39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الزمر یہ سورت مکی زندگی کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی، اور اس میں مشرکین کے مختلف باطل عقیدوں کی تردید فرمائی گئی ہے، یہ مشرکین مانتے تھے کہ کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ؛ لیکن انہوں نے مختلف دیوتا گھڑ کر یہ مانا ہوا تھا کہ ان کی عبادت کرنے سے وہ خوش ہوں گے، اور اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری سفارش کریں گے، اور بعض نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیا ہوا تھا، اس سورت میں ان محتلف عقائد کی تردید کرکے انہیں توحید کی دعوت دی گئی ہے، یہ وہ دور ہے جب مسلمانوں کو مشرکین کے ہاتھوں بدترین اذیتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، اس لئے اس سورت میں مسلمانوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ کسی ایسے خطے کی طرف ہجرت کرجائیں جہاں وہ اطمینان سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرسکیں، نیز کافروں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے اپنی معاندانہ روش نہ چھوڑی تو انہیں بدترین سزا کا سامنا کرنا پڑے گا، سورت کے آخر میں نقشہ کھینچا گیا ہے کہ آخرت میں کافر کس طرح گروہوں کی شکل میں دوزخ تک لے جائے جائیں گے، اور مسلمانوں کو کس طرح گروہوں کی شکل میں جنت کی طرف لے جایا جائے گا، گروہوں کے لئے عربی لفظ زمر استعمال کیا گیا ہے اور وہی اس سورت کا نام ہے۔

Ayah 39:1

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی جارہی ہے، جو بڑے اقتدار کا مالک ہے، بہت حکمت والا ہے۔

Ayah 39:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

(اے پیغمبر) بیشک یہ کتاب ہم نے تم پر برحق نازل کی ہے، اسلیے اللہ کی اس طرح عبادت کرو کہ بندگی خالص اسی کے لیے ہو۔

Ayahs 39:3–5

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

یاد رکھو کہ خالص بندگی اللہ ہی کا حق ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کے بجائے دوسرے رکھوالے بنا لیے ہیں۔ (یہ کہہ کر کہ) ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں۔ (1) ان کے درمیان اللہ ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ یقین رکھو کہ اللہ کسی ایسے شخص کو راستے پر نہیں لاتا جو جھوٹا ہو، کفر پر جما ہوا ہو۔

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اگر اللہ یہ چاہتا کہ کسی کو اولاد بنائے تو وہ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا منتخب کرلیتا، (لیکن) وہ پاک ہے (اس بات سے کہ اس کی کوئی اولاد ہو) وہ تو اللہ ہے، ایک، اور زبردست اقتدار کا مالک۔

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

اس نے سارے آسمان اور زمین برحق پیدا کیے ہیں۔ وہ رات کو دن پر لپیٹ دیتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا، اور اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا یا ہوا ہے۔ ہر ایک کسی معین مدت تک کے لیے رواں دواں ہے۔ یاد رکھو وہ بڑے اقتدار کا مالک، بہت بخشنے والا ہے۔

1: مشرکین عرب عام طور سے یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ کائنات اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی ہے، لیکن انہوں نے کچھ دیوتا گھڑ کر ان کے بت بنا لیے تھے، اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ہم ان کی عبادت کریں گے تو یہ اللہ تعالیٰ سے ہماری سفارش کریں گے، اور ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوگا۔ قرآن کریم نے اس کو بھی شرک قرار دیا، کیونکہ اول تو ان دیوتاؤں کی کوئی حقیقت ہی نہیں تھی، دوسرے عبادت تو اللہ تعالیٰ کا خالص حق ہے، کسی دوسرے کی عبادت، خواہ کسی نیت سے کی جائے، شرک ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص واقعی بزرگ اور ولی اللہ ہو، تب بھی اس کی عبادت شرک ہے، چاہے اس نیت سے ہو کہ اس کے ذریعے ہمیں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا۔
Ayahs 39:6–8

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

اس نے تم سب کو ایک شخص سے پیدا کیا (2) پھر اسی سے اس کا جوڑ بنایا، اور تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ جوڑے پیدا کیے (3) وہ تمہاری تخلیق تمہاری ماؤں کے پیٹ میں اس طرح کرتا ہے کہ تین اندھیریوں کے درمیان تم بناوٹ کے ایک مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے سے گزرتے ہو۔ (4) وہ ہے اللہ جو تمہارا پروردگار ہے۔ ساری بادشاہی اسی کی ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ پھر بھی تمہارا منہ آخر کوئی کہاں سے موڑ دیتا ہے ؟

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر تم کفر اختیار کرو گے تو یقین رکھو کہ اللہ تم سے بےنیاز ہے، اور وہ اپنے بندوں کے لیے کفر پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکر کرو گے تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرے گا، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، پھر تم سب کو اپنے پروردگار ہی کے پاس لوٹ کر جانا ہے، اس وقت وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کچھ کیا کرتے تھے۔ یقینا وہ دلوں کی باتیں بھی خوب جانتا ہے۔

