39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 39:22–23

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

اب کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا اور وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر چل رہا ہے (اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس نے ان باتوں سے کوئی سبق نہ لیا ؟ ) ۔ تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جن کے دل اللہ کی نصیحت سے اور زیادہ سخت ہوگئے۔ وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

:” اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے ، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں اور جس میں باربار مضامین دہرائے گئے ہیں۔ اسے سن کر ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں ، اور پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہوکر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہ راست پر لے آتا ہے جسے چاہتا ہے اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے “۔

آیت نمبر 22 تا 23 جس طرح آسمانوں سے پانی نازل ہوتا ہے ، زمین سے نباتات اگتے ہیں اور ان کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح آسمان سے ذکر اور نصیحت نازل ہوتی ہے۔ اس ذکر اسے بھی زندہ دل فائدہ اٹھاتے ہیں ، ان دنوں کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ وہ ہدایات لیتے ہیں اور اچھے کاموں کے لئے بڑھتے ہیں۔ اور جس طرح آسمانوں کی بارش پتھروں پر فصل نہیں اگاتی۔ اسی طرح سنگدل لوگوں پر ذکر آسمانی کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور نہ ان میں کارخیر کی روئیدگی ہوتی ہے اور نہ فکر خیر کی روئیدگی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسلام کے لیے ایسے دلوں کے اندر شرح صدر پیدا کردیتا ہے جن کے بارے میں اللہ کے علم میں ہوتا ہے کہ ان کے اندر خیر ہے۔ ان تک نور الہٰی پہنچتا ہے تو چمک اٹھتے ہیں اور ان سے زوشنی پھولتی ہے۔ اور شرح صدر والے قلوب اور سنگدل قلوب میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ فویل للقٰسیة قلوبھم من ذکر اللہ (39: 22) ” تباہی ان لوگوں کے لیے جن کے دل نصیحت سے اور سخت ہوجاتے ہیں “۔ اولٰئک فی ضلل مبین (39: 22) ” وہ لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “۔ یہ آیت کریمہ ان دلوں کی حقیقت بیان کرتی ہے جو اسلام کے لیے کھل جاتے ہیں ، جو اسلام سے ہدایات لیتے ہیں اور اسلام سے تروتازگی حاصل کرتے ہیں اور اپنے دلوں کا تعلق اللہ سے جوڑتے ہیں۔ ان کی شرح صدر کی حالت سے ان کی تازگی ، ان کے اندر پائی جانے والی بشاشت اور مسرت اور نورانیت اور اشراق کی کیفیات وجود میں آتی ہیں اس کے مقابلے میں یہ آیت ان دلوں کا حال بھی بتاتی ہے جو سخت اور پتھر ہیں۔ جو اپنی خشکی کی وجہ سے مرچکے ہیں۔ بانجھ اور تاریک ہوچکے ہیں۔ غرض اللہ جس کو اسلام کے لیے پسند کرتا ہے اس کا دل اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور اسلام کا نور ان کے دلوں میں داخل ہوجاتا ہے اور جسے محروم کرنا چاہتا ہے اس کا دل سخت کردیتا ہے اور ان دونوں کے اندر بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ دوسری آیت میں یہ بتایا گیا کہ اہل ایمان قرآن کریم کو کس انداز میں لیتے ہیں۔ قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس کی طبیعت اور مزاج میں ، اس کی سمت میں اس کی روح میں ، اس کے خصائص میں ، یہ ان تمام زاویوں سے مشابہ اور مثانی ہے (دہرائی ہوئی) ۔ اس کی آیات کے آخری حصے یعنی مقطعے ، اس کے قصص اور اس کی ہدایات اور اس کے مناظر باربار دہرائے جاتے ہیں۔ لیکن ان میں تضاد نہیں ہوتا۔ ہر جگہ ایک نئے زاویہ سے دہرائے جاتے ہیں اور ہر جگہ نئے لگتے ہیں اور پر جگہ نیا فائدہ ہوتا ہے۔ نہایت ہم آہنگی ، نہایت سنجیدگی اور مضبوط اصولوں کے مطابق ، جن میں نہ تصادم ہے اور نہ تضاد ہے۔ وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس کے احکام کے مطابق پرہیز کرتے ہیں اور ہر وقت احتیاط میں زندگی بسر کرتے ہیں اور ہر وقت اللہ کے فضل کے امیدوار ہوتے ہیں۔ وہ قرآن کریم کے باران رحمت کو نہایت خوف اور کپکپی سے لیتے ہیں۔ اور وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ کانپ اٹھتے ہیں۔ ان کے جسم پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد ان کے نفوس کے اوپر سکون کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور ان کے دل اس ذکر سے مانوس ہوجاتے ہیں ، پھر ان کے دل نرم ہوکر اس نصیحت کو قبول کرلیتے ہیں۔ یہ ایک زندہ حساس صورت حالات ہے ۔ یہ صورت حالات الفاظ کے رنگ سے منقش ہے اور یہ تصاویر یوں نظر آتی ہیں کہ گویا زندہ ومتحرک ہیں۔ ذٰلک ھدی اللہ یھدی به من یشآء (39: 23) ” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ جس کو چاہتا ہے ، راہ راست پر لے آتا ہے “۔ یہ دل از خود اس طرح کانپ نہیں جاتے بلکہ یہ رحمٰن کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتے ہیں اور رحمٰن کے فضل وکرم سے وہ لبیک کہتے ہیں اور ان کے اندر نور پیدا ہوجاتا ہے ، اللہ کو تمام قلوب کی حقیقت کا علم ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ کسی کو ہدایت دیتا ہے اور کسی کو گمراہی لیکن یہ ان قلوب کی پسند کے مطابق ہوتا ہے۔ ومن یضلل اللہ فما له من ھاد (39: 23) ” اور جسے اللہ گمراہ کردے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے “۔ اللہ اس کو اس لیے گمراہ کرتا ہے کہ وہ شخص گمراہی اختیار کرتا ہے اور اللہ کو علم ہوتا ہے کہ اس نے ایسا کرلیا ہے یا کرے گا اور وہ کبھی بھی ہدایت کو قبول نہ کرے گا۔ اور نہ ہدایت کے سامنے سر جھکائے گا۔
Ayah 39:24

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

اب اس شخص کی بدحالی کا تم کیا اندازہ کرسکتے ہو جو قیامت کے روز عذاب کی سخت مار اپنے منہ پر لے گا ؟ ایسے ظالموں سے تو کہہ دیا جائے گا کہ اب چکھو مزہ ، اس کمائی کا جو تم کرتے رہے تھے۔

آیت نمبر 24 انسان کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں اور اپنے جسم کے ذریعے بھی اپنے چہرے کو بچاتا ہے۔ یہاں دوزخ کے اندر تو وہ اپنے آپ کو کس صورت میں بھی آگ سے نہیں بچاسکتا ۔ نہ ہاتھوں سے ، نہ پاؤں سے۔ لہٰذا وہ یہاں چہرے سے آگ کو دفع کرے گا۔ اور چہرے کے ذریعہ سخت عذاب سے بچنے کی سعی کرے گا۔ یہاں مراد ہے شدید ڈر ، شدیدخوب اور شدید اضطراب۔ اس قسم کی صورت حال میں اب کفار کو سرزنش کیجاتی ہے اور اس کے سامنے اس کی پوری زندگی کی کمائی پیش کی جاتی ہے۔ وقیل للظلمین ذوقوا ماکنتم تکسبون (39: 24) ” وہ ظالموں سے کہہ دیا جائے گا ، اب چکھو مزہ ، اس کمائی کا جو تم کرتے تھے “۔ اب روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والے لوگوں سے پھر کر ان اقوام کی طرف چلا جاتا ہے جنہوں نے انسانی تاریخ میں دوسرے نبیوں کی تکذیب کی تاکہ ذراوہ تاریخ سے بھی سبق لیں اور اپنا بندوبست بھی کرلیں۔
Ayahs 39:25–26

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

ان سے پہلے بھی بہت سے لوگ اسی طرح جھٹلاچکے ہیں۔ آخر ان پر عذاب ایسے رخ سے آیا جدھر ان کو خیال بھی نہ جاسکتا تھا۔

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے ان کو دنیا ہی کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھایا ، اور آخرت کا عذاب تو اس سے شدید تر ہے ، کاش یہ لوگ جانتے۔

