Explained with ayahs 79–81
ہر مخلوق خالق کائنات پر دلیل ہے۔
انعام یعنی اونٹ گائے بکری اللہ تعالیٰ نے انسان کے طرح طرح کے نفع کیلئے پیدا کئے ہیں سواریوں کے کام آتے ہیں کھائے جاتے ہیں۔ اونٹ سواری کا کام بھی دے کھایا بھی جائے، دودھ بھی دے، بوجھ بھی ڈھوئے اور دور دراز کے سفر بہ آسانی سے کرا دیئے۔ گائے کا گوشت کھانے کے کام بھی آئے دودھ بھی دے۔ ہل بھی جتے، بکری کا گوشت بھی کھایا جائے اور دودھ بھی پیا جائے۔ پھر ان کے سب کے بال بیسیوں کاموں میں آئیں۔ جیسے کہ سورة انعام سورة نحل وغیرہ میں بیان ہوچکا ہے۔ یہاں بھی یہ منافع بطور انعام گنوائے جا رہے ہیں، دنیا جہاں میں اور اس کے گوشے گوشے میں اور کائنات کے ذرے ذرے میں اور خود تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
سورة الْمُؤْمِن 110
مطلب یہ ہے کہ اگر تم محض تماشا دیکھنے اور دل بہلانے کے لیے معجزے کا مطالبہ نہیں کر رہے ہو، بلکہ تمہیں صرف یہ اطمینان کرنے کی ضرورت ہے کہ محمد ﷺ جنّاتوں کو ماننے کی دعوت تمہیں دے رہے ہیں (یعنی توحید اور آخرت) وہ حق ہیں یا نہیں، تو اس کے لیے خدا کی یہ نشانیاں بہت کافی ہیں جو ہر وقت تمہارے مشاہدے اور تجربے میں آ رہی ہیں۔ حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان نشانیوں کے ہوتے کسی اور نشانی کی کیا حاجت رہ جاتی ہے۔ یہ معجزات کے مطالبے کا تیسرا جواب ہے۔ یہ جواب بھی اس سے پہلے متعدد مقامات پر قرآن میں دیا گیا ہے اور ہم اس کی تشریح اچھی طرح کرچکے ہیں (ملاحظہ ہو جلد اول، الانعام، حواشی 26۔ 27،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
خلاصہ تفسیر
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے مویشی بنائے تاکہ ان میں بعض سے سواری لو اور ان میں بعض (ایسے ہیں کہ ان کو) کھاتے بھی ہو اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں (کہ ان کے بال اور اون کام آتی ہے) اور (اس لئے بنائے) تاکہ تم ان پر (سوار ہو کر) اپنے مطلب تک پہنچو جو تمہارے دلوں میں ہے (جیسے کسی سے ملنے کے لئے جانا، تجارت کے لئے جانا وغیرہ وغیرہ) اور (سوار ہونے میں کچھ ان ہی کی تخصیص نہیں بلکہ) ان پر (بھی) اور کشتی پر (بھی) لدے لدے پھرتے ہو (اور ان کے علاوہ) تم کو اپنی (قدرت کی) اور نشانیاں دکھلاتا رہتا ہے۔ (چنانچہ ہر مصنوع اس کی صنعت پر ایک نشان ہے) سو تم اللہ کی کون کون سی نشانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
ربوبیت کی نشانیوں کی طرف اشارہ
اوپر کی آیت میں نشانیٔ عذاب کے مطالبہ کی طرف اشارہ گزرا۔ وہاں رسول ﷺ کو یہ اطمینان دلایا تھا کہ اس چیز کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے اس وجہ سے معاملہ اسی کے سپرد کرنا چاہئے۔ اس آیت میں عذاب کی نشانی کا مطالبہ کرنے والوں کی ربوبیت کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ عذاب ہی کی کوئی نشانی کیوں مانگتے ہو، خدا کی ربوبیت کی بیشمار نشانیوں پر کیوں نہیں غور کرتے جو تمہارے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں ! اس نے تمہارے لئے چوپائے پیدا کئے جن میں کچھ تمہاری سواری کے کام آتے ہیں اور بعض سے تم اپنی غذائی ضروریات پوری کرتے ہو، علاوہ بریں تمہارے دوسرے بہت سے مفاد بھی ان سے وابستہ ہیں۔ ان…
Read the full tafseer →81۔ 1 جو اس کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں اور یہ نشانیاں آفاق میں ہی نہیں ہیں تمہارے نفسوں کے اندر بھی ہیں۔
81۔ 2 یعنی یہ اتنی واضح عام اور کثیر ہیں جن کا کوئی منکر انکار کرنے کی قدرت نہیں رکھتا یہ استفہام انکار کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–85
