38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsآسان قرآن

Ayahs 38:41–42

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو، جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا تھا کہ : شیطان مجھے دکھ اور آزار لگا گیا ہے۔ (21)

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

(ہم نے ان سے کہا) اپنا پاؤں زمین پر مارو، لو ! یہ ٹھنڈا پانی ہے نہانے کے لیے بھی اور پینے کے لیے بھی۔

21: جیسا کہ سورة انبیاء میں گذر چکا ہے، حضرت ایوب ؑ کو ایک طویل بیماری لاحق ہوگئی تھی۔ وہ صبر کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہے جس کے بعد انہیں شفا حاصل ہوئی۔ آیت نمبر 42 میں شفا کا واقعہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت فرمائی کہ وہ اپنا پاؤں زمین پر ماریں۔ انہوں نے زمین پر پاؤں مارا تو وہاں سے ایک چشمہ پھوٹ نکلا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ اس پانی سے نہائیں، اور اسی کو پئیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا تو ان کی بیماری جاتی رہی۔
Ayah 38:43

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور (اس طرح) ہم نے انہیں ان کے گھر والے بھی عطا کردیے۔ اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی۔ (22) تاکہ ان پر ہماری رحمت ہو، اور عقل والوں کے لیے ایک یادگار نصیحت۔

22: بیماری میں ان کی وفادار اہلیہ کے سوا سب ان کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ صحت کے بعد نہ صرف واپس آگئے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مزید پوتے پوتیاں عطا فرمائیں، اور اس طرح ان کے خاندان کی تعداد دوگنی ہوگئی۔
Ayahs 38:44–47

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

اور (ہم نے ان سے یہ بھی کہا کہ) اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا لو، اور اس سے مار دو ، اور اپنی قسم مت توڑو۔ (23) حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انہیں بڑا صبر کرنے والا پایا، وہ بہترین بندے تھے، واقعہ وہ اللہ سے خوب لو لگائے ہوئے تھے۔

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو (نیک عمل کرنے والے) ہاتھ اور (دیکھنے والی) آنکھیں رکھتے تھے۔

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

ہم نے انہیں ایک خاص وصف کے لیے چن لیا تھا، جو (آخرت کے) حقیقی گھر کی یاد تھی۔

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارے نزدیک وہ چنے ہوئے بہترین لوگوں میں سے تھے۔

23: حضرت ایوب ؑ کی اہلیہ کو ایک مرتبہ شیطان نے اس طرح ورغلایا کہ وہ ایک طبیب کی شکل میں ان کے سامنے آیا، یہ اپنے شوہر کی بیماری سے پریشان تھیں، انہوں نے اس کو واقعی طبیب سمجھ کر اس سے کہا کہ میرے شوہر کا اعلاج کردو، وہ تو شیطان تھا، اس نے کہا کہ اس شرط پر علاج کرتا ہوں کہ اگر تمہارے شوہر کو شفا ہوگئی تو تمہیں یہ کہنا ہوگا کہ اس طبیب نے انہیں شفا دی ہے۔ یہ خاتون چونکہ اپنے شوہر کی بیماری سے پریشان تھیں، اس لیے ان کے دل میں اس کی بات ماننے کا میلان پیدا ہوا، اور انہوں نے حضرت ایوب ؑ سے اس کا ذکر کیا۔ حضرت ایوب ؑ سے اس کا ذکر کیا۔ حضرت ؑ کو بڑا رنج ہوا کہ شیطان نے ان کی اہلیہ تک رسائی حاصل کرلی ہے، اور وہ اس کی بات ماننے کی طرف مائل ہو رہی ہیں۔ اس رنج کے عالم میں انہوں نے قسم کھالی کہ میں صحت مند ہونے کے بعد اپنی بیوی کو سو قمچیاں ماروں گا۔ لیکن جب انہیں صحت حاصل ہوگئی تو انہیں اپنی قسم پر شرمندگی ہوئی، اور خیال آیا کہ اپنی ایسی با وفا بیوی کو کس طرح یہ سزا دوں ؟ اور اگر نہ دوں تو قسم ٹوٹتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی کے ذریعے حکم دیا کہ وہ سو سینکوں کا ایک مٹھا لے کر ایک ہی مرتبہ اپنی بیوی کو مار دیں، اس طرح قسم بھی نہیں ٹوٹے گی اور بیوی کو کوئی خاص تکلیف بھی نہیں پہنچے گی۔
Ayahs 38:48–61

