Ayah 39:1درس نمبر 215 تشریح آیات
﷽
آیت نمبر 1 تا 3
سورت کا آغاز اس فیصلہ کن قرار داد سے ہوتا ہے۔
تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم (39: 1) ” اس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے “۔ وہ زبردست ہے اور وہ اس قسم کی کتاب کے نزول پر قدرت رکھتا ہے۔ اور وہ حکیم ودانا ہے اور وہ جانتا ہے کہ نزول قرآن کس بارے میں ہے اور یہ حکیم کیوں ہے۔ یہ تمام کام اللہ نہایت حکمت اور تدبر اور تقدیر سے کرتا ہے۔
اس قرار داد پر بات طویل نہیں ہوتی کیونکہ یہ تو تمید تھی ، اصل بات کے لیے اور اصل موضوع کے لیے یہ پوری سورت وقف ہے۔ سورت کا نزول ہی اس موضوع کا ثبوت اور تاکید ہے۔ یعنی مسئلہ توحید ، اللہ کی بندگی میں توحید اور اسلامی نظام زندگی میں توحید۔ اور عقیدے ، بندگی اور نظام زندگی کو ہر پہلو سے شرک سے پاک کرنا۔ اور پھر اللہ تک رسائی کے لیے واسطوں کو ختم کرکے براہ راست اس کو پکارنا بغیر کسی سفارش کے۔
Ayah 39:2انآ انزلنآ الیک الکتٰب بالحق (39: 2) ” اے نبی ﷺ یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف برحق نازل کی ہے “۔ اور جس سچائی پر نازل کی گئی ہے۔ وہ ہمہ جہت وحدانیت ہے ، جس کے اوپر یہ کائنات قائم ہے۔ اس سورت کی پانچویں آیت میں ہے :
خلق السٰمٰوت والارض بالحق (39: 5) ” آسمانوں اور زمین کو اس نے برحق پیدا کیا ہے “۔ لہٰذا جس حق اور سچائی پر سماوات
کا قیام ہے ، وہی سچائی اس کتاب کا موضوع ہے۔ اس کتاب کا تصور توحید اور اس کائنات کی تخلیق کی وحدت ایک ہی ہیں۔ جس طرح یہ کائنات اللہ واحد کی تخلیق اور مصنوع ہے اور جس طرح یہ انسان اللہ کی تخلیق اور اس کے امر پر قائم ہے ، اسی طرح یہ کتاب بھی اللہ کے امر پر قائم ہے۔ لہٰذا منطقی نتیجہ یہ ہے :
فاعبداللہ مخلصاله الدین (39: 2) ” لہذا تم اللہ ہی کی بندگی کرو ، دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے “۔
خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے جن کی طرف یہ کتاب برحق نازل کی گئی۔ اور یہ کتاب رسول کا پیش کردہ منہاج حیات ہے جس کی طرف آپ تمام انسانوں کو دعوت دیتے ہیں۔ جو اس عقیدے پر قائم ہے کہ اللہ ایک ہے ، اسی کی بندگی کرنی ہے ۔ نظام زندگی صرف اسی سے اخذ کرنا ہے اور پوری زندگی کو اس عقیدۂ توحید پر قائم کرنا ہے۔
اللہ کو ایک الٰہ سمجھنا اور دین اس کے لیے خالص کرنا محض چند کلمات کا نام نہیں ہے جو زبان سے ادا کردیئے جائیں۔ یہ دراصل زندگی کا پورا نظام ہے جو انسان کے دل و دماغ سے عقیدۂ توحید کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور ایک اسلامی سوسائٹی میں مکمل نظام زندگی کے قیام پر ختم ہوتا ہے۔
وہ دل جو اللہ وحدہ کو الٰہ سمجھتا ہے ' جو صرف اللہ کی بندگی کرتا ہے ، وہ اپنا سر کسی کے آگے نہیں جھکاتا۔ وہ نہ تو غیر اللہ سے کوئی چیز طلب کرتا ہے ، نہ غیر اللہ پر اعتماد کرتا ہے۔ ایسے شخص کے نزدیک صرف اللہ ہی قوی ہے اور صرف اللہ اس پوری کائنات پر غالب ہے۔ سب پر غالب ہے۔ سب کے سب ضعیف اور کمزور ہیں اور وہ کسی کے لیے کوئی نفع ونقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ لہٰذا کسی انسان کو کسی انسان کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے۔ کیونکہ یہ انسان سب کے سب اسی کی طرح ہیں اور خود اپنے نفع ونقصان کے مختار بھی بنیں ۔ اللہ وحدہ ہی دینے والا اور روکنے والا ہے۔ لہٰذا اللہ کو اس سلسلے میں کسی وسیلے اور واسطے کی ضرورت نہیں۔ تمام مخلوق اس کی محتاج ہے اور وہ غنی ہے۔
پھر جو دل عقیدۂ توحید سے لبریز ہے وہ اس بات پر بھی ایمان لاتا ہے کہ اس کائنات کے ایک ہی قانون قدرت اور ناموس فطرت کنڑول کرتا ہے۔ لہذا اس کا یہ ایمان ہوتا ہے کہ جو نظام زندگی اللہ نے انسانوں کے لیے تجویز کیا ہے ، یہ بھی انہی قوانین قدرت کا حصہ ہے۔ جو اس کائنات کے لیے وضع ہوئے ہیں۔ لہذا یہ انسان اس دنیا کے ساتھ ہم آہنگی کی زندگی نہیں بسر کرسکتا الایہ کہ وہ اسلامی نظام زندگی کو اپنالے۔ لہٰذا وہ وہی احکام و انتظام اختیار کرتا ہے جو اللہ چاہتا ہے یعنی وہ اللہ ہی کی شریعت کی اطاعت کرتا ہے جو اس نظام کائنات اور انسان کے وجود کے نظام کے ساتھ موافق ہے۔
پھر جو دل کو وحدہ لاشریک سمجھتا ہے ، وہ اپنے اور اس اللہ کی پیدا کردہ تمام کائنات کے درمیان ایک قربت اور تعلق محسوس کرتا ہے۔ اس کائنات کی زندہ چیزیں ہوں یا مردہ ۔ لہٰذا اس کی زندگی ایک ایسے ماحول کے اندر بسر ہوتی ہے جو اس کا دوست ، ہمد ومعاون اور اس کے ساتھ ہمقدم اور محبت کرنے والا ہوتا ہے۔ وہ اپنے ماحول میں اللہ کے دست قدرت کی کارستانیاں محسوس کرتا ہے۔ لہٰذا وہ اس ماحول میں اللہ اور اس کی مخلوقات کے ساتھ مانوس ہوکر رہتا ہے۔ اس کے ساتھ اللہ کی مخلوق ہوتی ہے۔ اس کی آنکھیں اللہ کی پیدا کردہ عجائبات پر ہوتی ہیں۔ وہ یہاں اس کائنات کی کسی چیز کو ایذا نہیں دیتا۔ وہ اس کائنات کی کسی چیز کو تلف نہیں کرتا امرالہٰی سے۔ کیونکہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔ وہی زندگی دینے والا ہے۔ وہ سب کا رب ہے اور ہر چیز کا رب ہے۔
اسی طرح انسانی زندگی تصورات اور میلانات میں بھی توحید ظاہر ہوتی ہے۔ انسانی طرزعمل اور اس کی چال ڈھال میں بھی توحید کا اثر ہوتا ہے۔ اور انسانی زندگی اور سوسائٹی کے لیے منہاج اور طریق زندگی میں بھی توحید کا اثر ہوتا ہے۔ اور عقیدۂ توحید محض ایک کلمہ نہیں رہتا جسے زبان سے کہہ دیا جائے ۔ وہ ایک مکمل نظام بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پورے قرآن میں عقیدۂتوحید کو بہت ہی بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ ہر جگہ اس پر اصرار و تکرار کیا گیا ہے۔ لہٰذا توحید پر ان زاویوں سے غور کیا جانا چاہئے ۔ اس زاویہ سے توحید ایک فکر ، ایک نظام اجتماعی اور نظام حکومت بن جاتی ہے۔ اور اس پر ہر وقت تدبر کی ضرورت ہے۔ ہر زمانے میں ، ہر خاندان اور سوسائٹی میں اور اسی مفہوم میں اس پر تدبر کی ضرورت ہے۔
Ayah 39:3الاللہ الدین الخالص (39: 3) ” خبردار دین خالص اللہ کا حق ہے “۔ نہایت ہی اونچی بہایت ہی طویل اور نہایت ہی رعب دار آواز میں۔ گویا اعلان شاہی ہے اور لفظ ” الا “ خبردار ! سے اس کا آغاز ہوتا ہے اور نہایت ہی قصر اور حصر کے الفاظ میں کہ اللہ ہی کا حق ہے زندگی اور خالص اللہ کا حق ہے ۔ جس طرح مفہوم موکد ہے اس طرح الفاظ بھی پرشوکت ہیں۔ یہ اصول حیات ہے۔ پوری زندگی اس پر قائم ہے بلکہ پوری کائنات اس اعلان پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قدر مختصر زور دار اور قصر حصر کے الفاظ میں یہ قانون نافذ ہوتا ہے۔ اور اس کے مقابلے میں اس دور کی جاہلیت کا کلمہ اور نظریہ کیا تھا جسے رد کیا گیا۔
