40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة المومن، بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ المومن کے مضامین خلاصہ یہ ہے۔ ٭اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کفار مکہ جس قرآن کا مذاق اڑا رہے ہیں وہ کوئی معمولی کلام نہیں ہے کیونکہ اس کو اللہ نے نازل کیا ہے جو زبردست غلبہ و اقتدار کا مالک ہے جو ہر چیز کا جاننے والا ، گناہوں کو بخشنے والا ، توبہ قبول کرنے والا ، گناہوں پر سخت سزا دینے والا اور ہر طرح کی قدرت رکھنے والا ہے ۔ اس کے سوا کوئی دوسرا عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب ہر ایک کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جانثار صحابہ کرام (رض) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ اللہ و رسول کا انکار کرنے والے جو آج آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جھگڑ رہے ہیں اور دنیا کمانے میں دن رات تگ و دو کر رہے ہیں کہیں ان کی بھاگ دوڑ اور چلت پھرت اس دھوکے میں نہ ڈال دے کر یہ لوگ تو بڑے کامیاب و بامراد ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب لوگ انتہائی ناکام ہیں اور ان کا انجام بہت برا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے نافرمان لوگ بھی دنیا کمانے میں بہت آگے تھے لیکن جب ان پر اللہ کے قانون کا کوڑا برسا تو وہ ناکام و نامراد ہوگئے اور ان سب کو پانی کے طوفان میں ڈبو دیا گیا ۔ ( اس سورة کا نام المومن اس لیے رکھا گیا ہے کہ فرعون جیسے ظالم شخص کے گھرانے ہی میں سے ایک ایسا مرد مجاہد بھی نکل کر فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوگیا جس نے ان کو بتایا کہ اللہ بڑی قدرت والا ہے۔ اسی پر ایمان لائو اور سیدھا راستہ اختیار کرو ۔ اس مرد مومن پر تمام لوگوں نے یلغار کردی لیکن جب اللہ نے فرعون اور اس کے ماننے والوں کو پانی میں ڈبو کر ہلاک کردیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، ان کے ماننے والوں اور اس مرد مومن کو نجات عطاء فرما دی ۔ اللہ نے اس مرد مومن کی یہ قدر فرمائی کہ اس کے نام پر ایک سورت نازل فرمائی) ۔ ٭اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ پر ایمان لانے والوں کے لئے عرش اٹھانے والے فرشتے جو بہت مقرب ہیں وہ ہر وقت دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں ۔ وہ بارگاہ الٰہی میں عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ جو لوگ توبہ کر کے آپ کے بتائے ہوئے راستے پر چل رہے ہیں ان کی توبہ کو قبول کرلیجئے۔ ان کو جہنم کی تکلیفوں سے محفوظ فرمایئے گا اور ان کے باپ دادا ، اولاد اور بیویاں جو صاحب ایمان ہیں ان کو بھی ان کے ساتھ جنت کی راحتیں اور ہر طرح کی کامیابیاں عطاء فرما دیجئے گا ۔ ٭کفار و مشرکین کے لیے فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن وہ رسوا اور ذلیل ہوں گے انہیں اپنے وجود سے بھی نفرت ہوجائے گی ۔ اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے پچھتائیں گے ۔ حسرت و ندامت کے ساتھ درخواست کریں گے کہ الٰہی ہمیں کسی طرح یہاں سے نکلنے کا موقع دے دیا جائے تا کہ دنیا میں جا کر بہتر اعمال کرسکیں لیکن ان کی یہ درخواست ان کے منہ پر دے کر مار دی جائے گی اور قبول نہ کی جائے گی۔ ٭حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون ، ہامان اور قارون کی ہر طرح سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ اپنے غرور وتکبر ، حکومت و سلطنت ، اقتدار اور مال و دولت کی چمک دمک میں اس طرح مگن تھے کہ انہوں نے نہ صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی بات ماننے سے انکار کردیا بلکہ ان کو قتل تک کرنے کا منصوبہ بنا لیا ۔ ٭مگر قوم فرعون ہی میں سے ایک شخص جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سچائی اور نبوت کو جان چکا تھا اور ان کی باتوں پر ایمان لے آیا تھا مگر کسی مصلحت سے اس نے اپنے ایمان کا اظہار نہ کیا تھا جب اس نے یہ دیکھا کہ فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا فیصلہ کرلیا ہے تو اس مجاہد مرد مومن سے نہ رہا گیا اور اس نے بھرے دربار میں فرعون اور اس کے درباریوں کو للکارتے ہوئے کہا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ اللہ اس کا پروردگار ہے ۔ اس نے تمہیں ہر طرح کے معجزات دکھادیئے ہیں پھر بھی تم اس کی بات نہیں مانتے۔ اس مرد مومن نے کہا کہ بیشک آج تم سلطنت مصر کی وجہ سے اس سر زمین پر غلبہ و اقتدار رکھتے ہو مگر تم اس بات کو بھول رہے ہو کہ سب سے بڑی طاقت اللہ کی طاقت ہے۔ جب فرعونیوں نے ان کو اپنے مذہب کی طرف بلانے کی کوشش کی تو اس مرد مومن نے کہا تم کس قدر نا عاقبت اندیش بنے ہوئے ہو کہ میں تمہیں سیدھا راستہ دکھا رہا ہوں اور تم مجھے جہنم کی طرف دھکیل رہے ہو ۔ تمہیں تو میری بات مانن چاہیے تھی۔ ٭فر عون نے جب دیکھا کہ اس مرد مومن کی باتوں سے ہر شخص متاثر ہو رہا ہے تو اس نے انتہائی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور بات کو ٹالنے کے لئے اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ تم میرے لیے آسمان تک بلند ایک عمارت بنا دو میں جس پر چڑھ کر اور جھانک کر دیکھوں گا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا رب کیا کر رہا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ سب باتیں جو موسیٰ (علیہ السلام) کر رہے ہیں سب جھوٹ اور غلط ہیں۔ ٭فرعون اور آل فرعون کی نا فرمانیاں جب حد سے بڑھ گئیں تو اللہ نے ان سب کو پانی میں ڈبو کر ختم کردیا ۔ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، ان کے ماننے والوں اور اس مرد مومن کو بچا لیا ۔ اللہ نے فرمایا کہ فرعون اور اس کی قوم کے ڈوب جانے اور مرنے کے بعد ہر صبح و شام جہنم کو ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہی وہ ٹھکانہ ہے جس میں تمہیں قیامت کے دن ڈالا جائے گا ۔ ٭اللہ تعالیٰ نے نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے وہئے فرمایا کہ آپ صبر و برداشت سے کام لیجئے۔ اللہ نے جو وعدہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا ہے وہ سچا وعدہ ہے اور بہت جلد پورا ہو کر رہے گا ۔ اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اور آپ پر ایمان لانے والوں کی پوری طرح مدد کرے گا اور کفار و مشرکین کو سخت سزا دے گا ۔ ٭فرمایا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کون سا مشکل کام ہے ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا ۔ نطفہ سے نسل انسانی کو دنیا میں پھیلنے اور بڑھنے کا ذریعہ بنایا ۔ اسی نے زمین و آسمان کو بنایا ۔ اس نے جس طرح اور جیسی شکل انسان کو دینا چاہی ، بنا دیا ۔ اس نے انسان کے لیے بہترین غذاؤں کو پیدا کیا لیکن یہ سب کچھ ایک مدت تک ہے پھر ان کو دفن کردیا جائے گا صرف اللہ کی ذات رہ جائے گی ۔ فرمایا کہ وہ رب العالمین ہے اور نرالی شان والا ہے۔ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔ ٭فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی آیات کو سننے کے باوجود ان میں جھگڑے نکالتے ہیں، رسول کو اور قیامت کو جھٹلاتے ہیں جب وہ قیامت میں پہنچیں گے تو ان کے گلے اور گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے ان کے پاؤں زنجیروں سے جکڑے جائیں گے ، ان کو پینے کے لیے کھولتا ہوا گرم پانی ملے گا ۔ وہ ہر طرح ذلیل و رسوا ہوں گے جب ان کو گھسیٹ کر جہنم میں پھینکا جائے گا۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبر و تحمل سے دیکھتے رہیے کہ دنیا اور آخرت میں ان کفار و مشرکین کا انجام کس قدر بھیانک اور قابل عبرت ہوگا ۔ اس دن انہیں اللہ کی گرفت سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا اور کوئی ایسا نہ ہوگا جو اللہ کی بارگاہ میں حاضر نہ ہو ۔ سب کو حاضر ہو کر اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہوگا۔

