40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 40:56–60

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ کسی سند وحجت کے بغیر ، جو انکے پاس آئی ہو ، اللہ کی آیات میں جھگڑے رہے ہیں ، ان کے دلوں میں کبر بھرا ہوا ہے ، مگر وہ اس بڑائی کو پہنچنے والے نہیں ہیں جس کا وہ گھمنڈرکھتے ہیں۔ بس اللہ کی پناہ مانگ لو ، وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا پیدا ا کرنا انسان کو پیدا کرنے کی بہ نسبت یقیناً زیادہ بڑا کام ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اور یہ نہیں ہوسکتا کہ اندھا اور بینا یکساں ہوجائیں اور ایماندار و صالح اور بدکار برابر ٹھہریں مگر تم لوگ کم ہی کچھ سمجھتے ہو۔ یقیناً قیامت کی گھڑی آنے والی ہے ، اسکے آنے میں کوئی شک نہیں ، مگر اکثر لوگ نہیں مانتے

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

یقیناً قیامت کی گھڑی آنے والی ہے ، اسکے آنے میں کوئی شک نہیں ، مگر اکثر لوگ نہیں مانتے

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

تمہارے رب کہتا ہے ” مجھے پکارو ، میں تمہاری دعائیں قبول کرونگا ، جو لوگ گھمنڈ میں آکر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں ، ضرور وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہونگے

درس نمبر 225 ایک نظر میں یہ سبق اپنے موضوع اور مضمون کے اعتبار سے پوری طرح سابق سبق سے بالکل مربوط اور یکساں ہے۔ اس سبق میں وہی مضمون آگے چلتا ہے جو پہلے سبق کے آخر میں چھوڑا گیا تھا۔ حضور اکرم ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ لوگ دعوت اسلامی کی جو ناحق تکذیب کرتے ہیں۔ آپ اس پر صبر کریں۔ آپ اس پر صبر کریں۔ وہ آپ کو ایذا دیتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو اسلام کی طرف آنے سے روکتے ہیں ، یہ سب کچھ وہ اپنے جھوٹے فخرو غرور کی وجہ سے کررہے ہیں۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ لوگ بغیر دلیل وبرہان کے اللہ کی آیات میں کیوں جھگڑتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ ہیں تو بہت چھوٹے اور بونے مگر اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں اور یہ کبران کے دلوں میں بیٹھا ہے اور حق کو تسلیم کرنے سے مانع ہورہا ہے۔ چناچہ ان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم بڑے ہو یا اللہ کی بنائی ہوئی یہ کائنات بڑی ہے۔ ذرا آسمانوں کی دوریوں پر غور کرو اور اس زمین پر غور کروم تمہیں نظر آجائے گا کہ تم کتنے بڑے ہو۔ یہ سبق آگے بڑھتا اور اس کائنات کی بعض نشانیوں کو بیان کرتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ دیکھو ان عظیم نشانیوں کو اس چھوٹے اور کمزور انسان کے لیے مسخر کردیا گیا ہے۔ پھر یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ انسانی ذات پر اللہ نے جو فضل وکرم کیے ہیں۔ ذرا ان پر غور کرو ، کیا یہ سب چیزیں اللہ وحدہ کے دجود اور اس کی بادشاہت اور وحدانیت پر مکمل دلیل نہیں ہیں۔ حضور اکرم ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ آپ کلمہ توحید بلند کریں اور ان الہوں سے منہ پھیرلیں جن کی پرستش یہ لوگ کرتے ہیں۔ اس سبق کا خاتمہ ایک ایسے خوفناک منظر کے ساتھ ہوتا ہے جو قیامت کے مناظر میں سے ہے۔ ان کو ذلیل و خوار کرنے کے لیے وہاں ان سے پوچھا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ تمہارے الہہ۔ اور اس کا خاتمہ بھی درس سابق کے خاتمہ کی طرح نبی ﷺ کو اس تلقین پر ہوتا ہے کہ آپ صبر فرمائیں۔ چاہے اللہ آپ کو اسلامی انقلاب کا کچھ دکھاوے ، یا آپ کو اٹھالے۔ قبل اس کے کہ نصرت آئے۔ یہ معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ درس نمبر 225 تشریح آیات آیت نمبر 56 تا 60 یہ انسان بسا اوقات اپنے آپ کو بھول جاتا ہے ، یہ بھول جاتا ہے کہ وہ اس کائنات کی ایک چھوٹی اور ضعیف مخلوق ہے۔ یہ بذات خود قوت کا سرچشمہ نہیں ہے بلکہ یہ اپنی قوت دراصل قوت کے اصلی سرچشمے سے اخذ کرتا ہے ، یعنی اللہ سے۔ جب اللہ سے اس کا رابطہ کٹ جا ات ہے تو پھر وہ پھولنا سوجنا شروع ہوجاتا ہے ، اونچا ہونا اور سرکش ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اور اس کے دل میں یہ بیٹھنا شروع ہوجاتی ہے کہ وہ کوئی بہت بڑی چیز ہے اور اس کی یہ سوچ شیطان سے اخذ ہوتی ہے جو اس کبر ہی کے وجہ سے زاندۂ درگاہ ہوا اور پھر اللہ نے اسے انسان پر مسلط کردیا ، جس پر وہ ہر طرف سے حملہ آور ہوتا ہے۔ یہ انسان پھر اللہ کی نشانیوں کے بارے میں جھگڑتا رہتا ہے اور ہٹ دھرمی کرتا ہے۔ یہ ہٹ دھرمی ایک ایسی صفت ہے جس سے انسان کی فطرت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ اس قسم کا انسان خود اپنے آپ کو اور لوگوں کو یہ یقین دلاتا ہے کہ وہ حق کے لیے تحقیق وتفتیش کررہا ہے اور بحث اس لیے کررہا ہے کہ اسے تسلی نہیں ہوئی۔ اور اسے پوراپورا یقین نہیں ہے لیکن اللہ تو اپنے بندوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ سمیع وبصیر ہے اور دل کے رازوں کا جاننے والا ہے ، یہ اللہ فیصلہ فرماتا ہے کہ یہ کبر کی وجہ سے ہے صرف اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ یہ کبر دل میں جاگزیں ہوتا ہے اور یہ کسی شخص کو ایسے مسئلے میں جھگڑے پر آمادہ کردیتا ہے جو جھگڑے کا ہوتا نہیں ہے۔ یہ کبر ہی ہے جو انسان کو ایسے کاموں میں ہاتھ ڈالنے پر آمادہ کرتا ہے جو انسان کی حقیقت سے زیادہ اونچے ہوتے ہیں ، انسان ایسے مقام تک پہنچنے کی سعی کرتا ہے جو اس سے بلند ہوتا ہے اور انسانی حقیقت سے بالاتر ہوتا ہے۔ انسان کے پاس اس کے لیے نہ دلیل ہوتی ہے اور نہ وجہ جواز۔ صرف اس کبر کی وجہ سے وہ اس طرح کی اونچی پرواز شروع کردیتا ہے ، ایسے ہی لوگ ہیں۔ ان الذین۔۔۔۔ ھم ببالغیه (40: 56) ” حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ کسی سند اور حجت کے بغیر جو ان کے پاس آئی ہو ، اللہ کی آیات میں جھگڑا رہے ہیں ، ان کے دلوں میں کبر بھرا ہے ، مگر وہ اس بڑائی کو پہنچنے والے نہیں ہیں جن کا وہ گھمنڈ رکھتے ہیں “۔ اگر انسان اس کائنات کو اچھی طرح سمجھ لے اور اپنی ذات کی معرفت حاصل کرلے اور اس کائنات میں اپنی حیثیت کا ادراک کرے رو وہ مطمئن ہوجائے اور اپنی حیثیت اور منصب سے آگے نہ بڑھے۔ اگر وہ یہ معلوم کرے کہ وہ ان لاتعداد موجودات میں سے ایک ہے اور جس طرح یہ پوری کائنات امرربی کی پابند ہے ، اس طرح وہ بھی ہے اور وہ بھی اللہ کے نظام قضا وقدر کے مطابق چل رہا ہے جسے صرف اللہ جانتا ہے اور یہ کہ کائنات میں اس کا کردار ایک متعین کردار ہے ، اگر انسان ان حقائق کا ادراک کرے تو وہ مطمئن اور آرام سے بیٹھ جائے اور اس کا سر قدرے جھک جانے اور اس کے اندر تواضع پیدا ہوجانے اور وہ اپنے آپ کے ساتھ ، اس کائنات کے ساتھ اور اپنے ماحول کے ساتھ نہایت امن وسلامتی کے ساتھ رہے۔ فاستعذباللہ انه ھو السمیع البصیر (40: 56) ” پس اللہ کی پناہ مانگ لو وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے “۔ کبر کے مقابلے میں اللہ کی پناہ مانگنے کا مشورہ دینا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ بہت ہی قبیح اور قابل نفرت خصلت ہے۔ کیونکہ اللہ کی پناہ نہایت ہی قبیح اور ناپسندیدہ چیز سے مانگی جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں شروفساد اور اذیت ملتی ہے۔ اور کبر میں یہ سب چیزیں موجود ہیں۔ کبر خود صاحب کبر کے لیے مصیبت ہے اور اس کے ماحول کے لیے بھی مصیبت ہے۔ جس دل میں کبر ہو ، اس کے لیے بھی اذیت ہے اور دوسروں کے دلوں کو بھی دکھانے والی عادت ہے۔ لہٰذا کبر ایک ایسا شر اور فساد ہے جس سے اللہ کی پناہ مانگنا ضروری ہے۔ انه ھو السمیع البصیر (40: 56) ” وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے “۔ کبر انسان کو ایسی حرکات پر آمادہ کرتا ہے جو دیکھی جاسکتی ہیں اور انسان سے ایسی باتیں کرواتا ہے جو سنی جاسکتی ہیں اس سے بچنے کیلیے اپنے آپ کو سننے اور دیکھنے والے کی ولایت میں دے دو ۔ اس کے بعد انسان کو بتایا جاتا ہے کہ اس عظیم کائنات میں اس کا حقیقی مقام کیا ہے ، اور اللہ کی بعض مخلوقات جسے انسان دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں وہ کس قدر چھوٹا اور کمزور ہے۔ اور یہ چیزیں جن کا یہاں ذکر ہورہا ہے۔ سدیکھتے ہی انسان ان کی ضخامت کا قائل ہوجاتا ہے۔ اور جب ان کی پوری حقیقت ان کی سمجھ میں آجائے تو ان کا شعور اور پختہ ہوجاتا ہے۔ لخلق السمٰوٰت۔۔۔۔ یعلمون (40: 57) ” آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کے مقابلے میں یقیناً زیادہ بڑا کام ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں “۔ آسمان اور زمین انسان کے سامنے بچھے ہوئے ہیں اور انسان ان کو دیکھتا ہے۔ اور انسان کی طاقت میں ہے یہ بات کہ وہ ان کے حوالے سے اپنی قدر و قیمت معلوم کرے۔ جب انسان کو اس زمین و آسمان کے حوالے سے اپنی نسبت ، آسمانوں کی دوریاں اور افلاک سماوی کے حجم کا علم ہوتا ہے تو اس کا سرجھک سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اپنی کم مائیگی کے شعور کی وجہ سے وہ پگھل کر رہ جائے الایہ کہ وہ انسان کے اس شرف کو یاد کرے جو اللہ نے اس کے اندر رکھا ہے اور جس کی وجہ سے انسان کو مکرم بنایا گیا ہے۔ وہ واحد صفت ہے جس کی وجہ سے انسان اس کائنات کی عظمت کے سامنے کھڑا ہوسکتا ہے کیونکہ کائنات بہت ہی عظیم اور ہولناک ہے اور وہ بہت ہی چھوٹا ہے۔ اس عظیم کائنات کے اور اوپر ایک لمحہ غور کرنا انسان کو یہ سب کچھ معلوم کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ زمین جس کے اوپر ہم رہتے ہیں۔ یہ سورج کے تابع ستاروں میں سے ایک چھوٹا ساستارہ ہے۔ اس سورج کے تابع ستاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور یہ زمین سورج سے دس لاکھ چھوٹی ہے۔ پھر یہ سورج اس قسم کے سوملین سورجوں میں سے ایک ہے ، جو ہمارے قریب ترین کہکشاں میں ہیں۔ اور ہم بھی اسی کہکشاں میں ہیں ، اور انسانوں نے آج تک سو ملین کہکشاں دریافت کرلیے ہیں جو اس عظیم فضا میں تیر رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ اس فضا کا نہایت ہی چھوٹاحصہ ہوں۔ جہاں تک انسانی معلومات کا تعلق ہے تو انسان نے ابھی تک کائنات کے ایک مختصر اور قابل ذکر حصے کی دریافت کی ہے اور یہ چھوٹا ساحصہ بھی اس قدر بڑا ہے کہ صرف اس کے تصور ہی سے انسان کا سر چکراتا ہے۔ ہم اپنے سورج سے تقریباً 93 ملین میل دور ہیں اور یہ سورج ہماری اس چھوٹی سی زمین کے کنبے کا سرخیل ہے۔ اور یہ زمین بھی اپنی اس ماں کی جھولی سے یعنی سورج سے 93 ملین دور ہے۔ یہ زمین سورج ہی سے جدا ہوئی ہے۔ وہ کہکشاں جس کے تابع یہ سورج ہے ، اس کا قطر تقریباً ایک لاکھ ملین نوری سال ہے۔ اور نوری سال چھ سو ملین میل ہوتا ہے کیونکہ روشنی کی رفتار ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ اور ہماری کہکشاں سے فریب ترین کہکشاں ایک لاکھ سات سو پچاس ہزار نوری سال دور ہے۔ ہمیں یہاں یہ بات پیش نظر چاہئے کہ یہ دوریاں اور حجم وہ ہیں جو اس حقیر انسان نے دریافت کرلیے ہیں اور اس کے ساتھ انسان نے یہ بھی دریافت کرلیا ہے وہ حقیقت کا نہایت ہی چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لخلق السمٰوٰت۔۔۔۔ یعلمون (40: 57) ” آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسان کو پیدا کرنے کی یہ نسبت یقیناً زیادہ بڑا کام ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “۔ اللہ کی قدرت کوئی بات نہ بڑی ہے اور نہ چھوٹی ، نہ مشکل ہے اور نہ آسان۔ وہ تو ہر چیز کی تخلیق ایک کلمہ سے کرتا ہے۔ یہ صفات تو اشیاء کی ہیں۔ لوگ انہیں کم دیکھتے ہیں یا زیادہ ، آسان دیکھتے یا مشکل ۔ پھر انسان اور اس ہولناک سرچکر دینے والی کائنات کی باہم کیا نسبت ہے ؟ اس کم مائیگی کے باوجود پھر انسان کا یہ کبر ! وما یستوی۔۔۔۔ المسیئ (40: 58) ” اور یہ نہیں ہوسکتا کہ اندھا اور بینا یکساں ہوجائیں اور ایماندار اور صالح اور بدکار برابر ٹھہریں “۔ صاحب بصارت تو دیکھتا ہے اور اسے علم ہوتا ہے۔ اور وہ اپنی قدروقیمت بھی جانتا ہے۔ حد سے نہیں گزرتا ، پھولتا نہیں اور نہ تکبر کرتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے ، اندھا نہ دیکھتا ہے اور نہ خود اپنی قدروقیمت جانتا ہے ، نہ اپنی پوزیشن جانتا ہے اور نہ اپنے ماحول کے ساتھ اپنی نسبت کو جانتا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے وہ اپنے بارے میں غلط اندازہ کرتا ہے۔ پھر اپنے ماحول کے بارے میں غلط فیصلہ کرتا ہے۔ اور ان اندازوں کی وجہ سے پھر وہ راہ بھول جاتا ہے۔ اس طرح مومن و صالح اور بدکار برابر نہیں ہوسکتے۔ مومن دیکھنے والے اور جاننے والے ہوتے ہیں۔ لہٰذا وہ اپنا اور اپنے ماحول کا صحیح اندازہ کرتے ہیں ، جبکہ کافر اور بدکار جاہل ہوتے ہیں۔ وہ ہر چیز کو برباد کردیتے ہیں ۔ اپنے آپ کو ، اپنے ماحول کو ، لوگوں کو ، اور سب سے پہلے وہ اپنے عمل اور فہم کو برباد کردیتے ہیں۔ وہ اپنے ماحول کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوسکتے ۔ اندھے ہوتے ہیں ، دلوں کے اندھے۔ قلیلا ماتتذکرون (40: 58) ” مگر تم لوگ کم ہی سمجھتے ہو “۔ اگر ہم سمجھتے تو ہمیں حقیقت معلوم ہوتی۔ بات واضح ہے۔ صرف یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ اگر ہم آخرت پر پختہ یقین رکھتے اور اسے یاد کرتے اور مقامات قیامت کو ذہین میں رکھتے اور وہاں کی حاضری ہمارے ذہین میں ہوتی تو ہم پختہ مومن ہوتے۔ ان الساعة ۔۔۔۔ یومنون (40: 59) ” یقیناً قیامت آنے والی ہے۔ اس کے آنے میں کوئی شک نہیں مگر اکثر لوگ نہیں مانتے “۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ کی آیات میں مجادلہ کرتے ہیں اور کبر کرتے ہیں۔ ورنہ اگر مانتے اور یقین کرتے تو وہ حق کو پہنچانتے۔ وہ جانتے کہ حق کے حوالے سے ان کا کیا مقام ہے۔ اس لیے تجاوز نہ کرتے۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہونا اور بندگی کرنا ، اور نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ کو پکارنا ، انسام کو اس کبر سے بچاتا ہے ، جس کی وجہ سے انسان پھول جاتا ہے اور بغیر حجت کے اللہ کی آیات میں جھگڑا کرنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اپنے دروازے کھولتا ہے تاکہ ہم اس کی طرف متوجہ ہوں اور اس کو پکاریں اور اعلان فرماتا ہے کہ میں ہر پکارنے والے کی پکارکو قبول کرنا اپنے اوپر لکھ دیا ہے۔ اور ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو اللہ کی پکار کے مقابلے میں تکبر کرتے ہیں کہ وہ آگ میں ذلیل و خوار ہوں گے۔ وقال ربکم۔۔۔۔۔ دخرین (40: 60) ” تمہارا رب کہتا ہے مجھے پکارو ، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ جو لوگ گھمنڈ میں آکر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں ، ضرور وہ ذلیل و خوار ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے “۔ یہ یاد رہے کہ دعا کے بھی آداب ہیں اور ان کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ قلب کو اللہ کے لیے خالص ہونا چاہئے ، کوئی صورت متعین کیے بغیر مانگنا چاہئے اور اس یقین کے ساتھ مانگنا چاہئے کہ اللہ ضرور قبول فرماتا ہے۔ قبولیت کے ظروف واحوال اور زمان ومکاں متعین نہ کرنا چاہئے کیونکہ یہ آداب دعا کے سراسر خلاف ہے۔ اور یہ یقین کرنا چاہئے کہ دعاء کی توفیق صرف اللہ ہی دیتا ہے۔ یہ بھی ایک انعام ہے ، قبول ہونا دوسرا انعام ہے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں ” میں استجابت دعا کی پریشانی اٹھا کر نہیں پھرتا ، میری ذمہ داری توبہ ہے کہ دعا کروں۔ جو مجھے یہ توفیق دے دی گئی اور یہ الہام کردیا گیا کہ دعا کرو تو قبولیت ساتھ ہوتی ہے “۔ دعاء تو عارف کے دل کی بات ہوتی ہے ، عارف اس بات کو جانتا ہے کہ جس خدا نے دعا کو مقدر کیا وہی قبولیت کا فیصلہ بھی کرتا ہے۔ جب اللہ توفیق دے تو دعاء اور قبولیت دونوں باہم موافق اور مطابق اور ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ جو لوگ اللہ کی طرف متوجہ ہونے سے کبر کرتے ہیں تو ان کی سزا یہ ہے کہ جہنم میں خوار اور ذلیل کرکے پھینکے جائیں اور کبر کی سزا اللہ کے ہاں یہی ہے جس کی وجہ سے انسان پھولتا ہے۔ ایک چھوٹا سا انسان ، اس چھوٹی سی زمین پر اور اس چھوٹی سی زندگی میں ۔ اور یہ شخص اللہ کی عظیم تخلیق کو بھول جاتا ہے ، اللہ کی عظمت کو بھول جاتا ہے اور آخرت کو بھول جاتا ہے جبکہ یہ آنے والی ہے ، اور وہاں پھرا سے ذلیل و خوار ہوکر جہنم میں گرنا ہوگا۔ جب ان لوگوں کا ذکر ہوا جو اللہ کی بندگی کرنے اور اسے پکارنے سے کبر کرتے ہیں تو اس حوالے سے اللہ کی بعض نعمتوں کا ذکر کردیا گیا۔ وہ نعمتیں جو اللہ کی عظمت کی گواہ ہیں اور اس قسم کے متکبر ان پر اللہ کا شکر نہیں بجالاتے بلکہ اللہ کی عبادت کرنے ، اسے پکارنے اور اس کی طرف متوجہ ہونے سے کبر کرتے ہیں :
Ayahs 40:61–64

