Ayahs 40:1–3درس نمبر 223 تشریح آیات
آیت نمبر 1 تا 3
﷽
یہ سورت ان سات سورتوں میں سے پہلی سورت ہے جن کا آغاز حا اور میم کے حروف مقعات سے ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک سورت ایسی ہے جس میں حا ۔ میم کے بعد عین ، سین اور قاف بھی آیا ہے۔ حرف مقطعات کے بارے میں ہم تمام سورتوں میں کہہ آئے ہیں کہ ان میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کلام انہی حروف تہجی سے بنا ہے اور یہ ایک معجز کلام ہے حالانکہ یہ حروف تہجی تمہاری دسترس میں ہیں۔ یہ تمہاری زبان کے حروف ہیں اور اس زبان کو تم بولتے بھی ہو ، لکھتے بھی ہو۔
ان حروف کے بعد پھر نزول کتاب کی طرف اشارہ ہے۔ یہ وہ بات ہے جو اکثر مکی سورتوں کے اغاز میں کہی جاتی ہے جن کا مضمون اکثر اسلامی نظریہ حیات اور کلمہ توحید سے ہوتا ہے۔
تنزیل ۔۔۔۔ العلیم (40: 2) ” اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے “۔
اس اشارے کے بعد اب بات اس ذات کی بعض صفات کی طرف منتقل ہوتی ہے جس نے یہ کلام نازل کیا ہے ۔ یہ وہ صفات ہیں جن کا اس سورت کے موضوع کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ اس سورت میں جو موضوعات اور جو مسائل لیے گئے ہیں ان کے ساتھ ان صفات الہٰی کا ربط ہے۔
غافر الذنب۔۔۔۔ المصیر (40: 3) ” زبردست ہے ، سب کچھ جاننے والا ہے ، گناہ معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے ، سخت سزا دینے والا اور بڑا صاحب قضل ہے ، کوئی معبود اس کے سوا نہیں ، اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے “۔ اس آیت میں عزت ، علم ، گناہوں کی مغفرت ، توبہ کی قبولیت ، سخت سزا ، فضل وکرم ، الوہیت اور حاکمیت کی وحدت اور سب لوگوں کا اس کی طرف لوٹنے کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ اور اس سورت کے تمام موضوعات انہی معافی کے اردگرد گھومتے ہیں جن کو اس آیت میں قلم بند کیا گیا ہے۔ اس آیت میں نہایت زور دار انداز ، زور دار آواز میں اور قومی ترتراکیب اور جملوں میں نہایت پختگی اور استقلال سے لایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی وہ صفات یہاں متعارف کرائی ہیں جن کا انسانی وجود اور انسانی زندگی پر گہرا اثر ہے۔ یوں اللہ نے انسانوں کے دلوں اور ان کے شعور کے احساسات کو تیز کیا۔ ان کے اندر رجائیت پیدا کی اور امید کو جگایا۔ ان کے اندر خوف اور تقویٰ پیدا کیا گیا اور ان کو یہ یقین دلایا گیا کہ وہ اللہ کے قبضے میں ہیں۔ وہ اللہ کے تصرفات سے کہیں بھاگ نہیں سکتے ۔ ذرا ان صفات کا تفصیلی جائزہ لیں۔
العزیز (40: 2) ” وہ قوی اور قادر مطلق جو ہر کسی پر غالب ہے ، اور اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا ۔ وہ تمام امور میں تصرف کرتا ہے اور اس پر کوئی قدرت نہیں رکھتا اور نہ اس کے اوپر کوئی نگران ہے۔
العلیم (40: 2) وہ ذات ہے جو اس کائنات کو علم اور مہارت سے چلاتی ہے ، اس پر اس کائنات کا کوئی راز مخفی نہیں ہے۔ اور کوئی چیز اس کے علم سے غائب نہیں ہے۔
غافر الذنب (40: 3) وہ جو بندوں کے گناہوں کو بخشتا ہے ، ان بندوں کے گناہوں کو جن کے بارے میں اپنے شامل علم کے ذریعے اللہ جانتا ہے کہ وہ بخشش کے مستحق ہیں۔
وقابل التوب (40: 3) وہ جو نافرمانوں پر مہربانی کرتا ہے اور ان کو لوٹا کر اپنے خطیرۂ امن میں لاتا ہے اور ان کے لیے اپنی رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہے اور بلاروک ٹوک ان کو اندر آنے دیتا ہے۔
شدید العقاب (40: 3) جو متکبرین کو نیست ونابود کرتا ہے ، اور اسلام کے دشمنوں کو سزا دیتا ہے ، جو نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ استغفار کرتے ہیں۔
ذی الطول (40: 3) وہ جو لوگوں کو انعامات دیتا ہے ، جو نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے اور لوگوں کو اس قدر دیتا ہے کہ ان انعامات کا کوئی حساب نہیں کیا جاسکتا ۔
لاالٰه الاھو (40: 3) الوہیت ، حاکمیت اسی کی ہے۔ ، اور وہ وحدہ لاشریک ہے ، اپنی ذات وصفات ہیں۔
الیه المصیر (40: 3) حساب و کتاب کے لیے ہر کسی نے اس کے سامنے حاضر ہونا ہے اور اس سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اور اس سے ملاقات ہوگی۔ تمام مخلوق نے اسی کی طرف لوٹنا ہے اور وہی لوٹنے کی جگہ ہے۔
یوں بندوں کا تعلق اللہ سے اور اللہ کا تعلق بندوں سے واضح کیا جاتا ہے۔ بندوں کے شعور ان کے تصورات ، ان کے ارداک ، اور ان کے علم میں اللہ سے رابطہ بیٹھ جاتا ہے۔ اس طرح انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ کس قدر چوکنا ہو کر اور احتیاط سے معاملہ کرنا ہے اور یہ جانتے ہوئے معاملہ کرنا ہے کہ کس چیز سے اللہ ناراض ہوتا ہے اور کس چیز سے راضی ہوتا ہے۔ جن لوگوں کے ادیان اور عقائد افسانوی ہیں ، وہ اپنے الہوں کے بارے میں جو تصور رکھتے ہیں ، وہ اس کے بارے میں حیرت میں رہتے ہیں ، انہیں ان الہوں کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات نہیں ہوتیں ، ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ کیا چیز انہیں ناراض کرتی ہے اور کس سے وہ راضی ہوتے ہیں۔ وہ اپنے الہوں کی جو تصویر کھینچتے ہیں۔ اس کے مطابق ان الہوں کی خواہشات بدلتی رہتی ہیں ، ان کا رجحان صاف نہیں ہوتا۔ وہ الہہ جلد متاثر ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ ان الہوں کے ساتھ ہمیشہ بےچینی کی زندگی گزارتے ہیں اور ہر وقت اس بات کی تلاش میں رہتے ہیں کہ ان کی رضا کس میں ہے اور کس میں نہیں ہے۔ آیا وہ تعویذوں سے راضی ہوتے ہیں ، قربانیوں سے راضی ہوتے ہیں۔ ذبیحوں سے راضی ہوتے ہیں یا اور اگر وہ یہ کام کر بھی گزریں تو بھی ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ راضی ہوگئے یا نہیں ہوئے۔
