38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة صٓ اس سورت کے نزول کا ایک خاص واقعہ ہے جو معتبر روایتوں میں بیان کیا گیا ہے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا ابوطالب اگرچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہیں لائے تھے، لیکن اپنی رشتہ داری کے حق کو نبھانے کے لئے آپ کی مدد بہت کرتے تھے، ایک مرتبہ قریش کے دوسرے سردار ابوطالب کے پاس وفد کی شکل میں آئے اور کہا کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے بتوں کو برا کہنا چھوڑدیں تو ہم انہیں ان کے اپنے دین پر عمل کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں، حالانکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے بتوں کو اس کے سوا کچھ نہیں کہتے تھے کہ ان میں کوئی نفع یا نقصان پہنچانے کی کوئی طاقت نہیں، اور ان کو خدا ماننا گمراہی ہے، چنانچہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مجلس میں بلاکر آپ ک سامنے یہ تجویز رکھی گئی تو آپ نے ابو طالب سے فرمایا کہ چچا جان کیا میں انہیں اس چیز کی دعوت نہ دوں جس میں ان کی بہتری ہے، ابوطالب نے پوچھا وہ کیا چیز ہے، آپ نے فرمایا میں ان سے ایک ایسا کلمہ کہلانا چاہتا ہوں جس کے ذریعے سارا عرب ان کے آگے سرنگوں ہوجائے، اور یہ پورے عجم کے مالک ہوجائیں، اس کے بعد آپ نے کلمہ توحید پڑھا، یہ سن کر تمام لوگ کپڑے جھاڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے، اور کہنے لگے کہ کیا ہم سارے معبودوں کو چھوڑ کر ایک کو اختیار کرلیں، یہ تو بڑی عجیب بات ہے، اس موقع پر سورة صٓ کی آیات نازل ہوئیں، اس کے علاوہ اس سورت میں مختلف پیغمبروں کا بھی تذکرہ ہے جن میں حضرت داؤو اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کے واقعات بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

Ayah 38:1

صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ Open ayah 38:1 in the Quran reader

ص۔ (1) قسم ہے نصیحت بھرے قرآن کی۔

1: یہ انہی حروف مقطعات میں سے ہے جن کا صحیح مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ دیکھئے سورة بقرہ کی پہلی آیت پر ہمارا حاشیہ۔ اور قرآن کریم میں جو قسمیں کھائی گئیں ہیں، ان کے بارے میں پچھلی سورت (سورة صافات) کا پہلا حاشیہ۔
Ayahs 38:2–5

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ Open ayah 38:2 in the Quran reader

کہ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ کسی اور وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے اپنایا ہے کہ وہ بڑائی کے گھمنڈ اور ہٹ دھرمی میں مبتلا ہیں۔ (2)

كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ Open ayah 38:3 in the Quran reader

اور ان سے پہلے ہم نے کتنی قوموں کو ہلاک کیا، تو انہوں نے اس وقت آوازیں دیں جب چھٹکارے کا وقت رہا ہی نہیں تھا۔

وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ Open ayah 38:4 in the Quran reader

اور ان (قریش کے) لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا ہے کہ ایک خبردار کرنے والا انہی میں سے آگیا۔ اور ان کافروں نے یہ کہہ دیا کہ : وہ جھوٹا جادوگر ہے۔

اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ Open ayah 38:5 in the Quran reader

کیا اس نے سارے معبودوں کو ایک ہی معبود میں تبدیل کردیا ہے ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

2: یہ ترجمہ اس جملے کی اس ترکیب پر مبنی ہے جو علامہ آلوسی نے ”اظھر“ کہہ کر نقل کی ہے (روح المعانی ج :23 ص 217)
Ayahs 38:6–9

وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ Open ayah 38:6 in the Quran reader

اور ان میں کے سردار لوگ یہ کہہ کر چلتے بنے کہ : چلو اور اپنے خداؤں (کی عبادت) پر ڈٹے رہو یہ بات تو ایسی ہے کہ اس کے پیچھے کچھ اور ہی ارادے ہیں۔ (3)

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ Open ayah 38:7 in the Quran reader

ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں کبھی نہیں سنی۔ اور کچھ نہیں، یہ من گھڑت بات ہے۔

ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ Open ayah 38:8 in the Quran reader

کیا یہ نصیحت کی بات ہم سب کو چھوڑ کر اسی شخص پر نازل کی گئی ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ میری نصیحت کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں، بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ Open ayah 38:9 in the Quran reader