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل (24) کو یاد کرو۔ اور یہ سب بہترین لوگوں میں سے تھے۔

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ سب کچھ ایک نصیحت کا پیغام ہے، اور یقین جانو کہ جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں، آخری ٹھکانے کی بہترین انہی کے حصے میں آئے گی۔

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

یعنی ہمیشہ بسے رہنے کے لیے جنتیں جن کے دروازے ان کے لیے پوری طرح کھلے ہوں گے۔

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

جہاں وہ تکیہ لگائے ہوئے بہت سے میوے اور مشروبات منگوا رہے ہوں گے۔

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس وہ ہم عمر خواتین ہوں گی جن کی نگاہیں (اپنے شوہروں پر) مرکوز ہوں گی۔

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ ہے وہ (نعمتوں سے بھر پور زندگی) جس کا تم سے ر وز حساب میں وعدہ کیا گیا ہے۔

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

بیشک یہ ہماری عطا ہے جو کبھی ختم ہونے والی نہیں۔

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

ایک طرف تو یہ ہے اور (دوسری طرف) جن لوگوں نے سرکشی اختیار کی ہے، یقین جانو، ان کا آخری ٹھکانا بہت برا ہوگا۔

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

یعنی دوزخ جس میں وہ داخل ہوں گے۔ پھر وہ ان کا بدترین بستر بنے گی۔

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ ہے کھولتا ہوا پانی اور پیپ، اب وہ اس کا مزہ چکھیں۔

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور ان طرح طرح کی چیزوں کا جو اسی جیسی (تکلیف دہ) ہوں گی۔

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

(جب وہ اپنے پیروکاروں کو آتا دیکھیں گے تو ایک دوسرے سے کہیں گے) یہ ایک اور لشکر ہے جو تمہارے ساتھ گھسا چلا آرہا ہے، پھٹکار ہو ان پر، یہ سب آگ میں جلنے والے ہیں۔

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

وہ (آنے والے) کہیں گے : نہیں، بلکہ پھٹکار تم پر ہو، تم ہی تو یہ مصیبت ہمارے آگے لائے ہو، اب تو یہی بدترین جگہ ہے جس میں رہنا ہوگا۔

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

(پھر وہ اللہ تعالیٰ سے کہیں گے کہ) اے ہمارے پروردگار ! جو شخص بھی یہ مصیبت ہمارے آگے لایا ہے، اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دیجیے۔

24: حضرت الیسع ؑ کا ذکر قرآن کریم میں صرف دو جگہ آیا ہے، ایک یہاں اور ایک سورة انعام : 86 میں۔ دونوں جگہ آپ کا صرف نام مذکور ہے، کوئی مفصل واقعہ بیان نہیں فرمایا گیا۔ تاریخی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بنو اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے، اور حضرت الیاس ؑ کے چچا زاد بھائی تھے۔ بائبل کی کتاب سلاطین اول باب 19 میں آپ کا واقعہ مذکور ہے۔ اسی طرح حضرت ذوالکفل ؑ کا بھی دو جگہ صرف ذکر آیا ہے، ایک یہاں اور دوسرے سورة انبیاء : 85 میں۔ بعض مفسرین نے انہیں حضرت الیسع کا خلیفہ قرار دیا ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ نبی نہیں تھے، ولی اللہ تھے۔
Ayahs 38:62–67

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور وہ (ایک دوسرے سے) کہیں گے : کیا بات ہے کہ ہمیں وہ لوگ (یہاں دوزخ میں) نظر نہیں آرہے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے ؟ (25)

