39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 39:62–63

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں کے خزانوں کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں ، اور جو لوگ اللہ کی آیات سے کفر کرتے ہیں ۔ وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں

درس نمبر 222 ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری سبق ہے ، اس میں تخلیق کائنات کے حوالے سے حقیقت توحید کے مضمون کو لیا گیا ہے۔ یہ کہ اللہ نے تمام چیزوں کی تخلیق کی ہے۔ وہ تمام چیزوں میں مالکانہ تصرف رکھتا ہے۔ لہٰذا مشرکین کی یہ تجویز کہ حضور اکرم ﷺ ان کے الہوں کی بندگی کریں اور ہم اس کے مقابلے میں اللہ رب العالمین کی بندگی کریں۔ یوں ایک مشترکہ دین وجود میں آجائے ' یہ تجویز اور مطالبہ نہایت احمقانہ ہے اور عجیب و غریب ہے۔ اللہ تو خالق کائنات ہے۔ آسمانوں اور زمین کے تمام اختیارات اور بادشاہت اسی کی ہے۔ اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کے ساتھ کسی اور چیز کی بندگی بھی کی جائے۔ جبکہ زمین و آسمان کی کنجیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ حقیقت یہ ہے۔ وماقدرواللہ حق قدرہ ” اور ان لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے ساتھ اور وں کو شریک کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ وحدہ معبود ، قدرت والا اور تمام کائنات کا کنڑول کرنے والا ہے۔ والارض ۔۔۔۔ بیمنهٖ (39: 67) ” قیامت کے روز پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دست راست میں لپٹے ہوں گے “۔ اور اس حقیقت کو اس انداز میں ریکارڈ کرنے کے لیے قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر پیش کیا جاتا ہے اور یہ منظر اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ فرشتے عرش الہٰی کے اردگرد ننگے پاؤں پھر رہے ہوں گے۔ یہ اللہ کی تسبیح کے ساتھ اس کی حمد بیان کررہے ہوں گے۔ پوری کائنات حمدوثنا میں رطب اللسان ہوگی۔ اور کہا جائے گا ہر طرف اور ہر جہت سے الحمدللہ رب العالمین ” سب تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں “۔ اور اس کائنات کی حقیقت میں یہ ایک فیصلہ کس بات ہوگی۔ درس نمبر 222 تشریح آیات آیت نمبر 62 تا 63 یہ وہ حقیقت ہے جس پر ہر چیز گواہ ہے۔ کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس نے کوئی چیز بنائی ہے اور کوئی معقول انسان یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتا کہ یہ کائنات بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود وجود میں آگئی ۔ حالانکہ اس کائنات کے اندر جو موجودات بھی ہیں ، ان کی ذات اور ان کی اسکیم بتاتی ہے کہ اس کو بالاراہ بنایا گیا ہے۔ کوئی چیز اتفاقی نظر نہیں آتی ، چاہے چھوٹی ہو یا بڑی۔ وھو علی کل شئ وکیل (39: 62) ” اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے “۔ زمین و آسمان کو وہی چلانے والا ہے اور اپنے ارادے اور منشا کے مطابق اللہ زمین و آسمان کو چلاتا ہے۔ یہ پوری کائنات اللہ کے نظام قضاوقدر کے مطابق چلتی ہے۔ اللہ کے ارادے کے سوا کسی اور کا ارادہ ان تصرفات میں دخیل نہیں ہے۔ اس بات کی شہادت فطرت دیتی ہے۔ حقیقت واقعہ بھی اسی کی تائید کرتی ہے اور انسانی عقل وضمیر بھی اس کی تائید میں ہے۔ والذین کفرواباٰیٰت اللہ اولئک ھم الخٰسرون (39: 63) ” اور جو لوگ اللہ کی آیات سے کفر کرتے ہیں وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں “۔ ان کو اس علم اور آگاہی سے محرومی ہے جس کے ذریعے ان کی زندگی اس پوری کائنات کی حرکت سے ہم آہنگ رہتی ہے۔ یہ ان کے لیے بڑا خسارہ ہے۔ وہ ہدایت کی راحت اور ایمان کے حسن سے محروم رہے اور اعتقاد اور نظریہ کے اطمینان اور یقین کی مٹھاس سے بھی محروم رہے اور آخرت میں وہ خود بھی گھاٹے میں رہے اور ان کی وجہ سے ان کے خاندان بھی گھاٹے میں رہے ۔ وہ تو اس قدر نقصان اٹھا رہے ہیں کہ ان پر آقاسرون کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس حقیقت کی روشنی میں جس پر آسمان اور زمین گواہ ہیں اور جس پر اس کائنات کی ہر چیز گواہ ہے۔ حضور اکرم ﷺ کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ ان سے کہو : کیا تجویز کرتے ہو کہ میں تمہارے الہوں کی بندگی کروں اور اس بدلے میں تم الٰہ العالمین کی بندگی کرو۔ کس قدر جاہلانہ تجویز ہے یہ ؟ کیا سچائی کوئی بکنے والی جنس ہے جس کا بازاروں میں سودا ہوتا ہے۔
Ayah 39:64

