40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 40:79–80

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

اللہ ہی نے تمہارے لیے مویشی جانور بنائے ہیں تاکہ ان میں سے کسی پر تم سوار ہو اور کسی کا گوشت کھاؤ

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

ان کے اندر تمہارے لیے اور بھی بہت سے منافع ہیں۔ وہ اس کام بھی آتے ہیں کہ تمہارے دلوں میں جہاں جانے کی حاجت ہو وہاں تم ان پر پہنچ سکو۔ ان پر بھی اور کشتیوں پر بھی تم سوار کیے جاتے ہو

آیت نمبر 79 تا 81 ان مویشیوں کی ابتدائی تخلیق اسی طرح نشانی ہے جس طرح انسان کی تخلیق نشانی اور معجزہ ہے ، ان حیوانات کے اندرروح ڈالنا ، ان کو اس شکل و صورت میں بنانا اور ان کو رنگارنگ پیدا کرنا سب معجزات ہیں۔ پھر یہ تمام جانور اور مویشی انسان کے لیے مسخر کیے گئے ہیں حالانکہ ان میں سے بعض ایسے ہیں جو جسم کے اعتبار سے بھی اور قوت کے اعتبار سے بھی انسان سے زیادہ قوی ہیں لیکن اللہ الذی ۔۔۔۔ تاکلون (40: 79) ” اللہ ہی نے تمہارے لیے یہ مویشی جانور بنائے ہیں تاکہ ان میں سے کسی پر تم سوار اور کسی کا گوشت کھاؤ “۔ اب اگر کوئی کہے کہ یہ جانور اسی طرح دنیا پائے گئے ہیں اور یہ کہ انسان کے لیے یہ کوئی معجزہ نہیں ہیں ، یا یہ کہ جانور کسی خالق پر دلالت نہیں کرتے جس نے انہیں پیدا کیا ہو اور انسان کے لیے مسخر کیا اور ان جانوروں کے اندر یہ خصائص موجود ہیں اور انسانوں کے اندر بھی یہ خصائص موجود ہیں تو اسی قسم کی باتیں قابل قبول نہیں ہیں اور انسانی کی فطری سوچ اس کے خلاف ہے۔ لہٰذا جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ بہت ہی سطحی لوگ ہیں اور ان کی یہ باتیں بالکل سطحی اور محض جدال ہیں۔ ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ ان آیات میں کیا کیا خوارق عادت معجزات ہیں اور کیا کیا نعمتیں ہیں۔ لترکبوا منھا۔۔۔۔۔۔ الفلک تحملون (40: 80) ” تاکہ ان میں سے کسی پر تم سوار ہو اور کسی کا گوشت کھاؤ۔ ان کے اندر تمہارے لیے اور بھی بہت سے منافع ہیں۔ وہ اس کام بھی آتے ہیں کہ تمہارے دنوں میں جہاں جانے کی حاجت ہو وہاں تم ان پر پہنچ سکو۔ ان پر بھی اور کشتیوں پر بھی تم سوار کیے جاتے ہو “۔ اور وہ خواہشات کو ان کے دلوں میں ہوتی تھیں اور ان جانوروں پر سوار ہوکر ان تک پہنچتے تھے۔ وہ بہت بڑی حاجت و ضروریات تھیں ، خصوصاً اس دور میں۔ اس دور میں نقل وحمل کے موجودہ ذرائع تو تھے نہیں۔ لیکن آج تک یہ جانور بعض ضروریات پورا کرتے ہیں آج بھی بعض پہاڑ ایسے دشوار گزار ہیں کہ وہاں تک کوئی جہاز ، کوئی ریل ، کوئی موٹروغیرہ نہیں جاتے۔ وہاں یہی جانور آتے ہیں۔ ان پہاڑوں میں راستے اس قدر تنگ ہوتے ہیں کہ وہاں یہی جانور کرتے ہیں۔ وعلیھاوعلی الفلک تحملون (40: 80) ” ان پر بھی اور کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو “۔ یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں۔ اور اللہ کی ان مہربانیوں میں سے ہیں جو اس نے انسان پر کیں۔ کشتی کو پانی پر چلایا۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو پانی اور کشتی کے اندر تخلیق کے وقت رکھی گئیں۔ زمین میں بھی اور آسمان میں بھی۔ خشکی میں بھی اور تری میں بھی۔ چاہے یہ کشتی بادبانوں سے چلے ، بخارات سے چلے یا ایٹمی قوت سے چلے یا ان کے بھی علاوہ کسی اور قوت سے چلے جو اللہ نے اس کائنات میں رکھ دی ہیں اور انسان کو یہ توقیق بخشی ہے کہ وہ ان قوتوں کو کام میں لائے۔ اس لیے ان سب چیزوں کو اللہ کے معجزات اور اللہ کے دیئے ہوئے انعامات کے مضمون میں لایا گیا ہے۔ اور اس قسم کی کئی آیات ومعجزت اس کائنات میں جابجا بکھرے پڑے ہیں۔ انسان کے لیے ممکن کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ ان میں سے کسی معجزے اور انعام کا انکار کرسکے بشرطیکہ وہ سنجیدہ ہو۔ ویریکم اٰیٰته فای اٰیٰت اللہ تنکرون (40: 81) ” اللہ اپنی یہ نشانیاں تمہیں دکھا رہا ہے ، آخر تم اللہ کی کن کن نشانیوں سے انکار کروگے “۔ ہاں بعض لوگ ہیں جو انکار کرتے ہیں۔ بعض ایسے ہیں جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں ، بعض ایسے ہیں جو باطل دلائل لے کر آتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے حق کو نیچا دکھائیں۔ لیکن ان سب میں سے کوئی بھی نیک نہیں ہے یا اس کے اندر ٹیڑھ ہے یا کوئی مفاد ہے ، یاکبر ہے یا اسے کوئی مغالطٰہ ہے یا کسی اور غرض کے لیے یہ کررہا ہے۔ بعض لوگ اس لیے جھگڑتے ہیں کہ وہ فرعون اور دوسرے لوگوں کی طرح ذی جاہ اور سرکش اور ظالم ہیں ، ان کو اپنی حکومت اور اقتدار کا خطرہ ہے ، ان کو تخت وتاج کا خطرہ ہے ، یہ تخت وتاج جن خاکوں پر قائم ہیں ان کو دعوت حق اڑا دیتی ہے ، کیونکہ دعوت اسلامی کا نظریہ یہ ہے کہ الٰہ اور حاکم ایک ہوتا ہے۔ بعض لوگ اس لیے جھگڑتے ہیں کہ وہ مذہبی راہنما ہیں ، بعض اس لیے جھگڑتے ہیں کہ وہ ایک خاص طرز کا نظام حکومت و معیشت چاہتے ہیں مثلاً اشتراکیت کے علم برادار ، جب آسمانی عقائد ونظریات اک بندہ نہیں بناتا اور اللہ کی بندگی سے چھڑا کر کسی دوسرے نظریہ یا کسی دوسرے لیڈر کی بندگی میں داخل نہیں کرتا۔ بعض لوگ اس لیے جھگرتے ہیں کہ وہ پاپائیت سے جان چھڑانا چاہتے ہیں جیسا کہ قرون وسطیٰ میں اہل کنیہ اور عوام کے درمیان ہوا۔ چونکہ عوام پاپائیت سے جان چھڑانا چاہتے ہیں ، اس لیے انہوں نے اہل کینہ کو ان کا الٰہ بھی واپس کردیا۔ کیونکہ الٰہ کے نام سے انہوں نے لوگوں کو غلام بنارکھا تھا۔ ان اسباب کے سوا اور بھی کئی اسباب ہیں ، لیکن انسان کی فطری سوچ ان تمام اسباب کو مسترد کردیتی ہے اور اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے جو اس کائنات کے وجود میں مستقلاً موجود ہے اور جس کی موجودگی کی نشاندہی کائنات کی یہ نشانیاں کرتی ہیں۔ اور آخر میں یہ زور دار تبصرہ :
Ayahs 40:81–85

وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ١ۖۗ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ Open ayah 40:81 in the Quran reader

اللہ اپنی یہ نشانیاں تمہیں دکھا رہا ہے ، آخر تم اس کی کن کن نشانیوں کا انکار کروگے

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 40:82 in the Quran reader

پھر کیا یہ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کو ان لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے پہلے گزرچکے ہیں ؟ وہ ان سے تعداد میں زیادہ تھے ، ان سے بڑھ کر طاقتور تھے ، اور زمین میں ان سے زیادہ شاندار آثار چھوڑگئے ہیں۔ جو کچھ کمائی انہوں نے کی تھی ، آخر وہ ان کے کس کام آئی ؟

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 40:83 in the Quran reader

:” جب ان کے رسول ان کے پاس بنیات لے کر آئے تو وہ اسی علم میں مگن رہے جو ان کے اپنے پاس تھا ، اور اسی چیز کے پھیر میں آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ Open ayah 40:84 in the Quran reader

جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو پکاراٹھے کہ ہم نے مان لیا اللہ وحدہ لاشریک کو اور ہم انکار کرتے ہیں ان سب معبودوں کا جنھیں ہم اس کا شریک ٹھیراتے تھے

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 40:85 in the Quran reader

۔ مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان ان کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہوسکتا تھا کیوں کہ یہی اللہ کا مقرر ضابطہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہا ہے اور اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑگئے

آیت نمبر 81 تا 85 انسانی تاریخ میں گزشتہ اقوام کی تباہی روایات کے ذریعے ان کی کہانیاں محفوظ ہیں۔ بعض کی کہانیاں کتابوں کے اوراق میں محفوظ ہیں۔ قرآن کریم باربار ان ایام اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس لیے کہ انسانیت جس لائن پر بڑھتی چلی آئی ہے اس میں جا بجا حقائق موجود ہیں۔ پھر ان ایام اللہ کا اثر بھی انسان پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ اور قرآن چونکہ خالق فطرت کی طرف سے نازل ہورہا ہے اس لیے وہ فطرت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کرتا ہے۔ قرآن فطرت کی راہ رسم سے خوب واقف ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ اس کی یہ مخلوق کس بات سے متاثر ہوتی ہے اور کس انداز سے اس کے دل میں بات اتاری جاسکتی ہے ، اللہ کو پتہ ہے کہ انسانی دل کا کون سادروازہ صرف ایک ہی دستک دینے سے کھل جاتا ہے اور کون سا دروازہ چند زور دار دستک دینے سے کھلتا ہے اور کون سا ہے جو زنگ آلود ہوگیا اور توڑے بغیر نہیں کھلتا۔ اللہ انسانوں سے پوچھتا ہے ، انہیں انسانی تاریخ کی سیر کے لیے آمادہ کیا جاتا ہے کہ ذدا کھلی آنکھوں سے انسانی تاریخ کے نشیب و فراز کو دیکھو۔ وادی وادی میں گھومو اور احساس کو تیز رکھو ، اور قلب ونظر کو کھول کر چلو ، دیکھو اور غور کرو ، تم سے پہلے اس زمین پر کیا کیا ہوتا رہا ہے اور انسانی پر کیا کیا مصائب ٹوٹے ہیں۔ افلم یسیروا۔۔۔۔۔ من قبلھم (40: 82) ” پھر کیا زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کو ان کو لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں “۔ قبل اس کے کہ ان کے انجام کو بتایا جائے ، ان کے کچھ خدوخال بتائے جاتے ہیں اور ان کے حالات زندگی سے موازنہ کیا جاتا ہے تاکہ یہ عبرت آموزی مکمل ہو۔ کانوآ اکثر۔۔۔۔ فی الارض (40: 82) ” وہ ان سے تعداد میں زیادہ تھے ، ان سے بڑھ کع طاقتور تھے اور زمین میں ان سے زیادہ ان سے زیادہ شاندار آثار چھوڑگئے ہیں “۔ کثرت تعداد ، سیاسی قوت اور ترقی سب میں موجود لوگوں سے زیادہ تھے۔ ان میں سے کئی نسلیں تھیں جو عربوں سے پہلے گزری تھیں ۔ بعضوں کے قصے تو رسول کو سنائے گئے اور بعض کو تاریخ کے قبر ستان میں مدفون ہی چھوڑدیا گیا اور بعض قصے ، عربوں کو معلوم تھے اور بعض کے آثار کو وہ شب وروز دیکھتے تھے۔ فمآ اغنی عنھم ماکانوا یکسبون (40: 82) ” جو کچھ کمائی انہوں نے کی تھی آخر وہ ان کے کس کام آئی “۔ نہ ان کی کثرت ، نہ قوت اور نہ ترقی انکو بچاسکی حالانکہ وہ انہی چیزوں پر بھروسہ کیے ہوئے تھے اور مغرور تھے۔ بلکہ انکی ہلاکت کا سبب یہی باتیں ہوئیں فلماجآء۔۔۔۔ من العلم (40: 83) ” جب ان کے رسول ان کے پاس بینات لے کر آئے تو وہ اس علم میں مگن رہے جو ان کے پاس تھا “۔ علم ایمان کے ایک عظیم فتنہ ہوتا ہے۔ یہ انسان کو اندھا کردیتا ہے اور سرکش بنا دیتا ہے۔ اس قسم کے ظاہری اور سائنسی علوم لوگوں کو مغرور بنا دیتے ہیں کیونکہ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ اپنے اس علم کی وجہ سے وہ اقتدار میں ہیں ، بڑی بڑی قوتوں کو چلاتے ہیں اور وہ بڑے بڑے خزانوں کے مالک ہیں۔ یوں وہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور وہ ان وسعتوں کو بھول جاتے ہیں جن تک ابھی ان کے علم کو رسائی نہیں ہوئی ہے حالانکہ وہ وسعتیں اس کائنات میں موجود ہیں۔ ان قوتوں پر ابھی انہوں نے قابو نہیں پایا ہوتا ہے بلکہ ان کا تصور بھی وہ نہیں کرپاتے ، ان کو تو وسعتوں کے صرف ایک معمولی کنارے تک رسائی ہوئی ہوتی ہے۔ یوں یہ بےایمان صاحب علم پھول جاتا ہے اور آپے سے باہر ہوجاتا ہے۔ اس کا علم اسے پھلا دیتا ہے اور اس کا جہل اسے اپنی حقیقت بھلا دیتا ہے۔ اگر وہ یہ قیاس کرلیتا کہ اس کا علم تو بہت ہی تھوڑا ہے اور اس کے جہل کا دائرہ بہت وسیع ہے اور جس کا وہ اندازہ کرتا ہے وہ بہت تھوڑا ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ تو وہ سر جھکا لیتا اور اپنی کبریائی کو تھوک دیتا اور یہ جو پھول رہا ہے اس میں ذرا کمی کردیتا۔ بہرحال یہ لوگ جو اپنے موجودہ علم میں مگن ہوگئے تھے وہ یاد دہانی کرانے والوں کا مذاق اڑاتے رہے۔ وحاق بھم ماکانوابه یستھزءون (40: 83) ” پھر اس چیز کے پھیرے میں آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے “۔ جب انہوں نے اللہ کے عذاب کو دیکھا تو پردہ گر گیا اور ان کو معلوم ہوگیا کہ جس چیز پر ان کو غرور تھا وہ تو کچھ نہ تھی۔ اب انہوں نے اس بات کا اعتراف کرلیا جس کا وہ انکار کرتے تھے۔ اللہ کی وحدانیت کے قائل ہوگئے۔ اپنے شرکاء کا انکار کردیا لیکن اب تو وقت چلا گیا تھا۔ فلما راوا۔۔۔۔ راواباسنا (40: 85) ” جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو پکار اٹھے کہ ہم نے مان لیا اللہ وحدہ لاشریک کو اور ہم انکار کرتے ہیں ان سب معبودوں کا جنھیں ہم اس کا شریک ٹھہراتے تھے مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان ان کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہوسکتا تھا “۔ کیونکہ یہ اللہ کی سنت ہے کہ عذاب دیکھ لینے کے بعد ایمان قبول نہیں ہوتا اس لیے کہ اس وقت خوف کی توبہ ہوتی ہے۔ ایمان کی توبہ نہیں ہوتی۔ سنت اللہ التی قد خلت فی عبادہ (40: 85) ” کیونکہ یہی اللہ کا مقرر ضابطہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہا ہے “۔ اور اللہ کی سنت میں کوئی تغیر اور ترمیم نہیں ہوا کرتی۔ یہ اپنی مقرر راہ پر چلتی ہے۔ وخسرھنالک الکٰفرون (40: 85) ” اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑگئے “۔ اس سخت منظر ، یعنی منظر عذاب الہٰی پر یہ سورت ختم ہوتی ہے ، جس میں یہ چیخ و پکار کرتے ہیں ، جزع فزع کرتے ہیں اور معافیاں مانگتے ہیں ، ایمان ویقین کا اعلان کرتے ہیں ، سورت کا یہ خاتمہ سورت کی فضا اور موضوعات اور مضامین کیساتھ متناسب ہے اس سورت کے دوران ہم نے ایسے مسائل پر بھی بحث کی ہے جو خالص مکی سورتوں کے اہم مسائل ہیں ، مثلاً مسئلہ توحید ، مسئلہ معاد ، مسئلہ وحی ، لیکن یہ مسائل اس سورت کا اصل موضوع نہ تھے۔ اس کا اصل موضوع معرکہ حق و باطل تھا ۔ ایمان وکفر تھا۔ اصلاح وسرکشی تھی۔ یہ اس سورت کے نمایاں موضوعات ومضامین تھے۔ اور اسے سورت کے اہم خدوخال ، اور تمام سورتوں کے مقابلے میں نہایت ہی نمایاں مقاصد۔۔۔۔