37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الصّٰفّٰت مکی سورتوں میں زیادہ تر اسلام کے بنیادی عقائد یعنی توحید، رسالت اور آخرت کے اثبات پر زوردیا گیا ہے، اس سورت کا مرکزی موضوع بھی یہی ہے، البتہ اس سورت میں خاص طور پر مشرکین عرب کے اس غلط عقیدہ کی تردید کی گئی ہے جس کی رو سے وہ کہا کرتے تھے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں یہی وجہ ہے کہ سورت کا آغاز فرشتوں کے اوصاف سے کیا گیا ہے، کفار کو کفر کے ہولناک انجام سے ڈرایا گیا ہے، اور انہیں متنبہ کیا گیا ہے کہ ان کی تمام تر مخالفت کے باوجود اس دنیا میں بھی اسلام ہی غالب آکر رہے گا، اسی مناسبت سے حضرت نوح، حضرت لوط، حضرت موسیٰ ، حضرت الیاس اور حضرت یونس (علیہم السلام) کے واقعات مختصر اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے، خاص طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا جو حکم دیا گیا تھا اور انہوں نے قربانی کے جس عظیم جذبے سے اس کی تعمیل فرمائی، اس کا واقعہ بڑے مؤثر اور مفصل انداز میں اسی سورت کے اندر بیان ہوا ہے، سورت کا نام اس کی پہلی آیت سے ماخوذ ہے۔

Ayah 37:1

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ Open ayah 37:1 in the Quran reader

قسم ان کی (1) جو پرے باندھ کر صف بناتے ہیں، (2)

1: اللہ تعالیٰ کو اپنی کسی بات کی تصدیق کے لئے قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے ؛ لیکن قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مختلف چیزوں کی جو قسمیں کھائی ہیں وہ اول تو عربی زبان کی فصاحت و بلاغت کا ایک اسلوب ہے جس سے کلام میں زور اور تاثیر پیدا ہوتی ہے، دوسرے جن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے، ان پر اگر غور کیا جائے تو وہ اس دعوے کی دلیل ہوتی ہے جو ان قسموں کے بعد مذکور ہوتا ہے۔ 2: یعنی جو صف باندھ کر قطار در قطار کھڑے ہوتے ہیں، خواہ فرشتے ہوں جو حکم الٰہی سننے کو اپنے اپنے مقام پر درجہ بدرجہ کھڑے ہوتے ہیں یا عبادت گزار انسان جو نماز اور جہاد وغیرہ میں صف بندی کرتے ہیں۔
Ayah 37:2

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ Open ayah 37:2 in the Quran reader

پھر ان کی جو روک ٹوک کرتے ہیں، (3)

3: یعنی وہ فرشتے شیطانوں کو عالم بالا میں داخل ہونے اور شرارت کرنے سے روکتے ہیں۔
Ayahs 37:3–9

فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 37:3 in the Quran reader

پھر ان کی جو ذکر کی تلاوت کرتے ہیں۔ (4)

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ Open ayah 37:4 in the Quran reader

تمہارا معبود ایک ہی ہے۔

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ Open ayah 37:5 in the Quran reader

جو تمام آسمانوں اور زمین کا اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے، اور ان تمام مقامات کا مالک جہاں سے ستارے طلوع ہوتے ہیں۔

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ Open ayah 37:6 in the Quran reader

بیشک ہم نے نزدیک والے آسمان کو ستاروں کی شکل میں ایک سجاوٹ عطا کی ہے۔

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ Open ayah 37:7 in the Quran reader

اور ہر شریر شیطان سے حفاظت کا ذریعہ بنایا ہے۔

لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ Open ayah 37:8 in the Quran reader

وہ اوپر کے جہان کی باتیں نہیں سن سکتے، اور ہر طرف سے ان پر مار پڑتی ہے۔

دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ Open ayah 37:9 in the Quran reader

