40. Surah Al-Ghaafir
غافرThe Forgiver · 85 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة المومن، بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ المومن کے مضامین خلاصہ یہ ہے۔ ٭اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کفار مکہ جس قرآن کا مذاق اڑا رہے ہیں وہ کوئی معمولی کلام نہیں ہے کیونکہ اس کو اللہ نے نازل کیا ہے جو زبردست غلبہ و اقتدار کا مالک ہے جو ہر چیز کا جاننے والا ، گناہوں کو بخشنے والا ، توبہ قبول کرنے والا ، گناہوں پر سخت سزا دینے والا اور ہر طرح کی قدرت رکھنے والا ہے ۔ اس کے سوا کوئی دوسرا عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب ہر ایک کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جانثار صحابہ کرام (رض) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ اللہ و رسول کا انکار کرنے والے جو آج آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جھگڑ رہے ہیں اور دنیا کمانے میں دن رات تگ و دو کر رہے ہیں کہیں ان کی بھاگ دوڑ اور چلت پھرت اس دھوکے میں نہ ڈال دے کر یہ لوگ تو بڑے کامیاب و بامراد ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب لوگ انتہائی ناکام ہیں اور ان کا انجام بہت برا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے نافرمان لوگ بھی دنیا کمانے میں بہت آگے تھے لیکن جب ان پر اللہ کے قانون کا کوڑا برسا تو وہ ناکام و نامراد ہوگئے اور ان سب کو پانی کے طوفان میں ڈبو دیا گیا ۔ ( اس سورة کا نام المومن اس لیے رکھا گیا ہے کہ فرعون جیسے ظالم شخص کے گھرانے ہی میں سے ایک ایسا مرد مجاہد بھی نکل کر فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوگیا جس نے ان کو بتایا کہ اللہ بڑی قدرت والا ہے۔ اسی پر ایمان لائو اور سیدھا راستہ اختیار کرو ۔ اس مرد مومن پر تمام لوگوں نے یلغار کردی لیکن جب اللہ نے فرعون اور اس کے ماننے والوں کو پانی میں ڈبو کر ہلاک کردیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، ان کے ماننے والوں اور اس مرد مومن کو نجات عطاء فرما دی ۔ اللہ نے اس مرد مومن کی یہ قدر فرمائی کہ اس کے نام پر ایک سورت نازل فرمائی) ۔ ٭اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ پر ایمان لانے والوں کے لئے عرش اٹھانے والے فرشتے جو بہت مقرب ہیں وہ ہر وقت دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں ۔ وہ بارگاہ الٰہی میں عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ جو لوگ توبہ کر کے آپ کے بتائے ہوئے راستے پر چل رہے ہیں ان کی توبہ کو قبول کرلیجئے۔ ان کو جہنم کی تکلیفوں سے محفوظ فرمایئے گا اور ان کے باپ دادا ، اولاد اور بیویاں جو صاحب ایمان ہیں ان کو بھی ان کے ساتھ جنت کی راحتیں اور ہر طرح کی کامیابیاں عطاء فرما دیجئے گا ۔ ٭کفار و مشرکین کے لیے فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن وہ رسوا اور ذلیل ہوں گے انہیں اپنے وجود سے بھی نفرت ہوجائے گی ۔ اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے پچھتائیں گے ۔ حسرت و ندامت کے ساتھ درخواست کریں گے کہ الٰہی ہمیں کسی طرح یہاں سے نکلنے کا موقع دے دیا جائے تا کہ دنیا میں جا کر بہتر اعمال کرسکیں لیکن ان کی یہ درخواست ان کے منہ پر دے کر مار دی جائے گی اور قبول نہ کی جائے گی۔ ٭حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون ، ہامان اور قارون کی ہر طرح سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ اپنے غرور وتکبر ، حکومت و سلطنت ، اقتدار اور مال و دولت کی چمک دمک میں اس طرح مگن تھے کہ انہوں نے نہ صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی بات ماننے سے انکار کردیا بلکہ ان کو قتل تک کرنے کا منصوبہ بنا لیا ۔ ٭مگر قوم فرعون ہی میں سے ایک شخص جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سچائی اور نبوت کو جان چکا تھا اور ان کی باتوں پر ایمان لے آیا تھا مگر کسی مصلحت سے اس نے اپنے ایمان کا اظہار نہ کیا تھا جب اس نے یہ دیکھا کہ فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا فیصلہ کرلیا ہے تو اس مجاہد مرد مومن سے نہ رہا گیا اور اس نے بھرے دربار میں فرعون اور اس کے درباریوں کو للکارتے ہوئے کہا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ اللہ اس کا پروردگار ہے ۔ اس نے تمہیں ہر طرح کے معجزات دکھادیئے ہیں پھر بھی تم اس کی بات نہیں مانتے۔ اس مرد مومن نے کہا کہ بیشک آج تم سلطنت مصر کی وجہ سے اس سر زمین پر غلبہ و اقتدار رکھتے ہو مگر تم اس بات کو بھول رہے ہو کہ سب سے بڑی طاقت اللہ کی طاقت ہے۔ جب فرعونیوں نے ان کو اپنے مذہب کی طرف بلانے کی کوشش کی تو اس مرد مومن نے کہا تم کس قدر نا عاقبت اندیش بنے ہوئے ہو کہ میں تمہیں سیدھا راستہ دکھا رہا ہوں اور تم مجھے جہنم کی طرف دھکیل رہے ہو ۔ تمہیں تو میری بات مانن چاہیے تھی۔ ٭فر عون نے جب دیکھا کہ اس مرد مومن کی باتوں سے ہر شخص متاثر ہو رہا ہے تو اس نے انتہائی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور بات کو ٹالنے کے لئے اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ تم میرے لیے آسمان تک بلند ایک عمارت بنا دو میں جس پر چڑھ کر اور جھانک کر دیکھوں گا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا رب کیا کر رہا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ سب باتیں جو موسیٰ (علیہ السلام) کر رہے ہیں سب جھوٹ اور غلط ہیں۔ ٭فرعون اور آل فرعون کی نا فرمانیاں جب حد سے بڑھ گئیں تو اللہ نے ان سب کو پانی میں ڈبو کر ختم کردیا ۔ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، ان کے ماننے والوں اور اس مرد مومن کو بچا لیا ۔ اللہ نے فرمایا کہ فرعون اور اس کی قوم کے ڈوب جانے اور مرنے کے بعد ہر صبح و شام جہنم کو ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہی وہ ٹھکانہ ہے جس میں تمہیں قیامت کے دن ڈالا جائے گا ۔ ٭اللہ تعالیٰ نے نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے وہئے فرمایا کہ آپ صبر و برداشت سے کام لیجئے۔ اللہ نے جو وعدہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا ہے وہ سچا وعدہ ہے اور بہت جلد پورا ہو کر رہے گا ۔ اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اور آپ پر ایمان لانے والوں کی پوری طرح مدد کرے گا اور کفار و مشرکین کو سخت سزا دے گا ۔ ٭فرمایا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کون سا مشکل کام ہے ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا ۔ نطفہ سے نسل انسانی کو دنیا میں پھیلنے اور بڑھنے کا ذریعہ بنایا ۔ اسی نے زمین و آسمان کو بنایا ۔ اس نے جس طرح اور جیسی شکل انسان کو دینا چاہی ، بنا دیا ۔ اس نے انسان کے لیے بہترین غذاؤں کو پیدا کیا لیکن یہ سب کچھ ایک مدت تک ہے پھر ان کو دفن کردیا جائے گا صرف اللہ کی ذات رہ جائے گی ۔ فرمایا کہ وہ رب العالمین ہے اور نرالی شان والا ہے۔ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔ ٭فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی آیات کو سننے کے باوجود ان میں جھگڑے نکالتے ہیں، رسول کو اور قیامت کو جھٹلاتے ہیں جب وہ قیامت میں پہنچیں گے تو ان کے گلے اور گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے ان کے پاؤں زنجیروں سے جکڑے جائیں گے ، ان کو پینے کے لیے کھولتا ہوا گرم پانی ملے گا ۔ وہ ہر طرح ذلیل و رسوا ہوں گے جب ان کو گھسیٹ کر جہنم میں پھینکا جائے گا۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبر و تحمل سے دیکھتے رہیے کہ دنیا اور آخرت میں ان کفار و مشرکین کا انجام کس قدر بھیانک اور قابل عبرت ہوگا ۔ اس دن انہیں اللہ کی گرفت سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا اور کوئی ایسا نہ ہوگا جو اللہ کی بارگاہ میں حاضر نہ ہو ۔ سب کو حاضر ہو کر اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہوگا۔