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

اور جب انسان کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کو اسی سے لو لگا کر پکارتا ہے، پھر جب وہ انسان کو اپنی طرف سے کوئی نعمت بخش دیتا ہے تو وہ اس (تکلیف) کو بھول جاتا ہے جس کے لیے پہلے اللہ کو پکار رہا تھا، اور اللہ کے لیے شریک گھڑ لیتا ہے، جس کے نتیجے میں دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے بھٹکاتا ہے۔ کہہ دو کہ : کچھ دن اپنے کفر کے مزے اڑالے، یقینا تو دوزخ والوں میں شامل ہے۔

2: اس سے مراد حضرت آدم ؑ ہیں، اور ان کے جوڑے سے مراد حضرت حواء (علیہم السلام) 3: اس سے مراد اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری ہیں جن میں سے ہر ایک کے نر اور مادہ مل کر آٹھ جوڑے ہوجاتے ہیں۔ ان کا ذکر خاص طور پر اس لیے فرمایا گیا ہے کہ عام طور پر یہی مویشی انسان کے زیادہ کام آتے ہیں۔ انہی آٹھ جوڑوں کا ذکر سورة انعام : 143 میں گذرا ہے۔ 4: تین اندھیریاں اس طرح ہیں کہ ایک اندھیری پیٹ کی، دوسری رحم کی، اور تیسری اس جھلی کی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے، اور بناوٹ کے مرحلوں سے مراد یہ ہے کہ پہلے نطفہ ہوتا ہے، پھر خون، پھر لوتھڑا، پھر ہڈیاں وغیرہ جس کی تفصیل سورة حج : 5 اور سورة مومنون : 14 میں گذری ہے، اور سورة غافر : 67 میں آگے آئے گی۔
Ayah 39:9

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

بھلا (کیا ایسا شخص اس کے برابر ہوسکتا ہے) جو رات کی گھڑیوں میں عبادت کرتا ہے، کبھی سجدے میں، کبھی قیام میں، آخرت سے ڈرتا ہے، اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے ؟ کہو کہ : کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے سب برابر ہیں ؟ (5) (مگر) نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔

5: یعنی اگر آخرت کا حساب و کتاب نہ ہو تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ مومن کافر اور بدکار اور نیک سب برابر ہوجائیں گے، جو اللہ تعالیٰ کی حکمت اور انصاف سے ممکن نہیں۔
Ayahs 39:10–11

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

کہہ دو کہ : اے میرے ایمان والے بندو ! اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھو۔ بھلائی انہی کی ہے جنہوں نے اس دنیا میں بھلائی کی ہے، اور اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ (6) جو لوگ صبر سے کام لیتے ہیں، ان کا ثواب انہیں بےحساب دیا جائے گا۔

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

کہہ دو کہ : مجھے تو حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی اس طرح عبادت کروں کہ میری بندگی خالص اسی کے لیے ہو۔

6: یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر اپنے وطن میں دین پر عمل کرنا ممکن نہ ہو، یا سخت مشکل ہوجائے تو وہاں سے ہجرت کرکے ایسی جگہ چلے جاؤ جہاں دین پر عمل کرنا نسبۃً آسان ہو، اور اگر وطن چھوڑنے سے تکلیف ہو تو اس پر صبر کرو، کیونکہ صبر کا ثواب بےحساب ہے۔
Ayahs 39:12–14

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلا فرمانبردار میں بنوں۔ (7)

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

کہہ دو کہ : اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک زبردست دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

کہہ دو کہ : میں تو اللہ کی عبادت اس طرح کرتا ہوں کہ میں نے اپنی بندگی صرف اسی کے لیے خالص کرلی ہے۔

7: اس میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جو شخص دوسروں کو کسی نیکی کی دعوت دے، اسے چاہیے کہ پہلے خود اس پر عمل کرکے دکھائے۔
Ayahs 39:15–16

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

اب تم اسے چھوڑ کر جس کی چاہو، عبادت کرو۔ (8) کہہ دو کہ : گھاٹے کا سودا کرنے والے تو وہ ہیں جو قیامت کے دن اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں سب کو ہرا بیٹھیں گے۔ یاد رکھو کہ کھلا ہوا گھاٹا یہی ہے۔

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

ایسے لوگوں کے لیے ان کے اوپر بھی آگ کے بادل ہیں اور ان کے نیچے بھی ویسے ہی بادل۔ یہ وہی چیز ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ لہذا اے میرے بندو۔ میرا خوف دل میں رکھو۔

8: اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کافروں کو کفر کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے، کیونکہ اگلے ہی جملے میں صاف فرما دیا گیا ہے کہ یہ گھاٹے کا سودا ہے، اور پیچھے آیت نمبر 7 میں فرما دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کفر کو پسند نہیں فرماتا۔ لہذا مطلب یہ ہے کہ تمہیں اس بات کی طاقت ضرور دی گئی ہے کہ تم اگر کفر اختیار کرنا چاہو تو کرسکو، تمہیں ایمان لانے پر زبردستی مجبور نہیں کیا جائے گا، لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قیامت کے دن اپنا سب کچھ ہار بیٹھو گے۔
Ayah 39:17