Ayahs 40:1–3

حٰمٓۚ Open ayah 40:1 in the Quran reader

ح ۔ م ( اللہ ہی ان حروف کی مراد کو جانتا ہے)

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

اللہ ( وہ ہے) جو ہر بات کا جاننے والا اور غالب ہے اسی کی طرف سے یہ کتاب ( قرآن مجید) نازل ہوئی ہے

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

وہ اللہ گناہوں کو بخشنے والا ، توبہ قبول کرنے والا ، سخت عذاب دینے والا ، بڑے فضل و کرم والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اسی کی طرف ( سب کو) لوٹ کر جانا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 3 :۔ عزیز ( زبردست ، سب پر غالب ، قوت والا) علیم (بہت کچھ جاننے والا ، سب کچھ جاننے والا) غافر الذنب (گناہوں کو بخشنے والا) قابل التوب (توبہ قبول کرنے والا) شدید العقاب (سخت سزا دینے والا) ذی الطول (بڑے فضل والا) المصیر ( ٹھکانہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 3 :۔ سورة المومن ان سات سورتوں میں سے ایک ہے جس کی ابتداء ” حم “ سے کی گئی ہے۔ ” حم “ حروف مقطعات میں سے ہے جس کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے۔ ” حم “ سے شروع کی گئیں سات سورتوں کی بہت سی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود کا ارشاد ہے کہ ہر چیز کا ایک مغز ہوتا ہے اور قرآن کریم کا مغز حم والی سورتیں ہیں ۔ ان ہی کا قول ہے کہ حم والی سورتیں قرآن کی زینت ہیں۔ ’ ’ حم “ اللہ کا اسم اعظم ہے۔ ( سدی) ” حم “ سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ ہونے والا ہے اس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ ” حم “ والی سورتیں سات ہیں اور جہنم کے بھی سات دروازے ہیں ۔ گویا جو شخص ان کی تلاوت کرنے والا ہے اس لئے جہنم کے ہر دروازے پر یہ سورتیں رکاوٹ بن جائیں گی اور وہ جہنم سے محفوظ رہے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتداء نزول قرآن سے فرمائی ہے۔ ارشاد ہے کہ اس قرآن کریم کو اس اللہ نے نازل کیا ہے جو زبردست ہے ، سب کچھ جاننے والا ہے ، گناہوں کو معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جب وہ کسی قوم یا افراد کی گرفت کرتا اور ان کو سزا دیتا ہے تو وہ بھی سخت ہوتی ہے کیونکہ وہ زبردست قوتوں کا مالک ہے۔ سورۃ المومن میں بیان کی گئیں چھ صفات وہ ہیں جو اس سورت میں آنے والے مضامین سے گہری مناسبت رکھتی ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس قرآن کے پڑھنے والوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ جس قرآن کریم کی تلاوت کر رہے ہیں وہ اس اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو عظیم ہے جس کی زبردست قوت و طاقت ہے وہ جب معاف اور فضل و کرم کرنا چاہتا ہے تو کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور اگر وہ کسی قوم یا فرد کی گرفت کرنا چاہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس سے چھڑا نہیں سکتی ، لہٰذا اسی کی عبادت و بندگی کی جائے اور اسی سے مانگا جائے ۔ وہی دینے والا ہے اور اسی سے ہر انصاف کی توقع کی جاسکتی ہے ۔ اسے سوا نہ کوئی اور معبود ہے اور نہ کسی سے انصاف کی امید کی جاسکتی ہے۔
Ayahs 40:4–6

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

جنہوں نے کفر و انکار کیا وہی آیات الٰہی میں جھگڑتے ہیں۔ ( اے نبی ﷺ ان کا ملکوں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے ۔

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان سے پہلے قوم نوح (علیہ السلام) اور ( ان کے بعد دوسرے) گروہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا اور ہر امت نے اپنے رسولوں کے متعلق یہ ارادہ کیا کہ وہ انہیں پکڑ لیں اور ناحق جھگڑے کریں تا کہ وہ سچ کو بےحقیقت ثابت کر دکھائیں۔ پھر میں نے انہیں پکڑ لیا ۔ ( دیکھو کہ) اس کا عذاب کیسا ( بھیانک ) ہے۔

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اس طرح ( اے نبی ﷺ آپ کے رب کی بات کافروں پر ثابت ہو کر رہی کہ وہ جہنم والے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 4 تا 6 :۔ ما یجادل ( وہ جھگڑتا نہیں ہے) لا یغرر ( دھوکا نہیں دیتا) تقلب (الٹنا پلٹنا، آنا جانا) البلاد ( بلد) ( شہر ، ملک) ھمت (ارادہ کیا) ید حضوا (وہ پھیلاتے ہیں ، ڈگمگا دیتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 4 تا 6 :۔ قریش مکہ بےتکی باتوں ، غیر متعلق جھگڑوں اور الٹے سیدھے اعتراضات کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں شک و شبہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے تا کہ ہر شخص یہ سمجھنے لگے کہ نبی کریم ﷺ جس سچے پیغام اور دعوت حق کی طرف بلا رہے ہیں اس میں ان کی ذاتی غرض اور سارے عرب پر برتری قائم کرنے کے جذبے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ چونکہ بنو قریش بیت اللہ کے رکھوالے اور محافظ کہلاتے تھے اس لئے اس بدامنی کے دور میں جہاں کسی کی جان اور اس کا مال محفوظ نہ تھا وہ ہر شہر میں اپنے کاروباری فائدوں کے لئے دندناتے پھرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة قریش میں بھی اسی کی طرف اشارہ کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آج جو بنو قریش سردی اور گرمی میں اپنے تجارتی مفادات کے لئے سر گرم ہیں اور ان کو کوئی شخص یا قبیلہ نقصان نہیں پہنچاتا اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ان کو بیت اللہ کا متولی اور نگراں سمجھتے ہیں ۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنو قریش سردی میں یمن اور گرمی کے دنوں میں شام اور فلسطین میں اپنا مال تجارت لے جایا کرتے تھے۔ ہر طرف لوٹ مار ، قتل و غارت گری اور چوری و ڈکیتی کا عام رواج تھا لیکن بیت اللہ کی نسبت کی وجہ سے قریشیوں کو سارے عرب میں نہایت عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اس لئے وہ دوسروں کے مقابلے میں نہایت امن و سکون سے اپنا کاروبار کرتے اور ہر ملک میں آنے جانے میں کوئی دشواری محسوس نہ کرتے تھے۔ حالانکہ یہ عزت و احترام اور امن و سکون بیت اللہ کی وجہ سے تھا لیکن ان میں ایسا احساس برتری پیدا ہوچکا تھا کہ وہ اپنے غرور وتکبر میں ہر ایک کو اپنے سے حقیر اور کم تر سمجھا کرتے تھے۔ ان کا یہ دعویٰ تھا کہ ہم بیت اللہ کے خدمت گزار ہیں اگر ہم مجرم یا گناہ گار ہوتے تو ہمیں یہ نعمتیں اور سہولتیں نصیب نہ ہوتیں ۔ ان کی چرب زبانی اتنی بڑھ چکی تھی کہ بعض کمزور ایمان کے لوگوں میں کچھ شبہات پیدا ہونے کا اندیشہ تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کی آیات میں جھگڑے پیدا کرنے والے اور شہر شہر گھوم کر اپنے مفادات حاصل کرنے والوں کی بھاگ دوڑ سے اہل ایمان اس دھوکے میں نہ پڑجائیں کہ واقعی اللہ ان کفار و مشرکین سے خوش ہے بلکہ یہ حقیقت ہے کہ دنیاوی زندگی کی یہ چند روز بہار ہے جو موت کے ساتھ ساری حقیقت کھول کر رکھ دے گی ۔ فرمایا کہ اگر اللہ چاہتا تو ان کو اسی وقت سخت سے سخت سزا دے کر معاملہ ختم کردیتا لیکن یہ بات اس کی مصلحت کے خلاف ہے کیونکہ وہ ہر شخص کو اس کی قیامت شروع ہونے تک مہلت اور ڈھیل دیتا ہے ۔ اگر وہ اس فرصت سے فائدہ اٹھا کر توبہ کرلیتا ہے تو اس کی نجات ہے اور اگر وہ اسی روش پر قائم رہتا ہے تو اس کو دنیا اور آخرت میں سخت سزا دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور قوم عاد و قوم ثمود کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد بہت سے پیغمبر آئے جن کی تعلیمات کا لوگوں نے انکار کیا ۔ ان کو جھٹلایا اور آخرت کا انکار کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ نے ان کو پکڑ کر عبرت ناک سزا دی ۔ ان کے اونچے اونچے محل ، مال و دولت کے ڈھیر اور ان کے خدام ان کے کسی کام نہ آسکے ۔ وہ اپنی نافرمانیوں کے سمندر میں اس طرح ڈوب گئے کہ آج ان کی عالی شان بلڈنگوں کے کھنڈرات بھی مٹ چکے ہیں اور باقی ہیں وہ ہر شخص کے لئے نشان عبرت و نصیحت بن چکے ہیں اور اس طرح اللہ کا یہ فیصلہ ثابت ہو کر رہا کہ جو لوگ اللہ و رسول کی نافرمانی کرتے ہیں اور بد کاریوں کی انتہاؤں تک پہنچ جاتے ہیں ان کو آخر اپنے برے انجام سے اس دنیا میں بھی دو چار ہونا پڑتا ہے اور آخرت کی سزا کا تو اس دنیا میں تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ۔
Ayahs 40:7–9