ان حالات میں اسلام آیا ، اس نے واضح اور ستھرے و عقائد دیئے ، لوگوں کو اپنے سچے خدا سے ملا دیا۔ ان کو اللہ کی صحیح صفات سے آگاہ کردیا ۔ ان کو اللہ کی مشیت کے بارے میں بتا دیا ، یہ بھی صاف صاف بتادیا کہ وہ اللہ کے قریب کس طرح ہوسکتے ہیں ، اسکی رحمت کی امیدوہ کس طرح کرسکتے ہیں۔ اسکے عذاب سے کسطرح ڈرسکتے ہیں اور اللہ کا سیدھا اور درست راستہ کونسا ہے۔
Ayahs 40:4–6آیت نمبر 4 تا 6
اس فیصلے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ بہت ہی صفات رکھتا ہے اور وہ وحدہ لاشریک ہے ، اب یہ کہا جاتا ہے کہ یہ حقائق ، اس کائنات کی ہر چیز کی طرف سے مسلم ہیں کیونکہ اس کائنات کی فطرت ان حقائق کے ساتھ مربوط ہے اور یہ تعلق براہ راست ہے جس میں تنازعہ اور کوئی مجادلہ نہیں ہے۔ یہ پوری کائنات بڑے اطمینان سے آیات الہیہ کو تسلیم کرتی ہے ، اللہ کی وحدانیت پر شاہد عادل ہے ۔ اور اس میں مجادلہ وہی لوگ کرتے ہیں جو کفر پر تلے ہوئے ہیں اور یہ لوگ اس کائنات سے منحرف ہیں۔
مایجادل۔۔۔۔ کفروا (40: 4) ” اللہ کی آیات میں جھگڑے نہیں کرتے مگر وہی لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے “۔” یہی لوگ “ یعنی اس کائنات میں سے وہی لوگ اکیلے ان آیات کا انکار کرتے ہیں جو کفر پر تلے ہوئے ہیں۔ اس عظیم مخلوقات میں سے صرف یہی لوگ منحرف ہیں۔ اور ان کی اس عظیم الشان دجود میں چیونٹی سے بھی کم حیثیت ہے۔ جس طرح اس کرۂ ارض کی نسبت سے ایک چیونٹی حقیر شے ہے۔ اس طرح اس کائنات کے حوالے سے انسان ایک چیونٹی سے بھی کم ہے۔ لیکن جھگڑتا ہے یہ حضرت انسان اللہ کی نشانیوں کے بارے میں ، جبکہ یہ عظیم کائنات اہل کفر کے مقابلے میں کھڑی ہے۔ اور حق تعالیٰ کا اعتراف کررہی ہے۔ اور عزیز وجبار کی قوتوں کی معترف ہے۔ یہ لوگ ، اس موقف میں انجام کے خلاف کھڑے ہیں۔ یہ لوگ چاہے دنیا میں قوت رکھتے ہوں اور جاہ ومال کے مالک ہوں اور مقتدر اعلیٰ ہوں ، لیکن جس جگہ انہوں نے جانا ہے ، اس کی انہیں کوئی فکر نہیں ہے۔
فلایغررک تقلبھم فی البلاد (4 ہ : 4) ” اس کے بعد دنیا کے ملکوں میں ان کی چلت پھرت تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے “۔ وہ جس قدر دوڑ دھوپ کریں ، جس قدر اقتدار اور مال وجاہ کے وہ مالک ہوں ، جس قدر وہ عیش و عشرت میں ہوں ، آخر کار یہ لوگ تباہ برباد اور ہلاک ہونے والے ہیں۔ ان کی اس جنگ کا انجام معروف ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اس عظیم خالق کائنات کے درمیان اور اس کائنات کے درمیان اور اس کائنات کی ایک حقیر چیونٹی کے درمیان کوئی معرکہ برپا ہوسکتا ہے۔
ان سے پہلے ان جیسی کئی اقوام اس زمین پر گزری ہیں ، ان کا جو انجام ہوا ، اس سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ ایسی اقوام کا انجام کیا ہوا کرتا ہے ، جو اللہ کی قوت کے مقابلے میں آجائیں ۔ اللہ کی قوت ان کو پیش کر رکھ دیا کرتی ہے اور ہر اس قوت کو پیس ڈالتی ہے جو اللہ کے ساتھ جنگ کے لیے اٹھتی ہے۔
کذبت قبلھم۔۔۔۔۔ کان عقاب (40: 5) ” ان سے پہلے نوح کی قوم بھی جھٹلاچ کی ہے اور ان کے بعد بہت سے دوسرے جتھوں نے بھی یہ کام کیا۔ ہر قوم اپنے رسول پر جھپٹی تاکہ اسے گرفتار کرے۔ ان سب نے باطل کے ہتھیاروں سے حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کی مگر آخر کار میں نے ان کو پکڑلیا۔ پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی تھی “۔ یہ سلسلہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے سے چلا آرہا ہے اور یہ ایک ایسا معرکہ ہے جو ہر زمان ومکان میں برپا ہے ، اور یہ آیت اس قصے کا خلاصہ بتاتی ہے۔ رسولوں اور
انکی تکذیب کا قصہ۔ اور ان کے اور اللہ کے مقابلے میں سرکشی کا رویہ ہر زمان ومکان میں یونہی ہوتا رہا ہے اور انجام بھی ایک رہا ہے
رسول آیا ہے ، اس کی قوم کے سرکشوں نے اس کی تکذیب کی ہے۔ انہوں نے دلیل کا جواب دلیل سے نہیں دیا ، بلکہ دلیل کے مقابلے میں تشدد کے ہتھیار لے کر آئے اور انہوں نے رسول کو پکڑ کر گرفتار کرنے کی کوشش کی اور جمہور عوام کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کی کوشش کی تاکہ حق کا مقابلہ کریں ، حق کو نیچا دکھائیں مگر اللہ کی قوت جبارہ نے مداخلت کی ہے۔ اور ایسے سرکشوں کو اس طرح چوٹی سے پکڑا کہ وہ آنے والوں کے لیے عبرت بن گئے۔
فکیف کان عقاب (40: 5) ” میری سزا کیسی سخت تھی “۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی سزا تباہ کن تھی ، بہت سخت تھی۔ ان اقوام کے جو آثار بھی آج باقی ہیں ، وہ بتاتے ہیں کہ یہ سزا بہت سخت تھی۔ اور احادیث وروایات بھی یہ بتاتی ہیں کہ وہ سزا بہت سخت تھی۔ اور یہ معرکہ یہاں ختم نہیں ہوگیا بلکہ قیامت تک چلا گیا :
وکذٰلک۔۔۔۔ النار (40: 6) ” اسی طرح تیرے رب کا یہ فیصلہ بھی ان سب لوگوں پر چسپاں ہوچکا ہے جو کفر کے مرتکب ہوئے ہیں کہ وہ واصل بجہنم ہونیوالے ہیں “۔ جب یہ اللہ کا فیصلہ حق ہوا ، چسپاں ہوا ، گویا نافذ ہوگیا ، اور ہر قسم کا مباحثہ ہی ختم ہوگیا
