Explained with ayahs 82–85
نزول عذاب کے وقت کا ایمان بےفائدہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ان اگلے لوگوں کو خبر دے رہا ہے جو رسولوں کو اس سے پہلے جھٹلا چکے ہیں۔ ساتھ ہی بتاتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا کچھ انہوں نے بھگتا ؟ باوجود یکہ وہ قوی تھے زیادہ تھے زمین میں نشانات عمارتیں وغیرہ بھی زیادہ رکھنے والے تھے اور بڑے مالدار تھے۔ لیکن کوئی چیز ان کے کام نہ آئی کسی نے اللہ کے عذاب کو نہ دفع کیا نہ کم کیا نہ ٹالا نہ ہٹایا۔ یہ تھے ہی غارت کئے جانے کے قابل کیونکہ جب ان کے پاس اللہ کے قاصد صاف صاف دلیلیں، روشن حجتیں، کھلے معجزات، پاکیزہ تعلیمات لے کر آئے تو انہوں نے آنکھ بھر کر دیکھا تک نہیں اپنے پاس کے علوم پر مغرور ہوگئے۔ اور رسولوں کی تعلیم…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 111
یہ خاتمہ کلام ہے۔ اس حصے کو پڑھتے وقت آیات 4۔ 5۔ اور آیت 21 پر ایک دفعہ پھر نگاہ ڈال لیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
خلاصہ تفسیر
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے مویشی بنائے تاکہ ان میں بعض سے سواری لو اور ان میں بعض (ایسے ہیں کہ ان کو) کھاتے بھی ہو اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں (کہ ان کے بال اور اون کام آتی ہے) اور (اس لئے بنائے) تاکہ تم ان پر (سوار ہو کر) اپنے مطلب تک پہنچو جو تمہارے دلوں میں ہے (جیسے کسی سے ملنے کے لئے جانا، تجارت کے لئے جانا وغیرہ وغیرہ) اور (سوار ہونے میں کچھ ان ہی کی تخصیص نہیں بلکہ) ان پر (بھی) اور کشتی پر (بھی) لدے لدے پھرتے ہو (اور ان کے علاوہ) تم کو اپنی (قدرت کی) اور نشانیاں دکھلاتا رہتا ہے۔ (چنانچہ ہر مصنوع اس کی صنعت پر ایک نشان ہے) سو تم اللہ کی کون کون سی نشانوں…
Read the full tafseer →یہ عذاب کا مطالبہ کرنے والوں کو پچھلی قوموں کی تاریخ کی طرف توجہ دلائی کہ اگر خدا کی ربوبیت کے آثار ان کو نظر نہیں آتے تو کیا انہوں نے اپنے ملک کی بھی سیاحت نہیں کی کہ دیکھتے کہ ان سے پہلے کی ان قوموں کا کیا انجام ہوچکا ہے جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی، اگرچہ وہ اپنی قوت و جمعیت کے اعتبار سے ان سے کہیں زیادہ طاقتور اور اپنے تمدنی و تعمیری کارناموں کے لحاظ سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں لیکن جب اللہ کا عذاب آیا تو ان چیزوں میں سے کوئی چیز بھی ان کے کام آنے والی نہ بنی جن کا اندوختہ وہ فراہم کرتے رہے تھے۔
لفظ ’ اثار ‘ کا تعلق ’ اکثر ‘ سے ہے۔ یہ عاد و تمور کے ان تعمیری آثار کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر قرآن…
Read the full tafseer →82۔ 1 یعنی جن قوموں نے اللہ کی نافرمانی کی اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا۔ یہ ان کی بستیوں کے آثار اور کھنڈرات تو دیکھیں جو ان کے علاقوں میں ہی ہیں کہ ان کا کیا انجام ہوا ؟
82۔ 2 یعنی عمارتوں کارخانوں اور کھیتیوں کی شکل میں ان کے کھنڈرات واضح کرتے ہیں کہ وہ کاریگری کے میدان میں بھی تم سے بڑھ کر تھے۔
82۔ 3 فما اغنی میں ما استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے اور نافیہ بھی نافیہ کا مفہوم تو ترجمے سے واضح ہے استفہامیہ کی رو سے مطلب ہوگا ان کو کیا فائدہ پہنچایا ؟ مطلب وہی ہے کہ ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہیں آئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–85