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

جو فرشتے عرش الٰہی کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے ارد گرد ہیں وہ سب اپنے پروردگار کی پاکیزگی اور حمد وثناء بیان کرتے ہیں ۔ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں ان کے لئے وہ دعائے مغفرت مانگتے ہیں۔ ( وہ کہتے ہیں) اے ہمارے رب آپ کی رحمت اور علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے جنہوں نے توبہ کرلی ہے ان کو بخش دیجئے اور جنہوں نے آپ کے راستے کی پیروی کی انہیں جہنم سے نجات عطاء فرما دیجئے۔

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار انہیں ہمیشہ کے باغوں میں داخل فرمایئے۔ جس کا آپ نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے۔ ان کے صالح باپ ، داد ، ان کی صالح بیویوں اور ان کی اولاد صالح کو بھی ( نواز دیجئے) بیشک آپ ہی غالب اور حکمت والے ہیں۔

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور انہیں ہر طرح کی برائیوں سے بچا لیجئے۔ ( اور حقیقت یہ ہے کہ) اس دن جو بھی برائیوں سے بچ گیا تو یقینا آپ نے اس پر رحم و کرم کیا اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 9 :۔ یحملون (وہ اٹھاتے ہیں) وسعت (تو نے وسیع کیا ، تو نے پھلا دیا) ادخل (داخل کر دے) صلح (اس نے اصلاح کرلی ، درست کرلیا) الفوز (کامیابی) تشریح : آیت نمبر 7 تا 9 :۔ جو لوگ حق و صداقت کا راستہ اختیار کر کے اس پر چلتے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی روشنی دکھانے کی جدوجہد کرتے ہیں تو دنیا اور اس کے مفادات سے چمٹے ہوئے باطل پرست شدید مخالفت کر کے ان کو معاشرہ میں حقیر بنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا نظام یہ ہے کہ وہ حق و صداقت کے راستے پر چلنے والوں کو سر بلند فرماتا ہے۔ کائنات کی ساری قوتیں اور فرشتے ان کے لئے خیر خواہی کے جذبے سے دعائے رحمت و مغفرت کرتے رہتے ہیں ۔ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو کچھ لوگوں نے حق و صداقت کی آوازپر لبیک کہا اور وہ ابدی سعادت سے ہم کنار ہو کر صحابی رسول کہلائے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام (علیہ السلام) کو کفار و مشرکین نے حق و صداقت کے راستے سے ہٹانے کے لئے مصائب اور ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے۔ ایک طویل عرصے تک کفار کے ظلم و ستم سے صحابہ کرام دل شکستہ تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ اس سچائی پر ڈٹے رہیں اور حالات سے نہ گھبرائیں کیونکہ اللہ کے فرشتے اور خاص طور پر عرش الٰہی کو اٹھانے والے مقرب فرشتے بھی دن رات ان کے لئے دعائے رحمت و مغفرت کررہے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ آخر کار اہل ایمان ہی کامیاب و با مراد ہو کر رہیں گے۔ عرش الٰہی کو اٹھانے والے چار فرشتے اور عرش کے ارد گرد جمع ہونے والے فرشتے جن کی تعداد کا علم اللہ ہی کو ہے وہ ہر وقت دل اور زبان سے اہل ایمان کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ احادیث و روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عرش کو اٹھانے والے چار فرشتے ہیں جن کی تعداد تا قیامت میں آٹھ ہوجائے گی وہ ہر وقت اللہ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں ۔ عرش الٰہی کا طواف کرتے ہوئے ’ ’ لا الہ الا اللہ “ کا ورد کرتے رہتے ہیں ان میں سے دو کی تسبیح یہ ہوتی ہے ” سبحانک اللھم وبحمدک لک الحمد علی حلمک بعد علمک “ دوسرے دو فرشتوں کی تسبیح یہ ہوتی ہے ” سبحانک اللھم وبحمدک علی عفوک بعد قدرتک “۔ اس حمد وثناء کے ساتھ وہ یہ دعا کرتے رہتے ہیں (1) الٰہی ! جن لوگوں نے دنیا میں آپ پر ایمان لا کر آپ کے احکامات کی پابندی کی ہے ، آپ ہی کی طرف جھک کر انہوں نے کفر و شرک سے توبہ کرلی ہے ان سے اگر کچھ غلطیاں یا لعزشیں ہوجائیں تو ان کو معاف کر دیجئے گا ۔ آپ کائنات کے ذرے ذرے کی کیفیت سے اچھی طرح واقف ہیں ۔ کوئی چیز آپ کے علم اور رحمت سے باہر نہیں ہے آپ کی رحمت ہر چیز پر غالب ہے ، چھائی ہوئی ہے۔ کوئی آپ کے رحم و کرم سے محروم نہیں ہے ، آپ ان سب اہل ایمان کو جہنم کی آگ سے بچا لیجئے گا ( 2) الٰہی ! ان اہل ایمان کو ہمیشگی کی جنت اور ہرے بھرے باغوں میں داخل فرمایئے گا جس کا آپ نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ اور ان کے وہ ماں باپ ، بیویاں اور اولاد جن میں جنت میں داخل ہونے کی صلاحیت ہے ان کو بھی ان کے ساتھ جنت میں داخل فرما لیجئے گا۔ بیشک آپ ہی قادر مطلق ہیں اور ہر بات کی حکمت سے واقف ہیں۔ (3) وہ یہ بھی دعا کرتے ہیں کہ الٰہی ! ان اہل ایمان کو آخرت کی ہر طرح کی تکلیفوں اور رسوائیوں سے بچا لیجئے گا ۔ اگر اس ہولناک دن میں آپ نے ان کو تکلیفوں اور مصیبتوں سے بچا لیا تو بیشک آپ کو ان پر بےانتہاء مہربانی ہوگی اور وہ ایک بہت بڑی کامیابی سے ہم کنار ہوجائیں گے۔
Ayahs 40:10–20

