Explained with ayahs 79–81
ہر مخلوق خالق کائنات پر دلیل ہے۔
انعام یعنی اونٹ گائے بکری اللہ تعالیٰ نے انسان کے طرح طرح کے نفع کیلئے پیدا کئے ہیں سواریوں کے کام آتے ہیں کھائے جاتے ہیں۔ اونٹ سواری کا کام بھی دے کھایا بھی جائے، دودھ بھی دے، بوجھ بھی ڈھوئے اور دور دراز کے سفر بہ آسانی سے کرا دیئے۔ گائے کا گوشت کھانے کے کام بھی آئے دودھ بھی دے۔ ہل بھی جتے، بکری کا گوشت بھی کھایا جائے اور دودھ بھی پیا جائے۔ پھر ان کے سب کے بال بیسیوں کاموں میں آئیں۔ جیسے کہ سورة انعام سورة نحل وغیرہ میں بیان ہوچکا ہے۔ یہاں بھی یہ منافع بطور انعام گنوائے جا رہے ہیں، دنیا جہاں میں اور اس کے گوشے گوشے میں اور کائنات کے ذرے ذرے میں اور خود تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
سورة الْمُؤْمِن 110
مطلب یہ ہے کہ اگر تم محض تماشا دیکھنے اور دل بہلانے کے لیے معجزے کا مطالبہ نہیں کر رہے ہو، بلکہ تمہیں صرف یہ اطمینان کرنے کی ضرورت ہے کہ محمد ﷺ جنّاتوں کو ماننے کی دعوت تمہیں دے رہے ہیں (یعنی توحید اور آخرت) وہ حق ہیں یا نہیں، تو اس کے لیے خدا کی یہ نشانیاں بہت کافی ہیں جو ہر وقت تمہارے مشاہدے اور تجربے میں آ رہی ہیں۔ حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان نشانیوں کے ہوتے کسی اور نشانی کی کیا حاجت رہ جاتی ہے۔ یہ معجزات کے مطالبے کا تیسرا جواب ہے۔ یہ جواب بھی اس سے پہلے متعدد مقامات پر قرآن میں دیا گیا ہے اور ہم اس کی تشریح اچھی طرح کرچکے ہیں (ملاحظہ ہو جلد اول، الانعام، حواشی 26۔ 27،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
خلاصہ تفسیر
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے مویشی بنائے تاکہ ان میں بعض سے سواری لو اور ان میں بعض (ایسے ہیں کہ ان کو) کھاتے بھی ہو اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں (کہ ان کے بال اور اون کام آتی ہے) اور (اس لئے بنائے) تاکہ تم ان پر (سوار ہو کر) اپنے مطلب تک پہنچو جو تمہارے دلوں میں ہے (جیسے کسی سے ملنے کے لئے جانا، تجارت کے لئے جانا وغیرہ وغیرہ) اور (سوار ہونے میں کچھ ان ہی کی تخصیص نہیں بلکہ) ان پر (بھی) اور کشتی پر (بھی) لدے لدے پھرتے ہو (اور ان کے علاوہ) تم کو اپنی (قدرت کی) اور نشانیاں دکھلاتا رہتا ہے۔ (چنانچہ ہر مصنوع اس کی صنعت پر ایک نشان ہے) سو تم اللہ کی کون کون سی نشانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
ربوبیت کی نشانیوں کی طرف اشارہ
اوپر کی آیت میں نشانیٔ عذاب کے مطالبہ کی طرف اشارہ گزرا۔ وہاں رسول ﷺ کو یہ اطمینان دلایا تھا کہ اس چیز کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے اس وجہ سے معاملہ اسی کے سپرد کرنا چاہئے۔ اس آیت میں عذاب کی نشانی کا مطالبہ کرنے والوں کی ربوبیت کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ عذاب ہی کی کوئی نشانی کیوں مانگتے ہو، خدا کی ربوبیت کی بیشمار نشانیوں پر کیوں نہیں غور کرتے جو تمہارے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں ! اس نے تمہارے لئے چوپائے پیدا کئے جن میں کچھ تمہاری سواری کے کام آتے ہیں اور بعض سے تم اپنی غذائی ضروریات پوری کرتے ہو، علاوہ بریں تمہارے دوسرے بہت سے مفاد بھی ان سے وابستہ ہیں۔ ان…
Read the full tafseer →80۔ 1 جیسے ان سب کے اون اور بالوں سے اور ان کی کھالوں سے کئی چیزیں بنائی جاتی ہیں۔ ان کے دودھ سے گھی مکھن، پنیر وغیرہ بھی بنتی ہے۔
80۔ 1 ان سے مراد بچے اور عورتیں ہیں جنہیں ہودج سمیت اونٹ وغیرہ پر بٹھا دیا جاتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–85
