40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 40:61–68

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا کہ اس میں کام کرو بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

یہی اللہ تمہارا رب ہے جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں بھٹک رہے ہو۔

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

اسی طرح وہ لوگ بھٹک رہے تھے جو اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے تھے۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے ٹھہرنے کی جگہ بنایا اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی اچھی بنائیں۔ تمہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں وہی اللہ (جس کے یہ کام ہیں) تمہارا رب ہے بےحساب برکتوں والا وہ کائنات کا رب ہے

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

وہ زندہ ہے جسے موت نہیں اس کے سوا کوئی عبا دت کے لائق نہیں تو اسی کی عبادت کو خالص کرکے اسی کو پکارو ہر طرح کی تعریف اسی کے لیے ہے جو تمام جہان کا رب ہے۔

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

اے محمد ! ﷺ ان سے کہہ دو کہ مجھے اس بات سے منع کردیا گیا ہے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ان کی پوجا کروں اور میں ان کی کیوں پرستش کروں جب کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے کھلی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ رب العٰلمین ہی کا فرمانبردا ررہوں۔

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے پہلے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ‘ پھر نطفہ بناکر، پھر لوتھڑابنا کر، پھر تم کو نکالتا ہے کہ تم بچے ہوتے ہو پھر تم اپنی جوانی کو پہنچتے ہو، پھر بوڑھے ہوجاتے ہو اور کوئی تم میں سے بوڑھا ہونے سے پہلے ہی مرجاتا ہے اور تم موت کے مقررہ وقت تک پہنچ جاتے ہو اور تاکہ تم سمجھو۔

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

وہی تو ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے پھر جب وہ کوئی کام کرنا اور کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو اس سے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔

اللہ کی وحدانیت کے دلائل تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ کی تخلیقات میں سے چند کا ذکر کیا گیا ہے۔ جن کی وضاحت پچھلے اسباق میں بڑی اچھی طرح ہوچکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے۔ خالق ومالک ہے۔ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے۔ رازق ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ بابرکت ہے۔ تمام جہانوں کا رب ہے۔ سب تعریف اسی کیلئے ہے۔ اللہ تعالیٰ پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اے محمد ! ﷺ ان سے کہہ دو کہ مجھے اس بات سے منع کردیا گیا ہے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ان کی پوجا کروں، میں ان کی کیوں پرستش کروں جب کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے کھلی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ رب العٰلمین ہی کا فرمانبردار رہوں۔ (سورۃ المومن آیت 66:) یہ حکم تمام مومنین کے لیے ہے اور یہی مقصد ہے زندگی کا کہ انسان کا مرنا جینا ‘ اٹھنا بیٹھنا ‘ چلنا پھرنا غرض سب کچھ صرف اللہ ہی کیلئے ہو تو پھر اس طرح انسان کا ہر سانس ہر قدم اور ہر کام عبادت میں شمار ہوجاتا ہے۔ کیوں نہ ہو۔ ایسے ہی زندگی گزارنے کا مزہ بھی ہے اور ثواب بھی۔ جو لوگ اس کے برعکس کفر و شرک میں زندگی گزارتے ہیں ان کا انجام بڑا عبرت ناک ہوگا۔
Ayahs 40:69–85

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

’ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں ؟ یہ کہاں بھٹک رہے ہیں ؟

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

جن لوگوں نے کتاب اللہ کو اور جو کچھ ہم نے اپنے پیغمبروں کو دے کر بھیجا اس کو جھٹلایا وہ عنقریب معلوم کرلیں گے “

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جب کہ ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی اور گھسیٹے جائیں گے۔

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

یعنی کھولتے ہوئے پانی میں پھر آگ میں جھونک دئیے جائیں گے۔

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا کہ وہ کہاں ہیں جن کو تم اللہ کے شریک بناتے تھے۔

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

یعنی غیر اللہ کہیں گے وہ تو ہم سے جاتے رہے بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کو پکارتے ہی نہیں تھے۔ اسی طرح اللہ کفار کو گمراہ کرتا ہے۔

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

یہ اس کا بدلہ ہے کہ تم زمین میں حق کے بغیر اس کے خلاف خوش ہوا کرتے تھے ‘ اور اس کی سزا ہے کہ اترایا کرتے تھے

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اسی میں رہوگے متکبروں کا کیا برا ٹھکانا ہے۔

