41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 41:38–46

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

اگر یہ لوگ سرکشی کریں تو اللہ کو بھی ان کی پرواہ نہیں جو فرشتے تمہارے رب کے پاس ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور کبھی تھکتے ہی نہیں۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اور اے بندے یہ اسی کی قدرت کے نمونے ہیں کہ تو زمین کو دبی ہوئی یعنی خشک دیکھتا ہے۔ جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور پھولنے لگتی ہے تو جس نے زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader

جو لوگ ہماری آیتوں میں کجراہی کرتے ہیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں، بھلا جو شخص دوزخ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن وامان سے آئے ؟ تو خیر جو چاہو سو کرلو۔ جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ Open ayah 41:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے نصیحت کو نہ مانا جب وہ ان کے پاس آئی اور یہ تو ایک عالی رتبہ کتاب ہے۔

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ Open ayah 41:42 in the Quran reader

اس پر جھوٹ کا دخل نہ آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے یہ دانا اور خوبیوں والے اللہ کی اتری ہوئی ہے

مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 41:43 in the Quran reader

تم سے وہی باتیں کہی جاتی ہیں جو تم سے پہلے اور پیغمبروں سے کہی گئی تھیں۔ بیشک تمہارا رب بخش دینے والا بھی ہے اور عذاب الیم دینے والا بھی ہے۔

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 41:44 in the Quran reader

اور اگر ہم اس قران کو غیر زبان (یعنی عربی کے علاوہ کسی دوسری زبان) میں نازل کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں ہماری زبان میں کھول کر بیان کیوں نہیں کی گئیں۔ عجیب بات ہے کہ قرآن تو عجمی اور مخاطب عربی۔ کہہ دو کہ جو ایمان لاتے ہیں ان کے لیے یہ ہدایت اور شفا ہے جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں نقص یعنی بہرا پن ہے اور یہ ان کے حق میں اندھا ہونے کے برابر ہے۔ نقص کی وجہ سے گویا ان کو دور سے آواز دی جاتی ہے۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 41:45 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر تمہارے رب کی طرف سے پہلے سے ایک بات ٹھہر نہ چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور یہ اس قرآن سے الجھ رہے ہیں۔

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ Open ayah 41:46 in the Quran reader

جو نیک کام کرے گا تو اپنے لیے اور جو برے کرے گا تو ان کا نقصان بھی اسی کو ہوگا۔ اور تمہارا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔

غرور کی ضرورت نہیں سجدہ ہی بہترین ہے تشریح : سب سے پہلے تو صرف اللہ کے آگے سجدہ کرنے کی اہمیت بتائی گئــی ہے جیسا کہ سورة الفاتحہ میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ کسی کے آگے جھک جانے کا مطلب یہ ہے کہ خود کو ہر طرح سے عاجز اور کم تر سمجھ لینا اور جس کے آگے جھکے اس کو ہر ہر صورت سے اپنا مالک، برتر اور مشکل کشاء سمجھ لینا۔ جیسے بچہ ماں کا ہی محتاج ہوتا ہے۔ سمجھ دار انسان خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ سہارا لیتے ہوئے سہارا کس قدر مضبوط اور معقول ہونا چاہیے۔ جو لوگ اپنی پیدائش کے معجزانہ عمل کو غور سے دیکھتے ہیں ان کو یہ بات بھی سمجھ میں آجاتی ہے کہ دنیا کی ہر چیز اور تمام مخلوقات ہر صورت صرف اللہ ہی کی محتاج ہے اس لیے اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے نبی کے بتائے ہوئے پیغامات پر عمل کرنے سے خود ان کا اپنا ہی فائدہ ہے۔ اللہ کو ان کے سجدوں سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا کیونکہ اللہ کی تسبیح و تقدیس کرنے کے لیے تو بیشمار فرشتے موجود ہیں۔ اس کو ہم بندوں کی عبادت کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس نے ہماری راہبری کے لیے ہمیشہ پیغمبر بھیجے جنہوں نے یہی پیغام دیا کہ صرف اللہ ہی کو اپنا آقا اور معبود مانو۔ یہ چھوٹی سی بات جس کی سمجھ میں آجاتی ہے وہ دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں حاصل کرلیتا ہے اور جب ایک بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اس کو پیدا کرنے والا صرف وہ اللہ ہی ہے جو بےحد مضبوط قدرت والا، بےحد رحم کرنے والا اور سخت حساب لینے والا، ہر وقت ہمارے کام کو دیکھنے والا بلکہ ہماری نیتوں، ارادوں اور منصوبوں سے بھی وہ بڑی اچھی طرح واقف ہے اور دنیا و آخرت میں ہمارے حساب کتاب کر کے بدلہ دینے کے ایسے بہترین اور پکے بندوبست اس نے کر رکھے ہیں کہ ہر شخص جب دوبارہ زندہ ہو کر اس کے سامنے پیش ہوگا تو اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور یوں کسی شخص کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی ہرگز نہ ہو سکے گی۔ اللہ بےحد مہربان ہے اور بےحد سخت بھی ہے۔ اگر بار بار نصیحت کا اثر بندوں پر نہ ہو تو پھر ایسے لوگ ہرگز اللہ کی پکڑ سے بچ نہ سکیں گے۔ اور جو لوگ سیدھی راہ اختیار کرنا پسند نہیں کرتے تو وہ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ بس زندگی یہی ہے ” کھاؤ پیئو اور عیش کرو “۔ ہمیں اللہ نے بہت بڑے مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔ اور ہمارا مرجانے کے بعد اللہ کے سامنے پیش ہونا اسی طرح اٹل اور سچ ہے جس طرح ہمارے سامنے مردہ زمین زندہ ہوتی ہے۔ اس کی تفصیلات بہت اچھی طرح بیان کی جا چکی ہیں۔ توحید پر ایمان لانے کی ہی یہ برکت ہے کہ مسلمان اس قدر، بہادر، بےخوف، مضبوط اور کامیاب شخصیت کا مالک ہوتا ہے۔ کفار و مشرکین حیران ہوتے ہیں اور فی زمانہ اس کھوج میں لگے ہوئے ہیں کہ آخر کون سی ایسی بات قرآن پاک میں بتائی گئی ہے کہ جس کی وجہ سے مسلمان ناقابل تسخیر ہیں۔ قرآن پاک میں صاف صاف اللہ نے فرمایا ہے کہ ’‘ ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی تمہارے دوست ہیں “۔ (سورۃ حم السجدہ آیت 31:) تو سوچنے کی بات ہے جس کا دوست اس قدر عظیم و کبیر، حی وقیوم، رحمن و رحیم اور خالق کون و مکان ہو اس کو بھلا کس کا ڈر خطر یا پریشانی ہوسکتی ہے۔ علامہ اقبال مسلمان کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن (اقبال )
Ayahs 41:47–48

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ Open ayah 41:47 in the Quran reader

’ قیامت کے علم کا حوالہ اسی کی طرف دیا جاتا ہے یعنی قیامت کا علم اسی کو ہے۔ اور نہ تو پھل گابھوں سے نکلتے ہیں اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ پیدا کرتی ہے۔ مگر اس کے علم سے اور جس دن وہ ان کو پکارے گا اور کہے گا کہ میرے شریک کہاں ہیں تو وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے عرض کرتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو ان کی خبر ہی نہیں۔

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 41:48 in the Quran reader

اور جن کو پہلے وہ اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے سب ان سے غائب ہوجائیں گے اور وہ یقین کرلیں گے کہ ان کے لیے کوئی خلاصی نہیں۔

