا۔ فرعون کی حکومت باوجود اس کے شخصی استبداد کے شورائی تھی، جیسا کہ قرآن مجید کی دوسری آیات سے بھی نکلتا ہے۔ 26۔ دین سے مراد مصر کا قومی آبائی دین شرک ہے۔ ملاحظہ انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ فرعون نے دو خطرے اپنے اعیان سلطنت کو سجھائے ایک یہ کہ یہ مدعی نبوت اپنی تدبیروں اور نام نہاد اصلاحی مساعی سے اس دین آبائی میں خلل ڈال دے گا اور لوگوں کو دین شرک سے اکھاڑ دے گا۔ دوسرے یہ کہ رعایا میں تاج کے خلاف شورش وبغاوت پھیلا دے گا۔
Ayah 40:27

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں اپنے اور تمہارے سب کے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں ہر بڑائی مارنے والے سے جو روز حساب پر یقین نہیں رکھتا،27۔

27۔ علماء نے یہاں سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ شر سے بچنے کے لیے دعاء عمومی اور کلی رنگ میں اگر کی جائے تو بہتر ہے جیسا کہ یہاں ضرورت صرف فرعون کے شر سے پناہ مانگنے کی تھی لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے الفاظ جامع وعموی استعمال کیے۔
Ayah 40:28

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اور ایک مرد مومن نے جو خاندان فرعون سے تھے اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھے کہا،28۔ کیا تم ایک مرد کو اس بات پر قتل کرڈالوگے کہ وہ کہتا ہے میرا پروردگار اللہ ہے درآنحالیکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے کھلی ہوئی دلیلیں بھی لایا ہے اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہوا تو وہ جو کچھ پیش گوئی کررہا ہے اس میں سے کچھ تم پر (ضرور ہی) پڑے گا بیشک اللہ ایسے کو راہ (کامیابی) نہیں دکھاتا جو حد سے گزر جانے والا ہو جھوٹا لپاٹیا ہو،29۔

28۔ معلوم ہوتا ہے کہ فرعونیوں میں سے کچھ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت کے قائل ہوگئے تھے اور اتنا تو توریت میں بھی ہے کہ کچھ فرعونی خوف خدا رکھنے والے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ایک منذر پیشگوئی کے سلسلہ میں ہے :۔ ” فرعون کے نوکروں میں ہر ایک جو خداوند کے کلام سے ڈرتا تھا اپنے نوکروں اور اپنے مواشی کو گھروں میں بھگا لے آیا “۔ (خروج 9: 20) (آیت) ” یکتم ایمانہ “۔ علماء محققین نے لکھا ہے کہ اسلام ہی کی مصلحت سے اپنے اسلام کا چھپانا بالکل جائز ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اہل باطل کے سامنے حق کا اخفاء خوف فتنہ سے منافی کمال نہیں، خصوصا جبکہ سہولت ارشاد وتبلیغ کی مصلحت بھی شامل ہو۔ 29۔ (اور دنیا کا کوئی اسراف وکذب جھوٹے دعوائے نبوت سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے) مرد مومن کا کہنا یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا اول تو جرم ہی کیا ہے۔ بجز اقرار توحید کے اور پھر اقرار بھی بلادلیل نہیں، آیات ومعجزات سے مدلل، بالفرض وہ جھوٹے ہیں تو ایسے شدید قسم کے جھوٹے کی حق تعالیٰ دنیا ہی میں سزا دے کررہے گا۔ لیکن اگر ان کا دعوئے نبوت سچ نکلا تو تم اپنی خبر لو، تمہارا انجام کیا ہو کررہے گا ؟۔ (آیت) ” وان ..... کذبہ “۔ علماء محققین نے لکھا ہے کہ جھوٹے مدعیان نبوت بھی اگر کورے بچ کر نکل جائیں تو تلبیس علی الحق لازم آتی ہے۔ امام رازی (رح) نے آیت کے تحت میں اپنا ذاتی تجربہ بھی بیان کیا ہے کہ جب کبھی مجھے کسی شریر نے خواہ مخواہ نقصان پہنچانا چاہا، اور میں نے اس کی طرف توجہ نہ کی، بلکہ معاملہ حق تعالیٰ ہی پر چھوڑ دیا تو اللہ نے ہمیشہ کچھ نہ کچھ لوگ ایسے لاکھڑے کیے جو پوری طرح اس شر کے دفعیہ پر لگ گئے ولقد جربت فی احوال نفسی انہ کلما قصدنی شریر بشر ولم اتعرض لہ واکتفی بتفویض ذلک الامر الی اللہ فانہ سبحانہ یقیض اقواما لااعرفھم البتۃ یبالغون فی دفع ذالک الشر (کبیر)
Ayah 40:29

