37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsآسان قرآن

Ayahs 37:107–122

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

اور ہم نے ایک عظیم ذبیحہ کا فدیہ دے کر اس بچے کو بچا لیا۔ (22)

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور جو لوگ ان کے بعد آئے ان میں یہ روایت قائم کی

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

(کہ وہ یہ کہا کریں کہ) سلام ہو ابراہیم پر۔

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں اسحاق کی خوشخبری دی، کہ وہ صالحین میں سے ایک نبی ہوں گے۔

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر بھی برکتیں نازل کیں۔ اور اسحاق پر بھی، اور ان کی اولاد میں سے کچھ لوگ نیک عمل کرنے والے ہیں، اور کچھ اپنی جان پر کھلا ظلم کرنے والے۔

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَۚ Open ayah 37:114 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے موسیٰ اور ہارون پر بھی احسان کیا۔

وَ نَجَّیْنٰهُمَا وَ قَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 37:115 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں اور ان کی قوم کو ایک بڑے کرب سے نجات دی

وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَۚ Open ayah 37:116 in the Quran reader

اور ہم نے ان کی مدد کی جس کے نتیجے میں وہی غالب رہے۔

وَ اٰتَیْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَۚ Open ayah 37:117 in the Quran reader

اور ہم نے ان دونوں کو ایسی کتاب عطا کی جو بالکل واضح تھی۔

وَ هَدَیْنٰهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۚ Open ayah 37:118 in the Quran reader

اور ان دونوں کو سیدھے راستے کی ہدایت دی۔

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:119 in the Quran reader

اور جو لوگ ان کے بعد آئے، ان میں یہ روایت قائم کی۔

سَلٰمٌ عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 37:120 in the Quran reader

(کہ وہ یہ کہا کریں کہ) سلام ہو موسیٰ اور ہارون پر !

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:121 in the Quran reader

یقینا ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔

اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:122 in the Quran reader

بیشک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔

22: چونکہ باپ بیٹے دونوں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اپنے اختیار کا ہر کام کرچکے تھے، اس لیے امتحان پورا ہوگیا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھایا کہ چھری حضرت اسماعیل ؑ کے بجائے ایک مینڈھے پر چلی جو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے وہاں بھیج دیا، اور حضرت اسماعیل علیہ زندہ سلامت رہے۔
Ayahs 37:123–134

وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:123 in the Quran reader

اور الیاس بھی یقینا پیغمبروں میں سے تھے۔ (23)

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 37:124 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : کیا تم لوگ اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ Open ayah 37:125 in the Quran reader

کیا تم بعل (نامی بت) کو پوجتے ہو، اور اس کو چھوڑ دیتے ہو جو سب سے بہتر تخلیق کرنے والا ہے ؟

اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 37:126 in the Quran reader

اس اللہ کو جو تمہارا بھی پروردگار ہے، اور تمہارے باپ دادوں کا بھی جو پہلے گزر چکے ہیں ؟

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:127 in the Quran reader

پھر ہوا یہ کہ انہوں نے الیاس کو جھٹلایا، اس لیے وہ ضرور (عذاب میں) دھر لیے جائیں گے۔

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:128 in the Quran reader

البتہ اللہ کے برگزیدہ بندے (محفوظ رہیں گے)

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:129 in the Quran reader

اور جو لوگ ان کے بعد آئے ان میں ہم نے یہ روایت قائم کی۔

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ Open ayah 37:130 in the Quran reader

(کہ وہ یہ کہا کریں کہ) سلام ہو الیاسین پر !

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:131 in the Quran reader

یقینا ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:132 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔

وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:133 in the Quran reader

اور یقینا لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے۔

اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 37:134 in the Quran reader

جب ہم نے ان کو اور ان کے سارے گھر والوں کو (عذاب سے) نجات دی تھی۔

23: حضرت الیاس ؑ کے بارے میں قرآن کریم نے زیادہ تفصیلات بیان نہیں فرمائیں، تاریخی اور اسرائیلی روایتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے بعد جب بنی اسرائیل میں کفر وشرک کی وبائیں پھوٹیں تو اس وقت آپ کو پیغمبر بناکر بھیجا گیا، بائبل کی کتاب سلاطین میں ہے کہ بادشاہ اخی اب کی بیوی ازابیل نے بعل نام کے ایک بت کی پرستش شروع کی تھی، حضرت الیاس ؑ نے انہیں بت پرستی سے روکا، اور معجزے بھی دکھلائے، لیکن نافرمان قوم نے ہدایت کی بات ماننے کے بجائے حضرت الیاس ؑ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، اللہ تعالیٰ نے ان کے منصوبے کو ناکام بناکر خود انہی پر بلائیں مسلط فرمائیں اور حضرت الیاس ؑ کو اپنے پاس بلالیا، اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں آسمان پر زندہ اٹھالیا گیا تھا، لیکن کسی مستند روایت سے اس بات کی تائید نہیں ہوتی، مزید تفصیل کے لئے اس آیت کی تشریح میں تفسیر معارف القرآن ملاحظہ فرمائیے۔
Ayahs 37:135–137