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

:”(اے نبی ﷺ ان سے کہو ' پھر کیا اے جاہلو ' تم اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے کے لیے مجھ سے کہتے ہو

آیت نمبر 64 یہ ایک فطری سرزنش ہے اور ان لوگوں کی پوچ تجویز کا مناسب جواب ان کی اس تجویز ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس قدر گہری جہالت میں ڈوبے ہوئے تھے اور خالص اندھے تھے۔ چناچہ اس کے بعد مشرک لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور اس ڈراوے کے مخاطب اول حضور اکرم ﷺ اور تمام انبیاء (علیہم السلام) ہیں۔ حضرات انبیاء کے بارے میں تو شرک کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ۔ دراصل یہ ڈراوا ان کی امتوں کو ہے کہ وہ اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کریں ۔ اور بندگی صرف اللہ کی کریں اور تمام انسان جن میں انبیاء (علیہم السلام) بھی ہیں اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھیں۔
Ayah 39:65

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

:”(یہ بات تمہیں ان سے صاف کہہ دینی چاہئے کیونکہ) تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے تمام انبیاء کی طرف یہ وحی بھیجی جاچکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہوجائے گا اور تم خسارے میں رہو گے

آیت نمبر 65 شرک سے ڈراوے کا خاتمہ توحید پر کاربند ہونے کے حکم پر کیا جاتا ہے۔ یعنی صرف اللہ کی بندگی کرو اور ایمان اور ہدایت پر اللہ کا شکر ادا کرو اور اللہ کی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو جو اللہ کے بندوں کو ڈھانپ لیتی ہیں اور جن کو وہ گن بھی نہیں سکتے جبکہ وہ ان میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں :
Ayah 39:66

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

لہذا (اے نبی ﷺ تم بس اللہ ہی کی بندگی کرو اور شکر گزار بندوں میں سے ہوجاؤ

آیت نمبر 66 اب اللہ جل شانہ کی قدرت اور اللہ کے مقام کے بارے میں بتایا جاتا ہے جسکے ساتھ شریک کرنے کی تجاویز وہ دیتے تھے۔
Ayah 39:67

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

ان لوگوں نے اللہ کی قدرہی نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے اس کی قدرت کاملہ کا حال تو یہ ہے کہ قیامت کے روز پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی ، اور آسمان اس کے دست راست میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ پاک اور بالاتر ہے وہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

