41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 41:1–5

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

یہ کتاب اللہ رحمن و رحیم کی طرف سے اتری ہے

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

ایسی کتاب جس کی آیات معنی کے لحاظ سے بڑی واضح ہیں، یہ قرآن عربی (زبان) میں ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو علم رکھتے ہیں۔

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

یہ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر نے منہ پھیرلیا اور وہ سنتے ہی نہیں۔

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس سے ہمارے دل پردہ میں ہیں اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے ( بہرے ہیں) ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ ہے۔ تو تم اپنا کام کرو ہم اپنا کام کرتے ہیں “

اللہ کی رحمتیں قرآن کی صورت میں تشریحـ: ان آیات میں خدائے واحد کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ رحم کرنے والا بےحد مہربان ہے۔ اس نے انسانوں پر مہربانی کی کہ ایک کتاب جو ہر طرح سے مکمل اور بہترین کتاب ہے انسانوں کی بہتری، آسانی اور کامیابی کے لیے بہترین راہنما اصول بنا کر انسانوں کو وقت پر خبردار کردیا ہے کہ جو اس کے بتائے ہوئے راستوں کو اختیار کرے گا۔ دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہوگا اور جو اس سے دور رہے گا وہ دنیا و آخرت میں سزا پائے گا ناکام ہوگا۔ عرب لوگوں کی سہولت کے لیے قران پاک ان کی مادری زبان عربی میں نازل کیا گیا اور بےحد آسان زبان، آسان مضمون اور آسان الفاظ میں نازل کیا گیا ہے۔ لیکن ہر دور میں نالائق ہٹ دھرم اور بیوقوف لوگ موجود ہوتے رہے، ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے جو قرآن کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے بلکہ صاف کہتے ہیں کہ ہم سننے سمجھنے کے لیے نہ تیار ہیں اور نہ ہی ہمارے دل و دماغ اس کو ماننے کے لیے تیار ہیں۔ لہٰذا ہمارے اور تمہارے درمیان ایک پردہ ہے سو تم اپنا کام کرو اور ہم اپنا کام کرتے ہیں۔ (آیت 5:) ایسے ہی لوگ بد نصیب ہوتے ہیں جو اللہ کی رحمتوں سے ہمیشہ محروم رہتے ہیں اور دنیاوی چکا چوند میں پھنسے رہتے ہیں۔ اور اسی کو نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ علم و حکمت پیغمبروں کی میراث ہے، اور مال و زر فرعون و قارون کی۔ (سیدنا ابوبکر صدیق ؓ
Ayahs 41:6–18

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

’ کہہ دو کہ میں بھی آدمی ہوں جیسے کہ تم۔ ہاں مجھ پر وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود اللہ واحد ہے تو سیدھے اسی کی طرف متوجہ رہو اور اسی سے مغفرت مانگو اور مشرکوں پر افسوس ہے۔

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے بھی قائل نہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے ایسا ثواب ہے جو ختم ہی نہ ہو۔

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

کہو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا۔ اور بتوں کو اس کے جیسا بناتے ہو، وہی تو سارے جہانوں کا مالک ہے

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اور اسی نے زمین کے اوپر پہاڑ بنائے اور زمین میں برکت رکھی اور عیش و آرام کے تمام سامان پیدا کئے۔ اور یہ سب کچھ صرف چار دن میں اور تمام مخلوقات کے لیے برابر ہے۔

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ خواہ خوشی سے یا ناخوشی سے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں۔

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس کے کام کا حکم بھیجا اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں یعنی ستاروں سے سجایا اور شیطانوں سے محفوظ رکھا۔ یہ زبردست اور خبردار کے مقرر کئے ہوئے اندازے ہیں۔

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو کہہ دو کہ ” میں تم کو ایسی چنگھاڑ کے عذاب سے آگاہ کرتا ہوں جیسے عاد اور ثمود پر چنگھاڑکا عذاب آیا تھا۔

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو تو کہنے ل کے کہ اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے اتار دیتا، سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے۔

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے ؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے۔

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

تو ہم نے بھی ان پر نحوست کے دنوں میں زور کی ہوا چلائی تاکہ ان کو دنیا کی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھائیں اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے اور اس روز ان کو مدد بھی نہ ملے گی۔

