40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 40:1–3

حٰمٓۚ Open ayah 40:1 in the Quran reader

حٰـمۗ۔ حروف مقطعات میں سے ہے۔

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا اللہ غالب و دانا کی طرف سے ہے۔

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

جو گناہ بخشنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت عذاب دینے والا اور صاحب کرم ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور اسی کی طرف سب نے لوٹنا ہے۔

توحید و قرآن کی سچائی تشریح : جب اوپر آیات میں اللہ کی صفات میں سے کچھ تھوڑی سی صفات کو ہم غور سے سمجھ جاتے ہیں تو پھر اللہ کو ایک ماننا اور اس کی بھیجی ہوئی کتاب قرآن پر یقین کرنا کوئی مشکل بات نہیں رہ جاتی۔ ہم پر توحید کی وضاحت کچھ یوں ہوتی ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات پر یوں یقین کرنا کہ کوئی دوسرا اس میں کسی صورت اس کا شریک نہیں ہوسکتا۔ 2۔ اس لیے صرف اور صرف اسی کی عبادت لازم ہے۔ 3۔ جب عبادت اسی کی ہوگی تو ہر قسم کی دعا اور پکار بھی اسی سے ہی ہوگی۔ وہی دعائیں سنتا اور پوری کرتا ہے۔ 4۔ اس پر اس قدر مضبوط بھروسہ ہونا ضروری ہے جس قدر حضرت موسیٰ نے فرعون کے مقابلے میں اللہ پر بھروسہ کیا اور کامیاب ہوئے۔ 5۔ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دل و جان، مال و اولاد اور ہر قسم کی خواہشات کو قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہنا اور کسی بڑی سے بڑی طاقت کے سامنے جھکنے سے انکار کردینا۔ یہی توحید کا مطلب ہے۔ سوائے کفار کے کون بیوقوف ہوگا جو اس سے انکار کرے گا ؟۔
Ayahs 40:4–22

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

ﷲ تعالیٰ کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں، تو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے۔

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد اور امتوں نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی اور ہر امت نے اپنے پیغمبر کے بارے میں یہی ارادہ کیا کہ اس کو پکڑ لیں اور فضول شبہات سے جھگڑتے رہیں تاکہ اس سے حق کو مٹا دیں تو میں نے ان کو پکڑ لیا سو دیکھ لو میرا عذاب کیسا ہوا ؟

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح کفار کے بارے میں بھی تمہارے رب کی بات پوری ہوچکی ہے کہ وہ دوزخی ہیں۔

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

جو لوگ عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے گرد حلقہ باندھے ہوئے ہیں یعنی فرشتے وہ اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں اور مومنوں کے لیے بخشش مانگتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کو احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تو جن لوگوں نے توبہ کی اور تیرے رستے پر چلے، ان کو بخش دے اور دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اے ہمارے رب ان کو ہمیشہ رہنے کے لیے جنتوں میں داخل کر، جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ اور جو ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے نیک ہوں ان کو بھی، بیشک تو غالب حکمت والا ہے۔

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور ان کو عذابوں سے بچائے رکھ اور جس کو تو اس دن عذابوں سے بچا لے گا تو یہ بیشک اس پر مہربانی ہوگی اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ان سے پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ جب تم دنیا میں ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے تو مانتے نہیں تھے تو اللہ اس سے کہیں زیادہ بےزار ہوتا تھا۔ جس قدر تم اپنے آپ سے بیزار ہو رہے ہو۔

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ ” اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں دو دفعہ بےجان کیا اور دو دفعہ جان بخشی، ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلنے کی کوئی راہ ہے ؟۔

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ جب صرف اللہ کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کردیتے تھے، اور اگر اس کے ساتھ شریک کیا جاتا تھا تو تم اس کو مان لیتے تھے۔ تو حکم تو اللہ ہی کا ہے جو سب سے بڑا ہے

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تم پر آسمان سے رزق اتارتا ہے اور نصیحت تو وہی پکڑتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

تو اللہ کی عبادت کو خالص کر کے اسی کو پکارو اگرچہ کافر برا ہی مانیں۔

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہ مالک درجات عالی اور عرش والا ہے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی بھیجتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ڈرائے۔

