40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 40:28–35

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اس موقع پر آل فرعون میں سے ایک مومن شخص ، جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا ، بول اٹھا :” کیا تم ایک شخص کو صرف اس بنا پر قتل کردوگے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے ؟ حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس بینات لے آیا۔ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ خود اسی پر پلٹ پڑے گا۔ لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضروری آجائیں گے۔ اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذاب ہو

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے میری قوم کے لوگو ، آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو ، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ فرعون نے کہا ” میں تو تم لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے اور میں اسی راستے کی طرف تمہاری رہنمائی کرتا ہوں جو ٹھیک ہے

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

وہ شخص جو ایمان لایا تھا اس نے کہا ” اے قوم کے لوگو ، مجھے خوف ہے کہ کہیں تم پر بھی دن نہ آجائے جو اس سے پہلے بہت سے جتھوں پر آچکا ہے

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

جیسا دن قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد قوموں پر آیا تھا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اے قوم ! مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم پر فریادوفغاں کا دن نہ آجائے

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جب تم ایک دوسرے کو پکاروگے اور بھاگے بھاگے پھروگے ، مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکادے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس بینات لے کر آئے تھے مگر تم ان کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہے۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا اب ان کے بعد اللہ کوئی رسول ہرگز نہ بھیجے گا “۔ اسی طرح اللہ سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکی ہوتے ہیں

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

۔ اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح ہر متکبروجبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے

