40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة ال مومن یہاں سے سورة احقاف تک ہر سورت حٰمٓ کے حروف مقطعات سے شروع ہورہی ہے، جیسا کہ سورة بقرہ کے شروع میں عرض کیا گیا تھا ان حروف کا ٹھیک ٹھیک مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، چونکہ یہ سات سورتیں حٰمٓ سے شروع ہورہی ہیں اس لئے ان کو حوامیم کہا جاتا ہے، اور ان کے اسلوب میں عربی بلاغت کے لحاظ سے جو ادبی حسن ہے اس کی وجہ سے انہیں عروس القرآن یعنی قرآن کی دلہن کا لقب بھی دیا گیا ہے، یہ تمام سورتیں مکی ہیں، اور ان میں اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت، اور آخرت کے مضامین پر زور دیا گیا ہے، کفار کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے، اور کفر کے برے انجام سے خبر دار کیا گیا ہے، اور بعض انبیائے کرام کے واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے، اس پہلی سورت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرتے ہوئے آیت ٢٨ سے ٣٥ تک فرعون کی قوم کے ایک ایسے مرد مومن کی تقریر نقل فرمائی گئی ہے جنہوں نے اپنا ایمان تک چھپایا ہوا تھا، لیکن جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اور ان کے رفقاء پر فرعون کے مظالم بڑھنے کا اندیشہ ہوا، اور فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو انہوں نے اپنے ایمان کا کھلم کھلا اعلان کرتے ہوئے فرعون کے دربار میں یہ موثر تقریر فرمائی، اسی مرد مومن کے حوالے سے اس سورت کا نام بھی مومن ہے اور اسے سورة غافر بھی کہتے ہیں غافر کے معنی ہیں معاف کرنے والا، اس سورت کی ابتدائی آیت میں یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کرتے ہوئے استعمال ہوا ہے، اس وجہ سے سورت کی پہچان کے لئے اس کا ایک نام غافر بھی رکھا گیا۔

Ayah 40:1
Ayah 40:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

یہ کتاب اللہ کی طرف سے اتاری جا رہی ہے جو بڑا صاحب اقدار، بڑے علم کا مالک ہے

Ayah 40:3

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

جو گناہ کو معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا، بڑی طاقت کا مالک ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔

Ayahs 40:4–8

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

اللہ کی آیتوں میں جھگڑے وہی لوگ پیدا کرتے ہیں جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے لہذا ان لوگوں کا شہروں میں دندناتے پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے (1)

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد بہت سے گروہوں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا اور ہر قوم نے اپنے پیغمبر کے بارے میں یہ ارادہ کیا تھا کہ انہیں گرفتار کرلے، اور انہوں نے باطل کا سہارا لے کر جھگڑے کیے تھے تاکہ اس کے ذریعے حق کو مٹا دیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے ان کو پکڑ میں لے لیا۔ اب (دیکھ لو کہ) میری سزا کسی (سخت) تھی۔

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کے بارے میں تمہارے پروردگار کی یہ بات بھی پکی ہوچکی ہے کہ وہ دوزخی لوگ ہیں۔

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

وہ (فرشتے) جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں، اور جو اس کے گرد موجود ہیں، وہ سب اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں، اور اس پر ایمان رکھتے ہیں، اور جو لوگ ایمان لے آئیں ہیں ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں (کہ): اے ہمارے پروردگار ! تیری رحمت اور علم ہر چیز پر حاوی ہے، اس لیے جن لوگوں نے توبہ کرلی ہے اور تیرے راستے پر چل پڑے ہیں، ان کی بخشش فرما دے اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اور اے پروردگار ! انہیں ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں داخل فرما۔ جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ نیز ان کے ماں باپ اور بیوی بچوں میں سے جو نیک ہوں، انہیں بھی، یقیناً تیری اور صرف تیری ذات وہ ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی حکمت بھی کامل