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس روز وہ نکل پڑیں گے ان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہ رہے گی۔ آج کس کی بادشاہت ہے ؟ اللہ کی جو اکیلا اور غالب ہے۔

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، آج کسی کے حق میں بےانصافی نہیں ہوگی۔ بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور ان کو قریب آنے والے دن سے ڈراؤ جب کہ دل غم سے بھر کر گلوں تک آ رہے ہوں گے اور ظالموں کا کوئی دوست نہ ہوگا اور نہ کوئیـ سفارشی جس کی بات قبول کی جائے

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو باتیں سینوں میں پوشیدہ ہیں ان کو بھی۔

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور اللہ سچائیـ کے ساتھ حکم دیتا ہے اور جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی حکم نہیں دے سکتے، بیشک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا ؟ وہ ان سے زور آور زمین میں نشانات بنانے کے لحاظ سے کہیں بڑھ کر تھے تو اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا اور ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی بھی نہ تھا

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لاتے تھے تو یہ کفر کرتے تھے سو اللہ نے ان کو پکڑ لیا بیشک وہ قوت والا اور سخت عذاب دینے والا ہے ‘

کفار کا کردار اور اللہ کی عظمت و طاقت تشریح : یہاں کفار کی ہٹ دھرمی اور ضد بیان کی کئی ہے کہ اتنا کچھ دیکھ کر بھی کفار نہ اللہ پر یقین کرتے ہیں نہ رسول پر اور نہ ہی کتاب پر، پھر بنی پاک ﷺ کو پچھلی امتوں کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ آپ حیران پریشان نہ ہوں۔ کفار ہمیشہ یہی کرتے آئے ہیں۔ نبیوں کو جھٹلانا، کفر و شرک میں ڈوب کر زندہ رہنا اور پھر اللہ کے عذاب سے نیست و نابود ہوجانا، آخرت میں جہنم کے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنا، یہ سب کچھ ان کو منظور ہے مگر حق کی راہ پر چلنا نامنظور ہے۔ حالانکہ یہ ایمان لا ناخود ان کے اپنے حق میں فائدہ مند اور نجات کا باعث ہے۔ اللہ کو تو ان کے ایمان سے کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔ کیونکہ اس کی سلطنت بڑی وسیع و عریض ہے اور فرشتے ہر وقت تسبیح و تقدیس میں مصروف رہتے ہیں۔ توحید پر ایمان لانے کی بڑی فضیلت اور بڑے فائدے ہیں جو انسانوں کے اپنے ہی کام آتے ہیں مثلا ً : 1 جب انسان اللہ کو معبود واحد مان کر پوری توجہ سے اس کی عبادت کرتا ہے اسی سے مدد مانگتا ہے تو پھر وہ دلیر ہوجاتا ہے۔ ہر قسم کے ڈر خوف، نقصان اور شیطان کے فریب سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ 2 صرف ایک رب کو ہی سجدہ کرتا ہے اور جگہ جگہ عجرو انکساری کی ذلت سے بچ جاتا ہے۔ گویا رشوت و سفارش کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ 3 ایک ہی اللہ کی عبادت کرتے رہنے سے پوری امت مسلمہ میں وحدت، مساوات، ہمدردی، خلوص اور یک جہتی جیسی صفات پیدا ہوجاتی ہیں۔ اقوام عالم میں امت مسلمہ کی یہ خاص پہچان ہے۔ 