40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 40:1
حم۔ یعنی قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کا فیصلہ فرما دیا یا یہ کہ اسے بیان فرما دیا یا یہ کہ یہ لفظ تاکید کے طور پر ایک قسم ہے۔
Ayah 40:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب و دانا کی طرف سے ہے

یہ قرآن کریم رسول اکرم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتارا گیا ہے جو کہ کافروں کو سزا دینے میں زبردست اور مومن و کافر سب کو جاننے والا ہے۔
Ayah 40:3

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

جو گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے اور سخت عذاب دینے والا اور صاحب کرم ہے اس کے سواء کوئی معبود نہیں اسی کی طرف پھر کر جانا ہے

گناہ کو بخشنے والا اور شرک سے توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرنے والا اور جو شرک کی حالت میں مرے اسے سخت سزا دینے والا مومنوں کے لیے فضل و احسان کرنے والا اور کافر پر قدرت رکھنے والا ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں مومن و کافر سب کو اسی کی طرف لوٹ جانا ہے۔
Ayah 40:4

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

خدا کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں تو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے

مگر اس کے باوجود مکہ والوں میں رسول اکرم اور قرآن کریم کی تکذیب کافر ہی کرتے ہیں تو اے نبی کریم ان لوگوں کا تجارت کے لیے سفر کرنا اور آنا جانا آپ کو شک میں نہ ڈالے کیونکہ یہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ شان نزول : مَا يُجَادِلُ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ (الخ) ابن ابی حاتم نے بواسطہ سدی ابو مالک سے اس آیت مبارکہ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت حارث بن قیس سہمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 40:5

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد اور امتوں نے بھی (پیغمبروں کی) تکذیب کی اور ہر امت نے اپنے پیغمبر کے بارے میں یہی قصد کیا کہ اس کو پکڑ لیں اور بےہودہ (شبہات سے) جھگڑتے رہے کہ اس سے حق کو زائل کردیں تو میں نے ان کو پکڑ لیا (سو دیکھ لو) میرا عذاب کیسا ہوا ؟

اور آپ کی قوم سے پہلے حضرت نوح کی قوم نے نوح ؑ کو اور اسی طرح ان کافروں نے جو کہ قوم نوح کے بعد ہوئے انبیاء کرام کو جھٹلایا تھا جبکہ آپ کی قوم آپ کو جھٹلا رہی ہے۔ اور ہر ایک قوم نے اپنے رسول کو قتل کرنے کی سکیم بنائی تھی اور شرک کے ساتھ رسولوں سے جھگڑے کیے تاکہ شرک کے ذریعے سے اس حق بات کو جس کو انبیاء کرام لے کر آئے ہیں جھوٹ کردیں تو میں نے اس تکذیب کے وقت ان کی پکڑ کی۔ سو اے نبی کریم آپ دیکھیے کہ تکذیب کے وقت میری طرف سے ان کو کیسی سزا ہوئی۔
Ayah 40:6

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح کافروں کے بارے میں بھی تمہارے پروردگار کی بات پوری ہوچکی ہے کہ وہ اہل دوزخ ہیں

اسی طرح تمام ان لوگوں پر جنہوں نے انبیاء کرام کا انکار کیا آپ کے پروردگار کے عذاب کے ساتھ یہ بات طے ہوچکی ہے کہ وہ آخرت میں دوزخی ہوں گے۔
Ayah 40:7

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

جو لوگ عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اسکے گردا گرد (حلقہ باندھے ہوئے) ہیں (یعنی فرشتے) وہ اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومنوں کیلئے بخشش مانگتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے تو جن لوگوں نے توبہ کی اور تیرے راستے پر چلے ان کو بخش دے اور دوزخ سے بچا لے

جو فرشتے عرش الہی کو اٹھائے ہوئے ہیں۔ اور ان فرشتوں کی دس جماعتیں ہیں اور جو فرشتے اس کے اردگرد ہیں وہ اپنے پروردگار کے حکم سے اس کی تسبیح و تمہید کرتے رہتے ہیں اور وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اہل ایمان کے لیے اس طرح دعا و استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب آپ کے انعامات ہر ایک چیز کیا احاطہ کیے ہوئے ہیں اور آپ ہر ایک چیز کو جانتے ہیں سو ان لوگوں کو بخش دیجیے جنہوں نے شرک سے توبہ کرلی اور دین اسلام پر چلتے ہیں اور ان سے جہنم کے عذاب کو دور کردیجیے۔
Ayah 40:8