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

کیا ہم نے ان کا (ناحق) مذاق اڑایا تھا، یا انہیں دیکھنے سے نگاہوں کی غلطی لگ رہی ہے ؟

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

یقینا دوزخیوں کے آپس میں جھگڑنے کی یہ ساری باتیں بالکل سچی ہیں جو ہو کر رہیں گی۔

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ Open ayah 38:65 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دو کہ : میں تو ایک خبردار کرنے والا ہوں، اور اس اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو ایک ہے، جو سب پر غالب ہے۔

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 38:66 in the Quran reader

جو تمام آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز کا مالک ہے، جس کا اقتدار سب پر چھایا ہوا ہے، جو بہت بخشنے والا ہے۔

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ Open ayah 38:67 in the Quran reader

کہہ دو کہ : یہ ایک عظیم حقیقت کا اظہار ہے۔

25: اس سے مراد مسلمان ہیں جن کو یہ کافر لوگ دنیا میں برا سمجھتے تھے، اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ وہ ان کو جہنم میں نظر نہیں آئیں گے۔
Ayah 38:68

اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ Open ayah 38:68 in the Quran reader

جس سے تم منہ موڑے ہوئے ہو۔ (26)

26: پیغمبروں کے واقعات اور قیامت کے حالات بیان کرنے کے بعد حضور رسول کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ ان منکرین سے فرما دیجئے اگر غور کرو تو ان واقعات سے تمہیں میری نبوت پر ساتدلال کرنا چاہیے، کیونکہ ان باتوں کے معلوم ہونے کا میرے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں تھا، میں جو یہ باتیں بتارہا ہوں، وہ یقیناً وحی کے ذریعے مجھے معلوم ہوئی ہیں، مگر تم وحی کی اس نصیحت سے منہ موڑے ہوئے ہو۔
Ayahs 38:69–80

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 38:69 in the Quran reader

مجھے عالم بالا کی باتوں کا کچھ علم نہیں تھا جب وہ (فرشتے) سوال و جواب کر رہے تھے۔ (27)

اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 38:70 in the Quran reader

میرے پاس وحی صرف اس لیے آتی ہے کہ میں صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔

اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ Open ayah 38:71 in the Quran reader

یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں گارے سے ایک انسان پیدا کرنے والا ہوں۔

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 38:72 in the Quran reader

چنانچہ جب میں اسے پوری طرح بنا دوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 38:73 in the Quran reader

پھر ہوا یہ کہ سارے کے سارے فرشتوں نے تو سجدہ کیا۔

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 38:74 in the Quran reader

البتہ ابلیس نے نہ کیا، اس نے تکبر سے کام لیا اور کافروں میں شامل ہوگیا۔

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ Open ayah 38:75 in the Quran reader

اللہ نے کہا : ابلیس ! جس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا، اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے روکا ہے ؟ کیا تو نے تکبر سے کام لیا ہے، یا تو کوئی بہت اونچی ہستیوں میں سے ہے ؟

قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 38:76 in the Quran reader

کہنے لگا : میں اس (آدم) سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو گارے سے پیدا کیا ہے۔

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ Open ayah 38:77 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا کہ اچھا تو نکل جا یہاں سے۔ کیونکہ تو مردود ہے۔

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 38:78 in the Quran reader

اور یقین جان قیامت کے دن تک تجھ پر میری پھٹکار رہے گی۔

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 38:79 in the Quran reader

اس نے کہا : میرے پروردگار ! پھر تو مجھے اس دن تک کے لیے (جینے کی) مہلت دیدے جس دن لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 38:80 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا : چل تجھے ان لوگوں میں شامل کرلیا گیا ہے جنہیں مہلت دی جائے گی۔

27: اس سے فرشتوں کی اس گفتگو کی طرف اشارہ ہے جو حضرت آدم ؑ کی تخلیق کے وقت ہوئی تھی، اور جو تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ : 31 میں گذر چکی ہے، اور اس کا کچھ حصہ آگے آ رہا ہے۔