1: یعنی کافر لوگ اپنے کفر کے باوجود جس طرح خوش حال نظر آتے ہیں، اس سے کسی کو یہ دھوکا نہ ہو کہ انہیں اپنے کیے کی سزا نہیں ملے گی۔
Ayah 40:9

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور ان کو ہر طرح کی برائیوں سے محفوظ رکھ (2) اور اس دن جسے تو نے برائیوں سے محفوظ کرلیا اس پر تو نے بڑا رحم فرمایا۔ اور یہی زبردست کامیابی ہے۔

2: برائیوں سے مراد دوزخ کی تکلیفیں بھی ہوسکتی ہیں، اور دنیا میں کی ہوئی برائیاں بھی، اور اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں کی ہوئی برائیوں کے انجام سے بچائے، یعنی ان برائیوں کو معاف فرما دے۔
Ayah 40:10

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے، ان سے پکار کر کہا جائے گا کہ : (آج) تمہیں جتنی بیزار اپنے آپ سے ہو رہی ہے (3) اس سے زیادہ بیزاری اللہ کو اس وقت ہوتی تھی جب تمہیں ایمان دعوت دی جاتی تھی اور تم انکار کرتے تھے۔

3: یہ بات اس وقت کہی جائے گی جب کافر لوگ دوزخ میں پہنچ کر عذاب میں مبتلا ہوں گے، اور اس وقت وہ خود اپنے آپ سے نفرت کریں گے کہ ہم نے دنیا میں کفر کا راستہ کیوں اختیار کیا تھا۔
Ayahs 40:11–24

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہمیں دو مرتبہ موت (4) اور دو مرتبہ زندگی دی، اب ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں، تو کیا (ہمارے دوزخ سے) نکلنے کا کوئی راستہ ہے ؟

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

(جواب دیا جائے گا کہ :) تمہاری یہ حالت اس لیے ہے کہ اللہ کو تنہا پکارا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے، اور اگر اس کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرایا جاتا تھا تو تم مان لیتے تھے۔ اب تو فیصلہ اللہ ہی کا ہے جس کی شان بہت اونچی، جس کی ذات بہت بڑی ہے۔

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا اور تمہارے لیے آسمان سے رزق اتارتا ہے۔ اور نصیحت تو وہی مانا کرتا ہے جو (ہدایت کے لیے دل سے رجوع ہو۔

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

لہذا (اے لوگو !) اللہ کو اس طرح پکارو کہ تمہاری تابعداری خالص اسی کے لیے ہو چاہے کافروں کو کتنا برا لگے

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہ اونچے درجوں والا، عرش کا مالک ہے۔ وہ اپنے بندوں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے روح (یعنی وحی) نازل کردیتا ہے تاکہ ملاقات کے اس دن سے (لوگوں کو) خبردار کرے)

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس دن وہ سب کھل کر سامنے آجائیں گے، اللہ سے ان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہوگی۔ (کہا جائے گا :) کس کی بادشاہی ہے آج ؟ (جواب ایک ہی ہوگا کہ :) صرف اللہ کی جو واحد وقہار ہے

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج کے دن ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا آج کوئی ظلم نہیں ہو گا۔ یقینا اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

(اے پیغمبر !) ان لوگوں کو ایک ایسی مصیبت کے دن سے ڈراؤ جو قریب آنے والی ہے، جب لوگوں کے کلیجے گھٹ گھٹ کر منہ کو آجائیں گے، ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی ایسا سفارشی جس کی بات مانی جائے

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

اللہ آنکھوں کی چوری کو بھی جانتا ہے، اور ان باتوں کو بھی جن کو سینوں نے چھپا رکھا ہے

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور اللہ برحق فیصلے کرتا ہے اور اسے چھوڑ کر جن (جھوٹے خداؤں) کو یہ پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ یقیناً اللہ ہی ہے جو ہر بات سنتا، سب کچھ دیکھتا ہے

