40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 40:23–55

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

یعنی فرعون، ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جھوٹا جادوگر ہے۔

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچنے تو کہنے لگے کہ جو لوگ اس کے ساتھ اللہ پر ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر دو اور بیٹیوں کو رہنے دو اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

) اور فرعون بولا کہ مجھے چھور و تاکہ موسیٰ کو قتل کر دوں اور وہ اپنے رب کو بلالے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ کہیں تمہارے دین کو نہ بدل دے یا ملک میں فساد نہ پیدا کر دے

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : میں ہر متکبر سے جو حساب کے دن یعنی قیامت پر ایمان نہیں لاتا اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا : کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔ اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا نقصان اسی کو ہوگا۔ اگر سچا ہوگا تو کوئی سا عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر ضرور آکر رہے گا۔ بیشک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بےلحاظ جھوٹا ہو۔

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے قوم ! آج تمہاری ہی بادشاہت ہے، اور تم ہی ملک میں غالب ہو لیکن اگر ہم پر اللہ کا عذاب آگیا تو اس کو دور کرنے کے لیئے ہماری مدد کون کرے گا ؟ فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

تو مومن کہنے لگا کہ اے قوم ! مجھے تمہاری نسبت خوف ہے کہ کہیں تم پر اگلے فرقوں کا سا وقت آپڑے (عذاب آجائے )

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

یعنی نوح کی قوم اور عاد وثمود اور جو لوگ ان کے پیچھے ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح تمہارا حال نہ ہوجائے اور اللہ تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا۔

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اور اے قوم ! مجھے تمہاری طرف سے پکار کے دن یعنی قیامت کا خوف ہے

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جس دن تم پیٹھ پھیر کر قیامت کے میدان سے بھاگو گے اس دن تم کو کوئی عذاب سے بچانے والا نہ ہوگا اور جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اور پہلے یوسف بھی تمہارے پاس نشانیاں لے کر آئے تھے۔ تو جو وہ لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک ہی میں رہے یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوگئے تو تم کہنے لگے کہ اللہ اس کے بعد کبھی کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

جو لوگ بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی دلیل آئی ہو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں۔ اللہ کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک جھگڑا سخت ناپسند ہے۔ اسی طرح اللہ ہر سرکش متکبر کے دل پر مہر لگا دیتا ہے

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

تو فرعون نے کہا کہ ہامان ! میرے لیے ایک محل بناؤ تاکہ میں اس پر چڑھ کر آسمان کے راستے پر جا پہنچوں۔

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

یعنی آسمان کے راستوں پر پھر موسیٰ کے رب کو دیکھ لوں ‘ اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں اور اسی طرح فرعون کو اس کے اعمال بد اچھے معلوم ہوتے تھے اور وہ رستے سے روک دیا گیا تھا اور فرعون کی تدبیر تو بےکار تھی

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ Open ayah 40:38 in the Quran reader

اور وہ شخص جو مومن تھا اس نے کہا کہ بھائیو ! میرے پیچھے چلو میں تمہیں بھلائی کا راستہ دکھاؤں گا

یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ Open ayah 40:39 in the Quran reader

بھائیو ! یہ دنیا کی زندگی چند روز فائدہ اٹھانے کی چیز ہے اور آخرت ہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 40:40 in the Quran reader

جو برے کام کرے گا اس کو بدلہ بھی ویسا ہی ملے گا اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور جو مومن بھی ہوگا تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے وہاں ان کو بیشمار رزق ملے گا۔

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اور اے قوم ! میرا کیا حال ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی آگ کی طرف بلاتے ہو

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم مجھے اس لیے بلاتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس چیز کو اس کا شریک مقرر کروں جس کا مجھے کچھ بھی علم نہیں۔ اور میں تم کو اللہ غالب اور بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