20: کفار مکہ حضور اقدس ﷺ سے بار بار نت نئے معجزے دکھانے کی فرمائش کرتے رہتے تھے، اور اصرار کرتے تھے کہ وہی معجزہ دکھائیں جو ہم کہیں، اور مقصد سوائے وقت گزاری کے کچھ نہیں تھا، کیونکہ آپ کے کئی معجزات دیکھنے کے باوجود وہ ایمان لانے پر تیار نہیں تھے، اس لئے یہاں ان کو دینے کے لئے یہ جواب سکھایا جارہا ہے کہ معجزہ دکھانا کسی پیغمبر کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا، وہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے دکھایا جاسکتا ہے۔ اس لیے آپ ان سے صاف کہہ دیں کہ میں تمہاری نت نئی فرمائشیں پوری کرنے سے معذور ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–85
آیت نمبر 81 تا 85
انسانی تاریخ میں گزشتہ اقوام کی تباہی روایات کے ذریعے ان کی کہانیاں محفوظ ہیں۔ بعض کی کہانیاں کتابوں کے اوراق میں محفوظ ہیں۔ قرآن کریم باربار ان ایام اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس لیے کہ انسانیت جس لائن پر بڑھتی چلی آئی ہے اس میں جا بجا حقائق موجود ہیں۔ پھر ان ایام اللہ کا اثر بھی انسان پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ اور قرآن چونکہ خالق فطرت کی طرف سے نازل ہورہا ہے اس لیے وہ فطرت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کرتا ہے۔ قرآن فطرت کی راہ رسم سے خوب واقف ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ اس کی یہ مخلوق کس بات سے متاثر ہوتی ہے اور کس انداز سے اس کے دل میں بات اتاری جاسکتی ہے ، اللہ کو پتہ ہے کہ…
Read the full tafseer →5 یعنی پہلے بہت قومیں گزر چکیں جو جتھے میں اور زور و قوت میں ان سے بہت زیادہ تھیں انہوں نے ان سے کہیں بڑھ کر زمین پر اپنی یادگاریں اور نشانیاں چھوڑیں، لیکن جب خدا کا عذاب آیا تو وہ زور و طاقت اور سازو سامان کچھ بھی کام نہ آسکا۔ یوں ہی تباہ و برباد ہو کر رہ گئے۔
Read the full tafseer →آیت 82 { اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ”تو کیا یہ لوگ زمین میں گھومے پھرے نہیں کہ غور کرتے کہ کیسا انجام ہوا ان کا جو ان سے پہلے تھے !“
{ کَانُوْٓا اَکْثَرَ مِنْہُمْ وَاَشَدَّ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِی الْاَرْضِ } ”وہ ان سے کہیں زیادہ تھے تعداد میں اور زیادہ شدید تھے طاقت میں بھی اور زمین میں نشانات چھوڑنے کے اعتبار سے بھی“
{ فَمَآ اَغْنٰی عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ } ”تو ان کے کچھ کام نہ آیا وہ سب کچھ جو وہ کماتے رہے تھے۔“
ان کے یہ سارے کارنامے اور ساری کمائی انہیں اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکی۔
Read the full tafseer →102 اقوام سابقہ کی شان وشوکت :۔ سابقہ اقوام اپنے قد و قامت، جسمانی قوت، فن تعمیر اور فن زراعت پر کام میں ان کفار مکہ سے بہت آگے تھے۔ اور یہ لوگ تو ان کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں مگر جب انہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کا احسان ماننے کی بجائے بغاوت پر اتر آئے۔ پھر جب ان پر اللہ کا عذاب آیا تو ان کی یہ ساری خوبیاں اور شان و شوکت دھرے کے دھرے رہ گئے۔ پھر آخر تم ان سے کمزور اور کمتر ہو کر کیوں ایسی اکڑ دکھا رہے ہو ؟ اور تم اپنی کرتوتوں کے انجام سے کیونکر بچ سکو گے ؟
Read the full tafseer →78۔ تاریخ سے استدلال ہے کہ بڑی بڑی متمدن وپرشوکت قدیم قوموں کے انجام کو دیکھو، جب وہ خدائی قانونوں اور ضابطوں کے توڑنے پر اڑ بیٹھیں تو ان کی مادی ترقیاں اور طاقتیں ان کے کچھ بھی آڑے نہ آسکیں، اور بالآ وہ تباہی کے گھاٹ اتر کر رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
آیت نمبر 79 تا 85