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اس بات سے پرہیز کیا ہے کہ وہ طاغوت کی عبادت کرنے لگیں (9) اور انہوں نے اللہ سے لوگ لگائی ہے خوشی کی خبر انہی کے لیے، لہذا میرے ان بندوں کو خوشی کی خبر سنا دو۔

9: ”طاغوت“ شیطان کو بھی کہتے ہیں، اور ہر باطل چیز کو بھی۔
Ayahs 39:18–20

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو بات کو غور سے سنتے ہیں تو اس میں جو بہترین ہوتی ہے اس کی پیروی کرتے ہیں۔ (10) یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے اور یہی ہیں جو عقل والے ہیں۔

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

بھلا جس شخص پر عذاب کی بات طے ہوچکی، تو کیا تم اسے بچا لو گے جو آگ کے اندر پہنچ چکا ہے ؟

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

البتہ جنہوں نے اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھا ہے ان کے لیے اوپر تلے بنی ہوئی اونچی اونچی عمارتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ کبھی وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

10: اس کا زیادہ واضح مطلب یہ ہے کہ وہ سنتے تو سب کچھ ہیں، لیکن پیروی اسی بات کی کرتے ہیں جو بہترین ہو (روح المعانی عن الزجاج)۔
Ayahs 39:21–23

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اسے زمین کے سوتوں میں پرو دیا ؟ (11) پھر وہ اس پانی سے ایسی کھیتیاں وجود میں لاتا ہے جن کے رنگ مختلف ہیں، پھر وہ کھیتیاں سو کھ جاتی ہیں تو تم انہیں دیکھتے ہو کہ پیلی پڑگئی ہیں، پھر وہ انہیں چورا چورا کردیتا ہے۔ یقینا ان باتوں میں ان لوگوں کے لیے بڑا سبق ہے جو عقل رکھتے ہیں۔

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

بھلا کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنے پروردگار کی عطا کی ہوئی روشنی میں آچکا ہے، (سنگ دلوں کے برابر ہوسکتا ہے ؟) ہاں، بربادی ان کی ہے جن کے دل اللہ کے ذکر سے سخت ہوچکے ہیں۔ یہ لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

اللہ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے مضامین ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں، جس کی باتیں بار بار دہرائی گئی ہیں۔ وہ لوگ جن کے دلوں میں اپنے پروردگار کا رعب ہے ان کی کھالیں اس سے کانپ اٹھتی ہیں، پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کی یاد کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ذریعے وہ جس کو چاہتا ہے راہ راست پر لے آتا ہے، اور جسے اللہ راستے سے بھٹکا دے، اسے کوئی راستے پر لانے والا نہیں۔

11: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آسمان سے پانی پہاڑوں پر برستا ہے، پھر وہاں سے پگھل پگھل کر دریاؤں اور ندیوں کی شکل اختیار کرتا ہے، اور زمین کی تہہ میں سوتوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق کے شروع میں پانی پیدا کیا، اور اسے آسمان سے اتار کر براہ راست زمین کے سوتوں تک پہنچا دیا (روح المعانی)۔
Ayahs 39:24–28

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

بھلا (اس شخص کا کیسا برا حال ہوگا) جو قیامت کے دن اپنے چہرے ہی سے بدترین عذاب کو روکنا چاہے گا ؟ (12) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ : چکھو مزہ اس کمائی کا جو تم نے کر رکھی تھی۔

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

جو لوگ ان سے پہلے تھے، انہوں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا، جس کے نتیجے میں ان پر عذاب ایسی جگہ سے آیا جس کی طرف ان کا گمان بھی نہیں جاسکتا تھا۔

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

چنانچہ اللہ نے ان کو اسی دنیوی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھایا، اور آخرت کا عذاب تو اور بھی بڑا ہے، کاش یہ لوگ جانتے۔

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس قرآن میں لوگوں کی خاطر ہر قسم کی مثالیں بیان کی ہیں، تاکہ لوگ سبق حاصل کریں۔

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

یہ عربی قرآن جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں، تاکہ لوگ تقوی اختیار کریں۔

12: یہ دوزخ کے ایک خوفناک پہلو کی منظر کشی ہے۔ عام طور سے ہوتا یہ ہے کہ انسان جب کوئی تکلیف دہ چیز اپنی طرف آتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ اپنے ہاتھوں یا پاؤں سے اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن دوزخ میں یہ اس لیے ممکن نہیں ہوگا کہ ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہوں گے، اس لیے جسم سے عذاب کو روکنے کی کوئی اور صورت نہیں ہوگی، سوائے اس کے کہ چہرے ہی کو آگے کر کے اسے ڈھال بنایا جائے، لیکن ظاہر ہے کہ چہرے پر روکنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ چہرے کو تکلیف سب سے زیادہ ہوتی ہے۔