یوں قرآن کریم ایک حقیقی صورت حال کی تصویر کشی کرتا ہے۔ ایمان اور کفر کے طویل معرکہ کی تصویر کشی۔ حق اور باطل کے درمیان معرکہ آرائی ، ان لوگوں کے درمیان جو اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں اور ان لوگوں کے درمیان معرکہ آرائی جو زمین میں سرکشی اختیار کرتے ہیں ، بغیر دلیل کے بات کرتے ہیں۔ یوں قرآن یہ بتاتا ہے کہ یہ معرکہ حق و باطل آغاز انسانیت سے شروع ہے اور اس کا میدان زمین سے بھی آگے ہے۔ اس پوری کائنات میں بھی یہ جاری ہے کہ یہ پوری کائنات اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے لیکن ایک کافرنہ صرف اہل ایمان سے بلکہ پوری کائنات کے ساتھ بھی برسرپیکار ہوتا ہے۔ یہ اس کائنات کے اندر موجود اللہ کی نشانیوں سے بھی لڑتا ہے اور اس معرکہ آرائی کا انجام بھی معلوم ہوتا ہے کہ حق کی قوتیں ، بہت بڑی ، بہت طاقتور ہیں۔ اللہ ہے ، پوری کائنات ہے ، اہل ایمان ہیں اور اس کے مقابلے کی قلیل و حقیر قوت ہے۔ اگرچہ عارضی طور پر اس کا پلہ بھاری ہوا اور بظاہر یہ قوت بہت ہی خوفناک نظر آئی ہو مگر آخر کار یہ تباہ ہونے والی ہے۔
یہ حقیقت کہ حق و باطل کا معرکہ اور اس میں لڑنے والی قوتیں اور اس کا میدان جنگ یعنی طویل انسانی تاریخ ، اس کی تصویر کشی قرآن اس لیے کرتا ہے کہ اہل ایمان کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ جائے ، خصوصاً ان اہل ایمان کے دلوں میں جو پیغمبروں کے اصول ومنہاج پر دعوت حق لے کر آئے ہیں اور ہر زمان ومکان میں دعوت ایمان دیتے ہیں وہ اچھی طرح جان لیں اور یقین کرلیں کہ باطل کی قوت کچھ بھی نہیں ہے۔ اگرچہ وہ بظاہر پھولی ہوئی نظر آئے ، ایک محدود وقت کے لیے کسی محدود سرزمین میں ، یہ قوت حقیقت نہیں ہے۔ اصل حقیقت وہ ہے ، جس کی نشاندہی اللہ کی کتاب کررہی ہے ، جسے وہ کلمتہ الحق کہتی ہے ،
اور حق غالب ہوا کرتا ہے۔ اللہ سب سے سچا ہے اور اس کی بات سچی ہے۔
اس حقیقت کے ساتھ ساتھ کہ دعوت حق ہے اور اس کے حامل مومنین ہیں۔ ان کے ساتھ وہ مومنین بھی شامل ہیں ، جو
اللہ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے اردگرد متعین وہ بھی اہل ایمان کے ساتھ تائید میں کھڑے ہیں۔ وہ ہر وقت انسان مومنین کی رپورٹ اللہ کے ہاں پیش کرتے ہیں ، ان کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں اور ان کے لیے جو اللہ کا وعدہ ہے ، اللہ سے اس کے پورا کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ کیوں ؟ اس لیے کہ یہ انسان بھی مومن ہیں اور وہ مومن ہیں۔
Ayahs 40:7–9آیت نمبر 7 تا 9
ہم نہیں جانتے کہ عرش کی حقیقت کیا ہے ، نہ اس کی صورت متعین کرسکتے ہیں اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ اس کے اٹھانے والے اسے کس طرح اٹھاتے ہیں۔ یہ بھی نہیں جانتے کہ اس کا ماحول کیسا ہے اور اس کے اردگرد فرشتے کیسے ہیں ، لہٰذا ہمیں ان چیزوں کی ہئیت اور ماہیت معلوم کرنے کی فضول جدوجہد نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ اشیاء انسانی ادراک کے دائرہ سے ماوراء ہیں۔ نہ ہمیں ان غیبی امور کے پیچھے پڑتا چاہئے ، جن کے بارے میں مباحثے کرنے والوں کو کوئی علم نہیں دیا گیا۔ جو بات آیات سے سمجھ میں آتی ہے ، وہ صرف یہ ہے کہ اللہ کے بعض مقرب بندے ، رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں ، اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور قرآن کریم ان کے ایمان کی تصریح اس لیے کررہا ہے کہ ان کا ربط مومن انسانوں کے ساتھ واضح ہوجائے اور اللہ کے یہ مقرب بندے ان مومن انسانوں کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں جو یہاں اس دنیا میں معرکہ خیر وشر میں کودے ہوئے ہیں ۔ یہ بندے جس انداز سے دعا کرتے ہیں اس میں ہمارے لیے تعلیم ہے کہ ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ کو یوں مخاطب کرے ۔ وہ کہتے ہیں
ربنا وسعت کل شئ رحمة وعلما (40: 7) ” اے ہمارے رب ، تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے “۔ وہ اللہ کے سامنے طلب رحمت کے لیے یوں درخواست کرتے کہ (اے اللہ) ہم انسانوں کے لیے وہ رحمت طلب کرتے ہیں جو دراصل ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اور اللہ کے علم کو ذریعہ بناتے ہیں جو ہر چیز کو شامل ہے۔ وہ اللہ کے سامنے کوئی نئی چیز پیش نہیں کرتے جو اللہ کے پیش نظرنہ ہو۔ اللہ کی رحمت اور علم جو ہر چیز کو محیط ہیں انہی کے واسطہ سے وہ التجا کرتے ہیں۔
فاغفر۔۔۔۔ الجحیم (40: 7) ” پس معاف کردے اور عذاب دوزخ سے بچا لے ، ان لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرا راستہ اختیار کرلیا ہے “۔ اس دعا میں ایک اشارہ مغفرت اور توبہ کا ہے جو آغاز سورت میں غافر الذنب اور قابل التوب کے
ساتھ موافق ہے اور دوسرا اشارہ عذاب جہنم سے بچانے کی طرف ہے جو آغاز سورت میں شدید العقاب کے ساتھ موافق ہے۔
اس کے بعد یہ بندے دعا میں ذرا آگے بڑھتے ہیں ، اب وہ مغفرت اور عذاب جہنم سے بچانے سے بھی آگے جنت عطا کرنے کا سوال کرتے ہیں اور ان وعدوں کے پورے کیے جانے کا سوال کرتے ہیں جو اللہ نے اپنے نیک بندوں سے کر رکھے ہیں۔