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

اور ثمود کو ہم نے سیدھا راستہ دکھا دیا تھا مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا رہنا پسند کیا تو ان کے اعمال کی سزا میں کڑک نے ان کو آپکڑا اور وہ ذلت کا عذاب تھا۔

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے رہے ان کو ہم نے بچا لیا ‘

دنیا کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ آخرت پر دھیان دینا ضروری ہے۔ اللہ کا حکم نبی ﷺ کی زبانی تشریح : ان آیات کو پڑھنے سے مسلمان کے خصوصی اعتقادات کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ رسول کو عام انسانوں پر فوقیت کیوں دی گئی۔ اس لیے کہ وہ انسانیت کی بہترین مثال ہوتا ہے۔ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دے۔ سب سے پہلے وہ اللہ کی وحدانیت کا حکم سناتا ہے وہ واحد اس لیے ہے کہ اس جیسا خالق، مہربان، منتظم، انصاف کرنے والا اور باخبر اور کوئی نہیں جن، بشر یا فرشتے کوئی بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اس کی بنائی ہوئی تمام مخلوقات بہترین، مکمل اور نقص سے پاک ہیں۔ مثال کے طور پر زمین کو ہی دیکھ لیں۔ یہاں اللہ غور و فکر کرنے والوں کے لیے کچھ ہلکے پھلکے سائنسی نکات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں مثلاً زمین کی پیدائش اللہ کے معیار کے مطابق دو دن میں ہوئی یہ دو دن ہمارے 48 گھنٹوں کے دنوں کے برابر نہیں بلکہ بقول قرآن اللہ کا ایک دن ہمارے کئی ہزار سالوں کے برابر ہے اس کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے۔ مثلاً : سورة السجدہ آیت 05، سورة اکحج آیت 47، سورة المعارج آیات ایک تا 07 اللہ کے دن کی وضاحت کرتی ہیں مطلب تو صرف یہ ہے کہ زمین کا پیدا کرنا اس کو ایک خاص شکل دینا اور اس کا گردش کرنا اور زمین میں بےبہا خصوصیات کا موجود ہونا، یہ سب صرف اللہ کی ہی حکمت اور قدرت ہے کوئی شخص ایک ریت کا زرہ بھی اپنی قدرت سے پیدا نہیں کرسکتا۔ یہ سب کچھ جان کر بھی اکثر بےعقل انسان اللہ کو ایک ماننے سے انکار کرتے ہیں بلکہ اس کے سوا کئی دوسرے معبود بنا کر ان کی عبادت کرتے ہیں۔ ان سے مصبیت میں مدد مانگتے ہیں جب کہ یہ کام ہرگز نامناسب، کفر اور شرک ہے۔ کوئی ایسے لوگوں سے پوچھے کہ خود ان کو اللہ نے پیدا کیا پھر ان کی پرورش کیلئے یہ کائنات اور بیشمار نعمتیں اور برکتیں پیدا کردیں۔ ہر شخص چاہے وہ کافر ہو، مسلمان ہو، عیسائی ہو یا مشرک، اللہ اپنی یہ تمام نعمتیں اور برکتیں ہر ایک کو برابر دیتا رہتا ہے۔ یہ نہیں کرتا کہ یہ مجھے چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرتا ہے تو چلو اس کو زندگی نہ دو ، اولاد نہ دو ، کھانے پینے کو نہ دو ، ہوا، روشنی اور پانی نہ دو ۔ ایسا ہرگز نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی یہ وسیع و عریض زمین اور اس میں پیدا ہونے والی ہر نعمت ہر انسان کو برابر ملتی رہتی ہے۔ مگر انسان ہی بےوقوف، ناقدر شناس اور ناشکرا ہے کہ الٹی سیدھی حرکتیں کرتا رہتا ہے اور رسول کے بتائے ہوئے راستوں سے اعراض کرتا ہے۔ پھر اللہ کی قدرتوں کا ذکر کرتے ہوئے آسمانوں اور جہانوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ رب العٰلمین یعنی وہ جہانوں کا رب ہے۔ موجودہ سائنس دان بھی اس نتیجہ پر اب پہنچا ہے کہ اس کائنات میں اس دنیا کے علاوہ بیشمار دنیائیں موجود ہیں۔ اس زمین کی حیثیت پوری کائنات میں ایک باریک ذرے کے برابر ہے کیونکہ ہمارا تعلق اس زمین سے بہت قریب ہے اس لیے صرف اسی کا ہی یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح آسمان بھی سات بنائے گئے ہیں جن میں ہمارا قریب ترین آسمان وہ ہے جس کو اللہ نے فرمایا کہ ستاروں سے سجایا گیا ہے۔ اس کے بارے میں سائنسی حقائق کی روشنی میں تفصیلات پچھلے اسباق میں گزر چکی ہیں۔ ایک بہت بڑی حقیقت کہ زمین کی تخلیق پہلے ہوئی اور آسمان کی بعد میں ہوئی جبکہ دوسری بڑی حقیقت کہ آسمان دھوئیں اور مختلف گیسوں کا مجموعہ ہے۔ تیسری بڑی حقیقت یہ بیان کی گئی کہ آسمان صرف یہ ہی نہیں جو ہمیں ستاروں سے بھرا ہوا چھت کی صورت میں نظر آتا ہے۔ چوتھی حقیقت یہ ہے کہ ہر آسمان کا علیحدہ علیحدہ کام ہے۔ جیسا کہ ہمارے آسمان دنیا میں حفاظت کے لیے کئی مختلف مفید قسم کی گیسوں کی بیشمار مضبوط تہیں بنائی گئی ہیں جو انپا اپنا کام کرتے ہوئے ہمیں شہاب ثاقب کی بارش سے محفوظ کرتی ہیں اور اسی طرح بیشمار فضائی آفات سے بچا کر ہمیں مناسب ترین فوائد مہیا کرتی ہیں : مثلاً اوزون کی تہہ ہمیں سورج کی جلا دینے والی تپش سے بچا کر انتہائی مناسب روشنی اور گرمی مہیا کرتی ہے جو انسان کی بقا کے لیے بےحد ضروری ہے۔ آج سائنسدان ان گیسوں کو مختلف نام دیتے ہیں۔ مثلاً وہ یوں کہتے ہیں کہ یہ دھواں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسیجن اور آبی بخارات کا آمیزہ ہے۔ جب کہ زمین کا سب سے پہلا ہوائی کرہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور آبی بخارات پر مشتمل ہے اور یہ دونوں گیسیں دھوئیں کے اہم اجزاء ہیں۔ اس گیسی حالت سے ستاروں کے وجود میں آنے کا عمل اب بھی جاری ہے اور جاری رہے گا، اس گیسی عمل کو سائنسدان Nelulae یعنی ستاروں کے وجود میں آنے کا عمل کہتے ہیں۔ یہ تمام نظام کائنات بےحد پیچیدہ مگر انتہائی مناسب موزوں اور مستحکم ہے۔ اس میں ذرہ برابر فرق نہیں آسکتا۔ اللہ کے حکم کے مطابق اور اس کے منظم منصوبے کے مطابق زمین و آسمان کو مل کر ایک کام پر لگنا تھا جس پر ان کو لگا دیا گیا اور اب قیامت تک وہ اس کام سے ہرگز کو تاہی، لاپرواہی یا سستی نہیں کرسکتے یہ اللہ کا ان کو حکم ہے جس کی نافرمانی وہ ہرگز نہیں کرسکتے۔ اس سے اللہ کی حاکمیت اور قدرت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر دلدار احمد قادری صاحب اس آسمان و زمین کے رابطہ کو کچھ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں اللہ کا تخلیقی منصوبہ یہ تھا کہ آسمان و زمین باہم مربوط رہیں۔ جیسا کہ فی الحقیقت یہ ہیں۔ زمین شمسی نظام کا حصہ ہے۔ جو خلاء میں سفر کر رہا ہے۔ اور ایسے کرنے کے دوران وہ کئی coments کے راستوں سے گزرتا ہے۔ اور یہ کہ وہ تمام مادہ جو اللہ نے پیدا کیا ہے ان قوانین کی پیروی کرتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کئے ہیں۔ (از کائنات قرآن اور سائنس) مندرجہ بالا آیات کافی مشکل آیات ہیں۔ میں نے ان کی وضاحت بڑے ہی عام الفاظ میں کی ہے۔ کیونکہ ان کی وضاحت یا پوری طرح تمام رازوں سے واقف ہونا ابھی تک بڑے بڑے سائنسدانوں کی عقل سے بھی پوشیدہ ہیں۔ جب کہ کائنات کے بارے میں مختلف ماہرین مثلاً کا سمولوجی، ایسٹرو فزکس یا ایسٹرونومی کے ماہرین دن رات تحقیقات اور تجربات میں مصروف ہیں۔ کچھ معلومات بڑے دلچسپ انداز میں داکٹر دلدار احمد قادری صاحب نے لکھی ہیں ملاحظہ ہو : Horizons by Michael A. Seeds - Page 386" زمین ابتدا میں Protoplanet (زمین کی ابتدائی شکل) کے طور پر ظہور میں آئی۔ یہ مندرجہ ذیل چار مدراج سے گزر کر موجودہ شکل تک پہنچی : پہلا مرحلہ ” تفریق “ ( Differentiation ) یہ مرحلہ زمین کے ابتدائی طور پر وجود میں آنے کے دوران یا فوراً بعد میں شروع ہوا۔ یہاں تفریق سے مراد زمین کے مادوں کا کثافت کے فرق کی بنیاد پر علیحدہ علیحدہ ہونا ہے۔ اس مرحلے کے دوران زمین کے بھاری عناصر لوہا اور نکل زمین کے مرکز میں جمع ہوئے اور ہلکے مادے سلیکیٹس (Silicates) باہر کی طرف تیرتے ہوئے اٹھے اور سطح پر آگئے انہوں نے بالآخر ٹھوس حالت اختیار کر کے ایک پتلی تہہ کی شکل اختیار کی اس تہہ کو قشر (Crust) (زمین کا چھلکا) کہتے ہیں۔ چناچہ تفریق کے مرحلے میں زمین بلند کثافت کے مرکز اور ادنیٰ کثافت کے قشر کی شکل میں متمیز ہوئی۔ گڑھوں کی تشکیل (cratering) یہ مرحلہ قشر ارض کے ٹھوس حالت اختیار کرنے پر شروع ہوا۔ شمسی بادل (nebula Solar) میں موجود شہابوں کی بو چھاڑ سے قشر میں گڑھے بننے لگے۔ یہ عمل شمسی بادل کے چھٹنے تک جاری رہا۔ اس عمل میں زمین کے قشر میں اونچ نیچ پیدا ہوئی یعنی نشیب و فراز ظاہر ہوئے۔ سیلاب اندازی (Flooding) یہ اس مرحلے میں زمین کے قشر میں بننے والے نشیب (گڑھے) لاوا یا پانی یا دونوں سے بھر گئے۔ جب تابکار عناصر (Radioactive elements) کے زوال (Decay) کے عمل نے زمین کے اندرونی حصہ کو گرم کیا تو اندر کالا وا زمین کے قشر میں موجود زروں کے ذریعے عود کر باہر نکلنے اور گہرے نشیبوں میں جمع ہونے لگا۔ بعد میں جیسے جیسے کرہ ہوائی ٹھنڈا ہوا تو آبی بخارات کی تکثیف (Condensation) ہوئی اور وہ بارش کی شکل میں برسنے لگے پھر یہ پانی زمین کے قشر کے نشیبوں (گڑھوں) میں جمع ہوا اور اس نے ابتدائی سمندروں کی تشکیل کی۔ سطح کا سست رو ارتقاء (Slow Surface Evolution) زمین کی سطح آہستہ آہستہ تبدیلی کے عمل سے گزرتی ہوئی کوئی 3.5 ارب سالوں میں موجودہ شکل تک پہنچی۔ کئی عوامل (Factors) ہیں جنہوں نے زمین کی سطح کو موجودہ شکل تک لانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ قشر زمین بڑے بڑے قطعوں (Sections) پر مشتمل ہے جو حرکت میں ہیں اور آپس میں باہمی عمل (Interaction) کرتے رہتے ہیں۔ قشر زمین کی قدیم تر تاریخ تو معلوم نہیں لیکن تقریبا 250 ملین سال (25 کروڑ سال) قبل آج کے تمام برِاعظم (contenents) آپس میں جڑے ہوئے اور ایک ہی قطع کی شکل میں تھے جسے پنگائیا (Pangaea) کہتے ہیں۔ 25 کروڑ سال قبل زمین کے قشر کے نیچے کے حصے (Mantle) میں چلنے والی لہروں نے Pangaea کو دو قطعوں میں توڑ دیا۔ آگے چل کر ان قطعوں میں مزید تقسیمی عمل ہوا اور نئے قطعے وجود میں آئے اور سطح نے موجودہ شکل اختیار کی۔ پانی کے بہاؤ اور ہواؤں نے بھی زمین کی سطح کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ زمین کے قشر میں موجود قطعوں کے باہمی عمل کو Plate Tectonics کہا جاتا ہے اکثر پہاڑوں کی تشکیل اسی عمل میں ہوئی ہے۔ شروع میں زمین کا کر رہ ہوائی زیادہ تر کاربن ڈائی آکسائید اور آبی بخارات پر مشتمل تھا۔ جیسے جیسے زمین کا درجہ حرارت گرتا گیا کرہ ہوائی کے بخارات بارش بن کر برستے رہے اور سمندروں کی جسامت بڑھتی گئی۔ کاربن ڈائی اکسائیڈ نے پانی میں حل ہو کر حل شدہ مرکبات کے ساتھ تعامل کر کے کاربونیٹس (carbonates) اور دوسرے Mineral sediments) دھاتیں بنائیں۔ ہوا میں بڑی مقدار میں نائٹروجن گیس باقی رہ گئی۔ جب زمین 25 ارب سال کی ہوئی تو اس کا کرہ ہوائی میتھین (Methane) اور امونیا سے صاف ہوچکا تھا۔ زندگی کا آغاز زمین کی تشکیل کے ایک ارب سال کے اندر ہوا۔ شروع میں جو زندہ اشیاء وجود میں آئیں انہوں نے کرہ ہوائی کو کوئی خاص متاثر نہیں کیا۔ لیکن کوئی 33 ارب سال قبل جب پودوں میں ضیائی تالیف (Photosynthesis) کا عمل شروع ہوا تو کرہ ہوائی کی کاربن ڈائیـ آکسائیڈ اس عمل میں استعمال ہونے لگی۔ اس عمل میں آکسیجن گیس پیدا ہوتی ہے۔ اس آکسیجن کے ہوا میں خارج ہونے سے ہوا میں آکسیجن کی مقدار بڑھی۔ آج ہوا میں کوئی 21 فیصد آکسیجن گیس ہے اور 18 فیصد نائٹروجن ہے۔ باقی دوسری گیسیں ہیں جیسے ارگن، کاربن ڈائی آکسائیڈ وغیرہ۔ (از کائنات قران اور سائنس ) یہ سب کچھ قرآن کے حکم کے مطابق ہے کہ کائنات میں غور و فکر کرو۔ ماہرین فلکیات و سائنسدان دن رات نئی نئی دریافتوں اور کائنات کے رازوں پر سے پردہ اٹھانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ کبھی ٹھیک اور کبھی غلط نتائج سامنے آتے رہتے ہیں۔ جبکہ قرآن پاک کے بتائے ہوئے راز اور بیشمار طبی سائنسی حقائق کی طرف کئے گئے اشارات بالکل سچ اور نہ بدلنے والے ہیں۔ انسان لگا ہوا تو ضرور ہے لیکن اللہ کی بنائی ہوئی اس کائنات کے راز انتہائی معمولی حد تک جان سکے ہیں۔ اور جو جان سکے ہیں ان میں بھی اکثر غلط ثابت ہوتا ہے مثلاً سورج کا ٹھہرے رہنا۔ جب کہ قرآن نے صاف الفاظ میں بتا دیا ہے کہ سورج اپنے مستقر کی طرف چل رہا ہے۔ اب سائنسدان بھی اس سے متفق ہوگئے ہیں۔ اسی طرح بہت سی بنیادی حقیقتیں قرآن پاک میں چودہ سو سال پہلے بتائی جا چکی ہیں۔ اور یہی حقیقتیں قرآن کے سچ ہونے، نبی کے اللہ کا رسول ہونے اور اللہ کے واحد لاشریک ہونے کے پکے ثبوت ہیں۔ حیرت کی بات ہے اتنا کچھ صاف صاف جان لینے کے بعد بھی ہمیشہ سے لوگ اللہ کا انکار، نبی کا انکار اور قرآن کا انکار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ تو ایسے نافرمان لوگوں کے برے انجام سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ بیشمار قوموں نے اللہ کا انکار کیا خراب اور ناشکری کی زندگیاں گزار دیں اور پھر اللہ کے عذاب کا شکار ہو کر دنیا سے ذلیل و خوار ہو کر رخصت ہوئے اور اس وقت قوم عاد اور ثمود کی مثال دی گئی ہے مگر آج کل کئی قومیں اسی ذلت و خواری کا شکار ہوچکی ہیں۔ ابھی حال ہی میں بہت بڑے ملک روس کا انجام ہمارے سامنے ہوچکا ہے۔ مسلمان بھی جب تک اللہ کی پوری فرمانبرداری کرتے رہے۔ پکے اور سچے مسلمان بنے رہے اللہ نے ان کے لیے فرمایا ہے کہ ہم نے ان کو بچا لیا جو ایمان لائے تھے اور بچ کر چلتے تھے۔ (آیت (18) مگر جو ایمان نہ لائے یا ایمان تو لے آئے مگر سچا اور پکا ایمان نہ لائے تو ان کے لیے اگلی آیات آنکھیں کھول کر چلنے اور محتاط راستے اختیار کرنے کے لیے کافی زیادہ بڑی خبر کا درجہ رکھتی ہیں۔ کیونکہ ان میں نافرمان لوگوں کی سخت سزاء کا ذکر بڑی وضاحت سے کیا گیا ہے۔ اور یہ اللہ کی طرف سے بہت بڑی سہولت ہے انسان کے لیے کہ اللہ خبردار کر رہا ہے بار بار خبردار کر رہا ہے کہ اس زندگی کو کھیل نہ سمجھو۔ اس کو اچھی طرح گزارو کیونکہ اس زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب لیا جائے گا اور اس آنے والی زندگی میں اس کا انعام یا سزا بھی ضرور دی جائے گی۔ تو ملاحظہ ہو۔
Ayahs 41:19–29