20: کفار مکہ حضور اقدس ﷺ سے بار بار نت نئے معجزے دکھانے کی فرمائش کرتے رہتے تھے، اور اصرار کرتے تھے کہ وہی معجزہ دکھائیں جو ہم کہیں، اور مقصد سوائے وقت گزاری کے کچھ نہیں تھا، کیونکہ آپ کے کئی معجزات دیکھنے کے باوجود وہ ایمان لانے پر تیار نہیں تھے، اس لئے یہاں ان کو دینے کے لئے یہ جواب سکھایا جارہا ہے کہ معجزہ دکھانا کسی پیغمبر کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا، وہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے دکھایا جاسکتا ہے۔ اس لیے آپ ان سے صاف کہہ دیں کہ میں تمہاری نت نئی فرمائشیں پوری کرنے سے معذور ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–85
آیت نمبر 81 تا 85
انسانی تاریخ میں گزشتہ اقوام کی تباہی روایات کے ذریعے ان کی کہانیاں محفوظ ہیں۔ بعض کی کہانیاں کتابوں کے اوراق میں محفوظ ہیں۔ قرآن کریم باربار ان ایام اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس لیے کہ انسانیت جس لائن پر بڑھتی چلی آئی ہے اس میں جا بجا حقائق موجود ہیں۔ پھر ان ایام اللہ کا اثر بھی انسان پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ اور قرآن چونکہ خالق فطرت کی طرف سے نازل ہورہا ہے اس لیے وہ فطرت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کرتا ہے۔ قرآن فطرت کی راہ رسم سے خوب واقف ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ اس کی یہ مخلوق کس بات سے متاثر ہوتی ہے اور کس انداز سے اس کے دل میں بات اتاری جاسکتی ہے ، اللہ کو پتہ ہے کہ…
Read the full tafseer →4 یعنی اس قدر کھلے نشان دیکھنے پر بھی آدمی کہاں تک انکار ہی کرتا چلا جائے گا (اور ابھی کیا معلوم اللہ اور کتنے نشان دکھلائے گا)
Read the full tafseer →آیت 81 { وَیُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖق فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُنْکِرُوْنَ } ”اور وہ تمہیں اپنی آیات دکھاتا رہتا ہے ‘ تو تم اللہ کی کون کون سی آیات کا انکار کرو گے ؟“
گزشتہ تین آیات میں آیات آفاقیہ کا ذکر ہوا۔ اب آگے ”ایام اللہ“ یعنی عبرت آموز تاریخی حقائق کا تذکرہ ہے۔
Read the full tafseer →101 مویشیوں میں انسان کے لئے خوئے غلامی کس نے پیدا کی مویشیوں سے انسان کو حاصل ہونے والے فوائد :۔ کفار مکہ رسول اللہ سے طرح طرح کے حسی معجزات کا مطالبہ کیا کرتے تھے۔ جس کا ایک جواب تو سابقہ آیت میں دیا گیا ہے کہ ایسا معجزہ پیش کرنا کسی رسول کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ ان آیات میں کفار کے اسی مطالبہ کا دوسرا جواب دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں تو تمہیں اپنے دائیں بائیں، اوپر نیچے اندر باہر ہر طرف ہی مل سکتی ہیں۔ اگر تم سوچو تو تمہارے راہ راست کو قبول کرنے کے لئے رہنمائی ان میں بھی موجود ہے۔ مثلاً جو مویشی تم پالتے ہو ان پر بھی نظر ڈال کر دیکھ لو۔ ان کی ساخت اور ان کی فطرت ہی ہم نے ایسی بنادی…
Read the full tafseer →77۔ (اور کب تک مسلک شرک پر جمے رہوگے ؟ ) (آیت) ” ایتہ ...... ایت اللہ “۔ مراد وہ سارے واقعات کائنات ہیں جن سے صانع عالم کی توحید پر، قدرت و عظمت پر اور صفت علم و حکمت پر روشنی پڑتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
آیت نمبر 79 تا 85