تمہارا رب جو بڑا داتا، بڑا صاحب اقتدار ہے، کیا اس کی رحمت کے سارے خزانے انہی کے پاس ہیں ؟

3: یعنی آنحضرت ﷺ ان باتوں کے ذریعے (معاذاللہ) اپنا اقتدار قائم کرنا چاہتے ہیں۔
Ayah 38:10

اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ Open ayah 38:10 in the Quran reader

یا پھر آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز کی بادشاہت ان کے قبضے میں ہے ؟ (4) پھر تو انہیں چاہیے کہ رسیاں تان کر اوپر چڑھ جائیں۔ (5)

4: مطلب یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی نبوت پر یہ لوگ اس طرح اعتراضات کر رہے ہیں جیسے نبوت جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ایک حصہ ہے، ان کے اپنے اختیار میں ہے کہ جسے یہ چاہیں اسے نبی بنایا جائے، اور جسے یہ ناپسند کریں، اسے نبوت نہ دی جائے۔ 5: یعنی اگر یہ اتنے وسیع اختیارات کے مالک ہیں تو ان میں رسیاں تان کر آسمان پر چڑھنے کی بھی طاقت ہونی چاہیے، جو ظاہر ہے کہ انہیں حاصل نہیں ہے، اس لیے آسمان و زمین کی معلومات پر انہیں کیا اختیار ہوگا جس کی بنا پر وہ یہ رائے دیں کہ فلاں کو نبی بنایا جائے اور فلاں کو نہ بنایا جائے۔
Ayahs 38:11–14

جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ Open ayah 38:11 in the Quran reader

(ان کی حقیقت تو یہ ہے کہ) یہ مخالف گروہوں کا ایک لشکر سا ہے جو یہیں پر شکست کھاجائے گا۔ (6)

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ Open ayah 38:12 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم، قوم عاد اور میخوں والے فرعون نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا تھا۔

وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ Open ayah 38:13 in the Quran reader

اور قوم ثمود، اور لوط کی قوم اور ایکہ والوں نے بھی۔ وہ تھے مخالف گروہ کے لوگ۔

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ Open ayah 38:14 in the Quran reader

ان میں سے کوئی ایسا نہیں تھا جس نے پیغمبروں کو نہ جھٹلایا ہو، اس لیے میرا عذاب بجا طور پر نازل ہو کر رہا۔

6: مقصد یہ ہے کہ جو بڑی بڑی قومیں پہلے گذری ہیں، ان کے مقابلے میں یہ لوگ ایک چھوٹا سا لشکر ہیں جو خود اپنے وطن میں شکست کھاجائے گا۔ یہ فتح مکہ کی پیشین گوئی ہے، اور واقعہ بھی یہی ہوا کہ یہ سارے بڑے بول بولنے والے فتح مکہ کے موقع پر ایسی شکست کھا گئے کہ مکہ مکرمہ پر ان کا کوئی اقتدار باقی نہیں رہا۔
Ayah 38:15

وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ Open ayah 38:15 in the Quran reader

اور (کہ) یہ لوگ (بھی) بس ایک ایسی چنگھاڑ کا انتظار کر رہے ہیں جس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔ (7)

7: اس سے مراد صور پھونکنے کی آواز ہے جس کے ساتھ ہی قیامت واقع ہوجائے گی۔
Ayah 38:16

وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:16 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمار احصہ ہمیں روز حساب سے پہلے ہی جلدی دیدے۔ (8)

8: یہ کافروں کا وہی مطالبہ ہے جس کا ذکر پہلے بار بار گذرا ہے کہ اگر ہم پر عذاب آنا ہے تو ابھی فوراً کیوں نہیں آتا ؟
Ayahs 38:17–18

اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:17 in the Quran reader

(اے پیغمبر) یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو، اور ہمارے بندے داؤد ؑ کو یاد کرو جو بڑے طاقتور تھے۔ (9) وہ بیشک اللہ سے بہت لو لگائے ہوئے تھے۔

اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ Open ayah 38:18 in the Quran reader

ہم نے پہاڑوں کو اس کام پر لگا دیا تھا کہ وہ شام کے وقت اور سورج کے نکلتے وقت ان کے ساتھ تسبیح کیا کریں۔