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

تو اے پیغمبر ! صبر کرو اللہ کا وعدہ سچا ہے اگر ہم تم کو کچھ اس میں سے دکھا دیں جس کا ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں یعنی کفار پر عذاب نازل کریں یا تمہاری زندگی کا وقت پورا کردیں تو ان کو ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بہت سے پیغمبر بھیجے ان میں کچھ تو ایسے ہیں جن کے حالات تم سے بیان کر دئیے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات بیان نہیں کیے اور کسی پیغمبر کے بس میں نہ تھا کہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی نشانی لائے پھر جب اللہ کا حکم آپہنچا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا اور جھوٹے لوگ نقصان میں پڑگئے۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے چارپائے (جانور) بنائے تاکہ ان میں سے بعض پر سوار ہو اور بعض کو تم کھاتے ہو

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

تمہارے لیے ان میں فائدے ہیں اور اس لیے بھی کہ اگر کہیں جانے کی تمہارے دلوں میں حاجت ہو تو ان پر سوار ہو کر وہاں پہنچ جاؤ۔ ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو۔

وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ١ۖۗ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ Open ayah 40:81 in the Quran reader

اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تو تم اللہ کی کن کن نشانیوں کو نہ مانوگے۔

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 40:82 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا حالانکہ وہ ان سے کئی گنا زیادہ طاقت ور اور زمین میں نشانات (عمارتیں) بنانے کے اعتبار سے بہت بڑھ کر تھے۔ تو جو کچھ وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ کام نہ آیا۔

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 40:83 in the Quran reader

اور جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو جو علم ان کے خیال میں ان کے پاس تھا اس پر اترانے لگے اور جس چیز کا مذاق اڑایا کرتے تھے اس نے ان کو آگھیرا (عذاب) ۔

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ Open ayah 40:84 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جس چیز کو اس کے ساتھ شریک بناتے تھے اس سے انکار کرتے ہیں۔

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 40:85 in the Quran reader

لیکن جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے اس وقت ان کے ایمان نے ان کو کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ یہ اللہ کی عادت ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آتی ہے۔ اور وہاں کافر گھاٹے میں پڑ کر رہ گئے “