والذین اتخذوا۔۔۔۔ ھوکذب کفار (39: 4) ” رہے وہ لوگ جنہوں نے اس کے سوا دوسرے سرپرست بنارکھے ہیں (کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرادیں۔ اللہ یقیناً ان کے درمیان ان تمام باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کررہے ہیں۔ اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور منکر حق ہو “۔ وہ اعلان کرتے تھے کہ اللہ ان کا خالق ہے۔ سموات اور زمین کا خالق ہے۔ لیکن پھر وہ فطری استدلال کی راہ پر چلتے تھے کہ اگر وہی خالق ہے تو وہی بندگی کے لائق ہے۔ اور پھر دین اور دستور اور قانون اسی کا چلنا چاہیے۔ یہاں آکر وہ یہ افسانہ گھڑتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ پھر وہ فرشتوں کے بت بناتے اور ان کو پوجتے ۔ پھر یہ کہتے کہ وہ ملائکہ کے بتوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں ، جن کو وہ الٰہ کہتے تھے۔ لات ، منات اور عزیٰ ، یہ دراصل ان کی عبادت نہیں ہے بلکہ یہ محض اللہ کے قریب ہونے کے لئے ہم ان کے آگے جھکتے ہیں تاکہ یہ فرشتے اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں۔ اور یوں ہم اللہ کے نزدیک ہوجائیں۔
یہ عقیدہ سیدھے فطری انداز فکر سے انحراف ہے اور یہ عقیدہ غلط ہونے کے ساتھ ساتھ پیچیدہ اور ناقابل فہم بھی ہے۔ نہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور نہ یہ بت فرشتوں کے بت ہیں۔ نہ اللہ نے اس کی اجازت دی ہے۔ نہ اللہ کسی کی سفارش سنتا ہے اور نہ اللہ اپنے بندے کو اس طریقے پر اپنے قریب لاتا ہے۔
جب بھی انسانیت نے عقیدۂ توحید کو ترک کیا ہے۔ وہ فطرت کے سیدھے انداز فکر اور سیدھے سادے انداز استدلال سے
محروم ہوگئی ہے ، جو اسلام اول روز سے لے کر آیا ہے اور آدم (علیہ السلام) سے لے کر ادھر تمام رسولان محترم نے یہی عقیدۂ توحید پیش کیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت پر جگہ نیک لوگوں اور اولیاء کی عبادت اسی طرح کی جاتی ہے جس طرح نبی ﷺ کے دور میں عرب فرشتوں اور فرشتوں کے بتوں کی عبادت بطور تقرب الہٰی اپنے زعم کے مطابق کیا کرتے تھے۔ مقصد اک کی سفارش کا حصول ہوتا تھام لیکن اللہ عقیدۂ توحید ، اور سیدھے راستے کی نشاندہی فرماتا ہے ایسی توحید جس کے ساتھ کوئی التباس ، کوئی سفارشی اور کوئی افسانوی مقربین خدا نہ ہوں۔
ان اللہ لایھدی من ھو کذب کفار (39: 3) ” اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور منکر حق ہو “۔ کیونکہ یہ لوگ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ ایک تو جھوٹ ہے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں ، دوسرا یہ جھوٹ ہے کہ یہ اللہ کے ہاں سفارش کرتے ہیں جبکہ فرشتے ان کی بندگی کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ لوگ دراصل اللہ کے صریح احکام کا کفر کرتے ہیں۔ اس لیے ان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو اس پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اس کا انکار کرتے ہیں۔ ہدایت تو ان کو ملتی ہے جو مخلص ہوں ، متوجہ ہوں ، برائی سے بچنا چاہتے ہوں اور ان کو نیکی کے کاموں میں دلچسپی بھی ہو اور وہ غور فکر کرکے اپنے لیے صحیح راستے کا انتخاب کرتے ہوں۔ جو لوگ جھوٹ باندھتے ہیں ، اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں تو وہ اللہ کی ہدایت اور مہربانیوں کے مستحق نہیں ہوتے اسلیے کہ ایسے لوگ جان بوجھ کر صحیح راستے سے دوسری اختیار کرتے ہیں۔ اسکے بعد اس شرکیہ تصور خدا کی کمزوری اور پوچ ہونے کو ظاہر کیا جاتا ہے۔
Ayah 39:4آیت نمبر 4
یہ ایک استدلالی مفروضہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اگر اللہ کسی کو اپنا شریک بناتا تو اپنی مخلوق میں سے کسی کو شریک کر کے اس کا اعلان کردیتا ۔ اس کا ارادہ تو بےقید ہے ، لیکن اللہ کی ذات ان سے پاک ہے۔ اس لیے اللہ کی طرف نہ بیٹے کی نسبت ہوسکتی ہے ، نہ اللہ کسی کا بیٹا ہے۔ یہ اللہ کی مشیت و ارادہ اور اس کی تقدیر ہے۔ ان چیزوں سے اللہ پاک ہے۔
سبحنه ھو اللہ الواحد القھار (39: 4) ” پاک ہے وہ اس سے ، وہ اللہ ہے اکیلا اور سب پر غالب “۔ اللہ اپنے لیے کسی کو بیٹا کب بناتا ہے۔ وہ تو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ ہر چیز کا خالق ہے۔ ہر چیز کا مدبر ہے۔ ہر چیز اور ہر انسان اس کی ملکیت میں ہے اور وہ جس طرح چاہتا ہے ، تصرف کرتا ہے۔
Ayah 39:5آیت نمبر 5
آسمان و زمین کی بادشاہت پر یہ ایک سرسری نظر ، لیل ونہار کے نظام اور شمس وقمر کے نظام اور اسے زبردست طریقے
سے مسخر کرنے کے نظارے پر ایک نگاہ ، اس بات کو ثابت کردیتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ نہیں ہے۔ یہ نظام فطرت دل کے اندر یہ بات اتار دیتا ہے کہ نہ اللہ کا کوئی شریک ہے اور نہ اس کا کوئی بیٹا ہے۔
زمین و آسمان کی تخلیق میں اللہ کی وحدانیت کے دلائل بالکل ظاہر ہیں اور ان قوانین میں بھی وحدت الہٰی کے نشانات ظاہر ہیں جو ان کو کنڑول کررہے ہیں۔ اس پوری کائنات پر ایک سرسری نظر ہی اس بات کو ظاہر کردیتی ہے کہ بیشمار دلائل موجود ہیں۔ آج تک انسانوں نے جو سائنسی انکشافات کیے ہیں۔ ان میں وحدت الوہیت کے لیے بیشمار دلائل موجود ہیں۔ یہ بات انسانوں پر ثابت ہوگئی ہے کہ یہ کائنات جس تک انسان نے رسائی حاصل کرلی ہے ، یہ ایسے ذرات سے بنی ہوئی ہے جن کی حقیقت اور ماہیت ایک ہے اور ان ذرات میں سے ہر ایک ذرہ ایسی شعاعوں سے مرکب ہے ، جن کی حقیقت ایک ہے۔ اور یہ بات بھی معلوم ہوچکی ہے کہ ان ذرات سے جو اجرام فلکی بنے ہیں خواہ وہ ایسے ہوں جس میں ہم رہتے یا دوسرے سیارے اور ستارے ہوں۔ یہ سب کے سب مکمل حرکت میں ہیں اور اس حرکت کا ایک مخصوص جاری قانون ہے جس سے کوئی ستارہ بھی ہٹ نہیں سکتا ۔ چھوٹے ذرات اور ستاروں میں بھی وہی حرکت ہے اور اس دنیا کے عظیم ترین ذرات میں بھی وہی حرکت ہے۔ پھر مطالعہ کائنات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس حرکت کا ایک نظام ہے۔ یہ نظام وہ حقیقت ہے جو اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ اس پوری کائنات کا خالق و مدبر ایک ہے۔ سائنس دان ہر روز جس نئی حقیقت کی دریافت کرتے ہٰں اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس کائنات کے منصوبے میں جو کچھ رکھا ہوا ہے وہ اللہ وحدہ کی ذات پر شاہد عادل ہے اور ایک سچائی ہے اور یہ لوگوں کی خواہشات کے مطابق نہیں بدلتی۔ اور نہ کسی شخص کے سیلانات کے مطابق کسی طرف مائل ہوتی ہے۔ نہ اپنی راہ ایک سکینڈ کے لیے چھوڑتی ہے اور نہ بےراہ روی اختیار کرتی ہے۔