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے میرے بھائیو ! آج تمہاری سلطنت ہے کہ اس سرزمین میں تم حاکم ہو لیکن اللہ کے عذاب سے نہیں کون بچائے گا اگر وہ ہم پر آپڑا،30۔ فرعون نے کہا میں تو تم لوگوں کو وہی رائے دوں گا جو خود سمجھ رہا ہوں اور میں تو تم کو عین طریق مصلحت ہی بتاتا ہوں

30۔ (اور اس کا وقوع ایک سچے نبی کے قتل کے بعد یقینی ہے)
Ayahs 40:30–31

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

اور اس ایمان لے آنے والے شخص نے کہا، اے میرے بھائیو ! مجھے تمہارے متعلق (دوسری) امتوں کے سے روز بد کا اندیشہ ہے

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

جیسا کہ قوم نوح وعاد وثمود اور ان کے بعد والوں کا حال ہوا تھا اور اللہ بندوں پر کسی طرح کا ظلم نہیں کرنا چاہتا،31۔

31۔ (لیکن جب تم خود ہی اس کے عذاب کو بلا رہے ہو تو ضرور کیفر کردار کو پہنچ کر رہو گے) (آیت) ” ما ...... للعباد “۔ اس فقرہ میں تعریض ہے مشرکوں کے خونخواروخوں، آشام دیوی دیوتاؤں پر۔
Ayah 40:32

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اے میرے بھائیو مجھے تمہاری بابت پکار کے دن کی طرف سے بھی اندیشہ ہے،32۔

32۔ یعنی سزائے دنیوی کے علاوہ عذاب آخرت کا بھی۔ (آیت) ” یوم التناد “۔ ” پکار والا دن “۔ یوم قیامت کو اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس روز بڑی ہی چیخ پکار پڑے گی۔ یوم ینادی الناس بعضھم بعضا من فزع نفخۃ الفزع (ابن جریر)
Ayah 40:33

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جس روز تم پشت پھیر پھیر کر بھاگو گے تم کو اللہ کے مقابلہ میں کوئی بچانے والا نہ ہوگا،33۔ اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں

33۔ روز حشر کی دہشت اور ہولناکی کا بیان ہے۔ یوم یولون ھاربین فی الارض حذر عذاب اللہ عقابہ عند معاینتھم جھنم (ابن جریر)
Ayah 40:34

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اور تمہارے پاس اس کے قبل یوسف بھی تو کھلے ہوئے دلائل لے کر آچکے ہیں سو تم شک ہی میں پڑے رہے ان امور سے متعلق جو وہ تمہارے پاس لے کر آئے تھے،34۔ یہاں تک کہ جب وہ وفات پاگئے تو تم کہنے لگے کہ اب خدا ان کے بعد کوئی رسول نہ بھیجے گا اسی طرح اللہ گمراہی میں ڈالے رکھتا ہے ان لوگوں کو جو حد سے نکل جانے والے ہوتے ہیں شک میں پڑے رہتے ہیں،35۔