ترجمہ : اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے (مویشی) پیدا کئے کہا گیا ہے کہ یہاں (انعام) سے خاص طور پر اونٹ مراد ہے اور ظاہر یہی ہے اور بقروغنم بھی معراد ہوسکتے ہیں تاکہ ان میں سے بعض پر تم سواری کرو اور بعض کو ان میں سے کھاتے ہو اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت منافع ہیں (مثلاً ) دودھ، نسل، اونٹ کے بال، اور اون تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنی دلی مراد کو حاصل کرو اور وہ (مختلف) شہروں تک بوجھ لاد کرلیجاتا ہے، اور ان سواریوں پر خشکی میں اور کشتیوں پر دریا میں چڑھے پھرتے ہو اور وہ تمہیں اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے، پس تم وحدانیت پت دلالت کرنے والی کون کون سی نشانیوں کا انکار…
Read the full tafseer →افلم یسیروا فی الارض فینظرواکیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم کانوا اکثر منھم واشد
قوۃ واثار فی الارض فما اغنی عنھم ما کانوا یکسبون کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ جو (مشرک) لوگ ان سے پہلے ہو گذرے ہیں ان کا کیا برا انجام ہوا ؟ حالانکہ وہ لوگ ان سے زیادہ تھے اور قوت و نشانات میں بھی جو زمین پر چھوڑ گئے تھے ‘ بڑھے ہوئے تھے ‘ سو ان کی یہ ساری کمائی ان کے کچھ بھی کام نہیں آئی۔
اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا یعنی کیا یہ شہر سے باہر نہیں نکلے اور ملک میں چل پھر کر انہوں نے نہیں دیکھا۔
اٰثَارًا یعنی محلات ‘ قلعے ‘ کارخانے وغیرہ جو زمین پر چھوڑ گئے۔
فَمَآ اَغْنٰی عَنْھُمْ پس اس نے ان کو فائدہ نہیں…
Read the full tafseer →کیا ان کا کفار مکہ نے سفر کر کے غورو خوض نہیں کیا کہ ان سے پہلے لوگوں کو انبیاء کرام کی تکذیب کے وقت کس طرح ہلاک کیا۔
جو ان مکہ والوں سے تعداد میں بھی زیادہ تھے اور طاقت میں اور ذریعہ معاش کی تلاش اور چلنے پھرنے میں بھی بڑح کر تھے تو عذاب الہی کے سامنے ان کے دینی اقوال و اعمال کچھ کام نہ آئے۔
Read the full tafseer →افلم یسیروا فی الارض …: اس کی تفسیر کیلئے دیکھیے سورة روم کی آیت (9) کی فسیر۔ دولت کی کثرت، فن تعمیر کے عظیم الشان نمونے اور دوسری فنی مہارتیں ان کے کسی کام نہ آسکیں ، پھر اے اہل مکہ ! تم جو ہر لحاظ سے ان سے کمزور اور کمتر ہو، اللہ کا عذاب آنے پر کس طرح بچ سکو گے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–84
( افلم یسیروا فی الارض۔۔۔۔۔۔۔۔ )
افلم یسیروا فی الارض کیا انہوں نے زمین میں سیرو سیاحت نہیں کی کہ وہ سابقہ قوموں کے آثار کا مشاہدہ کرتے جو ان سے تعداد میں زیادہ تھے فما اغنی عنھم ما کانو یکسبون۔ یعنی عمارات، اموال، اولاد اور پیروکاروں نے انہیں کچھ نفع نہ دیا یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ دلوت بفلان الیک یعنی میں نے اسے تیرے پاس سفارش کے لیے بھیجا۔ اس تاویل کی بناء پر ما نافیہ ہے یعنی اس چیز نے انہیں کوئی نفع نہ دیا ایک قول یہ کیا گیا ہے : ما استفہامیہ ہے یعنی جب وہ ہلاک ہوئے تو کسی چیز نے انہیں نفع نہ دیا۔ اکثر غیر منصرف ہے کیونکہ وہ فعل کے وزن پر ہے کو فیوں کا خیال ہے کہ ہر وہ اسم جو غیر منصرف ہو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–85
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولتبلغوا علیھا حاجۃ فی صدورکم “ (تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنے دلی مقصد کو پہنچ جاؤ یعنی تمہارے سفر تمہاری اپنی ضرورت کے لئے ہوں (آیت ) ” وآثارفی الارض “ (اور نشانات جو ان میں چھوڑ گئے) یعنی زمین میں ان کا پیدل چلنا (آیت) ” فرحوا بما عندھم من العلم “ (وہ لوگ اپنے اس علم (معاش) پر بڑے خوش ہوئے جو ان کے پاس تھا یعنی ان کا قول تھا ہم ان سے زیادہ جاننے والے ہیں اور ہم کو ہرگز عذاب نہیں ہوگا (آیت ) ” وحاق بھم ماکانوا بہ یستھزء ون “ (اور وہ جس چیز کا مذاق بناتے تھے اسی نے ان کو گھیر لیا) یعنی ان کے رسول انکے پاس حق کو لائے…