قیامت کا علم اللہ کے پاس تشریح : جب ایک بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اس کو پیدا کرنے والا صرف وہ اللہ ہی ہے جو بےحد مضبوط قدرت والا، بےحد رحم کرنے والا اور سخت حساب لینے والا، ہر وقت ہمارے کام کو دیکھنے والا بلکہ ہماری نیتوں، ارادوں اور منصوبوں سے بھی وہ بڑی اچھی طرح واقف ہے اور دنیا و آخرت میں ہمارے حساب کتاب کر کے بدلہ دینے کے ایسے بہترین اور پکے بندوبست اس نے کر رکھے ہیں کہ ہر شخص جب دوبارہ زندہ ہو کر اس کے سامنے پیش ہوگا تو اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور یوں کسی شخص کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی ہرگز نہ ہو سکے گی۔ اللہ بےحد مہربان ہے اور بےحد سخت بھی ہے۔ اگر بار بار نصیحت کا اثر بندوں پر نہ ہو تو پھر ایسے لوگ ہرگز اللہ کی پکڑ سے بچ نہ سکیں گے۔ اور جو لوگ سیدھی راہ اختیار کرنا پسند نہیں کرتے تو وہ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ بس یہی زندگی ہے ” کھاؤ پیئو اور عیش کرو “۔ ہمیں اللہ نے بہت بڑے مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔ اور ہمارا مرجانے کے بعد اللہ کے سامنے پیش ہونا اسی طرح اٹل اور سچ ہے جس طرح ہمارے سامنے مردہ زمین زندہ ہوتی ہے۔ اس کی تفصیلات بہت اچھی طرح بیان کی جا چکی ہیں۔ توحید پر ایمان لانے کی ہی یہ برکت ہے کہ مسلمان اس قدر، بہادر، بےخوف، مضبوط اور کامیاب شخصیت کا مالک ہوتا ہے۔ کفار و مشرکین حیران ہوتے ہیں اور فی زمانہ اس کھوج میں لگے ہوئے ہیں کہ آخر کون سی ایسی بات قرآن پاک میں بتائی گئی ہے کہ جس کی وجہ سے مسلمان ناقابل تسخیر ہیں قرآن پاک میں صاف صاف اللہ نے فرمایا ہے کہ ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی تمہارے دوست ہیں۔ (سورۃ حم السجدہ آیت 31) تو سوچنے کی بات ہے کہ جس کا دوست اس قدر عظیم و کبیر، حی وقیوم، رحمن و رحیم اور خالق کون و مکان ہو اس کو بھلا کس کے ڈرکا خطر یا پریشانی ہوسکتی ہے۔
Ayahs 41:49–51

لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ Open ayah 41:49 in the Quran reader

انسان بھلائی کی دعائـیں کرتا کرتا تو تھکتا نہیں اور اگر تکلیف پہنچ جاتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے اور آس توڑ بیٹھتا ہے۔

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 41:50 in the Quran reader

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اس کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو میرا حق تھا اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہو اور اگر قیامت سچ مچ بھی ہو اور میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو میرے لیے اس کے پاس بھی خوشحالی ہے پس کافر جو عمل کیا کرتے ہیں وہ ہم ان کو ضرور جتائیں گے اور ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ Open ayah 41:51 in the Quran reader

اور جب ہم انسان پر کرم کرتے ہیں تو منہ موڑ لیتا ہے اور پہلو پھیر کر چل دیتا ہے اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے ‘

انسان کی فطرت تشریح : ان آیات میں انسانی فطرت کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ عام طور پر میرے بندے مجھے اس وقت یاد کرتے ہیں جب ان کو کوئی مصیبت یا پریشانی پہنچتی ہے۔ ورنہ خوشی اور راحت کے حالات میں بندہ مجھ سے غافل ہوجاتا ہے۔ اس حد تک غافل ہوجاتا ہے کہ تمام نعمتوں اور برکتوں کو اپنا ہی کمال سمجھنے لگتا ہے۔ سچے اور اچھے مسلمان کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ہر صورت میں اللہ کا شکر گزار رہتا ہے، تنگی پر بھی اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس میں بھی کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہوگی اور خوشی میں اللہ کا شکر گزار بندہ بنا رہتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ تمام کرامات، احسانات اور مہربانیاں صرف اور صرف اس کے رب کی طرف سے ہی آتی ہیں کیونکہ مسلمان کا یہی عقیدہ ہے کہ اللہ سب سے بڑا کار ساز اور دینے والا رحیم و کریم ہے۔ پریشانی اور مصیبت میں گھبرانا مسلمان کا کام نہیں کیونکہ اللہ فرماتا ہے :” اللہ کی رحمت سے کبھی ناامید نہیں ہونا چاہیے۔ دیکھا جائے تو زندگی میں کامیاب و کامران ہونے کا زیادہ موثر نسخہ یہی ہے۔ زندگی تو راحت اور دکھ کا مجموعہ ہوتی ہے لیکن ایک مسلمان اللہ کی رضاء میں اس قدر ڈوب جاتا ہے کہ وہ اس زندگی کے دکھ سکھ سے بےنیاز ہوجاتا ہے اور ہر صورت اللہ کا شکر ادا کرتا رہتا ہے۔
Ayahs 41:52–54