ترجمہ : اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے (مویشی) پیدا کئے کہا گیا ہے کہ یہاں (انعام) سے خاص طور پر اونٹ مراد ہے اور ظاہر یہی ہے اور بقروغنم بھی معراد ہوسکتے ہیں تاکہ ان میں سے بعض پر تم سواری کرو اور بعض کو ان میں سے کھاتے ہو اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت منافع ہیں (مثلاً ) دودھ، نسل، اونٹ کے بال، اور اون تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنی دلی مراد کو حاصل کرو اور وہ (مختلف) شہروں تک بوجھ لاد کرلیجاتا ہے، اور ان سواریوں پر خشکی میں اور کشتیوں پر دریا میں چڑھے پھرتے ہو اور وہ تمہیں اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے، پس تم وحدانیت پت دلالت کرنے والی کون کون سی نشانیوں کا انکار…
Read the full tafseer →ویریکم ایتہ فای ایت اللہ تنکرون اور اللہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے ‘ سو کس (کس) آیت خداوندی کا انکار
کرو گے ؟ یعنی اللہ تم کو ایسی نشانیاں دکھاتا ہے جو اس کی ہستی قدرت کاملہ اور رحمت عامہ پر دلالت کرتی ہے۔
اَیَّ اٰیٰتِ اللہ میں استفہام انکاری ہے ‘ یعنی آیات الٰہیہ اتنی ظاہر اور اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کا انکار کیا ہی نہیں جاسکتا۔
Read the full tafseer →اور مکہ والو اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی قدرت کی اور بھی نشانیاں دکھاتا رہتا ہے جیسا کہ چاند اور سورج، ستارے، رات، دن، پہاڑ، بادل، دریا وغیرہ یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں سو تم اللہ کی کون کون کون سی نشانیاں کا انکار کرو گے کہ یہ اللہ نشانی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
(1) اللہ الذی جعل لکم الانعام لترکبوا…:”جعل“ یہاں ”خلق“ کے معنی میں ہے : جیسا کہ فرمایا :(الحمد للہ الذی خلق السموت والارض وجعل الظلمت والنور) (الانعام : 1)”سب تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیروں اور روشنی کو بنایا۔“”الانعام“”نعم“ (نون اور عین کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے، اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکریاں، نر و مادہ دونوں۔ (دیکھیے انعام : 142، 143) یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں۔ عموماً یہ لفظ اونٹوں پر بولا جاتا ہے۔ اس آیت میں مذکور زیادہ تر فوائد اونٹوں کے بیان ہوئے ہیں۔ ان آیات کی مفصل تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نحل (5 تا 8، 66، 80) اور سورة مومنون (21،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
( اللہ الذی جعل لکم۔۔۔۔۔۔۔ )
اللہ الذی جعل لکم الانعام ابو اسحاق زجاج نے کہا : انعام سے مراد یہاں اونٹ ہیں لترکموا منھا ومنھا تاکلون۔ جن علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ گھوڑے کا گوشت کھانا منع ہے اور اونٹ کا گوشت کھانا مباح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انعام کے بارے میں فرمایا :” ومنھا تاکلون “ اور گھوڑوں کے بارے میں فرمایا :” وَّالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ لِتَرْکَبُوْھَا “ (النحل : 8) ان کے کھانے کی اباحت کا ذکر نہیں کیا۔ سورة نحل میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
ولکم فیھا منافع اونٹ کے بالوں، اون بکری کے بالوں، دودھ، مکھن، گھی اور پنیر وغیرہ میں تمہارے لیے منافع ہے ولتبلغوا علیھا حاجۃ فی صدور کم یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–85
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولتبلغوا علیھا حاجۃ فی صدورکم “ (تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنے دلی مقصد کو پہنچ جاؤ یعنی تمہارے سفر تمہاری اپنی ضرورت کے لئے ہوں (آیت ) ” وآثارفی الارض “ (اور نشانات جو ان میں چھوڑ گئے) یعنی زمین میں ان کا پیدل چلنا (آیت) ” فرحوا بما عندھم من العلم “ (وہ لوگ اپنے اس علم (معاش) پر بڑے خوش ہوئے جو ان کے پاس تھا یعنی ان کا قول تھا ہم ان سے زیادہ جاننے والے ہیں اور ہم کو ہرگز عذاب نہیں ہوگا (آیت ) ” وحاق بھم ماکانوا بہ یستھزء ون “ (اور وہ جس چیز کا مذاق بناتے تھے اسی نے ان کو گھیر لیا) یعنی ان کے رسول انکے پاس حق کو لائے…