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو ، اور دن کو روشن کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ مگر اکثر لوگ شکرادا نہیں کرتے

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

وہی اللہ (جس نے تمہارے لیے یہ کچھ کیا ہے) تمہارا رب ہے ۔ ہر چیز کا خالق۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر تم کدھر سے بہکائے جارہے ہو ؟

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

اسی طرح وہ سب لوگ بہکائے جاتے رہے ہیں جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا اور اوپر آسمان کا گنبد بنادیا۔ جس نے تمہاری صورت بنائی اور بڑی ہی عمدہ بنائی۔ جس نے تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا۔ وہی اللہ (جس کے یہ کام ہیں) تمہارا رب ہے۔ بےحساب برکتوں والا ہے وہ کائنات کا رب ہے

آیت نمبر 61 تا 64 گزرش لیل ونہار تو دو کائناتی مظاہر ہیں جبکہ زمین آسمان دو کائناتی تخلیقات ہیں۔ ان دونوں کو یہاں ذکر کرکے پھر بتایا جاتا ہے کہ اس لیل ونہار اور ارض وسماء کے اندر اللہ نے تمہاری خوبصورت شکلیں پیدا کیں اور پھر تمہارے لیے اس جہاں میں قسم قسم کے رزق پیدا کیے۔ یہ ہے تمہارا رب اور یہ ہیں اس کے کارنامے۔ بڑی ہی برکتوں والا ہے رب العالمین ! وہی زندہ ہے اور اس کے سوا کوئی زندہ نہیں ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل ہے۔ لہٰذا اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھتے ہوئے صرف اسی کی بندگی کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کائناتی مظاہر اور ان تکوینی معافی اور اللہ کی ان تخلیقات کو اللہ کی توحید اور اللہ کے نظام زندگی کے حوالے سے وسیع دائرہ میں پڑھنا ، ان پر تدبر کرنا اور توحید اور شریعت کے ساتھ ان کا ربط پانا ضروری ہے۔ اور یہ دیکھنا کہ اس تکوینی نظام کے درمیان ہم آہنگی کیا ہے۔ یہ کائنات اللہ نے جس اصول پر بنائی ہے ، پھر اللہ نے اسے جس ناموس فطرت کے مطابق چلایا ہے ، وہی اللہ ہے جس نے اس کراۂ ارض پر زندگی کو چلایا ، اس کی ترقی اور نشوونما کا انتظام فرمایا۔ پھر یہ وہی ذات باری ہے جس نے انسان کو اس کی موجود شکل عطا فرمائی جسے ہم دیکھ رہے ہیں۔ اور انسان کی تخلیق اور اس کی حیات کے لیے ضروری امور کو اس کائنات کے اندر ملحوظ رکھا۔ وہی تو ہے جس نے رات کو سکون ، آرام اور راحت کے لیے بنایا۔ اور دن روشن ، دیکھنے کے لیے معاون اور دوڑ دھوپ کے لیے بنایا۔ اور زمین کو زندگی کے قابل اور چلنے پھرنے کے اہل بنایا اور آسمان کو ایک چھت کی طرح بنایا کہ وہ بلندیوں پر سیاروں اور ستاروں کو لیے ہوئے ہے ، جو گرتے نہیں۔ اور جن کی دوریاں بھی باہم ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا کر خلل ڈالتیں۔ اگر ان دوریوں میں پھر فرق پڑجائے تو اس چھوٹے سے کرۂ ارض پر انسان کے وجود کے اندر خلل واقع ہوجائے۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے اس زمین پر پاک خوراک پیدا کی۔ یہ رزق اسی زمین سے پیدا کیا۔ یہ رزق آسمانون سے بارشوں کی شکل میں نازل ہوتا ہے اور لوگ اس سے نفع اٹھاتے ہیں۔ اور انسانی صورتیں کس قدر خوبصورت اور رنگا رنگ ہیں۔ اور پھر وہی ہے جس نے انسان کے اندر وہ صلاحیتیں پیدا کیں جو اس کائنات کے ساتھ متفق ہیں۔ اور یہ صلاحیتیں اس زمین پر رہنے کے لیے کافی ہیں۔ پھر یہ صلاحیتیں اس پوری کائنات کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہیں۔ تو یہ تمام امور باہم مربوط اور موافق ہیں جیسا کہ ہر شخص ملاحظہ کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تمام امور کو قرآن ایک ہی جگہ لیتا ہے۔ اسی ترتیب اور ربط سے لیتا ہے اور ان اموردے وحدانیت پر برہان قاطع پیش کرتا ہے۔ اور ان امور ہی کی روشنی میں قلب انسانی کو دعوت دیتا ہے کہ اللہ وحدہ کو پکارو۔ اور دین اور نظام زندگی صرف اسی کارائج کرو۔ اور آخر میں کہا جاتا ہے ، الحمدللہ رب العالمین ! اور یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ رب العالمین وہی ذات ہوسکتی ہے جس نے ان تمام چیزوں کو اس طرح پیدا کیا۔ یہی ہے الٰہ ، رب العالمین ، لہٰذا تعجب ہے کہ لوگ اس عظیم سچائی سے کس طرح منہ موڑتے ہیں۔ یہاں ہم سرسری طور پر وہ جھلکیاں دیتے ہیں جو خود بتائیں گی کہ اس کائنات کی ساخت میں ، اور انسان کی زندگی کے ساتھ اس کے تعلق میں یہ امور ملحوظ رکھے گئے ہیں۔ اللہ نے یہاں جس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے ، اس سمت میں چند لمحات۔ ” یہ زمین سورج کے سامنے گردش محوری کررہی ہے جس کے نتیجے میں لیل ونہار کا نظام وجود میں آیا ہے ، اگر اپنی گردش کی موجودہ رفتار سے اس کی رفتار قدرے تیز ہوجائے تو تمام مکانات گرجائیں ، اس زمین کے اجزاء ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں اور فضائے آسمانی میں بکھر جائیں “۔ ” اور اگر یہ زمین موجود گردش محوری کی رفتار ذراکم کردے تو لوگ گرمی یا سردی سے ہلاک ہوجائیں۔ زمین کی موجودہ گردش محوری ایسی بنائی گئی ہے کہ یہ اس زمین کے اوپر حیوانی اور نباتاتی زندگی کے ساتھ ہم آہنگ اور ان کے لیے اپنے وسیع معنوں میں مفید ہے “۔ ” اور اگر زمین گردش محوری صرف رک جائے تو بخارات ختم ہوجائیں اور سمندر پانیوں سے خالی ہوجائیں “۔ ” اگر زمین گردش محوری ختم کردے اور سورج کے اردگرد اپنی گردش سالانہ جاری رکھے تو کیا ہوگا۔ تمام فصلیں ختم ہوجائیں ، لوگوں کو پتہ نہ چلے کہ گرمیاں کہاں ہیں اور سردیاں کب ہوئیں اور ربیع وخریف ختم ہوجائے “۔ ” اگر زمین کا چھلکا چند قدم اور دبیز ہوتا تو بعض گیسوں کے جذب کرلینے کی وجہ سے نباتات ختم ہوجائے “۔ ” زمین کے اوپر کرۂ ہوائی جس قدر بلندی پر ہے اگر اس سے مزید بلند ہوجائے تو آج کل لاکھوں کے حساب سے ہوا میں جو شہاب ثاقب جل جاتے ہیں ، وہ سب کے سب کرۂ ارض پر گرنے لگتے ، ان کی رفتار 46 میل فی سکینڈ ہوتی ہے۔ اس طرح وہ زمین کے اوپر ان تمام چیزوں کو جلا کر رکھ دیں گے جو جلنے کے قابل ہیں۔ اور اگر یہ شہاب بندوق کی گولی کی رفتار سے بھی چلیں تب بھی سب کے سب زمین سے ٹکڑا جائیں۔ اور اس کے نتائج نہایت ہی خوفناک ہوں۔ انسان بیچارے کی حالت تو یہ ہے کہ اگر ایک چھوٹا سا شہاب جس کی رفتار بندوق کی گولی سے ستر مرتبہ زیادہ ہو ، اس زمین سے بھی ٹکرا جائے تو اس شہاب کے گزرنے سے جو حرارت پیدا ہوگی ، صرف اس حرارت ہی سے اس کے اجزائے جسم بکھر کر رہ جائیں “۔ ” اس وقت ہوا میں آکسیجن کی نسبت 21 فیصد ہے اگر یہ 50 فیصد ہوجائے تو جل جانے کی قابل تمام چیزیں آگ پکڑ لیں اور جل جائیں۔ بس آگ کی ایک چنگاری لگتے ہی تمام جنگلات جل جائیں بلکہ بھک سے اڑجائیں۔ اگر ہوا کی آکسیجن کم ہوکر 10 فیصد ہوجائے یا اس سے کم ہوجائے تو کرۂ ارض کی زندگی شاید ایک طویل عرصہ بعد اپنے آپ کو اس کے ساتھ ہم آہنگ کر ہی لے لیکن وہ تمام سہولیات ختم ہوجائیں جن کی وجہ سے انسان متمدن قرار پاتا ہے مثلاًآگ وغیرہ “۔ غرض اس کائنات کی تخلیق وتشکیل میں ہزاروں ایسی ممد اور معاون چیزیں ، باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ رکھی ہوئی نظر آتی ہیں کہ اگر ان میں سے کسی ایک چیز میں معمولی خلل آجائے تو ہماری زندگی اپنی موجودہ شکل میں نہ رہے۔ اسی طرح دوسرے حیوانات کی زندگی کی موجودہ شکل بھی نہ رہے۔ رہا انسان تو اس کی توبہ پیاری پیاری صورت ہی ایسی ہے ، جو نہایت ہی منفرد انداز میں ہے اور تمام زندہ اشیاء میں ممتاز ہے۔ یہ ایک اس قدر کامل اور مکمل تخلیق ہے کہ وہ اپنے تمام فرائض نہایت ہی سہولت اور باریکی سے ادا کرتی ہے۔ اس کی یہ تخلیق اس کی زمین کے اوپر حرکت اور وہ حالات جن میں اس کے لیے زندہ رہنا اور کام کرنا آسان بنایا گیا ہے ، پھر اس کی اعلیٰ وارفع خصوصیت جس کے ذریعہ اسے تمام روئے زمین کی مخلوقات کا سردار بنایا گیا ہے اور اسے منصب خلافت ارضی دی گئی ہے اور اس منصب کے فرائض کی ادائیگی کے لئے اسے عقل وخرد سے نوازا گیا ہے۔ اور پھر رب تعالیٰ کے ساتھ اسے رابطے کا اعزاز دیا ہے۔ یہ تو انسان کی ممتاز ترین خصوصیات ہیں۔ اب ذرا ذات انسان کی طرف آئے اگر انسانی ذات اس کے اعضاء ، اور ان کے فرائض کی باریکی پر بحث کریں ، جو اس آیت کا مفہوم بھی ہے۔ وصورکم فاحسن صورکم (40: 64) ” جس نے تمہاری صورت بنائی اور بہت ہی عمدہ بنائی “۔ تو ہمیں انسان کے چھوٹے چھوٹے اعضاء میں سے ہر ایک کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔ بلکہ انسان کے خلیات میں سے ہر ایک خلیے پر بحث کرنی ہوگی۔ ایک ہی مثال سے تخلیق انسانی اور جسم انسانی کی گہری ٹیکنالوجی کا پتہ چل سکتا ہے۔ انسان کے جبڑے کو لیجئے اور اس کے اندر دانتوں کی تنصیب کو اگر آلہ خوراک کے زاویہ سے دیکھا جائے تو یہ اس قدر حساس ہیں کہ اگر زبان یا لعاب میں 10/1 ملی میٹر کی حد تک ابھار آجائے تو یہ جبڑے زبان اور لعاب کی مزاحمت کرتے ہیں۔ اور اگر کسی دانت میں اسی قدر ابھار آجائے تو وہ اپنے مقابل جسم کے ساتھ ٹکرانا شروع کردے اور اگر دوجبڑوں کے درمیان سگریٹ کے کاغذ جتنا موٹا کاغذ آجائے تو وہ دونوں جبڑوں کا دباؤ محسوس کرے گا۔ اور اس پر بھی دونوں جبڑوں کا دباؤ ہوگا کیونکہ دونوں جبڑوں کی ساخت ایسی ہوتی ہے کہ جب یہ دونوں ملتے ہیں تو دونوں طرف کے دانت پوری طرح ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔ یوں یہ پینے اور چبانے کا عمل کرتے ہیں اور ایسی چیزوں کو بھی چبالیتے ہیں جن کا موٹاپا سگریٹ کے ابری کاغذ جیسا باریک ہو۔ پھر اسی انسان کو اپنی اس ساخت کے ساتھ ، اس زمین پر رہنے کے لیے سہولیات فراہم کی گئی ہیں کہ یہ یہاں زندہ رہے۔ اس کی آنکھوں کو روشنی کی لہروں پر بنایا گیا ہے تاکہ یہ دیکھنے کا کام کریں۔ اور اس کے کانوں کو ہوا اور آواز کی لہروں پر بنایا گیا ہے تاکہ یہ سننے کا کام کریں۔ غرض اس کے تمام اعضاء اور حواس کو اس فضا کے مطابق بناتا گیا ہے جس کے اندر اس نے زندگی بسر کرنا ہے اور اسے یہ طاقت بھی دی گئی ہے کہ وہ ایک حد تک اپنے آپ کو حالات کے مطابق ڈھال سکے۔ غرض اسے اس زمین کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ یہ یہاں زندہ رہے۔ اس سے متاثر ہو ، اس کو متاثر کرے۔ غرض یہ ماحول جس میں انسان رہتا ہے ، اس کے اور انسان کی تخلیق کے درمیان گہری منصوبہ بندی موجود ہے۔ پھر انسان کی موجودہ شکل و صورت کا بھی اس کے موجودہ ماحول کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ اس کی ساخت کو اس ماحول کے مطابق بنایا گیا ہے ، جہاں وہ رہتا ہے ، یعنی اس زمین و آسمان کے مطابق ۔ اس لیے یہاں اللہ نے انسان کی اسی شکل کا ذکر اس آیت کے درمیان کیا ہے جس میں زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر ہے۔ اب قرآنی آیات کی قدرے تشریح۔ اللہ الذی۔۔۔۔ مبصرا (40: 61) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو ، اور دن کو روشن کیا “۔ رات کو سکون کرنا ہر زندہ چیز کے لیے ضروری ہے۔ نیز ایک تاریکی کا عرصہ ضروری ہے تاکہ اس میں زندہ خلیے آرام کرسکیں اور اس وقت کے بعد پھر روشنی میں کام شروع کرسکیں۔ صرف نیند ہی کافی نہیں ہے تاریکی بھی ضروری ہے۔ بلکہ رات ضروری ہے۔ کیونکہ زندہ خلیہ روشنی کو برداشت کرتے کرتے اس قدر تھک جاتا ہے کہ اس کے اعصاب تلف ہونا شروع ہوجاتے ہیں چونکہ روشنی میں اسے آرام نہیں مل سکتا۔ لہٰذا رات کی تاریکی ضروری ہے۔ والنھار مبصرا (40: 61) ” دن کو روشن کیا “۔ انداز تعبیر بالکل شخص ہے گویا دن ایک شخص ہے جو دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ لوگ دن میں دیکھتے ہیں۔ یہ تو ہے دن کی غالب افادیت اور صفت۔۔۔ لیکن گردش لیل ونہار کا یہ نظام ایک نعمت ہے جو اپنے اندر مزید نعمتیں پوشیدہ رکھتی ہے۔ اگر رات اور دن میں سے کوئی ایک دائمی ہوجائے ، بلکہ موجودہ وقت سے ذرا طویل ہی ہوجائے تو زندگی ناپید ہوجائے یہی وجہ ہے کہ اسکے بعد اللہ کے اس فضل کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جسکا لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ ان اللہ ۔۔۔۔ لایشکرون (40: 61) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر لوگ شکر ادا نہیں کرتے “۔ اور ان دوفطری مظاہر یعنی گردش ونہار کے بعد یہ تصریح کردی جاتی ہے کہ ان کو اللہ نے پیدا کیا ہے لہٰذا وہی الہہ ہونے کا مستحق ہے اور یہ نام ” اللہ “ ایک عظیم نام ہے۔ ذٰلکم اللہ ۔۔۔۔ توفکون (40: 62) ” یہ ہے اللہ تمہارا رب جو ہر چیز کا خالق ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ، پھر تم کدھر بہکائے جارہے ہو “۔ یہ ایک نہایت ہی تعجب انگیز اور حیرت افزا بات ہے کہ لوگ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے اور ہر چیز میں اللہ کا ہاتھ ہے ، اور تمام اشیاء کا موجود ہونا ہی ازروئے عقل اس بات کو فرض کردے کہ اس کا اللہ خالق ہے اور اللہ کے سوا کوئی اور قوت بھی نہ ہو کہ وہ خالق ہونے کی مدعی ہو ، اور یہ بات بھی ذہن میں نہ آتی ہو کہ یہ چیزیں خود بخود وجود میں آگئی ہوں یہ فی الواقع ایسی عجیب بات جوہر معقول انسان کے لیے تعجب انگیز ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے اور دیکھتے ہوئے بھی لوگ ایمان لانے سے منہ موڑیں۔ فانی توفکون (40: 62) ” کدھر بہکائے جارہے ہو “۔ لیکن ، ہو یہی رہا ہے کہ لوگ بدستورمنہ موڑ رہے ہیں جیسا کہ قرآن کے پہلے مخاطب منہ موڑ رہے تھے اور اس کے بعد بھی ہر زمان ومکان میں منہ موڑ رہے ہیں۔ بغیر حجت اور بغیر دلیل کے۔ کذٰلک ۔۔۔۔ یجحدون (40: 63) ” اسی طرح وہ سب لوگ بہکائے جارہے ہیں ، جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے “۔ اب سیاق کلام اس طرف آتا ہے کہ اپنی جگہ ٹھیرایا گیا اور آسمان کو چھت کی طرح اوپر ٹھیرایا گیا۔ اللہ الذی۔۔۔۔ بنآء (40: 64) ” وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا اور اوپر آسمان کا گنبد بنادیا “۔ زمین تو برقرار ہے اور انسانوں کی رہائش کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اور اس میں ایسی بیشمار سہولیات رکھ دی گئی جو انسان کے لیے ضروری ہیں اور جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے اور آسمان ایک ایسی چھت ہے جس کی نسبتیں متعین اور مقرر ہیں۔ جس کی دوریاں ، حرکتیں اور چکر مقرر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وجہ سے زمین پر انسان کی زندگی کو قرار حاصل ہے اور یہ قرار اور سہولیات اس کائنات کے نقشے کے اندر حساب سے رکھ دی گئی ہیں اور اس کی تعمیر میں انہیں ایک خاص نسبت سے رکھا گیا ہے۔ زمین و آسمان کی تخلیق کے ساتھ ہی انسان کی پیاری صورت اور انسان کے لیے رزق کو بھی مربوط کردیا گیا جیسا کہ ہم نے ان باتوں کی طرف اجمالی اشارہ کردیا ہے۔ وصورکم۔۔۔۔ من الطیبٰت (40: 64) ” جس نے تمہاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی جس نے تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا “۔۔۔ اور پھر ان نشانیوں اور مہربانیوں پر یہ تبصرہ : ذٰلکم اللہ ۔۔۔۔ رب العلمین (40: 64) ” یہ ہے اللہ تمہارا رب ، بےحساب برکتوں والا ہے۔ وہ کائنات کا رب ہے “۔ یہ اللہ جو تخلیق کرتا ہے ، جو انداز سے تخلیق کرتا ہے اور پھر اپنی مخلوقات کا مدبر بھی ہے۔ وہ تمہاری نگہبانی کرتا ہے اور تمہیں اس نے اپنی اس مخلوق میں بسایا ہے۔ یہ ہے تمہارا رب ، برکتوں والا ، اور بہت بہت برکتوں والا اور تمام جہانوں والا ، جن کے تصور ہی سے سر چکرا جاتا ہے۔ ھوالحی (40: 65) ” وہی زندہ ہے “۔ ہاں ، وہی اکیلا زندہ ہے۔ اس کی ذاتی زندگی ہے ، کسی سے لی نہیں گئی ، کسی کی تخلیق کردہ نہیں ہے۔ نہ اس کی ابتداء اور نہ انتہا ہے نہ اس کے درمیان کوئی حائل ہے اور نہ وہ زائل ہونے والی ہے۔ نہ اس میں کوئی انقلاب آتا ہے اور نہ تغیر۔ اللہ کے سوا کسی کو یہ صفات حاصل نہیں ہیں۔ اللہ پاک ہی منفرد ہے ان صفات میں۔ لہٰذا وہی منفرد ہے الوہیت میں ۔ اس لیے کہ زندہ وہی ہے۔ لہٰذا حق یہی ہے کہ وہی واحدوقہار ہو۔ لآ الٰه الاھو (40: 65) ” نہیں کوئی الٰہ مگر وہ “ تو پھر صرف : فادعوہ مخلصین له الدین (40: 65) ” اسی کو تم پکارو ، اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرکے “۔ اس کی حمد کرو ، اس سے دعا کرو ، الحمدللہ رب العٰلمین (40: 65) ” ساری تعریف اللہ رن العالمین ہی کے لیے ہے “۔ ان نشانیوں اور مہربانیوں کے تذکرے اور ان پر تبصرے کے بعد اور حقیقت الوہیت اور عقیدۂ توحید اور مظاہر ربوبیت کی تشریح کے بعد اب رسول اللہ ﷺ کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ ان نشانیوں اور دلائل کی بناپر میں روک دیا گیا ہون کہ میں تمہارے معبودوں کی بندگی کروں مجھے تو حکم دیدیا گیا کہ صرف رب العالمین کے سامنے سرتسلیم خم کردوں۔
Ayahs 40:65–66