خلق السمٰوٰت والارض بالحق (39: 5) ” اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا “۔ اور کتاب بھی اس نے برحق نازل فرمائی۔ لہٰذا اس کائنات میں بھی حق ہے اور اس کتاب میں بھی حق ہے اور یہ ایک ہی دونوں حق اور سچائی ہے جو اس کائنات میں بھی ہے اور اس کتاب میں بھی ہے اور دونوں کا منبع ومصدر ایک ہی ہے۔ اور دونوں اس بات کی نشانی ہیں کہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا ایک ہی ہے۔
یکورالیل۔۔۔ علی الیل (39: 5) ” وہی ہے جو دن پر رات کو اور رات پر دن کو لپیٹتا ہے “۔ یہ انداز تعبیر ایسا ہے کہ انسان کا دامن کھینچ کر ان جدید انکشافات کی طرف اس کی توجہ مبذول کراتا ہے جن کے مطابق زمین کا گول ہونا ثابت ہوا ہے۔ باوجود اس خواہش کے کہ میں قرآن مجید کی تفسیر میں جدید سائنسی انکشافات سے دامن بچاؤں۔ کیونکہ انسانی نظریات کبھی درست ہوتے ہیں کبھی غلط ۔ آج ثابت ہوتے اور کل باطل ہوجاتے ہیں جبکہ قرآن حق ہے اور اپنی سچائی پر وہ خود دلیل ہے۔ ” آفتاب آمد دلیل آفتاب “ قرآن اپنی سچائی کا ثبوت اپنے موافق یا مخالف سے مانگتا ہی نہیں ۔ نہ ان انکشافات سے جو یہ ضیعف انسان فراہم کرتا ہے۔ لیکن اپنے اس رویے کے باوجود یہ انداز تعبیر مجھے مجبور کررہا ہے کہ زمین کی گردش محوری اور اس کی کروی ساخت پر غور کروں اس لیے کہ ایک ظاہری منظر اس تعبیر سے صاف صاف نظر آتا ہے اور اس کا انکار ممکن نہیں۔ زمین گول ہے اور گردش محوری کے ساتھ سورج کے سامنے ہے۔ اس لیے اس کا جو حصہ دوسوج کے سامنے ہے وہ روشن ہے اور دن ہے لیکن یہ حصہ ایک جگہ کھڑا نہیں رہتا۔ جو نہی یہ حصہ حرکت کرکے آگے بڑھتا ہے۔ اندھیرا زمین کے اس حصے کو ڈھانپتا جاتا ہے۔ اور اسے لپیٹتا جاتا ہے۔ لہٰذا یہ دن والا حصہ لپیٹتا جارہا ہے اور رات اسے لپیٹتی جاتی ہے۔ دوسری جانب سے جہاں رات لپٹی ہوئی ہے وہ بھی اگے بڑھتی اور روشنی رات والے حصے کو لپٹتی ہے اور اس میں دن آتا جاتا ہے۔ یوں ایک طرف سے دن کو رات کور (Cover) کرتی ہے اور دوسری طرف سے رات دن کو کور کرتی جاتی ہے اور یہ حرکت جاری ہے۔
یکور الیل علی النھار ویکور النھار علی الیل (39: 5) یہ الفاظ صورت حال کا خوب نقشہ کھینچتے ہیں اور صورت حال کا صحیح نقشہ ذہین میں آجاتا ہے۔ اس طرح زمین کی حرکت کی نوعیت کا اظہار بھی ہوجاتا ہے۔ زمین کا گول ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ اس کا دورہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ اس انداز بیان کی یہ بہترین تفسیر ہے ، اس کے سوا کوئی دوسری تفسیر اس سے زیادہ گہری نہیں ہوسکتی۔
وسخر الشمس والقمر کل یجزی لاجل مسمی (39: 5) ” اس نے سورج اور چاند کو اس طرح مسخر کررکھا ہے کہ ایک ایک وقت مقرر تک چلے جارہا ہے “۔ سورج اپنے مدار پر چل رہا ہے اور چاند اپنے مدار پر چل رہا ہے۔ اور دونوں حکم الہٰی سے مسخر ہیں۔ اور کسی کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ وہ ان کو چلا رہا ہے اور فطری استدلال اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ بغیر کسی محرک کے یہ حرکت ہورہی ہے اور ازخود یہ نہایت ہی پیچیدہ نظام اس باقاعدگی سے چل رہا ہے کہ کئی ملین سال گزرنے کے بعد ہمیں اس حرکت میں بال برابر کمی نظر نہیں آتی۔ اور یہ شمس وقمر اسی طرح جاری رہیں گے اور ایک وقت تک جاری رہیں گے۔ یعنی قیامت تک اور اس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ جب حکم ہوگا یہ رک جائیں گے۔
اناھو العزیز الغفار (39: 5) ” جان رکھو وہ زبردست ہے اور درگزر کرنے والا ہے “۔ لہٰذا قوت قدرت اور غلبے کی وجہ سے وہ کائنات کو سنبھالتا ہے اور اس قوت کے ساتھ ساتھ وہ غفار بھی ہے۔ جو لوگ اس کی طرف مڑ جاتے ہیں ان کی کوتاہیوں کو بخش دیتا ہے حالانکہ انہوں نے تکذیب اور شرک جیسے بڑے جرائم کیے تھے۔ اور وہ اللہ کے ساتھ الٰہ بناتے تھے۔ اور پھر اللہ کے لیے اولاد مقرر کرتے ہیں اور دوسرے جرائم کرتے ہیں لیکن توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور اس سے داخل ہونے کے لیے راہ واگزار ہے اور اللہ عزیز و غفار ہے۔
اس عظیم کائنات کے مطالعے کے لیے اس سرسری نظر کے بعد اب روئے سخن ذرا پھرجاتا ہے۔ انسان کے نہایت ہی چھوٹے نفس کی طرف جو اپنے اند ایک عظیم جہان رکھتا ہے۔ صرف اس پہلو کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ ذرا ” زندگی “ اور ” حیات “ پر غور کرو۔
Ayah 39:6آیت نمبر 6
انسان جب اپنے نفس پر غور کرتا ہے ، اس نفس پر جسے اس نے خود پیدا نہیں کیا اور وہ اس کی تخلیق کے آغاز کے بارے میں بھی خود نہیں جانتا ۔ صرف وہی معلومات اس کے پاس ہیں جو اللہ خالق نے دیئے ہیں۔ انسان کا نفس ایک ہے ، اس کی ذات ایک ہے۔ اس کی اس ذات اور نفس کے خصائص ایک ہیں اور اس نفس انسانی کے بعض خصائص دوسری مخلوقات سے باکل جدا ہیں۔ جس طرح نفس انسانی کے تمام افراد ایک مخصوص دائرے کے اندر محدود اور متمیز ہیں۔ اسی طرح ” نفس انسانی “ ان اربوں افراد کے درمیان ایک ہے جو اس زمین میں منتشر ہیں یا رہتے ہیں۔ اسی نفس واحد سے پھر اس کا جوڑا یا بیوی بھی پیدا ہوئی۔ تمام انسانی خصوصیات کے اندر عورت مرد کے ساتھ شریک ہے۔ اگرچہ تفصیلی خصوصیات مختلف ہیں لیکن بنیادی خصوصیات ایک ہی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مردو عورت کی ساخت ایک ہی نقشے کے مطابق ہے۔ اسی نقشے کے اندر بعض ترمیمات کی وجہ سے مرد اور عورت الگ الگ ہوگئے ۔ ایک ہی ارادہ ہے جو مرد اور عورت کو الگ کرتا ہے۔
نفس انسانی کے اندر مرد و عورت کے اختلافات کے حوالے اور مناسبت سے یہاں دوسرے حیوانات کی اہم اجناس کے نرومادہ کے نظام کیطرف بھی اشارہ کردیا گیا کہ اس پوری کائنات میں اور انسانوں کے علاوہ دوسرے حیوانات میں بھی حق جاری ہے