Read the full tafseer →وَيُرِيْكُمْ [ اور وہ دکھاتا ہے تم لوگوں کو ] اٰيٰتِهٖ ڰ [ اپنی نشانیاں ] فَاَيَّ اٰيٰتِ اللّٰهِ [ تو اللہ کی کون کون سی نشانیوں کا ] تُنْكِرُوْنَ [ تم لوگ انکار کروگے ]
Read the full tafseer →(وَیُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖ ) اور اللہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے (فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُنکِرُوْنَ ) سو تم اللہ کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے یعنی اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بہت ہیں اور وہ خوب ظاہر بھی ہیں سب کے سامنے ہیں انکار کرنے کا کوئی موقع نہیں صحیح عقل والا انسان ان کا انکار نہیں کرسکتا جب ان سے انکار نہیں تو توحید کے کیوں قائل نہیں ہوتے اور شرک پر کیوں جمے ہوئے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
ذکر انعامات و توحید رب العالمین، وتہدید منکرین ومشرکین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اللہ الذی جعل لکم الانعام ....... الی ........ وخسرھنالک الکفرون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں سلسلہ مضمون توحید خداوندی تھا اور دلائل قدرت کے بیان کے ساتھ مجرمین کے انجام ہلاکت پر افسوس وملامت کا اظہار ہے، اور یہ کہ خود مجرمین آخرت میں اپنے اعمال پر کس قدر پچھتائیں گے، آیات میں مزید انعامات خداوندی ذکر فرما کر مضمون توحید اور منکرین ومشرکین کی تہدید پر سورت کو ختم فرما دیا گیا، ارشاد ہے، اللہ ہی ہے جس نے تمہارے ہی نفع کے لیے مویشی بنائے تاکہ ان میں سے بعض سے تم سواری لو اور ان میں سے بعض کو کھاؤ، اور بھی بہت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
73:۔ ” اللہ الذی جعل “ یہ بھی دلیل عقلی کا اعادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بےپایاں انعامات و احسانات دیکھو۔ اسی نے تمہارے لیے کئی قسم کے چوپائے پیدا فرمائے ہیں۔ کچھ تو ایسے ہیں جن پر تم سواری کرتے ہو، مثلاً اونٹ اور گھوڑے اور کچھ ایسے ہیں جن کا گوشت کھاتے ہو مراد حلال مویشی ہیں اس کے علاوہ ان سے تم اور کئی قسم کے فوائد و منافع حاصل کرتے۔ دودھ، اون اور چمڑے وغیرہ سے اور اپنی نہایت اہم ضرورتیں پوری کرتے ہو مثلاً اپنا ساز و سامان اور مال تجارت وغیرہ ایک جگہ سے دوسری جگہ ان پر لاد کرلے جاتے ہو۔ یہ سواریاں تو خشکی کے سفر میں کام آتی ہیں اور دریاؤں اور سمندروں کا سفر طے کرنے کے لیے کشتیوں اور بحری جہازوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی تردید فرمائی اور ساتھ ساتھ پیغمبر ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی بھی دی کہ پہلی قوموں نے بھی اپنے انبیاء کرام کی تکذیب کی ان کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں مگر بالاخر کامیابی اللہ کے نبیوں کو ہوئی اور مکذبین دنیا وآخرت دونوں جگہ ناکام اور دائمی عذاب کے مستحق ٹھہرے اب آج کی آیات میں پہلے کچھ دلائل توحید بیان ہوئے ہیں اور پھر کفار و مشرکین کی توجہ سابقہ اقوام کی طرف دلائی گئی ہے جو ان سے زیادہ تعداد میں اور زیادہ طاقتور تھے مگر وہ اپنے غرور وتکبر کی وجہ سے مبتلائے عذاب ہوئے اس وقت انہوں نے توبہ کی مگر اس بےوقت ایمان لانے کا کچھ فائدہ حاصل نہ…
Read the full tafseer →وَيُرِيْكُمْ اٰيٰتِہٖ 0 ۤۖ فَاَيَّ اٰيٰتِ اللہِ تُنْكِرُوْنَ 81