آیت نمبر 28 تا 35 یہ وہ عظیم گفتگو ہے ، جو رجل مومن نے سازشی حاشیہ نشینوں کے ساتھ کی۔ اس شخص نے نہایت فطری انداز میں ، نہایت احتیاط کے ساتھ ، نہایت مہارت اور زور دار انداز میں یہ بات کی۔ پہلے تو اس نے یہ کہا کہ تم جو تجویز پیش کررہے ہو اور وہ نہایت گھناؤنی تجویز ہے۔ اتقتلون۔۔۔ اللہ (40: 28) ” کیا تم ایک شخص کو صرف اس بناء پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے “۔ کیا یہ کوئی جرم ہے کہ کوئی ایک خدا ہونے کا عقیدہ رکھے۔ یہ ہر کسی کا حق ہے کہ وہ وہی عقیدہ رکھے جس پر اس کا قلب اور اس کا نفس مطمئن ہو۔ کسی عقیدے پر کوئی اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس کی جان لے لی جائے ۔ یہ تو نہایت مکروہ اور ظالمانہ بات ہے اور اس کی کراہت اور برائی اور گھناؤنا پن بالکل ظاہر ہے۔ اس کے بعد یہ شخص ایک قدم آگے بڑھتا ہے کہ یہ شخص جو کہتا ہے کہ ” میرا رب صرف اللہ ہے “۔ تو وہ بےدلیل بات بھی نہیں کرتا ، وہ دلیل وبرہان اور معجزات دکھا کر بات کرتا ہے۔ وقد جاء کم بالبینت من ربکم (40: 28) ” حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلائل لے کر آیا ہے “۔ اشارہ ان معجزات کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ نے پیش فرمائے۔ اور انہوں نے بچشم سردیکھے اور جمہور عوام سے دور اپنی اونچی محفل میں تو وہ ان معجزات کا انکار بھی نہیں کرسکتے اور نہ شک کرسکتے ہیں۔ اب یہ شخص بطور فرض ان کے سامنے اس قدام کے برے نتائج کرتا ہے اور اس مسئلہ کا ایک منصفانہ حل پیش کرتا ہے کہ تم اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جو فرض کرسکتے ہو وہ یہ ہے۔ وان یک کاذبا فعلیه کذبه (40: 28) ” اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر پلٹ پڑے گا “۔ اپنے جھوٹ کا وہ خود ذمہ دار ہوگا۔ اور اپنے انجام تک پہنچ جائے گا اور اپنے جرم کی سزا پائے گا۔ محض جھوٹ بولنے پر تم کسی شخص کو کیسے قتل کرسکتے ہو۔ لیکن ایک دوسرا احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ یہ شخص سچا ہو ، لہٰذا تم اسکو بھی بطور احتیاط پیش نظر رکھو اور اپنے آپ کو برے نتائج کا مستحق نہ ٹھہراؤ۔ وان یک۔۔۔ یعدکم (40: 28) ” لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرورہی آجائیں گے “۔ وہ جن چیزون سے تمہیں ڈراتا ہے ان میں بعض کا تو احتمال پیش نظر رکھو ، یہ شخص ان کو تمام امور سے نہیں ڈراتا بلکہ مباحثے کو کم کرنے کے لیے بعض کے احتمال کا ذکر کرتا ہے یعنی اپنی بات کو منصفانہ بناتا ہے۔ اب وہ مزید اصولی بات کرتا ہے جو دونوں فریقوں پر منطبق ہوسکتی ہے اگرچہ خفیہ اشارہ ان کے لیے ہے۔ ان اللہ لایھدی من ھو مسرف کذاب (40: 28) ” اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذاب ہو “۔ اگر موسیٰ جھوٹا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت بھی نہ دے گا اور توفیق بھی نہ دے گا۔ پھر چھوڑ دو اسے کہ اپنے انجام کو پہنچے۔ اور اگر تم جھوٹے ہو اور موسیٰ جھوٹ بک رہے ہو اور اس کے بارے میں حد سے گزر رہے ہو تو تم پر اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔ جب اس نے ان کو اس بات سے ڈرایا کہ اللہ حد سے گزرنے والوں اور جھوٹوں کو ہدایت نہیں دیتا تو اب مزید کہتا ہے اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو ہمیں کون بچا سکتا ہے اللہ کے عذاب سے کیونکہ موجودہ قوت اور سلطنت اور اقتدار کا ہم شکر ادا نہیں کررہے ہیں ، کفران نعمت کررہے ہیں اور قوت کے بل بوتے پر ایک شخص کو قتل کرنے جارہے ہیں۔ یٰقوم لکم۔۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اے میری قوم کے لوگو ، آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو ، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ اس شخص کو وہ مکمل شعور حاصل ہے جو ایک صحیح مومن کو حاصل ہوتا ہے کہ اللہ کا عذاب بادشاہوں ، برسر اقتدار طبقات اور زمین پر بااختیار لوگوں پر سب سے پہلے آتا ہے اور ان کو چاہئے کہ وہ اللہ کے عذاب سے زیادہ ڈریں۔ یہ عذاب تو رات اور دن کے ہر لمحے میں تمہارے انتظار میں ہے۔ اس لیے یہ شخص ان کو یاد دلاتا ہے کہ تم زمین کے مقتدر اعلیٰ ہو ، بادشاہ ہو ، لہٰذا تمہیں اللہ سے ، ان کے مقابلے میں زیادہ ڈرنا چاہئے۔ یہ بات اس رجل مومن کے احساسات کا حصہ ہے ، اور جب اللہ کے عذاب کی بات وہ کرتا ہے تو اپنے آپ کو ان میں شامل کرتا ہے۔ فمن ینصرنا۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ جب تقریر یہاں تک پہنچی ہے تو فرعون کے اندر وہی ردعمل پیدا ہوتا ہے جو ہر سرکش پر طاری ہوتا ہے۔ جھوٹا وقار ہر شخص کو برائی پر آمادہ کرتا ہے۔ اور ایسا شخص خالص نصیحت کو بھی سلطنت اور اختیارات پر حملہ تصور کرتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ نصیحت کرنے والا کہیں اقتدار میں شرکت چاہتا ہے۔ قال فرعون۔۔۔۔ الرشاد (40: 29) ” فرعون نے کہا ، میں تو لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے۔ اور میں اس راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں ، جو ٹھیک ہے “۔ میں تمہیں وہی کچھ کہتا ہوں جسے میں درست سمجھتا ہوں۔ اور میں یقین کرتا ہوں کہ وہ مفید ہے اور بغیر صحیح راستہ ہے۔ ظاہر ہے کہ سرکش ڈکٹیٹر جو سوچتا ہے وہی درست ہوتا ہے۔ کسی کو یہ کیسے اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ سوچے کہ بادشاہ غلط بھی سوچ سکتے ہیں یا کسی کو یہ اختیار کب ہے کہ وہ شاہ یاڈکٹیٹر کی رائے ہوتے ہوئے کوئی دوسری رائے رکھے۔ اگر یہ بات ہودسکتی ہے تو پھر وہ کس چیز کے بادشاہ اور ڈکٹیٹر ہیں ! لیکن رجل مومن کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ شاہ کے مقابلے میں مستقل سوچ رکھے۔ پھر ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ ان کو ڈرائے اور متنبہ کرے اور نصیحت کرے اور ایمانداری سے اس کی جو رائے ہے ، اس کا اظہار کرے۔ اور اس بات کو اپنا فریضہ سمجھے کہ جس رائے کو وہ حق سمجھتا ہے ، اس کی حمایت کرے ، سرکشوں ، ڈکٹیٹروں اور بادشاہوں کی جو رائے ہو ، سو ہو۔ اس لیے یہ رجل مومن اس دوسرے زاویہ سے ان کے دل و دماغ پر دستک دیتا ہے کہ شاید وہ احساس کرلیں ، جاگ اٹھیں اور ان کے اندر ارتعاش پیدا ہو اور وہ نرم ہوجائیں ، اس لیے وہ ان کو تاریخ میں گزری ہوئی سرکش اقوام کے برے انجام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تاریخ کے اندر بیشمار ایسے واقعات موجود ہیں جو بتاتے ہیں کہ سرکشوں اور حد سے گزرنے والوں کو اللہ نے پکڑا ہے۔ وقال الذی۔۔۔۔۔ للعباد (40: 30 تا 31) ” وہ شخص جو ایمان لایا تھا ، اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، مجھے خوف ہے ، کہ کہیں تم پر بھی وہ دن نہ آجائے جو اس سے پہلے بہت سے جتھوں پر آچکا ہے ، جیسا دن قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعدوالی قوموں پر آیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ ہر جتھے کا ایک دن علیحدہ تھا۔ لیکن رجل مومن نے تمام علیحدہ علیحدہ دنوں کی تعبیر ایک ہی دن سے کردی۔ مثل یوم الاحزاب (40: 30) وہ گویا ایک ہی دن تھا ، جس کی نوعیت ایک طرح تھی۔ اگرچہ احزاب بہت تھے۔ وما اللہ یرید ظلماللعباد (40: 31) ” اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ اللہ ان کے گناہوں پر انہیں پکڑتا ہے۔ اور ان لوگوں کے انجام کو دیکھ کر دوسرے لوگ جو ان کے اردگرد بستے ہیں ، ان کی اصلاح ہوجاتی ہے اور جو لوگ ان ہلاک شدہ اقوام کے بعد آتے ہیں ان کو عبرت ہوتی ہے۔ اب یہ رجل مومن ان کے دلوں پر ایک اور دستک دیتا ہے اور یہ اللہ کے دنوں میں سے بڑے دن یوم آخرت کو یاد دلاتا ہے۔ اسے یہاں فریادوفغاں کا دن کہا گیا ہے۔ ویٰقوم انی۔۔۔۔ من ھاد (40: 32 تا 33) ” اے قوم ، مجھے ڈر ہے کہ کہیں فریادوفغاں کا دن نہ آجائے جب تم ایک دوسرے کو پکاروگے اور بھاگے بھاگے پھروگے ، مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا “۔ تناوی کے معنی ہیں باہم پکار ، اس دن ملائکہ جو لوگوں کو پکڑ کر حساب و کتاب کے لیے لائیں گے اور ایک دوسرے کو احکامات دیتے ہوئے پکاریں گے۔ پھر اصحاب اعراف جنت والوں کو پکاریں گے ، اور دوزخ والوں کو بھی پکاریں گے اور دوزخی جنت والوں کو پکاریں گے لہٰذا مختلف صورتوں میں لوگ ایک دوسرے کو پکاریں گے اس لیے قامت کے دن کو یوم القاد کیا گیا ہے جس کے مفہوم میں باہم چیخ و پکار اور فریادوفغاں شامل ہے۔ ہر طرف سے دوڑ دھوپ اور شور ہوگا۔ یہ مفہوم رجل مومن کے اس قول کے مطابق ہے۔ یوم تولون۔۔۔۔ من عاصم (40: 33) ” جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا “۔ یہ جہنم کے خوف سے بھاگنے کی کوشش بھی کریں گے لیکن بھاگ نہ سکیں گے۔ یہاں فریادوفغاں اور فرار اور پکڑے جانے کی جو تصویر کھینچی گئی ہے ، وہ ان متکبرین کے لیے نہایت ہی مناسب ہے ، جو یہاں جاہ مرتبہ رکھتے ہیں کہ وہاں یہ حالت ہوگی تمہاری۔ ومن یضلل اللہ فماله من ھاد (40: 33) ” سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں “۔ اس میں ایک خفیہ اشارہ فرعون کے اس قول کی طرف ہے۔ ومآ اھدیکم الاسبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو صرف صحیح راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں “۔ اشارہ یہ ہے کہ ہدایت والا راستہ تو وہ ہے جو اللہ بتائے اور فرعون کا بتایا ہوا راستہ وہ نہیں ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ کیونکہ اللہ لوگوں کی حقیقت اور ان کے حالات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کے لیے ہدایت کا راستہ کیا ہے اور ضلالت کیا ہے۔ آخر میں یہ رجل مومن ان کو یاد دلاتا ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رسالت میں بھی شک کرتے تھے حالانکہ آپ آیات اور نشانیاں لے کر آئے تھے۔ لہٰذا وہی سلوک حضرت موسیٰ سے نہ دہراؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تصدیق فرما رہے ہیں۔ تم نے حضرت یوسف کی تعلیمات میں بھی شک کیا اور یہ غلط تصور قائم کردیا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بعد اللہ کسی کو رسول بناکرنہ بھیجے گا۔ حضرت موسیٰ حضرت یوسف کے ایک عرصہ بعد آگئے ہیں اور انہوں نے تمہارے اس اعتقاد کی تکذیب کردی ہے کہ اب رسالت ختم ہے۔ ولقد جآء کم۔۔۔۔۔۔ متکبر جبار (40: 34 تا 35) ” اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس بنیات لے کر آئے تھے مگر تم ان کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہے۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا اب ان کے بعد اللہ کوئی رسول ہرگز نہ بھیجے گا “۔ اسی طرح ان سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکی ہوتے ہیں اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ یہ واحد جگہ ہے جس میں قرآن نے حضرت یوسف کی رسالت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کو مصر والوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔ سورت یوسف سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا ہے کہ آپ کو مصر کے خزانے حوالے کردیئے گئے تھے۔ آپ ان میں خود مختاری کے ساتھ تصرف کررہے تھے اور آپ ” عزیز مصر “ کے مرتبے تک پہنچ گئے تھے ۔ یوں لگتا ہے کہ یہ اس وقت مصری وزیزاعظم کا لقب تھا۔ سورت یوسف میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ مصر کے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اگرچہ یہ بات یقینی نہیں کہ آپ بادشاہ مصر بن گئے تھے۔ ورفع ابویه۔۔۔۔ ربی حقا (یوسف :100) ” اور انہوں نے اپنے والدین کو تخت پر اٹھایا۔ وہ اس کے سامنے سجدے میں کرگئے اور اس نے کہا اے باپ ! یہ ہے تاویل میرے خواب کی جو میں نے پہلے دیکھی تھی ، جسے اللہ نے حق بنادیا “۔ یہ ہوسکتا ہے کہ جس تحت پر آپ نے اپنے والدین کو اٹھا کر بٹھایا وہ کوئی اور ممتاز جگہ ہو اور مملکت مصرکاتحت نہ ہو جس پر فرعون بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن ان آیات سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف اقتدار اعلیٰ تک پہنچ گئے تھے۔ اس لیے ہم رجل مومن کے اس قول کے مفہوم کو سمجھ سکتے ہیں کہ ان کو حضرت یوسف کی تعلیمات کے بارے میں شک تھا۔ البتہ حضرت یوسف چونکہ اقتدار کے بہت ہی اعلیٰ مقام پر تھے اس لیے لوگ آپ کی مخالفت میں آواز نہ اٹھاتے تھے۔ حتی اذا۔۔۔۔ بعدہ رسولا (40: 34) ” یہاں تک کہ جب آپ فوت ہوگئے تو تم نے کہا اس کے بعد اللہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا “۔ گویا آپ کی موت سے ان کو بےحد خوشی ہوئی اور خوشی کا اظہار انہوں نے اس شکل میں کیا کہ رسالت کا خاتمہ کردیا کیونکہ شاید وہ آپ کی تعلیمات کو پسند نہ کرتے تھے کیونکہ آپ تو توحید خالص کی تعلیم دیتے تھے۔ یہ تعلیم جیسے آپ کی تقریر زنداں سے واضح ہے۔ ء ارباب۔۔۔۔ القھار (12: 39) ” کیا کئی رب بہتر ہیں یا ایک اللہ واحد اور زبردست “۔ انہوں نے یہ عقیدہ اس لیے اختیار کیا کہ حضرت یوسف کے بعد کوئی رسول نہ آئے اس لیے وہ اس طرح چاہتے تھے۔ بعض اوقات ایک شخص ایک چیز کو بہت پسند کرتا ہے۔ پھر وہ اس بات کی تصدیق کردیتا ہے کہ یہ بات واقع ہوگئی ہے کیونکہ اس طرح اس کی خواہش پوری ہوتی ہے۔ رجل مومن کا اندازیہاں قدرے سخت ہوجاتا ہے۔ جب وہ یہ کہتا ہے تم شک کرتے ہو اور حد سے گزرکرتکذیب کرتے ہو۔ لذلک ۔۔۔ مرتاب (40: 34) ” اللہ ان لوگوں کو اسی طرح گمراہ کرتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شک کرنے والے ہوتے ہیں “۔ یہ رجل مومن ان کو ڈراتا ہے کہ اللہ نے جو دعوت نشانیوں کے ساتھ بھیجی ہے اس کے بارے میں جو حد سے گزرے گا اور اس میں شک کرے گا ، تو اللہ اسے گمراہ کردے گا ، وہ تو دیکھ رہا ہے۔ اس کے بعد بڑی سختی سے ان کو بتلاتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کے بارے میں بلاحجت و دلیل جھگڑتے ہیں ، ان کو مومنین اور اللہ دونوں ناپسند کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا رویہ بہت ہی برا ہے۔ اور ان کے تکبر اور جبر کے رویہ پر بھی یہ شخص تنقید کرتا ہے اور ان کو اللہ کی پکڑ سے ڈراتا ہے اور اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ جباروں اور قہاروں کو بالاخر پکڑتا ہے ! الذین یجادلون۔۔۔۔۔ متکبرجبار (40: 35) ” اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پت ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ رجل مومن کی زبانی جو بات کی گئی وہی بات سورت کے آغاز میں براہ راست بھی کہی گئی کہ جو لوگ اللہ کی آیات میں بغیر دلیل وحجت کے مجادلہ کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں ہدایت کی کوئی جگہ نہیں ہوتی اور نہ ان کا دماغ حقیقت کے ادراک تک پہنچ سکتا ہے۔ رجل مومن کی اس طویل ترین تقریر کے باوجود جس میں انکو تاریخ کے سب سے نشیب و فراز دکھائے گئے اور انکو متاثر کرنے کی سعی کی گئی ، فرعون اپنی گمراہی میں آگے ہی بڑھتا رہا اور اسنے حق کو پہنچاننے کی کوئی سعی نہ کی لیکن بظاہر اسنے یہ احمقانہ رویہ اختیار رویہ اختیار کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دعا دی کی تحقیقات کررہا ہے بہرحال رجل مومن کی تقریر کا یہ اثر ضرور ہوا کہ فرعون کسی نہ کسی انداز میں اس تحریک کے بارے میں تحقیق پر آمادہ ہوا یوں فرعون نے مجلس سیوخ کی رائے کو براہ راست ردنہ کیا
Ayahs 40:36–37