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ان سے پکارکر کہا جائے گا کہ آج تمہیں اپنے اوپر جو غصہ آ رہا ہے ( ذرا سوچو کہ) اللہ اس وقت تم سے شدید ناراض ہوتا تھا جب تم ایمان کی طرف بلائے جاتے اور تم انکار کرتے تھے۔

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ کہیں گے اے ہمارے رب آپ نے ہمیں دو مرتبہ موت دی اور آپ نے ہمیں دو مرتبہ زندہ کیا تو ہم اپنے گناہوں پر ( شرمندگی) کے ساتھ اقرار کرتے ہیں ، تو کیا اب یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے ؟

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا کہ) تمہاری یہ حالت اس وجہ سے ہے کہ جب تمہیں ایک اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر کسی کو اس کے ساتھ شریک کیا جاتا تو تم اس کو مان لیا کرتے تھے۔ اب فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے وہ اللہ جو بلندو برتر ہے۔

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے رزق اتارتا ہے۔ مگر اس سے وہی شخص نصیحت حاصل کرتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

(اے لوگو ! ) تم عبادت کو صرف اللہ کے لئے خالص کرتے ہوئے اسی کو پکارو ۔ اگرچہ وہ کافروں کو نا گوار ہی کیوں نہ ہو۔

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہ اللہ بلند درجوں والا اور عرش کا مالک ہے ۔ وہ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے روح ( وحی) نازل کرتا ہے تا کہ وہ ان کو ( قیامت کے دن اللہ کی) ملاقات سے ڈرائے۔

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس دن وہ ظاہر ( بےپردہ) ہوں گے اور ان کو کوئی بات اللہ سے پوشیدہ نہ ہوگی ( اس دن آواز دی جائے گی کہ) آج بادشاہت کس کے لئے ہے ؟ ( سب کہیں گے) اللہ کے لئے جو ایک ہے اور زبردست ( قوت و طاقت والا ہے)

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

(فرمایا جائے گا کہ) آج ہر شخص کو اس کے ( اچھے یا برے) اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ۔ آج کسی پر ظلم و زیادتی نہ ہوگی ۔ بیشک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ان کو قیامت کے اس دن سے ڈرایئے جو قریب آگیا ہے جب کلیجے منہ کو آ رہے ہوں گے اور دل رنج و غم سے بھرے ہوں گے۔ (اس دن) ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا نہ سفارشی کہ جس کی بات مانی جائے