جھٹلانے والوں کا انجام تشریح : یہ ان بدنصیب لوگوں کی داستان ہے جن کو پیغمبروں نے ہدایت کی طرف بلایا توحید کی دعوت دی ‘ توحید کی خوبیاں بتائیں ‘ اللہ سے ڈرایا ‘ برے کاموں سے منع کیا اور بار بار دلیلوں کے ساتھ سمجھایا کہ برے کام نہ صرف دنیا میں ہی نقصان دیتے ہیں بلکہ آخرت کو بھی خراب کردیتے ہیں۔ جہنم کے عذاب کا نقشہ بیان کیا جس کو اگر انسان غور ‘ یقین اور توجہ سے دیکھے تو چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ مـگر کفار پہلے بھی اب بھی اور آئندہ بھی شیطان کی گرفت میں اتنی بری طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ روشنی اور ہدایت کی بات ان پر اثر ہی نہیں کرتی بلکہ الٹا پیغمبروں کو ہی جھٹلاتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں اور نیکی سے دور بھاگتے ہیں۔ جب عذاب سچ مچ سامنے آکھڑا ہوتا ہے تو ایمان لانے کی بات کرتے ہیں مگر اللہ نے توبہ کا ایک وقت، ایک حدمقرر کر رکھی ہے۔ عین موت کے وقت توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اللہ ایک ہے اس نے ہدایت کا بڑا اچھا بندوبست کر رکھا ہے۔ جو نہ مانے اس کی مرضی، جو بوؤ گے وہ کاٹوگے، کر بھلا سو ہو بھلا۔ یہاں بھی اور وہاں بھی۔ اللہ نے فرمایا ہے مروگے ضرور اور واپس میرے پاس ضرورآؤ گے اعمال کا حساب ضرور ہوگا اور سزا و جزا ضرورملے گی۔ ان سب باتوں میں ایک تنکا کے برابر بھی غلط نہیں۔ یہ سب کچھ سچ ہے، ضروری ہے، ہو کر رہے گا۔ کوئی شخص اس سے ہرگز بچ نہ سکے گا۔ اس لیے ہر شخص چاہے وکیل ہو، وزیر ہو، لیڈر ہو، استاد ہو، طالبعلم ہو، ڈاکٹر ہو، کسان ہو، سائنسدان ہو، معمار ہو، مزدور ہو، غرض زندگی کے کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھتا ہو اپنی کتاب قرآن پاک اپنے رسول ﷺ اور اپنے اللہ کی طرف رجوع کرے اپنے ایمان کی روشنی سے خود کو، گھر کو، محلے کو، شہر کو، ملک کو، اور پوری دنیا کو منور کر دے۔ ایمان کی روشنی میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ تن تنہا توحید کی مشعل لے کر کھڑے ہوئے تو نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ انشاء اللہ اس مشعل کو کوئی گُل نہیں کرسکتا یہ مشعل اللہ کے حکم سے قیامت تک روشن رہے گی اورا نسانیت کو راہ دکھاتی رہے گی۔ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔ آخر میں ایک چھوٹا سا واقعہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کا جو مدینہ کے ممتاز علمائے یہود میں سے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے مدینہ جاتے ہی آپ پر ایمان لے آئے۔ ایک دفعہ اپنی کمر پر لکڑیوں کا گٹھا رکھے ہوئے بازار سے گزرے۔ لوگوں نے کہا آپ کو اللہ نے سب کچھ دیا ہے آپ کو اتنی تکلیف اٹھانے کی کیا ضرورت تھی آپ مزدوری پر بھی اس کو اٹھواسکتے تھے۔ فرمایا میں اس طرح اپنے اندر تکبر کو توڑتا ہوں کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا “۔ (ازترغیب و ترہیب) ظاہر ہے ایسے ہی متقی اور پرہیزگار لوگ اللہ کے مقبول ہیں اور یہی جنت کے وارث ہوں گے ان شاء اللہ۔ جب کہ فرعون جیسے متکبر مشرک دنیا و آخرت میں اللہ کے غضب میں جکڑے گئے ہیں۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب تیار کیا گیا ہے۔ استغفر اللہ۔ دراصل کامیابی اور ناکامی کا اصلی معیار موجودہ زندگی کی خوشحالی و بدحالی نہیں ہے بلکہ کامیاب انسان وہ ہے جو اللہ کے آخری فیصلے میں کامیاب ٹھہرے۔ اور ناکام وہ ہے جو وہاں ناکام ہو۔ کیونکہ امیری غریبی ‘ صحت بیماری یہ سب امتحان کے پرچے ہیں جو ان میں پورا اترا وہی پاس ہوگا۔ خلاصہ سورت المومن انسان ‘ رسول ‘ آسمانی کتابیں ‘ مومنین اور مشرکین۔ یہ تو شروع دن سے ہی سلسلہ چل رہا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد جب گمراہی بڑھنے لگی تو حضرت نوح (علیہ السلام) کو بھیجا گیا۔ آپ نے لوگوں سے کہا اے برادران قوم ! اللہ کی بندگی کرو اسکے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں (الاعراف آیت 59) تو لوگوں نے جواب دیا : ہم کو تو یہ نظر آتا ہے کہ تم صریح گمراہی میں مبتلا ہو۔ (سورۃ الاعراف آیت 60) یہی سلسلہ آج تک چلا آرہا ہے۔ پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ تو حضرت محمد ﷺ کیساتھ ختم ہوگیا۔ مگر انکی تعلیمات اور کتاب قیامت تک جاری وساری رہیں گیـ۔ آج بھی ملحد اور مشرک لوگوں کا رویہ وہی ہے جو مدتوں پہلے تھا یعنی شرک و ایمان، نیکی و بدی کی جنگ حضرت آدم (علیہ السلام) سے شروع ہوئی اور قیامت تک جاری رہے گی خوش بخت ایمان سے مستفید ہو کر کامیاب و کامران ہو کر جنت کے وارث ہوں گے جب کہ بدنصیب کفر و شرک میں بھٹک کر نقصان اٹھائیں گے اور جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ شرک سب سے بڑا ظلم ہے جو انسان اپنے اوپر خود کرتا ہے۔ لوگوں کی بےعقلی ہے کہ کوئی رسولوں کو پوجنے لگا کوئی نیک لوگوں کے بت بنا کر انکو پوجنے لگا کوئی دنیا کی چیزوں کو پوجنے لگا اور کوئی مختلف جانوروں کو پوجنے لگا۔ جبکہ قرآن پاک میں بار بار آیا ہے اللہ ہی کو پکارویہ کبھی بھی کہیں بھی نہیں آیا کہ نبی ولی یا رسول کو پکارو حضور ﷺ نے فرمایا : سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تو اللہ کے سوا کسی اور کو پکارے، حالانکہ پیدا تمہیں اللہ ہی نے کیا ہے۔ (مشکوۃ) یعنی اللہ تعالیٰ کے مدمقابل کسی اور کو قرار دے اللہ ہی کو پکارو اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کر کے۔ ( سورة مومن 14:)