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

فرعون نے کہا ” اے ہامان ' میرے لیے ایک بلند عمارت بناتا کہ میں راستوں تک پہنچ سکوں

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

آسمانوں کے راستوں تک ' اور موسیٰ کے خدا کو جھانک کردیکھوں۔ مجھے تو یہ موسیٰ جھوٹا ہی معلوم ہوتا ہے “۔۔۔۔ اسی طرح فرعون کے لیے اس کی بدعملی خوشنما بنادی گئی اور وہ راہ راست سے روک دیا گیا۔ فرعون کی ساری چال بازی (اس کی اپنی) تباہی کے راستہ ہی میں صرف ہوئی

آیت نمبر 36 تا 37 فرعون نے ہامان سے کہا میرے لیے ایک بلند عمارت بناتک کہ میں آسمان کے راستوں تک پہنچ سکوں اور موسیٰ کے حدا کے بارے میں جان سکوں۔ وانی لاظنه جاذبا (40: 37) ” مجھے تو یہ موسیٰ جھوٹا ہی معلوم ہوتا ہے “۔ یہ سرکش فرعون کی چالاکی اور اٹکل بازی ہے ، وہ سچائی کے مقابلے میں علانیہ آنا نہیں چاہتا اور عقیدۂ توحید کا اعتراف بھی نہیں کرتا کیونکہ اس صورت میں اس کی حکومت جاتی ہے ، جن افسانوں پر اس کی مملک قائم تھی وہ عقیدۂ توحید کے بعد باطل قرار پاتے تھے۔ یہ بات بعید ازامکان ہے کہ فرعون اس قدر کم عقل تھا اور وہ اس علمی سطح کا آدمی تھا۔ اور وہ الہہ موسیٰ کو اس سادہ انداز سے دھوکہ دے رہا تھا کیونکہ فراعنہ مصر علمی لحاظ سے بہت ہی ترقی یافتہ تھے۔ یہ دراصل اس کی طرف سے حضرت موسیٰ اور الہٰ العالمین کے ساتھ مذاق تھا۔ البتہ اس مذاق کے ساتھ وہ اپنے رویہ کو بظاہر منصفانہ بنانا چاہتا تھا۔ اور رجل مومن نے جو زبردست منطقی تقریر کی تھی اس سے جان چھڑانے کا یہ بھونڈا طریقہ اور تدبیر تھی لیکن یہ سب باتیں یہ ضرور ظاہر کردیتی ہیں کہ فرعون مصر کو اپنی گمراہی پر اصرار تھا اور وہ کبر میں مبتلا تھا۔ اور حضرت موسیٰ کو رع کرنے پر تلا ہو تھا۔ وکذٰلک۔۔۔ عن السبیل (40: 37) ” اس طرح فرعون کے لیے اس کی بدعملی خوشنما بنادی گئی اور وہ راہ راست سے روک دیا گیا “۔ اور اب وہ اس بات کا مستحق قرار پا گیا کہ اسے راستے سے روک دیاجائے کیونکہ وہ جس رویے کا اظہار کررہا تھا ، وہ صراط مستقیم سے دور انحراف کا رویہ تھا۔ نتیجہ یہ نکالا جاتا ہے کہ وہ بربادی اور ناکامی کی طرف بڑھ رہا ہے ، وماکیدفرعون الافی تباب (40: 37) ” اور فرعون کی ساری چالبازی تباہی کے راستہ ہی میں صرف ہوئی۔ اسی مذاق اور فریب اور گمراہی پر یہ اصرار کو دیکھکر رجل مومن نے بھی مناسب سمجھا کہ ایک آخری بات ان سے کہہ دے۔ یہ بہت ہی بلند واضح بات ہے۔ اس سے پہلے تو لوگوں کو یہ دعوت دی کہ میرا اتباع کرو ، میں تمہیں سیدھی راہ کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ پھر اس نے لوگوں کو بتایا کہ یہ زندگی تو بہت ہی مختصر اور فانی زندگی ہے۔ اسلیے تم اس زندگی کا انتظام کرو جو باقی رہنے والی ہے اور آخرت کے دائمی عذاب سے بچو اور اسنے واضح طور پر بتایا کہ شرک کے عقیدے میں کیا کیا کمزوریاں ہیں :
Ayahs 40:38–44