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ان کو ہمیشہ رہنے کی بہشتوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور جو انکے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور انکی اولاد میں سے نیک ہوں ان کو بھی بیشک تو غالب حکمت والا ہے

اور آپ ان کو انبیاء کرام اور صالحین کے گروہ میں داخل فرمایے جس کا آپ نے ان سے کتاب میں وعدہ فرمایا اور ان کے ماں باپ میں سے جو موحد ہوں بیشک آپ اپنی سلطنت و بادشاہت میں غالب اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والے ہیں۔
Ayah 40:9

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور انکو عذابوں سے بچائے رکھ اور جس کو تو اس روز عذابوں سے بچا لے گا تو بیشک اس پر مہربانی فرمائی اور یہی بڑی کامیابی ہے

اور ان سے قیامت کے دن کے عذاب کو دور فرمایے اور جس سے قیامت کے دن کا عذاب دور کردیا گیا تو اس کی آپ نے مغفرت اور حفاظت فرمادی اور یہ مغفرت اور عذاب کا دور کرنا بڑی کامیابی ہے کہ جنت ہاتھ آگئی اور دوزخ سے بچ گئے۔
Ayah 40:10

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا ان سے پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ جب تم (دنیا میں) ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے اور مانتے نہیں تھے تو خدا اس سے کہیں بیزار ہوتا تھا جس قدر تم اپنے آپ سے بیزار ہو رہے ہو

جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کی کتابوں اور رسولوں کا انکار کیا جب وہ دوزخ میں جاکر حسرت اور اپنے نفس کو ملامت کریں گے تو ان سے فرشتے کہیں گے کہ جیسی اس وقت تمہیں اپنے آپ سے نفرت ہے اس سے بڑھ کر جبکہ تم دنیا میں تھے اللہ کو تم سے نفرت تھی جبکہ تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے اور تم نہیں مانا کرتے تھے۔
Ayah 40:11

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو دفعہ بےجان کیا اور دو دفعہ جان بخشی ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلنے کی کوئی سبیل ہے ؟

وہ کفار دوزخ میں کہیں گے اے ہمارے رب آپ نے ہمیں دوبارہ مردہ رکھا ایک بار تو جس وقت ہماری روحیں قبض کیں اور دوسری مرتبہ جبکہ قبروں میں ہم سے منکر نکیر نے سوال کیا اور دوبارہ زندگی دی ایک مرتبہ تو قبروں میں منکر کے سوال سے پہلے اور دوسری مرتبہ حشر کے لیے سو ہم اپنے شرک و کفر کا اور ایمان لانے سے انکار کرنے کا انکار کرتے ہیں تو کیا اب پھر دنیا میں واپس جانے کی کوئی صورت ہے کہ ہم وہاں پہنچ کر آپ پر ایمان لے آئیں۔
Ayah 40:12

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جب تنہا خدا کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کردیتے تھے اور اگر اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جاتا تھا تو تسلیم کرلیتے تھے تو حکم تو خدا ہی کا ہے جو (سب سے) اوپر اور (سب سے) بڑا ہے

اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ اس دوزخ کے عذاب اور ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ جب تم سے کلمہ لا الہ الا اللہ کے اقرار کرنے کے بارے میں کہا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر بتوں کو شریک کیا جاتا تھا تو تم فورا مان لیتے تھے سو بندوں کے درمیان جو یہ فیصلہ ہوا اور کافروں کے لیے دوزخ کا حکم ہوا یہ اس اللہ کا فیصلہ ہے جو سب سے بلند عالی شان اور سب سے بڑا ہے۔
Ayah 40:13

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تم پر آسمان سے رزق اتارتا ہے اور نصیحت تو وہی پکڑتا ہے جو (اس کی طرف) رجوع کرتا ہے