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

وہی زندہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کو تم پکارو اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرکے۔ ساری تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لئے ہے

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ، ان لوگوں سے کہہ دو کہ مجھے تو ان ہستیوں کی عبادت سے منع کردیا گیا ہے۔ جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔ (میں یہ کام کیسے کرسکتا ہوں) جب کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے بینات آچکی ہیں۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کے آگے سر تسلیم خم کردوں

آیت نمبر 65 تا 66 یہ اعلان ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کی آیات سے منہ موڑتے ہیں اور اللہ کے عطیات کی ناشکری کرتے ہیں ، کہ میں تو ان معبودوں کی بندگی سے منع کردیا گیا ہوں جن کو تم پکارتے ہو۔ لہٰذا میں منع ہوگیا ہوں۔ اس لیے کہ میرے پاس نشانات آگئے ہیں اور آئے بھی میرے رب کی طرف سے ہیں۔ میرے پاس دلائل پہنچ چکے ہیں اور میں ان پر ایمان لاچکا ہوں۔ اور اللہ نے میرے پاس جو دلائل بھیجے ہیں ، ان کا حق ہے کہ میں ان پر مطمئن ہوجاؤں اور تصدیق کردوں اور اس سچائی کا اعلان کردوں جو میرے پاس آگئی ہے۔ اور غیر اللہ کی بندگی سے رک جانا ہی کافی نہیں بلکہ رب العالمین کے سامنے سر تسلیم خم کردینا اور ایک مثبت پروگرام شروع کرنا بھی بڑا مشن ہے۔ اس میں ” لا “ بھی ہے اور ” الا “ بھی ہے۔ اور آفاقی دلائل الہیہ کے بیان کے بعد اب انفس کی طرف روئے سخن مڑتا ہے۔ انفس کے دلائل میں سے بڑی دلیل ظہور حیات انسانی ہے اور پھر اس کے ظہور کے عجیب اطوار ودرجات ہیں۔ انسانی حیات کا مطالعہ ایک مقدمہ ہے۔ اس بات کے لیے کہ اس کائنات میں ہر قسم کی حیات درحقیقت اللہ کے دست قدرت کا کرشمہ ہے اور اس کی مٹھی میں ہے۔
Ayahs 40:67–68

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ، پھر نطفے سے ، پھر خون کے لوتھڑے سے ، پھر وہ تمہیں بچے کی شکل میں نکالتا ہے ، پھر تمہیں بڑھاتا ہے تاکہ تم اپنی طاقت کو پہنچ جاؤ، پھر اور بڑھاتا ہے تاکہ تم بڑھاپے کو پہنچو اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلالیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اسلیے کیا جاتا ہے تاکہ تم اپنے مقررہ وقت تک پہنچ جاؤ اور اس لیے کہ تم حقیقت کو سمجھو