ربنا۔۔۔۔ العزیز الحکیم (40: 8) ” اے ہمارے رب ، اور داخل کر ان کو ہمیشہ رہنے والی اب جنتوں میں جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے ، اور ان کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں (ان کو بھی وہاں ان کے ساتھ ہی پہنچادے) ۔ تو بلاشبہ قادر مطلق اور حکیم ہے “۔ جنت میں داخلہ ، بیشک بڑی نعمت اور بہت بڑی کامیابی ہے ، اور اس پر مزید کہ آباء ، ازواج اور اولاد بھی ساتھ ہوں۔ یہ مزید نعمت ہے۔ اس سے اس بات کا مظاہرہ ہوتا ہے کہ مومنین جنت میں بھی اکٹھے خاندانی نظام کی شکل میں ہوں گے۔ یہ ایمان ہے جو اباء ، ازواج اور اولا کے درمیان اکٹھ پیدا کرتا ہے ، اگر ایمان نہ ہوتا تو یہ رشتے کٹ جاتے۔ اور اس فقرے پر جو آخری نتیجہ مرتب ہوتا ہے۔
انت العزیز الحکیم (40: 8) ” تو قادر مطلق اور حکیم ہے “۔ اس میں ایک طرف قوت ہے اور دوسری طرف حکمت۔ بندوں کے معاملے میں کوئی فیصلہ قوت اور حکمت کے سوا نہیں ہوسکتا۔
وقھم السیاٰت ۔۔۔۔ العظیم (40: 9) ” اور بچا دے ان کو برائیوں سے ' جس کو تو نے قیامت کے دن برائیوں سے بچا دیا اس پر تو نے بڑا رحم کیا ، یہی بڑی کامیابی ہے “۔ جنت میں داخل ہونے کی دعا کے بعد یہ دعا کہ ان کو برائیوں سے بچا ، یہ توجہ دلاتی ہے کہ ذرا غور کرو کہ یہ سیئات اور برائیاں ہی ہیں جو ان کا ارتکاب کرنے والوں کو برباد کرتی ہیں۔ اور یہ بربادی آخرت میں ظاہر ہوتی ہے ۔ یہی جہنم رسید کرتی ہیں۔ جب اللہ نے مومنین کو برائیوں سے بچالیا تو وہ جہنم سے ہی بچ گئے اور برے نتائج سے بھی ۔ یہی رحمت خداوندی کا عروج ہوگا اس مشکل وقت میں ۔ اور
وذٰلک ھوالفوز العظیم (40: 9) ” یہی بڑی کامیابی ہے “۔ کہ کوئی برائیوں سے بچ جائے۔
ایک طرف عرش کے حاملین اپنے مومنین بھائیوں کے لیے دعا گو ہیں ، دوسری جانب کفار کی حالت یہ ہے کہ وہ سخت مصیبت میں پھنس گئے ہیں ، کسی مدد گار کی تلاش میں ہیں اور کوئی مددگار نہیں ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے اور پوری کائنات کے درمیان کوئی ربط نہیں رہا ہے۔ ہر طرف سے ان پر پھٹکار اور لعنت و ملامت ہے۔ دنیا کے استکبار کے بعد اب یہاں وہ سخت ذلت میں ہیں۔ اور بےیار مددگار ہیں ، لیکن پھر بھی موہوم امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ، لیکن کہاں ہے منزل مراد !
Ayahs 40:10–12آیت نمبر 10 تا 12
لمقت کا مفہوم ہے بہت شدید ناپسندیدگی۔ ان کو سب مخلوق خدا ہر طرف سے یہ پکارے گی ، کی بدبختو تمہیں رسول اللہ ﷺ ، ایمان کی پکار دے رہے تھے اور تم ناحق انکار کرتے تھے۔ اور اللہ تم پر بہت ناراض ہوتا تھا۔ اور تمہارے رویے کو بہت ناپسند فرماتا تھا ، جس طرح آج تمہیں حقیقت معلوم ہوئی ہے تو تم اپنے رویے کو ناپسند کرتے ہو لیکن تم سے تو وقت چلا گیا ہے۔ تم نے کفر کیا ، ایمان سے منہ موڑا اور تم سے ایک عظیم دولت چلی گئی۔ پوری کائنات کی جانب سے یہ علامت آرہی ہوگی اور یہ ان کے لیے سخت سوہان روح ہوگی۔ اس برے دن میں کسی تسلی کے بجائے ہر طرف سے مزید ملامت۔ اب تو دھوکے اور گمراہی کے پردے آنکھوں کے سامنے سے ہٹ گئے ہیں۔ اور جانتے ہیں کہ نجات کی جگہ اب صرف ذات باری ہے۔ لہٰذا گڑگڑاتے ہیں :
قالوا ربنآ۔۔۔۔۔ من سبیل (40: 11) ” وہ کہیں گے ” اب ہمارے رب ، تو نے واقعی ہمیں دو دفعہ زندگی دے دی ، اب ہم اپنے قصوروں کا اعتراف کرتے ہیں ، کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے ؟ “ یہ ایک نہایت ہی بدحال ، مایوس اور بدبخت کی درخواست ہے ، اب تو وہ کہتے ہیں ” اے ہمارے رب “ اور اس وقت وہ رب کا انکار کرتے تھے ، تو نے پہلی مرتبہ ہمیں زندگی دی ۔ مردے میں روح ڈالی ، وہ زندہ ہوگیا۔ پھر مرنے کے بعد دوبارہ زندگی دی اور اب ہم میدان حشر میں ہیں ۔ اس لیے تو اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ ہمیں موجودہ مصیبت سے نکال دے۔ اب تو ہم نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا ہے۔
فھل الیٰ خروج من سبیل (40: 11) ” کیا نکلنے کا کوئی راستہ ہے “۔ یہ ہے سرزنش جس سے ان کی بےتابی ، مایوسی اور تلخی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کڑے وقت میں ان کو یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ تمہارے اس برے انجام کا اصل سبب کیا ہے :
ذٰلکم بانه۔۔۔۔ الکبیر (40: 12) ” یہ حالت جس میں تم مبتلا ہو ، اس وجہ سے ہے کہ اکیلے اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم مان نے سے انکار کردیتے تھے اور جب اسکے ساتھ دوسروں کو ملایا جاتا تو تم مان لیتے تھے۔ اب فیصلہ اللہ بزرگ و برتر کے ہاتھ ہے ، میں ذلیل کرنے والے انجام تک تمہیں یہ بات لائی ہے کہ تم عقیدۂ توحید کا انکار کرتے تھے۔ اور عقیدۂشرک کو مان لیتے تھے۔ لہٰذا اب فیصلہ اللہ وحدہ کے ہاتھ میں ہے جو علی اور کبیر ہے۔ فیصلے کے حوالے سے یہ دونوں مناسب صفات ہیں۔ کوئی فیصلہ وہی شخص کرسکتا ہے جو بزرگ ہو اور برتر مقام رکھتا ہو اور اللہ تو ہر چیز پر برتر ہے اور ہر چیز سے بڑا ہے ، خصوصاً قیامت کے دن۔
یہاں اللہ کی صفات علی وکبیر کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے اور مومنین کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس علی وکبیر کی بارگاہ میں
دعا کرو اور توحید کا عقیدہ اپنا کر نظام زندگی بھی اسی کا اپنا لو ، یہاں قیامت کے فیصلے کی گھڑی سے بھی ڈرایا جاتا ہے جہاں اللہ واحد
وقہار کے پاس سب اختیارات ہوں گے اور وہ بہت ہی بلندو برتر ہے۔
Ayahs 40:13–17آیت نمبر 13 تا 17