اے مکہ والو وہی ہے جو تمہیں اپنی وحدانیت اور قدرت کی نشانیاں دکھلاتا ہے کہ مشرکین کے مکانات کو تباہ و برباد کرتا ہے اور تمہارے لیے آسمان سے بارش برساتا ہے مگر قرآن کریم سے صرف وہ ہی شخص نصیحت حاصل کرتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے کا ارادہ کرتا ہے۔
Ayah 40:14

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

تو خدا کی عبادت کو خالص کر کے اسی کو پکارو اگرچہ کافر برا ہی مانیں

تو تم لوگ اخلاص اور توحید کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اگرچہ مکہ والوں کو برا ہی کیوں نہ لگے۔
Ayah 40:15

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہ مالک درجات عالی اور صاحب عرش ہے، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی بھیجتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ڈراوے

وہ آسمانوں کا خالق ہے جس نے ان کو ہر ایک چیز سے بلند کیا اور عرش کا مالک ہے۔ وہ بذریعہ جبریل امین اپنے بندوں میں سے جس جو پسند کرے یعنی رسول اکرم پر قرآن کریم نازل فرماتا ہے تاکہ محمد قرآن کریم کے ذریعے اس دن سے ڈرائیں جس دن آسمان اور زمین والے جمع ہوجائیں گے یا یہ کہ خالق و مخلوق۔
Ayah 40:16

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس روز وہ نکل پڑیں گے ان کی کوئی چیز خدا سے مخفی نہ رہے گی، آج کس کی بادشاہت ہے ؟ خدا کی جو اکیلا اور غالب ہے

جس دن سب لوگ قبروں سے نکل پڑیں گے کہ ان کے اعمال میں سے کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہ رہے گی پھر نفخہ موت کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج کے دن کس کی حکومت ہوگی تو کوئی بھی جواب نہ دے سکے گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا بس اللہ ہی کی ہوگی جو کہ وحدہ لاشریک ہے اور اپنی مخلوق کے مارنے پر غالب ہے آج یعنی قیامت کے دن ہر نیک و بد کو جو بھی اس نے نیکی یا بدی کی ہے اس کا بدلہ دیا جائے گا۔
Ayah 40:17

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، آج (کسی کے حق میں) بےانصافی نہیں ہوگی، بیشک خدا جلد حساب لینے والا ہے

آج کسی پر ظلم نہ ہوگا یعنی کسی کی نیکیوں میں سے کچھ کمی نہ کی جائے گی اور نہ ان کی برائیوں میں اضافہ کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ جب حساب لینا شروع فرمائیں تو بہت جلد حساب لینے والے ہیں یا یہ کہ جس وقت سزا دیں تو پھر سخت سزا دینے والے ہیں۔
Ayah 40:18

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور ان کو قریب آنے والے دن سے ڈراؤ جب کہ دل غم سے بھر کر گلوں تک آرہے ہوں گے (اور) ظالموں کا کوئی دوست نہیں ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات قبول کی جائے

اور محمد ان کو آزفہ کے دن سے ڈرایے جس روز تیزی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ چپٹے گا اور یہ قیامت کا دن ہے جس وقت کلیجے منہ کو آجائیں گے غم اور پریشانی سے گھٹ گھٹ جائیں گے۔ کافروں کے لیے کوئی دوست بھی نہ ہوگا جو ان کے کام آسکے اور نہ کوئی سفارشی ہوگا جس سے سفارش کا وہم بھی ہوسکے۔
Ayah 40:19

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو (باتیں) سینوں میں پوشیدہ ہیں (ان کو بھی)

وہ آنکھوں کی چوری یعنی خیانت و مکاری کے ساتھ دیکھنے کو بھی جانتا ہے اور ان باتوں کو بھی جانتا ہے جو دلوں میں پوشیدہ ہیں۔
Ayah 40:20

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور خدا سچائی کے ساتھ حکم فرماتا ہے اور جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی حکم نہیں دے سکتے، بیشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