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

اور کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر یہ نہیں دیکھا کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے، ان کا کیسا انجام ہوچکا ہے۔ وہ طاقت میں بھی ان سے زیادہ مضبوط تھے، اور زمین میں چھوڑی ہوئی یادگاروں کے اعتبار سے بھی۔ پھر اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں پکڑ میں لے لیا۔ اور کوئی نہیں تھا جو انہیں اللہ سے بچائے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلی کھلی دلیلیں لے کر آتے تھے تو یہ انکار کرتے تھے، اس لیے اللہ نے انہیں پکڑ میں لیا۔ یقینا وہ بڑی قوت والا سزا دینے میں بڑا سخت ہے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور بڑی واضح دلیل دے کر بھیجا تھا

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

فرعون، ہامان اور قارون کے پاس، تو انہوں نے کہا کہ یہ جھوٹا جادوگر ہے

4: ایک مرتبہ کی موت سے مراد تو پیدائش سے پہلے کا وہ وقت ہے جب انسان وجود ہی میں نہیں آیا تھا، اور اس وقت گویا مردہ تھا، اور دوسری موت سے مراد وہ موت ہے جو زندگی کے آخر میں آئی۔ کافروں کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا میں اس بات کے تو قائل تھے کہ ہم پیدائش سے پہلے موجود نہیں تھے، اور آخر میں ہمیں موت آنے والی ہے، لیکن دو مرتبہ زندگی کے قائل نہیں تھے۔ اب ہمیں اس دوسری زندگی کا بھی یقین آگیا ہے۔
Ayahs 40:25–27

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

پھر جب وہ لوگوں کے پاس وہ حق بات لے کر گئے جو ہماری طرف سے آئی تھی (5) تو انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لے آئے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر ڈالو اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھو۔ حالانکہ کافروں کی چال کا اناجم اس کے سوا کچھ نہیں وہ مقصد تک نہ پہنچ سکیں

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا : لاؤ میں موسیٰ کو قتل ہی کر ڈالوں، اور اسے چاہیے کہ اپنے رب کو پکار لے۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا، یا زمین میں فساد برپا کردے گا۔

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا : میں نے تو ہر اس متکبر سے جو یوم حساب پر ایمان نہیں رکھتا، اس کی پناہ لے لی ہے جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔

5: یعنی جب وہ سچے دین کا پیغام عام لوگوں کے پاس لے کر گئے اور بہت سے لوگ ان پر ایمان لانے لگے تو فرعون کے لوگوں نے یہ تجویز دی کہ جو مرد ایمان لائیں، ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور عورتوں کو زندہ رکھو تاکہ انہیں غلام بناکر ان سے خدمت لی جائے، یہ حکم ایک تو موسیٰ ؑ کی پیدائش سے پہلے دیا گیا تھا جس کی تفصیل سورة طٰہٰ اور سورة قصص میں گزرچکی ہے، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ کسی نجومی نے پیشین گوئی کی تھی کہ بنی اسرائیل کا کوئی شخص فرعون کا تختہ الٹے گا، اور دوسری بار یہ حکم اس وقت دیا گیا جب لوگ حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لانے لگے، اور بیٹوں کو قتل کرنے کا منشاء ایک تو یہ تھا کہ ایمان لانے والوں کی نسل نہ پھیلے، اور دوسرے عام طور سے انسان کو اپنے بیٹوں کے قتل ہونے کا زیادہ صدمہ ہوتا ہے، اس لئے لوگ ایمان لاتے ہوئے ڈریں گے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آگے ارشاد فرمایا ہے کہ کافروں کی اس طرح کی تدبیریں آخر کار ناکام ہوتی ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے جو فیصلہ کیا ہوتا ہے وہی غالب رہتا ہے، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آخر کار فرعون غرق ہوا اور بنی اسرائیل کو فتح حاصل ہوئی۔
Ayahs 40:28–33