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ Open ayah 40:38 in the Quran reader

وہ شخص جو ایمان لایا تھا ، بولا “ اے میری قوم کے لوگو ، میری بات مانو ، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں

یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ Open ayah 40:39 in the Quran reader

اے قوم ، یہ دنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے ، ہمیشہ کے لیے قیام کی جگہ آخرت ہی ہے

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 40:40 in the Quran reader

جو برائی کرے گا اس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اس نے برائی کی ہوگی۔ اور جو نیک عمل کرے گا ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت ، بشرطیکہ ہو وہ مومن ، ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ جہاں ان کو بےحساب رزق دیا جائے گا

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اے قوم ، آخر یہ کیا ماجرا ہے ، کہ میں تو تم لوگوں کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم لوگ مجھے آگ کی طرف دعوت دیتے ہو !

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ ان ہستیوں کو شریک ٹھہراؤں جنہیں میں نہیں جانتا ، حالانکہ کہ میں تمہیں اس زبردست مغفرت کرنے والے خدا کی طرف بلارہا ہوں

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

نہیں ، حق یہ ہے اور اس کے خلاف نہیں ہوسکتا کہ جن کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو ، ، ان کی لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت ہے ، اور ہم سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے ، اور حد سے گزرنے والے آگ میں جانے والے ہیں

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

آج جو کچھ میں کہہ رہا ہوں ، عنقریب وہ وقت آئے گا ، جب تم اسے یاد کروگے۔ اور اپنا معاملہ میں اللہ کے سپرد کرتا ہوں ، وہ اپنے بندوں کا نگہبان ہے

آیت نمبر 38 تا 44 یہ وہ حقائق ہیں جن کے بارے میں اس سورت کے آغاز میں دوٹوک الفاظ میں بتادیا گیا تھا۔ یہاں رجل مومن اپنی تقریر میں فرعون کے سامنے ان کو دہرتا ہے۔ یہ فرعون کے سامنے کہتا ہے۔ یٰقوم اتبعون اھدکم سبیل الرشاد (40: 38) ” اے قوم ، میری بات مانو ، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں “۔ اس سے چند لمحہ پہلے فرعون نے یہ کہا تھا : وما اھدیکم الا سبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو تمہیں سیدھے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں بتاتا “۔ رجل مومن کی طرف سے گویا فرعون کو اس بادشاہت اور جباری وقہاری کے باوجود صریح چیلنج ہے۔ یہ چیلنج اس وقت دیا جارہا ہے جبکہ اس کے پاس اس کے امراہامان اور قارون بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں فرعون کے وزیر تھے جیسا کہ روایات میں آتا ہے۔ رجل مومن ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی حقیقت یوں کھولتا ہے۔ انما ھٰذہ الحیوۃ الدنیا متاع (40: 39) ” یہ دنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے “۔ ایک ایسا سازوسامان ہے جو زائل ہونے والا ہے اس کے لیے ثبات و دوام نہیں ہے۔ وان الاخرۃ ھی دار القرار (40: 39) ” اور دار آخرت ہی ہمشہ قیام کی جگہ ہے “۔ آخرت اصل ہے اور اسے زیادہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔ پھر وہ یہ بات دوٹوک الفاظ میں کہتا ہے کہ من عمل۔۔۔ حساب (40: 40) ” جو برائی کریگا اس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اس نے برائی کی ہوگی اور جو نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت ، بشرطیکہ ہو وہ مومن ، ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے ، جہاں ان کو بےحساب رزق دیا جائگا “۔ اللہ کے فضل وکرم کا تقاضا ہوا کہ نیکیوں کو بڑھایا جائے اور بغیر حساب معاوضہ ہو اور برائیوں کو نہ بڑھایا جائے ۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے اپنے بندوں کی کمزوریوں کا اللہ نے خیال رکھا ہے اور خیر اور بھلائی کے کاموں کو پرکشش بنانے کے لیے اللہ نے ان کے اجر کو زیادہ رکھاتا کہ لوگ اس راہ پر ثابت قدمی سے کا مزن ہوں۔ اللہ نے نیکی کو سیئات اور برائیوں کا کفارہ بنادیا اور جب وہ اس نرم حساب و کتاب کے بعد جنت میں پہنچیں گے تو وہاں بغیر حساب و کتاب ان کو دیا جائے گا۔ یہ رجل مومن اپنی تقریر میں ان پت تنقید بھی کرتا ہے وہ تو ان کو راہ نجات کی طرف بلاتا ہے۔ جنتوں کی طرف بلاتا ہے ، اور وہ اسے آگ کی طرف بلا رہے ہیں۔ وہ سرزنش کے انداز میں کہتا ہے : ویٰقوم۔۔۔۔ الی النار (40: 41) ” اے قوم ، آخر یہ کیا ماجرا ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف دعوت دیتے ہو “۔ انہوں نے تو بظاہر اس کو آگ کی طرف نہیں بلایاشرک کی طرف بلایا۔ ظاہر ہے کہ شرک کی طرف بلانے اور آگ کی طرف بلانے میں کیا فرق ہے۔ یہ ایک ہی بات ہے اور اگلی آیت میں بات صاف کردیتا ہے۔ تدعوننی لاکفر۔۔۔۔ الغفار (40: 42) ” تم مجھے اس بات کی طرف دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ ان ہستیوں کو شریک ٹھہراؤں جنہیں میں نہیں جانتا حالانکہ میں تمہیں زبردست مغفرت کرنے والے خدا کی طرف بلاتا ہوں “۔ اور ان دونوں دعوتوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ میری دعوت تو بہت واضح اور صاف ہے۔ عزیز و غفار کی طرف سے یہ دعوت ۔ ایک ایسے اللہ وحدہ کی طرف دعوت ہے جس کی وحدانیت پر اس کائنات کے تمام آثارشاہد ہیں اور اس کی قدرت اور حکمت پر اس کائنات کی ہر چیز شاہد عادل ہے۔ وہ ان کو اس کی طرف بلاتا ہے جو مغفرت کرنے والا ہے تاکہ بخش دے۔ جو بہت بڑا بخشنے والا ہے۔ اور یہ لوگ اس رجل مومن کس طرف بلاتے ہیں ؟ کفر کرنے کے لیے ، شرک کرنے کے لیے ، جس کا اسے کوئی علم نہیں ہے۔ محض دعویٰ ہے ، اوہام ہیں اور افسانے ہیں جن پر ان کا عقیدہ ہے۔ وہ ان کو دوٹوک الفاظ میں کہتا ہے کہ جن ہستیوں کو تم نے خدا کا شریک بنارکھا ہے۔ ان کی تو نہ دنیا میں کوئی پوزیشن ہے اور نہ آخرت میں کوئی پوزیشن ہے۔ آخر کار تمام انسانوں کو تو صرف اللہ کے ہاں لوٹنا ہے۔ اور یہ تم لوگ جو اسراف کرتے ہو اور حدود کو یاد کرتے ہو تمہارے لیے تو جہنم کے سوا کچھ نہیں ہے۔ لاجرم۔۔۔۔۔ اصحٰب النار (40: 43) ” حق یہ ہے اور اس کے خلاف نہیں ہوسکتا کہ جن کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو ، ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت ہے ، نہ آخرت میں اور ہم سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے اور حد سے گزرنے والے آگ میں جانے والے ہیں “۔ عقائد کے حوالے سے یہ بنیادی باتیں دوٹوک انداز میں بیان کردینے کے بعد کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ یہ سب باتیں اس رجل مومن نے فرعون ، اس کے درباریوں اور وزراء کے سامنے کردیں ، بغیر کسی جھجک اور شف شف کے۔ پہلے تو وہ اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا لیکن تقریر کے آخر میں اسنے اس کا اظہار کردیا۔ اب صرف یہ بات رہتی ہے کہ حق تبلیغ ادا کرنے کے بعد وہ تمام امور کو اللہ پر چھوڑدے۔ اسنے بات کہہ دی ، اس کا ضمیر مطمئن ہوگیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ اے کاش ! عنقریب تم میری باتوں کو یاد کروگے لیکن اس وقت اس نصیحت کا تمہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ حقیقت میں معاملات کی باگ ڈور اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ فستذکرون۔۔۔۔ بالعباد (40: 44) ” آج جو کچھ میں کہہ رہا ہوں عنقریب وہ وقت آئے گا جب تم اسے یاد کروگے اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ وہ اپنے بندوں کا نگہنان ہے “۔ اب اس پر یہ تقریر اور مکاملہ ختم ہوتا ہے۔ رجل مومن نے کلمہ حق اس کائنات کے ضمیر میں ریکارڈکرادیا اور قرآن نے اسے لازوال دوام بخشا۔ یہاں سیاق کلام حضرت موسیٰ اور فرعون کی طویل کشمکش کی بعض کڑیوں کو مجمل کردیتا ہے۔ اب یہاں بنی اسرائیل کے فرار اور نجات اور فرعون کی غرقابی کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس پر تبصرے کیے جاتے ہیں۔ برزخی زندگی میں اس کا حال یہ ہوگا۔
Ayahs 40:45–50