قیامت کے دن وہ جس کے لیے چاہے گا شفاعت کرنے کی اجازت دے گا یا یہ کہ ٹھیک ٹھیک فیصلہ فرمائے گا۔ اور اللہ کے علاوہ جن بتوں کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں وہ قیامت کے دن شفاعت کے ذریعے کسی طرح کا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے کیونکہ ان کو اس پر قدرت یا یہ کہ وہ بت دنیا میں کسی بھلائی کا بھی حکم نہیں کرسکتے اس لیے کہ وہ بہرے اور گونگے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی باتوں کو سننے والا اور ان کو اور ان کے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔
Ayah 40:21

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ اس نے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا، وہ ان سے زور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے لحاظ سے کہیں بڑھ کر تھے تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا اور ان کو خدا (کے عذاب) سے کوئی بھی بچانے والا نہ تھا

کیا ان کفار مکہ نے زمین میں چل پھر کر غور نہیں کیا کہ ان سے پہلے کافروں کا کیا حشر ہوا جو قوت میں بھی ان سے بڑھ کر اور تلاش و نشانات میں بھی زائد تھے ان کے انبیاء کرام کی تکذیب کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کا مواخذہ فرمایا اور کوئی ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا نہ ہوا۔
Ayah 40:22

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلی دلیلیں لاتے تھے تو یہ کفر کرتے تھے، سو خدا نے ان کو پکڑلیا بیشک وہ صاحب قوت (اور) سخت عذاب دینے والا ہے

اور یہ دنیا میں ان پر عذاب اس وجہ سے نازل ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول اوامرو نواہی اور دلیلیں لے کر آئے تھے تو انہوں نے انبیاء کرام کی اور جو وہ لے کر آئے تھے اس کی تکذیب کی اللہ تعالیٰ نے ان پر مواخذہ فرمایا اور مواخذہ فرمانے والا قوت والا اور جس کو سزا دے تو سخت سزا دینے والا ہے۔
Ayahs 40:23–24

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ ؑ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

(یعنی) فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف، تو انہوں نے کہا یہ تو جادوگر ہے جھوٹا

(23۔ 24) اور ہم نے حضرت موسیٰ کو نو نشانیاں اور واضح دلیل دے کر فرعون اور اس کے وزیر ہامان اور ان کے چچا زاد بھائی قارون کی طرف بھیجا تو ان لوگوں نے کہا یہ تو جادوگر ہیں دو کے درمیان تفریق کرنے والے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان لگانے والے ہیں۔
Ayah 40:25

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ جو لوگ اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں

پھر جب موسیٰ ان کے پاس کتاب لے کر آئے تو ان لوگوں نے یہ مشورہ کیا کہ جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے لڑکوں کو قتل کرنا شروع کردو اور لڑکیوں کو غلام بنا لو ان کو قتل مت کرو مگر فرعون اور اس کی قوم کی تدبیر موثر نہ ہوئی۔
Ayah 40:26

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور فرعون بولا کہ مجھے چھوڑو کہ موسیٰ کو قتل کر دوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلا لے، مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو (نہ) بدل دے یا ملک میں فساد (نہ پیدا) کردے

اور فرعون کہنے لگا کہ مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ کو قتل کر ڈالوں اور اس کو چاہیے کہ اپنے رب کو بلا لے جس کے بارے میں یہ خیال کرتا ہے کہ اس نے اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے مجھے ڈر ہے کہ جس دین پر تم ہو کہیں وہ تمہارا دین نہ بدل ڈالے یا ملک میں کوئی خرابی نہ پھیلائے کہ تمہاری لڑکیوں کو خادمہ بنائے اور لڑکوں کو قتل کر ڈالے جیسا کہ تم لوگ کر رہے ہو یا یہ کہ تمہارے آباؤ اجداد کے دین کو چھوڑ دے اور تم سب کو اپنے دین میں داخل کرے۔
Ayah 40:27

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ میں ہر متکبر سے جو حساب کے (یعنی قیامت) پر ایمان نہیں لاتا اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں

حضرت موسیٰ نے فرمایا میں اپنے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں ہر اس شخص کے شر سے جو کہ ایمان لانے سے تکبر کرنے والا ہے اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔
Ayah 40:28