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اور فرعون کے خاندان میں سے ایک مومن شخص جو ابھی تک اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا (6) بول اٹھا کہ کیا تم ایک شخص کو صرف اس لیے قتل کر رہے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا پروردگار اللہ ہے ؟ حالانکہ وہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے روشن دلیلیں لے کر آیا ہے۔ اور اگر وہ جھوٹا ہی ہو تو اس کا جھوٹ اسی پر پڑے گا (7) اور اگر سچا ہو تو جس چیز سے وہ تمہیں ڈرا رہا ہے اس میں کچھ تو تم پر آ ہی پڑے گی اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گذر جانے والا (اور) جھوٹ بولنے کا عادی ہو۔

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے میری قوم ! آج تو تمہیں ایسی سلطنت حاصل ہے کہ زمین میں تمہارا راج ہے، لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو کون ہے جو اس کے مقابلے میں ہماری مدد کرے ؟۔ فرعون نے کہا میں تو تمہیں وہی رائے دوں گا جسے میں درست سمجھتا ہوں، اور میں تمہاری جو رہنمائی کر رہا ہوں وہ بالکل ٹھیک راستے کی طرف کر رہا ہوں

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

اور جو شخص ایمان لے آیا تھا اس نے کہا : اے میری قوم ! مجھے ڈر ہے کہ تم پر ویسا ہی دن نہ آجائے جیسا بہت سے گروہوں پر آچکا ہے۔

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

(اور تمہارا حال بھی ویسا نہ ہو) جیسا حال نوح ؑ کی قوم کا، اور عاد وثمود کا اور ان کے بعد کے لوگوں کا ہوا تھا۔ اور اللہ بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا۔

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! مجھے تم پر اس دن کا خوف ہے جس میں چیخ پکار مچی ہوگی۔

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جس دم تم پیٹھ پھیر کر اس طرح بھاگو گے کہ کوئی بھی تمہیں اللہ سے بچانے والا نہیں ہوگا اور جسے اللہ بھٹکا دے اسے کوئی راستہ دکھانے والا میسر نہیں آتا۔

6: یہ صاحب کون تھے ؟ ان کا نام قرآن کریم نے نہیں لیا، بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ یہ فرعون کے چچا زاد بھائی تھے، اور ان کا نام شمعان تھا۔ واللہ اعلم 7: یعنی جو شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے، اسے اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں رسوا کردیتا ہے، اس لیے اگر بالفرض یہ جھوٹے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں خود رسوا کردے گا، تمہیں ان کو قتل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
Ayahs 40:34–36

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ اس سے پہلے یوسف ؑ تمہارے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے تھے (8) تب بھی تم ان کی لائی ہوئی باتوں کے متعلق شک میں پڑے رہے۔ پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا کہ ان کے بعد اللہ اب کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا (9)۔ اسی طرح اللہ ان تمام لوگوں کو گمراہی میں ڈالے رکھتا ہے جو حد سے گذرے ہوئے، شکی ہوتے ہیں۔

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

جو اپنے پاس کسی واضح دلیل کے آئے بغیر اللہ کی آیتوں میں جھگڑے نکالا کرتے ہیں۔ یہ بات اللہ کے نزدیک بھی قابل نفرت ہے اور ان لوگوں کے نزدیک بھی جو ایمان لے آئے ہیں۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر جابر شخص کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

اور فرعون نے (اپنے وزیر سے) کہا کہ اے ہامان ! میرے لیے ایک اونچی عمارت بنادو تاکہ میں ان راستوں تک پہنچوں

8: یہ خطاب فرعون کی قوم یعنی قبطیوں کو ہو رہا ہے، اور قبطیوں کو ہدایت کا پیغام حضرت یوسف ؑ نے دیا تھا۔ 9: یعنی اول تو حضرت یوسف ؑ کی نبوت ہی کا انکار کرتے رہے، اور جب ان کی وفات ہوگئی تو ان کے کارنامے یاد کر کے تم نے یہ کہا کہ اگر وہ رسول تھے بھی تو اب ان جیسا آدمی پیدا نہیں ہوسکتا، اور اس طرح آئندہ بھی کسی پیغمبر کو ماننے کا دروازہ بند کردیا۔