ھوالذی یریکم اٰیٰته (40: 13) ” وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے “۔ اور اللہ کی نشانیاں تو اس کائنات کی ہر چیز میں نظر آتی ہیں۔ شمس وقمر کی گردش میں ، رات اور دن کے نظام میں۔ رعد وبرق اور بارو باراں میں ، ذرے ، خلیے ، پتے اور پتیوں میں عرض ہر چیز میں ایک معجزانہ نشانی ہے اور اس نشانی کی عظمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اس کی نقل کرنے کے لیے بیٹھے۔ یا اس جیسی کوئی چیز بنائے لیکن اے کاش کہ وہ اس قسم کی کسی چیز کی نقل کرسکتا یا اس جیسی ہی بناسکتا اور اللہ کی بنائی ہوئی ایک نہایت ہی چھوٹی چیز ہی بناسکتا۔
وینزل لکم من السمآء رزقا (40: 13) ” اور آسمانوں سے تمہارے لیے رزق نازل کرتا ہے “۔ لوگوں کو صرف بارش کے بارے میں علم ہے جس کی وجہ سے اس زمین پر زندگی قائم ہے ، اور یہ کھانے وپینے کے تمام اسباب فراہم کرتی ہے اور آسمانوں سے نازل ہونے والی دوسری اشیاء بھی بیشمار ہیں جن کے انکشافات روز ہوتے رہتے ہیں ، ان میں وہ شعاعیں ہیں جو زندگی بخشتی ہیں کہ اگر وہ نہ ہوں تو زمین کے اس ستارے پر زندگی نہ ہوتی اور یہ بھی انسان کے لیے ایک ذہنی اور روحانی غذا ہے جو آدم (علیہ السلام) سے نازل ہوتی چلی آرہی ہے اور جس کے ذریعے انسان سے بچنے سے آگے بڑھ کر بالغ ہوگیا ہے۔ اور اب نبوت محمدی ﷺ کی وجہ سے صراط مستقیم پر گامزن ہوگیا ہے۔ اور اس رزاق نے اسے منہاج حیات دیا ، اور اس کائنات کا مستقل قانون عطا کیا۔
وما یتذکر الامن ینیب (40: 13) ” سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ سے رجوع کرنے والا ہو “۔ جو شخص اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ اللہ کا فضل وکرم کس قدرعظیم ہے اور وہ اس کائنات میں اللہ کی نشانیوں کو پاتا ہے جبکہ غافل اور سخت دل ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔۔۔۔ انابت کی وجہ سے اہل ایمان کے دل میں جو یاد الہٰی پیدا ہوتی ہے ، اور وہ ان نشانیوں پر غور وفکر کرتے ہیں ، اس کے حوالے سے مسلمانوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ وحدہ کو پکاریں ، اسی کا طے کردہ نظام زندگی جاری کریں اور کافروں کی ناپسندیدگی کی کوئی پرواہ نہ کریں۔
اگر مومنین اپنا دین اللہ کے لیے خالص کردیں اور صرف اسلامی نظام زندگی نافذ کردیں تو اس صورت میں کافران سے کبھی ناراض نہیں ہوسکتے ۔ اسی طرح وہ اگر اللہ وحدہ کو پکاریں تو بھی کافر راضی نہیں ہوسکتے۔ مومنین کافروں کے ساتھ جس قدر نرمی بھی کریں ، جس قدر مصالحت بھی کریں اور ان کی رضا جوئی کے لیے جس قدر جتن بھی کریں وہ ان سے راضی نہیں ہوسکتے ۔ لہٰذا مومنین کو بےخطر اپنے راستے پر گامزن ہوجانا چاہئے ۔ رب واحد کو پکارنا چاہئے ، اس کے لیے عقیدہ خالص اختیار کرنا چاہئے۔ دلوں کو اللہ کی طرف متوجہ کرنا چاہئے ، چاہے کافر خوش ہوں یا خفا ہوں وہ تو کبھی راضی نہ ہوں گے۔
اب بتایا جاتا ہے کہ اس اللہ کی صفات کیا ہیں جس کی عبادت کی طرف اہل ایمان متوجہ ہوں گے اور اس پر کافر ناپسندیدگی کا اظہار کریں گے۔ وہ صفات یہ ہیں :
رفیع الدرجٰت۔۔۔۔۔ من عبادہ (40: 15) ” وہ بلند دوجوں والا ہے ، مالک عرش ہے ، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اپنے حکم سے روح نازل کردیتا ہے “۔ اللہ ہی رفعتوں والا اور عالی مقام ہے۔ اور وہ ایک ایسے عرش کا مالک ہے جو قابض ہے پوری کائنات پر اور بہت ہی بلند ہے اور یہ وہی ہے جو اپنے بندے پر روحانی تعلیمات نازل کردیتا ہے۔ اور ان کی وجہ سے یہ زمین دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس میں بسنے والے انسانوں کی روح اور دل زندہ ہوجاتے ہیں۔ اس سے مراد وحی اور رسالت ہے۔ لیکن انداز تعبیر سے یہ بتانا مقصود ہے کہ وحی اور رسالت کی غرض وغایت کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وحی لوگوں کے لیے روح اور زندگی ہے۔ اور پھر بلندیوں سے چنے ہوئے بندوں پر آتی ہے۔ یہ سب صفات اور سائے اور رنگ اللہ کی اس صفت کے ساتھ متناسب ہیں جن میں کیا گیا ہے کہ وہ العلی الکبیر ہے۔ اب جن لوگوں کو چنا جاتا ہے اور ان پر روح نازل کی جاتی ہے۔ ان کا فریضہ منصبی کیا ہے ؟ صرف لوگوں کو متنبہ کرنا۔
لینذریوم التلاق (40: 15) ” تاکہ وہ ملاقات کے دن سے خبردار کردے “۔ اس دن تمام لوگ باہم ملیں گے ، لوگ اپنے اعمال کے ساتھ دوچار ہوں گے۔ لوگ ملائکہ ، جنوں اور تمام مخلوقات سے ملیں گے اور تمام لوگوں کو بھی باری تعالیٰ سے ملنا ہوگا اور حساب دینا ہوگا۔ گویا یہ دن اپنے تمام مفاہیم کے ساتھ یوم التلاق ہے۔ پھر یہ ایسا دن ہوگا کو کھلا ڈھلا ہوگا ، کوئی پردہ ، کوئی ملع کاری اور کوئی دھوکہ بازی اس میں نہ چلے گی :
یوم ھم۔۔۔۔ شئ (40: 16) ” وہ دن جبکہ سب لوگ بےپردہ ہوں گے ، اللہ سے ان کی کوئی بات چھپی ہوئی نہ ہوگی “۔ اور اللہ سے تو کسی بھی وقت ، کسی بھی دن جبکہ سب لوگ بےپردہ ہوں گے ، اللہ سے ان کی کوئی بات چھپی ہوئی نہ ہوگی “۔ اور اللہ سے تو کسی بھی وقت ، کسی بھی دن اور کسی بھی حال میں کوئی شئ مخفی نہیں ہوتی ، لیکن دوسرے دنوں میں ، اس دنیا کے دنوں میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مخفی ہیں اور ان کے اعمال اور حرکات پوشیدہ ہیں ، آج لوگ خود بھی یہ سمجھیں گے کہ اب تو سب کھل گیا ہے ، ان کا سیاہ وسپید سامنے ہے۔ اور پردے غائب ہیں اور وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہیں۔