20: کفار مکہ حضور اقدس ﷺ سے بار بار نت نئے معجزے دکھانے کی فرمائش کرتے رہتے تھے، اور اصرار کرتے تھے کہ وہی معجزہ دکھائیں جو ہم کہیں، اور مقصد سوائے وقت گزاری کے کچھ نہیں تھا، کیونکہ آپ کے کئی معجزات دیکھنے کے باوجود وہ ایمان لانے پر تیار نہیں تھے، اس لئے یہاں ان کو دینے کے لئے یہ جواب سکھایا جارہا ہے کہ معجزہ دکھانا کسی پیغمبر کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا، وہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے دکھایا جاسکتا ہے۔ اس لیے آپ ان سے صاف کہہ دیں کہ میں تمہاری نت نئی فرمائشیں پوری کرنے سے معذور ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
آیت نمبر 79 تا 81
ان مویشیوں کی ابتدائی تخلیق اسی طرح نشانی ہے جس طرح انسان کی تخلیق نشانی اور معجزہ ہے ، ان حیوانات کے اندرروح ڈالنا ، ان کو اس شکل و صورت میں بنانا اور ان کو رنگارنگ پیدا کرنا سب معجزات ہیں۔ پھر یہ تمام جانور اور مویشی انسان کے لیے مسخر کیے گئے ہیں حالانکہ ان میں سے بعض ایسے ہیں جو جسم کے اعتبار سے بھی اور قوت کے اعتبار سے بھی انسان سے زیادہ قوی ہیں لیکن
اللہ الذی ۔۔۔۔ تاکلون (40: 79) ” اللہ ہی نے تمہارے لیے یہ مویشی جانور بنائے ہیں تاکہ ان میں سے کسی پر تم سوار اور کسی کا گوشت کھاؤ “۔ اب اگر کوئی کہے کہ یہ جانور اسی طرح دنیا پائے گئے ہیں اور یہ کہ انسان کے لیے یہ کوئی معجزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
1 مثلاً ان کے چمڑے، بال اور اون وغیرہ سے طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہو۔2 سواری کرنا بجائے خود ایک مقصد ہے اور سواری کے ذریعہ سے انسان بہت مقاصد دینی و دنیاوی حاصل کرتا ہے۔
3 یعنی خشکی میں جانوروں کی پیٹھ پر اور دریا میں کشتیوں پر لدے پھرتے ہو۔
Read the full tafseer →آیت 80 { وَلَکُمْ فِیْہَا مَنَافِعُ } ”اور ان میں تمہارے لیے اور بھی بہت سی منفعتیں ہیں“
یہ مضمون اس سے پہلے سورة النحل میں بہت تفصیل سے آچکا ہے۔
{ وَلِتَبْلُغُوْا عَلَیْہَا حَاجَۃً فِیْ صُدُوْرِکُمْ وَعَلَیْہَا وَعَلَی الْفُلْکِ تُحْمَلُوْنَ } ”اور تاکہ ان پر سوار ہو کر تم اپنی وہ ضرورتیں پوری کرو جو تمہارے دل میں ہوتی ہیں اور ان پر بھی اور کشتیوں پر بھی تمہیں سوار کرایا جاتا ہے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
99 حِسی معجزہ اور اس کے تقاضے :۔ کیونکہ معجزہ نبی کا فعل نہیں ہوتا بلکہ براہ راست اللہ کا فعل ہوتا ہے البتہ اس کا صدور نبی کے ہاتھوں ہوتا ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ معجزہ محض کھیل تماشا کے طور پر عطا نہیں ہوتا بلکہ اس سے مقصود کسی اہم دینی یا دنیوی غرض کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ بعض انبیاء کو کچھ معجزات ان کے طلب کرنے کے بغیر کافروں پر دلیل نبوت اور اتمام حجت کے طور پر عطا کئے گئے اور اگر کوئی پیغمبر کوئی حسی معجزہ پیش نہ کرے اور قوم اس سے حسی معجزہ کا مطالبہ کرے پھر اللہ تعالیٰ قوم کے مطالبہ پر ایسا معجزہ نبی کو دے دے لیکن کافر قوم پھر بھی ایمان نہ لائے تو اس پر یقیناً عذاب…
Read the full tafseer →76۔ (اپنے مقاصد دنیوی کیلئے) (آیت) ” منافع “۔ اس کے تحت میں اگر ایک تجارت ہی کی مد کو لیجئے تو خدا معلوم اس کی کتنی شاخیں نکلتی چلی آئیں۔ کچے گوشت کی تجارت، خشک شدہ محفوظ گوشت کی تجارت، اون کی تجارت، کھالوں کی تجارت، آنت کی تجارت ہڈی کی تجارت، دانت کی تجارت، دودھ، دہی، پینر، گھی، مکھن، کریم، بالائی کی تجارت، وقس علی ہذا ..... اور طبی فوائد کو کوئی گنانا چاہے تو وہ اس کے علاوہ ! مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے ان جاہل صوفیہ کا بھی رد نکل آیا جو اسباب معیشت سے نفع اٹھانے کو طریق و سلوک کے منافی سمجھتے ہیں، (آیت) ” حاجۃ فی صدورکم “۔ اس کے تحت میں تفریحی سفر، تجارتی سفر، جنگی سفر، خانگی سفر،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
آیت نمبر 79 تا 85