آیت نمبر 25 تا 26 یہ ہے حال مکذبین کا دنیا اور آخرت دونوں میں۔ دنیا میں بھی اللہ نے ان کو شرمندہ اور ذلیل کیا۔ آخرت میں بھی ان کے لیے ایک عظیم عذاب انتظار میں ہے۔ اللہ کی سنت اپنا کام کرتی ہے۔ وہ اٹل ہے۔ اقوام رفتہ کا انجام پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ شاہد عادل ہے۔ اللہ کی دھمکی قائم ہے کہ وہ آخرت میں ان کو سزا دے گا۔ ان کے سامنے اب بھی فرصت کے لمحات موجود ہیں۔ ان کو غنیمت سمجھیں اور قرآن کی نصیحت سے ہدایت لیں۔ لوکانوا یعلمون (39: 26) ” کاش یہ لوگ جانتے “۔
Ayahs 39:27–29

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح کی مثالیں دی ہیں کہ یہ ہوش میں آئیں ۔

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

ایسا قرآن جو عربی زبان میں ہے ، جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے ، تاکہ یہ برے انجام سے بچیں۔

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader

اللہ ایک مثال دیتا ہے۔ ایک شخص تو وہ ہے جس کے مالک ہونے میں بہت سے کج خلق آقا شریک ہیں جو اسے اپنی اپنی طرف کھینچتے ہیں اور دوسرا شخص پورا کا پورا ایک ہی آقا کا غلام ہے۔ کیا ان دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے ؟ الحمد للہ ، مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں “۔

آیت نمبر 27 تا 29 اللہ تعالیٰ کسی ایسے بندے کی جو موحد ہے اور کسی ایسے بندے کی جو مشرک ہے ، یہ مثال دیتا ہے کہ ان کی مثال ہے جیسے ایک غلام ایک شخص کی خالص ملکیت ہو اور دوسرا کئی مختلف الحیال مالکان کے درمیان مشترکہ ہو۔ اس مشترکہ غلام میں مختلف مالکان کے علیحدہ علیحدہ مطالبے ہیں۔ اور یہ بیچارہ انکے درمیان حیران وپریشان ہے۔ کوئی ادھر کھینچتا ہے ، کوئی ادھر۔ وہ اسے کوئی ایک پروگرام نہیں دیتے اور اس بیچارے کی یہ طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ انکی متضاد فرمائشیں شروع کرسکے کیونکہ وہ اسکے رخ کو بھی تبدیل کررہی ہیں۔ اور اسکی خواہشات کو بھی تبدیل کررہی ہیں۔ اور ایک ایک کا غلام یکسو ہے۔ اس کو مالک نے ایک پروگرام دیا ہوا ہے اور اسے معلوم ہے کہ اسنے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک آقا کا غلام مطمئن ، خوش اور یکسو ہوگا۔ ھل یستویٰن مثلا (39: 29) ” کیا ان دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے “۔ یقیناً دونوں برابر نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس کا ایک آقا ہے وہ آدم ، استراحت ، استقامت اور یقینی پروگرام رکھتا ہے۔ اس کی قوتیں مجتمع ہیں۔ اس کا رخ متعین ہے ۔ اس کی راہ متعین ہے اور جس غلام کے مختلف الحیال آقا ہیں۔ وہ ایک دائمی عذاب میں ہے۔ ایک دائمی کشاکش میں ہے۔ اور ہر وقت قلق وبے چینی میں مبتلا ہے۔ کسی ایک حال پر برقرار نہیں ہے۔ اور اس سے ایک مالک بھی راضی نہ ہوگا ، سب کا راضی ہونا تو محال ہے۔ یہ مثال حقیقت توحید اور حقیقت شرک پر تمام حالات میں منطبق ہے۔ ایک موحدو مومن اس زمین پر اپنا سفر نہایت ہی سیدھے راہ پر علی وجہ البصیرت طے کرتا ہے۔ کیونکہ ان کی نظریں ہمشہ ایک نصب العین پر مرکوز ہیں۔ پوری زندگی ، پوری قوت اور تمام ضروریات اور تمام نفع ونقصان وہ ایک جہت سے طلب کرتا ہے۔ ایک ذات ہے جو اسے روکتی ہے اور ایک ہی ذات ہے جو اسے اجازت دیتی ہے۔ لہٰذا اس کے قدم سیدھے اس ایک سرچشمے کی طرف بڑھتے ہیں۔ وہ اسی سرچشمے سے اخذ کرتا ہے اور اس کے ہاتھوں میں ایک ہی مضبوط رسی ہے جسے اس کے مضبوطی سے پکڑا رکھا ہے ، ایک ہی ہدف ہے جس پر وہ نظریں جمائے ہوئے ہے۔ ایک ہی آقا کی وہ خدمت کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ میرا آقا کس بات پر راضی ہوتا ہے اور کس پر نازاض ہوتا ہے۔ یوں اس کی قوتیں مجتمع ہوتی ہیں اور یوں وہ پوری قوت کے ساتھ زمین پر کام کرتا ہے۔ اور آسمان پر نظریں جمائے ہوتا ہے۔ اور اس مثال پر تبصرہ الحمدللہ سے کیا جاتا ہے کہ اس نے عقیدۂ توحید کے ذریعے اپنے بندوں کو آرام و اطمینان اور راحت بخشی ہے۔ اور ان کی زندگی کو اثبات وقرار عطا کیا۔ اب اگر وہ اس سے انحراف کرتے ہیں تو وہ لاعلم ہیں۔ یہ ان مثالوں میں ایک ہے جو قرآن نے لوگوں کی راہنمائی کے لیے دی ہیں تاکہ لوگ حقیقت کو جان سکیں۔ یہ قرآن عربی ہے ، سیدھا ، واضح اور بین ہے۔ اس کے معانی میں کوئی التباس نہیں۔ نہ پیچیدگی اور انحراف ہے اور یہ عوام الناس کو ایک فطری استدلال سے خطاب کرتا ہے ، جو ان کی سمجھ میں آتا ہے۔
Ayahs 39:30–31

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ تمہیں بھی مرنا ہے اور ان لوگوں کو بھی مرنا ہے ،

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ Open ayah 39:31 in the Quran reader

آخر کار قیامت کے روز تم سب اپنے رب کے حضور اپنا اپنا مقدمہ پیش کروگے “۔

درس نمبر 219 ایک نظر میں یہ سبق اس سے ماقبل کے تمام اسباق پر ایک تبصرہ ہے۔ آسمانوں سے پانی کے نزول کی نشانی بیان کرنے کے بعد مردہ زمین پر روئیدگی پیدا ہوکر فصل کاٹنے تک کی نشانی کے بعد ، اور اللہ کی جانب سے نازل ہونے والی اس کتاب کی نشانیوں کے بعد اور قرآنی امثال کے بیان کے بعد اور نبی ﷺ کو یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ اکثر لوگ نہیں جانتے ، یہاں یہ کہا جاتا ہے کہ لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ اب بعث بعد الموت کے بعد ہی اللہ تمام حقائق کا فیصلہ کر دے گا۔ لہٰذا تکذیب کرنے والوں کو انکی تکذیب کا بدلہ مل جائے گا اور وہ اس کے مستحق ہوں گے۔ اور بچوں کو سچائی کا وہ صلہ مل جائے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ درس نمبر 219 تشریح آیات آیت نمبر 30 تا 31 ہر زندہ مخلوق نے اس جام کو ہونٹوں سے لگانا ہے ، باقی رہے گا صرف نام اللہ کا۔ اور موت کے معاملے میں تمام انسان برابر ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت محمد ﷺ نے بھی جان دیتی ہے اور یہاں اس کا ذکر بھی توحید کے ثبوت کے لیے ہے۔ اور توحید اس سورت کا بڑا موضوع ہے۔ اس کے بعث بعد الموت کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ کیونکہ موت ہی پر معاملہ ختم نہیں ہوجاتا۔ یہ تو ایک مرحلہ ہے۔ اس کے بعد کے مراحل آنے والے ہیں۔ اس لیے کہ مخلوقات میں سے کوئی چیز عبث نہیں ہے کہ ہونہی چلی جائے کہ بس پیدا ہوئے اور مرگئے۔ آج دنیا میں جن موضوعات پر لوگ باہم دست وگریباں ہیں ان پر رب کے ہاں بھی جھگڑے ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے رب کے ہاں کھڑے ہوں گے اور وہاں پھر پوچھا جائے گا کہ اب بتاؤ تم رسول اللہ کے مقابلے میں کیا کیا کرتے رہے ہو۔ اور اللہ کی ہدایت اور قرآن کا کیا کیا مقابلہ کرتے رہے ہو۔
Ayah 39:32

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:32 in the Quran reader

” پھر اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی اس کے سامنے آئی تو اسے جھٹلادیا۔ کیا ایسے لوگوں کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے ؟ “