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

وہ آنکھوں کی خیانت اور جو کچھ تم اپنے سینوں میں چھپائے ہو اس سے اچھی طرح واقف ہے

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور ( اسی کے مطابق) اللہ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا ۔ اور وہ اللہ کے سوا جنہیں ( اپنی حاجات کے لئے) پکارتے ہیں وہ کسی فیصلہ کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں ۔ بیشک اللہ ہی سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 20 : ینادون ( یدائ) ( آواز دیں گے) مقت اللہ ( اللہ کا غصہ) تدعون (تم پکارے جائو گے) امتنا ( تو نے ہمیں موت دی) احییتنا (تو نے ہمیں زندگی دی) ینیب (وہ لوٹتا ہے، رجوع کرتا ہے) رفیع ( بلند) الروح ( روح ، وحی) التلاق (ملاقات ، ملنا) برزون (ظاہر ہونے والے ، بےپردہ) القھار (زبردست ، قوت والا) الازقۃ ( قریب آنے والی ، نزدیک آنے والی) الحناجر (حنجور) ( گلے ، کلیجے) کظمینا (غصہ پی جانے والے) حمیم (قریبی دوست) خائنۃ ( خیانۃ) ( چوری کرنے والی ، خیانت کرنے والی) لم یقضون (وہ فیصلہ نہیں کرتے) تشریح : آیت نمبر 10 تا 20 :۔ دنیا میں کفر و شرک اور گناہ کرنے والے لوگ مختلف باتوں اور تاویلوں کے ذریعہ اپنے آپ کو مطمئن کرلیتے ہیں اور انہیں اپنے برے انجام کا احساس ہی نہیں ہوتا لیکن جب قیامت کے دن وہ اپنے برے اعمال اور عذاب الٰہی کو دیکھیں گے تو وہ خود اپنے آپ کو ملامت کریں گے ۔ اس وقت ان کفار و مشرکین کو پکارکر کہا جائے گا کہ آج جس طرح تمہیں اپنے آپ پر غصہ آ رہا ہے اور تم اپنی بوٹیاں نوچ رہے ہو اسی طرح جب دنیا میں اللہ کے پیغمبر تمہیں راہ ہدایت کی طرف دعوت دے رہے تھے اور تم ان کی دعوت کو ٹھکرا کر دنیا کے عیش و آرام میں پڑے ہوئے تھے اس وقت اللہ تعالیٰ کا غضب اس سے زیادہ تمہارے اوپر بھڑکا کرتا تھا۔ اللہ نے تمہیں سنبھلنے اور سمجھنے کا موقع دیا مگر تم نے کبھی حقیقت سے آنکھیں نہیں ملائیں اب آج تمہیں اپنے کئے ہوئے اعمال کو بھگتنا ہے۔ اب اس عذاب سے چھٹکارے کی کوئی شکل موجود نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں جو کچھ ارشاد فرمایا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بے شک جن لوگوں نے کفر و شرک کیا تھا ان سے قیامت کے دن پکار کر کہا جائے گا کہ آج تمہیں اپنے اوپر جو غصہ آ رہا ہے اللہ اس وت تم سے شدید ناراض ہوا کرتے تھا جب تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا اور تم مسلسل اس سے انکار کرتے رہتے تھے۔ کفار و مشرکین کہیں گے الٰہی ! آپ نے میں دو مرتبہ موت اور دو مرتبہ زندگی دی یعنی ہم کچھ نہ تھے مردہ تھے آپ نے ہمیں زندگی دی پھر مر جانے کے بعد دوبارہ اٹھا کھڑا کیا اس طرح دو مرتبہ موت اور دومرتبہ زندگی دی ۔ ہم اپنے گناہوں اور خطاؤں پر شرمندہ ہیں اور ہم احساس ندامت کے ساتھ اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں ۔ الٰہی ! کیا ہمیں ایک موقع اور عطاء کرسکتے ہیں کہ ہم دوبارہ دنیا میں جائیں اور عمل صالح کر کے پھر آپ کی جناب میں حاضر ہوجائیں ۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ آج تمہاری یہ بد ترین حالت اس لئے ہے کہ جب تمہیں ایک اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر کسی کو اللہ کی ذات اور صفات میں شریک کیا جاتا تھا تو تم اسے خوشی کے ساتھ مان لیا کرتے تھے ۔ اب فیصلہ کا وقت ہے دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کا وقت نہیں ہے اور یہ فیصلہ بھی اس ذات کے ہاتھ میں ہے جو ہر طرح بلندو برتر ہے۔ اگر سمجھنا چاہتے تو کائنات میں اللہ کی بیشمار نشانیاں موجود ہیں ان کو دیکھ کر بھی ایمان لاسکتے تھے مگر تم نے نہ تو اللہ کے پیغمبروں کی بات کو مانا اور نہ کائنات کی نشانیوں کو دیکھ کر۔ حالانکہ سامنے کی بات تھی کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے کہ اللہ نے بلندیوں سے پانی کو برسایا جس نے مردہ زمین کو زندہ کردیا اور وہ سر سبز و شاداب ہوگئی ۔ اس سے ان کا رزق پیدا کیا گیا اور وہ اس رزق کا استعمال کرتے تھے مگر انہوں نے اس بات پر کبھی غور و فکر نہیں کیا کہ اتنے بڑے جہان کو کون ذات چلا رہی ہے۔ البتہ خوش نصیب لوگ ان تمام باتوں کو دیکھ کر ہی اللہ پر ایمان کی دولت سے مالا مال ہوجاتے ہیں اور اللہ کی طرف سے رجوع کرتے ہیں۔ فرمایا کہ وہ اللہ جو اس پوری کائنات کے نظام کو چلا رہا ہے وہ نہایت بلند درجنوں والا عرش عظیم کا مالک ہے۔ وہی اللہ وحی نازل کر کے انسانوں کی ہدایت کا سامان کرتا ہے تا کہ ان کو قیامت کے ہولناک دن اور برے اعمال کے برے نتائج سے آگاہ اور خبردار کر دے لیکن وہ یہ سمجھتے رہے کہ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں اس کی کسی کو خبر نہیں ہے حالانکہ اللہ انسانوں کے دلوں کا حال اور انسان آنکھوں سے جو خیانت کرتا ہے جس کا برابر والے کو بھی اندازہ نہیں ہوتا اللہ انسان کی اس کیفیت سے بھی بخوبی واقف ہے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان کفار و مشرکین کو قیامت کے اس دن سے ڈراتے رہیے جب کلیجے منہ کو آ رہے ہوں گے اور گناہ گاروں کے دل رنج و غم سے بھر چکے ہوں گے۔ اس دن اللہ تعالیٰ اعلان فرمائیں گے کہ آج دنیا کے بادشاہ اور فرماں رواکہاں ہیں ؟ آج کس کی سلطنت ہے ؟ چونکہ اس وقت سب فنا ہوچکے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ خود ہی جواب عنایت فرمائیں گے کہ صرف ایک اللہ کی بادشاہت اور سلطنت و حکومت ہے۔ آج فیصلے کا دن ہے آج ہر شخص کو اس کے اچھے یا برے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں کی جائے گی ہر ایک کو پورا پورا انصاف ملے گا ۔ مذکورہ آیات سے متعلق چند باتیں ۔ (1) قیامت کا ہولناک دن ہوگا جس میں ہر شخص کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ۔ خوف اور دہشت کی وجہ سے جو گھٹن ہوگی ہر شخص کو ایسا محسوس ہوگا کہ جیسے اس کا دل اس کے حلق میں دھڑک رہا ہے اس کو محاورہ میں کلیجہ منہ کو آجانا کہا جاتا ہے۔ اللہ کے مقرب فرشتے اہل ایمان کے لئے دعا کریں گے کہ وہ قیامت کے دن ہر طرح کی تکلیفیں سے محفوظ رہیں ۔ لیکن کفارو مشرکین کا برا حال ہوگا ، مگر کسی پر ظلم و زیادتی نہ ہوگی۔ (2) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کا ارشاد ہے۔ اے میرے بندو ! میں نے اپنے اوپر ظلم کرنے کو حرام کیا ہوا ہے اور تمہارے اوپر بھی حرام قرار دے دیا ہے لہٰذا تم میں سے کوئی کسی پر ظلم نہ کرے۔ فرمایا کہ اے میرے بندو ! یہ تو تمہارے اعمال ہیں جن کو میں اپنی نظروں میں رکھتا ہوں اور ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا لہٰذا جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد وثناء کرے اور جو اس کے سوا پائے وہ اپنے آپ کو ملامت کرے ( یعنی گناہوں سے باز آجائے) ( حدیث قدسی) (3) حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ گناہ تین قسم کے ہوتے ہیں٭ایک وہ جو بخش دیئے جائیں گے ٭دوسرے وہ گناہ جو بخشے نہیں جائیں گے٭تیسری قسم کے گناہ وہ ہیں جن میں سے کچھ بھی چھوڑا نہیں جائے گا ۔ جن گناہوں کی بخشش اور معافی ہوگی اور وہ گناہ ہیں جن کو کرنے کے بعد توبہ کرلی گئی ہوگی۔ جو گناہ نہیں بخشا جائے گا وہ شرک ہے جسے اللہ کبھی معاف نہ کرے گا ۔ اور جو چھوڑا نہیں جائے گا وہ حقوق کا گناہ ہے جو پورا پورا دلوایا جائے گا ظالم سے مظلوم کو غاصب سے مغصوب کو ، اگر کسی نے کسی کو طمانچہ مارا ہوگا یا گالی دی ہوگی تو اس کا پورا پورا بدلہ دلوایا جائے گا ۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ تاکید فرماتے تھے کہ جس پر کسی کا حق ہو وہ اس کو اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرا لے جس دن درہم و دینار نہ ہوں گے حقوق کے بدلے اعمال ادا کئے جائیں گے۔ (4) انسان جو بھی عمل کرتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ میں اچھا کر رہا ہوں یا برا ، نہ کوئی مجھے دیکھ رہا ہے اور نہ اس کا حساب کتاب ہوگا لیکن اللہ نے فرمایا کہ انسان وہ گناہ جو آنکھوں سے کرتا ہے یا سینے کے اندر چھپے ہوئے دل میں کرتا ہے اس کا علم دنیا میں کسی کو نہیں ہوتا لیکن اللہ آنکھوں کی خیانت اور دلی جذبوں سے بھی پوری طرح واقف ہے۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ یہ دعا فرماتے تھے جو آپ نے امت کو تعلیم فرمائی ہے کہ اے میرے اللہ ! میرے دل کو نفاق سے ، میرے عمل کو ریا کاری اور دکھاوے سے ، میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھ کو خیانت سے پاک و صاف رکھئے گا کیونکہ بیشک آپ تو آنکھوں کی خیانت اور دل میں چھپے ہوئے خیالات تک سے واقف ہیں۔ (5) اللہ کی نشانیوں میں سے بارش کی بھی ایک نشانی ہے۔ بارش کی وجہ سے کھیت لہلہاتے ہیں اور انسانوں کی غذا کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اگر انسان صرف اتنی بات پر غور کرلے کہ وہ ایک لقمہ جو اس کے حلق کے نیچے اتر رہا ہے اس میں کائنات کی اور اس میں رہنے والے کتنے انسانوں کی محنت و مشقت شامل ہے۔ اگر اللہ یہ نظام قائم نہ فرماتا تو صرف انسان ہی نہیں بلکہ جانور بھی اپنا وجود قائم نہ رکھ سکتے۔ جس طرح اللہ نے بارش کے ذریعہ انسانوں کا رزق عطاء کیا ہے اسی طرح اس نے انسان کو روحانی زندگی کے لئے وحی ناز ل کی ہے۔ جس طرح بارش سے مراد زمین میں تر و تازگی اور زندگی کے آثار پیدا ہوجاتے ہیں اسی طرح وحی کے ذریعہ مردہ دلوں کو ایک نئی روحانی زندگی نصیب ہوتی ہے۔
Ayahs 40:21–27