وانزل لکم من الانعام ثمٰنیة ازواج (39: 6) ” اور اسی نے تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ نرو مادہ پیدا کیے “۔ یہ آٹھ جانور نرومادہ جس طرح دوسری آیات میں آئے ہیں ، بھیڑ ، بکریاں ، ڈنگر اور اونٹ ہیں۔ یعنی نرومادہ کے شمار سے آٹھ بنتے ہیں۔ اور جب نرومادہ کو جمع کیا جائے تو ان پر ازواج یعنی جوڑوں کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یوں مجموعہ بن جاتا ہے۔
انداز بیان یہ بتاتا ہے کہ اللہ نے ان کو نازل کیا ہے یعنی پیدا کرکے تمہارے لیے مسخر کیا ہے۔ یہ تسخیر اللہ کی طرف سے منزل ہے۔ یعنی اللہ کے علوشان کا یہ کارنامہ ہے اور اس اللہ نے اس کی اجازت دی ہے کہ انسان ان آٹھ قسم کے جانوروں کو گوشت استعمال کرے۔ جانوروں میں نرومادہ کی خصوصیات کے تذکرے کے بعد پھر ماؤں کے پیٹ میں پائے جانے والے جنین کے مختلف مراحل کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
یخلقکم فی۔۔۔ بعد خلق (39: 6) ” پھر وہ ماؤں کے پیٹوں میں تخلیق کے بعد تخلیق کرتا چلا جاتا ہے “۔ پہلے نطفہ ، پھر لوتھڑا ، پھر گوشت کا قطعہ ، پھر ہڈیاں ، پھر واضح شکل اور آخر میں اس کے اندر انسانی حواس کا پیدا کرنا اور انسانی خصوصیات کا پیدا کرنا۔
فی ظلمٰت ثلث (39: 6) ” تین تین تاریک پردوں کے اندر “۔ پہلے اس پردے کی تاریکی جس کے اندر جنین ہوتا ہے ، رحم کی م اور کی ظلمت جس کے اندر وہ ملفوف ہوتا ہے اور پھر ماں کا پیٹ جس کے اندر رحم ہوتا ہے اور اللہ کا دست قدرت اس ذرے کو روز بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ اور یہ دست قدرت روزا سے بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ پھر اس کی شکل و صورت بدلتی جاتی ہے۔ یہ ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔ اللہ اس مخلوق کی نگرانی کرتا ہے اور اسے بڑھنے کی طاقت دیتا ہے۔ اور یوں شکل بدلنا اس کے لیے ممکن ہوتا ہے۔ یہ قدم بقدم آگے جاتا ہے۔ اللہ کی تقدیر اور اندازے کے مطابق ۔
انسان کے اس مختصر سفر اور اس کے اندر اس کی ساخت کی ان دور رس تبدیلیوں پر ایک نظر ڈالنے اور ان تغیرات کو غور سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر پائی جانے والی عجیب و غریب ضصوصیات کی کارفرمائی اور راہنمائی میں اس کمزور ترین اور خوردبینی خلیے نے جس انداز سے ترقی کی ، ان اندھیروں میں اور اس عجیب انداز میں ، تو انسان کو یقین ہوجاتا ہے کہ یہ سب باتیں انسان کے علم وبصیرت اور اس کی قدرت سے وراء ہیں۔
یہ تمام حقائق اس بات کے لیے کافی ہیں کہ انسان کو خالق کائنات کی معرفت پر مجبور کریں۔ اور انسان خالق کائنات کو اس کے ان زندہ آثار کے ذریعے پہچان لے اور اس تخلیق کے اندر جو وحدانیت ہے۔ اس کے آثار بالکل ظاہر و باہر ہیں اور کوئی سوچنے والا انسان کس طرح ان سے صرف نظر کرسکتا ہے۔ ذٰلکم اللہ ربکم له الملک لا اله الاھوفانیٰ نصرفون (39: 6) ” یہی تمہارا رب ہے ' بادشاہی اسی کی ہے ' کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے ' پھر تم کدھر جارہے ہو ؟ “
اللہ وحدہ کی ان نشانیوں کو دیکھتے ہوئے ، اللہ کی بےقید قدرت کے ان نشانات کو ملاحظہ کرتے ہوئے یہاں لوگوں کو خود اپنے طرز عمل پر خود کرنے کے لیے ذرا کھڑا کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اب تمہارے سامنے صرف دو راستے ہیں۔ شکر کی راہ اور کفر کی راہ اور جو راہ بھی تم اختیار کرو گے اس کے سارے نتیجے کی ذمہ رادی انفرادی ہے۔ اور اشارہ دے دیا جاتا کہ وقت قریب ہے ۔ دنیا کا یہ مرحلہ ختم ہونے والا ہے۔ پھر حساب و کتاب ہوگا اور یہ حساب و کتاب وہ ذات لے گی جس نے تمہیں تین تاریک ترین پردوں کے اندر سے نکال کر ذمہ راد بنایا ہے۔ اور وہ اب تمارے دلوں کی خفیہ ترین باتوں کو بھی جانتا ہے۔
Ayah 39:7آیت نمبر 7
تمہاری ماؤں کے پیٹ کا عرصہ تو تمہارے طویل سفر زندگی کا ایک مختصر حصہ ہے۔ ابتدائی مرحلہ ہے۔ پھر پیٹ سے باہر آکر تم قدرے طویل مرحلے میں داخل ہوگے۔ اس کے بعد تیسرا طویل اور ابدی مرحلہ ہوگا۔ حساب و کتاب ہوگا اور یہ مرحلہ اللہ علیم وخبیر کی تدبیر سے طے ہوگا۔
جہاں تک اللہ کی ذات کا تعلق ہے وہ انسان جیسی کمزور مخلوق کا محتاج نہیں ہے۔ انسان بہت ہی ضعیف مخلوق ہے۔ یہ اللہ کا فضل وکرم ہے کہ وہ انسانوں کیطرف متوجہ ہے اور انکی نگرانی اور ان پر مہربانی کرتا ہے اور وہ کس قدر ضعیف اور کس قدر کمزور ہیں
ان تکفروافان اللہ غنی عنکم (39: 7) ” اگر تم کفر کرو تو اللہ بےنیاز ہے “۔ کیونکہ تمہارا ایمان اللہ کی مملکت میں کسی چیز کا
اضافہ نہیں کرسکتا ۔ اور تمہارا کفر اس میں کسی چیز کی کمی نہیں کرسکتا۔ لیکن اللہ اپنے بندوں کی جانب سے کفر کو پسند نہیں کرتا اور کفر کو محبوب نہیں رکھتا۔
ولایرضٰی لعبادہ الکفر (39: 7) ” لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا “۔ اور اگر تم شکر کرو۔
وان تشکرواترضه لکم (39: 7) ” اگر تم شکر کرو تو اسے وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے “۔ وہ شکر کو محبوب رکھتا ہے ، اور اس پر جزائے خیر دیتا ہے۔
ولا تزروازرۃ وزراخرٰی (39: 7) ” کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا “۔ آخر کار ہم نے اللہ کے ہاں لوٹنا ہے۔ صرف اس کے آگے پیش ہونا ہے اور اس کے سوا کوئی پناہ نہیں ہے۔
ثم الیٰ ۔۔۔۔ تعملون (39: 7) ” آخر کار تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے۔ پھر تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو “۔
اس پر کوئی امر مخفی نہیں ہے۔
انه علیم بذات الصدور (39: 7) ” وہ دلوں کا حال جانتا ہے “۔ یہ ہے انجام حیات ۔ یہ ہیں دلائل ہدایت اور یہ ہے دو راہہ جس سے دونوں راستے الگ ہوتے ہیں۔ ایک ہدایت کا راستہ اور ایک ضلالت کا راستہ۔ اب ہر شخص کو اختیار ہے کہ وہ کونسا راستہ اختیار کرتا ہے جو شخص جس راستے کا اختیار کرے خوب سمجھ کر اختیار کرے غور و تدبر کے بعد کرے۔ علم اور فکر کے ساتھ کرے
Ayah 39:8درس نمبر 216 ایک نظر میں
پہلے سبق میں یہ بات کہی گئی کہ تخلیق انسان کی کہانی کیا ہے۔ یہ کہ تمہیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا گیا ہے اور پھر اسی نفس سے ایک جوڑا بھی بنایا گیا ہے۔ پھر مویشیوں کو بھی بیشمار جوڑوں کی صورت میں بنایا گیا ہے۔ اور پھر تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تخلیق کے بعد تخلیق تمہیں دی اور تین ظلمتوں کے اندر تمہیں پیدا کیا ۔ پھر اللہ نے تمہیں انسانی خصوصیات عطا کیں اور پھر ان خصائص کا نظام تسلسل قائم کیا اور اس کو ترقی دی۔