Read the full tafseer →اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا [ تو کیا یہ لوگ چلے پھرے نہیں ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] فَيَنْظُرُوْا [نتیجتا وہ دیکھتے ] كَيْفَ كَانَ [ کیسا تھا ] عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کا انجام جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ[ ان سے پہلے تھے ] كَانُوْٓا [ وہ لوگ تھے ] اَكْثَرَ [تعداد میں زیادہ ] مِنْهُمْ [ ان لوگوں سے ] وَاَشَدَّ [ اور زیادہ سخت ] قُوَّةً [ بلحاظ قوت کے ] وَّاٰثَارًا [ اور بلحاظ نشانات (چھوڑنے کے ) ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ [ تو کام نہ آئی ان کے ] مَّا [ وہ جو ] كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ [ وہ لوگ کمائی کرتے تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–85
گزشتہ قوموں کی بربادی کا تذکرہ
(اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ) (الیٰ اخر السورۃ) کیا ان لوگوں نے سفر نہیں کیا اور نافرمان پرانی امتوں کے مکان اور کھنڈر اور کنوئیں اور اینٹ پتھر نہیں دیکھے ؟ دیکھے ہیں اور بار بار دیکھے ہیں ان امتوں کا انجام بھی دیکھ چکے ہیں اور یہ بھی معلوم ہے کہ وہ لوگ ان سے عدد میں بڑھ کر تھے اور طاقت میں بھی زیادہ تھے اور زمین میں ان کے نشانات بھی بہت ہیں انہوں نے مضبوط قلعے بنائے پتھروں کو تراش کر گھر بنائے لیکن رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے عذاب آیا تو سب چیزیں دھری رہ گئیں جو کچھ کماتے تھے وہ کچھ بھی کام نہ آیا۔
جب اللہ کے رسول کھلے ہوئے معجزات اور آیات واضحات لے کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
ذکر انعامات و توحید رب العالمین، وتہدید منکرین ومشرکین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اللہ الذی جعل لکم الانعام ....... الی ........ وخسرھنالک الکفرون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں سلسلہ مضمون توحید خداوندی تھا اور دلائل قدرت کے بیان کے ساتھ مجرمین کے انجام ہلاکت پر افسوس وملامت کا اظہار ہے، اور یہ کہ خود مجرمین آخرت میں اپنے اعمال پر کس قدر پچھتائیں گے، آیات میں مزید انعامات خداوندی ذکر فرما کر مضمون توحید اور منکرین ومشرکین کی تہدید پر سورت کو ختم فرما دیا گیا، ارشاد ہے، اللہ ہی ہے جس نے تمہارے ہی نفع کے لیے مویشی بنائے تاکہ ان میں سے بعض سے تم سواری لو اور ان میں سے بعض کو کھاؤ، اور بھی بہت سے…
Read the full tafseer →74:۔ ” افلم یسیروا فی الارض “ یہ تخویف دنیوی کا اعادہ ہے۔ کیا ان مشرکین مکہ نے زمین میں چل پھر کر ان سرکش قوموں کا انجام نہیں دیکھا جو ان سے پہلے گذر چکی ہیں جو تعداد میں ان سے زیادہ، قوت میں ان سے بڑھ کر اور کارناموں میں ان سے بہت آگے تھیں۔ جب انہوں نے عناد و سرکشی سے کام لیا اور پیغام توحید کو ٹھکرا دیا، تو ہم نے ان کو دنیا ہی میں ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیا۔ اس وقت نہ مال و دولت ان کے کام آئی اور نہ ان کے معبودانِ باطلہ ہی نے ان کو ہماری گرفت سے بچایا جن کو وہ دنیا میں کارساز سمجھ کر پکارا کرتے تھے، جیسا کہ سورة ہود رکوع 9 میں فرمایا ” فما اغنت عنہم الہتہم التی یدعون من دون الہ من شیء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی تردید فرمائی اور ساتھ ساتھ پیغمبر ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی بھی دی کہ پہلی قوموں نے بھی اپنے انبیاء کرام کی تکذیب کی ان کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں مگر بالاخر کامیابی اللہ کے نبیوں کو ہوئی اور مکذبین دنیا وآخرت دونوں جگہ ناکام اور دائمی عذاب کے مستحق ٹھہرے اب آج کی آیات میں پہلے کچھ دلائل توحید بیان ہوئے ہیں اور پھر کفار و مشرکین کی توجہ سابقہ اقوام کی طرف دلائی گئی ہے جو ان سے زیادہ تعداد میں اور زیادہ طاقتور تھے مگر وہ اپنے غرور وتکبر کی وجہ سے مبتلائے عذاب ہوئے اس وقت انہوں نے توبہ کی مگر اس بےوقت ایمان لانے کا کچھ فائدہ حاصل نہ…