آج تو مکذبین اور متکبرین برخوردار ہوں گے ، سکڑے اور سمٹے ہوئے ہوں گے۔ تمام کائنات سہمی ہوئی ہوگی ، لوگ ڈرے ہوئے ہوں گے۔ بادشاہت صرف اللہ وحدوقہار کی ہوگی۔ اللہ تو ہر وقت وحدہ بادشاہ ہے لیکن پہلے لوگوں کو اللہ کی بادشاہت نظرنہ آتی تھی۔ آج ان کا دل دماغ تسلیم کرتا ہے کہ بادشاہت اللہ کی ہے۔ ہر متکبر اور ہر متکبر بھی جان جائے گا کہ بادشاہ صرف اللہ ہے ۔ ہر قسم کی شور وغوغا اس دن ختم ہوگی اور ایک عظیم القدر اور صاحب جلالت آواز آئے گی۔ خود ہی سوال کرے گی اور خود ہی
جواب دے گی پوری کائنات میں آج جواب دینے والا ہی کوئی نہیں ہے۔
لمن الملک۔۔۔ القھار (40: 16) ” آج بادشاہی کس کی ہے ؟ اللہ واحد قہار کی “۔
الیوم تجزٰی۔۔۔۔ الحساب (40: 17) ” آج ہر متنفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا ، جو اس نے کی تھی ، آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے “۔ آج کا دن جزائے حق کا دن ہے۔ آج عدل کا دن ہے ، آج فیصلے اور حکم سنانے کا دن ہے۔ کوئی مہلت کسی کے لیے نہیں اور نہ سست روی ہے۔
فضا پر رعب اور خاموشی چھا جاتی ہے۔ لوگوں پر خشوع اور خوف طاری ہوجاتا ہے ، تمام مخلوق بات سنتی ہے اور سہم جاتی ہے۔ تمام معاملات طے کردیئے جاتے ہیں اور تمام دفاتر لپیٹ لیے جاتے ہیں ، بڑی تیزی میں ۔ سورت کے آغاز میں کہا گیا تھا کہ جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔
فلایغررک تقلبھم فی البلاد (40: 4) ” شہروں میں ان کی چلت پھرت تمہیں دھوکہ نہ دے۔ یہاں بتادیا کہ زمین میں ان کی اس چلت پھرت کا ، ان کی سربلندی اور ناحق بڑائی کا ، ان کی جباری وقہاری کا ، اور ان کی دولت وسازو سامان کا یہ انجام ہے کہ مارے خوف کے سہمے ہوئے ہیں ، بات تک نہیں کرسکتے۔
اب روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی طرف مڑجاتا ہے کہ اپنی قوم کو اس سخت دن سے ڈرائیں ۔ ایک منظر پیش کیا جاتا ہے جس میں فیصلے کے اختیارات صرف اللہ کے ہیں ، جبکہ اس سے قبل ان کے اس دن کے حالات حکایتی انداز میں بیان کیے گئے تھے اور اس میں ان کو بات کرنے کی کوئی اجازت نہ تھی۔
Ayahs 40:18–20آیت نمبر 18 تا 20
آزفہ کے معنی ہوتے ہیں قریبہ ، جلدی آنے والی ، معنی ہے قیامت ۔ یہ لفظ قامت کی تصویر اس طرح کھینچ رہا ہے کہ گویا وہ پہنچنے ہی والی ہے۔ انسانی سانس تیز ہوگا ، لوگ ہانپ رہے ہوں گے۔ اور کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے اور لوگوں پر بہت بڑا دباؤ ہوگا لیکن یہ پریشان دل لوگ دباؤ کا مقابلہ کرنے کی سعی کریں گے۔ سانس کی تیزی کو روک رہے ہوں گے۔ دورپر قابو پانے کی سعی کریں گے ، خوف کو چھپائیں گے۔ اور اس برداشت کی وجہ سے ان پر مزید دباؤ ہوگا ، ان کے سینے پھٹ رہے ہوں گے۔ کوئی دوست نہ ہوگا جس کے سامنے سینہ کھول کر رکھ دیں اور وہ ہمدردی کرے ، کوئی سفارشی نہ ہوگا جو ان کے حق میں کوئی بات کرے۔ اس
قدر خوفناک اور کربناک مقام پر کوئی کیا بات کرسکتا ہے۔ ان کے راز اس دن کھلیں گے ، ان کی کوئی بات اللہ سے مخفی نہ ہوگی۔ یہاں تک کہ آنکھوں کے خائن کی کوئی بات بھی مخفی نہ ہوگی اور دلوں کے راز بھی مخفی نہ ہوں گے۔
یعلم خآئنة الاعین وما تخفی الصدور (40: 19) ” اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے ، اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں میں چھپا رکھے ہیں “۔ خائن آنکھیں ہمیشہ اپنی خیانت کو چھپائے رکھتی ہیں۔ لیکن اللہ پر تو کوئی بات مخفی نہیں ہوتی ، نہ دلوں کا راز مخفی ہوتا ہے ، اللہ تو سب کچھ جانتا ہے۔ اس دن صرف اللہ ہی فیصلے کرے گا۔ یہ سچے فیصلے ہوں گے۔ لوگوں کو الٰہ بنارکھا ہے ، ان کا کوئی اختیار نہ ہوگا اور نہ وہ فیصلہ کرسکیں گے۔
واللہ یقضی۔۔۔۔ بشئ (40: 20) ” اور اللہ ٹھیک ٹھیک بےلاگ فیصلے کرے گا۔ رہے وہ جن کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کا بھی کرنے والے نہیں ہیں “۔ اللہ حق کے فیصلے علم ومہارت سے کرتا ہے۔ وہ دیکھ سن کر فیصلے کرتا ہے۔ نہ کسی پر ظلم کرتا ہے اور نہ کوئی چیز بھولتا ہے۔
ان اللہ ھو السمیع البصیر (40: 20) ” بلاشبہ اللہ ہی سب کچھ دیکھنے اور سننے والا ہے
Ayahs 40:21–22درس نمبر 224 ایک نظر میں
اس سے قبل ہم اس سبق پر اجمالی تبصرہ کر آئے ہیں ۔ تفصیلی تشریح سے قبل یہ بات قابل ملاحظہ ہے کہ یہاں یہ قصہ سورت کے موضوع کی مناسبت سے لایا گیا ہے۔ اور اس سورت کے انداز بیان کے ساتھ ہم آہنگ کرکے لایا گیا ہے ، بلکہ بعض اسی سورت کے فقروں ہی کو استعمال کیا گیا ہے۔ اور ایک ہی انداز بیان اختیار کیا ہے۔ مثلاً رجل مومن فرعون کے سامنے جو تقریر کرتا ہے ، اس کے بعض فقرے اس سے قبل اسی سورت میں موجود ہیں۔ وہ فرعون ، ہامان اور قارون کو نصیحت کرتا ہے کہ تم لوگ زمین میں چلت پھرت رکھتے ہو ، نیز ان کو وہ ایک ایسے دن سے ڈراتا ہے جو دوسری اقوام کو پیش آیا۔ اور وہ ان کو قیامت کے دن سے بھی اسی طرح ڈراتا ہے۔ جس طرح اس سے قبل سورت میں قامت کے مشاہد ذکر ہوئے۔ یہ اس بات کو دہراتا ہے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوگا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔ اللہ کی ناراضگی کا ذکر ، اہل ایمان کی ناراضی جسطرح پہلے سبق میں ذکر ہوئی۔ اسکے بعد جہنم میں ان کا منظر ، جہاں سے وہ نکالے جانے کی درخواست کرینگے لیکن منظور نہ ہوگی جیسا کہ ایسا ہی منظر اس سے پہلے ذکر ہو۔
رجل مومن کی پوری تقریر اس سورت کے مضامین کو دہراتی ہے اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان سب کے سب ایک طرح سوچا کرتے ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس تقریر سے سورت کی فضا یک رنگ ہوجاتی ہے۔ اس سورت کی ایک شخصیت سامنے آتی ہے جس کے خدوخال واضح ہیں اور یہ وہ خصوصیت ہے جو پورے قرآن میں پیش نظر رکھی گئی ہے۔