اب یہاں انسانوں کی تفسیاتی دنیا کے حالات بتائے جاتے ہیں کہ خوشی اور غم اور امن وخوف کے وقت اس کی حالت کیا ہوتی ہے۔ وہ کس قدر کمزور ہیں اور کس قدر متلون مزاج ہیں اور کس قدر کمزور وناتواں ہیں الا یہ کہ وہ رب تعالیٰ کے ساتھ رابطہ قائم کرلیں۔ اور اسی کی طرف امید لگائے رہیں ، اس کے مطیع فرمان ہوجائیں اور صحیح راستہ پہچان لیں۔ اور اصل حقیقت کو پالیں اور اللہ نے انسان کو جو انسانی خصائص دیئے ہیں اپنے آپ کو ان کی راہ پر ڈالیں۔ درس نمبر 216 تشریح آیات
آیت نمبر 8
یہ انسان کی فطرت کا مزاج ہے کہ جب خطرات لاحق ہوں تو انسانی فطرت کھل کر سامنے آجاتی ہے اور تمام پردے اور حجابات دور ہوجاتے ہیں جو اس فطرت کے اوپر چھائے ہوئے ہوں اور تمام اوہام و خرافات بھی دور ہوجاتے ہیں۔ خطرے کے وقت انسان صرف رب ذوالجلال کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس کے آگے جھک جاتا ہے۔ فطرت انسانی اس وقت اس بات کا ادراک کرلیتی ہے کہ یہ خطرہ صرف اللہ ہی کے ٹالنے سے ٹل سکتا ہے۔ اللہ کے سوا تمام دوسری قوتیں جھوٹی ثابت ہوتی ہیں۔
لیکن جب مشکلات دور ہوتی ہیں اور امن وامان اور خوشحالی کا دور آتا ہے اور اللہ مشکلات کو نعمتوں سے بدل دیتا ہے اور یوں مشکلات دور ہوجاتی ہیں تو یہی انسان جس کی فطرت کھل کر سامنے آگئی تھی پھر اوہام و خرافات میں پھنس کر اپنی سابقہ حالت کے زیر اثر آجاتا ہے۔ اور مشکلات میں اپنے گڑگڑانے ، اللہ کی طرف متوجہ ہونے اور توبہ کرنے کو بھول جاتا ہے۔
اس وقت پھر اس کی حالت نہیں ہوتی کہ وہ اللہ کو پکارے ، اس سے ڈرے اور یہ سمجھے کہ اب اللہ کے سوا کوئی بھی مشکلات کو دور نہیں کرسکتا ۔ یہ تمام حالات بھلا کر اب دوبارہ اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک کرتا ہے۔ یا تو وہ ان الہوں کو پوجتا ہے جو جاہلیت کے دور میں پوجے جاتے تھے یا بعض اشخاص کو پوجتا ہے۔ یہ ایسے حالات کی بندگی کرتا ہے جو اللہ کے ساتھ سریک ہوتے ہیں ۔ جس طرح ہر جاہلیت کا ایک الٰہ ہوتا ہے۔ کبھی وہ اپنی خواہشات اور اپنے مفادات کو پوجتا ہے یا وہ مستقبل کی امیدوں اور ان جانے خوف سے ڈرتا ہے یا اپنی اولاد اور حکام ہے یا اپنے سرداروں اور لیڈروں کو پوجتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ سردار بھی پوجے جاتے ہیں جس طرح خدا کو پوجا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ خدا سے بھی زیادہ پوجے جاتے ہیں۔ یارد ہے کہ شرک کی بھی کئی اقسام ہیں۔ بعض شرک نہایت ہی خفی ہوتے ہیں لوگ نہ اسے دیکھ سکتے ہیں اور نہ ان کو اس کا احساس ہوتا ہے۔ قرآن کریم صرف معروف ومشہور شرک ہی کو نہیں لیتا بلکہ وہ ہر اس بات کو لیتا ہے جو اپنے نقشے کے اعتبار شرک پر۔
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا انسان اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اللہ کی راہ تو ایک ہوتی ہے۔ اس میں تعداد ممکن نہیں ہے۔ وہ یہ کہ زندگی صرف اللہ ہی کی ہوگی۔ محبت صرف اللہ کے ساتھ ہوگی۔ اور کسی شخص کے تصور میں بھی اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو۔ نہ مال کا خدا شریک ہو ، نہ اولاد کا خدا شریک ہو ، نہ وطن کا خدا شریک ہو ، نہ زمین کا خدا شریک ہو ، نہ رشتہ داری کا خدا شریک ہو ، شرک کی ان صورتوں میں سے جو کسی کے دل میں جاگزیں ہوگئی تو یہ انداز اللہ میں شامل ہوگی۔ اللہ کے راستے سے گمراہی ہوگی اور اللہ کے راستے سے گمراہی کا انجام آگ ہے اور یہ بات بہت جلد اس دنیا کی قلیل زندگی کے بعد سامنے آنے والی ہے
قل تمتع۔۔۔ النار (39: 8) ” کہہ دیجئے کہ تھوڑے ہی دن اپنے کفر سے لطف اٹھالے یقیناً تو دوزخ میں جانے والا ہے
“۔ اس دنیا کے دن جس قدر بھی طویل ہوں ، تھوڑے ہی ہیں۔ انسان کے دن زمین پر بہرحال گنے چنے ہیں اگرچہ عمر طویل کوئی
پائے۔ بلکہ خود پوری جنس انسانی کی زندگی بھی اس کرۂ ارض پر قلیل ہے۔ جب ہم اس عمر کا مقابلہ ایام اللہ سے کریں۔
اس بری تصویر کے مقابلے میں اچھی تصویر اور اچھی نفسیاتی کیفیت بھی ہے۔ اللہ سے ڈرنے والا دل ، ہر حالت میں ، ہر
آفت میں اللہ کو یاد کرنے والا دل ، دنیا میں آخرت کو نظر میں رکھ کر زندگی گزارنے والا دل ، اللہ کی رحمت کا طلبگار ، اللہ کے ساتھ ایسا رابطہ کرنے والا دل جس سے علم صحیح پیدا ہو ، اور اس کائنات کی حقیقت کو پالنے والا دل ، اس کی تصویر یہ ہے :
Ayah 39:9آیت نمبر 9
یہ نہایت ہی روشن اور حساس تصویر ہے۔ مطیع فرمان ، اطاعت شعار ، سجدے کی حالت میں اور رکوع کی حالت میں ہونا دراصل حساس اطاعت شعاری ہے ۔ ایسا شخص آخرت سے ڈرتا ہے اور اللہ کی رحمت کا امیدوار ہوتا ہے۔ یہ صفائی اور باطن کی یہ شفافی انسانی بصیرے کو کھول دیتی اور انسانی دل و دماغ کو دیکھنے ، اخذ کرنے اور فکر کرنے کی قوت عطا کرتی ہے۔ ان تمام امور کے ذریعہ مومنین کی بہت ہی اچھی تصویر کھنچ جاتی ہے۔ جبکہ آیت سابقہ میں مشرکین کی نہایت ہی بھونڈی تصویر تھی۔ اس کے بعد ان کے درمیان موازنہ دیکھئے۔
قل ھل ۔۔۔۔ یعلمون (39: 9) ” ان سے پوچھو کیا علم رکھنے والے اور نہ رکھنے والے دونوں یکساں ہوسکتے ہیں “۔
سچا علم دراصل الہی معرفت کا نام ہے۔ سچائی تک پہنچنے کا نام ہے۔ اور ایساعلم انسانی بصیرت کو کھول دیتا ہے۔ اور یوں ایک عالم ان حقائق تک رسائی حاصل کرلیتا ہے جو اس وجود میں ہوتی ہے۔ علم ان معلومات کا نام نہیں ہے جو ذہین میں جمع ہوجائیں اور جن سے کوئی سچا اصول اور کوئی سچی حقیقت ذہین نشین نہ ہو۔ اور نہ محسوسات کے علاوہ کوئی حقیقت ذہن میں بیٹھی ہو۔
یہ ہے صحیح راستہ علم حقیقی اور اس حقیقت کا جو دل و دماغ کو منور کردیتی ہے۔ یہی ہے اللہ کا مطیع فرمان ہونا۔ دل کا حساس ہونا اور آخرت اور اللہ کئ فضل وکرم کی امیدواری اور یہ ہے اللہ کا خوف اور اللہ کے سامنے ڈرے اور سہمے رہنا۔ علم اور حقیقی علم یہی ہے اور اس طرح عقلیت پیدا ہوتی ہے وہ دیکھنے والی اور سننے والی اور جس چیز کو وہ پاتی ہے اس سے فائدہ اٹھانے والی ہوتی ہے اور یوں اس قسم کا علم ان مشاہدات کے پیچھے حقیقت عظمیٰ تک پہنچ جاتا ہے۔ لیکن جو لوگ انفرادی تجربات کو علم کہتے ہیں اور صرف ان چیزوں کو معلومات کہتے ہیں جو نظر آتی ہیں۔ ایسے لوگ معلومات جمع کرنے والے تو ہیں لیکن علماء نہیں۔