Read the full tafseer →اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ 0 ۭ كَانُوْٓا اَكْثَرَ مِنْہُمْ وَاَشَدَّ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِي الْاَرْضِ فَمَآ اَغْنٰى عَنْہُمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 82
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
تفسیر : خوف دلانے کے بعد پھر وہ دلائل بیان فرماتا ہے کہ جو اللہ حکیم رحیم کے وجود پر دلالت کرتے ہیں اور جن سے اس کا بندوں پر انعام و احسان ثابت ہوتا ہے۔ فقال اللہ الذی الخ کہ اللہ وہ محسن و رحیم و کریم و قادر ہے کہ جس نے تم سے بڑے زور آور جانوروں کو تمہارے بس میں کردیا کہ ان میں سے تم کسی پر سوار ہوتے ہو۔ جیسا کہ اونٹ، گھوڑا، گدھا بعض ملکوں میں بیل ہاتھی بھی یہی کام دیتے ہیں اور بعض کو تم ذبح کرکے کھاتے ہوگائے، بھیڑ، بکری وغیرہ۔
اور اسی پر بس نہیں بلکہ ولکم فیہا منافع اس کے علاوہ تمہارے لیے ان میں اور بھی فوائد ہیں، ان سے نفع لیتے ہو۔ دودھ، گھی فروخت کرتے ہو کھاتے پیتے ہو ہل جو تتے ہو، ان کی…
Read the full tafseer →اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ط کَانُوْٓا اَکْثَرَمِنْھُمْ وَاَشَدَّ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَآ اَغْنٰی عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (المؤمن : 82)
(کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ وہ ان سے تعداد میں زیادہ تھے۔ ان سے بڑھ کر طاقتور تھے اور زمین میں ان سے زیادہ شاندار آثار چھوڑ گئے۔ پس کام نہ آیا ان کے جو کچھ انھوں نے کمایا تھا۔ )
ایک تنبیہ
آخر میں تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر ان لوگوں نے اپنے گردوپیش میں پھیلی ہوئی نشانیوں سے سبق سیکھنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–85
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی نعمتوں اور اس کے واضح دلائل کو جھٹلانے والوں کا انجام۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی راہنمائی کے لیے خارجی اور داخلی اسباب پیدا فرمائے ہیں۔ لیکن ان کی حقیقت پانے کے لیے انسان کا سلیم الفطرت ہونا ضروری ہے۔ انسان کی فطرت جتنی زندہ اور بیدار ہوگی اتنا ہی وہ ہدایت قبول کرنے میں مستعد ہوگا۔ خارجی اسباب میں خوف اور ڈر ایک ایسا سبب ہے کہ اگر انسان کو اپنے رب کا خوف پیدا ہوجائے تو وہ خود بخود نافرمانی کا راستہ چھوڑ کر اپنے رب کی تابعد اری کی شاہراہ پر گامزن ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خوف کے ساتھ اور بھی خوف ہیں جن کی بنا پر آدمی نافرمانی کو چھوڑ کر ہدایت قبول…
Read the full tafseer →اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭكَانُوْٓا اَكْثَرَ مِنْهُمْ (کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ جو لوگ ان سے پہلے ہوئے ان کا انجام کیسا ہوا۔ وہ ان سے زیادہ تھے) تعداد کے لحاظ سے وَاَشَدَّ قُوَّةً وَّاٰثَارًا فِي الْاَرْضِ (اور قوت میں بڑھ کر) نائب کے اعتبار سے۔ فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ (پس ان کی کمائی ان کے کچھ بھی کام نہ آئی) ۔
نحو : ما اغنی کا ما نافیہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