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

آخر کار ان لوگوں نے جو بری سے بری چالیں اس مومن کے خلاف چلیں ، اللہ نے ان سب سے اس کو بچالیا ، اور فرعون کے ساتھ خود بدترین عذاب کے پھیر میں آگئے

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

۔ دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے صبح وشام وہ پیش کیے جاتے ہیں اور جب قیامت کی گھڑی آجائے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

پھر ذراخیال کرو اس وقت کا جب یہ لوگ دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑ رہے ہوں گے۔ دنیا میں جو لوگ کمزور تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ ” ہم تمہارے تابع تھے ، اب کیا یہاں تم نار جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچالوگے

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

وہ بڑے بننے والے جواب دیں گے ” ہم سب یہاں ایک حال میں ہیں ، اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

پھر یہ دوزخ میں پڑے ہوئے لوگ جہنم کے اہل کاروں سے کہیں گے ” اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے عذاب میں بس ایک دن کی تخفیف کردے

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

وہ پوچھیں گے ” کیا تمہارے پاس رسول بینات لے کر نہیں آتے رہے تھے ؟ “ وہ کہیں گے ” ہاں “۔ جہنم کے اہل کار بولیں گے :” پھر تو تم ہی دعا کرو ، اور کافروں کی دعا اکارت ہی جانے والی ہے