درس نمبر 224 تشریح آیات
آیت نمبر 21 تا 22
یہ آیات قصہ موسیٰ اور سورت کے سابقہ مضامین کے درمیان پل کا کام دے رہی ہیں۔ مشرکین مکہ کو یاد دلاتی ہیں کہ تم ذرا ان تاریخی واقعات پر غور کرو اور ان سے عبرت حاصل کرو جو تمہارے گردوپیش ہی میں واقع ہوئے۔ زمین کے اندر پھرو اور گزشتہ اقوام کی ہلاکت کے واقعات پر غور کرو ، جنہوں نے سچائی کے مقابلے میں وہی رویہ اختیار کیا تھا جو تم نے اختیار کررکھا ہے۔ وہ قوت کے اعتبار سے اور زمین کے اوپر آثار چھوڑنے کے اعتبار سے تمہارے مقابلے میں زیادہ قوی تھے لیکن اپنی اس زبردست تہذیب و تمدن کے باوجود اللہ کے عذاب کے مقابلے میں بےبس تھے۔ اپنے گناہوں کی وجہ سے وہ قوت کے اصلی مرکز سے دور ہوگئے تھے۔ چناچہ ان کے گناہوں نے اہل ایمان کو دعوت دی کہ وہ ان کی ہلاکت کے لیے اٹھیں جن کے ساتھ اللہ عزیز وقہار کی قوتیں معاون مددگار تھیں۔
فاخذھم ۔۔۔۔ من واق (40: 21) ” مگر اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑلیا اور ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا “۔ کیونکہ بچانے والی چیز ایمان اور عمل صالح ہوتی ہے۔ اور اس سے وہ محروم تھے ۔ پھر بچانے والی چیز یہ ہوتی ہے کہ انسان ایمان عمل صالح اور سچائی کے محاذ کے ساتھ ہو لیکن وہ تو تکذیب کرنے والے اور اللہ کی نشانیوں کو جھٹلانے والے تھے اور ان چیزوں اک انجام بربادی اور ہلاکت کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔
ذٰلک بانھم۔۔۔۔۔ العقاب (40: 22) ” یہ ان کا انجام اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول بینات لے کر آئے اور انہوں نے ماننے سے انکار کردیا۔ آخر کار اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔ یقیناً وہ بڑی قوت والا اور سزا دینے میں بہت سخت ہے “۔
اس اصولی اور کلی اشارے کے بعد اب اللہ تعالیٰ ایسی اقوام میں سے ایک نمونہ پیش فرماتا ہے۔ یہ لوگ مشرکین ن کہ سے بہت قوی تھے اور انہوں نے زمین پر بہت سے آثار چھوڑے تھے۔ ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ نے انہیں پکڑلیا۔ یہ تھے فرعون ، قارون اور ہامان۔ اور ان کے ساتھ بڑے بننے والوں کے ٹولے بھی تھے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قصہ کئی حصوں اور مناظر پر مشتمل ہے۔ آغاز اس مقام سے ہوتا ہے جہاں حضرت موسیٰ فرعون کے سامنے اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں اور اس کا انجام اس پر ہوتا ہے کہ آخرت میں جہنم رسید ہوکر وہ آگ میں باہم لڑتے ہیں۔ یہ بہت ہی طویل سفر ہے لیکن یہاں اس طویل سفر کی جھلکیوں پر اکتفاء کیا گیا ہے اور یہ جھلکیاں اس قصے کے وہ تمام حصے دکھا دیتی ہیں جو یہاں مطلوب ہیں۔
Ayahs 40:23–24آیت نمبر 23 تا 24
یہ ہے فرعون کے ساتھ ملاپ۔ حضرت موسیٰ بمعہ معجزات کھڑے ہیں اور ان کے ساتھ وہ ہیبت بھی ہے جو ہر سچائی کے ساتھ ہوتی ہے اور سچائی ان کے ہاتھ میں ہے۔ فرعون ، ہامان اور قارون بھی موجود ہیں۔ ان کے ساتھ ان کا کھوٹا اور باطل موقف ہے اور ان کے ساتھ ان کی ظاہری قوت ہے اور وہ مقام و مرتبہ ہے جس کے چلے جانے کا ان کو بہت ڈر ہے ، یہ لوگ سچائی کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ چناچہ یہ اب باطل بحث ومباحثے میں پڑگئے ہیں۔ چناچہ وہ کہتے ہیں سحر کذاب (40: 24) ” جادو گر ہے جھوٹا ہے “۔
یہاں اب قصے میں سے وہ تمام حصے کاٹ دیئے جاتے ہیں ، جو اس مباحثے کے بعد پیش آئے۔ جادو گروں کے ساتھ مقابلے کا حصہ بھی کٹ جاتا ہے ، جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے سب باطل جادوٹونوں کو عصائے موسوی چاٹ گیا تو وہ ایمان لاتے ہیں تو یہ سب حصے کاٹ کر فرعونیوں کے وہ اقدامات لائے جاتے ہیں جو انہوں نے میدان میں ہارنے کے بعد کیے۔
Ayah 40:25آیت نمبر 25
یہی انداز ہمیشہ سب سرکشوں کا ہوتا ہے جب ان سے دلیل وحجت کے ہتھیار ختم ہوتے ہیں تو وہ تشدد کے ہتھیار تھام لیتے ہیں ، جب بھی دلائل کے اعتبار سے وہ ذلیل ہوتے ہیں اور ان کو یہ خوف لاحق ہوتا ہے کہ حق تو غالب آنے والا ہے کیونکہ اس کی بات صاف ، زور دار ہے۔ واضح اور قابل فہم ہے ، اور دل لگتی اور فطرت کو اپیل کرتی ہے ، جس طرح جادوگروں کی فطرت نے قبول کرلیا ، وہ ایمان لے آئے حالانکہ وہ مقابلے کے لیے لائے گئے تھے۔ انہوں نے حق کو قبول کرکے فرعون کا مقابلہ شروع کردیا حالانکہ وہ بہت بڑا جبار تھا۔ اس پر تبصرہ نہایت برمحل ہے ” کافروں کی چال اکارت گئی “۔ اب فرعون اور ہامان اور قارون کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا :
اقتلوآ۔۔۔ ھم (40: 25) ” جو لوگ ایمان لاکر اس کے ساتھ شامل ہوئے ہیں ان کے لڑکوں کو جیتا چھوڑدو “۔ فرعون نے اس قسم کا حکم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے زمانے میں کیا تھا۔ ہو سکتا کہ اس سے پہلے فرمان کے صدور کے بعد یہ ہوا کہ جس فرعون نے یہ حکم جاری کیا تھا وہ مر گیا ہو ، اور اس کا بیٹا اور ولی عہد فرعون مقرر ہوگیا ہو اور جدید عہد میں یہ ظالمانہ فرمان مردہ قانون ہوگیا ہو ، اور حضرت موسیٰ جب آئے اور انہوں نے فرعون کو دعوت دی تو وہ آپ کو جانتا تھا کیونکہ آپ کی تربیت تو شاہی محل میں ہوئی تھی۔ اور یہ جدید فرعون یہ بھی جانتا تھا کہ سابقہ حکومت نے ایک فرعون بنی اسرائیلی کے خلاف جاری کیا تھا کہ ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑو اور مردوں کو قتل کردو ، یوں اس کے حاثیہ نشینوں نے یہ مسورت دیا ہو کہ موسیٰ پر جو لوگ ایمان لائے ہیں ان پر وہی فرمان دوبارہ نافذ کیا جائے ، چاہے وہ جادوگر مصری ہوں یا بنی اسرائیل ہوں یا اور لوگ ہوں جنہوں نے موسیٰ کی دعوت کو قبول کرلیا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرعون وہی ہو جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پالا تھا لیکن اس کے سابقہ فرمان میں قدرے نرمی کردی گئی ہو اور اس قانون کے نفاذ میں شدت نہ رہی ہو اور اب یہاں اس کے مشیروں نے ازسرنو مسورت دیا ہو کہ اس قانون کو صرف ان لوگوں پر نافذ کیا جائے جو حضرت موسیٰ پر ایمان لائے ہوں تاکہ ان کو ڈرایا جاسکے۔ رہا فرعون تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رائے اور تھی۔ وہ یہ کہتا تھا کہ موسیٰ تمہارا دین بدل دے گا اور ملک کا امن وامان تباہ ہوجائے گا لہٰذا مجھے اجازت دو کہ میں موسیٰ سے تمہاری جان چھڑادوں۔
Ayah 40:26آیت نمبر 26
اس کے اس قول سے ذرونی اقتل موسیٰ (40: 26) ” چھوڑو مجھے ، میں اس موسیٰ کو قتل کروں “ سے معلوم ہوتا ہے ، اس کے حاشیہ نشینوں کی جانب سے حضرت موسیٰ کے قتل کے خلاف دلائل دیئے جارہے تھے کہ اگر آپ موسیٰ کو قتل کر بھی دیں تو مسئلہ ختم نہ ہوگا ، جمہور عوام انہیں شہید سمجھ کر اسے ایک مقدس شخصیت قرار دیں گے۔ اس طرح لوگ شعوری طور پر ان کے دین کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہون ، خصوصاً جبکہ ایک قومی میلے کے دن جادوگر اس پر ایمان لاچکے ہیں اور انہوں نے اپنے ایمان کی وجہ بھی لوگوں کو بتادی ہے۔ حالانکہ جادوگروں کو جمع اس لیے کیا گیا تھا کہ اس کے دین کو باطل ثابت کریں اور یہ بھی ممکن ہے کہ بادشاہ کے بعض مشیر دل ہی دل میں ڈرگئے ہوں کہ حضرت موسیٰ کا خدا ان سے انتقام لے گا۔ اور وہ خدا کی پکڑ میں آجائیں گے ، یہ بات بعید ازامکان نہیں ہے کیونکہ بت پرست تو متعدد الہوں کے قائل ہوتے تھے۔ اور وہ قدرتی طور پر سوچ سکتے تھے کہ موسیٰ کا خدا ان سے انتقام لے۔ اور فرعون کا یہ قول کہ ولیدع ربه (40: 26) ” اور یہ اپنے رب کو بھی پکار دیکھے “۔ اگرچہ بظاہر فرعون کی ایک متکبرانہ بات ہے۔ لیکن شاید یہ ان مشیروں کے رد میں ہو اور اسی متکبرانہ بات کی وجہ سے بعد میں اسے اللہ نے پکڑا اور ہلاک کردیا۔ جیسا کہ بعد میں آئے گا۔ یہ بات بڑی دلچسپ ہے جو فرعون نے حضرت موسیٰ کے قتل کے جواز کے بارے میں کہی۔
انی اخاف۔۔۔۔ الفساد (40: 26) ” مجھے ڈر ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا یا زمین میں فساد برپا کردے گا “۔ فرعون کی اس دلیل پر غور ضروری ہے۔ کیا ایک بت پرست بادشاہ کی یہ بات کوئی نئی بات ہے کہ مجھے ڈر ہے کہ یہ تمہارا دین بدل دے گا ، یا کم ازکم ملک میں فساد ضرور برپا کردے گا۔
یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر سرکش اور مفسد ہمیشہ یہی کہتا ہے ، جب بھی کسی نے اسلام کی اصلاحی دعوت شروع کی ہے۔ مفسدین نے یہی بات کہی کہ انہوں نے اصلاح کو فساد کہا ، ہمیشہ اہل ایمان داعیوں اور مصلحین کے بارے میں مطلب برست سرکشوں اور مفسدوں نے عوام کے سامنے یہی عذر پیش کیا۔
جب بھی حق و باطل کے درمیان کشمکش شروع ہوئی ، باطل کی منطق اور استدلال یہی رہا۔ ایمان اور کفر کی جنگ میں یہی منطق چلتی رہی۔ ہر زمان ومکان میں اور تاریخ کے ہر دور میں اصلاح کو فساد اور فساد کو اصلاح کہا گیا۔ عرض یہ قدیم کہانی ہے اور اسے باربار دہرایا جاتا ہے۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے تھے۔ ان کا بھروسہ نہایت مضبوط قوت پر تھا۔ وہ حصن حصین میں محفوظ تھے اور انہوں نے اس ذات کے ہاں پناہ لے رکھی تھی جہاں ہر سرکش متکبر سے بھاگ کر لوگ پناہ لیتے ہیں۔
Ayah 40:27آیت نمبر 27
حضرت موسیٰ نے یہ بات کہہ دی اور مطمئن ہوگئے اور اپنی حفاظت کا معاملہ اس ذات کے سپرد کردیا جو ہر متکبر سے بلند ہے۔ ہر جبار کے اوپر ہے اور تمام دوسرے جباروں سے بھاگ کر اس کی پناہ میں آنے والوں کی حفاظت کرتا ہے۔ حضرت نے یہ کہا کہ وہ اس رب کی پناہ میں ہیں جو خود میں ہیں جو خود ان کافروں کا بھی رب ہے اور ہمارا بھی رب ہے ، اللہ نے ہمیں بھلا نہیں دیا اور نہ فرعون کی دھمکیوں کے مقابلے میں بےسہارا چھوڑدیا ہے۔ یہ لوگ تو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتے ۔ اس لیے یہ زمین میں اپنی کبریائی قائم کرتے ہیں۔ کوئی شخص جو قیامت کی جوابدہی پر ایمان رکھتا ہو وہ متکبر نہیں بن سکتا۔ کیونکہ وہ تصور کرسکتا ہے کہ قیامت کے دن لوگ کس قدر ذلیل ، سہمے ہوئے اور ڈرے ہوئے ہوں گے۔ کوئی قوت اور طاقت اور کوئی سہارا نہ ہوگا ، نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی ہوگا اور نہ کوئی فدیہ دیا جاسکے گا۔
اب یہاں منظر پر خود فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے ایک شخص آتا ہے۔ اس کے دل پر سچائی اثر انداز ہوگئی لیکن اس نے اپنا ایمان ابھی چھپارکھا ہے۔ یہ شخص حضرت موسیٰ کی مدافعت میں آواز بلند کرتا ہے ، کوشش کرتا ہے کہ لوگ حضرت موسیٰ کے قتل سے باز آجائیں۔ یہ اپنی تقریر میں مختلف پہلوؤں سے بات کرتا ہے۔ یہ اپنی ناصحانہ باتیں ان کے دلوں میں اتارنے کی کوشش کرتا ہے ، ان کے اچھے جذبات کو ابھارتا ہے ، ان کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے اور انجام بد سے بھی ڈراتا ہے۔