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

وہی ہے زندگی دینے والا ، اور وہی موت دینے والا ہے۔ وہ جس بات کا بھی فیصلہ کرتا ہے ، بس ایک حکم دیتا ہے کہ وہ ہوجائے اور وہ ہوجاتی ہے

آیت نمبر 67 تا 68 اس کرۂ ارض پر انسانی پیدائش کا ارداک انسانی علم نہیں کرسکتا ، کیونکہ انسان اس وقت نہ تھا جب اسے پیدا کیا گیا تھا ، انسانی پیدائش کے تسلسل میں بعض امور ایسے ہیں جن کا مشاہدہ انسان کرتا ہے لیکن یہ انسانی مشاہدہ اپنی موجودہ ترقی یافتہ شکل میں زمانہ حال میں سامنے آیا ہے ، نزول قرآن کے صدیوں بعد۔ پہلی بات یہ ہے کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا اور یہ واقعہ اس وقت ہوا جب انسان نہ تھا۔ لیکن معلوم ہوگیا کہ اس کرۂ ارض پر مٹی ہی حیات کی بنیاد ہے۔ اسی سے انسان کو بنایا گیا ہے اور اسے زندگی دی گئی ہے۔ یہ بات اللہ کے سوا کوئی اور نہیں جانتا کہ یہ معجزہ کس طرح ظہور میں آیا زندگی اور زمین کی تاریخ میں یہ عظیم واقعہ کب اور کس طرح وجود میں آیا۔ رہا نسلوں کا چلنا تو اس کا نظام یوں بنایا گیا کہ مرد کا خلیہ یعنی نطفہ جب عورت کے انڈے سے ملتا ہے اور یہ دونوں آپس میں متحد ہوجاتے ہیں اور رحم میں خون کے ایک لوتھڑے کی شکل میں ٹک جاتے ہیں تو جنین اپنے مراحل طے کرتا ہے اور اپنے آخری مرحلے میں بچہ نمودار ہوتا ہے ۔ پیدا ہونے سے قبل بچے میں بہت بڑے بڑے انقلابات ہوتے رہتے ہیں۔ اگر ابتدائی خلیے کو غور سے دیکھا جائے تو اس کی زندگی بچے کی زندگی سے زیادہ طویل ہے یعنی ولادت سے لے کر موت تک کے عرصہ سے ، سیاق کلام میں قرآن مجید نے یہاں صرف اس کی بعض ممتاز صفات و مراحل کا ذکر کیا ہے۔ یعنی بچپنے کا مرحلہ۔ پھر سن رشد تک پہنچنا یعنی تیس سال کی عمر تک پھر بڑھاپا۔ یہ وہ مراحل ہیں جنہیں طے کرکے انسان اپنے کمزور ، آغازوانجام کے درمیان اپنی پوری قوت تک پہنچتا ہے۔ ومنکم من یتوفی من قبل (40: 67) ' تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلالیا جاتا ہے “۔ اور وہ یہ پورے مراحل طے نہیں کرتا یا بعض مراحل اس سے چھوٹ جاتے ہیں اور وہ فوت ہوجاتا ہے۔ ولتبلغوآ اجلا مسمی (40: 67) ” یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ تم اپنے مقررہ وقت تک پہنچ جاؤ “۔ یہ وقت مقرر ، طے شدہ اور معلوم ہے۔ اس میں کوئی تقدیم اور تاخیر نہیں ہوتی۔ ولعلکم تعقلون (40: 67) ” اور اس لیے کہ تم حقیقت کو سمجھو “۔ جنین کا سفر طے کرنا ، پھر بچے کا سفر طے کرنا ، پھر ان کی شکل و صورت کا حسن اور ان کی طبیعی نشوونما کے صحیح صحیح اندازے اور اطوار میں سوچنے کا بہت بڑا سامان ہے۔ جنین کا سفر تو نہایت ہی حیرت انگیز سفر ہے۔ علوم طبیہ کی ترقی کے بعد تو اس کے بارے میں ہم نے حیرت انگیز معلومات حاصل کرلی ہیں۔ علوم جنین ایک مستقل شعبہ ہے لیکن قرآن نے جس انداز سے آج سے چودہ سو سال قبل اس کے بعض مراحل کی طرف جس ٹھیک ٹھیک اندازے سے اشارہ کیا ہے ، یہ فکر ونظر کے لیے دامن گیر ہے۔ انسان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ ان مراحل سے غافل ہوکر گزر جائے اور ان پر گہرا غور وفکر نہ کرے۔ جنین کا سفر اور بچے کا سفر انسانی احساس پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں اور انسانی دل کو خوب جھنجھوڑتے ہیں۔ چاہے عقل ورشد کے جس مرحلے میں بھی وہ ہو۔ ہر نسل انسانی ، اپنی معلومات کے حوالے سے اس سے متاثر ہوتی ہے ، اس لیے قرآن نے انسانی نسلوں کو اس طرف متوجہ کیا ہے اس لیے کہ اس سے انسان متاثر ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ آزاد ہے ، لبیک کہے یا نہ کہے۔ اس بحث کے بعد زندہ کرنے اور مارنے اور تخلیق اور نشوونما کے بارے میں ایک سبق آموز تبصرہ : ھوالذی۔۔۔۔ کن فیکون (40: 68) ” وہی ہے زندگی اور موت دینے والا۔ وہ جس بات کا بھی فیصلہ کرتا ہے بس ایک حکم دیتا ہے کہ وہ ہوجائے اور وہ ہوجاتی ہے “۔ قرآن میں آیات موت وحیات کا بہت ذکر ہوا ہے۔ کیونکہ موت وحیات کا مضمون انسانی شخصیت کو گہرے طور پر متاثر کرتا ہے۔ یہ نہایت ہی ممتاز اور باربار دہرائے جانے والے واقعات ہیں اور انسانی حس ان کو بہت ہی قریب سے دیکھتی ہے۔ بادی النظر میں زندہ کرنے اور مارنے سے جو بات انسان کی سمجھ میں آتی ہے۔ غور سے دیکھا جائے تو حیات وممات کا مفہوم اس سے کہیں گہرا ہے۔ حیات کی بھی کئی اقسام ہیں ، موت کی بھی کئی اقسام ہیں۔ زمین کو ہم مردہ دیکھتے ہیں۔ پھر زمین ہی کو ہم زندہ اور سرسبز دیکھتے ہیں۔ جب مردہ ہو تو درختوں کے پتے نہیں ہوتے ، شاخیں خشک نظر آتی ہیں ، ایک تو یہ موسم ہوتا ہے ، اور جب یہ زندہ ہوتے ہیں تو یہی مردہ شاخیں اور ٹہنیاں سرسبز اور شاداب ہوکر لہلہاتی ہیں۔ ان شاخوں کا انگ انگ پھوٹ جاتا ہے اور پھول اور پتے نکل آتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ زندگی ان شاخوں سے ابلی پڑتی ہے۔ ایک انڈے کو دیکھو ، پھر بچے کو دیکھو ، بیج کو دیکھو اور اگنے والے پودے کو دیکھو ، اور پھر الٹے سفر کو دیکھو کہ یہی زندگی موت میں بدل جاتی ہے اور بچھے ہوئے کھیت سامنے آتے ہیں۔ یہ سب حالات دل اور دماغ کو متاثر کرتے ہیں اور بمو جب ” فکر ہر کس بقدر ہمت اوست “ ہر شخص کا تاثر ہوتا ہے۔ آخر میں موت وحیات سے آگے ، اہم سوال کہ کائنات کس طرح وجود میں آئی ؟ بس اللہ کا ارادہ ہوا ، کن کا حکم ہوا اور سب کچھ ہوگیا یا جو چاہا ہوگیا۔ یہ کائنات ہوتی چلی گئی اور تسلسل قائم ہوتا چلا گیا۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔ حیات وممات کے اس منظر کے بعد اور انشاء و تخلیق کے کن فیکون کے بعد ، اللہ کی نشانیوں اور مہربانیوں میں جدل وجدال اور بحث و تکرار لاحاصل اور بہت عجیب و غریب ہے اور رسولوں کے پیغام اور دعوت کی تکذیب اس سے بھی عجیب تر ہے۔ اب ہوجاؤ خبردار ! ایک خوفناک منظر تمہارے سامنے آنے والا ہے۔ خبردار ! یہ قیامت ہے اور تم نے اس منظر کو دیکھنا ہے ، ذرا دیکھنے سے پہلے ہی دیکھ لو !
Ayahs 40:69–76

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

تم نے دیکھا ان لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، کہاں سے وہ پھرائے جارہے ہیں ؟

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

یہ لوگ جو اس کتاب کو اور ان ساری کتابوں کو جھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جب طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور زنجیریں کھنچی جائیں گی ،

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

کھولتے ہوئے پانی میں اور دوزخ کی آگ میں جھونک دیئے جائیں گے

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ ” اب کہاں ہیں اللہ کے سوا وہ دوسرے خدا جن کو تم شریک کرتے تھے ؟

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

اللہ کے سوا وہ جواب دیں گے ” کھوئے گئے وہ ہم سے بلکہ ہم اس سے پہلے کسی چیز کو نہ پکارتے تھے “۔ اس طرح اللہ کافروں کو گمراہ ہونا متحقق کردے گا

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

ان سے کہا جائے گا ” یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ تم زمین میں غیر حق پر مگن تھے۔ اور پھر اس پر اتراتے تھے