4 اسلام کی تعلیم یہی ہے کہ اس میں ہر قسم کی طبقاتی، نسلی، علاقائی اور امیر و غریب کا فرق مٹ جاتا ہے۔ ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز (اقبال ) مسلمانوں کے اس عقیدہ توحید کا اثر اب تمام مذاہب میں کچھ یوں دکھائی دینے لگا ہے کہ بت پرست بھی ان بتوں کو اللہ تک پہنچنے کا وسیلہ کہنے لگے ہیں۔ مگر یہ قابل قبول نہیں ایسے لوگوں کو جہنم کا عذاب ضرور ملے گا۔ جبکہ مومنین کے لیے دنیا میں آسانیاں اور آخرت میں جنت کی خوشخبری ہے۔ کفار جہنم کے عذاب سے نکلنے کا طریقہ ڈھونڈھیں گے مگر کوئی راہ نہ پائیں گے۔ آیت گیارہ میں دو زندگیوں اور دو موتوں کا ذکر ہے جس کو ہم یوں واضح کرسکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ مرنا اور زندہ ہونا حقیقت ہے جب کہ دوسرا یہ دنیا میں آنے سے پہلے عالم ارواح میں، ہم کیوں کہ مادی جسم نہـیں رکھتے تھے تو گویا موت میں زندہ تھے پھر جب مادی جسم میں روح پہنچی تو ہمیں پہلی موت سے پہلی زندگی ملی۔ تیسرا مرحلہ موت کا وہ ہے جس میں روح مادی جسم سے علیحدہ ہو کر موت کا درجہ بن جاتا ہے جبکہ روح عالم برزخ میں چلی جاتی ہے۔ چوتھا مرحلہ پھر وہ زندگی ہوگی جب روح دوبارہ جسم کے ساتھ مل کر زندگی مل جائے گی جو قیامت کے بعد کا معاملہ ہے اور یہ زندگی ہمیشہ کی زندگی ہوگی کیونکہ ہم زندگی مادی جسم اور روح کے ملنے کو کہتے ہیں۔ اور دونوں کے علیحدہ ہوجانے کو موت کہتے ہیں۔ یوں ہر انسان کی دو زندگیاں اور دو موتیں ہوتی ہیں۔ کفار کو جب جہنم میں ڈالا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ اے اللہ ہم تیری طاقت کو مانتے ہیں اور اپنے گناہوں کا بھی اقرار کرتے ہیں۔ ہمیں کوئی راستہ بتا دو کہ یہاں سے نجات ہو سکے۔ تو اللہ کی طرف سے صاف انکار ہوگا۔ کیونکہ اقرار کرنے اور معافی مانگنے کا اللہ پر ایمان لانے کا وقت صرف دنیا والی زندگی میں تھا۔ اب وقت گزر چکا۔ یہاں پھر اللہ کی بڑائی، رحمت، برکت، بخشش اور قدرت کا ذکر کرتے ہوئے پھر نبی اور امت کو تاکید کی جا رہی ہے کہ ماحول اور لوگ چاہے کتنا ہی مجبور کریں کفر و شرک کی راہ سے دور رہنا اور ہدایت تو وہی پکڑتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ (آیت :13) وہ مالک و خالق ہے وہ اپنے بندوں کو خوب اچھی طرح جانتا ہے۔ اس لیئے جن کو وہ اپنے بندوں میں سے چن لیتا ہے ان کو نبوت کے فرائض ادا کرنے کے لیے منتخب کرلیتا ہے۔ وحی کے ذریعہ اس کو اپنے احکامات بھیجتا رہتا ہے تاکہ لوگوں کو راہ دکھائے اور جہنم کے عذاب کی اطلاع دے۔ تاکہ وہ نیکی کی راہیں اختیار کریں۔ کیونکہ قیامت اور حساب کتاب ضرور ہوگا۔ اللہ اکیلا ہے، غالب ہے، حساب لینے والا ہے۔ یہاں وہاں ہر جگہ صرف اسی کی ہی بادشاہت ہے۔ وہ ظاہر باطن سب کچھ جانتا ہے۔ سننے والا ہے اور دیکھنے والا ہے۔ اور وہ قیامت کے دن فیصلہ کرے گا جو وہ فیصلہ کر دے گا اس میں کوئی شخص کمی بیشی کا اختیار ہرگز نہ رکھ سکے گا۔ پیغمبر کفار کو سب کچھ مسلسل بتاتے رہے مگر انہوں نے نہ سنا نہ مانا۔ تو یہ کفر کرتے تھے سو اللہ نے ان کو پکڑ لیا بیشک وہ قوت والا اور سخت عذاب دینے والا ہے۔ “ (آیت :22) ڈاکٹر برہان احمد فاروقی صاحب نے پیغمبر کی ضرورت اور ایمان کی مضبوطی پر بڑا اچھا مضمون دیا ہے لکھتے ہیں : کیونکہ دین حق کو عالمی سطح پر غالب کرنے کے لیے پہلے انفرادی سیرت کی تشکیل ضروری تھی جس کے لیے ایمان باللہ، ایمان بالآخرۃ، اعمال حسنہ اور اعمال سیہ (برے اعمال) کے مخصوص نتائج پر ایمان لانا ضروری تھا۔ اس کا اعادہ ابتدائی دور کی مکی سورتوں میں موجود ہے۔ افراد سے جماعت بنتی ہے۔ کم از کم دو فرد بھی مل کر جماعت بنا لیتے ہیں۔ جماعت کی تنظیم کے لیے تابع اور متبوع (اطاعت کرنے اور کروانے والا) کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اس لیے صرف دو افراد بھی جماعت بلکہ منظم جماعت بن سکتے ہیں تو مکی زندگی میں مسلمانوں کی تعداد خواہ کتنی ہی کم کیوں نہ ہو ان کی جماعت بھی تھی کیونکہ آنحضرت ﷺ کے ” مطاع “ (تابع پیروکار) ہونے پر وہی محدود مسلم معاشرہ ایک صحیح قسم کا معاشرہ بن چکا تھا وہ منظم تھا اور ریاست کے لیے سب سے پہلے معاشرے کا منظم ہونا ضروری شرط ہے جس دین کو غالب بنانا مقصود تھا۔ جن افراد اور معاشرہ کا غلبہ دینا مطلوب تھا ان کے تمام ضروری اجزاء بنا دیئے گئے۔ افراد اور معاشرہ کو مربوط و مضبوط بنانے والی باتوں کی نشاندہی ان سورتوں میں کردی گئی۔ سب سورتوں کا مضمون ایک ہی ہے یعنی اللہ اور ہدایت۔ باقی تمام مضامین انہی کے تحت ہیں مثلاً : (1) آخرت (2) جزا و سزا (3) نبوت (4) احکام (5) ایام اللہ (6) مظاہر قدرت (7) معجزات۔ (از قران اور مسلمان کے زندہ مسائل) تو اب ہم پر یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا انتخاب کیوں اور کیسے کیا گیـا پھر جو کتاب ان پر نازل کی گئی وہ انسانوں کے کن مفادات کو پیش نظر رکھ کر نازل کی گئی تھی چناچہ انسانوں کو عقل اور ارادہ دے کر بتا دیا گیا کہ یہ راستہ جنت کو جاتا ہے اور یہ دوزخ کو جاتا ہے، جو چاہو اختیار کرلو۔ لہٰذا قرآن پاک اور سنت نبوی کا گہرائی سے مطالعہ بےحد ضروری ہے کیونکہ قرآن کا مقصد رہنمائیـ، ہدایت اور نصیحت ہے۔ وحی، قرآن اور رسول، انسان کے لیے ہدایت دینے کے ذرائع ہیں۔ اس لیے قرآن اعمال صالحہ اور بہترین اخلاق و کردار کے اصول و ضوابط بار بار کبھی تفصیل سے کبھی مختصر دلیلوں، اور مثالوں کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ لوگوں کو شرک و کفر اور اخلاقی برائیوں سے دور کرنے کے لیے قرآن پاک ایک مکمل اور بہترین اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب ہے جس میں نہ کوئی غلطی ہے اور نہ ہی کوئی شک و شبہ کی بات۔ اس میں اللہ کی عظمت، رحم و کرم، قدرت، علم، رحمت اور غضب کچھ اس انداز میں بتائے گئے ہیں کہ پڑھنے والا اگر تھوڑی سی توجہ سے بھی کام لے تو راہ راست پر ضرور آسکتا ہے۔ اس بات کی بیشمار مثالیں تاریخ میں اور قرآن پاک میں جگہ جگہ ملتی ہیں۔ اور جو نہیں سمجھتے ان کی بھی بیشمار داستانیں ملتی ہیں۔ پھر ان کو جو سزائیں ملیں دنیا میں وہ بھی بیشمار ہمارے سامنے ہیں۔ ان سب سے قرآن کی روشنی میں سبق حاصل کرنا چاہیے۔