تفسیر 80۔۔۔۔۔۔ ، اللہ الذی جعل لکم الانعام لترکبوامنھا، ان میں سے بعض پر، ومنھاتاکلون ولکم فیھا منافع، ان کی اون، پشم اور ان کے بالوں اور دودھ میں۔ ، ولتبلغواعلیھا حاجۃ فی صدورکم، وہ تمہارے بوجھ ایک شہر سے دوسرے شہراٹھا کرلے جاتے ہیں اور تاکہ تم ان پر اپنی ضرورت تک پہنچ سکو۔ ، وعلیھا وعلی الفلک تحملون، یعنی خشکی میں اونٹ پر اور سمندر میں کشتیوں پر۔ اس کی نظیرباری تعالیٰ کافرمان، وحملناھم فی البرالبحر،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–85
81۔ 85۔ اللہ نے انسان کی پیدائش انسان کی ضرورت کے کھیتی کے بوجھ لادنے کے سواری کے جانوروں کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی قدرت سے اللہ کے معبود حقیقی ہونے سے بیخبر ہیں ان کے خبردار کرنے کے لئے یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں یہ سب نشانیاں دیکھ کر بھی یہ بیخبر لوگ اپنی بیخبر ی سے باز نہیں آتے تو ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آخر یہ لوگ اللہ کی قدرت کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کریں گے خود اپنی پیدائش کے منکر ہیں کہ سوا اللہ کے کسی اور کو ان کی پیدائش میں دخل ہے یا ان کی ضرورت کی چیزیں کسی اور نے پیدا کردی ہیں اور جب اللہ کے اس سوال کا جواب یہ لوگ نہیں دے سکے تو پھر جن بتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–84
آیت 81
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احاسنات کا ذکر کترا ہے کہ اس نے ان کے لئے چوپائے پیدا کئے جن پر ان کے مفادات کا دار و مدار ہے۔ ان میں سے کچھ مویشیوں کو وہ سواری اور نقل و حمل کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ کچھ چوپایوں کا گوشت کھاتے اور ان کا دودھ پیتے ہیں۔ کچھ مویشیوں کی اون سے گرمی حاصل کرتے ہیں۔ ان کے بالوں، پشم اور اون سے آلات اور استعملا کا اسمان بناتے ہیں اور ان سے دیگر فوائد حاصل کرتے ہیں۔
(آیت) ” اور تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنی حاجت و ضرورت کو پہنچو جو تمہارے سینوں میں ہے۔ “ یعنی تم ان دور دراز ملکوں میں پہنچ سکو جہاں پہنچنے کی اپنے دلوں میں ضرورت محسوس کرتے ہو اور تاکہ ان کے باعث ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–85
دعا ہی عبادت ہے
قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔
Read the full tafseer →154 تاریخ سے درس عبرت لینے کی ہدایت : سو اس ارشاد سے گزشتہ قوموں کے انجام اور ان کی تواریخ سے سبق لینے کی ہدایت و تلقین فرمائی گئی ہے۔ پس تم لوگ اپنے کئے کرایے کے اس نتیجہ و انجام سے بچنے کی فکر کرو اور اپنے رویہ و سلوک کی اصلاح کرلو قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت محدود و مختصر جو آج تمہیں میسر ہے تمہارے ہاتھ سے نکل جائے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ آثار قدیمہ اور کھنڈرات کو پکنک اور تفریح کے طور پر نہیں بلکہ عبرت پذیری کے لئے دیکھنا چاہیئے۔ مگر افسوس کہ آج دنیا لاکھوں کروڑوں ڈالر خرچ کرکے آثار قدیمہ کی حفاظت کے لئے طرح طرح کے جتن کرنے کے باوجود سبق سیکھنے کے اور درس عبرت لینے کے اس اصل مقصد سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–85
جھٹلانے والوں کا انجام
تشریح : یہ ان بدنصیب لوگوں کی داستان ہے جن کو پیغمبروں نے ہدایت کی طرف بلایا توحید کی دعوت دی ‘ توحید کی خوبیاں بتائیں ‘ اللہ سے ڈرایا ‘ برے کاموں سے منع کیا اور بار بار دلیلوں کے ساتھ سمجھایا کہ برے کام نہ صرف دنیا میں ہی نقصان دیتے ہیں بلکہ آخرت کو بھی خراب کردیتے ہیں۔ جہنم کے عذاب کا نقشہ بیان کیا جس کو اگر انسان غور ‘ یقین اور توجہ سے دیکھے تو چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ مـگر کفار پہلے بھی اب بھی اور آئندہ بھی شیطان کی گرفت میں اتنی بری طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ روشنی اور ہدایت کی بات ان پر اثر ہی نہیں کرتی بلکہ الٹا پیغمبروں کو ہی جھٹلاتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں اور نیکی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