انما یتذکر اولوا الالباب (39: 9) ” نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں “۔ یعنی کھلے دلوں والے ، جن کی بصیرت کے دروازے راہوں اور جو ظواہرو مشاہد کے پیچھے جھانک سکتے ہوں۔ وہ لوگ عقلمند ہیں اور وہی لوگ ہر چیز میں اللہ کے نشانات دیکھ کر اللہ کے سامنے جوابدہی کے یقین کو بھول نہیں جاتے۔ ان دو تصویروں کے بعد اہل ایمان کو مخاطب کیا جاتا ہے کہ وہ خدا کا
خوف کریں اور اچھے کام کریں اور اس مختصر زندگی میں طویل زندگی کے لیے کچھ کما کر اور سجا کر چھوڑیں۔
Ayah 39:10آیت نمبر 10
کہو اے میرے بندو ، جو ایمان ہوئے ہو ، قل یٰعباد الذین اٰمنوا (39: 10) اہل ایمان کی طرف نہایت ہی نظر کرم ہے۔ اصل میں عربی عبارت یوں ہے :
قل یٰعباد الذین اٰمنوا (39: 10) یعنی ان سے میرا یہ پیغام کہہ دو کہ متقی بن جاؤ۔ اپنے رب سے ڈرو۔ لیکن اللہ نے اسے براہ راست پکارہ کے صیغے میں تبدیل کردیا۔ یہ ایک قسم کا اعلان اور تنبیہہ ہے۔ رسول اللہ ؐ تو مسلمانوں کو (یاعبادی) کہہ کر نہیں پکارتے تھے آپ تو عباد اللہ کہہ کر انہیں پکارتے تھے لیکن یہ اللہ کی نظر کرم ہے کہ وہ حضور ﷺ سے فرماتا ہے کہ (یاعباد) کہہ کر پکارو۔ یوں یہ پکار اللہ کی جانب سے ہو اور حضور اکرم ﷺ اللہ کے ڈائریکٹ خطاب کی حکایت فرمائیں۔
قل یٰعباد الذین اٰمنوا اتقوا ربکم (39: 10) ” اے نبی کہو ، اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو ، اپنے رب سے ڈرو “۔ تقویٰ کیا ہے ، وہی دل کی حساسیت۔ اللہ کی طرف ڈر اور خشیت کے ساتھ دیکھنا ۔ امید اور طمع کے ساتھ دیکھنا ۔ اس کے غضب ، ناراضگی سے ڈرتے رہنا۔ یہ ہے بہترین تصور اہل ایمان کی۔ اس آیت میں جو تصویر کشی کی گئی ہے اور اس میں جو رنگ بھرے گئے ہیں وہ وہی ہیں جو آیت سابقہ میں ہیں ، البتہ یہ عملی رنگ ہیں۔
للذین احسنوافی ھٰذہ الدنیا حسنة (39: 10) ” جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک رویہ اختیار کیا ، ان کے لیے بھلائی ہے “۔ کیا خوب جزاء ہے کہ اس دنیا میں اچھا سلوک کرو۔ تو یہاں اس حقیر دنیا میں بھی اچھائی پاؤ اور آخرت میں بھی اچھائی پاؤ۔ جو دار بقا دار دوام ہے۔ لیکن یہ انسان پر فضل وکرم ہے اور اللہ کو معلوم ہے کہ یہ انسان کس قدر ضعیف اور ناتواں ہے۔ اس لیے اللہ نے اس پر بےپناہ کرم کیا۔
وارض اللہ واسعة (39: 10) ” خدا کی زمین وسیع ہے “۔ لہٰذا زمین کی محبت اور کسی ایک جگہ کے ساتھ الفت تمہیں بہاکر نہ رکھ دے۔ نسب ، رشتہ داری اور دوستی کے روابط تمہیں بڑے کاموں سے روک نہ دیں۔ ہجرت ایک عظیم مقصد کے لیے ہوتی ہے ۔ اگر کوئی جگہ تمہارے دین کے لیے تنگ ہو اور جہاں تم اسلام کا محسنانہ نظام جاری نہیں کرسکتے تو پھر زمین سے چمٹے رہنا شیطان کی حرکت ہے۔ اور یہ انسان کے دل میں شرک کا ایک رنگ ہے۔
یہ قرآن کا نہایت ہی لطیف اشارہ ہے ، اس طرف انسان کے دل و دماغ میں خفی اس طرح سرایت کرتی ہے کہ بات اللہ کی وحدانیت اور اللہ سے ڈرنے کی ہورہی ہے۔ اور اس میں یہ لطیف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا سرچشمہ وہی ذات باری ہے جس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ کیونکہ انسان کے دل و دماغ کا یہ علاج وہی ذات کرسکتی ہے جو انسان کی
خالق ہے اور جو انسان کے بارے میں پوری معلومات رکھتی ہے۔ اور انسان کی شخصیت کے خفیہ گوشوں کو جانتی ہے۔
اللہ جانتا ہے کہ یہ ہجرت انسانوں کے لیے کس قدر مشکل کام ہے۔ دنیا کے ان رابطوں کو یکلخت ترک کردیتا ، کوئی آسان
کام نہیں ہے۔ ایک چالو زندگی کو ترک کرنا ، رزق کے ایسے وسائل جن کا انسان عادی ہوجائے۔ ان کو ترک کرنا ، چلتے ہوئے کاروبار کو چھوڑنا ، اور بالکل ایک نئی سرزمین پر ازسرنو زندگی شروع کرنا ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔ اس کے لیے انسان مشکل سے تیار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس معاملے کو بڑا صبر کہا گیا ہے اور اس پر بڑے اور پورے اجر کا وعدہ کیا گیا ہے۔
انما۔۔۔۔ حساب (39: 10) ” صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بغیر حساب کے دیا جائے گا “۔ یہاں اللہ تعالیٰ انسانی دلوں کو نہایت ہی برمحل یہ احساس دلاتا ہے اور ان کو اس کام کے لیے آمادہ فرماتے ہیں جو بالعموم انسانوں کے لیے بہت ہی دشوار ہوتا ہے۔ اور ہجرت جیسے شدید حالات میں اللہ ان پر اپنی رحمت اور شفقت اور اپنے قرب کی شبنم گراتا ہے۔ اور وطن کے روابط ، الفت و محبت اور اہل و عیال اور رشتہ داریوں اور دوستوں کو قربان کرنے پر بعض بےحساب اجر کا وعدہ فرماتا ہے ۔ پاک ہے وہ ذات جو انسان کے بارے میں حلیم وخبیر ہے۔ اور انسانی قلوب کے ساتھ یہ مشفقانہ معاملہ کرتی ہے۔ اور انسانی نفسیات کے نشیب و فراز کے اندر گہرائیوں تک پائے جانے والے نہایت ہی خفیہ احساسات کو جانتی ہے اور ان کا مداوا کرتی ہے۔
Ayahs 39:11–14درس نمبر 217 ایک نظر میں
اس سبق پر آخرت کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ اور آخرت کے عذاب کے مختلف رنگ اور سائے ہیں۔ نیز آخرت کے ثواب کی امیدیں بھی ہیں ۔ حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ خالص توحید کے عقیدے کا اعلان کردیں۔ اور یہ بھی اعلان کردیں کہ اگر میں اس سے انحراف کروں تو مجھے عذاب الہٰی کا ڈر ہے اور یہ کہ میں اپنے منصوبے اور منہاج پر قائم ہوں اور تم جانو اور تمہارا منہاج وطریقہ۔ البتہ اسلامی منہاج کا انجام یہ ہوگا اور کفریہ منہاج کا انجام یہ ہوگا۔
درس نمبر 217 تشریح آیات
آیت نمبر 11 تا 13
ترجمہ : یہ نبی ﷺ کی طرف سے اعلان ہے کہ آپ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ اللہ وحدہ کی بندگی کریں اور دین اس کے لیے خالص کردیں۔ اور اس طرح آپ پہلے مسلمان بن جائیں اور یہ بھی اعلان کردیں کہ اگر میں اپنے رب کی معصیت کا ارتکاب کرلوں تو میرے لیے بھی عذاب الہٰی کا خطرہ ہے۔ اسلام نے جو عقیدۂ توحید پیش کیا ہے اس کو خالص کرنے کے لیے اس اعلان کی بڑی اہمیت ہے۔ اس عقیدے کے حوالے سے نبی ﷺ بھی اللہ کے ایک بندے ہی ہیں اور آپ ﷺ مقام بندگی سے آگے نہیں جاسکتے ۔ اور تمام انسان بھی بندگی کے مقام پر مساوی طور پر کھڑے ہیں اور صرف ذات باری ہی ہے جو ان بندوں کے اوپر نگہبان ہے۔ یہ ہے مراد اس آیت سے۔