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ،
( ر ء ی ) رای
الرؤیتہ
کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
تفسیر : خوف دلانے کے بعد پھر وہ دلائل بیان فرماتا ہے کہ جو اللہ حکیم رحیم کے وجود پر دلالت کرتے ہیں اور جن سے اس کا بندوں پر انعام و احسان ثابت ہوتا ہے۔ فقال اللہ الذی الخ کہ اللہ وہ محسن و رحیم و کریم و قادر ہے کہ جس نے تم سے بڑے زور آور جانوروں کو تمہارے بس میں کردیا کہ ان میں سے تم کسی پر سوار ہوتے ہو۔ جیسا کہ اونٹ، گھوڑا، گدھا بعض ملکوں میں بیل ہاتھی بھی یہی کام دیتے ہیں اور بعض کو تم ذبح کرکے کھاتے ہوگائے، بھیڑ، بکری وغیرہ۔
اور اسی پر بس نہیں بلکہ ولکم فیہا منافع اس کے علاوہ تمہارے لیے ان میں اور بھی فوائد ہیں، ان سے نفع لیتے ہو۔ دودھ، گھی فروخت کرتے ہو کھاتے پیتے ہو ہل جو تتے ہو، ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَـکُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْکَبُوْا مِنْھَا وَمِنْھَا تَاْکُلُوْنَ ۔ وَلَکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ وَلِتَبْلُغُوْا عَلَیْھَا حَاجَۃً فِیْ صُدُوْرِکُمْ وَعَلَیْھَا وَعَلَی الْفُلْکِ تُحْمَلُوْنَ ۔ وَیُرِیْـکُمْ اٰیٰـتِہٖ صلے ق فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُنْـکِرُوْنَ ۔ (المؤمن : 79 تا 81)
(اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے پیدا کیے تاکہ تم ان میں سے کسی سے سواری کا کام لو اور کسی کا گوشت کھائو۔ ان کے اندر تمہارے لیے اور بھی بہت سے منافع ہیں تاکہ تم ان کے ذریعہ سے اس ضرورت تک پہنچو جو تمہارے سینوں میں ہے اور ان پر بھی اور کشتیوں پر بھی تم سوار کیے جاتے ہو۔ اللہ تم کو اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
فہم القرآن
ربط کلام : اگر باطل پرست حق پانا اور دنیا، آخرت کے نقصان سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں کم ازکم چوپاؤں اور کشتیوں پر ہی غور کرلینا چاہیے اگر بلا تعصّب غور کریں گے تو یقیناً ہدایت پائیں گے۔
اس آیت کریمہ سے پہلے آیت نمبر 60 میں حکم دیا گیا ہے کہ صرف اپنے رب سے مانگو اور اس کی عبادت کرو اس کے بعد آفاق اور انسان کو اپنی تخلیق اور خوراک پر غور کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں پیدا کرنے اور پالنے والا صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ بس اس کے حکم کے مطابق اور پورے اخلاص کے ساتھ صرف اسی ہی کی عبادت کرو کیونکہ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا اور زندگی و موت کا مالک ہے۔ پھر مشرکین کے روییّ ان کے انجام کا ذکر…
Read the full tafseer →وَيُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ ڰ فَاَيَّ اٰيٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ (اور تم کو اور بھی نشانیاں دکھلاتا رہتا ہے پس تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کرو گے) کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے۔ یہ استفہام انکاری ہے۔
نحو : ای یہ تنکرون کی وجہ سے منصوب ہے اور مشہور لغت میں بھی وارد ہے۔ باقی ایۃ آیات اللہ یہ قلیل الاستعمال ہے۔ کیونکہ مذکر و مونث میں فرق ۃ کے ذریعہ اسماء میں ہے صفات میں نہیں۔ باقی رہے حمار، حمارۃ وغیرہ قلیل الاستعمال ہیں اور ای میں تو ابہام کی وجہ سے یہ اور بھی غریب تر اور انوکھی بات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