ترجمہ : اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے (مویشی) پیدا کئے کہا گیا ہے کہ یہاں (انعام) سے خاص طور پر اونٹ مراد ہے اور ظاہر یہی ہے اور بقروغنم بھی معراد ہوسکتے ہیں تاکہ ان میں سے بعض پر تم سواری کرو اور بعض کو ان میں سے کھاتے ہو اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت منافع ہیں (مثلاً ) دودھ، نسل، اونٹ کے بال، اور اون تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنی دلی مراد کو حاصل کرو اور وہ (مختلف) شہروں تک بوجھ لاد کرلیجاتا ہے، اور ان سواریوں پر خشکی میں اور کشتیوں پر دریا میں چڑھے پھرتے ہو اور وہ تمہیں اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے، پس تم وحدانیت پت دلالت کرنے والی کون کون سی نشانیوں کا انکار…
Read the full tafseer →ولکم فیھا منافع ولتبلغوا علیھا حاجۃ فی صدورکم وعلیھا وعلی الفلک تحملون اللہ اور تمہارے ان میں اور بھی فائدے ہیں اور (اسلئے بنائے) تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنے مطلب کو پہنچو اور ان پر اور کشتیوں پر تم لدے لدے پھرتے ہو (ترجمہ تھانوی) ۔
لِتَرْکَبُوْا مِنْھَا یعنی چوپایوں کی جنس میں سے کچھ تو وہ ہیں جن کا گوشت تم کھاتے ہو ‘ جیسے بکریاں ‘ بھیڑیں ‘ اور کچھ وہ ہیں جن کا گوشت بھی کھاتے ہو اور ان پر سوار بھی ہوتے ہو ‘ جیسے اونٹ ‘ بیل وغیرہ۔
وَلَکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُیعنی تمہارے لئے ان سے بہت فائدے ہیں ‘ اون ‘ بال ‘ کھال (سینگ ‘ آنت) دودھ (دہی ‘ پنیر ‘ مکھن ‘ گھی وغیرہ)
وَلِتَبْلُغُوْا عَلَیْھَا یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
(79۔ 80) اللہ ہی نے تمہارے لیے مویشی پیدا کیے جن میں سے بعض سے تم سواری کا کام لیتے ہو اور بعض کا گوشت کھاتے اور ان مویشیوں کا دودھ اور ان کی اون بھی تمہارے کام آتی ہے۔
اور تاکہ تم ان کے ذریعے سے اپنی دلی مراد کو پورا کرو اور خشکی میں ان جانوروں پر بھی اور سمندر میں کشتیوں پر بھی تم سفر کرتے پھرتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
(1) اللہ الذی جعل لکم الانعام لترکبوا…:”جعل“ یہاں ”خلق“ کے معنی میں ہے : جیسا کہ فرمایا :(الحمد للہ الذی خلق السموت والارض وجعل الظلمت والنور) (الانعام : 1)”سب تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیروں اور روشنی کو بنایا۔“”الانعام“”نعم“ (نون اور عین کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے، اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکریاں، نر و مادہ دونوں۔ (دیکھیے انعام : 142، 143) یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں۔ عموماً یہ لفظ اونٹوں پر بولا جاتا ہے۔ اس آیت میں مذکور زیادہ تر فوائد اونٹوں کے بیان ہوئے ہیں۔ ان آیات کی مفصل تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نحل (5 تا 8، 66، 80) اور سورة مومنون (21،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
( اللہ الذی جعل لکم۔۔۔۔۔۔۔ )
اللہ الذی جعل لکم الانعام ابو اسحاق زجاج نے کہا : انعام سے مراد یہاں اونٹ ہیں لترکموا منھا ومنھا تاکلون۔ جن علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ گھوڑے کا گوشت کھانا منع ہے اور اونٹ کا گوشت کھانا مباح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انعام کے بارے میں فرمایا :” ومنھا تاکلون “ اور گھوڑوں کے بارے میں فرمایا :” وَّالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ لِتَرْکَبُوْھَا “ (النحل : 8) ان کے کھانے کی اباحت کا ذکر نہیں کیا۔ سورة نحل میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
ولکم فیھا منافع اونٹ کے بالوں، اون بکری کے بالوں، دودھ، مکھن، گھی اور پنیر وغیرہ میں تمہارے لیے منافع ہے ولتبلغوا علیھا حاجۃ فی صدور کم یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