اس طرح مقام الوہیت اور مقام بندگی اپنی اپنی جگہ پر الگ ہوجاتے ہیں اور بالکل متمیز ہوجاتے ہیں۔ ان میں نہ کوئی اختلاط
ہوتا ہے اور نہ کوئی اشتباہ ہوتا ہے اور وحدانیت کی صفت اللہ وحدہ کے لیے مختص ہوجاتی ہے اور اس میں کوئی شک وشبہ نہیں رہتا ۔ اور حضرت محمد ﷺ بحیثیت بندہ دوسرے بندوں کے ساتھ ہم صفت کھڑے ہیں اور آپ بھی اللہ کی معصیت کے ارتکاب سے ڈرتے ہیں لہٰذا بتوں اور فرشتوں کی سفارش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ اللہ کے ساتھ ساتھ ان کی عبادت کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ ایک بار پھر اللہ کی بندگی کا اعلان فرماتے ہیں اور اصرار کے ساتھ بندگی کا اعلان فرماتے ہیں اور مشرکین سے کہہ دیا جاتا ہے کہ تم جانو اور تمہارا دردناک انجام۔
Ayah 39:15آیت نمبر 15
اور دوبارہ اعلان کیا جاتا ہے کہ دیکھو میں تو اپنی راہ پر چل رہا ہوں ، میں بندگی صرف اللہ کی کرتا ہوں ، نظام زندگی صرف اللہ کا اپناتا ہوں ، تم بھی جس راہ کو پسند کرو اور جس کی بندگی چاہو ، اختیار کرو لیکن لیکن تم اس عظیم دیوالیہ پن سے دوچار ہوگے۔ اتنا بڑا خسارہ ہوگا تمہیں جس سے بڑا اور کوئی خسارہ نہ ہوگا۔ تم اپنی جان کو جہنم تک پہنچادوگے۔ تمہیں اہل و عیال کا خسران ہوگا چاہے مومن ہو یا کافر۔ اگر اہل مومن ہوں تو وہ جنتوں کو چلے جائیں گے اور یہ جہنم میں ان سے بہرحال کم ہوں گے۔ اگر کافر ہوں تو جس طرح خود کو گنوایا اسی طرح ان کو بھی گنوایا۔ دونوں جہنم میں ہوں گے۔
ذٰلک ھو الخسران المبین (39: 15) ” یہی کھلا دیوالیہ ہے “۔ اور اس خسارے کا ایک منظر یہ ہے :
Ayah 39:16آیت نمبر 16
فی الواقع یہ ایک خوفناک منظر ہے۔ یہ آگ کا منظر ہے۔ ان کے اوپر بھی آگ کی چھڑیاں ہوں گی اور نیچے بھی اور وہ ان چھتریوں میں لپٹے ہوں گے اور آگ کے یہ شعلے جنہیں چھتریاں کہا گیا ہے ان پر حاوی ہوں گے۔ یہ خوفناک منظر اللہ اپنے بندوں کے سامنے اس وقت پیش کرتا ہے جبکہ ابھی وہ دنیا میں ہیں اور اگر وہ اس سے بچنا چاہیں تو بچ سکتے ہیں۔
ذٰلک یخوف اللہ به عبادہ (39: 16) ” یہ وہ انجام ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے “۔ ان کو زور زور سے پکارتا ہے کہ بچو بچو ! آگے بہت بڑا خطرہ ہے۔
یٰعباد فاتقون (39: 16) ” اے میرے بندو ' میرے غضب سے بچو “۔ اور دوسری جانب ' بالمقابل پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں وہ لوگ جو نجات پاچکے ہیں ' جو دنیا میں اس برے انجام سے ڈرگئے تھے :
Ayahs 39:17–18آیت نمبر 17 تا 18
طاغوت کا صیغہ طغیان سے ہے۔ جس طرح ملکوت ' عظموت اور رحموت کے صغے بنے ہیں اس کے مفہوم میں ضخامت اور مبالغہ پایا جاتا ہے۔ اس کا مروج مفہوم یہ ہے کہ جو سرکشی کرے اور حد سے تجاوز کرجائے ' وہ طاغوت ہے۔ اور جو لوگ طاغوت کی بندگی اور طاعت سے اجتناب کرتے ہیں وہ لوگ کون ہیں ؟ وہ کسی شکل میں بھی طاغوت کی بندگی نہ کریں۔ اور یہ وہی لوگ ہوں گے جو ہر چھوٹے بڑے کام میں اللہ کی بندگی کرنے والے ہوں ، اس کی طرف لوٹنے والے ہوں اس کی طرف رجوع کرنے والے ہوں اور بندگی کے صحیح مقام پر کھڑے ہوں۔
ایسے ہی لوگوں کے لیے بشارت عالم بالا سے ہے اور رسول اللہ ؐ ان کو اس کی خوشخبری دے رہے ہیں۔
لھم البشرٰی فبشرعباد (39: 17) ” ان کے لیے خوشخبری ہے۔ (پس اے نبی ﷺ بشارت دے دو میرے ان بندوں کو “۔ ان کے لیے عالم بالا سے بشارت آئی اور رسول اللہ ؐ نے سنا دی تو اس سے بڑی تعمت اور کیا ہوسکتی ہے ؟ اللہ کے ایسے کی صفت یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ اللہ کی جو بات سنتے ہیں اسے غور سے سنتے ہیں۔ پھر اس بات کی وہ اطاعت کرتے ہیں کیونکہ وہ بہت ہی احسن ہوتی ہے اور دوسری باتوں کو وہ ترک کردیتے ہیں۔ لہٰذا وہ صرف اچھی بات ہی لیتے ہیں ۔ اس کے ذریعہ اپنے اذہان وقلوب کو صاف کرتے ہیں۔ اور ہمشہ یوں ہوتا ہے کہ پاک اور طب نفوس پاک اور احسن باتوں کے لیے ہمشہ کھلے ہوتے ہیں۔ وہ فوراً قبول کرتے ہیں اور ناپاک اور خبیث دل طیب چیزوں کے لیے بند ہوتے ہیں۔ اور گندی باتیں ہی قبول کرتے ہیں۔
اولٰئک الذین ھدٰھم اللہ (39: 18) ” یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے “۔ کیونکہ اللہ نے دیکھ لیا کہ ان کے دلوں میں خیر موجود ہے۔ لہٰذا اللہ نے ان کو خیر کی طرف ہدایت دی اور انہوں نے اچھی باتوں کو سنا اور قبول کرلیا۔ اور ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے۔
وأولٰئک ھم اولوا الباب (39: 18) ” اور یہی لوگ دانشمند ہیں “۔ عقل سلیم ہی انسانوں کو پاکیزگی کی طرف مائل کرتی ہے ۔ نجات کی طرف مائل کرتی ہے۔ لہٰذا جو شخص پاکیزگی اور نجات کی طرف میلان نہیں رکھتاوہ گویا مسلوب العقل ہے اور اس نے اللہ کی دی ہوئی نعمت سے انکار کردیا ہے۔ قبل اس کے پاکیزہ لوگوں کے انعام و انجام کو پیش کیا جائے ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ طاغوت کے یہ بندے دراصل عملاً اگ تک پہنچ گئے ہیں اور ان میں سے ایک بھی اگ سے نجات نہیں پاسکتا۔
Ayah 39:19آیت نمبر 19
خطاب رسول خدا سے ہے۔ اور اگر رسول اللہ ؐ ان کو آگ سے نہیں بچا سکتے تو آپ کے سوا اور پھر کون ہے جو ان لوگوں کو آگ سے بچاسکے۔ ان جہنمیوں کے منظر کے بالمقابل ان لوگوں کا منظر ہے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور ان باتوں سے ڈرتے ہیں جن سے اللہ نے ان کو ڈرایا ہے۔ گویا یہ جہنمی عملاً جہنم میں ہیں اور جنتی عملاً جنت میں ہیں۔
Ayah 39:20آیت نمبر 20
اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے منزل بنی ہوئی بلند عمارتوں یعنی بالاخانوں کا یہ منظر اہل جہنم کے اس منظر کے بالمقابل ہے جن سے اوپر بھی چھتریاں ہوں گی آگ کی اور نیچے بھی ہوں گی۔ یہ تقابل قرآن کے انداز کلام کا ایک حصہ ہے۔ اور یہ ان تمام مناظر میں پایا جاتا ہے جو قرآن مجید میں تقابلی مناظر کے طور پت پیش کئے گئے ہیں۔
یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ ہمشہ واقع ہوکر رہتا ہے۔ جن مسلمانوں نے سب سے پہلے اس قرآن کوسنا۔ انہوں نے ان مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ ان کے لیے کوئی وعدہ یا وعید دورنہ تھا ۔ ان کے قلوب اور ان کے احساسات تو ان کی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ یہ وعدے اور وعید تو ان کے لیے مشاہدہ تھے۔ یہ وعدے اور وعید سن کر وہ کانپ اٹھتے تھے اور ان کے نفوس اس طرح اپنا رخ قرآن کے ساتھ بدل دہتے تھے۔ جس طرح بادنما ہوا کے ساتھ رخ کو بدل دیتا ہے۔ اور وہ اپنی زندگی کو اخروی مناظر کے مطابق بدل دیئے تھے اور وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی مناظر قیامت میں زندہ رہ رہے تھے۔ یہی رویہ ہونا چاہئے ایک مسلمان کا قرآن کے حوالے سے کہ وہ قرآن کو سمجھے اور اپنی عملی زندگی کے رخ کو قرآن کے رخ پر ڈالتا رہے۔