تفسیر 80۔۔۔۔۔۔ ، اللہ الذی جعل لکم الانعام لترکبوامنھا، ان میں سے بعض پر، ومنھاتاکلون ولکم فیھا منافع، ان کی اون، پشم اور ان کے بالوں اور دودھ میں۔ ، ولتبلغواعلیھا حاجۃ فی صدورکم، وہ تمہارے بوجھ ایک شہر سے دوسرے شہراٹھا کرلے جاتے ہیں اور تاکہ تم ان پر اپنی ضرورت تک پہنچ سکو۔ ، وعلیھا وعلی الفلک تحملون، یعنی خشکی میں اونٹ پر اور سمندر میں کشتیوں پر۔ اس کی نظیرباری تعالیٰ کافرمان، وحملناھم فی البرالبحر،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–85
81۔ 85۔ اللہ نے انسان کی پیدائش انسان کی ضرورت کے کھیتی کے بوجھ لادنے کے سواری کے جانوروں کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی قدرت سے اللہ کے معبود حقیقی ہونے سے بیخبر ہیں ان کے خبردار کرنے کے لئے یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں یہ سب نشانیاں دیکھ کر بھی یہ بیخبر لوگ اپنی بیخبر ی سے باز نہیں آتے تو ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آخر یہ لوگ اللہ کی قدرت کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کریں گے خود اپنی پیدائش کے منکر ہیں کہ سوا اللہ کے کسی اور کو ان کی پیدائش میں دخل ہے یا ان کی ضرورت کی چیزیں کسی اور نے پیدا کردی ہیں اور جب اللہ کے اس سوال کا جواب یہ لوگ نہیں دے سکے تو پھر جن بتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–84
آیت 81
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احاسنات کا ذکر کترا ہے کہ اس نے ان کے لئے چوپائے پیدا کئے جن پر ان کے مفادات کا دار و مدار ہے۔ ان میں سے کچھ مویشیوں کو وہ سواری اور نقل و حمل کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ کچھ چوپایوں کا گوشت کھاتے اور ان کا دودھ پیتے ہیں۔ کچھ مویشیوں کی اون سے گرمی حاصل کرتے ہیں۔ ان کے بالوں، پشم اور اون سے آلات اور استعملا کا اسمان بناتے ہیں اور ان سے دیگر فوائد حاصل کرتے ہیں۔
(آیت) ” اور تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنی حاجت و ضرورت کو پہنچو جو تمہارے سینوں میں ہے۔ “ یعنی تم ان دور دراز ملکوں میں پہنچ سکو جہاں پہنچنے کی اپنے دلوں میں ضرورت محسوس کرتے ہو اور تاکہ ان کے باعث ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–85
دعا ہی عبادت ہے
قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔
Read the full tafseer →153 تو تم لوگ اللہ کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کرو گے ؟ : توبیخ و تنبیہ ہے کہ اللہ پاک کی قدرت و عنایت اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی اتنی اتنی اور ایسی ایسی واضح اور عظیم الشان نشانیاں اس کائنات میں ہر طرف پھیلی بکھری ہیں۔ تم ان کا کہاں تک اور کب تک انکار کرو گے۔ اور اس کی قدرت و وحدانیت پر تم لوگ کب تک ایمان و یقین نہیں لاؤ گے ؟ تو کیا جس قادر مطلق نے تمہاری ضروریات کیلئے ایسے ایسے عظیم الشان اور پر حکمت انتظامات فرمائے اور اپنی قدرت و حکمت کی یہ طرح طرح کی نشانیاں اس نے تم لوگوں کو دکھلائیں کیا اس کا تم پر کوئی حق نہیں ؟ اور کیا تم لوگ یونہی شتر بےمہار بنے قعر غفلت میں پڑے رہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–85
جھٹلانے والوں کا انجام
تشریح : یہ ان بدنصیب لوگوں کی داستان ہے جن کو پیغمبروں نے ہدایت کی طرف بلایا توحید کی دعوت دی ‘ توحید کی خوبیاں بتائیں ‘ اللہ سے ڈرایا ‘ برے کاموں سے منع کیا اور بار بار دلیلوں کے ساتھ سمجھایا کہ برے کام نہ صرف دنیا میں ہی نقصان دیتے ہیں بلکہ آخرت کو بھی خراب کردیتے ہیں۔ جہنم کے عذاب کا نقشہ بیان کیا جس کو اگر انسان غور ‘ یقین اور توجہ سے دیکھے تو چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ مـگر کفار پہلے بھی اب بھی اور آئندہ بھی شیطان کی گرفت میں اتنی بری طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ روشنی اور ہدایت کی بات ان پر اثر ہی نہیں کرتی بلکہ الٹا پیغمبروں کو ہی جھٹلاتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں اور نیکی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