9: سورت کے شروع میں کافروں کی وہ باتیں ذکر کر کے ان پر تردید فرمائی گئی تھی جن سے حضور اقدس ﷺ کو رنج ہوا کرتا تھا۔ اب یہاں سے یہ فرمایا جا رہا ہے کہ ان کی بےہودہ باتوں پر صبر کر کے آپ اپنے کام میں لگے رہئے، اور اسی سلسلے میں کچھ پچھلے انبیائے کرام کے واقعات بیان فرمائے جا رہے ہیں جن سے آنحضرت ﷺ کو تسلی ہو۔ ان میں سے پہلا تذکرہ حضرت داؤد ؑ کا ہے۔
Ayahs 38:19–20

وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:19 in the Quran reader

اور پرندوں کو بھی، جنہیں اکٹھا کرلیا جاتا تھا۔ یہ سب ان کے ساتھ ملکر اللہ کا خوب ذکر کرتے تھے۔ (10)

وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ Open ayah 38:20 in the Quran reader

اور ہم نے ان کی سلطنت کو استحکام بخشا تھا، اور انہیں دانائی اور فیصلہ کن گفتگو کا سلیقہ عطا کیا تھا۔

10: جیسا کہ سورة انبیاء :79 میں گذر چکا ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کو بہت دلکش آواز عطا فرمائی تھی، اور معجزے کے طور پر یہ خصوصیت بخشی تھی کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تو پہاڑ بھی آپ کے ساتھ ذکر اور تسبیح میں شریک ہوتے تھے، اور اڑتے ہوئے پرندے بھی رک جاتے، اور وہ بھی ذکر کرنے لگتے تھے۔
Ayahs 38:21–24

وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ Open ayah 38:21 in the Quran reader

اور کیا تمہیں ان مقدمہ والوں کی خبر پہنچی ہے جب وہ دیوار پر چڑھ کر عبادت گاہ میں گھس آئے تھے ؟ (11)

اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ Open ayah 38:22 in the Quran reader

جب وہ داؤد کے پاس پہنچے تو داؤد ان سے گھبرا گئے۔ انہوں نے کہا ڈریے نہیں، ہم ایک جھگڑے کے دو فریق ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ اب آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیجیے اور زیادتی نہ کیجیے، اور ہمیں ٹھیک ٹھیک راستہ بتا دیجیے۔

اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ Open ayah 38:23 in the Quran reader

یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں، اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے، اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کرو، اور اس نے زور بیان سے مجھے دبا لیا ہے۔

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ Open ayah 38:24 in the Quran reader

داؤد نے کہا : اس نے اپنی دنبیوں میں شامل کرنے کے لیے تمہاری دنبی کا جو مطالبہ کیا ہے اس میں یقینا تم پر ظلم کیا ہے۔ اور بہت سے لوگ جن کے درمیان شرکت ہوتی ہے وہ ایک دوسرے کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں، سوائے ان کے جو ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اور وہ بہت کم ہیں۔ اور داؤد کو خیال آیا کہ ہم نے دراصل ان کی آزمائش کی ہے، اس لیے انہوں نے اپنے پروردگار سے معافی مانگی، جھک کر سجدے میں گرگئے اور اللہ سے لو لگائی۔