سچ تو یہ ہے کہ جس چیز کی طرف تم بلاتے ہو اس کا دنیا وآخرت میں کہیں بھی بلاوا نہیں (یعنی دعا قبول کرنے کی طاقت نہیں) اور ہم کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے اور حد سے نکل جانے والے دوزخی ہیں۔

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

جو بات میں تم سے کہتا ہوں تم اسے آگے چل کر یاد کروگے اور میں اپنا کام اللہ کے سپرد کرتا ہوں بیشک اللہ بندوں کو دیکھنے والا ہے ‘

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

غرض اللہ نے موسیٰ کو ان لوگوں کی تدبیروں کی برائیوں سے محفوظ رکھا اور فرعونیوں کو برے عذاب نے آگھیرا

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

یعنی جہنم کی آگ کہ صبح و شام اس کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی حکم ہوگا کہ ” فرعون والوں کو سخت عذاب میں داخل کرو

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

اور جب وہ دوزخ میں جھگڑیں گے تو ادنیٰ درجے کے لوگ بڑے آدمیوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے تو کیا تم دوزخ کے عذاب کا کچھ حصہ ہم سے دور کرسکتے ہو ؟

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

بڑے لوگ کہیں گے کہ تم بھی اور ہم بھی سب دوزخ میں ہیں اللہ بندوں میں فیصلہ کرچکا ہے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

اور جو لوگ آگ میں جل رہے ہوں گے وہ دوزخ کے داروغوں سے کہیں گے کہ اپنے رب سے دعا کرو کہ ایک دن کیلئے تو ہم سے عذاب ہلکا کر دے۔

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے “ ؟ وہ کہیں گے ’‘ کیوں نہیں “۔ تو وہ کہیں گے تم ہی دعا کرو : اور کفار کی دعا اس روز بےکار ہوگی۔

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

ہم اپنے پیغمبروں کی اور جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے یعنی قیامت کو بھی۔

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

جس دن ظالموں کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہ دے گی اور ان کیلئے لعنت اور برا گھر ہے۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو ہدایت کی کتاب دی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا۔

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

عقل والوں کیلئے ہدایت اور نصیحت ہے۔

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

تو صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور صبح و شام اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو “

موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت 23 تا 55 تک بیان کیا گیا ہے تین قسم کے لوگوں کو سبق دیا گیا ہے۔ پہلا گروہ کفار کا ہے جنہیں سمجھایا گیا ہے کہ یہی سلوک فرعون نے موسیٰ کے ساتھ کیا تو انجام اس کا تمہارے سامنے ہے۔ دوسرا گروہ حضرت محمد ﷺ اور مومنین کا ہے ان کو اس قصہ سے تسلی دینا اور ہمت بڑھانا مقصود ہے اور مثال دے کر ثابت کردیا گیا کہ غرور کا سر نیچا ہوتا ہے۔ اللہ ہی تمام بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔ وہ غالب حکمت والا ہے۔ اس کے سامنے کسی کی کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہوسکتی وہ اپنے پیارے مخلص اور نیک بندوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا۔ ہمیشہ ان کی بھرپور مدد کرتا ہے۔ اس لیے ہر مومن اور متقی انسان کو اللہ پر مکمل بھروسہ رکھتے ہوئے اسی سے ڈرنا اور اسی سے مدد مانگنا چاہیے اور بالکل بےخوف ہو کر اپنے مشن میں لگا رہنا چاہیے۔ حق و باطل کی جنگ میں ہمیشہ حق ہی جیت حاصل کرتا ہے۔ جیسا کہ فرعون اپنے مال و متاع، اپنی طاقت ‘ بادشاہت اور غرور سمیت سمندر میں غرق ہوگیا اور اسی جگہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کی اللہ نے ایسی مدد کی کہ صحیح سلامت اپنی امت کے ساتھ دریا پار کر گئے۔ تیسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو حق و باطل کی جنگ کو خاموشی سے دیکھتے رہتے ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ حق ہی سچ ہے مگر کچھ دینوی مصلحتوں اور کچھ اعتقاد کی کمزوری کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں۔ جبکہ ہر شخص میں اتنی جرات ہونی چاہیے کہ حق کو سچ اور باطل کو جھوٹ کہہ سکے۔ تو اس قصہ سے سبق دیا گیا ہے کہ جس طرح بھرے دربار میں ایک شخص نے بےدھڑک کھڑے ہو کر حصرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات کو سچ کہا اور ان کی پوری طرح حمایت کی، فرعون اور اس کے گروہ کو ان کی غلطی سے آگاہ کیا اور ان کو خوب اچھی طرح دلیلیں دے کر یہ سمجھایا کہ سچ ہی نجات کا ذریعہ ہوسکتا ہے جھوٹ اور کفر کرنے والے ہمیشہ ذلیل و خوار ہوئے اور اللہ کے غضب کے شکار ہوئے۔ اللہ نے اس بہادر مومن بندے کی بھی حفاظت کی اور کوئی اس کا بال بھی بیکا نہ کرسکا۔ کوئی اس کو نقصان پہنچانے کی جرات نہ کرسکا۔ تو ہر انسان کو اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ حق کو حق اور باطل کو باطل کہہ سکے۔ اس میں ڈرنے گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ اسی سلسلے میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ بھی یاد کروایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر زمانے میں لوگوں کی ہدایت کیلئے اللہ تعالیٰ نبی رسول بھیجتا رہا ہے مگر جو لوگ جان بوجھ کر ہدایت سے دوری اختیار کرتے رہیں تو پھر ایسے لوگوں کے ہدایت کے راستے سزا کے طور پر اللہ بند کردیتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کیلئے سورة بقرہ میں بھی کہا گیا ہے اللہ نے ان کے کانوں اور دلوں پر مہر لگا رکھی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے “۔ (سورۃ بقرہ آیت : 7) فرعون اور اس کی قوم کے متعلق جو تفصیلات بیان ہوئی ہیں ان سے برزخ کے عذاب وثواب کا ثبوت ملتا ہے یہاں دو مرحلوں کے عذاب کا تذکرہ کیا جارہا ہے ایک کم درجے کا عذاب جو قیامت کے آنے سے پہلے فرعون اور آل فرعون کو اب دیا جارہا ہے اور وہ یہ ہے کہ صبح شام انہیں دوزخ کی آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جسے دیکھ کر وہ ہر وقت ہول کھاتے رہتے ہیں کہ یہ ہے وہ دوزخ کی آگ جس میں آخر کار ہم نے جانا ہے۔ صبح و شام سے مراد دوام یعنی ہمیشگی بھی ہوسکتا ہے یعنی وہ ہر وقت آگ کے سامنے رہتے ہیں یاد رہے کہ آگ پر پیشی بھی عذاب ہے جیسے گوشت کو روسٹ کرنے کیلیے آگ پر پیش کیا جاتا ہے تو پھر دیکھ لیں آگ کیا حشر کرتی ہے۔ عذاب کا دوسرا مرحلہ جب قیامت آجائے گی تو انہیں بڑی سزا ملے گی جو ان کے مقدر میں ہے یعنی وہ اسی دوزخ کی آگ میں جھونک دیے جائیں گے جس کا نظارہ انہیں غرق ہوجانے کے وقت سے لے کر آج تک کرایا جارہا ہے اور تاقیامت کرایا جاتا رہے گا۔ ان کی برزخ کی زندگی کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو عالم برزخ میں ہی دوزخ کا عذاب دیا جا رہا ہے۔ ہوایوں کہ فرعون اور اس کے فرعونی دوست سمندر میں غرق ہوگئے اور سمندری جانوروں کی خوراک بن گئے مگر فرعون کو عبرت کا نشان بنانے کیلئے اس کی لاش کو سمندر کے کنارے پھنکوادیا۔ آج 3500 سال بعد بھی اس کی لاش قاہرہ کے میوزیم میں محفوظ پڑی ہے۔ مگر اس کی حالت سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ وہ سخت اذیت میں ہے۔ اور اللہ کا قول کہ عالم برزخ میں بھی آگ کا عذاب ان کو مل رہا ہے۔ اس طرح ثابت ہوگیا۔ ورنہ نیک اور اچھے لوگ عالم برزخ میں یعنی موت سے قیامت کے آنے تک بڑی پر سکون نیند میں ہوتے ہیں اور میدان حشر میں بھی یہ لوگ پر سکون اور بےخوف ہوں گے۔ مگر استغفر اللہ کہ فرعون کا جو حال ہو رہا ہے وہ ہر عقل سمجھ رکھنے والے کیلئے بڑی عبرت کا مقام ہے۔ اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اور آخر میں پھر تسلی اور خوشخبری دی جارہی ہے کہ اے نبی ! آپ بالکل پریشان نہ ہوں آپ نے دیکھ لیا اور سمجھ بھی لیا اور یہی پیغام ایمان والوں کیلئے ہے کہ ان کو تو اللہ تعالیٰ کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا البتہ مخالفین کی اللہ ضرور خبر لیتا ہے۔ بس آپ سب اللہ پر بھروسہ رکھیں، ہمت نہ ہاریں، ہر وقت اللہ کو یاد کریں اس سے مدد مانگیں اور استغفار کرتے رہیں اور صبر و شکر کریں اور ہر دم یاد رکھیں کہ اللہ کا وعدہ کبھی بھی جھوٹا نہیں ہوسکتا، وہ ہر وقت تمہاری مدد کرتا رہتا ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی جس وقت گناہگاروں کا برا حال ہوگا۔ اور پھر جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون پر برتری دلائی اور کتاب دی جس کا وارث بنی اسرائیل کو بنایا گیا اسی طرح آپ کو بھی تمام کفار پر برتری دلائی جائے گی اور امت محمد ﷺ کو قرآن کا وارث بنایا جائے گا۔ لہٰذا ” تم صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور صبح و شام اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو “۔ (سورۃ المومن آیت :55)
Ayahs 40:56–60