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

کیا وہ زمین میں چلتے پھرتے نہیں ہیں ؟ (اگر چلتے تو) دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے ( نافرمان) تھے ان کا انجام کیسا ہوا ؟ وہ قوت و طاقت میں ان سے بھی زیادہ تھے اور زمین میں ( اپنے آثار ، کھنڈرات) نشانیوں کے اعتبار سے بھی ( بہت کچھ چھوڑ کر گئے ہیں) پھر اللہ نے ان کو ان کے گناہوں ( کفر و شرک) کے سبب پکڑ لیا اور اس وقت ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

اس لئے کہ ان کے پاس ان کی طرف ( بھیجے گئے) رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے۔ انہوں نے ان نشانیوں کا انکار کیا تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا کیونکہ بلا شبہ وہ سخت سزا دینے والا ہے۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں اور روشن دلیل کے ساتھ بھیجا تھا

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

فرعون ، ہامان اور قارون کی طرف۔ جنہوں نے کہا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تو ( نعوذ باللہ) جادوگر ہے بڑا جھوٹا ہے۔

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آگیا تو کہنے لگے کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کر ڈالو جو اس کے ساتھ ایمان لے آئے ہیں ۔ اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھو حالانکہ کافروں کا دائو گمراہی کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

فرعون کہنے لگا چھوڑو میں موسیٰ (علیہ السلام) ہی کو قتل کر ڈالتا ہوں۔ وہ اپنے رب کو پکار کر تو دیکھے۔ ( لوگو ! ) مجھے ڈر ہے کہ ( اگر موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں ہی چھوڑ دیا گیا تو) وہ تمہارا دین بدل ڈالے گا یا وہ فساد پھیلائے گا۔

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں نے ہر مغرور و متکبر اور یوم حساب پر ایمان نہ لانے والوں کے مقابلے میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ حاصل کرلی ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 21 تا 27 : لم یسیروا ( وہ چلتے پھرتے نہیں) عاقبۃ (انجام) اثارا (نشانات، کھنڈرات) واق ( وقی) بچانے والا) ضلل ( گمراہی) ذو ونی (مجھے چھوڑو ( میری بات چھوڑو) عذت ( میں نے پناہ حاصل کرلی) تشریح : آیت نمبر 21 تا 27 : دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں بہت سی قومیں ابھریں۔ ان کی تہذیب ان کا تمدن ساری دنیا پر چھا گیا ۔ ان کی تجارت مال و دولت کی کثرت ، بلند وبالا عمارتیں اور قلعے اس کثرت سے تھے کہ ان پر ناز کرتے ہوئے انہوں نے اپنے علاوہ سب کو حقیر سمجھنا شروع کردیا ۔ غرور وتکبر کے ساتھ ساتھ انہوں نے کفر و شرک کی انتہاء کردی ۔ ان کی نا فرمانیوں کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو بھیجا اور ان کے ساتھ ساتھ اللہ نے اپنی کتابوں کو بھیجا تا کہ وہ راہ ہدایت حاصل کرسکیں مگر ان پر دنیا داری اس قدر غالب آ چکی تھی کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں اور اس کے پیغام کو جھٹلانا شروع کردیا ۔ وہ لوگ ضد ، ہٹ دھرمی اور نافرمانی کی اس انتہاء تک پہنچ گئے تھے جہاں سے ان کی واپسی ناممکن تھی تب اللہ نے ان کو صفحہ ہستی سے اس طرح مٹا دیا کہ آج وہ ایک تاریخی واقعہ اور افسانہ بن کر رہ گئے ہیں ۔ کفار قریش جو سردی اور گرمی کے زمانے میں بغیر کسی ڈر اور خوف کے ملک یمن اور ملک شام جا کر دندناتے پھرتے تھے اور تجارت کرتے تھے ان کے راستے میں قوم عاد ، قوم ثمود اور قوم فرعون کی تہذیب کے وہ آثار اور کھنڈرات بھی پڑتے تھے جو کبھی ساری دنیا پر دھاک بٹھائے ہوئے تھے لیکن آج ان کی نا فرمانیوں کے سبب وہ نشان عبرت بن کر رہ گئے ہیں۔ ان ہی لوگوں سے خاص طور پر اور ساری دنیا کے لوگوں سے عام طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ کیا وہ زمین پر چل پھر کر ان نافرمان قوموں کا بد ترین انجام اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے جو طاقت و قوت میں ان کفار قریش سے بڑھ کر تھے اور انہوں نے اپنے آثار اور کھنڈرات بھی کثرت سے چھوڑے ہیں ۔ جب انہوں نے نافرمانی اور گناہوں کی انتہائی کردی تب اللہ نے ان کو پکڑا اور سخت سزا دی ان کا مال ان کی دولت اور تہذیب و تمدن کوئی چیز بھی ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والی نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب وہ انتہائی کھلے کھلے اور واضح معجزات اور دلیلوں کے ساتھ تشریف لائے تو فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت اور پیغام حق کا انکار کیا اور عام لوگوں کو یہ تاثردینے کی کوشش کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) ایک جادوگر ہیں اور یہ جس معجزہ کی بات کرتے ہیں وہ جادو کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ فرعون اور اس کے ہم نوا شروع سے ہی بنی اسرائیل کو ذلیل و خوار کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ ان کے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب پیدا ہوئے تو اس وقت فرعونی قوم اسی ظلم پر قائم تھی لیکن معجزاتی طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے فرعون کے محل میں پہنچادیا جہاں ان کی پرورش ہوئی ۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت دے کر فرعون کی ہدایت و رہنمائی کے لئے بھیجا گیا تو اس نے ایک مرتبہ پھر قوم بنی اسرائیل پر خوف و دہشت طاری کرنے کے لئے یہ حکم جاری کیا کہ جو بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے ہیں ان کے بیٹوں کو ذبح کردیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رکھا جائے۔ تاریخی اعتبار سے تو یہ یقینی علم نہیں ہے کہ فرعون نے اس دوسرے حکم پر عمل کیا یا نہیں بہر حال قوم بنی اسرائیل اس حکم سے شدید دبائو میں آگئی ۔ لیکن فرعون اور اس کے درباریوں کی ساری تدبیریں غارت ہو کر رہ گئیں ۔ فرعون کے درباری اور مشیر سخت پریشان تھے اور فرعون کی شاید یہی مشورے دیتے رہے ہوں گے کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر سوچ سمجھ کر ہاتھ ڈالیں کہیں ایسا نہ ہو کہ بنی اسرائیل جو بالکل ناکارہ ہوچکے ہیں وہ اٹھ کھڑے ہوں اور فرعون کی حکومت کا تختہ الٹ دیں ۔ ایک دن فرعون نے کہا کہ ان سب باتوں کو چھوڑو میں موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں ۔ پھر وہ اپنے رب کو پکارے یا نہ پکارے میں اس کا کام تمام کردیتا ہوں کیونکہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کو اسی طرح کی آزادی سے گھومنے اور تبلیغ کرنے کی آزادی رہی تو وہ تمہارے مذہب کو بدل ڈالے گا یا وہ فساد مچا کر رکھ دے گا ۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سب کچھ سنا تو فرمایا کہ میں فرعون کی دھمکیوں میں آنے والا نہیں ہوں کیونکہ میں تمہارے اور اپنے پروردگار کی پناہ اور حفاظت میں ہوں کوئی میرا کچھ نہ بگاڑ سکے گا ۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ فرعون اور اس کے درباریوں کی ساری کوششیں ، سازشیں اور ظلم و ستم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے بنی اسرائیل کا تو کچھ نہ بگاڑ سکے البتہ وہ خود اس طرح پانی میں غرق کردیئے گئے کہ آج دنیا میں ان کا کوئی نام لیوا تک موجود نہیں ہے۔ آج فرعون کا تاج و تخت مصر کے میوزیم میں موجود ہے جو زبان حال سے یہ کہہ رہا ہے کہ تاج و تخت پر فخر کرنے والے نافرمان مٹ کر رہتے ہیں اور اللہ جو حی وقیوم ہے وہی ساری کائنات کا مالک و مختار ہے ساری قدرت و طاقت صرف اسی کی ہے۔
Ayahs 40:28–29