34۔ یعنی تم نے تو ان کی نبوت کی بھی تصدیق نہ کی۔ (آیت) ” ولقد جآء کم “۔ یعنی وہ اسی ملک مصر میں، اہل مصر کے روبرو نبی ہو کر آئے تھے۔ 35۔ یعنی نبوت کی تو تم انکے بھی قائل نہ تھے اور جب وہ وفات پاگئے، جب تم کھلم کھلا کہنے لگے کہ ہمیشہ کے لئے یہ جھگڑا پاک ہوگیا۔ (آیت) ” کذلک ...... مرتاب “۔ یہ ایک عام قانون قاعدہ بتادیا کہ ایسے بدتوفیقوں کو ہمیشہ گمراہی ہی میں پڑا رہنے دیا جاتا ہے۔ (آیت) ” اذا ھلک “۔ قرآن مجید انبیاء صدیقین کے لئے بھی ایسے موقعوں پر بےتکلف وہی الفاظ لے آتا ہے جو عام افراد بشری کے لئے لائے جاتے ہیں، ہلاکت وموت کے قسم کے الفاظ جس طرح ہر بشر کے لئے آتے ہیں انبیاء کے لئے بھی لائے گئے ہیں۔
Ayah 40:35

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

(اور) جو اللہ کی نشانیوں کے باب میں بغیر اس کے کہ اس نے انہیں کوئی سند دی ہو جھگڑے نکالتے رہتے ہیں (اس سے) بڑی بیزاری ہے اللہ کو اور ایمان والوں کو اسی طرح اللہ مہر کردیتا ہے ہر مغرور و جابر کے قلب پر،36۔

36۔ (مغرور و جابر ومتکبر وجبار) چونکہ حق طلبی اور حق جوئی سے کام نہیں لیتا، اس لئے رفتہ رفتہ اس میں صلاحیت حق فہمی کی بھی باقی نہیں رہ جاتی۔ (آیت) ” یجادلون ..... سلطن “۔ جدال بلادلیل کی اس مذمت سے یہ نکلا کہ جدال حجت صحیحہ کے ساتھ کرنا مستحسن ہے فی ذمہ لھم بانھم یجادلوں بغیر سلطان دلالۃ علی ان الجدال بالحجۃ حسن وحق (کبیر)
Ayahs 40:36–37

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا اے ہامان میرے لئے ایک بلند عمارت بنوا کہ میں (اس سے) آسمان پر جانے کی راہوں تک پہنچ جاؤں

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کو دیکھو بھالوں اور میں تو موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں،37۔ اور اسی طرح فرعون کو اس کی بدکرداری خوش نما کردی گئی اور وہ راہ (راست) سے رک گیا اور فرعون کی ہر تدبیر غارت ہی گئی،38۔

37۔ فرعون اس مرد مومن کی تقریروں کا تو کچھ جواب دے نہ سکا جواب ہو کر فرمائش ہامان سے یہ کردی۔ (آیت) ” یھامن “۔ ھامان پر حاشیہ سورة القصص (پ 20) میں گزر چکا۔ ھامان، جو دیوتا آمن کے مندر کا سب سے بڑا پروہت یا پجاری تھا۔ وہی سلطنت کا چیف انجینئر بھی ہوتا تھا یامان سے متعلق اسی سابق حاشیہ میں گذر چکا ہے کہ یہ شخصی نام نہیں بلکہ ایک عظیم الشان سرکاری عہدہ کالقب تھا جیسے فرعون خود شاہی لقب تھا۔ (آیت) ” ابن لی صرحا “۔ روایات یہود میں بھی آتا ہے کہ شاہ مصر کے لئے زمین و آسمان کے درمیان ایک محل تعمیر ہوا تھا۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” انی لاظنہ “۔ لفظ ظن سے یہ خیال نہ گذرے کہ فرعون اس بات کو بطور فرض کے، یا شک کے ساتھ کہہ رہا تھا۔ ظن یقین کے معنی میں بھی آتا ہے۔ قیل ان الظن بمعنی الیقین اے وانا اتیقن انہ کاذب (قرطبی) 38۔ (اور بالآخروہ اپنے لاؤ لشکر سمیت سمندر میں غرق ہو کر رہا) (آیت) ” وکذلک “۔ یعنی جس طرح کے سوء اعمال کی خوشنمائی کی ایک مثال ابھی اوپر فرعون کے قول میں گزر چکی۔ اے مثل ذلک التزیین وذلک الصد (مدارک) (آیت) ” زین ..... عملہ “۔ اس تزیین کی علت قریبہ تو ہمیشہ شیطان کی وسوسہ اندازی ہی ہوتی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ وزین لہم الشیطان اعمالھم۔ لیکن علت بعیدہ تکوینی حیثیت سے خود ذات حق ہی ہوتی ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ زینا لھم اعمالھم فھم یعمھون “۔
Ayahs 40:38–39