1:۔ طبرانی (رح) نے الاوسط میں وابن مردویہ (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومنہم من لم نقصص علیک “ (اور ان میں سے بعض کے احوال آپ سے بیان نہیں کئے) یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک حبشی بندے کو بھی نبی بنایا اور وہ ان پیغمبروں میں سے ہے کہ جس کا ذکر محمد ﷺ سے نہیں کیا گیا
Read the full tafseer →وَلَكُمْ فِيْهَا [ اور تمہارے لئے ان میں ] مَنَافِعُ [کچھ فائدے ہیں ] وَلِتَبْلُغُوْا [ اور تاکہ تم لوگ پہنچو ] عَلَيْهَا [ ان پر (سوار ہوکر ) ] حَاجَةً [ کسی ایسی ضرورت کو جو ] [فِيْ صُدُوْرِكُمْ : تمہارے سینوں میں ہے ] وَعَلَيْهَا وَعَلَي الْفُلْكِ [ اور ان پر اور کشتیوں پر ] تُحْمَلُوْنَ [ تم لوگ سوار کیے جاتے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
چوپایوں اور کشتیوں کی نعمت کا تذکرہ
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں یاد دلائی اور مخاطبین کو توجہ دلائی کہ زمین میں چل پھر کر پرانی امتوں کے نشانات دیکھیں اور ان کی ہلاکت سے عبرت حاصل کریں فرمایا اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے پیدا فرمائے ان چوپایوں پر سوار بھی ہوتے ہو اور ان کا گوشت بھی کھاتے ہو اور ان میں دیگر منافع بھی ہے مثلاً دودھ پیتے ہو ان کے بالوں سے اور اون سے اور چمڑوں سے نفع حاصل کرتے ہو ان پر جو سفر کرتے ہو یا اسفار ایسے نہیں کہ صرف تم ہی کو یہ جانور ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیں بلکہ تم انہیں بوجھ منتقل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہو ان پر مال لاد کر ایک شہر سے دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
ذکر انعامات و توحید رب العالمین، وتہدید منکرین ومشرکین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اللہ الذی جعل لکم الانعام ....... الی ........ وخسرھنالک الکفرون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں سلسلہ مضمون توحید خداوندی تھا اور دلائل قدرت کے بیان کے ساتھ مجرمین کے انجام ہلاکت پر افسوس وملامت کا اظہار ہے، اور یہ کہ خود مجرمین آخرت میں اپنے اعمال پر کس قدر پچھتائیں گے، آیات میں مزید انعامات خداوندی ذکر فرما کر مضمون توحید اور منکرین ومشرکین کی تہدید پر سورت کو ختم فرما دیا گیا، ارشاد ہے، اللہ ہی ہے جس نے تمہارے ہی نفع کے لیے مویشی بنائے تاکہ ان میں سے بعض سے تم سواری لو اور ان میں سے بعض کو کھاؤ، اور بھی بہت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
73:۔ ” اللہ الذی جعل “ یہ بھی دلیل عقلی کا اعادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بےپایاں انعامات و احسانات دیکھو۔ اسی نے تمہارے لیے کئی قسم کے چوپائے پیدا فرمائے ہیں۔ کچھ تو ایسے ہیں جن پر تم سواری کرتے ہو، مثلاً اونٹ اور گھوڑے اور کچھ ایسے ہیں جن کا گوشت کھاتے ہو مراد حلال مویشی ہیں اس کے علاوہ ان سے تم اور کئی قسم کے فوائد و منافع حاصل کرتے۔ دودھ، اون اور چمڑے وغیرہ سے اور اپنی نہایت اہم ضرورتیں پوری کرتے ہو مثلاً اپنا ساز و سامان اور مال تجارت وغیرہ ایک جگہ سے دوسری جگہ ان پر لاد کرلے جاتے ہو۔ یہ سواریاں تو خشکی کے سفر میں کام آتی ہیں اور دریاؤں اور سمندروں کا سفر طے کرنے کے لیے کشتیوں اور بحری جہازوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی تردید فرمائی اور ساتھ ساتھ پیغمبر ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی بھی دی کہ پہلی قوموں نے بھی اپنے انبیاء کرام کی تکذیب کی ان کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں مگر بالاخر کامیابی اللہ کے نبیوں کو ہوئی اور مکذبین دنیا وآخرت دونوں جگہ ناکام اور دائمی عذاب کے مستحق ٹھہرے اب آج کی آیات میں پہلے کچھ دلائل توحید بیان ہوئے ہیں اور پھر کفار و مشرکین کی توجہ سابقہ اقوام کی طرف دلائی گئی ہے جو ان سے زیادہ تعداد میں اور زیادہ طاقتور تھے مگر وہ اپنے غرور وتکبر کی وجہ سے مبتلائے عذاب ہوئے اس وقت انہوں نے توبہ کی مگر اس بےوقت ایمان لانے کا کچھ فائدہ حاصل نہ…