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اور فرعون کی قوم میں سے ایک مرد مومن نے کہا جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کہ کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے ، حالانکہ وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی کھلی نشانیوں کے ساتھ آیا ہے۔ اگر وہ ( موسیٰ (علیہ السلام) جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا ( وبال) اس پر پڑے گا ۔ لیکن اگر وہ سچا ہے تو وہ جو تم سے وعدہ کر رہا ہے اس کا کچھ تمہیں ضرور پہنچے گا بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں اور جھوٹے لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے میری قوم آج تمہاری بادشاہت ہے ، تم زمین میں غالب ہو لیکن اگر تم پر اللہ کا قہر ٹوٹ پڑا تو اس سے بچانے والا اور ہماری مدد کرنے والا کون ہوگا ؟ فرعون نے کہا ( لوگو ! ) میں تو تمہیں وہی رائے دیتا ہوں جس کو میں ( تمہارے حق میں) بہتر سمجھتا ہوں اور میں تمہیں بھلائی اور ہدایت کا راستہ دکھا رہا ہوں۔

لغات القرآن آیت نمبر 28 تا 29 : یکتم (وہ چھپاتا ہے) یصیب (وہ پہنچے گا) مسرف ( حد سے بڑھنے والا) کذاب (بہت جھوٹ بولنے والا) ظھرین (چھا جانے والے ، غائب ہونے والے) باس ( عذاب ، تکلیف) اری (میں دیکھتا ہوں) الرشاد (ہدایت ، رہنمائی) تشریح : آیت نمبر 28 تا 29 :۔ یہاں ایک مرد مومن کا ذکر فرمایا گیا ہے جس کی مناسبت سے اس سورة کا نام المومن رکھا گیا ہے۔ وہ مرد مومن فرعون کے شاہی خاندان کے ایک فرد تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ دربار کے کوئی اعلیٰ عہدیدار تھے بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ فرعون کے چچا زاد بھائی اور آل فرعون میں سے تھے۔ یہ مرد مومن جن کے تین نام نقل کئے گئے ہیں شمعان ، حزقیل اور جبر ۔ یہ مرد مومن جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت اور معجزات کو دیکھ کر ایمان لا چکے تھے مگر فرعون کے ظلم و ستم اور کسی مصلحت سے اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھے جب انہوں نے دیکھا کہ فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا فیصلہ کرلیا ہے تو وہ کھل کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حمایت پر آگئے۔ انہوں نے نہایت موثر اور حکیمانہ انداز سے بھرے دربار میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی مذمت اور ان کی عظمت پر تقریر فرمائی اور کہا کہ تم کتنے ظالم لوگ ہو کہ ایک شخص کو تم صرف اس لئے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ اللہ کو اپنا رب مانتا ہے۔ اس مرد مومن کی نبی کریم ﷺ نے بھی تعریف فرمائی ہے ۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آل فرعون میں سے تین لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا (1) ایک تو یہ مرد مومن تھے (2) دوسرے فرعون کی بیوی حضرت آسیہ (3) اور تیسرا وہ شخص کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے ایک قبطی غلطی سے مارا گیا تھا اور فرعون وقت نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا فیصلہ کرلیا تھا تو وہ دوڑتے ہوئے آئے اور انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو صورت حال بتاتے ہوئے مصر سے چلے جانے کا مشورہ دیا تھا۔ بعض مفسرین نے پہلے اور تیسرے شخص کو ایک شمار کیا ہے۔ یعنی یہی شخصیات تھیں جنہوں نے فرعون کے ظلم سے بچنے کے لئے اپنے ایمان کو چھپا رکھا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت علی مرتضیٰ ؓ نے اپنے آس پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے کہا کہ بتائو آدمیوں میں سب سے بہادر کون ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم ۔ آپ نے فرمایا کہ سب سے بہادر اور نڈر حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں ۔ میں نے دیکھا ہے کہ ایک مرتبہ بنو قریش کے کچھ لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے آپ پر حملہ کردیا ۔ اللہ کی قسم ہم میں سے کسی کو حوصلہ نہ تھا کہ بنو قریش کے قریب بھی جاتے مگر حضرت ابوبکر صدیق ؓ قریش پر جھپٹے ۔ کسی کا گلہ پکڑتے ، کسی کے کاندھے ہلاتے اور فرماتے جاتے ” ویلکم اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ “ تمہاری تباہی ہو کہ تم ایک شخص کو محض اس لئے مار ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ اللہ کو اپنا رب کہتا ہے۔ پھر حضرت علی ؓ نے اپنے منہ پر چار ڈال لی اور رونا شروع کردیا یہاں تک کہ آنسوؤں سے آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی۔ پھر فرمایا کہ میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں کہ بتائو آل فرعون کا مرد مومن بہتر ہے یا ابوبکر صدیق ؓ ۔ سب خاموش رہے تب حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ تم مجھے جواب نہیں دیتے۔ لیکن اللہ کی قسم آل فرعون کے مرد مومن کے مقابلے میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی ایک ایک ساعت بہتر ہے کیونکہ اس مرد مومن نے تو اپنا ایمان چھپایا ہوا تھا اور ابوبکر صدیق ؓ ایسے شخص تھے جنہوں نے اپنے ایمان کو سب کے سامنے ظاہر کر رکھا تھا۔ ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ صدیقین چند ہیں (1) ایک حبیب نجار ہیں ( جن کا قصہ سورة یا سین میں آیا ہے) (2) دوسرے آل فرعون میں سے یہ مرد مومن (3) اور تیسرے ابوبکر صدیق ہیں جو ان سب سے افضل ہیں (قرطبی) اس مرد مومن نے فرعون ، آل فرعون اور درباریوں کو مختلف طریقوں سے ایمان کی طرف دعوت دی جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا پختہ ارادہ کرلیا تھا۔ اس مرد مومن نے کہا کہ کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے ، حالانکہ وہ تمہارے پاس کھلے ہوئے معجزات اور نشانیاں لے کر آیا ہے۔ اگر وہ شخص ( نعوذ باللہ) جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال خود اسی شخص پر پڑے گا ۔ لیکن اگر وہ سچا ہے تو پھر وہ جو کچھ کہہ رہا ہے تو کیا تم اس عذاب سے بچ سکو گے ؟ اللہ کا نظام ہے کہ جو لوگ حد سے آگے بڑھ جاتے ہیں یا جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں ان کو راہ ہدایت کبھی نصیب نہیں ہوتی ۔ اس مرد مومن نے کہا کہ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ آج تمہیں حکومت و سلطنت اور ہر طرح کی طاقتیں حاصل ہیں تم زمین پر غالب ہو لیکن اگر اللہ کا قہر اور عذاب ہم پر ٹوٹ پڑا تو ہمیں اس سے بچانے والا کون ہوگا ؟ اس وقت ہماری مدد کون کرے گا ؟ مرد مومن کی تقریر کا سلسلہ جاری تھا کہ فرعون نے لوگوں کو اس مرد مومن سے متاثر ہوتے دیکھا تو درمیان درمیان میں مداخلت کرتا رہا ۔ کہنے لگا لوگو ! میں تمہیں وہی بات بتا رہا ہوں جسے میں تمہارے حق میں بہتر سمجھتا ہوں اور میں تمہیں بھلائی کا راستہ دکھا رہا ہوں اس کی مراد یہ ہوگی کہ یہ مرد مومن جس بات کو کہہ رہا ہے اس میں تمہاری کوئی بھلائی اور خیر نہیں ہے اور جو راستہ میں تمہیں دکھا رہا ہو وہی تمہاری نجات کا ذریعہ ہے۔ اس کے بعد کی آیات میں اس مرد مومن کی باقی نصیحتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 40:30–37