آیت نمبر 45 تا 50 یہاں اس دنیا کے صفحات کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور کتاب دنیا کا آخری صفحہ جو ہم نے پڑھا یہ ہے کہ رجل مومن جس نے کلمہ حق نہایت بےباکی کے ساتھ کہا اور چلا گیا تو اسکو اللہ نے فرعون کی بری اور گہری مکاریوں سے بچالیا۔ فرعون اور اسکے حاشیہ نشین نہ اسے اس دنیا میں گزند پہنچاسکے اور نہ آخرت میں جبکہ فرعون اور اس کے تمام ساتھی ایک نہایت ہی برے عذاب میں گھر گئے۔ النار یعرضون۔۔۔۔ اشد العذاب (40: 46) ” دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے یہ صبح وشام پیش کیے جاتے ہیں اور جب قیامت کی گھڑی آئے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو “۔ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ صبح وشام ان کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کی موت کے بعد اور قیامت سے پہلے کے زمانے میں ، یہ ہوگا عذاب قبر۔ کیونکہ اس کے بعد یہ فقرہ آتا ہے۔ ویوم تقوم۔۔۔۔ العذاب (40: 46) ' اور جب قیامت کی گھڑی آئے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو “۔ لہٰذا آگ پر پیش کرنے کا عذاب قیامت سے پہلے کا عذاب ہوگا اور یہ بہت ہی سخت سزا ہے کہ صبح وشام ان کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہ اسے دیکھتے اور سوچتے ہیں کہ یہ آگ ہے جو انہیں جلائے گی۔ اس کی حرارت تو ان کو بہرحال پہنچے گی۔ یہ بھی شدید عذاب ہے کیونکہ لفظ عرض قرآن میں چھونے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تو معنی یہ ہوں گے کہ عملاً انہیں صبح وشام آگ میں جلایا جاتا ہے اور قیامت کے دن پھر مستقلاً شدید ترین عذاب میں داخل ہوں گے۔ لیکن اگلی آیت میں اب جو منظر ہے اس میں قیامت عملاً برپا ہے۔ ایک جھلک جہنم کی دکھائی جاتی ہے۔ جہاں وہ یوں جھگڑتے ہیں : فیقول۔۔۔۔ من الناز (40: 47) ” دنیا میں جو لوگ کمزور تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے ، ہم تمہارے تابع تھے ، اب کیا یہاں تم نار جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچالوگے “۔ اس وقت ضعفاء بھی متکبرین کے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔ یہ بات ان کے لیے بھی مفید نہ ہوگی کہ وہ دوسروں کے تابع مہمل تھے اور ماتحت تھے۔ ان کے لیے یہ بات مفید نہ ہوگی کہ انہیں تو دنیا میں بھیڑ بکریوں کی طرح چلایا جارہا تھا۔ اور ان کی کوئی رائے اور کوئی ارادہ نہ تھا اور نہ اختیارات تھے۔ اللہ نے تو ان کو بہت بڑا مرتبہ دیا تھا ، انسانی کرامت اور شرافت دی تھی اور یہ شرافت دی تھی کہ ہر ایک فرد اپنے کیے کا ذمہ دار ہے۔ اور ہر فرد کو آزادی اور حریت دی تھی لیکن انہوں نے ازخود ان سب باتوں کو ترک کردیا اور ازخود انہوں نے ان بڑے اور سرکشوں کے پیچھے چلنا شروع کردیا۔ اس لیے اب یہ لوگ ان کبراء سے کیوں شکایت کرتے ہیں بلکہ وہ اس شکایت کے بارے میں سوچتے کیوں ہیں بلکہ یہ جو شکایت کرتے ہیں اسکے بارے میں انہوں نے سوچا ہی نہیں ، وہ کہتے ہیں۔ انا کنا لکم تبعا (40: 47) ” ہم تمہارے تابع تھے “۔ لیکن یہ اس لیے تو تابع نہ ہوئے تھے اور اپنی آزادی سے اس لیے تو دستکش نہ ہوئے تھے کہ اللہ کے ہاں یہ کبراء کوئی شفاعت کریں گے۔ وہ تو اس وقت آگ میں جل رہے ہیں اور یہاں تک کبراء ہی نے ان کو پہنچایا ہے ، جس طرح وہ دنیا میں ان کو چلاتے تھے۔ اس طرح جیسے بھیڑ بکریوں کو چلایا جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ ان کبراء سے پوچھتے ہیں۔ فھل انتم مغنون عنا نصیبا من النار (40: 47) ” اب کیا یہاں تم نار جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچالوگے “۔ جس طرح زمین میں تمہارا دعویٰ تھا کہ ہم عوام کو سیدھے راستے کی طرف لے جاتے ہیں اور فساد سے بچاتے ہیں اور شر اور تکلیفوں اور دکھوں سے اور دشمنوں کی سازشوں سے بچاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو دنیا میں بڑے بنے ہوئے تھے۔ وہ اس سوال کا جواب بڑی ترشی سے دیتے ہیں ، کیونکہ وہ جہنم کے عذاب میں جل رہے ہیں ، نہایت ہی تنگدلی کیساتھ ، وہ دوٹوک الفاظ میں ، جواب دیتے ہیں اور استکبار کے بعد اب اجرام کا اقرار کرتے ہیں۔ قال الذین۔۔۔۔ العباد (40: 48) ” بڑے بننے والے جواب دیں گے ، ہم سب یہاں ایک حال میں ہیں اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے “۔ ہم سب اس میں ہیں۔ اناکل فیھآ (40: 48) ” ہم سب اس میں ہیں “۔ اب ہم سب ضعفاء ہیں۔ کوئی معاون اور کوئی مددگار نہیں ہے۔ سب رنج والم میں مبتلا ہیں ، سب کے سب دردوکرب میں ہیں۔ اس لیے تمہارا سوال احمقانہ ہے ۔ یہاں تو کبراء وضعفاء سب ہی مر رہے ہیں۔ اللہ نے فیصلہ سب کا کردیا ہے ، اس پر کوئی اپیل نہیں ہوسکتی ، اس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوسکتا۔ یہ فائنل فیصلہ ہے۔ بندوں میں سے تو کوئی اللہ کے کسی فیصلے کی سزا میں کمی نہیں کرسکتا۔ جب دونوں نے معلوم کرلیا کہ اللہ کے سوا کوئی شنوائی نہیں کرسکتا تو یہ لوگ اب جہنم کے داروغہ کی طرف جاتے ہیں ، نہایت ہی ذلت کی حالت میں ، نہایت ہی عاجزی اور بےکسی میں ، اور یہ حالت کبراء وضعفاء دونوں پر طاری ہے۔ وقال الذین۔۔۔۔۔ العذاب (40: 49) ” پھر یہ دوزخ میں پڑے ہوئے لوگ جہنم کے اہل کاروں سے کہیں گے ” اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے عذاب میں پس ایک دن کی تخفیف کردے “۔ اب یہ جہنم کے اہل کاروں کی سفارش لانے کی سعی کریں گے کہ وہ ان کی دوخواست پیش کریں ، ان اہلکاروں سے امیدیں وابستہ کریں گے کیونکہ عذاب سخت ہے ، اور تم لوگ رب تعالیٰ سے صرف ایک دن کی معافی دلوا دو ۔ صرف اہل دن ۔ کہ ایک دن کے لیے تو ہم سانس لے سکیں اور ایک دن ہی تو آرام سے گزرجائے ۔ جہنم میں ایک دن بھی اس قدر اہم ہوگا کہ اس کے لیے یہ عاجزانہ التماس کررہے ہیں۔ لیکن جہنم کے اہل کار اس عاجزانہ دوخواست پر بحث ہی نہیں کرتے ۔ جو نہایت ہی ذلت اور مصیبت میں دی گئی ہے کیونکہ ان کو اللہ کے قواعد معلوم ہیں۔ ان کو سنت الہیہ کا علم ہے۔ امن کو معلوم ہے کہ ان لوگوں نے وقت گنوادیا ہے۔ لہذا وہ ان کو ملامت کرکے مزید دکھ دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اب تو سوچو کہ اس حالت زار تک کس طرح پہنچے۔ قالوآاولم۔۔۔۔۔ قالوابلٰی (40: 50) ” وہ پوچھیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں لے کر نہیں آتے رہے تھے۔ وہ کہیں گے ہاں “۔ جہنم کے اہل کار ان کا یہ سوال جواب ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ بات یہاں ختم ہوجائے ۔ اب جہنم کے اہل کار ان سے دامن جھاڑلیتے ہیں اور نہایت ہی حقارت اور استہزاء کے ساتھ ان کو اس مایوسی میں ڈوبا ہوا چھوڑ دیتے ہیں۔ قالوا فادعوا (40: 50) ” پھر تو تم دعا کرو “۔ اگر یہ دعا تمہاری اس حالت کے اندر کوئی تبدیلی پیدا کرسکتی ہے۔۔۔۔ اور آخر میں یہ تبصرہ آتا ہے : وما دعوالکٰفرین الافی ضلٰل (40: 50) ” اور کافروں کی دعا اکارت ہی جانے والی ہے “۔ وہ مقام تک نہیں پہنچ سکتی ۔ وہ نہ جگہ تک پہنچتی ہے اور نہ اس کا جواب آتا ہے۔ یوں ضعفاء اور کبراء دونوں کو ناقابل التفات حالت میں چھوڑدیا جاتا ہے۔ جہنم کے اس فیصلہ کن موقف کے بعد آخری تبصرہ یہ ہے۔ یہ تمام مخلوق کے لیے سبق ہے۔ اس سے قبل اس طرف اشارہ آیا تھا کہ جو گروہ اور پارٹیاں اللہ کے عذاب کو دعوت دیتی ہیں اور رسول کی تکذیب کرتی ہیں اور زمین میں استکبار کا رویہ اختیار کرتی ہیں ، قیامت میں تو ان اک یہ حال ہوگا ہی دنیا میں بھی بےغم نہ رہیں گے۔
Ayahs 40:51–55

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازما کرتے ہیں ، اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

، کب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اور ان پر لعنت پڑے گی اور بدترین ٹھکانہ ان کے حصے میں آئے گا

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

آخر دیکھ لو کہ موسیٰ کی ہم نے رہنمائی کی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنا دیا

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

۔ جو عقل و دانش رکھنے والوں کے لیے ہدایت ونصیحت تھی

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

۔ پس اے نبی ؐ صبر کرو ، اللہ کا وعدہ برحق ہے ، اپنے قصور کی معافی چاہو اور صبح وشام کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو

آیت نمبر 51 تا 55 اس دوٹوک موقف پر یہ فیصلہ کن تبصرہ بہت ہی مناسب ہے۔ انسانیت وک معلوم ہوگیا کہ حق و باطل کی کشمکش کا آخری انجام کیا ہوا کرتا ہے۔ اس دنیا میں دونوں کا انجام کیا ہوتا ہے اور آخرت میں دونوں کا انجام کیا ہوگا۔ انسانوں نے دیکھ لیا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کا انجام اس دنیا میں کیا ہوا جس طرح انہوں نے قیامت کے منظر میں دیکھ لیا کہ وہ آگ میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ اور ان کو نہایت حقارت کے ساتھ ناقابل التفات چھوڑدیا گیا ۔ ہر کشمکش کا فیصلہ یہی ہوتا ہے جس طرح قرآن کا صریح فیصلہ ہے۔ انالنضر۔۔۔۔ الدار (40: 51 تا 52) ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں ، اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے ، جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اور ان پر لعنت پڑے گی اور بدترین ٹھکانا ان کے حصے میں آئے گا “۔ رہی آخرت تو کسی مومن کی جانب سے تو اس کے بارے میں کسی بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پر بحث ہوسکے ۔ رہی دنیا میں نصرت تو اس کی تشریح کی ضرورت ہے۔ بہرحال اللہ کا فیصلہ اور وعدہ تو یقینی ہے۔ قطعی الفاظ میں ہے۔ انا لننصر۔۔۔۔ الدنیا (40: 51) ” بیشک ہم اپنے رسولوں اور لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں مدد کرتے ہیں “۔ لیکن لوگوں کا مشاہدہ یہ ہے کہ رسولوں میں سے بعض تو قتل کیے گئے ، بعض کو اپنی زمین سے بھی نکالا گیا۔ ان کو اپنا گھر اور قوم چھوڑنا پڑی اور علاقہ بدر کردیئے گئے۔ مومنین میں سے بعض بعض کو سخت عذاب دیا جاتا ہے۔ بعض کو گڑھوں میں جلایا جاتا ہے ، بعض شہید ہوتے ہیں ، بعض نہایت دکھ درد اور مصیبتیں جھیلتے ہیں تو پھر یہ قطعی وعدہ کس طرح ہے کہ ہم حیات دنیا میں اپنے رسولوں اور مومنین کی مدد کرتے ہیں۔ اس سوال کے ذریعہ شیطان اللہ کے بندوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور ان کے ساتھ کیا کچھ کرتا ہے ؟ تو حقیقت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ تمام امور کے ظاہری پہلو ہی کو جانتے ہیں۔ ان کے سامنے وہ بیشتر قدریں اور حقائق نہیں ہوتے۔ جن کا تعلق اللہ کے نظام وقدر سے ہوتا ہے۔۔۔ پھر لوگوں کی سوچ ، اعمال ونتائج کے بارے میں ایک محدود زمانے تک محدود ہوتی ہے اور انسان کے قیاس اور سوچ کا دائرہ محدود ہوتا ہے ، رہے اللہ کے فیصلے تو زمان ومکان کے اعتبار سے ان کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک زمانے اور دوسرے زمانے میں جدائی نہیں کرتا۔ ایک علاقے اور دوسرے علاقے میں فرق نہیں کرتا۔ اگر ہم زمان و مکان کے حدود سے آگے بڑھ کر ایمان کے مسئلہ پر سوچیں تو حقیقت یہ سامنے آئے گی کہ ایمان کامیاب رہتا ہے۔ ایمان اور عقیدے کی کامیابی دراصل ان لوگوں کی کامیابی ہوتی ہے جو ایمان اور عقیدے کو اپناتے ہیں۔ اہل ایمان سے باہر کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ اور ایمان کا پہلا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ ایمان لانے والے اس میں فنا ہوجائیں۔ وہ خود مٹ جائیں اور ایمان کو نمایاں کردیں۔ پھر نصرت کا مفہوم بھی لوگوں کے ہاں محدود ہے۔ وہ قریبی نصرت دیکھتے ہیں جسے وہ خود دیکھ سکیں ۔ لیکن نصرت کی اشکال تو بیشمار ہیں۔ بعض اوقات تو یوں ہوتا ہے کہ انسان کو نصرت بطاہر شکست نظر آتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکا جاتا ہے لیکن وہ اپنے عقیدے اور دعوت سے نہیں پھرتے ۔ سوال یہ ہے کہ ان کو نصرت ہوئی یا وہ شکست کھاگئے ایمان کے پیمانوں سے دیکھا جائے تو ان کو فتح ہوئی۔ اس وقت بھی وہ فاتح تھے ، جب ان کو آگ میں پھینکا جارہا تھا اور اس وقت بھی فاتح تھے ان کو نجات دی گئی۔ یہ بھی فتح کی ایک صورت ہے اور آگ کا گلزار ہوتا بھی اس کی ایک صورت ہے۔ جبکہ بظاہر دونوں کی صورتیں مختلف ہیں۔ لیکن اپنی اصلیت میں دونوں ایک ہیں ۔ حضرت حسین ؓ کربلا میں شہادت پاتے ہیں۔ یہ ایک دلدوز واقعہ ہے۔ یہ فتح تھی یا شکست ۔ اگر بظاہر محدود پیمانوں سے دیکھا جائے تو شکست تھی۔ اور اگر حقیقت کے پیمانوں سے دیکھا جائے تو یہ عظیم فتح ہے۔ قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد حسین کو آج تک محبت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ آج تک لوگوں کے دل حسین کے ساتھ ہیں آج تک لوگ ان پر فدا ہوتے ہیں جبکہ فاتح یزید کا نام ونشان غائب ہے۔ حسین پر شیعہ سنی سب فدا ہیں اور یزید کے بارے میں کوئی نہیں کہتا کہ وہ اولاد یزید ہے یا یزید ہی ہے۔ کئی ایسے شہداء ہیں کہ اگر وہ ہزار سال زندہ رہتے تو اپنے نظریات کو پھیلانہ سکتے ۔ لیکن ایک شہادت سے ان کے نظریات اقطار عالم تک پھیل گئے۔ کوئی بھی شہید اپنے بیان اور تقریروں سے عوام کو بلند مقاصد عطا نہیں کرسکتا ۔ نہ عوام کو بلند مقاصد کے لیے ابھار سکتا ہے۔ لیکن اپنے خون کے زریعہ وہ جو خطبہ دیتا ہے اور وہ اس کا آخری خطاب ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محرک ہوتا اور نسلوں تک نشان منزل رہتا ہے۔ اور بعض اوقات تو ایک شہید جو راہ متعین کرتا ہے صدیوں تک تاریخ اس پر چلتی رہتی ہے اور قافلے اسی راہ پر گامزن رہتے ہیں۔ تو پھر فتح کیا ہے اور ہزیمت کیا ہے ؟ ہمیں چاہئے کہ فتح وشکست کے جو پیمانے ہمنے اپنے ذہنوں میں قائم کر رکھے ہیں ان پر ذرا نظرثانی کریں۔ اور اس کے بعد پھر پوچھیں کہ اللہ کی وہ مدد کہاں ہے ، جس کا وعدہ اللہ نے مومنین سے کیا ہے ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ ہاں بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ جب ظاہری صورت حال ، اللہ کے اعلیٰ اور دور رس پیمانوں کے ساتھ موافق ہوجاتی ہے تو فوری فتح بھی نصیب ہوجاتی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کو اللہ نے اپنی زندگی ہی میں نصرت اور کامرانی عطا فرمائی تھی کیونکہ دنیا میں اسلامی نظریہ حیات کی حقیقت اور یہ نصرف ساتھ ساتھ قائم ہوگئی تھیں۔ عقیدے کو نصرت تب ملتی ہے جب عقیدہ انسانی سوسائٹی پر غالب آجائے اور وہ سوسائٹی اس کے رنگ میں رنگ کرا سکے اندر ڈوب جائے۔ ایک فرد ایک جماعت اور ایک قوت حاکمہ سب کی سب اس میں ڈوب جایں تو پھر اللہ ایسے دوعیوں اور ایسی دعوت کی مدد کرتا ہے اور یہ نظریہ اور یہ نظام اپنی حقیقی صورت میں پھر قائم ہوجاتا ہے اور یہ نظام غالب ہو کر تاریخ پر اپنے نقوش چھوڑتا ہے۔ اور تاریخ پر اسکے یہ نقوش نمایاں نظر آتے ہیں۔ یوں قریبی نصرت کی صورت اور دوررس مقاصد کی صورت باہم متصل ہوجاتی ہیں۔ اب بظاہر نصرت عاجلہ ظہور میں آتی ہے جو دوررس سنت الہیہ کا حصہ ہوتی ہے۔ یوں سنت الہیہ اور تقدیر الہٰی کے اندر ایک فوری فتح کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اللہ کا وعدہ اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کے ساتھ قائم ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ وعدے کے مستحق ہونے والے مومنین کے دلوں کے اندر حقیقت ایمان صحیح طرح قائم اور جاگزیں ہوجائے تاکہ اس پر اللہ کا وعدہ مرتب ہو۔ حقیقت ایمان کے سلسلے میں بسا اوقات لوگ سہل انگاری سے کام لیتے ہیں۔ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ قلب مومن میں شرک کا شائبہ تک نہ رہے۔ کسی قسم کی شرک بھی دل کے قریب نہ ہو۔ شرک کی بعض صورتیں نہایت خفیہ ہوتی ہیں۔ ان سے دل پاک وصاف اس وقت ہوتا ہے جب انسان صرف اللہ وحدہ کی طرف متوجہ ہو۔ اور صرف اللہ وحدہ پر توکل کرے۔ اور اللہ انسان کے بارے میں جو فیصلہ کرے اس پر وہ مطمئن ہوجائے۔ اور انسان اپنے آپ کو تقدیرالہٰی کے سپرد کردے۔ انسان کے اندر یہ حساس ہو کہ اس کے معاملات میں صرف اللہ ہی متصرف ہے۔ لہٰذا اس کے لیے اللہ جو اختیار کرتا ہے اس پر وہ کسی حال میں حیران نہ ہو اور اس کو جو پیش آئے اسے نہایت اطمینان ، اعتماد اور سرتسلیم خم کرکے قبول کرے۔ جب انسان تسلیم ورضا کے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ بھی اللہ کے آگے نہیں بڑھتا اور جلد بازی نہیں کرتا۔ اور اللہ کے سامنے فتح ونصرت اپنی پسندیدہ صورت میں پیش نہیں کرتا۔ اپنے معاملات اللہ کے حوالے کردیتا ہے اور اپنی راہ پر گامزن رہتا ہے ۔ اسے اسی راہ میں جو بھی پیش ہے ، وہ اسے خیر سمجھتا ہے۔ یہ ہے حقیقی نصرت۔۔۔۔ یہ ہے نصرت اور فتح اپنی ذات ، اپنی خواہشات پر۔ یہ ہے اندرونی فتح اور خالص فتح تب ہی ہوتی ہے ، جب اندرونی فتح مکمل ہو۔ انالنضر۔۔۔۔ الدار (40: 51 تا 52) ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں ، اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے ، جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اور ان پر لعنت پڑے گی اور بدترین ٹھکانا ان کے حصے میں آئے گا “۔ سابقہ منظر میں ہم نے دیکھا کہ ظالموں کے لیے کوئی معذرت مفید نہیں ہے۔ اور ان کا انجام یہ ہوا کہ ان پر لعنت پڑی اور جہنم رسید ہوئے۔ رہی یہ بات کہ اللہ رسولوں کی مدد کس طرح کرتا ہے تو اس کی ایک صورت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اللہ نے مدد فرمائی ۔ ولقداتینا۔۔۔۔ الالباب (40: 54) ” آخر کار دیکھ لو کہ موسیٰ کی ہم نے رہنمائی کی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنادیا جو عقل و دانش رکھنے والوں کے لئے ہدایت ونصیحت تھی “۔ یہ اللہ کی نصرت کا ایک نمونہ تھا کہ حضرت موسیٰ کو کتاب دی ، ہدایت دی اور پھر نجات دی۔ یہاں بطور مثال قصہ موسیٰ کی طرف اشارہ کردیا۔ یہ قصہ بہت ہی طویل ہے اور اس میں نصرت اور تائید خداوندی کے کئی نمونے ہیں۔ اس مثال کے بعد ایک آخری تسلی کیونکہ مکہ میں مسلمان اور رسول اللہ بہت ہی مشکل حالات میں زندگی بسر فرما رہے تھے ، ان کو تسلی دی جارہی ہے کہ نصرت ضرور آئے گی اور رسول اللہ کے بعد جو لوگ دعوت اسلامی کا کام کررہے ہیں اور ایسے ہی حالات میں ہیں۔ ان کے لیے بھی ایسی ہی تسلی ہے۔ فاصبران۔۔۔۔ والابکار (40: 55) ” اے نبی ، صبر کرو ، اللہ کا وعدہ برحق ہے ، اپنے قصوروں کی معافی چاہو اور صبح وشام اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ عقل وخرد کی تاروں پر یہ آخری ضرب ہے۔ صبر کی دعوت ، لوگوں کی جانب سے تکذیب پر صبر کرو ، اس پر صبر کرو کہ باطل کو اقتدار حاصل ہے اور اس کی وجہ سے وہ پھیل رہا ہے لیکن یہ ایک عرصے کے لیے ہے ، لوگوں کے مزاج ۔ ان کے اخلاق اور ان کے معاملات کی غلطیوں پر صبر کرو ، انسان کے نفس ، اس کی خواہشات اور چاہتوں پر صبر کرو۔ خصوصاً جب نفس یہ چاہے کہ اللہ کی نصرت بہت جلد آنی چاہئے اور نصرت کے نتیجے میں ہونے والی کامیابیوں اور تحریک اسلامی کی طویل جدوجہد میں دشمنوں سے بھی پہلے دوستوں کی طرف سے پیدا کی جانے والی مشکلات پر صبر کرو۔ فاصبر ان وعد اللہ حق (40: 55) ' اے نبی صبر کرو ، اللہ کا وعدہ حق ہے “۔ دیر آید درست آید۔ اگر آپ کے معاملات پیچیدہ ہوں ۔ اگر بظاہر اسباب نصرت نہ نظر آتے ہوں۔ کیونکہ نصرت کا وعدہ وہ ذات باری کر رہی ہے جو اپنے وعدے کو حقیقت کا جامہ پہناسکتی ہے اور اللہ نے وعدہ کیا ہے تو اللہ نے ارادہ کرلیا ہے۔ واستغفر ۔۔۔ والابکار (40: 55) ” اور اپنے قصور کی معافی چاہو اور صبح وشام اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ یہ ہے اصلی زاد سفر۔ نہ راہ بہت طویل ہے اور دشوار گزار ہے۔ اس میں وہی شخص آگے قدم بڑھا سکتا ہے جو اپنے قصوروں کی معافی چاہتا رہے۔ جو حمد باری تعالیٰ کرتا رہے اور حمد کے ساتھ اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرتا رہے۔ اس میں نصرت بھی مل سکتی ہے ، اور نفس انسانی کی تربیت بھی۔ اور اس راستے پرچلنے کی تیاری بھی اور قلب ونظر کی تطہیر بھی۔ یہ وہ نصرت ہے جو قلب تعداد کے اندر بھی اپنا کام کرتی ہے اور اس کے بعد نصرت کی وہ صورت سامنے آتی ہے جو زندگی کی عملی صورت میں ہوتی ہے۔ صبح وشام کا ذکر یا تو اس لیے ہے کہ اس سے مراد پورا وقت ہے کیونکہ صبح وشام اوقات کے اطراف ہیں۔ یا ان اوقات میں انسانی قلب صاف اور متوجہ ہوتا ہے اور ان اوقات میں غور وفکر اور اللہ کی حمد وتسبیح کے اثرات گہرے ہوتے ہیں۔ یہ ہے وہ منہاج جس کے مطابق اللہ کی نصرت حاصل ہوسکتی ہے اور اسے اللہ نے اپنی نصرت دینے کے لیے مقرر فرمایا ہے ۔ اسی کے مطابق اس راستے پر شلنے کی تیاری ہوگی ، زاوسفر تیار ہوگا۔ اور تب نصرت ملے گی اور کسی بھی معرکے کے لیے تیاری اور سازو سامان کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی جنگ بغیرتربیت اور سامان کے نہیں ہوسکتی۔