11: یہاں سے آیت نمبر 24 تک جو واقعہ بیان ہوا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت داؤد ؑ سے کوئی لغزش ہوگئی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس لغزش پر تنبیہ کرنے کے لیے یہ دو آدمی غیر معمولی طریقے سے آپ کے پاس اس وقت بھیجے جب آپ اپنی عبادت گاہ میں تھے۔ ان دونوں نے اپنا ایک جھگڑا فیصلے کے لیے آپ کے سامنے پیش کیا۔ آپ نے فیصلہ تو فرما دیا لیکن اس کے ساتھ ہی آپ سمجھ گئے کہ یہ مقدمہ جو آپ کے سامنے پیش کیا گیا ہے، اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ایک لطیف پیرائے میں انہیں تنبیہ کی ہے، اس لیے وہ فوراً سجدے میں گرگئے، اور توبہ اور استغفار میں مشغول ہوگئے۔ قرآن کریم نے یہ تفصیل نہیں بتائی کہ وہ لغزش کیا تھی ؟ اور اس مقدمے کے پیش ہونے سے انہیں اس کا خیال کس طرح آیا ؟ کیونکہ قرآن کریم تو صرف یہ سبق دینا چاہتا ہے کہ بھول چوک تو انسان کی خاصیت ہے، بڑے بڑے بزرگوں، یہاں تک انبیائے کرام سے بھی معمولی قسم کی لغزشیں ہوجاتی ہیں، لیکن یہ حضرات اپنی کسی لغزش پر اصرار نہیں فرماتے، بلکہ جونہی اپنی غلطی واضح ہوتی ہے، فوراً اللہ تعالیٰ سے رجوع کر کے اس پر توبہ اور استغفار کرتے ہیں۔ یہ عملی سبق حضرت داؤد ؑ کے اس واقعے کی تفصیل جاننے پر موقوف نہیں ہے۔ البتہ جو حضرات مفسرین تفصیل میں گئے ہیں، انہوں نے مختلف باتیں کہی ہیں۔ اس سلسلے میں طرح طرح کی داستانیں بھی گھڑی گئی ہیں جن میں سے ایک بےہودہ داستان بائبل میں بھی ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے اپنے ایک سپہ سالار ”اور یا“ کی بیوی سے (معاذ اللہ) زنا کا ارتکاب کیا تھا۔ لیکن یہ داستان تو بیان کرنے کے بھی لائق نہیں ہے۔ ایک جلیل القدر پیغمبر کے بارے میں، جنہیں خود قرآن کریم کے بیان کے مطابق اللہ تعالیٰ کا خاص تقرب حاصل تھا ، ایسی بات یقیناً من گھڑت ہے۔ البتہ بعض مفسرین نے یہ روایت بیان کی ہے کہ اس زمانے میں کسی شخص کی بیوی سے نکاح کرنے کی خواہش ظاہر کر کے اس کے شوہر سے یہ فرمائش کرنا معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دیدے۔ یہ ایک عام رواج تھا جس پر کوئی برا بھی نہیں مانتا تھا۔ اور یا کی بیوی چونکہ بہت ذہین تھی، اس لیے حضرت داؤد ؑ نے اپنے معاشرے کے چلن کے مطابق اس سے یہ فرمائش کی تھی کہ وہ اسے طلاق دیدے، تاکہ وہ حضرت داؤد ؑ کے نکاح میں آسکے۔ ایسی فرمائش نہ تو گناہ تھی، کیونکہ شوہر کو حق حاصل تھا کہ وہ یہ بات مانے یا نہ مانے، اور نہ معاشرے کے رواج کے مطابق معیوب تھی، لیکن ایک جلیل القدر پیغمبر کے شایان شان نہیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس لطیف پیرائے میں آپ کو تنبیہ فرمائی۔ چنانچہ آپ نے اس پر استغفار فرمایا، اور پھر نکاح کی تجویز پر عمل بھی نہیں کیا۔ یہ تشریح اگرچہ بائبل والے واقعے کی طرح لغو تو نہیں ہے، لیکن کسی مستند روایت سے ثابت بھی نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ لغزش جو کوئی بھی تھی، اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک جلیل القدر پیغمبر کو اس پر نہ صرف یہ کہ معاف فرمایا، بلکہ اس پر اتنا پردہ ڈالا کہ قرآن کریم میں بھی اسے صراحت کے ساتھ بیان نہیں فرمایا، اس لیے اس بات کی چھان بین جسے اللہ تعالیٰ نے خود خفیہ رکھا ہے، نہ تو اس جلیل القدر پیغمبر کی تعظیم کے شایان شان ہے، نہ اس کی کوئی ضرورت ہے، لہذا اسے اتنا ہی مبہم رکھنا چاہیے جتنا قرآن کریم نے اسے مبہم رکھا ہے، کیونکہ جو سبق قرآن کریم دینا چاہتا ہے، وہ اس کے بغیر بھی پوری طرح حاصل ہوجاتا ہے۔
Ayahs 38:25–27

فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ Open ayah 38:25 in the Quran reader

چنانچہ ہم نے اس معاملہ میں انہیں معافی دے دی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ان کو ہمارے پاس خاص تقرب حاصل ہے اور بہترین ٹھکانا۔ (12)

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ Open ayah 38:26 in the Quran reader

اے داؤد ! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہذا تم لوگوں کے درمیان برحق فیصلے کرو، اور نفسانی خواہش کے پیچھے نہ چلو، ورنہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی۔ یقین رکھو کہ جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں، ان کے لیے سخت عذاب ہے، کیونکہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا تھا۔

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان جو چیزیں ہیں ان کو فضول ہی پیدا نہیں کردیا۔ یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر اختیار کرلیا ہے، چنانچہ ان کافروں کے لیے دوزخ کی شکل میں بڑی تباہی ہے۔