Ayah 39:21درس نمبر 218 ایک نظر میں
یہ سبق عالم نباتات کی ایک جھلک دکھاتا ہے کہ کس طرح اللہ پانی آسمانوں سے اتارتا ہے اور پھر زمین سرسبز ہو کر فصلیں اگتی ہیں اور یہ فصلیں اپنے انجام تک پہنچ جاتی ہیں۔ یہ مثال قرآن میں زمین کی بےثباتی اور حیات دنیا کے اختصار کے لیے دی جاتی ہے۔ اور اہل فکر ونظر کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس پر غور و فکر کریں۔ پھر آسمانوں سے پانی کے نزول کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ یہ کتاب بھی ایک قسم کا باران رحمت ہے جو آسمانوں سے نازل ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ سے خشک دل سرسبز ہوجاتے ہیں اور کھل جاتے ہیں۔ اس موقعہ پر ایک نہایت ہی اشاراتی تصویر بھی پیش کی جاتی ہے کہ کھلے دل اس کتاب سے کس طرح استفادہ کرتے ہیں۔ وہ اس سے ڈرتے ہیں ، ان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے ، رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور نرم ہوکر ان کے اندر قبولیت پیدا ہوتی ہے اور پھر ہدایت قبول کرکے وہ خوب مطمئن ہوجاتے ہیں۔ پھر ان لوگوں کی تصویر جو ذکر الہٰی کی طرف لبیک کہتے ہیں اور ان کی تصویر جنکے دل پتھر ہوگئے ہیں۔ آخر میں توحید کی حقیقت کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور ایک مثال دی جاتی ہے کہ الٰہ واحد کی بندگی کرنے والوں اور متعدد الہوں کی بندگی کرنے والوں کی حالت کیا ہوتی ہے۔ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ دونوں کا ایک حال نہیں
ہوسکتا ، مثلاً ایک غلام جسکے مختلف اور باہم لڑنے جھگڑنے والے مالک ہوں اور دوسرا غلام جو صرف ایک ہی سنجیدہ مالک کا غلام ہو۔
درس نمبر 218 تشریح آیات
آیت نمبر 21
یہ منظر جس کی طرف یہاں قرآن کریم ہماری توجہ مبذول کراتا ہے ، ایک ایسا منظر ہے جو اس کرۂ ارض پر ہر جگہ دہرایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس منظر میں جو عبائبات ہیں ان کی تعجب خیزی بوجہ بار وہرائے جانے کے ، ختم ہوجاتی ہے اور انسان ان سے مانوس ہوجاتا ہے۔ قرآن کریم انہی مناظر کو دوبارہ گہرے غوروفکر کے لیے پیش کرتا ہے کہ انسان اس منظر کی ترقی پر مرحلہ وار غور کرے۔ دیکھو ، آسمانوں سے پانی نازل ہورہا ہے۔ یہ پانی کیا ہے اور کس طرح یہ آرہا ہے۔ یہ چونکہ نازل ہوتا رہتا ہے۔ اس لیے ہم اس پر سے یوں ہی گزر جاتے ہیں۔ یہ پانی اور اس کی تخلیق بذات خود ایک معجزہ ہے۔ اگرچہ ہمیں اس قدر معلوم ہوگیا ہے کہ یہ ایک متعین انداز میں ہائیڈروجن کے دو ذروں کا آکسیجن کے ایک ذرے کے ملاپ کا نام ہے۔ لیکن ہمارا یہی علم ہے کہ اللہ نے کائنات کے اندر ہائیڈروجن اور آکسیجن کو پیدا کیا اور پھر ایسے حالات پیدا کیے۔ کہ یہ ذرے آپس میں مل گئے اور اس اتحاد کے نتیجے میں پانی وجود میں آگیا۔ اور اس کے بعد اس زمین پر حیات کا پیدا کیا جانا ممکن بنا دیا گیا اور اللہ کا دست قدرت ان تمام امور کے پیچھے ہے۔ اور یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی صنعت کاریاں ہیں۔ پھر اسمانوں سے اس پانی کا نازل کرنا ، اس مخصوص انداز میں ایک دوسرا معجزہ ہے کہ اس زمین اور اس کائنات کو اس انداز میں بنایا کہ پانیوں کا برسنا ممکن ہوگیا۔ پھر اس کے بعد جو مرحلہ آتا ہے وہ یہ کہ
فسلکه ینابیع فی الارض (39: 21) ” پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاؤں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا “۔ اس میں وہ دریا بھی شامل ہیں جو زمین پر بہتے ہیں۔ اس میں وہ ذخیرے بھی شامل ہیں جو سطح زمین کے نیچے ادھر ادھر چلتے ہیں۔ اور سورتوں اور چشموں کی شکل میں نکلتے ہیں۔ یا اس سطح زمین کے اندر کنویں نکال کر جاری کیے جاتے ہیں اس طرح کہ اللہ اس پانی کو سطح کے قریب رکھتا ہے اور یہ پانی دور تک نہیں جاتے کہ کبھی واپس ہی نہ ہوسکیں۔
ثم یخرج به زرعا مختلفا الوانه (39: 21) ” پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جس کی قسمیں مختلف ہیں “۔ نباتاتی زندگی جو بارش کے نتیجے میں نمودار ہوتی ہیں اور بارش سے پیدا ہوتی ہے ایک ایسا معجزہ ہے جس کا مقابلہ انسانی جدوجہد نہیں کرسکتی ۔ ایک چھوٹی سی کونپل جو زمین سے سر نکالتی ہے ، زمین کے بھاری بوجھ کو پھاڑ کر اور سر نکال کو کھلی فضا مٰن سانس لیتی ہے اور روشنی اور ہوا سے لطف اندوز ہوتی ہے اور آزاد فضا میں آزادی سے لہلہاتی ہے اور پھر یہ فضا میں آہستہ آہستہ اوپر اٹھتی ہے۔ صرف اس کو نپل کا ملاحظہ ہی انسان کے دل و دماغ کو ذکر الہٰی سے بھر دیتا ہے۔ اور اللہ خالق کائنات کے احساس کی ایک لہر انسان کے ذہین میں اٹھا دیتا ہے وہ اللہ جس نے ہر چیز کو اس کا وجود بخشا اور پھر اسے ہدایت دی پھر ایک ہی قطعہ زمین میں مختلف قسم کے پھل ، مختلف پھل نہیں بلکہ ایک چھوٹا سا پودا بلکہ ایک چھوٹا سا پھول بھی قدرت باری تعالیٰ کی ایک عظیم نمائش گاہ ہے۔ انسان صرف ایک پھول کا تجزیہ کرکے ہی اپنے عجز کا اظہار کردیتا ہے۔ اور پھر یہ سرسبز فصل اپنی سر سبزی ختم کرکے پک جاتی ہے اور اپنے دن پورے کرکے۔
ثم یھیج فترہ مصفرا (39: 21) ” پھر وہ کھیتیاں پک کر سوکھ جاتی ہیں۔ پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑگئیں “۔ اور اس کائنات کے ناموس فطرت میں اس کے لیے جو انجام مقرر ہے اس تک وہ پہنچ جاتی ہے اور مراحل حیات طے کرکے پک جاتی ہے۔
ثم یجعله حطاما (39: 21) ” پھر آخر کار اللہ ان کو ان کو بھس بنا دیتا ہے “۔ اس کا وقت مقرر آپہنچتا ہے۔ وہ اپنا کردار ادا کردیتی ہے۔ اور اس کا دور ختم ہوتا ہے جو زندگی بخشنے والے اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمایا تھا۔
ان فی ذٰلک لذکرٰی لاولی الالباب (39: 21) ” درحقیقت اس میں سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے “۔ وہ عقل رکھنے والے جو غور کرتے ہیں ، سبق لیتے ہیں اور اللہ ان کو جو صلاحیتیں دی ہیں اور جو عقل وخرد دی ہے اس سے استفادہ کرتے ہیں۔