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

جو لوگ بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں ان کے دلوں میں اور کچھ نہیں سوائے کبر و غرور کے مگر وہ اس بڑائی کو پہنچنے والے نہیں تو اللہ کی پناہ مانگو بیشک وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کو پیدا کرنے کی نسبت بڑا کام ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں حقیقت یہ ہے کہ تم بہت کم غور کرتے ہو

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

قیامت تو آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں رکھتے۔

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ جو لوگ تکبر کی وجہ سے میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔

ذکر قیامت ‘ عبادت کی روح دعا تشریح : ان آیات میں فرعون کی مثال دیکر یہ سمجھایا گیا ہے کہ اس کو اور اس کے ساتھیوں کو تمام نشانیاں خوب کھول کر بیان کردی گئیں مگر وہ نہ مانے تو ان کی بڑائی اور غرور نے ان کو ذلیل و خوار کردیا۔ سب نشانیاں دیکھ کر بھی جو ایمان نہ لائے تو پھر اس کو اندھا ہی کہا جاسکتا ہے۔ یہاں قیامت ‘ دعا اور عبادت کا ذکر کیا گیا ہے اور آخرت کا بیان کیا گیا ہے۔ اور پھر اللہ کی قدرتوں کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ انسان کو پیدا کرنا کائنات کو پیدا کرنے سے آسان ہے۔ اب اس کو ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ انسانی جسم اور روح آج تک انسان کیلئے کافی پیچیدہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔ جسمانی نظم و نسق کو سمجھنے کیلئے ڈاکٹر صاحبان سات سال کی انتھک محنت کے بعد بھی مکمل نہیں ہوتے پھر ہر جسمانی عضو کا علیحدہ علیحدہ علم حاصل کرنا پڑتا ہے۔ آنکھ، ناک، کان، دل، دماغ، ہڈیاں، گردے وغیرہ غرض انسانی جسم کی ساخت کو سمجھنے کیلئے کس قدر محنت توجہ وقت اور پیسہ درکار ہوتا ہے تب جا کر ڈاکٹر کو کچھ سوجھ بوجھ حاصل ہوتی ہے۔ پھر بھی میڈیکل سائنسز میں اپ ٹو ڈیٹ رہنے کیلئے مسلسل مطالعہ جاری رکھنا پڑتا ہے۔ کیونکہ ریسرچ کا عمل جاری رہتا ہے اور آئے دن نئی سے نئی معلومات حاصل ہوتی رہتی ہے۔ کائنات میں بھی انسان سر کھپاتا رہتا ہے۔ پھر اپنی ہی اختراعات کو بدلتا بھی رہتا ہے۔ مگر قرآن پاک میں انسان کے بارے میں کائنات کے بارے میں جو کچھ بتا دیا گیا ہے وہ ہرگز نہیں بدلا تو یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ سائنس قرآن کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے قران سائنسی مطابقت نہیں رکھتا اور اسی لیے موجودہ دور کے کئی سائنس دان اسلام کی طرف رجوع کرنے لگے ہیں۔ جیسا کہ مسٹر آرتھر اپنی کتاب "I believe" میں لکھتے ہیں : انسانی دماغ تخلیق کائنات جیسے عظیم سوالات کو حل کرنے کے لیئے ایک حقیر سا آلہ ہے ہمیں اس کی مجبوریوں کا اعتراف کرلینا چاہیے ‘ مگر پھر بھی یہ ہمہ وقت (ہر وقت) ادراک کرواتا رہتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز کس قدر منظم اور مربوط اور فطرت کی نت نئی ایجادات کیسی حیران کن ہیں ہر سمت میں ایک مفید مقصد کارفرما ہے خواہ یہ عامی ہوں یا سائنس دان ہمیں کائنات کیلئے ایک حاکم اعلیٰ کو ماننا پڑے گا ‘ جو نام چاہے اس کو دیدو اور جو شکل چاہے اس کی تجویز کردو مگر اس کو مانے بغیر مفر نہیں “۔ (از مطالعہ قرآن مصنف میجر جنرل غلام محمد ملک) اسی طرح قیامت سے انکار کرنے والوں کیلئے ہیرو شیما اور ناگاسا کی کی تباہی بہت بڑا ثبوت ہے۔ قیامت کی تصدیق کیلئے ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم کی تباہی کافی بڑی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ صور پھونکنے کے بعد پہاڑوں کو روئی کے گالوں کی طرح تم اڑتے ہوئے دیکھوگے کیا ان دھماکہ خیز مادوں نے پہاڑوں کو ریزہ ریزہ نہیں کردیا تھا ؟ کیا اب بھی کسی شک و شبہ کی گنجائش ہے ؟ ہرگز نہیں۔ پھر فرمایا کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا “۔ اور پھر لوگوں کو خبر دار کرنے کیلئے فرمایا : کہ جو لوگ تکبر کی وجہ سے میری عبادات سے منہ موڑتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے “۔ (سورۃ المومن آیت : 60) اس قدر وضاحت سے سب کچھ بتایا جا رہا ہے کہ اگر انسان تھوڑا سا غوروفکر کرے تو ایمان و کفر کا فرق اس کو صاف دکھائی دینے لگے۔ اسی لیے قرآن پاک میں غوروفکر کرنے کیلئے بڑی تاکید کی گئی ہے اللہ ہر بندے کو اس کی توفیق دے۔ (آمین) ہر بندے کو یاد رکھنا چاہیے کہ دعا عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ کیونکہ جب ہم اللہ کو واحد ‘ عظیم ‘ حکیم اور خالق مانتے ہیں تب ہی تو اس سے دعا کرتے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ دعا عبادت کا مغز ہے۔ (مشکوٰۃ شریف) اللہ دعا کرنے والے مانگنے والے پر اپنی رحمتیں برساتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔ اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکارو ‘ جو تجھے نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے نہ نقصان۔ ( سورة یونس آیت :106)