رکوع نمبر 9: آیات 79 تا 85:
اسرار و معارف :
اللہ وہ ذات کریم ہے جس نے تمہاری خدمت کے لیے کتنی اقسام کے جانور پیدا کردئیے اور تمہیں ان پر یہاں تک اختیار بخشا کہ کسی پر سواری کرتے ہو تو کسی کو ذبح کرکے کھالیتے ہو کبھی ان کی تجارت کرکے اپنے لیے دولت کماتے ہو غرض جو جی میں آئے اپنی سب ضرورتیں پوری کرتے ہو اور تم زمین پر پانی میں ہر جگہ مختلف سواریاں استعمال کرتے ہو یہ سب تو اس کی عظمت کے گواہ ہیں تم بھلا کون کون سی دلیل کا انکار کروگے۔ کیا روئے زمین پر پھر کر نہیں دیکھا کہ پہلی اقوام کا کیا انجام ہوا ان کے چھوڑے ہوئے آثار اور کھنڈرات بتاتے ہیں کہ وہ تم لوگوں سے کہیں زیادہ طاقتور اور مالدار تھے…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی جب خدا کا عذاب آیا تو نہ ان کی کثرت تعداد انہیں بچا سکی اور نہ ان کا مال و منال ان کے کام آسکا۔
Read the full tafseer →(40:82) افلم یسیروا فی الارض : الف استفہامیہ ہے فاء عاطفہ ہے اس کا عطف فعل محذوف پر ہے ای اقعدوا فل یسیروا : لم یسیروا مضارع نفی تاکید بلم ۔ کیا وہ لوگ بیٹھے رہے اور وہ زمین میں چلے پھرے نہیں۔
فینظرواسببیہ ہے۔ ینظروا مضارع مجزوم جمع مذکر غائب کہ وہ دیکھتے کہ وہ دیکھ لیتے۔
کانوا اکثر منھم میں کانوا کی ضمیر فاعل اسم موصول الذین کی طرف راجع ہے اور منھم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب کا مرجع ضمیر فاعل افلم یسیروا ہے یعنی وہ پہلے لوگ ان لوگوں سے جن کی اقوال سابقہ کے انجام کی طرف توجہ دلائی۔ سب تعداد میں زیادہ تھے
اشد قوۃ واثارا فی الارض جو قوت میں زبردست تھے اور اپنے جاہ و جلال کے جو نشانات وہ زمین پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 85 : الانعام ( مویشی ، جانور) لترکبوا ( تا کہ تم سواری کرو) حاجۃ (ضرورت) تنکرون ( تم انکار کرو گے) ما اغنی (کام نہ آیا) خلت (گزر گئی) سنت اللہ ( اللہ کا قانون ، اللہ کا دستور)
تشریح : آیت نمبر 79 تا 85 : سورة مومن کی آخرت آیات میں انسانی زندگی گزارنے کی بہت سی چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے مثلاً غذا ، سواری ، صنعتیں ، سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لانے لے جانے کے اسباب وغیرہ ۔ اگرچہ چیزیں نہ ہوں تو انسان کو اپنی زندگی اور تہذیب و تمدن کے تقاضوں کو پورا کرنا مشکل ہوجائے۔
اللہ نے انسان کو ان بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے جس پر ہر انسان کو ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–85
آثار موت کے وقت ایمان قبول نہیں۔
(ف 3) اس آیت میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی قدرت سے اللہ کے معبود حقیقی ہونے سے بیخبر ہیں ان کے خبردار کرنے کے لیے یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں یہ سب نشانیاں دیکھ کر بھی یہ بیخبر لوگ اپنی بیخبر ی سے باز نہیں آتے، تو ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آخریہ لوگ اللہ کی قدرت کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کرتے ہیں خود اپنی پیدائش کے منکر ہیں سو اللہ کے کسی اور کو ان کی پیدائش میں دخل ہے یا ان کی ضرورت کی چیزیں کس اور نے پیدا کردی ہیں اور جب اللہ کے اس سوال کا جواب یہ لوگ نہیں دے سکتے، تو پھر جن بتوں کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں ان بتوں کو اللہ کا شریک کرنے کا کون ساحق حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–85