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، ہمیشہ تم کو وہیں رہنا ہے ، بہت ہی برا ٹھکانا ہے متکبرین کا

آیت نمبر 69 تا 76 یعنی گزشتہ آیات ہیں اللہ کی جو نشانیاں ہوئیں ان کے ہوتے ہوئے ان لوگوں کا رویہ قابل تعجب ہے جو اللہ کی ان نشانیوں کے بارے میں بھی بھی جث وجدال کرتے ہیں ، لیکن ان کا انجام کیا ہونے والا ہے ، نہایت عبرت آموز ! الم تر۔۔۔۔۔ رسلنا (40: 69 تا 70) ” تم نے دیکھا ان لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، کہاں سے وہ پھرائے جارہے ہیں ؟ یہ لوگ جو اس کتاب کو اور اب ساری کتابوں کو جھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں “۔ انہوں نے تو صرف کتاب قرآن اور ایک رسول حضرت محمد ﷺ کو جھٹلایا تھا مگر اس طرح کرکے انہوں نے تمام کتابوں اور تمام رسولوں کو جھٹلادیا کیونکہ تمام رسولوں کا عقیدہ توحید تو ایک ہی تھا اور یہی عقیدہ اپنی مکمل صورت میں خاتم النبین ﷺ کو دیا گیا۔ لہٰذا انہوں نے گویا رسالتوں اور تمام رسولوں کی تکذیب کردی۔ ہر مکذیب نے یہی کیا خواہ قدیم زمانے میں تھا یا جدید زمانے میں اس نے عقیدۂ توحید ہی کی تکذیب کی۔ فسوف یعلمون (40: 70) ” عنقریب انہٰں معلوم ہوجائے گا “۔ کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ آگے تفصیلات دے دیں کہ ایسے لوگوں کا انجام کیسا ہوتا ہے۔ یہی کہ نہایت توہین آمیز اور حقارت آمیز انداز میں ان کو سزا دی جائے گی صرف سزا نہ ہوگی بلکہ اہانت اس کے ساتھ شامل ہوگی۔ اذالا۔۔۔ یسحبون (40: 71) ” جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں ہوں گی ، اور کھینچے جائیں گے “۔ اس طرح جس طرح مویشی کھینچے جاتے ہیں ، اہانت کے ساتھ ۔ عزت ان کی کیوں ہو ، انہوں نے خود ہی عزت کا لباس اتارپھنکا تھا۔ یوں توہین کے ساتھ کھینچ کر اور چلا کر آخرکار انہیں گرم پانیوں اور آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ فی الحمیم ثم فی النار یسجرون (40: 76) ” گرم پانی میں ، پھر آگ میں جھونک دیئے جائیں گے “۔ یعنی ان کو باندھا جائے گا۔ پھر کتوں کی طرح گلے میں زنجیریں ڈال کر ہانکا جائے گا اور ان کو ایسے مکان میں گرادیا جائے گا جو گرم پانی اور آگ سے بھرا ہوگا۔ یہ لوگ ایسی ہی حالت میں ہوں گے کہ ان پر سرزنش ، ملامت دھتکار آئے گی : ثم قیل۔۔۔۔ دون اللہ (40: 73) ان سے پوچھا جائے گا اب کہاں ہیں اللہ کے سوا وہ خدا جن کو تم شریک کرتے تھے “۔ اب وہ ایسا جواب دیتے ہیں جس طرح وہ شخص دیتا ہے جس کے ساتھ دھوکہ ہوا اور پھر یہ سھو کہ ظاہر ہوگیا اور وہ نہایت مایوس اور ضرر رسیدہ ہوتا ہے : قالو اضلوا۔۔۔۔ قبل شیئا (40: 74) ” وہ جواب دیں گے کھوئے گئے وہ ہم سے ، بلکہ اس سے پہلے کسی چیز کو نہ پکارتے تھے “۔ وہ تو ہم سے اس طرح غائب ہوگئے کہ اب ہمیں ان کے ڈھونڈنے کا راستہ تک معلوم نہیں۔ اور نہ اب وہ ہم کو راستہ بتاتے ہیں۔ بلکہ ہم سے اسطرح غائب ہوگئے کہ اب ہمیں انکے ڈھونڈنے کا راستہ تک معلوم نہیں۔ اور نہ اب وہ ہم کو راستہ بتاتے ہیں۔ بلکہ اس سے پہلے ہم جنکو پکارتے تھے وہ تو کوئی چیز ہی نہ تھے محض اوہام اور افسانے تھے۔۔۔۔ اس مایوس کن جواب پر یہ تبصرہ اور عبرت۔ کذلک یضل اللہ الکفرین (40: 74) ” اس طرح اللہ کافروں کا گمراہ ہونا متحقق کردے گا “۔ اور اس کے بعد پھر سرزنش اور ان کے گمراہی کا سبب۔ ذٰلکم بما۔۔۔۔ مثوی المتکبرین (40: 75 تا 76) ” ان سے کہا جائے گا ” یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ زمین میں غیر حق پر مگن تھے۔ اور پھر اس پر اتراتے تھے۔ اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، ہمیشہ تم کو وہیں رہنا ہے ، بہت ہی برا ٹھکانا ہے متکبرین کا “۔ اے فریادرس خداوند ! یہ طوق اور زنجیریں گلے میں باندھ کر گرم پانیوں اور آگ میں کہاں لے جائے گے ؟ معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کے دائمی عذاب سے پہلے گرم پانی اور آگ کا عذاب دیا گیا۔ فبئس مثوی المتکبرین (40: 76) ” بہت ہی براٹھکانہ ہے متکبرین کا “۔ یہ توہین آمیز سزا ان کو جو دی جارہی ہے اس کا حقیقی سبب تو کبر ہی ہے اور اس کبرہی کی وجہ سے اس سخت سزا کے ساتھ تحقیر اور تذلیل کو شامل کیا گیا ہے۔ اس خوفناک عذاب کے منظر اور ذلت آمیز سلوک کے بعد ، جو آیات الہٰی میں نارواجدل وجدال کے نتیجے میں ان پر نازل ہوا اور جس کا حقیقی کبر تھا ، جو انسان کو پھلا دیتا ہے ، اس منظر کے بعد اور اس برے انجام کے بعد حضور اکرم ﷺ کو نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں کیونکہ ان لوگوں کے کبروجدال کی وجہ سے آپ کو بےحد تکلیف ہوتی ہے ، آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ چاہے اسلامی انقلاب کا وعدہ آپ کی حیات میں پورا ہو یا بعد میں ، یہ اللہ کی رضا ہے کہ وہ جس طرح چاہے ، کرے رسول کا کام یہ ہے کہ وہ تبلیغ کرکے اللہ کے پاس چلاجائے۔
Ayah 40:77

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

پس اے نبی ﷺ ، صبر کرو ، اللہ کا وعدہ برحق ہے ، اب خواہ ہم تمہارے سامنے ہی ان کو ان برے نتائج کا کوئی حصہ دکھا دیں جن سے ہم ! نہیں ڈرا رہے ہیں ، یا (اس سے پہلے) تمہیں دنیا سے اٹھالیں ، پلٹ کر آنا تو انہیں ہماری ہی طرف ہے

آیت نمبر 77 یہ ایک جھلک ہے ، ہمیں چاہئے کہ ذدا اس پر غور کریں۔ رسول اللہ ﷺ اس دور میں مخالفین کی جانب سے کبر ، اذیت ، تکذیب اور نافرمانی کی اذیت جھیل رہے تھے۔ آپ کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ کے فرائض یہ ہیں ، بس آپ ان تک اپنے آپ کو محدود کردیں ، رہے نتائج تو ان کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے یہاں تک کہ وہ مکذبین اور متکبرین کو اس دنیا میں سزا پاتے دیکھنے کی خواہش بھی یہ رکھیں۔ آپ کا فرض ہے کہ آپ حکم بجا لائیں ، اپنافریضہ ادا کردیں ، کیونکہ انجام تک کسی بات کو پہنچانا یہ داعی کا کام نہیں ہے۔ یہ اللہ کے اختیار میں ہے ، اور وہ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ الہہ العالمین ! کس قدر بلند مقام ہے یہ ۔ کس قدر کامل آداب کی تلقین ان لوگوں کو جو دعوت اسلامی کے کام میں لگے ہوئے ہیں اور یہ کون ہیں ؟ حضور اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے رفقاء ! نفس انسانی کے لیے یہ حکم بہت بھاری ہے۔ یہ ایک ایسا حکم ہے جو ضعیف انسان کی چاہتوں کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں یہ حکم دینے سے بھی پہلے صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ لہٰذا یہاں دوبارہ صبر کی تلقین کا حکم دینا تکرار نہیں ہے۔ یہ ایک نئے انداز کا صبر ہے۔ یہ صبر ایذا ، تکذیب اور استہزاء سے بھی زیادہ مشکل صبر ہے۔ تمام داعیوں کو ، انسان اور بشرداعیوں کو ، یہ کہہ دینا کہ تمہارے دشمنوں کو ضرور سزا ہوگی۔ اللہ ان کو ضرور پکڑے گا لیکن شاید تم نہ دیکھ سکو ، یہ انسان کی اس خواہش کے خلاف ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو سزا پاتے دیکھے۔ یہ شدید خواہش ہوتی ہے ، جبکہ داعیوں پر مظالم ہورہے ہوں لیکن یہ آداب الہیہ ہیں اور یہ اللہ کی جانب سے اپنے مختار بندوں کی تربیت ہے اور نفس انسانی کو ہر اس بات سے پاک کرنا مطلوب ہے جس میں کوئی ادنیٰ سی خواہش بھی ہو۔ اگرچہ یہ خواہش صرف یہ ہو کہ دشمنان دین کو سزا ہوجائے۔ اس نکتے پر تمام داعیان دین کو غور کرلینا چاہئے ، چاہے وہ جس زمان ومکان میں بھی ہوں ، خواہشات کے طوفانوں میں یہ کامیابی کا لنگر ہے۔ یہ خواہشات تو ابتداء میں بڑی پاکیزہ نظر آتی ہیں لیکن آخر میں شیطان ان میں گھس آتا ہے۔
Ayah 40:78