12: یہ آیت سجدہ ہے یعنی جو شخص اس کی عربی میں تلاوت کرے، یا تلاوت سنے، اس پر سجدہ کرنا واجب ہے۔
Ayah 38:28

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں کیا ہم ان کو ایسے لوگوں کے برابر کردیں جو زمین میں فساد مچاتے ہیں ؟ یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کے برابر کردیں گے ؟ (13)

13: یہ آخرت کے ضروری ہونے کی دلیل ہے، اور پچھلی آیتوں سے اس کا ربط یہ ہے کہ جب ہم نے حضرت داؤد ؑ کو اپنے خلیفہ کی حیثیت میں یہ حکم دیا ہے کہ وہ عدل و انصاف سے کام لیں تو کیا ہم خود انصاف نہیں کریں گے ؟ اسی انصاف کے لیے آخرت میں حساب و کتاب ہوگا، ورنہ یہ لازم آئے گا کہ ہم نے نیک لوگوں اور بدکاروں کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا، اور دنیا میں چاہے کوئی شخص اچھے کام کرے یا بدکاری کا مرتکب ہو، نہ اس سے کوئی باز پرس ہونی ہے اور نہ نیک آدمی کو کوئی انعام ملنا ہے۔ ایسی بےانصافی اللہ تعالیٰ کیسے گوارا فرما سکتے ہیں ؟
Ayahs 38:29–32

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

(اے پیغمبر) یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تم پر اس لیے اتاری ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور و فکر کریں، اور تاکہ عقل رکھنے والے نصیحت حاصل کریں۔ (14)

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد کو سلیمان (جیسا بیٹا) عطا کیا، وہ بہترین بندے تھے، واقعی وہ اللہ سے خوب لو لگائے ہوئے تھے۔

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

(وہ ایک یادگار وقت تھا) جب ان کے سامنے شام کے وقت اچھی نسل کے عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے۔

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

تو انہوں نے کہا : میں نے اس دولت کی محبت اپنے پروردگار کی یاد ہی کی وجہ سے اختیار کی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اوٹ میں چھپ گئے۔

14: یعنی جب آخرت اور حساب و کتاب کی ضرورت معلوم ہوگئی تو اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ انسانوں کو پہلے سے متنبہ کرنے کے لیے کوئی ہدایت نامہ عطا فرمائیں، تاکہ لوگ اس پر عمل کر کے اپنی آخرت کو درست کرسکیں۔ اس کے لیے قرآن کریم کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے۔
Ayah 38:33

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

(اس پر انہوں نے کہا) ان کو میرے پاس واپس لے آؤ، چنانچہ وہ (ان کی) پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ (15)

15: حضرت سلیمان ؑ کے سامنے وہ بہترین گھوڑے پیش کیے گئے جو جہاد کے مقصد سے اکٹھے کئے گئے تھے اور ان سے آپ کی سلطنت کی شان و شوکت کا مظاہر ہورہا تھا، آپ نے جب ان کا معاینہ فرمایا تو یہ شان و شوکت آپ کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ کرسکی، بلکہ آپ نے فرمایا کہ مجھے اس دولت سے محبت اس لیے نہیں ہے کہ اس سے میرے دبدبے کا اظہار ہوتا ہے، بلکہ اس لیے ہے کہ یہ جہاد کے لیے تیار کیے گئے ہیں، اور جہاد اللہ تعالیٰ کی محبت میں کیا جاتا ہے۔ پھر وہ گھوڑے چلتے ہوئے آپ کی نگاہوں سے روپوش ہوگئے تو آپ نے انہیں دوبارہ بلوایا، اور ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگے۔ اس واقعے کو ذکر فرما کر قرآن کریم نے یہ سبق دیا ہے کہ انسان کو دنیا کی دولت یا عزت و شوکت حاصل ہو تو اسے مغرور ہونے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل ہونے کے بجائے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے، اور اسے ان کاموں میں استعمال کرنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ہوں۔ اس آیت کی یہ تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے اور قرآن کریم کے الفاظ سے وہ زیادہ قریب معلوم ہوتی ہے۔ حافظ ابن جریر طبری اور امام رازی وغیرہ نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ مفسرین کی ایک بڑی جماعت نے آیت اور اس کے واقعے کی ایک اور تفسیر کی ہے جو زیادہ مشہور ہے، اور وہ یہ کہ گھوڑوں کے معاینے کے دوران آپ کی نماز قضا ہوگئی تھی، جس پر آپ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ اس دولت کی محبت نے مجھے اللہ تعالیٰ کی محبت سے غافل کردیا، اس لیے انہوں نے گھوڑوں کو واپس بلوا کر انہیں اللہ تعالیٰ کے لیے قربان کرنے کا ارادہ کیا، اور تلوار سے ان کی پنڈلیا اور گردنیں کاٹنی شروع کردیں۔ اس تفسیر کے مطابق آیت کا ترجمہ بالکل مختلف اس طرح ہوگا : جب ان کے پاس اچھی نسل کے عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے تو انہوں نے کہا کہ اس دولت کی محبت نے مجھے اللہ کی محبت سے غافل کردیا، یہاں تک کہ وہ گھوڑے اوٹ میں چلے گئے (تو انہوں نے کہا :) انہیں واپس لاؤ : پھر انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر (تلوار سے) ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا۔
Ayah 38:34