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

اور وہ شخص جو ایمان لے آیا تھا اس نے کہا اے میری قوم ! میں تمہارے اوپر تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہوں کے جیسے عذاب سے ڈرتا ہوں ( جو ان پر آیا تھا)

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

جیسا حال قوم نوح (علیہ السلام) ، قوم عاد اور قوم ثمود کا ہوا اور وہ جو ان کے بعد آئے۔ اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! میں تم پر چیخ و پکار کے اس دن سے ڈرتا ہوں

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے لیکن تمہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا ۔ اور جسے اللہ بھٹکا دے اسے راہ ہدایت دکھانے والا کوئی نہیں ۔

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اس سے پہلے تمہارے پاس یوسف (علیہ السلام) کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے۔ مگر تم اس چیز سے شک میں ہی پڑے رہے جو وہ تمہارے پاس لے آ کر آئے تھے۔ اور انتقال کر گئے تو تم نے کہنا شروع کردیا کہ اب ان کے بعد اللہ کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا ۔ اس طرح اللہ اس کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والا اور شک میں پڑا رہنے والا ہے۔

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو بغیر کسی دلیل کے جوا نہیں دی گئی تھی ان آیات میں جھگڑے پیدا کرتے ہیں حالانکہ اللہ کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک ہر وہ بات جو (ٹیڑھی میڑھی ہو) سخت ناپسندیدہ ہے ۔ اس طرح اللہ ہر مغرور اور متکبر کے دل پر مہر لگا دیتا ہے

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

فرعون نے۔ (ایک دن) ہاماں سے کہا کہ اے ہامان میرے لئے ایک بلند عمارت تعمیر کردے۔ شاید کہ میں راستوں تک پہنچ جائوں۔

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

( آسمان کے) راستوں تک۔ تا کہ میں موسیٰ کے رب کو جھانک کر دیکھوں اور بیشک میں اس کو جھوٹا (آدمی) سمجھتا ہوں اور اس طرح فرعون کے بد ترین اعمال ( اس کی نظروں میں) اسے خوبصورت بنا کر دکھا دیئے گئے اور اسکو سیدھے راستے سے روک دیا گیا اور فرعون کی ہر تدبیر ( ہر کوشش) اس کو تباہی ( کے کنارے تک پہنچانے کا سبب ) تھی۔

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 37 : داب (دستور ، قاعدہ ، قانون) التناد ( چیخ و پکار) عاصم (بچانے والا) ھاد (ہدایت دینے والا ، رہبر و رہنمائ) مازلتم ( تم ہمیشہ رہے) مرتاب ( شک کرنے والا) یطبع ( وہ مہر لگاتا ہے) جبار (بہت سختی کرنے والا) ابن ( بنائ) ( تعمیر کر دے) صرحا ( عمارت ، محل) اطلع ( میں جھانکوں گا) زین (خوبصورت بنا دیا گیا) صد ( اس نے روک دیا) کید ( تدبیر ، فریب) تباب (تباہی ، بربادی) تشریح : آیت نمبر 30 تا 37 :۔ اس سے پہلی آیات میں آپ نے پڑھ لیا ہے کہ آل فرعون میں سے ایک مرد مومن نے بھرے دربار میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تائید کرتے ہوئے آل فرعون کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے منع کیا تھا اور ان کو متعدد نصیحتیں کی تھیں ۔ اس مرد مومن نے مزید کہا کہ لوگو ! اگر تم موسیٰ (علیہ السلام) کو اسی طرح جھٹلاتے رہے اور ان کی مخالفت اور بد دشمنی پر اسی طرح اڑے رہے تو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں تمہیں وہ دن دیکھنا نہ پڑے جو تم سے پہلی قوموں قوم نوح (علیہ السلام) ، قوم عاد اور قوم ثمود اور انکے بعد آنے والی نافرمان قوموں نے دیکھا تھا ۔ اللہ نے ان لوگوں پر اپنی رحمتیں نازل کیں ۔ ہر طرح کی نعمتوں اور صلاحیتوں سے نوازا لیکن وہ اپنی ضد ، ہٹ دھرمی ، سرکشی اور نا فرمانیوں پر اڑے رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ قومیں مختلف عذابوں میں تباہ و برباد کردی گئیں ۔ اللہ تو اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے وہ کسی پر ظلم و زیادتی نہیں کرتا لیکن لوگ خود ہی اپنی دنیا اور آخرت کو تباہ کرلیتے ہیں ۔ اس مرد مومن نے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ عذاب تمہارے اوپر بھی آگیا جو گزشتہ قوموں پر آیا تھا تو پھر تمہیں اللہ کے عذاب سے کوئی بچا نہ سکے گا کیونکہ جو خود ہی راستے سے بھٹک جائے اور ہدایت سے منہ پھیر لے تو ایسے آدمی کو راہ ہدایت نصیب نہیں ہوا کرتی ۔ اس مرد مومن نے کہا کہ یہی وقت ہے کہ سچائی کا راستہ اختیار کرلیا جائے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قدر کی جائے کیونکہ اگر یہ وقت نکل گیا تو پھر بعد میں سوائے شرمندگی اور پچھتانے کے کچھ بھی حاصل نہ ہوگا ۔ جس طرح لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زندگی میں تو بڑے اعتراض کرتے رہے لیکن ان کے جانے کے بعد قوم کو احساس ہوا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا وجود کس قدر رحمت اور برکت کا سبب تھا۔ ان کی قوم حضرت یوسف (علیہ السلام) کے وصال کے بعد اس قدر مایوس ہوگئی اور کہنے لگی کہ اب ان کے بعد کوئی رسول کیا آئے گا ۔ یعنی ان جیسا رسول تو اب آ ہی نہیں سکتا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا جو حد سے بڑھ جانے والے اور جھوٹ اور شک کے سہارے زندہ رہتے ہیں ۔ جن کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ بغیر کسی دلیل کے اللہ کی آیات میں جھگڑے نکالتے ہیں ۔ اللہ ایسے جابر و ظالم لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے اور ایسے لوگ اللہ کے غصے اور غضب کا شکار ہو کر رہتے ہیں۔ جب فرعون نے دیکھا کہ مرد مومن کی باتوں سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں تو اس نے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے ایک نہایت غیر سنجیدہ اور نا معقول بات کرتے ہوئے اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ میرے لئے ایک ایسی اونچی بلڈنگ تعمیر کرا دے جہاں سے میں موسیٰ (علیہ السلام) کے رب کو جھانک کر دیکھ سکوں کیونکہ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ سب غلط اور جھوٹ ہے۔ تاریخی اور معتبر روایات سے یہ تو ثابت نہیں ہے کہ فرعون یا اس کے وزیر نے کوئی ایسی اونچی بلڈنگ بنوائی ہو ۔ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ فرعون نے اس طرح لوگوں کی توجہ ہٹانے اور بات کو مذاق میں اڑانے کی کوشش تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس طرح اللہ نے فرعون کے غیر سنجیدہ اور بد ترین اعمال کو اس کو نظروں میں خوبصورت بنا دیا تھا جس سے اس کی عقل ماری گئی تھی ۔ اور اس طرح فرعون کی ہر سازش اور ہر تدبیر اس کو تباہی کے کنارے تک پہنچانے کا سبب بنتی چلی گئی ۔ اور آخرکار وہ اس کے ساتھی اپنی گمراہیوں کے سمندر میں غرق ہو کر تباہ و برباد ہوگئے۔