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ، تم سے پہلے ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے حالات ہم نے تم کو بتائے ہیں اور بعض کے نہیں بتائے۔ کسی رسول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر خود کوئی نشانی لے آتا ۔ پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو حق کے مطابق فیصلہ کردیا گیا اور اس وقت غلط کار لوگ خسارے میں پڑ گئے

درس نمبر 226 ایک نظر میں یہ پورا سبق اس سے پہلے سبق کے آخر میں آنے والے درس عبرت کی تکمیل وتشریح ہے۔ حضرت نبی ﷺ اور آپ کے ساتھی مومنین کو ہدایت کی گئی تھی کہ آپ لوگ مشکلات راہ پر صبر کریں۔ اس وقت تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور اللہ نے فتح اسلام کا جو و عدہ کیا ہے وہ پورا ہوجائے ۔ چاہے نبی ﷺ کی زندگی میں ہو یا آپ ﷺ کی وفات کے بعد ہو۔ کیونکہ اختیار آپ ﷺ کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ بلکہ معاملہ اسلام اور اسلام کو ماننے والوں اور ان کے مخالفین اور مجادلین کا ہے۔ دونوں برسرجنگ ہیں اور فیصلہ ان کے درمیان اللہ کو کرنا ہے۔ اور یہ اللہ ہی ہے جو اسلامی انقلاب کی تحریک کو چلاتا ہے ، جس طرح چاہتا ہے۔ یہ سبق جس پر اس سورت کا خاتمہ ہورہا ہے ، اس حقیقت کو ایک دوسرے رنگ میں پیش کررہا ہے یہ کہ کفر واسلام کی جنگ کوئی نئی بات نہیں ہے اور نہ یہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت اور اسلام سے شروع ہوئی ہے۔ آپ ﷺ سے قبل بھی رسول بھیجے گئے ہیں بعض کے قصے آپ کے سامنے بیان کیے گئے ہیں اور بعض کے بیان نہیں کیے گئے۔ ان سب کا استقبال تکذیب اور انکار سے کیا گیا۔ سب سے مطالبہ کیا گیا کہ معجزات پیش کرو ، اور سب نے یہ تمنائیں کیں کہ کاش اللہ کوئی معجزہ صادر کردے جس کو دیکھ کر تکذیب کرنے والے مان لیں ، لیکن معجزات کا صدور اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ اور اس وقت ہوتاط ہے جب اللہ جاہتا ہے۔ یہ دعوت اللہ کی دعوت ہے وہ جس طرح چاہتا ہے ، اسے چلاتا ہے۔ البتہ اللہ کے بعض معجزات اس کائنات میں بکھرے پڑے ہیں ، ہر زمان ومکان کے لوگوں کی نظروں کے سامنے ہیں۔ مثلاً مویشی ، کشتیاں اور دوسری چیزیں جن کا انکار کوئی نہیں کرسکتا اور اس سبق کا خاتمہ ایک نہایت شدید جھٹکے سے ہوتا ہے جس میں ان اقوام کی ہلاکت دکھائی گئی ہے جہنون نے اس سے قبل تکذیب کی اور وہ اپنے مال ، دولت اور ترقی پر نازاں رہے۔ اللہ نے پھر ان کو اپنی سنت کے مطابق پکڑا۔ فلم یک۔۔۔۔۔۔ الکفرون (40: 78) ” مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان ان کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہوسکا تھا ، کیونکہ یہی اللہ کا مقرر شدہ ضابطہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہا ہے اور اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑے۔ درس نمبر 226 تشریح آیات آیت نمبر 78 اقامت دین کی جدوجہد کی مثالیں اور پیغمبر بھیجنے کی مثالیں سابقہ تاریخ میں وجود ہیں۔ بعض کے واقعات قرآن میں بیان کیے گئے ہیں اور بعض کا تذکرہ نہیں کیا گیا ، اور جن کے واقعات سابقہ تاریخ میں موجود ہیں۔ بعض کے اوقات قرآن میں بیان کیے گئے ہیں اور بعض کا تذکرہ نہیں کیا گیا ، اور جن کے واقعات بیان کیے گئے ہیں ان میں تحریک اسلامی کی طویل جدوجہد کے نشانات راہ موجود ہیں۔ یہ راستہ واضح ہے اور طویل ہے اور اپنی منزل تک پہنچتا ہے۔ اور ان پیغمبروں کے واقعات صاف صاف بتاتے ہیں کہ اللہ کی سنت کیا ہے اور رسولوں کا فریضہ کیا ہے۔ اور جس بات کی تاکید مطلوب ہے اس کی وضاحت بھی کردی گئی جس پر داعی کو اعتماد کرنا چاہئے وہ یہ کہ۔ وما کان۔۔۔۔ باذن اللہ (40: 78) ” کسی رسول کی بھی طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر خود کوئی نشانی لے آئے “۔ نفس انسانی کی یہ شدید خواہش ہوتی ہے ، اگرچہ رسول ہی کیوں نہ ہو کہ دعوت اسلامی کے مخالفین دعوت اسلامی کو قبول کرلیں ، اور اس کے مقابلے میں سرکشی اور ضد کرنے والے لوک اس پر یقین کرلیں۔ اس لیے قدرتی وطرپر انسانی نفوس معجزات کے صدور کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ مخالفین کی زبانیں بندہوجائیں اور وہ یقین کرلیں لیکن اللہ کی خواہش یہ ہے کہ اس کے مختار بندے صبر کا سہارا لیں آپ کو دعوت پر قائم رکھیں ۔ یہ بات یوں کہی جاتی ہے کہ فتح وشکست کا معاملہ تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ تمہارا کام یہ ہے کہ تم دعوت پہنچا دو ۔ رہ معجزہ دکھانا ، تو اللہ کا کام ہے ، جس وقت اللہ چاہے گا معجزہ آجائے گا۔ تم اطمینان رکھو ، ثابت قدم رہو اور دلجمعی سے کام کرو اور جو نتائج تمہارے ہاتھوں سے برآمد ہوتے ہیں ، ابن پر صبر کرو ، دعوت کا انجام اللہ کے سپرد کردو یہاں یہ بھی بتادیا جاتا ہے کہ لوگ حقیقت الوہیت کو بھی جان لیں اور منصب رسالت کو بھی سمجھ لیں۔ اور یہ جان لیں کہ رسول بھی بشر ہوتے ہیں۔ ان کو اللہ نے منصب نبوت کے لیے چن لیا ہوتا ہے۔ ان کے لیے فریضہ مقرر کردیا جاتا ہے ، نہ وہ طاقت رکھتے ہیں اور نہ ان کو اجازت ہے کہ اپنے فرائض کے حدود سے آگے بڑھیں۔ پھر یہ کہ معجزات کے آنے میں تاخیر ان کیلیے ایک نعمت ہے کیونکہ اللہ کی سنت یہ ہے کہ جب معجزات آتے ہیں اور لوگ انکار کرتے ہیں تو اللہ پھر اپنی اقوام کو ہلاک کردیتا ہے اسلیے معجزہ نہ آنا دراصل ایک مہلت ہے اور یہ مہلت اللہ کی طرف سے ہے۔ فاذاجآء۔۔۔۔ المبطلون (40: 78) ” پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو حق کے مطابق فیصلہ کردیا گیا۔ اور اس وقت غلط کار لوگ خسارے میں پڑگئے “۔ اب پھر عمل اور توبہ یا واپسی کی کوئی مہلت باقی نہیں رہتی اور آخری فیصلہ ہوجاتا ہے۔ اب ان لوگوں کو جو معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں ، ان آیات ومعجزات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو اس کائنات میں بکھرے پڑے ہیں اور جن کو رات دن دیکھتے دیکھتے انسان ان کے ساتھ اس قدر مانوس ہوگیا ہے کہ اب وہ اس کے لیے معجزہ نہیں رہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان پر غور وفکر کیا جاتا تو ہرگز مزید کسی معجزے کا مطالبہ نہ ہوتا ۔ یہ تمام چیزیں اللہ کی الوہیت کی بھی نشانیاں ہیں ، کیونکہ اللہ کے سوا کوئی ایسا نہیں ہے جو دعویٰ کرسکتا ہو کہ اس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اور اسی طرح یہ دعویٰ بھی بادی النظر میں مسترد ہے کہ یہ تمام کائنات از خود وجود میں آگئی ہے۔