حٰمٓۚ Open ayah 40:1 in the Quran reader
ح ۔ م ( اللہ ہی ان حروف کی مراد کو جانتا ہے)
تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader
اللہ ( وہ ہے) جو ہر بات کا جاننے والا اور غالب ہے اسی کی طرف سے یہ کتاب ( قرآن مجید) نازل ہوئی ہے
غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader
وہ اللہ گناہوں کو بخشنے والا ، توبہ قبول کرنے والا ، سخت عذاب دینے والا ، بڑے فضل و کرم والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اسی کی طرف ( سب کو) لوٹ کر جانا ہے۔
مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader
جنہوں نے کفر و انکار کیا وہی آیات الٰہی میں جھگڑتے ہیں۔ ( اے نبی ﷺ ان کا ملکوں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے ۔
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader
ان سے پہلے قوم نوح (علیہ السلام) اور ( ان کے بعد دوسرے) گروہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا اور ہر امت نے اپنے رسولوں کے متعلق یہ ارادہ کیا کہ وہ انہیں پکڑ لیں اور ناحق جھگڑے کریں تا کہ وہ سچ کو بےحقیقت ثابت کر دکھائیں۔ پھر میں نے انہیں پکڑ لیا ۔ ( دیکھو کہ) اس کا عذاب کیسا ( بھیانک ) ہے۔
وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader
اور اس طرح ( اے نبی ﷺ آپ کے رب کی بات کافروں پر ثابت ہو کر رہی کہ وہ جہنم والے ہیں۔
اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader
جو فرشتے عرش الٰہی کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے ارد گرد ہیں وہ سب اپنے پروردگار کی پاکیزگی اور حمد وثناء بیان کرتے ہیں ۔ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں ان کے لئے وہ دعائے مغفرت مانگتے ہیں۔ ( وہ کہتے ہیں) اے ہمارے رب آپ کی رحمت اور علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے جنہوں نے توبہ کرلی ہے ان کو بخش دیجئے اور جنہوں نے آپ کے راستے کی پیروی کی انہیں جہنم سے نجات عطاء فرما دیجئے۔
رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader
اے ہمارے پروردگار انہیں ہمیشہ کے باغوں میں داخل فرمایئے۔ جس کا آپ نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے۔ ان کے صالح باپ ، داد ، ان کی صالح بیویوں اور ان کی اولاد صالح کو بھی ( نواز دیجئے) بیشک آپ ہی غالب اور حکمت والے ہیں۔
وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader
اور انہیں ہر طرح کی برائیوں سے بچا لیجئے۔ ( اور حقیقت یہ ہے کہ) اس دن جو بھی برائیوں سے بچ گیا تو یقینا آپ نے اس پر رحم و کرم کیا اور یہی بڑی کامیابی ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader
بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ان سے پکارکر کہا جائے گا کہ آج تمہیں اپنے اوپر جو غصہ آ رہا ہے ( ذرا سوچو کہ) اللہ اس وقت تم سے شدید ناراض ہوتا تھا جب تم ایمان کی طرف بلائے جاتے اور تم انکار کرتے تھے۔
قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader
وہ کہیں گے اے ہمارے رب آپ نے ہمیں دو مرتبہ موت دی اور آپ نے ہمیں دو مرتبہ زندہ کیا تو ہم اپنے گناہوں پر ( شرمندگی) کے ساتھ اقرار کرتے ہیں ، تو کیا اب یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے ؟
ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader
(ان سے کہا جائے گا کہ) تمہاری یہ حالت اس وجہ سے ہے کہ جب تمہیں ایک اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر کسی کو اس کے ساتھ شریک کیا جاتا تو تم اس کو مان لیا کرتے تھے۔ اب فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے وہ اللہ جو بلندو برتر ہے۔
هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader
وہی تو ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے رزق اتارتا ہے۔ مگر اس سے وہی شخص نصیحت حاصل کرتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے
فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader
(اے لوگو ! ) تم عبادت کو صرف اللہ کے لئے خالص کرتے ہوئے اسی کو پکارو ۔ اگرچہ وہ کافروں کو نا گوار ہی کیوں نہ ہو۔
رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader
وہ اللہ بلند درجوں والا اور عرش کا مالک ہے ۔ وہ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے روح ( وحی) نازل کرتا ہے تا کہ وہ ان کو ( قیامت کے دن اللہ کی) ملاقات سے ڈرائے۔
یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader
جس دن وہ ظاہر ( بےپردہ) ہوں گے اور ان کو کوئی بات اللہ سے پوشیدہ نہ ہوگی ( اس دن آواز دی جائے گی کہ) آج بادشاہت کس کے لئے ہے ؟ ( سب کہیں گے) اللہ کے لئے جو ایک ہے اور زبردست ( قوت و طاقت والا ہے)
اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader
(فرمایا جائے گا کہ) آج ہر شخص کو اس کے ( اچھے یا برے) اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ۔ آج کسی پر ظلم و زیادتی نہ ہوگی ۔ بیشک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔
وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ ان کو قیامت کے اس دن سے ڈرایئے جو قریب آگیا ہے جب کلیجے منہ کو آ رہے ہوں گے اور دل رنج و غم سے بھرے ہوں گے۔ (اس دن) ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا نہ سفارشی کہ جس کی بات مانی جائے
یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader
وہ آنکھوں کی خیانت اور جو کچھ تم اپنے سینوں میں چھپائے ہو اس سے اچھی طرح واقف ہے
وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader
اور ( اسی کے مطابق) اللہ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا ۔ اور وہ اللہ کے سوا جنہیں ( اپنی حاجات کے لئے) پکارتے ہیں وہ کسی فیصلہ کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں ۔ بیشک اللہ ہی سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔
اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader
کیا وہ زمین میں چلتے پھرتے نہیں ہیں ؟ (اگر چلتے تو) دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے ( نافرمان) تھے ان کا انجام کیسا ہوا ؟ وہ قوت و طاقت میں ان سے بھی زیادہ تھے اور زمین میں ( اپنے آثار ، کھنڈرات) نشانیوں کے اعتبار سے بھی ( بہت کچھ چھوڑ کر گئے ہیں) پھر اللہ نے ان کو ان کے گناہوں ( کفر و شرک) کے سبب پکڑ لیا اور اس وقت ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader
اس لئے کہ ان کے پاس ان کی طرف ( بھیجے گئے) رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے۔ انہوں نے ان نشانیوں کا انکار کیا تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا کیونکہ بلا شبہ وہ سخت سزا دینے والا ہے۔
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader
ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں اور روشن دلیل کے ساتھ بھیجا تھا
اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader
فرعون ، ہامان اور قارون کی طرف۔ جنہوں نے کہا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تو ( نعوذ باللہ) جادوگر ہے بڑا جھوٹا ہے۔
فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader
پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آگیا تو کہنے لگے کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کر ڈالو جو اس کے ساتھ ایمان لے آئے ہیں ۔ اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھو حالانکہ کافروں کا دائو گمراہی کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔
وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader
فرعون کہنے لگا چھوڑو میں موسیٰ (علیہ السلام) ہی کو قتل کر ڈالتا ہوں۔ وہ اپنے رب کو پکار کر تو دیکھے۔ ( لوگو ! ) مجھے ڈر ہے کہ ( اگر موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں ہی چھوڑ دیا گیا تو) وہ تمہارا دین بدل ڈالے گا یا وہ فساد پھیلائے گا۔
وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں نے ہر مغرور و متکبر اور یوم حساب پر ایمان نہ لانے والوں کے مقابلے میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ حاصل کرلی ہے۔
وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader
اور فرعون کی قوم میں سے ایک مرد مومن نے کہا جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کہ کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے ، حالانکہ وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی کھلی نشانیوں کے ساتھ آیا ہے۔ اگر وہ ( موسیٰ (علیہ السلام) جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا ( وبال) اس پر پڑے گا ۔ لیکن اگر وہ سچا ہے تو وہ جو تم سے وعدہ کر رہا ہے اس کا کچھ تمہیں ضرور پہنچے گا بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں اور جھوٹے لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader
اے میری قوم آج تمہاری بادشاہت ہے ، تم زمین میں غالب ہو لیکن اگر تم پر اللہ کا قہر ٹوٹ پڑا تو اس سے بچانے والا اور ہماری مدد کرنے والا کون ہوگا ؟ فرعون نے کہا ( لوگو ! ) میں تو تمہیں وہی رائے دیتا ہوں جس کو میں ( تمہارے حق میں) بہتر سمجھتا ہوں اور میں تمہیں بھلائی اور ہدایت کا راستہ دکھا رہا ہوں۔
وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader
اور وہ شخص جو ایمان لے آیا تھا اس نے کہا اے میری قوم ! میں تمہارے اوپر تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہوں کے جیسے عذاب سے ڈرتا ہوں ( جو ان پر آیا تھا)
مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader
جیسا حال قوم نوح (علیہ السلام) ، قوم عاد اور قوم ثمود کا ہوا اور وہ جو ان کے بعد آئے۔ اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔
وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader
اور اے میری قوم ! میں تم پر چیخ و پکار کے اس دن سے ڈرتا ہوں
یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader
جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے لیکن تمہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا ۔ اور جسے اللہ بھٹکا دے اسے راہ ہدایت دکھانے والا کوئی نہیں ۔
وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader
اس سے پہلے تمہارے پاس یوسف (علیہ السلام) کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے۔ مگر تم اس چیز سے شک میں ہی پڑے رہے جو وہ تمہارے پاس لے آ کر آئے تھے۔ اور انتقال کر گئے تو تم نے کہنا شروع کردیا کہ اب ان کے بعد اللہ کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا ۔ اس طرح اللہ اس کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والا اور شک میں پڑا رہنے والا ہے۔
اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader
اور وہ لوگ جو بغیر کسی دلیل کے جوا نہیں دی گئی تھی ان آیات میں جھگڑے پیدا کرتے ہیں حالانکہ اللہ کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک ہر وہ بات جو (ٹیڑھی میڑھی ہو) سخت ناپسندیدہ ہے ۔ اس طرح اللہ ہر مغرور اور متکبر کے دل پر مہر لگا دیتا ہے
وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader
فرعون نے۔ (ایک دن) ہاماں سے کہا کہ اے ہامان میرے لئے ایک بلند عمارت تعمیر کردے۔ شاید کہ میں راستوں تک پہنچ جائوں۔
اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader
( آسمان کے) راستوں تک۔ تا کہ میں موسیٰ کے رب کو جھانک کر دیکھوں اور بیشک میں اس کو جھوٹا (آدمی) سمجھتا ہوں اور اس طرح فرعون کے بد ترین اعمال ( اس کی نظروں میں) اسے خوبصورت بنا کر دکھا دیئے گئے اور اسکو سیدھے راستے سے روک دیا گیا اور فرعون کی ہر تدبیر ( ہر کوشش) اس کو تباہی ( کے کنارے تک پہنچانے کا سبب ) تھی۔