آیت نمبر 67 حقیقت یہ کہ انہوں نے اللہ کی ذات کی قدر نہیں کی ۔ ورنہ وہ اللہ کے ساتھ اس کی مخلوقات کو شریک نہ کرتے ۔ نہ انہوں نے اللہ کی بندگی کا حق ادا کیا ہے ، کیونکہ وہ عقیدۂ توحید اور اللہ کی عظمت کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ ان کو اللہ کی جلالت قدر کا شعور ہی نہیں ہے۔ اللہ کی جلالت قدر اور عظمت کا شعور ان کو یوں دیا جاتا ہے ، قرآن کے مخصوص انداز بیان کے مطابق کہ قرآن اعلیٰ عقلی افکار کو بھی نہایت ہی مشخص انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ کلی اور عقلی مفاہیم محدود انسانی ادراک کے قریب آجائیں۔ قرآن وسنت میں جہاں جہاں اس قسم کی تصاویر اور مناظر آتے ہیں وہ دراصل تمثیلات ہیں اور حقائق کو انسانی ادراک کے قریب تر کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ معانی کو ایسے الفاظ میں بیان کیا جائے جن کا تصور ان کے لیے ممکن ہو ، یہاں بھی اللہ کی قدرت مطلقہ کو مٹھی کی شکل میں لایا گیا ہے ، ورنہ نہ کسی شکل ، نہ کسی جگہ اور نہ کسی حد کا پابند ہے۔ یہاں عقلی حقائق کو حسی انداز دیا گیا ہے۔ اس کے بعد قیامت کا ایک طویل منظر آتا ہے۔ اس کا آغاز نفخہ اولی سے ذوتا ہے اور خاتمہ اس وقت ہوتا ہے جب قیامت کے تمام معاملات چکا دیئے جاچکے ہیں۔ اور اہل جہنم کو جہنم کی طرف چلا دیا جاتا ہے۔ اور اہل جنت کو جنت کی طرف رخصت کردیا جاتا ہے۔ اور صرف ذات باری رہ جاتی ہے اور تمام کائنات ذات باری کی حمد وثنا میں رطب کی طرف رخصت کردیا جاتا ہے۔ اور صرف ذات باری رہ جاتی ہے اور تمام کائنات ذات بارہ کی حمد وثنا میں رطب اللسان ہوتی ہے۔ یہ ایک زبردست منظر ہے۔ جوش و خروش اور حرکت سے پر ہے اور اس کی حرکات نہایت ترتیب سے آہستگی کے ساتھ شروع ہوتی ہیں اور آگے بڑھتی ہیں۔ یہاں تک کہ تمام حرکات ختم ہوجاتی ہیں ، تمام آوازیں بیٹھ جاتی ہیں اور منظر پر ایک خوفناک خاموشی چھا جاتی ہے۔ تمام مخلوقات اللہ واحد اور قہار کے سامنے سہم جاتی ہیں۔ دیکھئے ! ایک سخت آوازبلند ہوجاتی ہے اور سب لوگ مرکر گر جاتے ہیں۔ اس وقت زمین میں موجود پوری آبادی چشم زدن میں بےجان ہوجاتی ہے۔ آسمانوں کی پوری مخلوق بھی ختم ہوجاتی ہے۔ الاماشاء اللہ ۔ اب ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ کتنے وقفے کے بعد دوسری چیخ بلند ہوتی ہے۔ لیکن دوسری چیخ بلند ہوجاتی ہے۔
Ayah 39:68

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور اس روز صور پھونکا جائے گا اور وہ سب مرکرگر جائیں گے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ، سوائے ان کے جنہیں اللہ زندہ رکھنا چاہے۔ پھر ایک دوسرا صور پھونکا جائے گا اور یکایک سب کے سب اٹھ کر دیکھنے لگیں گے

آیت نمبر 68 یہاں تیسری آواز کا تذکرہ نہیں ہے۔ جس میں جمع ہونے اور اللہ کے ہاں حاضر کا حکم ہوگا۔ اور حشرونشر کی چیخ و پکار اور اژدہام کے شور کی تصویر کشی نہیں کی گئی کیونکہ اس منظر کو نہایت ہی پر سکون انداز میں پیش کرنا مطلوب ہے۔
Ayah 39:69

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی کتاب اعمال لاکر رکھ دی جائے گی ' انبیاء اور تمام گواہ حاضر کردیئے جائیں گے لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا ، ان پر کوئی ظلم نہ ہوگا

واشرقت الارض بنور ربھا (39: 69) ” “۔ یعنی وہ میدان جس میں قیامت برپا ہوگی۔ یہ میدان جہاں نور ربی ہوگا دوسرا کوئی نور نہ ہوگا۔ ووضع الکتٰب (39: 69) ” “۔ وہ کتاب جس میں لوگوں کا اعمال نامہ درج ہوگا۔ وجآیئ بالنبیین والسھدآء (39: 69) “۔ تاکہ وہ حق بات کہہ دیں جو وہ جانتے تھے اور ہر تنازعہ وہاں طے کردیا گیا۔ نہایت خاموشی کے ساتھ کیونکہ اس منظر میں تمام معاملات خشوع اور خضوع سے طے ہوتے ہیں۔ کوئی تنازعہ نہیں رہتا۔
Ayah 39:70

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور ہر متنفس کو جو کچھ بھی اسنے عمل کیا تھا ، اس کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا۔ لوگ جو کچھ بھی کرتے ہیں ، اللہ اس کو خوب جانتا ہے

یہاں کسی کو کوئی بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، نہ کوئی آواز اٹھانے کی یہاں کوئی ضرورت ہے۔ چناچہ پوری انسانیت کا حساب و کتاب بڑی خاموشی کے ساتھ لپیٹ لیا جاتا ہے اور اجمال کے ساتھ جبکہ دوسرے مناظر میں تفصیلات دی گئی ہیں ، کیونکہ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ اس دن اللہ کا رعب اور خوف چھایا ہوا ہوگا۔ اور اللہ کے جلال کے سامنے کسی کو دم مارنے کی سکت نہ ہوگی
Ayah 39:71