Read the full tafseer →وَلَكُمْ فِيْہَا مَنَافِعُ وَلِتَبْلُغُوْا عَلَيْہَا حَاجَۃً فِيْ صُدُوْرِكُمْ وَعَلَيْہَا وَعَلَي الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ 80ۭ
نفع
النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ، فَالنَّفْعُ خَيْرٌ ، وضِدُّهُ الضُّرُّ. قال تعالی: وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3]
( نع ) النفع
ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے یا وسیلہ بنایا جائے پس نفع خیر کا نام ہے اور اس کی ضد ضر ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] اور نہ اپنے نقصان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
تفسیر : خوف دلانے کے بعد پھر وہ دلائل بیان فرماتا ہے کہ جو اللہ حکیم رحیم کے وجود پر دلالت کرتے ہیں اور جن سے اس کا بندوں پر انعام و احسان ثابت ہوتا ہے۔ فقال اللہ الذی الخ کہ اللہ وہ محسن و رحیم و کریم و قادر ہے کہ جس نے تم سے بڑے زور آور جانوروں کو تمہارے بس میں کردیا کہ ان میں سے تم کسی پر سوار ہوتے ہو۔ جیسا کہ اونٹ، گھوڑا، گدھا بعض ملکوں میں بیل ہاتھی بھی یہی کام دیتے ہیں اور بعض کو تم ذبح کرکے کھاتے ہوگائے، بھیڑ، بکری وغیرہ۔
اور اسی پر بس نہیں بلکہ ولکم فیہا منافع اس کے علاوہ تمہارے لیے ان میں اور بھی فوائد ہیں، ان سے نفع لیتے ہو۔ دودھ، گھی فروخت کرتے ہو کھاتے پیتے ہو ہل جو تتے ہو، ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَـکُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْکَبُوْا مِنْھَا وَمِنْھَا تَاْکُلُوْنَ ۔ وَلَکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ وَلِتَبْلُغُوْا عَلَیْھَا حَاجَۃً فِیْ صُدُوْرِکُمْ وَعَلَیْھَا وَعَلَی الْفُلْکِ تُحْمَلُوْنَ ۔ وَیُرِیْـکُمْ اٰیٰـتِہٖ صلے ق فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُنْـکِرُوْنَ ۔ (المؤمن : 79 تا 81)
(اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے پیدا کیے تاکہ تم ان میں سے کسی سے سواری کا کام لو اور کسی کا گوشت کھائو۔ ان کے اندر تمہارے لیے اور بھی بہت سے منافع ہیں تاکہ تم ان کے ذریعہ سے اس ضرورت تک پہنچو جو تمہارے سینوں میں ہے اور ان پر بھی اور کشتیوں پر بھی تم سوار کیے جاتے ہو۔ اللہ تم کو اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
فہم القرآن
ربط کلام : اگر باطل پرست حق پانا اور دنیا، آخرت کے نقصان سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں کم ازکم چوپاؤں اور کشتیوں پر ہی غور کرلینا چاہیے اگر بلا تعصّب غور کریں گے تو یقیناً ہدایت پائیں گے۔
اس آیت کریمہ سے پہلے آیت نمبر 60 میں حکم دیا گیا ہے کہ صرف اپنے رب سے مانگو اور اس کی عبادت کرو اس کے بعد آفاق اور انسان کو اپنی تخلیق اور خوراک پر غور کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں پیدا کرنے اور پالنے والا صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ بس اس کے حکم کے مطابق اور پورے اخلاص کے ساتھ صرف اسی ہی کی عبادت کرو کیونکہ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا اور زندگی و موت کا مالک ہے۔ پھر مشرکین کے روییّ ان کے انجام کا ذکر…
Read the full tafseer →وَلَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ (اور تمہارے لیے ان میں اور بھی بہت سے فوائد ہیں) یعنی دودھ اور اون۔
وَلِتَبْلُغُوْا عَلَيْهَا حَاجَةً فِيْ صُدُوْرِكُمْ (اور تاکہ تم ان پر اپنے مطلب تک پہنچو جو تمہارے دلوں میں ہے) ای لتبلغوا علیہا ماتحتاجون الیہ من الامور۔ تاکہ ان پر سواری کر کے تم اپنی ضروریات کو پورا کرسکو۔