انہیں دھکے دیے جاتے ہیں اور ان کو (آخرت میں) دائمی عذاب ہوگا۔

4: اس سے مراد قرآن کریم کی تلاوت بھی ہوسکتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغولیت بھی، بہرحال ! یہ تینوں صفتیں فرشتوں کی ہیں، اور ان میں بندگی کی تمام صورتیں جمع ہیں، یعنی صف باندھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، طاغوتی طاقتوں پر روک ٹوک رکھنا، اور اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت اور ذکر کی مشغول رہنا۔ ان کی قسم کھا کر یہ فرمایا گیا ہے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور اس کا نہ کوئی شریک ہے، اور نہ اسے اولاد کی حاجت ہے۔ فرشتوں کے ان اوصاف کی قسم کھا کر یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ اگر فرشتوں کے ان حالات پر غور کرو تو وہ سب اللہ تعالیٰ کی بندگی میں لگے ہوئے ہیں، اور اللہ تعالیٰ سے ان کا رشتہ باپ بیٹی کا نہیں، بلکہ عابد اور معبود کا ہے۔
Ayah 37:10

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Open ayah 37:10 in the Quran reader

البتہ جو کوئی کچھ اچک لے جائے تو ایک روشن شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ (5)

5: اس حقیقت کی پوری تفصیل سورة حجر : 16، 17 کے حاشیے میں گذر چکی ہے۔ وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
Ayahs 37:11–27

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ Open ayah 37:11 in the Quran reader

اب ذرا ان (کافروں) سے پوچھو کہ ان کی تخلیق زیادہ مشکل ہے یا ہماری پیدا کی ہوئی دوسری مخلوقات کی ؟ (6) ان کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے۔

بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪ Open ayah 37:12 in the Quran reader

(اے پیغمبر) حقیقت تو یہ ہے کہ تم (ان کی باتوں پر) تعجب کرتے ہو، اور یہ ہنسی اڑاتے ہیں۔

وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪ Open ayah 37:13 in the Quran reader

اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو نصیحت مانتے نہیں۔

وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪ Open ayah 37:14 in the Quran reader

اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں۔

وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 37:15 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ : یہ ایک کھلے جادو کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 37:16 in the Quran reader

بھلا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیوں کی صورت اختیار کرلیں گے، تو کیا ہمیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ؟

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ Open ayah 37:17 in the Quran reader

اور بھلا کیا ہمارے پچھلے باپ دادوں کو بھی ؟

قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ Open ayah 37:18 in the Quran reader

کہہ دو کہ : ہاں ! اور تم ذلیل بھی ہوگے۔

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 37:19 in the Quran reader

بس وہ تو ایک ہی زور دار آواز ہوگی، جس کے بعد وہ اچانک (سارے ہولناک مناظر) دیکھنے لگیں گے۔

وَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ Open ayah 37:20 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ : ہائے ہماری شامت ! یہ تو حساب و کتاب کا دن ہے۔

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ Open ayah 37:21 in the Quran reader

(جی ہاں) یہی وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

(فرشتوں سے کہا جائے گا کہ) گھیر لاؤ ان سب کو جنہوں نے ظلم کیا تھا، اور ان کے ساتھیوں کو بھی اور ان کو بھی

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے، پھر انہیں دوزخ کا راستہ دکھاؤ۔

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

اور ذرا انہیں ٹھہراؤ، ان سے کچھ پوچھا جائے گا۔

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

کیوں جی ؟ تمہیں کیا ہوا کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کر رہے ؟

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

اس کے بجائے یہ تو آج سر جھکائے کھڑے ہیں۔

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

اور وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے آپس میں سوال جواب کریں گے۔

6: مخلوقات کو عدم سے وجود میں لے آئے، تو گارے سے بنے ہوئے انسان کو ایک مرتبہ موت دے کر دوبارہ پیدا کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟
Ayahs 37:28–31

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

(ماتحت لوگ اپنے بڑوں سے) کہیں گے کہ تم تھے جو ہم پر بڑے زوروں سے چڑھ چڑھ کر آتے تھے۔ (7)

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ : نہیں بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہیں تھے۔

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

اور تم پر ہمارا کوئی زور نہیں تھا، اصل بات یہ ہے کہ تم خود سرکش لوگ تھے۔

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

اب تو ہمارے پروردگار کی یہ بات ہم پر ثابت ہوگئی ہے کہ ہم سب کو یہ مزہ چکھنا ہے۔

7: یعنی ہم پر زور ڈالتے تھے کہ ہم ایمان نہ لائیں۔