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اور وہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار (کی طرف) سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے ؟ اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا، اور اگر وہ سچا ہوگا تو کوئی سا عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر واقع ہو کر رہے گا، بیشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بےلحاظ جھوٹا ہو

اور حزقیل نامی ایک شخص نے کہا جو کہ فرعون کے چچازاد بھائی تھے اور تقریبا سو سال سے فرعون اور اس کی قوم اور فرعون کے خاندان سے اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھے انہوں نے کہا کیا ایک شخص کو محض اتنی سی بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے حالانکہ وہ اوامرو نواہی اور علامات نبوت بھی لے کر آیا ہے۔ بالفرض اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہی ہو تو وہ خود اپنے جھوٹ کی سزا بھگت لے گا اور اگر وہ سچا ہے اور تم اس کی تکذیب کر رہے ہو تو تمہیں ضرور دنیا میں بھی عذاب بھگتنا پڑے گا اور اللہ تعالیٰ مشرک اور جھوٹے کو اپنے دین کی طرف رہنمائی نہیں کرتا۔
Ayah 40:29

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے قوم ! آج تمہاری ہی بادشاہت ہے اور تم ہی ملک میں غالب ہو (لیکن) اگر ہم پر خدا کا عذاب آگیا تو (اسکے دور کرنے کے لئے) ہماری مدد کون کرے گا ؟ فرعون نے کہا میں تمہیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے

اے میرے بھائیو آج سرزمین مصر پر تمہاری بادشاہت ہے تو اللہ کے عذاب میں ہماری کون مدد کرے گا اگر وہ ہم پر آپڑا۔ فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی رائے دوں گا جو میں خود صحیح سمجھ رہا ہوں کہ تم میری عبادت کرو اور میں تمہیں عین حق و ہدایت کا راستہ بتاتا ہوں۔
Ayah 40:30

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

تو جو مومن تھا وہ کہنے لگا کہ اے میری قوم مجھے تمہاری نسبت خوف ہے کہ (مبادا) تم پر اور امتوں کی طرح کے دن کا عذاب آجائے

حضرت حزقیل نے کہا کہ مجھے تمہاری نسبت پہلی قوموں جیسے نزول عذاب کا اندیشہ ہے۔
Ayah 40:31

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

(یعنی) نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے پیچھے ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح (تمہارا حال نہ ہوجائے) اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا

جیسا کہ تم سے پہلے کافروں پر نازل ہوا جیسا کہ قوم نوح قوم ہود اور قوم صالح اور ان کے بعد والے کافروں پر عذاب نازل ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ تو بندوں پر کسی طرح کا ظلم کرنا اور ان کی بغیر کسی جرم کے گرفت کرنا نہیں چاہتا۔
Ayahs 40:32–33

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اور اے قوم ! مجھے تمہاری نسبت پکار کے دن (یعنی قیامت) کا خوف ہے

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جس دن تم پیٹھ پھیر کر (قیامت کے میدان سے) بھاگو گے (اس دن) تم کو کوئی (عذابِ) خدا سے بچانے والا نہ ہوگا، اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

(32۔ 33) اور اے قوم مجھے تمہاری نسبت اس دن کے عذاب کا اندیشہ ہے جس دن تم میں سے ہر ایک دوسرے کو پکارے گا اور تمہیں اصحاب اعراف آواز دیں گے اور اس دن کو یوم الفرار بھی کہا گیا ہے جس دن تم عذاب خداوندی سے بھاگو گے اور تمہیں اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا اور جس کو اللہ ہی گمراہ کردے اس کو کوئی اللہ کے علاوہ ہدایت دینے والا نہیں۔
Ayah 40:34

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اور پہلے یوسف بھی تمہارے پاس نشانیاں لے کر آئے تھے تو وہ جو لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک ہی میں رہے، یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوئے تو تم کہنے لگے کہ خدا اس کے بعد کبھی کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا، اسی طرح خدا اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو

اور حزقیل نے ان سے کہا کہ حضرت موسیٰ سے پہلے تمہارے پاس حضرت یوسف دلائل یعنی اوامرو نواہی خوابوں کی تعبیر اور شق قمیص وغیرہ لے کر آچکے ہیں سو جو یوسف تمہارے پاس لے آئے تم ان امور میں برابر شک ہی میں رہے۔ حتی کہ جب ان کی وفات ہوگئی تو تم کہنے لگے کہ بس اللہ تعالیٰ اب ان کے بعد کسی رسول کو نہیں بھیجے گا اسی طرح اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور شکست میں پڑے رہنے والوں کو اپنے دین سے گمراہ کرتا ہے۔
Ayah 40:35

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

جو لوگ بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی دلیل آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، خدا کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ جھگڑا سخت ناپسند ہے، اسی طرح خدا ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے

جو بلا کسی سند کے جو اللہ کی جانب سے ان کے پاس ہو رسول اکرم اور قرآن کریم کی تکذیب کرتے ہیں جیسا کہ ابوجہل اور اس کے بدکردار ساتھی ان کی باتیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی غصہ اور نفرت کا باعث ہیں اور مومنین کو بھی دنیا میں ان سے نفرت ہے اسی طرح اللہ ہر ایک ایمان سے تکبر کرنے والے اور حق و ہدایت کے قبول کرنے سے سرکشی کرنے والے کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔
Ayah 40:36

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا کہ ہامان میرے لئے ایک محل بنوا تاکہ میں اس پر چڑھ کر راستوں پر پہنچ جاؤں

اور فرعون نے اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ میرے لیے ایک محل بنواؤ کہ میں وہاں چڑھ کر رستے تلاش کروں ممکن ہے کہ میں آسمانوں کے دروازوں تک پہنچ جاؤں۔
Ayah 40:37

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

(یعنی) آسمانوں کے راستوں پر پھر موسیٰ کے خدا کو دیکھ لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں اور اسی طرح فرعون کو اسکے اعمالِ بد اچھے معلوم ہوتے تھے اور وہ راستے سے روک دیا گیا تھا، اور فرعون کی تدبیر تو بیکار تھی

اور میں وہاں جاکر موسیٰ کے اللہ کو دیکھوں جس کے رسول ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور یہ کہ وہ اللہ آسمان پر ہے اور میں تو موسیٰ کو اس دعوی میں کہ میرے علاوہ آسمانوں پر اور اللہ ہے جھوٹا سمجھتا ہوں اور پھر وہ محل نہیں بنا اور اسی طرح فرعون کی اور بدکاریاں بھی اس کو اچھی معلوم ہوتی تھیں اور فرعون حق و ہدایت کے راستہ سے رک گیا اور فرعون کی ہر ایک تدبیر اکارت ہی گئی۔
Ayah 40:38

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ Open ayah 40:38 in the Quran reader

اور وہ شخص جو مومن تھا اس نے کہا کہ بھائیو ! میرے پیچھے چلو، میں تمہیں بھلائی کا رستہ دکھاؤں

اور حزقیل نے کہا بھائی تم میری راہ پر چلو میں تمہیں حق و ہدایت کا رستہ بتاتا ہوں۔
Ayah 40:39

یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ Open ayah 40:39 in the Quran reader

بھائیو ! یہ دنیا کی زندگی (چند روز) فائدہ اٹھانے کی چیز ہے اور جو آخرت ہے وہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے

یہ دنیاوی زندگی گھر کے سامان کی طرح چند روزہ ہے۔ باقی رہنے والی اور ہمیشہ کے لیے قیام کی جگہ کہ جہاں سے پھر تبدیلی نہ ہوگی وہ جنت ہی ہے۔
Ayah 40:40

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 40:40 in the Quran reader

جو برے کام کرے گا اس کو بدلہ بھی ویسا ہی ملے، اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہوگا تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے، وہاں ان کو بیشمار رزق ملے گا

جو شخص حالت شرک میں گناہ کرتا ہے اس کو بدلے میں دوزخ ہی ملتی ہے اور جو نیک کام کرتا ہے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ مومن مخلص ہو ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور وہاں ان کو بغیر محنت و مشقت رزق ملے گا۔