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ Open ayah 40:38 in the Quran reader

اور وہی جو ایمان لاچکا تھا بولا اے میرے بھائیو میری پیروی کرو میں تمہیں ٹھیک راستہ بتا رہا ہوں

یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ Open ayah 40:39 in the Quran reader

اے میرے بھائیو یہ دنیوی زندگی محض چند روزہ ہے اور ٹھہرنے کا ٹھکانا تو آخرت ہی ہے،39۔

39۔ مرد مومن کا کہنا یہ ہے کہ حقیقی فوز و فلاح کا راستہ تو وہ ہے جسے میں بتارہا ہوں نہ کہ وہ جس کی رہبری فرعون کررہا ہے۔ (آیت) ” انما ...... القرار “۔ عاجل اور آجل کے راستوں کا فرق جو آج نظر آرہا ہے۔ یہی ہمیشہ رہا ہے ، ع : غافل نے ادھر دیکھا عاقل نے ادھر دیکھا :۔ (آیت) ” متاع “۔ میں تنوین تقلیل کی ہے اظہار تحقیر کیلئے اور (آیت) ” متاع “ کے لفظ میں خودہی اس نفع کے عارضی اور زود فنا ہونے کا مفہوم شامل ہے۔ متعۃ تنتفعون بھا مدۃ ثم تنقطع (معالم) اے یتمتع بھا قلیلا ثم تنقطع وتزول (قرطبی)
Ayah 40:40

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 40:40 in the Quran reader

جو کوئی گناہ کرتا ہے اسے بدلہ بس برابر سرابرہی ملتا ہے اور جو کوئی نیک کام کرتا ہے وہ مرد ہو یا عورت ہاں بس مومن ہو تو ایسے لوگ جنت میں جائیں گے جہاں انہیں رزق بےحساب ملے گا،40۔

40۔ یہاں ایک بڑی اصل پر روشنی پڑگئی، اہل جنت کے اجر کی کوئی حد ہی مقرر نہیں، لیکن بدی کی سزا میں یہ قاعدہ مقرر نہیں۔ بدکار کو سزا صرف اس کے جرم کے متناسب ہی ملے گی۔ (آیت) ” من ذکر او انثی “۔ عورت جس طرح دیوی اور کسی خاص تقدس واحترام کی حامل نہیں اسی طرح گندی اور ناپاک جنس بھی نہیں، عمل و ایمان کے نقطہ نظر سے مراد و عورت دونوں بالکل یکساں وہم سطح ہیں۔ جس کے جیسے عمل ہوں گے، اسی مناسبت سے اسے جزائے عمل بھی ملے گی، اس کی جنسیت کا اس پر کچھ اثر نہیں پڑے گا جاہلی مذہبوں نے عورت کے بارے میں جو جو بےاعتدالیاں روا رکھی ہیں ان کے پیش نظر قرآن مجید کو اس صراحت کی ضرورت تھی۔