37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsآسان قرآن

Ayahs 37:70–81

فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ یُهْرَعُوْنَ Open ayah 37:70 in the Quran reader

چنانچہ یہ انہی کے نقش قدم پر لپک لپک کر دوڑتے رہے۔ (14)

وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:71 in the Quran reader

اور ان سے پہلے جو لوگ گزر چکے ہیں، ان میں سے اکثر لوگ بھی گمراہ ہوئے۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 37:72 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان کے درمیان خبردار کرنے والے (پیغمبر) بھیجے تھے۔

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَۙ Open ayah 37:73 in the Quran reader

اب دیکھ لو کہ جن کو خبردار کیا گیا تھا، ان کا انجام کیسا ہوا ؟

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ۠ Open ayah 37:74 in the Quran reader

البتہ جو اللہ کے برگزیدہ بندے تھے (وہ محفوظ رہے)

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ Open ayah 37:75 in the Quran reader

اور نوح نے ہمیں پکارا تھا تو (دیکھ لو کہ) ہم پکار کا کتنا اچھا جواب دینے والے ہیں۔

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ Open ayah 37:76 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو بڑے کرب سے نجات دی۔

وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:77 in the Quran reader

اور ہم نے ان کی نسل ہی کو باقی رکھا۔

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

اور جو لوگ ان کے بعد آئے ان میں یہ روایت قائم کی۔

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

(کہ وہ یہ کہا کریں کہ) سلام ہو نوح پر دنیا جہان کے لوگوں میں۔

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

ہم نیک عمل کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔

14: لپکنے کے لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی اور اشتیاق سے وہی راستہ اختیار کیا اور نہ خود اپنی عقل سے سوچا اور نہ پیغمبروں کی بات مانی
Ayahs 37:82–88

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسرے لوگوں کو پانی میں غرق کردیا۔ (15)

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 37:83 in the Quran reader

اور انہی کے طریقے پر چلنے والوں میں یقینا ابراہیم بھی تھے۔

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ Open ayah 37:84 in the Quran reader

جب وہ اپنے پروردگار کے پاس صاف ستھرا دل لے کر آئے۔

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ Open ayah 37:85 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ : تم کن چیزوں کی عبادت کرتے ہو ؟

اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ Open ayah 37:86 in the Quran reader

کیا اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ موٹ کے خدا چاہتے ہو ؟

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:87 in the Quran reader

تو پھر جو ذات سارے جہانوں کو پالنے والی ہے، اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ Open ayah 37:88 in the Quran reader

اس کے (کچھ عرصے) بعد انہوں نے ستاروں کی طرف ایک نگاہ ڈال کر دیکھا۔

15: حضرت نوح ؑ اور ان کی قوم کا پورا واقعہ سورة ہود : 36 میں گذر چکا ہے۔
Ayahs 37:89–97

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ Open ayah 37:89 in the Quran reader

اور کہا کہ : میری طبیعت خراب ہے۔ (16)

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ Open ayah 37:90 in the Quran reader

چنانچہ وہ لوگ پیٹھ موڑ کر ان کے پاس سے چلے گئے۔

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ Open ayah 37:91 in the Quran reader

اس کے بعد یہ ان کے بنائے ہوئے معبودوں (یعنی بتوں) میں جا گھسے (اور ان سے) کہا : کیا تم کھاتے نہیں ہو ؟

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ Open ayah 37:92 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا کہ تم بولتے نہیں ؟

فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ Open ayah 37:93 in the Quran reader

پھر وہ پوری قوت سے مارتے ہوئے ان (بتوں) پر پل پڑے۔

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ Open ayah 37:94 in the Quran reader

اس پر ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس دوڑے ہوئے آئے۔

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ Open ayah 37:95 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا : کیا تم ان (بتوں) کو پوجتے ہو جنہیں خود تراشتے ہو ؟

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 37:96 in the Quran reader

حالانکہ اللہ نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور جو کچھ تم بناتے ہو اس کو بھی۔

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ Open ayah 37:97 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا : ابراہیم کے لیے ایک عمارت بناؤ، اور اسے دہکتی ہوئی آگی میں پھینک دو۔

16: ان کی قوم کے لوگ انہیں اپنے ایک میلے میں لے جانا چاہتے تھے، حضرت ابراہیم ؑ ایک تو میلے میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے، دوسرے ان کے دل میں یہ ارادہ تھا کہ جب یہ سارے لوگ میلے میں چلے جائیں گے، اور مندر خالی ہوگا تو وہ وہاں جا کر بتوں کو توڑ پھوڑ دیں گے، تاکہ یہ لوگ آنکھوں سے ان بتوں کی بےبسی کا منظر دیکھیں جنہیں انہوں نے خدا بنا رکھا ہے۔ اس لیے انہوں نے عذر کیا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ اب یہ بھی ممکن ہے کہ واقعی ان کے مزاج ناساز ہوں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ تمہارے کفر و شرک کی حرکتیں دیکھ کر میری طبیعت روحانی طور پر خراب ہوتی ہے۔
Ayah 37:98

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 37:98 in the Quran reader

اس طرح انہوں نے ابراہیم کے خلاف ایک برا منصوبہ بنانا چاہا، لیکن ہم نے انہیں نیچا دکھا دیا۔ (17)

17: یعنی جو آگ دہکائی گئی تھی، اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت ابراہیم ؑ کے لیے ٹھنڈا کردیا۔ یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة انبیاء :32 میں گذر چکا ہے۔ وہیں اس کی تشریح بھی گذری ہے۔
Ayahs 37:99–100

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 37:99 in the Quran reader

اور ابراہیم نے کہا : میں اپنے رب کے پاس جارہا ہوں، وہی میری رہنمائی فرمائے گا۔ (18)

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:100 in the Quran reader

میرے پروردگار ! مجھے ایک ایسا بیٹا دیدے جو نیک لوگوں میں سے ہو۔

18: حضرت ابراہیم ؑ کا اصل وطن عراق تھا، اس واقعے کے بعد آپ شام کی طرف ہجرت فرما گئے تھے۔
Ayah 37:101

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ Open ayah 37:101 in the Quran reader

چنانچہ ہم نے انہیں ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری دی۔ (19)

19: اس سے مراد حضرت اسماعیل ؑ ہیں۔
Ayah 37:102

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

پھر جب وہ لڑکا ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا تو انہوں نے کہا : بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اب سوچ کر بتاؤ، تمہاری کیا رائے ہے ؟ بیٹے نے کہا : ابا جان ! آپ وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے۔ (20) انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔

20: یہ اگرچہ ایک خواب تھا، لیکن انبیائے کرام (علیہم السلام) کا خواب بھی وحی ہوتا ہے، اس لیے حضرت اسماعیل ؑ نے اسے اللہ تعالیٰ کا حکم قرار دیا۔
Ayahs 37:103–106

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

چنانچہ (وہ عجیب منظر تھا) جب دونوں نے سر جھکا دیا، اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل گرایا۔ (21)

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں آواز دی کہ : اے ابراہیم !

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

تم نے خواب کو سچ کر دکھایا۔ یقینا ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

یقینا یہ ایک کھلا ہوا امتحان تھا۔

21: باپ بیٹے دونوں نے تو اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں یہی ٹھان لی تھی کہ باپ بیٹے کو ذبح کرے گا، اس لیے حضرت ابراہیم ؑ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹایا، تاکہ چھری پھیرتے وقت ان کی صورت دیکھ کر ارادے میں کوئی تزلزل نہ آجائے۔