وَعَلَيْهَا (اور ان چوپاؤں پر) وَعَلَي الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ (اور کشتیوں پر تم لدے لدے پھرتے ہو) ۔ یعنی صرف چوپاؤں پر فقط سواری نہیں کرتے۔ بلکہ ان پر اور کشتیوں پر خشکی اور سمندر میں سفر کرتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
78، ولقد ارسلنا رسلا من قبلکم منھم منقصصنا علیک ، ان کی خبر قرآن میں ، ومنھم من لم نقصص علیک وماکان لرسول ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ، اللہ کے حکم اور اس کے ارادہ کے ساتھ۔ ، فاذا جاء امر اللہ، اس کا فیصلہ انبیاء (علیہم السلام) اور امتوں کے درمیان۔ ، قضی بالحق وخسرھنالک المبطلون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
79۔ 80۔ اوپر انسان اور انسان کی بعضی ضرورت کی چیزوں کے پیدا کرنے کا ذکر تھا اس تذکرہ میں فرمایا اللہ وہ ہے جس نے تمہارے فائدہ کے واسطے گائے اونٹ بکری یہ سب جانور پیدا کئے ان میں سے کسی پر سوار ہوتے ہو اور کسی کا گوشت کھاتے ہو اونٹ پر سوار بھی ہوتے ہیں اور اس کا گوشت بھی کھاتے ہیں اور دودھ بھی پیتے ہیں اور اس پر بوجھ لاد کر دور دور شہروں میں سفر کرتے ہیں مجاہد اور قتادہ 2 ؎ نے کہا کہ لادے پھرتے ہیں بوجھ ایک شہر سے طرف دوسرے شہر کی طرف یہ اونٹ کا حال ہے اور گائے کا گوشت کھاتے ہیں اور دودھ پیتے ہیں اور بیلوں سے کھیتی کرتے ہیں اور بکری کا گوشت کھاتے ہیں اور دودھ پیتے ہیں اور پھر ان سب کے بال کاٹے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
آیت 78
یعنی آپ سے پہلے بھی ہم نے بہت سے رسول ان کی قوموں کی طرف مبعوث فرمائے۔ جو انہیں توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کی ایذا راسنی پر صبر کرتے تھے۔ (منھم من قصصنا علیک) جن میں سے کچھ کے بارے میں ہم نے آپ کو خبر دی (ومنھم من لم نقصص علیک) ” اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات ہم نے آپ پر بیان نہیں کئے۔ “ تمام انبیاء اور رسول اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت ہیں انکے اپنے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں۔ تمام رسولوں میں سے کسی کے اختیار میں نہیں (آیت) ” کہ وہ کوئی نشانی، معجزہ لائے۔ “ یعنی ان رسولوں کے اختیار میں نہیں کہ وہ سمعی یا عقلی نشانی لاسکیں۔ (الا باذن اللہ) مگر اللہ کی مشیت اور اس کے حکم سے، اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–85
دعا ہی عبادت ہے
قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔
Read the full tafseer →150 چوپایوں میں طرح طرح کے فوائد و منافع : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان میں تمہارے لیے اور بھی طرح طرح کے عظیم الشان فائدے ہیں "۔ کہ ان کی اونوں، بالوں، کھالوں اور ہڈیوں وغیرہ سے بھی تم لوگ طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہو کہ انکے ذریعے تم لوگ اپنے استعمال کی طرح طرح کی چیزیں بناتے اور استعمال کرتے ہو۔ ان کے ذریعے طرح طرح کے عظیم الشان کاروبار کرتے اور دولت کماتے ہو وغیرہ وغیرہ۔ اور ان میں سے کچھ سے تم لوگ سواری اور باربرداری کا کام لیتے ہو جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ ۔ { وَتَحْمِلُ اَثْقَالَکُمْ اِلٰی بَلَدٍ لَمْ تَکُوْنُوْا بَالِغِیْہِ الاَّ بِشِقِّ الاَنْفُسِ } ۔ سو تم لوگ اگر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–85
جھٹلانے والوں کا انجام