پارہ ۔ 24 آیت نمبر 32 یہ سوال استفہام کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ سوال تقریری ہے۔ اس لیے کہ ایسے شخص سے بڑا ظالم اور کوئی نہیں ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے ، کسی کو اللہ کا بیٹا اور کسی کو بیٹی کہتا ہے۔ سچائی کی تکذیب کرتا ہے جسے رسول اللہ لے آئے ہیں۔ وہ کلمہ توحید کی تصدیق نہیں کرتا۔ چونکہ یہ ایک کفریہ عمل ہے ، اور کافروں کا ٹھکانہ یقیناً جہنم ہے اس لیے اس کے فیصلہ کن اظہار کی خاطر سوالیہ انداز اور اسلوب اختیار کیا گیا ہے تاکہ بات زیادہ واضح ہوجائے اور اس کی زیادہ تاکید ہوجائے۔ یہ تو مجادلہ اور جھگڑے کا ایک فریق تھا۔ اور فریق مقابل کون ہے ؟ تو وہ شخص ہے جو اللہ کی طرف سے وہ سچائی لے کر آیا۔ اور اسنے اس کی تصدیق کی اور اس سچائی کو لوگوں تک پہنچایا ، نہایت عقیدت مندی اور تسلی کے ساتھ۔ اور اس شخص یعنی رسول اللہ کے ساتھ تمام رسول اور انبیائے کرام شامل ہیں۔ اور اسی طرح رسول اللہ کے ساتھ اس میں وہ تمام لوگ بھی شامل ہیں جو اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں درآنحالیکہ وہ اسلام پر پوری طرح ایمان لاتے ہیں اور اچھی طرح مطمئن ہیں اور اس دعوت میں ان کا قلب اور ان کی زبان دونوں شریک ہیں ایسے تمام لوگ متقی ہیں۔
Ayah 39:33

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 39:33 in the Quran reader

:” اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور جنہوں نے اس کو سچ مانا ، وہی عذاب سے بچنے والے ہیں “۔

آیت نمبر 33 یہاں متقین اور ان کے لیے تیار شدہ جزاء کی تفصیلات دی جاتی ہیں .
Ayah 39:34

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ Open ayah 39:34 in the Quran reader

' انہیں اپنے رب کے ہاں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے۔ یہ ہے نیکی کرنے والوں کی جزا

آیت نمبر 34 یہ ایک جامع انداز تعبیر ہے جو بھی چیز دل مومن کو مرغوب ہو اور جس کی چاہت اس کے دل میں پیدا ہو وہ اس کے لیے اس کے رب کے ہاں تیار ہوگی۔ یہ اس کا حق ہوگا ، جس میں کوئی خسارہ نہ ہوگا اور نہ کوئی حصہ اس کا ضائع ہوگا۔ ذٰلک جزاء المحسنین (39: 34) ” یہ ہے نیکی کرنے والوں کی جزاء “۔ اور یہ اس لیے کہ اللہ نے ان کے لیے بھلائی اور جس عزت افزائی کا ارادہ فرمالیا تھا وہ حقیقت بن جائے اور عدل سے آگے بڑھ کر ان کے ساتھ فضل وکرم کا معاملہ کرے۔
Ayah 39:35

لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 39:35 in the Quran reader

تاکہ جو بدترین اعمال انہوں نے کیے تھے انہیں اللہ ان کے حساب سے ساقط کردے اور جو بہترین اعمال وہ کرتے رہے ان کے لحاظ سے ان کو اجر عطافرمائے

آیت نمبر 35 اس لیے کہ عدل تو یہ ہوگا کہ نیکیوں کا بھی حساب کیا جائے اور برائیوں کا بھی حساب کیا جائے اور پھر دونوں پر سزا وجزاء دی جائے۔۔۔ لیکن اللہ یہاں فضل وکرم کرے گا۔ اللہ اپنے متقی بندوں پر اپنے کرم کی تجلی کرے گا۔ یوں کہ ان کے بہت برے اعمال کو قلم زد کردے گا۔ لہٰذا میزان میں ان کا کوئی حساب نہ ہوگا اور ان کو اجر بھی احسن طریقے سے دے گا ، یعنی ان کے استحقاق سے زیادہ ۔ چناچہ ان کے ترازو میں ان کی نیکیوں کو زیادہ زن دے دیا جائے گا۔ یہ اللہ کا فضل ہوگا اور یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ جسے چاہے ، یہ فضل دے۔ ہاں اللہ نے اپنے ڈرنے والے بندوں کیلیے یہ وعدہ کردیا ہے لہٰذا ایسا ہی ہوگا اور اہل تقویٰ اس پر مطمئن ہیں۔
Ayahs 39:36–40

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ Open ayah 39:36 in the Quran reader

ا :”(اے نبی ﷺ کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے ؟ یہ لوگ اس کے سوا دوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں۔ حالانکہ اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہے

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ Open ayah 39:37 in the Quran reader

اور جسے وہ ہدایت دے ، اسے بھٹکانے والا بھی کوئی نہیں ۔ کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں ہے ؟

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 39:38 in the Quran reader

ان لوگوں سے اگر تم پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ، تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے۔ ان سے پوچھو ، جب حقیقت یہ ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا تمہاری یہ دیویاں ، جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو ، مجھے اس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچالیں گی ؟ یا اللہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکیں گی ؟ بس ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے ، پھر وسہ کرنے والے اس پر پھر وسہ کرتے ہیں

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 39:39 in the Quran reader

ان سے صاف کہو کہ ” اے میری قوم کے لوگو ، تم اپنی جگہ اپنا کام کیے جاؤ، میں اپنا کام کرتا رہوں گا ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا

مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 39:40 in the Quran reader

کہ کس پر رسواکن عذاب آتا ہے اور کسے وہ سزا ملتی ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں

درس نمبر 220 ایک نظر میں اس سورت کا یہ سفر تمام اسفار سے زیادہ طویل اور وسیع ہے۔ اس میں عقیدہ توحید کو مختلف زاویوں سے لیا گیا ہے اور اس کے بارے میں نہایت ہی حساس دلائل دیئے گئے ہیں۔ اور یہ نہایت ہی متنوع دلائل ہیں۔ اس سبق کا آغاز ایک سچے مومن کی قلبی کیفیات سے کیا گیا ہے ، جو صرف اللہ پر اعتماد رکھتا ہے۔ اللہ ہی کو بڑی قوت سمجھتا ہے اور اللہ کے سوا تمام حقیر اور کمزور قوتوں کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔ اس لیے وہ ان تمام قوتوں سے قطع تعلق کرکے اپنے امور اور ان کے امور کا فیصلہ قیامت کے دن پر چھوڑ دیتا ہے اور وہ اپنے راستے پر ثابت قدمی ، اعتماد اور یقین کے ساتھ گامزن رہتا ہے۔ اس کے بعد حضور اکرم ﷺ کے فریضے کا تعین کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ آپ لوگوں کے ذمہ دار اور ٹھیکہ دار نہیں ہیں کہ ضرور ان کو راہ ہدایت پر لانا ہے۔ وہ تو اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ان کی چوٹی اللہ کے ہاتھ میں ، ہر حال اور ہر صورت میں۔ لوگوں کے لیے اللہ کے سوا اور کوئی سفارش بھی نہیں ہے۔ سفارش کے اختیارات تو اللہ کے پاس ہیں۔ زمین و آسمانوں کا مالک ہی وہ ہے۔ اور سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر مشرکین کا ذکر کیا جاتا ہے اور ان کی نفسیاتی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ اگر کلمہ توحید کا ذکر ہو تو ان کی طبعیت منقبض ہوجاتی ہے اور اگر شرکیہ کلمہ سنیں تو بہت خوش ہوتے ہیں۔ اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ کلمہ توحید کا اعلان کردیں۔ اور مشرکین کو اللہ پر چھوڑ دیں ۔ اور ان کی ایک تصویر آپ کے سامنے کردی جاتی ہے کہ قیامت کے دن تو یہ چاہیں گے کہ پوری روئے زمین کی دولت اور اس جیسی مزید دولت بھی فدیے میں دے کر جان چھڑا لیں۔ اس لیے کہ وہاں وہ اللہ کی وہ بادشاہت دیکھ لیں گے جس سے وہ حواس باختہ ہوجائیں گے۔ اور ان کی حالت یہ ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں تو وہ اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں اور اگر وہ خوشحالی پا لیں تو پھر اکڑ کر لمبے چوڑے دعوے کرنے لگتے ہیں۔ اور ان میں سے بعض یہ تک کہہ دیتے ہیں کہ یہ دولت ہمیں اپنے علم وٹیکنالوجی کی وجہ سے دے دی گئی ہے اور یہ وہی بات ہے جو ان سے پہلے لوگوں نے بھی کہی تھی اور ان کو اللہ نے پکڑا اور وہ اللہ کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ بن سکے اور نہ اللہ کو عاجز کرسکے ۔ رہی رزق کی فراخی اور اسکی تنگی تو یہ اللہ کے سنن اور قوانین پر موقوف رکھی گئی ہے اور اللہ کے یہ قوانین قدرت اس کی حکمت کے مطابق چلتے ہیں۔ وہی ہے جو رزق میں کشادگی دیتا ہے۔ اور وہی ہے جو کسی کا رزق تنگ کردیتا ہے۔ ان فی ذٰلک لاٰیٰت لقوم یومنون (39: 54) ” بیشک اس میں آیات اور نشانیاں ہیں ، ہر اس قوم کے لیے جو مومن ہو “۔ درس نمبر 220 تشریح آیات آیت نمبر 36 تا 40 یہ چار آیات بتاتی ہیں کہ اہل ایمان کا سیدھا سادا استدلال کیا ہوتا ہے ، یہ استدلال کس قدر قدرتی اور زور ہوتا ہے۔ کس قدر واضح اور گہرا ہوتا ہے۔ جس طرح یہ استدلال اور سوچ حضرت نبی ﷺ کے ذہین میں ہے اور جس طرح اسے ہر مومن کے قلب میں ہونا چاہئے۔ جس کا ایمان حضور اکرم ﷺ کی رسالت پر پختہ ہو۔ اور وہ اسی دعوت پر قائم ہو اور اسی کی تبلیغ کررہا ہو اور دستور ومنشور سمجھتا ہو اور وہ اس کے لیے کافی وشافی ہو۔ اس آیت کے نزول میں ایسی روایات آئی ہیں کہ مشرکین مکہ رسول اللہ کو اپنے بتوں اور ان کے غضب سے ڈراتے تھے۔ جبکہ حضور اکرم ﷺ ان کی یہ صفات ان کے سامنے رکھتے تھے اور ان کی بےبسی وبے کسی بیان فرماتے تھے۔ مشرکین مکہ حضور اکرم ﷺ کو ڈراتے تھے کہ اگر آپ ﷺ نے ان کے بارے میں خاموشی اختیار نہ کی تو یہ بت آپ ﷺ کو اذیت دیں گے۔ لیکن اس آیت کا مفہوم اس مخصوص شان نزول سے زیادہ وسیع ہے۔ مراد ہر وہ دعوت حق ہے جو اس کرۂ ارض پر قیام نظام اسلامی کیلیے اٹھی ہے اور ہر وہ قوت ہے جو اس نظام اور اس دعوت کے خلاف ہے۔ اسلیے کہ یہاں دعوت حق اٹھانے والے اہل ایمان کے مکمل پھر وسے اطمینان اور یقین کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مخالف قوتوں کو بھی صحیح طرح تولا گیا ہے کہ انکا وزن کیا ہے۔ الیس اللہ بکاف عبدہ (39: 36) ” کیا اللہ اپنے بندوں کے لیے کافی نہیں ہے “۔ ہاں اللہ کافی ہے ، لہٰذا وہ لوگ کون ہیں جن سے حضور ﷺ کو ڈرایا جارہا ہے۔ اللہ جب اپنے بندے کے ساتھ ہے ، تو ان دوسری مخلوقات کی حیثیت کیا ہے۔ خصوصاً جبکہ حضور ﷺ کا منصب لے لیا ہو اور بندگی کا حق بھی ادا کررہے ہوں۔ اللہ نہایت قوی اور اپنے تمام بندوں پر کنڑول کرنے والا ہے۔ ویخوفونک بالذین من دونه (39: 36) ” یہ لوگ اس کے سوا دوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں “۔ آپ ﷺ کس طرح ڈرسکتے ہیں ۔ اللہ کے سوا دوسری تمام قوتیں کس طرح ڈراسکتی ہیں ۔ اس شخص کو جس کی حفاظت اللہ کررہا ہو۔ اور تمام روئے زمین پر جو قوتیں ہیں وہ اللہ سے فروترقوتیں ہیں۔ یہ ایک بالکل سادہ واضح مسئلہ ہے۔ یہ کسی بڑی بحث اور مباحثے اور کسی زیادہ سوچ کا محتاج نہیں ہے۔ نبی ﷺ اور ہر داعی کا حامی تو اللہ ہے اور دوسری تمام قوتیں فروتر ہیں۔ اور جب کوئی شخص یہ موقف اختیار کرے تو پھر کوئی شک اور اشباہ نہیں رہتا کہ اللہ کا ارادہ ہی نافذ ہو کر رہتا ہے اور اللہ کی مشیت ہی غالب رہتی ہے۔ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرماتا ہے۔ ان کی ذات کے بارے میں ، ان کے دلوں کے بارے میں اور ان کی سوچ اور شعور کے بارے میں بھی۔ ومن یضلل ۔۔۔۔ من مضل (39: 36 تا 37) ” اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہے۔ اور جسے وہ ہدایت دے دے اسے بھٹکانے والا بھی کوئی نہیں ہے “۔ اللہ جانتا ہے کہ ضلالت کا مستحق کون ہے لہٰذا وہ اسے گمراہ کردیتا ہے اور وہ بھی جانتا ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے لہٰذا وہ اسے ہدایت دے دیتا ہے۔ اور وہ جس کے بارے میں جو فیصلہ بھی کردے اس کے فیصلے کو بدلنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ الیس اللہ بعزیز ذی انتقام (39: 37) ” کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں ہے “۔ ہاں وہ انتقام لینے والا ہے۔ اور وہ عزیز وقوی ہے۔ اور وہ ان تمام لوگوں کو ان کے استحقاق کے مطابق جزاء دیتا ہے۔ اور جس سے وہ انتقام لیتا ہے۔ وہ مستحق ہوتا ہے کہ اس سے انتقام لیا جائے لہٰذا اس کی بندگی کرنے والے کو کسی چیز کا ڈر نہیں رہتا وہ کافی اور کفیل ہے۔ اس کے بعد خود ان کی منطق اور ان کے زاویہ نگاہ کے مطابق استدلال کرکے یہی نتائج نکالے جاتے ہیں اور اس منطق اور اس طرز فکر کا وہ اقرار کرتے تھے اور اللہ کے بارے میں وہ اس قسم کا تصور رکھتے تھے۔ ولئن سالتھم من۔۔۔۔ المتوکلون (39: 38) ” ان لوگوں سے اگر تم پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ، تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے۔ ان سے پوچھو ، جب حقیقت یہ ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا تمہاری یہ دیویاں ، جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو مجھے اس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچالیں گی ؟ یا اللہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکیں گی ؟ بس ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے ، بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ جب ان لوگوں سے پوچھا جاتا تھا کہ خالق ارض وسما کون ہے ؟ تو وہ اقرار کرتے تھے کہ خالق ارض وسماء اللہ وحدہ ہے۔ کوئی صحیح الفطرت انسان اس کے سوا جواب دے ہی نہیں سکتا ۔ اور کوئی عقلمند زمین و آسمان کی تخلیق کا سبب ایک ذات بلند اور عالی مقام کے سوا کوئی اور نہیں بتاسکتا۔ لہٰذا قرآن ان کو اور تمام عقلاء کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ تمہاری فطرت کے اندر یہ بات بیٹھی ہوئی ہے اور بہت واضح ہے۔ اگر صورت یہی ہے تو پھر کوئی ہے جو اس مصیبت کو روک سکنے والا ہو جو وہ ذات عالی اپنے بندوں پر لانا چاہے ، یا زمین و آسمان میں کون ہے اگر وہ کسی پر رحمت کرنا چاہے تو اس کی رحمت کو روک سکے۔ تو ان سوالات کا قطعی جواب یہ ہے کہ ” نہیں “۔ اگر یہ بات طے ہوجاتی ہے تو داعی الی اللہ کس سے ڈرسکتا ہے۔ وہ کس سے خائف ہوسکتا ہے اور کس سے امیدیں وابستہ کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اس کی مصیبتوں کو دور کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اللہ کی رحمت کو اس سے دور کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اسے بےچین کرسکتا ، اسے ڈرادھمکا سکتا ہے اور اپنے راستے سے ہٹا سکتا ہے ؟ جب قلب مومن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے تو اس کی نسبت سے معاملہ ختم ہوجاتا ہے ، تنازعہ ختم ہے ، غیر اللہ سے تمام امیدیں ختم ۔ صرف اللہ سے امید باقی رہ جاتی ہے۔ وہ اپنے بندوں کے لیے کافی ہے اور ہمیں اسی پر توکل کرنا چاہئے۔ قل ۔۔۔ المتوکلون (39: 38) ” پس کہہ دو ، اللہ میرے لیے کافی ہے اور بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ مجھے رب تعالیٰ پر پورا اعتماد ، بھروسہ اور یقین ہے۔ اس قدر بھروسہ جس میں کوئی شک نہیں ۔ ایسا یقین جس میں کوئی تزلزل نہیں ۔ اور اس قدر اطمینان جس میں بےچینی کا شائبہ نہیں۔ اور اس زادراہ کے ساتھ آپ چل پڑیں اور منزل تک پہنچنے سے پہلے دم نہ لیں۔ قل یٰقوم۔۔۔۔ عذاب مقیم (39: 39 تا 40) ان سے صاف کہو کہ ” میری قوم کے لوگو ، تم اپنی جگہ اپنا کام کئے جاؤ، میں اپنا کام کرتا رہوں گا ، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر رسواکن عذاب آتا ہے اور کسے وہ سزا ملتی ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں “ سے قوم تم اپنے منہاج کے مطابق کام کرو ، اور میں اپنی راہ پر چل پڑا ہوں ، نہ ڈرتا ہوں اور نہ شک ہے مجھے۔ تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ اسی دنیا میں تم پر کس قدر شرمسار کنندہ عذاب آتا ہے اور پھر آخرت میں تو یہ عذاب دائمی ہوگا۔ اس معاملے کا فیصلہ ہوچکا ، اور اس فطری استدلال کے ذریعہ ہوا جس پر ہر سلیم الفطرت انسان گواہی دیتا ہے اور جس پر یہ کائنات گواہ ہے کہ اللہ خالق سماوات ہے اور خالق ارض ہے۔ اوتمام رسولوں نے آج تک جو دعوت پیش کی ہے یہ دعوت اللہ کی ہے ۔ لہٰذا اللہ کے رسولوں اور داعیان حق کے لیے زمین اور آسمان میں کون ہے جو کوئی اختیار رکھتا ہے۔ کوئی ہے جو ان سے مصائب دور کرسکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو لوگ غیر اللہ اور ان دنیاوی قوتوں سے ڈرتے کیوں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ واضح ہے اور راستہ صاف ہے اور اب بحث کی مزید کچھ ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو ہے تعلق رسولوں اور داعیان حق کا اور ان قوتوں کا جو ان کی راہ روکنے کی کوشش کرتی ہیں اب سوال یہ ہے کہ دعوت حق کے حوالے سے رسولوں اور داعیانکا فریضہ کیا ہے اور جھٹلانے والوں کے ساتھ وہ کیا رویہ اختیار کریں گے۔
Ayahs 39:41–44