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 41:52 in the Quran reader

” کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہو پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو حق کی پرلے درجے کی مخالفت میں ہو۔

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 41:53 in the Quran reader

ہم عنقریب ان کو اطراف عالم میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے کہ قرآن حق ہے۔ کیا تم کو یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب ہر چیز سے خبردار ہے۔

اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠ Open ayah 41:54 in the Quran reader

دیکھو یہ اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے سے شک میں ہیں۔ سن رکھو کہ وہ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے ‘

قرآن کریم کی حفاظت کے بعض دلائل تشریح : قرآن پاک کے سچ ہونے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی بڑی پکی، سچی اور واضح نشانیاں اور ثبوت اللہ نے ان آیات میں بیان کئے ہیں۔ ایسے ثبوت، ایسی نشانیاں کہ جن کو آنحضرت ﷺ نے بھی حق جانا اور موجودہ زمانے کے حکماء، علماء، محدثین اور جدید سائنس کے ماہرین ان تمام پیش گوئیوں کو واضح الفاظ میں بیان کر رہے ہیں جو 14 سو سال پہلے قرآن پاک میں بتائی گئی تھیں۔ مثلاً ۔ اعضاء انسانی کا گواہی دینا اور زمین کا گواہی دینا سورة یٰسین میں گزر چکا اور آنحضرت ﷺ نے اس کی یوں وضاحت کی کہ ” زمین ہمارے اعمال پر شاہد ہے “۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) اور پھر آیت 53 میں آیا ہے کہ (ہم عنقریب ان کو ۔۔۔ آخرتک “ ) آج کے سائنس دان ان آیات و احادیث کو یوں ثابت کرتے ہیں کہ انگلیوں کے نشانات سے مجرم کو پکڑنا تو بہت پرانا ہوچکا آج کل تو بقول سلطان بشیرمحمود صاحب انسانی ہڈیوں، بالوں، خون، رطوبت اور خلیوں کی مدد سے کسی مردہ کے بارے میں حیرت انگیز حد تک معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ مثلاً انسانی بال ہزاروں سال بعد بھی آدمی کی خصوصیات اور عادات کا راز اپنے اندر رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر انیسویں صدی کے مشہور شاعر جان کیسٹ کے بالوں کے تجزیہ سے معلوم ہوا کہ وہ عادی افیونچی تھا۔ مزید لکھتے ہیں : ایک انسان میں تقریبا دس ارب ایسے خلیے ہوتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنے مالک کی ساری زندگی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اگر ضرورت کے مطابق صحیح ماحول میسر ہو تو انسان کی موت کے لاکھوں سال بعد تک بھی وہ زندہ رہ سکتے ہیں “۔ مزید لکھتے ہـیں : زمین کا ذرہ ذرہ بھی ایک کیمرہ ہے اور اس میں سے گزرنے والی تابکار شعاؤں سے ان کے اوپر ہونے والے واقعات کی فلم بنتی جارہی ہے۔ یعنی ان میں سے ہر ایک کمپیوٹر چپ کی مانند ہے۔ جس کو پڑھ کر کل کا سائنس دان زمین کی پوری تاریخ کا علم حاصل کرسکے گا۔ پھر لکھتے ہیں : کہ سورج سے جو گرمی اور روشنی زمین پر پہنچتی ہے اس سے وہاں ہونے والے ایٹمی دھماکوں کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ بیج سے اگنے والے درخت کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ (از قیامت اور حیات بعد الموت) جس قدر اوپر لکھا گیا ہے ایک ایک حرف اس آیت نمبر 53 کے بیان کے مطابق ہے اور یہی تمام نشانیاں قرآن کے حق ہونے کی دلیل ہیں کیونکہ اس قدر ٹھیک ٹھیک پیش گوئی انسان کے نفس اور کائنات کے بارے میں کوئی شخص ہرگز نہیں کرسکتا سوائے رب العٰلمین کے، کیونکہ وہی تو خالق ہے مالک ہے اور ہر ذرہ کی پوری طرح خبر رکھتا ہے۔ تمام چیزوں کو اپنے احاطہ میں کئے ہوئے ہے “۔ (آـیت 54) اس پیارے رسول محمد ﷺ نے انسانوں کو خبردار کیا ہے کہ زمین سے ڈرو، اپنے جسم سے ڈرو، اپنے ماحول سے ڈرو، یہ سب قیامت کو تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” جاننا چاہتے ہو کہ بھلائی کیا ہے ؟ تو اپنے دل سے پوچھو۔ بھلائی وہ ہے جو روح کے لیے باعث اطمینان ہے اور دل کے لیے باعث مسرت ہے گناہ وہ ہے جو روح کو پشیمان کرتا ہے اور دل کو پریشان “۔ (احمد دارمی) یہ آیات اس قدر حیران کردینے والی ہیں کہ ہم ان کو قرآن کا معجزہ کہہ سکتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے ذریعے صادر ہوا۔ معجزہ کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ معجزات جو فطرت سے اوپر ہوں جو نبی اکرم ﷺ سے پہلے والے پیغمبروں کو دیئے گئے۔ دوسرا معجزہ انسان اور کائنات کے رازوں سے آگاہی جو قرآن پاک کی صورت میں آپ ﷺ کو بتائے گئے جن کا علم چودہ سو سال پہلے کسی بندے بشر کو ہر گو نہ تھا۔ اللہ نے اپنے پیارے بندے حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ قرآن کی برکت سے انسان تک پہنچائے۔ بیشک اس طریقہ سے قرآن کی سچائی، جامعیت اور اللہ کے واحد ہونے کا ثبوت بڑے واضح طور پر ملتا ہے۔ پھر کون سی چیز ہے جو ہمیں اللہ سے اور آخرت سے غافل کئے ہوئے ہے۔ جب کہ اللہ کا فرمان بار بار ہمیں مل رہا ہے۔ دیکھو یہ (اکثر لوگ) اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے سے شک میں ہیں۔ سن رکھو کہ وہ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے “۔ (آیت 54:) خلاصہ سورة حٰمۗ السَّجْدة یہ سورت بھی قرآن کی سچائی، بہترین کتاب ہونے اور نبی اکرم ﷺ کے آخری نبی ہونے اور اللہ تباک تعالیٰ کے واحد ہونے کے ثبوتوں سے دلیلوں کے ساتھ بھری ہوئی ہے۔ اور انسانی فطرت کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے کہ سب کچھ جان کر بھی اللہ پر یقین نہیں کرتا آخرت پر یقین نہیں کرتا۔ اس سورت کا ایک ایک حرف نصیحت، آگاہی اور علم و عرفان کا ترجمان ہے۔ ہم انسانوں پر یہ فرض کردیا گیا ہے کہ ہمیں جو بھی علم، جو بھی حقیقت اور جو بھی معلومات قرآن سے حاصل ہوں ہم ان کو بڑی فراخدلی، خلوص اور محنت سے دوسروں تک پہنچائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ قرآن کی حقیقت سے واقف ہو سکیں۔ اس کے احکامات سے اپنی زندگیوں اور آخرت کو سنوار سکیں۔ کیونکہ نیکی کی راہیں ہی زندگی کو آسان کر کے بندے کو مضبوط اور کامل بناتی ہیں اور یہی راہیں ہمیں آخرت میں بھی جنت کا انعام دلوائیں گی۔ اللہ کو ہماری عبادت کی ضرورت نہیں بلکہ ہمیں خود ایک ایسے مضبوط، معقول اور اعلی ترین سہارے کی ضرورت ہے کہ جو ہمیں دنیا کے غم و فکر اور آخرت کے عذاب سے نجات دلائے اور وہ سہارا ہے اللہ وحدہ لاشرک لہ کا جو بہترین سہارا ہے۔ خدا خود اٹھاتا ہے گِر کر تو دیکھو ہے تعمیر اخلاق و کردار سجدہ لیفٹیننٹ محمد مختار احمد غازی (پاک بحریہ )