تشریح : یہ ان بدنصیب لوگوں کی داستان ہے جن کو پیغمبروں نے ہدایت کی طرف بلایا توحید کی دعوت دی ‘ توحید کی خوبیاں بتائیں ‘ اللہ سے ڈرایا ‘ برے کاموں سے منع کیا اور بار بار دلیلوں کے ساتھ سمجھایا کہ برے کام نہ صرف دنیا میں ہی نقصان دیتے ہیں بلکہ آخرت کو بھی خراب کردیتے ہیں۔ جہنم کے عذاب کا نقشہ بیان کیا جس کو اگر انسان غور ‘ یقین اور توجہ سے دیکھے تو چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ مـگر کفار پہلے بھی اب بھی اور آئندہ بھی شیطان کی گرفت میں اتنی بری طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ روشنی اور ہدایت کی بات ان پر اثر ہی نہیں کرتی بلکہ الٹا پیغمبروں کو ہی جھٹلاتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں اور نیکی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
رکوع نمبر 9: آیات 79 تا 85:
اسرار و معارف :
اللہ وہ ذات کریم ہے جس نے تمہاری خدمت کے لیے کتنی اقسام کے جانور پیدا کردئیے اور تمہیں ان پر یہاں تک اختیار بخشا کہ کسی پر سواری کرتے ہو تو کسی کو ذبح کرکے کھالیتے ہو کبھی ان کی تجارت کرکے اپنے لیے دولت کماتے ہو غرض جو جی میں آئے اپنی سب ضرورتیں پوری کرتے ہو اور تم زمین پر پانی میں ہر جگہ مختلف سواریاں استعمال کرتے ہو یہ سب تو اس کی عظمت کے گواہ ہیں تم بھلا کون کون سی دلیل کا انکار کروگے۔ کیا روئے زمین پر پھر کر نہیں دیکھا کہ پہلی اقوام کا کیا انجام ہوا ان کے چھوڑے ہوئے آثار اور کھنڈرات بتاتے ہیں کہ وہ تم لوگوں سے کہیں زیادہ طاقتور اور مالدار تھے…
Read the full tafseer →ف 1 جیسے کہیں کا سفر یا دشمن پر حملہ کرنا۔
Read the full tafseer →(40:80) فیہا : ای فی الانعام۔ منافع (فوائد جمع منفرۃ واحد) سے مراد سواری اور خوراک کے علاوہ فوائد ہیں۔ مثلا ان کے دودھ، ان کے چمڑے وغیرہ سے فائدہ اٹھانا۔
لتبلغوا۔ لام تعلیل کا ہے۔ تبلغوا مضارع (لام کے اول آنے سے نون اعرابی حذف ہوگیا) صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تاکہ تم پہنچو۔ حاصل کرو۔ اس کا مفعول حاجۃ ہے۔
فی صدورکم۔ حاجت کی تعریف ہے یعنی جو تمہارے سینوں میں ہے۔ حاجۃ فی صدورکم : وہ مقصد جو تمہارے سینوں میں ہے یعنی تم اپنے دلوں کو مقصد تک پہنچو) مراد ان پر سوار ہوکر سفر کرنا، اسباب لاد کرلے جانا۔ دشمنوں پر چڑھائی کرنا وغیرہ۔
علیہا : ان پر سوار ہوکر ۔ یعنی مویشیوں پر چڑھ کر۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–85
لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 85 : الانعام ( مویشی ، جانور) لترکبوا ( تا کہ تم سواری کرو) حاجۃ (ضرورت) تنکرون ( تم انکار کرو گے) ما اغنی (کام نہ آیا) خلت (گزر گئی) سنت اللہ ( اللہ کا قانون ، اللہ کا دستور)
تشریح : آیت نمبر 79 تا 85 : سورة مومن کی آخرت آیات میں انسانی زندگی گزارنے کی بہت سی چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے مثلاً غذا ، سواری ، صنعتیں ، سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لانے لے جانے کے اسباب وغیرہ ۔ اگرچہ چیزیں نہ ہوں تو انسان کو اپنی زندگی اور تہذیب و تمدن کے تقاضوں کو پورا کرنا مشکل ہوجائے۔
اللہ نے انسان کو ان بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے جس پر ہر انسان کو ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
اللہ تعالیٰ کے احسانات۔
(ف 2) اللہ کی وہ ذات ہے جس نے تمہارے فائدہ کے واسطے گائے اور اونٹ بکری وغیرہ جانور پیدا کیے ان میں سے کسی پر سوار ہوتے ہو اور کسی کا گوشت کھاتے ہو، اونٹ پر سوا بھی ہوتے ہیں اور اس کا گوشت بھی کھاتے ہیں اور اس پر بوجھ لاد کر دور دورشہروں میں سفر کرتے ہیں اور گائے کا گوشت کھاتے ہیں اور دودھ پیتے ہیں اربیلوں سے کھیتی کرتے ہیں اور بکری کا گوشت کھاتے ہیں اور دودھ پیتے ہیں اور پھر ان سب کے بال کاٹے جاتے ہیں ان سے برتنے کی چیزیں بنائی جاتی ہیں ان کی کھال طرح طرح کے کام میں لائی جاتی ہے جیسا کہ سورة الانعام اور سورة النحل میں اس کی تفصیل بیان ہوچکی ہے اسی واسطے اس جگہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