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ Open ayah 39:41 in the Quran reader

: (اے نبی ﷺ ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتاب برحق تم پر نازل کردی ہے۔ اب جو سیدھا راستہ اختیار کرے گا اپنے لیے کرے گا) اور جو بھٹکے گا اس کے بھٹکنے کا وبال اسی پر ہوگا ، تم ان کے ذمہ دار نہیں ہو

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 39:42 in the Quran reader

وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اس کی روح نیند میں قبض کرلیتا ہے ، پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے ، اسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک وقت مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے۔ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور وفکر کرنے والے ہیں

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 39:43 in the Quran reader

کیا اس خدا کو چھوڑ کر ان لوگوں نے دوسروں کو شفیع بنارکھا ہے ؟ ان سے کہو ، کیا وہ شفاعت کریں گے خواہ ان کے اختیار میں کچھ ہو نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی نہ ہوں ؟

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 39:44 in the Quran reader

۔ کہو ، شفاعت ساری اللہ کے اختیار میں ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے۔ پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو

آیت نمبر 41 تا 44 انآ انزلنا علیک الکتٰب للناس بالحق (39: 41) ” ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتاب برحق تم پر نازل کی ہے “۔ اس کتاب کی ماہیت سچائی ہے۔ یہ جو طرز زندگی اور منہاج حیات انسان کو عطا کرتی ہے ، وہ برحق ہے۔ اس کا قانون برحق ہے اور یہی وہ سچائی ہے جس سے زمین و آسمان قائم ہیں اور وہ نظام جو اس کتاب نے انسانوں کے لئے وضع کیا ہے اور وہ ضابطہ جو اللہ نے اس کائنات کے چلانے کے لیے وضع کیا ، دونوں حق ہیں اور باہم ہم آہنگ اور متوافق ہیں۔ یہ سچائی لوگوں کے لیے نازل کی ہے کہ لوگ اس سے ہدایات لے اس کے مطابق زندگی بسر کریں اور آپ اس حق کے مبلغ ہیں۔ اور یہ فیصلہ انہوں نے کرنا ہے کہ وہ اپنے لیے راہ ہدایت کا انتخاب کرتے ہیں یا راہ ضلالت کا۔ جنت کی نعمتیں حاصل کرتے ہیں یا جہنم کی آگ اختیار کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنے نفس کو جدھر چاہے لے جائے۔ نہ آپ ان کے ذمہ دار ہیں اور نہ حوالدار۔ فمن اھتدی۔۔۔ بوکیل (39: 41) ” اب جو سیدھا راستہ اختیار کرے گا تو اپنے لیے کرے گا ، اور جو بھٹکے گا تو اس کے بھٹکنے کا وبال اسی پر ہوگا۔ تم ان کے ذمہ راد نہیں ہو “۔ ان کا ذمہ دار اللہ ہے۔ وہ بیداری میں بھی اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور سوتے میں بھی اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اپنے تمام حالات میں وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ جس طرح چاہتا ہے ، ان کے اندر تصرف فرماتا ہے۔ اللہ یتوفی۔۔۔ اجل مسمی (39: 43) ” وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اس کی روح نیند میں قبض کرلیتا ہے ، پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے ، اسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک وقت مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے “۔ اللہ تعالیٰ تمام مردوں کی روحیں ان کے وقت مقرر کے مطابق قبض کرتا ہے۔ اس سے قبل اللہ ہر شخص کی روح کو سونے کی حالت میں بھی قبض کرتا ہے۔ اگرچہ وہ شخص مردہ نہیں ہوتا۔ لیکن اس کی روح اس وقت بھی قبض ہوتی ہے ، ایک وقت مقررہ تک کے لیے۔ اگر سوتے ہی میں اس کا وقت مقرر آجائے تو پھر وہ شخص جاگ نہیں اٹھتا۔ اگر وقت مقرر نہ آیا تو روح واپس بھیجی جاتی ہے۔ اور یہ شخص جاگ اٹھتا ہے۔ لہٰذا تمام نفوس اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں ، سوتے میں بھی اور جاگتے میں بھی۔ ان فی ذٰلک لاٰیٰت لقوم یتفکرون (39: 42) ' اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو فکر کرتے ہیں “۔ غرض یہ لوگ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اللہ ہی ان کا ذمہ دار ہے اور آپ ان کے انجام کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اگر وہ ہدایت پاتے ہیں تو اپنے لیے پاتے ہیں اور اگر وہ گمراہی کی راہ اختیار کرتے ہیں تو اپنے لیے کرتے ہیں۔ محاسبہ سب کے لیے ہے۔ کوئی بھی مہمل چھوڑ دیا جانے والا نہیں ہے۔ لہذا ان کو اپنے آپ کو چھڑانے کی فکر کرنی چاہئے۔ ام اتخذوا۔۔۔۔۔۔ الیه ترجعون (39: 43 تا 44) ” کیا اس خدا کو چھوڑ کر ان لوگوں نے دوسروں کو شفع بنارکھا ہے ؟ ان سے کہو ، کیا وہ شفاعت کریں گے خواہ ان کے اختیار میں کچھ ہو نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی یہ ہوں ؟ کہو ، شفاعت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے۔ پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ وہ لوگ یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ ملائکہ کی بندگی اس لیے کرتے ہیں کہ ملائکہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں گے۔ اولو۔۔۔۔ یعقلون (39: 43) ” خواہ ان کے اختیار میں کچھ نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی کچھ نہ ہوں “۔ اور اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ سفارش تو اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ اللہ ہی ہے کہ جس کو سفارش کی چاہے اجازت دے دے۔ لیکن اگر اللہ کسی کو سفارش کی اجازت دے تو ہمارے لیے یہ جائز نہ ہوگا کہ ہم اسے اللہ کا شریک بنالیں۔ له ملک السمٰوٰت والارض (39: 44) ” زمین و آسمان کی بادشاہی کا وہی مالک ہے “۔ اس بادشاہی میں کوئی اس کی ملکیت اور ارادہ کے دائرہ سے باہر نہیں ہے۔ سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ اور اس سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے اور سب نے آخر کار اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ نظریہ اور موقف کہ اللہ وحدہ بادشاہ ہے۔ وہ تمام اختیارات کا مالک ہے اور قہار ہے اور جس کا خلاصہ کلمہ توحید ہے ، اس سے وہ کس قدر بدکتے ہیں اور کلمہ شرک کے لیے یہ کس قدر خوش ہوتے ہیں ، حالانکہ کلمہ کا انکار ان کی فطرت بھی کرتی ہے۔ اور ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات بھی کرتی ہے۔
Ayah 39:45

وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 39:45 in the Quran reader

جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں۔ اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکایک وہ خوشی سے کھل اٹھتے ہیں

آیت نمبر 45 یہ ایک حقیقی صورت حال کی نقشہ کشی ہے جو حضور اکرم ﷺ کے دور میں موجود تھی۔ اس وقت صورت یہ تھی کہ جب مشرکین کے خداؤں کا ذکر احترم سے کیا جاتا تو یہ مشرکین کھل اٹھتے اور بہت خوش ہوتے ۔ اور جب کلمہ توحید کا بیان ہوتا تو یہ لوگ مرجھا جاتے اور ان کی طبیعت میں انقباض پیدا ہوجاتا ۔۔۔۔ لیکن یہ ایک نفسیاتی حالت ہے جو ہر زمان ومکان میں پائی جاتی ہے۔ ہر دور میں ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ وحدہ کی طرف لوگوں کو دعوت دی جائے اور صرف اللہ کی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا جائے اور صرف اسلامی نظام اور اسلامی دستور ومنشور کی بات کی جائے تو ان کو سخت انقباض ہوتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں جب انسانوں کے بنائے ہوئے نظام ہائے زندگی کی بات کی جائے ، انسانی قوانین کی بات کی جائے تو وہ بہت ہی خوش ہوتے ہیں ، کھل اٹھتے ہیں اور ایسی باتوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی تصویر کشی اس آیت میں کی گئی ہے۔ یہ لوگ ہر زمان ومکان میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہے۔ ان کے مزاج میں بگاڑ پیدا ہوگیا ہے۔ اور یہ لوگ ضال اور مضل ہیں۔ اگرچہ کوئی معاشرہ حضور اکرم ﷺ کے معاشرے سے مختلف ہو۔ اگرچہ ان کی جنس اور قوم عربوں سے جدا ہو۔ ایسے منحرفین ، گمراہوں اور بگڑے ہوئے لوگوں کا جواب وہی ہے جو اللہ نے حضور ﷺ کو بتایا تھا جب آپ کو ایسے حالات سے مقابلہ درپیش تھا۔
Ayah 39:46

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 39:46 in the Quran reader

کہو ، خدایا ، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ، حاضر و غائب کے جاننے والے ، تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا ، جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں

آیت نمبر 46 یہ اس فطرت کی پکار ہے جو زمین و آسمان کو دیکھ رہی ہو۔ اور اس کے لیے یہ بات مشکل ہو کہ وہ اللہ کی ذات کے سوا کسی کو الہہ مان سکے جو خالق ارض وسما ہے۔ لہٰذا یہ فطرت اس کی طرف اعتراف اور اقرار کے ساتھ متوجہ ہوتی ہے اور اللہ کی تعریف و تمجید ان صفات کے ساتھ کرتی ہے جو اس کے لائق ہیں یعنی ” اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے “۔ علم الغیب والشھادۃ (39: 46) ” اے حاضر و غائب کو جاننے والے “۔ اے ظاہر و باطن کو جاننے والے۔ انت۔۔۔۔ یختلفون (39: 46) ” تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہتے ہیں “۔ کیونکہ قیامت کے دن تو وہی حاکم ہوگا۔ اور سب نے قیامت میں اسی کے سامنے آنا ہوگا۔ اور کوئی قیامت کی حاضری سے بچ کر نکلنے والا نہیں ہے۔ اور جب اللہ کے بندے قیامت کے روز کے فیصلے کے لیے حاضر کیے جائیں گے تو ان کی حالت پھر کیا ہوگی ذرا اسکرین پر یہ منظر دیکھیں :
Ayahs 39:47–48

وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ Open ayah 39:47 in the Quran reader

اگر ان ظالموں کے پاس زمین کی ساری دولت بھی ہو ، اور اتنی ہی اور بھی ، تو یہ روز قیامت کے برے عذاب سے بچنے کیلیے فدیے میں دینے کیلیے تیار ہوجائیں گے۔ وہاں اللہ کی طرف سے انکے سامنے وہ کچھ آئے گا جسکا انہوں نے کبھی اندازہ ہی نہیں کیا ہے

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 39:48 in the Quran reader

۔ وہاں اپنی کمائی کے سارے برے نتائج ان پر کھل جائیں گے اور وہی چیز ان پر مسلط ہوجائیگی جسکا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں

آیت نمبر 47 تا 48 ایک ہولناک صورت حال کا جامہ پہنادیا گیا ہے۔ یہ قرآن ہی کرسکتا ہے ، یہ ظالم جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں اور شرک ظلم عظیم ہے ۔ اگر قیامت کے دن ان کے قبضے میں یہ پوری زمین ہو اور اس جیسی ایک اور زمین بھی اور وہ اس کے اور مافیہا کے واحد مالک ہوں تو وہ قیامت کے دن کے عذاب سے بچنے کے لیے وہ سب کچھ دینے کے لیے تیار ہوں گے۔ اور اس عذاب سے یہ لوگ رہائی نہ پاسکیں گے۔ ان جامع الفاظ کے اندر ایک دوسری دھمکی بھی چھپی ہوئی ہے۔ وبدالھم من اللہ مالم یکونوا یحتسبون (39: 47) ” اور اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا انہوں نے کبھی اندازہ ہی نہیں کیا ہے “۔ یہاں اس بات کا تذکرہ نہیں کیا گیا کہ وہاں ان کے سامنے اللہ کی طرف سے کیا غیر متوقع انکشافات ہوں گے ؟ لیکن اتنی بات ظاہر ہے کہ جو کچھ ظاہر ہوگا وہ بہت ہی خوفناک ہوگا اور وہ ان کو مدہوش کردے گا۔ اور وہ حواص باختہ پھریں گے۔ ایک طرف اللہ ہے اور دوسری طرف یہ ضعفاء ہیں اور اللہ کی طرف سے ان کے سامنے خوفناک انکشافات ہوں گے یہاں ان کو متعین نہیں کیا گیا۔ وبدالھم۔۔۔۔ یستھزءون (39: 48) ” وہاں اپنی کمائی کے سارے نتائج ان پر کھل جائیں گے اور وہی چیز ان پر مسلط ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں “۔ اس سے بھی ان کی حالت مزید بگڑ جائے گی۔ جب ان کے سامنے اپنے کرتوتوں کے نتائج بھیانک شکل میں آئیں گے۔ اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہ انہیں گھیرلے گا۔ اور وہ نہایت ہی کربناک حالت میں ہوں گے۔ اعاذنا اللہ منھا۔ اب اس موقف کے بعد جب وہ اپنے رب کے سامنے حاضر کئے جائیں گے ، اس رب کے سامنے جس کے ساتھ یہ لوگ شرک کرتے تھے اور جب اللہ وحدہ کا ذکر کیا جاتا تو ان کے دل سکڑ جاتے اور جب ان کے شرکاء کا ذکر ہوتا تو وہ کھل جاتے تھے۔ ان مضامین کے بعد ان کی عجیب حالت کی تصویر کھینچی جاتی ہے۔ یہ اللہ کی وحدانیت کا تو انکار کرتے ہیں لیکن جب یہ کسی بڑی مصیبت میں پھنستے ہیں تو صرف اللہ وحدہ کو نہایت عاجزی سے پکارتے ہیں۔ لیکن جب ان سے یہ مصیبت ٹل جائے تو پھر تکبر کرتے ہوئے انکار کرتے ہیں۔
Ayah 39:49

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:49 in the Quran reader

یہی انسان جب ذرا سی مصیبت اسے چھو جاتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے ، اور جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت دے کر اپھار دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے ، نہیں بلکہ یہ آزمائش ہے ، مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