رکوع نمبر 9: آیات 79 تا 85:
اسرار و معارف :
اللہ وہ ذات کریم ہے جس نے تمہاری خدمت کے لیے کتنی اقسام کے جانور پیدا کردئیے اور تمہیں ان پر یہاں تک اختیار بخشا کہ کسی پر سواری کرتے ہو تو کسی کو ذبح کرکے کھالیتے ہو کبھی ان کی تجارت کرکے اپنے لیے دولت کماتے ہو غرض جو جی میں آئے اپنی سب ضرورتیں پوری کرتے ہو اور تم زمین پر پانی میں ہر جگہ مختلف سواریاں استعمال کرتے ہو یہ سب تو اس کی عظمت کے گواہ ہیں تم بھلا کون کون سی دلیل کا انکار کروگے۔ کیا روئے زمین پر پھر کر نہیں دیکھا کہ پہلی اقوام کا کیا انجام ہوا ان کے چھوڑے ہوئے آثار اور کھنڈرات بتاتے ہیں کہ وہ تم لوگوں سے کہیں زیادہ طاقتور اور مالدار تھے…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی اس کی نشانیاں تو بیشمار ہیں۔ ایک سے انکار کرو گے تو دوسری سامنے آجائے گی۔ علی ہذا القیاس آخر کہاں تک انکار کرتے چلے جائو گے۔
Read the full tafseer →(40:81) یریکم : مضارع واحد مذکر غائب اراء ۃ (افعال) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو دکھاتا ہے ایتہ اس کو نشانیاں۔ اپنی نشانیاں۔ یری کا مفعول ثانی ہے۔
تنکرون : مضارع جمع مذکر حاضر۔ انکار (افعال) مصدر تم انکار کرتے ہو۔ تم انکار کرو گے۔
ای ایت اللّٰہ تنکرون : میں استفہام انکاری ہے (اور تنکرون کی وجہ سے منصوب ہے) یعنی آیات اللہ اتنی ظاہر اور اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کا انکار کیا ہی نہیں جاسکتا۔
ای (کونسا) جس، کس کس، کیا کیا۔ استفہامیہ آتا ہے۔ جیسے مذکورۃ الصدر۔ یہ شرطیہ بھی آتا ہے مثلا ایما الاجلین قضیت فلا عدوان علی (28:28) میں جونسی مدت چاہوں پوری کروں پھر مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 85 : الانعام ( مویشی ، جانور) لترکبوا ( تا کہ تم سواری کرو) حاجۃ (ضرورت) تنکرون ( تم انکار کرو گے) ما اغنی (کام نہ آیا) خلت (گزر گئی) سنت اللہ ( اللہ کا قانون ، اللہ کا دستور)
تشریح : آیت نمبر 79 تا 85 : سورة مومن کی آخرت آیات میں انسانی زندگی گزارنے کی بہت سی چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے مثلاً غذا ، سواری ، صنعتیں ، سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لانے لے جانے کے اسباب وغیرہ ۔ اگرچہ چیزیں نہ ہوں تو انسان کو اپنی زندگی اور تہذیب و تمدن کے تقاضوں کو پورا کرنا مشکل ہوجائے۔
اللہ نے انسان کو ان بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے جس پر ہر انسان کو ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–85
آثار موت کے وقت ایمان قبول نہیں۔
(ف 3) اس آیت میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی قدرت سے اللہ کے معبود حقیقی ہونے سے بیخبر ہیں ان کے خبردار کرنے کے لیے یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں یہ سب نشانیاں دیکھ کر بھی یہ بیخبر لوگ اپنی بیخبر ی سے باز نہیں آتے، تو ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آخریہ لوگ اللہ کی قدرت کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کرتے ہیں خود اپنی پیدائش کے منکر ہیں سو اللہ کے کسی اور کو ان کی پیدائش میں دخل ہے یا ان کی ضرورت کی چیزیں کس اور نے پیدا کردی ہیں اور جب اللہ کے اس سوال کا جواب یہ لوگ نہیں دے سکتے، تو پھر جن بتوں کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں ان بتوں کو اللہ کا شریک کرنے کا کون ساحق حاصل…