[28] یعنی جہاں جانے کی حاجت تمہارے دل میں ہے وہاں جا سکو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
(ف 1) علاوہ اس کے بیشمار اس کی نشانیاں ہیں ۔ جو وہ تم کو صبح وشام دکھاتا رہتا ہے ۔ کیا ان نوایہ مادی کا ، اور ان آیات کا یہ تقاضا نہیں ہے ۔ کہ تم زندگی کے متعلق اور اس کے مقصد کے متعلق کچھ سوچو ۔ اور انکار وسرکشی سے کام لو ۔ گوشت خوری کو بھی اللہ تعالیٰ نے انعامات میں ذکر فرمایا ہے ۔ بتانا یہ مقصود ہے ۔ کہ کائنات میں جو کچھ ہے ۔ وہ اس لئے ہے ۔ کہ حیات کبریٰ یعنی انسانیت کے کام آئے اور انسان دنیا کی ہر چیز سے استفادہ کرے ۔
Read the full tafseer →(80) اور تمہارے لئے ان چوپایوں میں اور بھی بہت سے منافع اور فوائد ہیں اور یہ غرض بھی ہے کہ تم ان پر سوار ہو کر اپنی اس حاجت اور ضرورت کو پہنچ جائو جو تمہارے دلوں میں ہے اور تم ان چوپایوں پر اور کشتیوں پر چڑھے چڑھے پھرتے ہو۔ یعنی ان کا دودھ پیتے ہو ان کی اون کا استعمال کرتے ہو ان کا چمڑا کام میں لاتے ہو اور وہ حاجتیں اور ضرورتیں جو تمہارے جی میں ہوتی ہیں ان حاجتوں کو ان پر سوار ہوکر پورا کرتے ہو اور صرف چوپایوں پر کیا منحصر ہے بلکہ سواریوں پر اور کشتیوں پر چڑھے پھرتے ہو۔
مطلب یہ ہے کہ خشکی اور تری دونوں قسم کے سفروں کے لئے آسانیاں اور سہولتیں پیدا کردی ہیں اور ایسی چیزیں مہیا کردی ہیں جس سے…
Read the full tafseer →ف 1۔ مثلا ان کے بال اور اون کام آتی ہے۔
Read the full tafseer →ان جانوروں میں تمہارے لیے بہت سی نشانیاں رکھی ہیں اگر تم غور کرو
80۔ ان جانوروں کی تجارت کرو تو تمہارے لیے منافع ، ان کی پرورش کرو تو تمہارے منافع کہ اون تم استعمال کرو۔ ضرورت کے لیے فروخت کر کے اپنی ضرورت کا سامان خرید کرو ان جانوروں سے وافر دودھ مہیا ہو سکتا جس کی تجارت بھی کرسکتے ہو اور خود اس کو بطور خوراک استعمال بھی کرسکتے ہو تمہارا جی چاہے تو سوای کے جانوروں کو سواری کے لیے استعمال کرسکتے ہو اور پھر سواری کرنے کے لیے کئی طریقے تم کو سکھائے گئے ہیں جس طرح سے بھی ان کو بطور سواری استعمال کرنا چاہو کرسکتے ہو پھر اس طرح کی کتنی ضروریات ہیں جن کو اگر تم چاہو تو پورا کرسکتے ہو اور ان جانوروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
Commentary
In verse 83, it was said: فَرِحُوا بِمَا عِندَهُم مِّنَ الْعِلْمِ (they exulted because of whatever of knowledge they had,) that is, when the messengers of Allah Ta’ ala came to these deniers, who were utterly oblivious to their end, with clear arguments in favor of tauhid (Oneness of Allah) and 'iman (faith), they took their knowledge to be better and truer than the knowledge brought by prophets, and started rejecting what they said. What was this knowledge with which the disbelievers were exultant to the extent that they would even reject the body of knowledge brought by…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
110 It means this: "If you are not demanding a miracle only for the sake of fun and amusement but want to have the satisfaction whether that to which Muhammad (upon whom be Allah's peace) is inviting you(i.e. Tauhid and the Hereafter) is true or not,then God's those Signs which you are observing and experiencing at alI times, are quite enough.For there remains no need for other signs when there are these Signs to help you understand the Truth." This is the third answer to their demand of the miracles. This answer also has been given at several places in the Qur'an and we have given detailed…
Read the full tafseer →