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 37:135 in the Quran reader

سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہی۔ (24)

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:136 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسرے لوگوں کو مل یا میٹ کردیا۔

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 37:137 in the Quran reader

اور (اے مکہ والو !) تم ان (کی بستیوں) پر سے گزرا کرتے ہو، (کبھی) صبح ہوتے۔

24: اس سے مراد حضرت لوط ؑ کی بیوی ہے جو آخر وقت تک کافروں کا ساتھ دیتی رہی، اور انہی کے ساتھ عذاب میں ہلاک ہوئی۔ حضرت لوط ؑ کا مفصل واقعہ سورة ہود : 77 میں گذر چکا ہے۔
Ayahs 37:138–139

وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 37:138 in the Quran reader

اور (کبھی) رات کے وقت (25) کیا پھر بھی تمہیں عقل نہیں آتی ؟

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:139 in the Quran reader

اور یقینا یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے۔

25: اہل عرب اپنی تجارت کے لیے جب شام کا سفر کرتے تو ان اجڑی ہوئی بستیوں پر سے گزارا کرتے تھے جہاں حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب آیا تھا۔
Ayahs 37:140–144

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 37:140 in the Quran reader

جب وہ بھاگ کر بھری ہوئی کشتی میں پہنچے۔ (26)

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ Open ayah 37:141 in the Quran reader

پھر وہ قرعہ اندازی میں شریک ہوئے، اور قرعے میں مغلوب ہوئے۔

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ Open ayah 37:142 in the Quran reader

پھر مچھلی نے انہیں نگل لیا، جبکہ وہ اپنے آپ کو ملامت کر رہے تھے۔

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ Open ayah 37:143 in the Quran reader

چنانچہ اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے۔

لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ Open ayah 37:144 in the Quran reader

تو وہ اس دن تک اسی مچھلی کے پیٹ میں رہتے جس دن مردوں کو زندہ کیا جائے گا۔

26: حضرت یونس ؑ کا واقعہ اختصار کے ساتھ سورة یونس (10۔ 98) میں بھی گزر چکا ہے، اور سورة انبیاء (21۔ 87) میں بھی۔ وہ عراق کے شہر نینوا میں بھیجے گئے تھے، اور انہوں نے ایک عرصے تک اپنی قوم کو ایمان لانے کی دعوت دی، اور جب وہ نہ مانی تو انہیں متنبہ کردیا کہ اب تم پر تین دن کے اندر اندر عذاب آکر رہے گا، قوم کے لوگوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ حضرت یونس ؑ چونکہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے، اس لئے اگر وہ بستی سے چلے جاتے ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ وہ ٹھیک کہہ رہے تھے، اس کے بعد حضرت یونس ؑ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہ بستی چھوڑ کر باہر چلے گئے، ادھر بستی کے لوگوں نے جب دیکھا کہ آپ بستی میں نہیں ہیں اور کچھ عذاب کے آثار بھی محسوس کئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عاجزی کے ساتھ توبہ کی جس کے نتیجے میں ان سے عذاب ٹل گیا، حضرت یونس ؑ کو ان کی توبہ کا حال معلوم نہیں تھا، اور جب انہوں نے یہ دیکھا کہ تین دن گزرگئے اور عداب نہیں آیا تو انہیں ڈرہوا کہ اگر میں بستی میں واپس جاؤں گا تو بستی والے مجھے جھوٹا بنائیں گے، اور اندیشہ یہ بھی تھا کہ جھوٹا سمجھ کر قتل نہ کردیں، اس لئے اس خوف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا حکم آنے سے پہلے ہی وہ اپنی بستی میں جانے کے بجائے سمندر کی طرف نکل کھڑے ہوئے اور ایک کشتی میں سوار ہوگئے جو آدمیوں سے بھری ہوئی تھی، اللہ تعالیٰ کے ایک جلیل القدر پیغمبر ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو آپ کی یہ بات پسند نہیں آئی کہ آپ اللہ تعالیٰ کا حکم آنے سے پہلے بستی کو چھوڑ کر کیوں چلے گئے، بڑے لوگوں کی معمولی چوک پر بھی گرفت ہوتی ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ کشتی وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈدبنے کے قریب آگئی، اور قرعہ اندازی کی گئی کہ ایک شخص کو کشتی سے باہر پانی میں اتارا جائے، کئی مرتبہ قرعہ ڈالا گیا اور ہر بار قرعے میں انہی کا نام نکلا، چنانچہ انہیں پانی میں پھینک دیا گیا، جہاں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی آپ کی منتظر تھی، اس نے آپ کو نگل لیا اور آپ کچھ عرصے مچھلی کے پیٹ میں رہے، جیسا کہ سورة ٔانبیاء میں گزرا ہے، وہاں آپ یہ تسبیح پڑھتے رہے کہ : لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَکَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ۔