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف چلائے جائیں گے تو ترتیب وار کرلیے جائیں گے۔

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ان کے پاس پہنچ جائیں گے تو ان کے کان، آنکھیں چمڑے اور دوسرے اعضاء ان کے خلاف ان کے اعمال کی شہادت دیں گے۔

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

اور وہ اپنے چمڑوں یعنی اعضاء سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں شہادت دی ؟ وہ کہیں گے کہ جس اللہ نے سب چیزوں کو بولنے کی طاقت دی ہے اسی نے ہم کو بھی بولنے کی طاقت دی ہے۔ اور اسی نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے۔

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

اور تم اس بات کے خوف سے پردہ نہ کرتے تھے کہ تمہارے کان، آنکھیں اور چمڑے تمہارے خلاف شہادت دیں گے بلکہ تم یہ خیال کرتے تھے کہ اللہ کو تمہارے بہت سے عملوں کی خبرہی نہیں۔

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

اور اسی خیال نے جو تم اپنے رب کے بارے میں رکھتے تھے تم کو ہلاک کردیا اور تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے۔

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

اب اگر یہ صبر کریں گے تو بھی ان کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے اور اگر توبہ کریں گے تو ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اور ہم نے شیطانوں کو ان کا ہم نشین کردیا تھا تو انہوں نے ان کے اگلے اور پچھلے اعمال ان کو عمدہ کر دکھائے اور جنات اور انسانوں کی جماعتیں جو ان سے پہلے گزر چکیں ان پر بھی اللہ کے عذاب کا وعدہ پورا ہوگیا بیشک یہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اور کافر کہنے لگے کہ اس قرآن کو سنا ہی نہ کرو اور جب پڑھنے لگیں تو شور مچا دیا کرو تاکہ تم غالب رہو۔

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

سو ہم بھی کفار کو سخت عذاب کے مزے چکھائیں گے اور ان کے برے اعمال کی جو وہ کرتے تھے سزا دیں گے۔

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

یہ اللہ کے دشمنوں کا بدلہ ہے۔ یعنی دوزخ، ان کے لیے اسی میں ہمیشہ کا گھر ہے، یہ اس کی سزا ہے کہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے رب جنوں اور انسانوں میں سے جن لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا ان کو ہمیں دکھا دے کہ ہم ان کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالیں تاکہ وہ خوب ذلیل ہوں۔