آیت نمبر 49 یہ آیت انسانوں کے ایک ایسے نمونے کا ذکر کرتی ہے جو ہر جگہ اور ہر زمانے میں پایا جاتا ہے۔ یہ ایسا نمونہ ہے جس کی فطرت نے سچائی تک رسائی حاصل نہیں کی۔ رب واحد کے عقیدے تک نہیں پہنچ سکی کہ اسے صحیح رویہ معلوم ہو اور خوشی اور غم کی حالت میں بھی وہ اپنا صحیح راستہ نہ بھولے۔ مصیبت ، انسانی فطرت کے اوپر سے خواہشات نفسانیہ کی جمی ہوئی دبیز تہوں کو دور کردیتی ہے اور مصنوعی عوامل کو ہٹا کر انسانی ضمیر کے اندر موجود سچائی نکھارتی ہے۔ جب انسان مشکلات سے دوچار ہوتا ہے تو اسے اللہ نظر آتا ہے ” جب کیا تنگ بتوں نے تو خدایاد آیا “ اب خدا کی تعریف ہونے لگتی ہے اور لوگ صرف اللہ وحدہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اور جب یہ شدت اور مصیبت ختم ہوجاتی ہے اور خوش حالی اور امن لوٹ آتا ہے تو انسان ان باتوں کو بھول جاتا ہے جو اس نے شدت و مصیبت کے وقت میں کی تھیں اور اس کی فطرت پھر خواہشات نفسانیہ اور وقتی عوامل کے دباؤ میں آجاتی ہے اور اللہ کی نعمتوں اور فضل وکرم کے بارے میں وہ کہتا ہے۔ انمآ اوتیته علی علم (39: 49) ” یہ تو مجھے علم کی بناء پر دیا گیا ہے “۔ یہ بات قارون نے بھی کہی تھی۔ ہر وہ شخص اور قوم جسے یہ دھوکہ ہوجائے کہ اسکے اچھے دن علم و حکمت اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہیں۔ یہ اسکی مہارت ہے کہ اسکو مال اور اقتدار ملا ہے۔ ایسے لوگ فضل وکرم کے اصل مصدر سے غافل ہوتے ہیں اور علم دینے والے کو نہیں پہچانتے جو مبب الاسباب ہے اور جو رزق مقرر کرتا ہے۔ یہ ہے امتحان اور آزمائش۔ اسکے ذریعے اللہ معلوم کرتا ہے کہ جس پر فضل وکرم ہورہا ہے ، وہ شکر کریگا یا کفر کرے گا۔ آیا اس فضل وکرم کی وجہ سے اسکی اصلاح ہوتی ہے یا وہ مزید بگڑتا ہے۔ وہ راہ راست لیتا ہے یا گمراہی کی راہ آگے بڑھتا ہے۔ قرآن کریم نے بندوں پر مہربانی کرتے ہوئے یہ راز ان پر کھول دیا ہے اور اس خطرے سے انہیں پیشگی آگاہ کردیا ہے کہ یہ مال اور دولت اور اقتدار وجاہ بھی تمہارے لیے آزمائش ہے۔ قرآن کریم اقوام گزشتہ کے حالات ان پر پیش کر کے ان کو متنبہ کرتا ہے کہ پہلے بھی اس قسم کے لوگوں نے کہا تھا کہ۔ اوتیته علیٰ علم (39: 49) ” یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے
Ayahs 39:50–51

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:50 in the Quran reader

یہی بات ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی کہہ چکے ہیں ، مگر جو کچھ وہ کماتے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آیا

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 39:51 in the Quran reader

۔ پھر اپنی کمائی کے برے نتائج انہوں نے بھگتے ، اور ان میں سے بھی وہ جو ظالم ہیں وہ عنقریب اپنی کمائی کے برے نتائج بھگتیں گے ، یہ ہمیں عاجز کردینے والے نہیں ہیں

آیت نمبر 50 تا 51 یہ وہی الفاظ ہیں جو اس سے قبل کے بدفطرت لوگوں نے کہے تھے۔ نہ ان کا علم ان کے کام آیا ، نہ ان کا اقتدار انہیں بچا سکا ۔ اور نہ ان کی ٹیکنالوجی اور اللہ کے عذاب نے انہیں آلیا۔ یہ ان کی آزمائش تھی اس میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ اور اللہ کو عاجز کرنے والا کوئی نہیں۔ انسان جیسی ضعیف مخلوق اللہ کو کیسے عاجز کرسکتی ہے۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے ان کو مال واقتدار دیا تو یہ اللہ کی حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔ اور یہ حکمت اللہ خود ہی جانتا ہے کہ وہ کسی کو مال واقتدار کی فراوانی کیوں دیتا ہے۔ اصل بات ہوتی ہے اس کی مشیت اور اس کی آزمائش۔
Ayah 39:52

اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 39:52 in the Quran reader

اور کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ جس کا چاہتا ہے ، رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے ، تنگ کردیتا ہے ؟ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں

آیت نمبر 52 یہ تو اللہ کی نشانیاں ہیں کہ وہ کسی کو زیادہ اور کسی کو کم دیتا ہے ، اور ان نشانات سے راہ ہدایت لینا چاہے ، نہ یہ کہ ان نشانات الہیہ کو کفر وضلالت کا ذریعہ بنایا جائے
Ayah 39:53

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

:”(اے نبی ﷺ کہہ دو کہ اے میرے بندو ، جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا ، یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کردیتا ہے ، وہ تو غفور ورحیم ہے

درس نمبر 221 ایک نظر میں اس سے پہلے سبق میں بتایا گیا تھا کہ قیامت کے دن ظالمون کے حالات کیا ہوں گے۔ ولوان للذین۔۔۔۔۔۔ به یستھزءون (39: 47 تا 48) ” اگر ان ظالموں کے پاس زمین کی ساری دولت بھی ہو ، اور اتنی ہی اور بھی ، تو یہ روز قیامت کے برے عذاب سے بچنے کے لیے سب کچھ فدیے میں دینے کے لیے تیار ہوجائیں گے ۔ وہاں اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا انہوں نے کبھی اندازہ ہی نہیں کیا ہے۔ وہاں اپنی کمائی کے سارے برے نتائج ان پر کھل جائیں گے جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں “۔ اس لیے اس سبق میں توبہ کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور کوئی کس قدر گناہوں کا مرتکب کیوں نہ ہوگیا ہو ، اسے دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہرگز نہ ہوں ، چاہے وہ میری راہوں پر بہت آگے نکل گئے ہوں۔ دعوت دی جاتی ہے کہ لوٹ آؤ، میرے در پر کوئی مایوسی نہیں ہے ، لیکن اگر اس عام معافی اور عام دعوت سے تم نے فائدہ نہ اٹھایا اور توبہ نہ کی تو پھر تمہارے لیے وہ عذاب ہے جس سے بچ نکلنے کی کوئی راہ نہ ہوگی ۔ اس فرصت سے فائدہ اٹھاو ، قبل اس کے کہ وقت چلا جائے۔ درس نمبر 221 تشریح آیات آیت نمبر 53 اللہ کی رحمت اس قدر وسیع ہے کہ وہ بڑی سے بڑی معصیت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے ، چاہے وہ جو بھی ہو۔ یہ توبہ اور واپس آجانے کی دعوت عام ہے۔ ان لوگوں کو دعوت ہے جو گمراہی ، فیق وفجور اور بدکاری کی راہوں میں بہت دور چلے گئے ہیں اور مایوس ہوگئے ہیں۔ ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں ، اللہ پر بھروسہ کریں اور اللہ کی رحمت کا دروازہ وسیع ہے اور عفو و درگزر کی چادر بہت کھلی ہے۔ وہ اپنے بندوں پر رحیم وکریم ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میرے بندے کس قدر کمزور اور ضعیف ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ ان کے طرز عمل پر داخلی اور خارجی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ اللہ کو یہ بھی معلوم ہے کہ شیطان لعین گھات میں بیٹھا ہوا ہے اور دائیں بائیں ہر طرف سے وہ ان کے راستوں پر بیٹھا ہوا ہے اور ان کو گمراہ کرتا ہے۔ اور اپنی تمام سوار افواج اور پیدل افواج اس نے انسانوں پر حملہ آور کردی ہیں۔ اور وہ اپنے اس خبیث منصوبے میں بہت ہی سنجیدہ ہے۔ اور اللہ جانتا ہے کہ انسان کی ساخت بہت ہی کمزور ہے اور اس غریب کے ہاتھ سے جو نہی حبل متین چھوٹتی ہے یہ اپنے ذاتی میلانات ، نفسانی رجحانات ، نفسیاتی رجحانات سے برائی کی طرف مائل ہوجاتا ہے اور اس کا توازن ختم ہوجاتا ہے اور وہ انحراف کی راہوں پر چل نکلتا ہے اور اس کا توازن ختم ہوکروہ معصیت کی راہوں پر نکل پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی اس مخلوق کی ان سب کمزوریوں سے واقف ہے۔ اس لیے اللہ اس کی معاونت فرماتا ہے اس کے لیے دامن رحمت وسیع فرماتا ہے اور سزا صرف اس وقت دیتا ہے جب اسکی اصلاح کیلیے تمام وسائل کام میں لائے کہ وہ راہ راست پر آجائے اور جب وہ مصعیت کی راہوں پر دور نکل جائے ، گناہوں میں حد سے گزرجائے ، اور اسے یقین ہوجائے کہ وہ ثواب ہر مردود ومسترد ہوگیا ہے اور اس کیلیے نہ اب واپسی ممکن ہے اور نہ معافی ، اس قسم کی مایوسی اور قنوطیت کی حالت میں اللہ کی یہ پکار سنتا ہے۔ قل یٰعبادی۔۔۔۔ الرحیم (39: 53) ”(اے نبی ﷺ کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا ، یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کردیتا ہے ، وہ تو غفور ورحیم ہے “۔ یہ شخص معصیت میں حد سے گزر گیا ہے ، گناہوں میں ڈوب گیا ، محفوظ جگہ سے بھاگ گیا ہے اور راستے سے بےراہ ہوگیا ہے ، اب اس کے سایہ رحمت ، تروتازہ کرنے والی رحمت ، زندہ کرنے والی رحمت ، نرم ونازک رحمت کے درمیان صرف ایک ہی دروازہ رہ گیا ہے۔ یہ ہے توبہ کا دروازہ ، یہ دروازہ ہر وقت کھلا ہے ، اس پر کوئی دربان نہیں ہے۔ اس دروازے سے رحمت خدا وندی کے سایوں تک پہنچنے کے لیے کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہے بس توبہ کرو اور لوٹ آؤ، صد بار توبہ شکستی باز آ۔
Ayahs 39:54–55