Read the full tafseer →[29] یعنی ان نشانیوں کے ہوتے ہوئے کسی اور نشانی کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
(ف 1) علاوہ اس کے بیشمار اس کی نشانیاں ہیں ۔ جو وہ تم کو صبح وشام دکھاتا رہتا ہے ۔ کیا ان نوایہ مادی کا ، اور ان آیات کا یہ تقاضا نہیں ہے ۔ کہ تم زندگی کے متعلق اور اس کے مقصد کے متعلق کچھ سوچو ۔ اور انکار وسرکشی سے کام لو ۔ گوشت خوری کو بھی اللہ تعالیٰ نے انعامات میں ذکر فرمایا ہے ۔ بتانا یہ مقصود ہے ۔ کہ کائنات میں جو کچھ ہے ۔ وہ اس لئے ہے ۔ کہ حیات کبریٰ یعنی انسانیت کے کام آئے اور انسان دنیا کی ہر چیز سے استفادہ کرے ۔
Read the full tafseer →(81) اور وہ تم کو اپنی اور نشانیاں بھی دکھاتا رہتا ہے پھر تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کرو گے۔ یعنی اس کی توحید اور اس کی قدرت کی بیشمار نشانیاں جلوگر ہیں جو وہ تم کو دکھاتا ہے پھر تم کس کس نشانی کا انکار کرو گے کہ یہ نشانی اس کی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ چناچہ ہر مصنوع اس کی صنعت پر ایک نشان ہے۔
Read the full tafseer →کیا ان ساری چیزوں میں تمہارے لیے نشانیاں موجود نہیں ہیں ؟
81۔ جن چیزوں کا ذکر گزشتہ دو آیتوں میں کیا گیا ہے کیا ان میں تمہارے لیے نشانیاں موجو نہیں ہیں ؟ اگر ہیں تو تم کٹ حجتیاں کرنے کے لیے نئی نئی نشانیوں کے مطالبات کیوں کرتے ہو جب کہ تم خود اور تمہارے اردگرد ہزاروں نشانیاں خود بخود موجود ہیں اور یہ کہ اگر تم ان نشانیوں کو شمار کرنا چاہو تو تم شمار نہیں کرسکتے تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو کون کون سی نشانیوں کو جھٹلانے کی کوشش کرو گے اور جھٹلا سکو گے۔ معلوم ہوا کہ اللہ رب کریم کی نشانیوں کی کوئی کمی نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ تمہاری آنکھیں ان نشانیوں کو دیکھ ہی نہیں سکتیں کیونکہ تم اپنی آنکھوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
Commentary
In verse 83, it was said: فَرِحُوا بِمَا عِندَهُم مِّنَ الْعِلْمِ (they exulted because of whatever of knowledge they had,) that is, when the messengers of Allah Ta’ ala came to these deniers, who were utterly oblivious to their end, with clear arguments in favor of tauhid (Oneness of Allah) and 'iman (faith), they took their knowledge to be better and truer than the knowledge brought by prophets, and started rejecting what they said. What was this knowledge with which the disbelievers were exultant to the extent that they would even reject the body of knowledge brought by…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
110 It means this: "If you are not demanding a miracle only for the sake of fun and amusement but want to have the satisfaction whether that to which Muhammad (upon whom be Allah's peace) is inviting you(i.e. Tauhid and the Hereafter) is true or not,then God's those Signs which you are observing and experiencing at alI times, are quite enough.For there remains no need for other signs when there are these Signs to help you understand the Truth." This is the third answer to their demand of the miracles. This answer also has been given at several places in the Qur'an and we have given detailed…
Read the full tafseer →