حشر کے میدان کی تصویر کشی یعنی حالات تشریح : ان آیات میں تمام انسانوں کو ایک بہت بڑا راز اور ایک بہت بڑی خبر بڑے واضح الفاظ میں دے دی گئی ہے۔ تاکہ لوگ خبردار ہوجائیں اور جہنم کے درد ناک عذاب سے بچ سکیں۔ اور پھر میدان حشر میں دوبارہ زندہ ہو کر اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا بظاہر ممکن نہیں لگتا مگر قران پاک میں اور احادیث میں بیشمار مرتبہ اس بات کا یقین دلایا گیا ہے۔ پھر انصاف کو برقرار رکھنے کے لیے یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ ہر شخص کے جسم کا ہر عضو خود انسان کے خلاف گواہی دے گا اور انسان اپنے اعمال نامے کی فلم بھی اپنی آنکھوں سے خود دیکھ سکے گا۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا : ان کے کان، آنکھیں چمڑے اور دوسرے اعضاء ان کے خلاف ان کے اعمال کی شہادت دیں گے “ (آیت 20:) قرآن و حدیث کے علاوہ مادی اور سائنسی علوم بھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں۔ جیسا کہ سلطان بشیر محمود صاحب اس کی وضاحت بڑے خوبصورت انداز سے کرتے ہیں لکھتے ہیں : خالقِ کائنات نے کسی بھی چیز کو شعور اور زندگی کے بغیر پیدا نہیں کیا۔ اور انسانی خلیہ اپنی تخلیق میں دراصل نہایت چھوٹے پیمانے پر انسان ہی ہے۔ اس کے علاوہ بھی انسان کی پوری زندگی کا ایک ایک واقعہ اس کے بدن کے ذرات میں جاگزیں ہوتا رہتا ہے۔ قیامت کے دن جسم کے یہی پوشیدہ خلیات زندہ کردیے جائیں گے اور یہی ہمارے خلاف گواہ ہوں گے۔ مزید لکھتے ہیں : اب یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ ہماری زمین پر ہر سکینڈ باہر کی فضا سے اربوں کھربوں تابکاری کے ذرات برستے رہتے ہیں اور وہ اس قدر طاقت ور ہیں کہ ان میں سے کچھ ہماری زمین کا جگر چیر کر اس سے اس طرح آر پار ہوجاتے ہیں جس طرح روشنی صاف شفاف شیشہ سے گزر جاتی ہے۔ یہ تابکار شعائیں زمین پر ہونے والے تمام حالات واقعات کا ریکارڈ تیار کر رہی ہیں۔ مستقبل قریب میں یہ ممکن ہوگا کہ سائنسدان ان ریکارڈوں کا کھوج لگا سکے اور ان کے اندراج کو پڑھ سکے اور زمین ایک کھلی کتاب کی طرح بولنا شروع کر دے۔ اس لیے قرآن حکیم میں یہ جو بتایا گیا ہے کہ روز جزاء کو انسانی جسم کے اجزاء اس کے اعمال اور خیالات پر شاہد ہوں گے ایک قابل سمجھ سائنسی حقیقت بھی ہے اور وقت آنے پر یہ سب کچھ ظاہر ہوجائے گا مگر اس وقت سزا ملنی ضروری ہوچکی ہوگی کیونکہ اسوقت نہ سفارش چلے گی نہ مال و دولت کام آئے گا اور نہ ہی توبہ قبول کی جائے گی۔ (از قیامت اور حیات بعد الموت) ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم بھی کفار کو سخت عذاب کے مزے چکھائیں گے اور ان کے برے اعمال کی جو وہ کرتے تھے سزاء دیں گے (آیت 27) تو یہ ہیں غیب کی باتیں اور مستقبل کی خبریں جو بڑے اچھے وقت پر بار بار بتا دی گئی ہیں پھر بھی لوگ اس کی طرف توجہ نہیں دیتے اور کفر و شرک اور برائیوں کی زندگیاں گزارتے ہیں۔ مگر جو لوگ نیک راہیں اختیار کرتے ہیں وہ ہمیشہ فائدے میں رہیں گے۔ سائنس آج ان نتیجوں پر پہنچی ہے جن کی اسلام نے پہلے ہی نشاندہی کردی تھی۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ انسان سب کچھ جانتے بوجھتے بھی اللہ کا انکار کرتا ہے تو پھر سوائے نقصان کے اس کو اور کیا مل سکتا ہے۔ لیکن جو لوگ اللہ کو مانتے ہیں ان کا ذکر قرآن میں یوں کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو۔
Ayahs 41:30–37

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ ہمار ارب اللہ ہے پھر وہ اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے اور کہیں گے کہ نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے خوشی مناؤ۔

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی تمہارے دوست ہیں، اور وہاں جس چیز کو تمہارا دل چاہے گا تم کو ملے گی اور جو چیز طلب کرو گے تمہارے لئے موجود ہوگی۔

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

یہ بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہے۔

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس شخص سے اچھا کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں۔