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 39:54 in the Quran reader

پلٹ آؤ اپنے رب کی طرف اور مطیع بن جاؤ اسکے قبل اسکے کہ تم پر عذاب آجائے اور پھر کہیں تمہیں مدد نہ مل سکے

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

۔ اور پیروی اختیار کرلو اپنے رب کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلو کی۔ قبل اسکے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمکو خبر بھی نہ ہو

آیت نمبر 54 تا 55 انابت ، اسلام اور سرتسلیم خم کردینے کے دائرے میں لوٹ آنا ایک ہی مفہوم رکھتا ہے اور ایک ہی حقیقت ہے۔ اللہ کی اطاعت کے خطیرہ میں داخل ہونا ایک ایسا عمل ہے جس میں کوئی مراسم نہیں ، کوئی رکاوٹ نہیں ، کوئی واسطہ اور سفارش نہیں ، جو چاہے ، جس وقت چاہے ، اسلام کے سادہ سے نظام میں داخل ہوجائے۔ اسلام بندے اور رب کے درمیان بلاواسطہ دین ہے۔ یہ خالق اور مخلوق کے درمیان بلاواسطہ تعلق ہے۔ گناہ گاروں میں سے واپس ہونا چاہے ، گمراہوں میں سے جو چاہے لوٹ آئے ، جو لوگ بھی جس قدر نافرمانی کرتے رہے ہیں وہ سر تسلیم خم کردیں اور واپس آجائیں ، دوازہ کھلا ہے۔ سایہ دار پناہ گاہ موجود ہے۔ تروتازہ اور نرم ونازک فضا موجود ہے۔ اور یہ سب چیزیں ایک ایسے دروازے کے اندر ہیں جس کے لیے کوئی دربان نہیں ہے اور اس دروازے سے داخل ہونے کے لیے کوئی حساب و کتاب نہیں ہے۔ لوٹ آؤ، لوٹ آؤ، قبل اس کے آواز آجائے کہ فلاں نماند ! من قبل۔۔۔۔ تبصرون (39: 54) ” قبل اس کے کہ تم پر عذاب آجائے اور پھر کہیں سے تمہیں مددنہ مل سکے “۔ وہاں تو کوئی مددگار نہ ہوگا۔ اس لیے آؤ، وقت کے ختم ہونے میں دیر نہیں ہے۔ کسی بھی وقت آخری گھڑی کا فیصلہ ہوسکتا ہے اور دروازہ بند ہوسکتا ہے۔ رات اور دن کے کسی وقت میں مہلت کی گھڑیاں ختم ہوسکتی ہیں۔ واتبعوآ۔۔۔۔ ربکم (39: 55) ” اور پیروی اختیار کرو اپنے رب کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلو کی “۔ اس سے مراد قرآن کریم ہے جو تمہارے ہاتھوں میں ہے۔ من قبل۔۔۔۔ تشعرون (39: 55) ” قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو “۔ لہٰذا باز آجاؤ قبل اس کے کہ فرصت ختم ہوجائے ، مہلت جاتی رہے اور تم نے اللہ کے حق میں کوتاہی کی ہو اور پھر تم پچھتاؤ کہ کیوں ہم اللہ کے وعدے کا مذاق اڑاتے تھے۔
Ayah 39:56

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں کوئی شخص کہے ” افسوس میری اس تقصیر پر جو میں اللہ کی جناب میں کرتا رہا ، بلکہ میں تو الٹا مذاق اڑانے والوں میں شامل تھا

آیت نمبر 56 یا کوئی یہ بات کہے کہ اللہ نے میرے لیے تو گمراہی لکھ دی تھی اگر اللہ میرے لیے ہدایت مقدر کردیتاتو میں ہدایت پر آجاتا۔
Ayah 39:57

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

یا کہے ” کاش اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہوتی تو میں بھی متقیوں میں سے ہوتا

آیت نمبر 57 یہ استدلال بادی النظر میں غلط ہے۔ فرصت کی گھڑی موجود ہے ، ہدایت کے ذرئع موجود ہیں ، توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور تمہیں آزادی دی گئی ہے۔
Ayah 39:58

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا عذاب دیکھ کر کہے ” کاش مجھے ایک موقع اور مل جائے اور میں بھی نیک عمل کرنے والوں میں شامل ہوجاؤں

آیت نمبر 58 اور یہ تو ایک ایسی آرزو ہے ، جسے کوئی نہیں پاسکتا ۔ جب یہ زندگی ختم ہوگی تو دوبارہ اس جہاں میں کسی کے بھیجے جانے کی کوئی امید نہیں ہے۔ کیا تم دارالعمل میں موجود نہیں ہو۔ یہ ایک فرصت ہے اور جب یہ ختم ہوجائے تو پھر وقت لوٹ کر نہیں آتا۔ اور اس وقت کے بارے میں تم سے نہایت ہی سرزنش کے انداز میں بازپرس ہوگی !
Ayah 39:59

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

:”(اور اس وقت اسے یہ جواب ملے کہ) ” کیوں نہیں ' میری آیات تیرے پاس آچکی تھیں ' پھر تو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافروں میں سے تھا

آیت نمبر 59 سیاق کلام اب قیامت میں متقین اور منکرین کا ایک منظر پیش کرتا ہے۔ عین اس وقت جب قارئین کو قیامت کے برپا ہونے کے آخری لمحات تک پہنچادیا گیا ہے۔
Ayahs 39:60–61

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

آج جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ باندھے ہیں قیامت کے روز تم دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہوں گے۔ کیا جہنم میں متکبروں کے لیے کافی جگہ نہیں ہے ؟

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

اس کے برعکس جن لوگوں نے یہاں تقویٰ کیا ہے ، ان کے اسباب کامیابی کی وجہ سے اللہ ان کو نجات دے گا ، ان کو نہ کوئی گزند پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

آیت نمبر 60 تا 61 یہ ہے آخری انجام ، ایک گروہ ہے کہ شرمندگی کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہے۔ نیز غم کی وجہ سے اور جہنم کی شعلوں کی وجہ سے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زمین میں اپنے آپ کو بہت ہی بڑا سمجھتے تھے۔ ان کو رات اور دن اللہ کی دعوت دی جاتی تھی۔ یہ دعوت اس وقت بھی برقرار تھی جب یہ گناہوں میں گردن تک ڈوبے ہوئے تھے لیکن انہوں نے داعی کی پکار پر کان نہ دھرا۔ آج یہ گروہ بہت ہی شرمندہ ہے۔ شرمندگی اور کبیدگی کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہے اور دوسرا فریق نجات پاچکا ہے ، کامیاب ہوگیا ہے۔ اب اسی کوئی گزند پہنچنے کا امکان ہی باقی نہیں رہا ۔ نہ اسے کوئی پریشانی لاحق ہوگی۔ یہ میقین کا فریق ہے جو دنیا میں اس طرح زندہ رہے کہ آخرت سے ڈرتے رہے اور اللہ کی رحمت کے امیدوار رہے۔ آج وہ نجات ' کامیابی ' امن اور سلامتی میں ہیں۔ لایمسھم۔۔۔ یحزنون (39: 61) ” ان کو اب کوئی گزند نہ پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے “۔ اس صورت حال کے بعد اب جو چاہے داعی حق کی پکار پر لبیک کہے اور اللہ کی تروتازہ رحمت اور جنت میں داخل ہوجائے ۔ یہ رحمتیں اور یہ توبہ کے دروازے کے ساتھ موجود ہیں۔ دروازہ کھلا ہے۔ چھوڑ دو اپنا اسراف ، چھوڑو بےراہ روی اور ترک کرو فسق وفجور ، قبل اس کے کہ تمہیں عذاب الہٰی آلے اور تمہیں اس کا شعور ہی نہ ہو۔