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

اور یہ بھی واقعہ ہے کہ ہم نے سلیمان کی ایک آزمائش کی تھی اور ان کی کرسی پر ایک دھڑ لا کر ڈال دیا تھا۔ (16) پھر انہوں نے (اللہ سے) رجوع کیا۔

16: یہ ایک اور واقعہ ہے جس کی تفصیل نہ قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے، نہ کسی مستند حدیث اس آیت کی تفسیر کے طور پر کوئی واقعہ ثابت ہوتا ہے۔ جو روایتیں اس آیت کی تفسیر میں بیان کی گئی ہیں، وہ یا تو انتہائی کمزور اور لوغو ہیں، یا ان کا اس آیت کی تفسیر ہونا ثابت نہیں، لہذا سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ جس بات کو خود قرآن کریم نے مبہم چھوڑا ہے اسے مبہم ہی رہنے دیا جائے۔ واقعے کا حوالہ دینے کا جو مقصد ہے، وہ تفصیلات جانے بغیر بھی پورا ہوجاتا ہے، اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کی کوئی آزمائش فرمائی تھی جس کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ ہی سے رجوع فرمایا۔
Ayah 38:35

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

کہنے لگے کہ : میرے پروردگار ! میری بخشش فرما دے، اور مجھے ایسی سلطنت بخش دے جو میرے بعد کسی اور کے لیے مناسب نہ ہو۔ (17) بیشک تیری، اور صرف تیری ہی ذات وہ ہے جو اتنی سخی داتا ہے۔

17: حضرت سلیمان ؑ کو ہواؤں اور جنات اور پرندوں پر جو سلطنت حاصل ہوئی، وہ بعد میں کسی کو نہ ہوسکی۔
Ayahs 38:36–37

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

چنانچہ ہم نے ہوا کو ان کے قابو میں کردیا جو ان کے حکم سے جہاں وہ چاہتے ہموار ہو کر چلا کرتی تھی۔ (18)

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور شریر جنات بھی ان کے قابو میں دے دیے تھے، جن میں ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور شامل تھے۔

18: اس کی تفصیل سورة انبیاء : 18 میں گذر چکی ہے۔
Ayah 38:38

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور کچھ وہ جنات جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ (19)

19: یہ جنات حضرت سلیمان ؑ کی کیا خدمات انجام دیا کرتے تھے ؟ اس کی تفصیل سورة سبا میں گذری ہے یہاں یہ اضافہ ہے کہ وہ غوطے لگا کر سمندر سے موتی وغیرہ نکال لایا کرتے تھے۔ اور کچھ جنات جو نہایت شریر تھے ان کی شرارتوں سے لوگوں کو محفوظ کرنے کے لیے انہیں جکڑ کر رکھا گیا تھا۔
Ayahs 38:39–40

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

(اور ان سے کہا تھا کہ) یہ ہمارا عطیہ ہے، اب تمہیں اختیار ہے کہ احسان کر کے کسی کو کچھ دو ، یا اپنے پاس رکھو، تم پر کسی حساب کی ذمہ داری نہیں ہے۔ (20)

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ ان کو ہمارے پاس خاص تقرب حاصل ہے، اور بہترین ٹھکانا۔

20: حضرت سلیمان ؑ کو یہ دولت مالک بنا کر دے دی گئی تھی، اور یہ اختیار دیا گیا تھا کہ جتنی چاہیں، خود رکھیں، اور جتنی چاہیں، کسی اور کو دیں۔