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:71 in the Quran reader

(اس فیصلہ کے بعد) وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا ، جہنم کی طرف گروہ در گروہ ہانکے جائیں گے ، یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے ، تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور اس کے کارندے ان سے کہیں گے ” کیا تمہارے پاس تمہارے اپنے لوگوں میں سے ایسے رسول آئے تھے جنہوں نے تم کو تمہارے رب کی آیات سنائی ہوں اور تمہیں اس بات سے ڈرایا ہو کہ ایک وقت تمہیں یہ دن بھی دیکھنا ہوگا ؟ “ وہ جواب دیں گے۔” ہاں ' آئے تھے ' مگر عذاب کا فیصلہ کافروں پر چپک گیا

آیت نمبر 71 یہاں فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور کہیں گے ہاں تم اس جہنم کے مستحق ہو اور یہ ہیں اس کے اسباب ۔ کافروں کے خلاف اللہ کا فیصلہ برحق صادر ہوچکا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ اس لیے کافر یہاں کسی مخاصمت کے اسے تسلیم کرتے ہیں ، اقرار کرتے ہیں کہ ہم مجرم تھے اور سرتسلیم خم کرتے ہیں۔
Ayah 39:72

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:72 in the Quran reader

کہا جائے گا ، داخل ہوجاؤ، جہنم کے دروازوں میں ، یہاں اب تمہیں ہمیشہ رہنا ہے ، بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے یہ متکبروں کے لیے

آیت نمبر 72 یہ جہنمیوں کا قافلہ ہے۔ متکبرین کا قافلہ ہے۔ وہ گیا ، اس کے لیے دوازے کھلے۔۔۔۔ لیکن دیکھئے دوسری طرف متقین کا قافلہ بھی آرہا ہے۔ یہ اہل جنت کا قافلہ ہے !
Ayah 39:73

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ Open ayah 39:73 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے رب کی نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے انہیں گروہ درگروہ جنت کی طرف لے جایاجائے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے ، اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جاچکے ہوں گے ، تو اس کے منتظمین ان سے کہیں گے کہ ” سلام ہو تم پر ' بہت اچھے رہے ' داخل ہوجاؤ اس میں ہمیشہ کے لیے

آیت نمبر 73 یہ ایک بہترین استقبال ہے۔ تعریف ہے۔ اور اس کے اندر اس کا سبب بھی بیان کردیا گیا ہے۔ طنبم ” تم اچھے رہے “ یعنی تم پاکیزہ رہے۔ تم پاک تھے۔ پاک ہوکر آئے کیونکہ جنت میں تو پاک لوگ ہوں گے ۔ پاک لوگ ہی وہاں داخل ہوسکتے ہیں کیونکہ وہاں تو خلود اور نعمتیں ہیں۔ اب یہاں اہل جنت کی آوازیں نہایت خشوع سے بلند ہوتی ہیں اور وہ دھیمی آواز کے ساتھ اللہ کی تسبیح و تمجید کرتے ہیں۔
Ayahs 39:74–75

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ Open ayah 39:74 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے ” شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور ہم کو زمین کا وارث بنادیا ، اب ہم جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بناسکتے ہیں پس بہترین اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے

وَ تَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 39:75 in the Quran reader

اور تم دیکھو گے کہ فرشتے عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے رب کی حمد وتسبیح کررہے ہوں گے اور لوگون کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ چکا دیا جائے گا ، اور پکاردیا جائے گا کہ حمد ہے ” اللہ رب العالمین کے لیے

آیت نمبر 74 یہ جنت کی سر زمین کے وارث ہوگئے۔ جہاں چاہتے ہیں اس کے اندر جارہے ہیں اور بس رہے ہیں۔ جو چاہتے ہیں کھا رہے ہیں ، سب کچھ موجود ہے۔ ۔ اب اس منظر کا خاتمہ نہایت ہی خوفناک انداز میں ہوتا ہے ، لیکن یہ جلال بھی نہایت دھیمی انداز کا ہے۔ اس منظر کی فضا سے ہم رنگ ۔ پوری کائنات رب کی ثنا میں رطب اللسان ہے۔ نہایت ہی دھیمے انداز میں ، خشوع اور سرافگندگی کے ساتھ اور ہر زندہ مخلوق جس کلمے کو دہراتی وہ نہایت عجز کے ساتھ دہراتی ہے۔