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی تو سخت کلامی کا ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو۔ ایسا کرنے سے تم دیکھو گے کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی وہ تمہارا گرم جوش دوست بن جائے گا

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

اور یہ بات ان ہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو برداشت کرنے والے ہیں۔ اور ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑے نصیب والے ہوتے ہیں۔

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر تمہیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہو تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو بیشک وہ سنتا جانتا ہے۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

رات اور دن، سورج اور چاند اس کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تو لوگو ! نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ صرف اللہ ہی کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اگر تم کو اس کی عبادت منظور ہے۔

ایمان والوں کے درجات تشریح : مندرجہ بالا آیات میں پکے اور سچے مسلمانوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ جنت کی تعریف کیا کریں ! جنت ایسے بہترین پر سکون اور پر آسائش باغات اور محلات کی جگہ ہے کہ جس کی مثال دنیا میں نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہ اللہ کا دیا ہوا انعام ہے وہاں فرشتے رحمتیں اور برکتیں تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ وہ ایسی طلسماتی جگہ ہے کہ جو سوچا وہ پا لیا۔ مگر جنت کو حاصل کرنے کے لیے بڑی سخت محنت، خلوص محبت اور قربانی کی ضرورت ہے۔ یہ جس قدر زیادہ ہوگا انعام اسی قدر زیادہ بہترین ہوگا۔ اس کا حاصل کرنا کوئی بہت زیادہ دشوار بھی نہیں اللہ کو مان لینا اس کے احکامات کو مان لینا اور صرف اسی کی ہی عبادت کرنا محض حصول جنت ہی کا باعث نہیں بلکہ دنیاوی زندگی میں بھی سکون کا باعث بنتا ہے۔ ان آیات میں کچھ اخلاقی ہدایات بھی دی گئی ہیں مثلاً برائی کا جواب برائی سے نہیں بلکہ صبر و سکون سے اچھائی میں دو ۔ ایک روایت میں ہے کہ ” محمد ﷺ نے دیکھا ایک شخص غصہ میں آپے سے باہر ہوگیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایسی حالت میں اعوذ باللہ پڑھ لیا کرو “۔ (مشکوٰۃ) پھر توحید پر پوری طرح قائم رہنے کا سبق دیا گیا ہے۔ شرک کو اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا ظلم کہا ہے۔ کیونکہ اللہ کو ہماری عبادت کی ضرورت نہیں بلکہ خود ہماری زندگیوں میں سکون، ترتیب اور حسن و خوبی تب ہی پیدا ہوسکتی ہے جب ہم ایک سب سے بڑے ارفع و اعلیٰ ، مضبوط ترین رب العٰلمین کو اپنا مالک و آقامان کر صرف اسی کی عبادت کریں۔ اسی کے سامنے جھکیں اور اسی سے ہر طرح کی مدد مانگیں۔ بجائے اس کے کہ اس کی پیدا کردہ چیزوں کو معبود بنا بیٹھیں اور بجائے یکسو ہو کر مطمئن زندگی گزارنے کے ادھر ادھر بھٹکتے پھریں دنیا بھی خراب اور آخرت تو بہت ہی خراب کرلیں۔ اسی لیے شرک کو خود اپنے اوپر ظلم کرنے کا درجہ دیا گیا ہے جو کہ ہر لحاظ سے نقصان کی بات ہے۔ ہر شخص کو معلوم ہے کہ دین اسلام کی بنیاد ہی توحید پر ہے۔ جیسا کہ سورة لقمان میں سب سے پہلی نصیحت ان الفاظ میں کی کئی ہے : اے میرے بیٹے اللہ کے ساتھ شرک مت کرنا، یقینا شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ جو لوگ اللہ پر پکا یقین رکھتے ہیں۔ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں نیک عمل کرتے ہیں۔ حسن سلوک اور درگزر کو اپنی زندگی کا معیار بناتے ہیں۔ وہی اللہ کے مقبول ترین بندے ہوتے ہیں اور آخر میں توحید کی تاکید دوبارہ کی گئی ہے۔ اللہ کی پیدا کردہ کسی چیز کو سجدہ نہ کرو بلکہ صرف اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں (تمام کائنات مخلوقات) بنایا اگر تم اسی ( اللہ ) کی عبادت کرتے ہو “۔ (آیت 37) اگلی آیت میں سجدہ ہے۔