[30] دستور الٰہی یہی ہے کہ نزول عذاب کے وقت ایمان لانا نافع نہیں ہوتا کیونکہ اس وقت کا ایمان اللہ کے نزدیک مقبول و معتبر نہیں۔
Read the full tafseer →ف 2: مکہ والوں سے کہا ہے ۔ کہ وہ چل پھر کر زمین میں دیکھیں کہ گذشتہ قوموں کا کیا حشر ہوا ۔ جب کہ انہوں نے اللہ کے پیغام کو ٹھکرایا ۔ کیا ان کی قوت اور طاقت اور عظمت کا کوئی لحاظ کیا گیا ۔ اور کیا ان کے دنیوی مشاغل نے ان کو عذاب سے بچا لیا ۔ پھر آج اگر قریش کے اکابر انکار کریں گے ۔ اور کبر و غرور میں مبتلا رہیں گے ۔ تو کون کہہ سکتا ہے کہ ان پر اللہ کا غضب نازل نہ ہوگا ۔ اور یہ اس کے عذاب کا شکار نہ ہونگے ۔
حل لغات :۔ اثارا ۔ ان کی عظمت کے نشانات ۔
Read the full tafseer →(82) کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں جو دیکھتے کہ وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوگزرے ہیں ان کا انجام کیسا ہوا وہ لوگ تعداد میں ان سے بہت زیادہ تھے اور باعتبار قوت و طاقت کے بھی سخت تھے اور باعتبار ان یادگاروں کے بھی جو وہ زمین پر چھوڑ گئے ہیں ان سے سخت تھے پھر ان کی وہ کمائی جو وہ کمایا کرتے تھے ان کے کچھ بھی کام نہ آئی۔
ہم سورة روم میں عرض کرچکے ہیں مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے سے پہلے مشرکین کا انجام نہیں دیکھا اگر ملک میں چلتے پھرتے اور سیر کرتے تو دیکھتے کہ ان کے شرک اور کفر وعناد کا انجام کیسا ہوا حالانکہ وہ ان کفار عرب سے ہر اعتبار سے زیادہ اور سخت تھے خواہ باعتبار تعداد خواہ باعتبار قوت…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی کیا ان کو شرک کے وبال کی خبر نہیں۔
4۔ کیونکہ وہ عذاب الہی سے نہ بچ سکے۔
Read the full tafseer →کیا تم کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں کہ تم دیکھتے کہ جھٹلانے والوں کا کیا حال ہوا ؟
82۔ زیر نظر آیت کا مضمون انہی الفاظ میں تھوڑی سی کمی بیشی کے ساتھ عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة یوسف کی آیت 109 ، جلد ششم سورة الحج کی آیت 46 جلد ہذا سورة الروم کی آیت 9 ، سورة فاطر کی آیت 42 نیز اس سورة فاطر کی آیت 21 میں بھی یہی مضمون تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے وہاں سے ملاحثہ کریں ۔ ان آیات میں گزشتہ اقوام کی تاریخ کو بار بار دہرایا گیا ہے تاکہ اس سے استفادہ کرتے ہوئے لوگ اپنی اصلاح حال کرلیں اگر اصلاح کرنا چاہیں ؟ اس طرح بہر حال سوئی ہوئی قوم کو جگانے کی بار بار کوشش کی گئی ہے تاکہ ان کو معلوم ہو کہ جو لوگ انبیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
Commentary
In verse 83, it was said: فَرِحُوا بِمَا عِندَهُم مِّنَ الْعِلْمِ (they exulted because of whatever of knowledge they had,) that is, when the messengers of Allah Ta’ ala came to these deniers, who were utterly oblivious to their end, with clear arguments in favor of tauhid (Oneness of Allah) and 'iman (faith), they took their knowledge to be better and truer than the knowledge brought by prophets, and started rejecting what they said. What was this knowledge with which the disbelievers were exultant to the extent that they would even reject the body of knowledge brought by…
Read the full tafseer →111 This is the con clusion to the discourse. While studying this please also keep in view vv. 4-5 and v. 21 of this Surah.
Read the full tafseer →