39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 39:1–6

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا اللہ غالب اور حکمت والے کی طرف سے ہے

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ! ) ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف سچائی کے ساتھ نازل کی ہے تو اللہ کی عبادت کرو، اس کی عبادت کو شرک سے پاک کر کے۔

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

دیکھو خالص عبادت اللہ ہی کیلئے مخصوص ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوست بنائے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کو اس لیے پوجتے ہیں کہ ہم کو اللہ کے مقرب بنا دیں تو جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں اللہ ان میں ان کا فیصلہ کر دے گا ‘ بیشک اللہ اس کو جو جھوٹا اور نا شکرا ہے ہدایت نہیں دیتا۔

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اگر اللہ کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا انتخاب کرلیتا۔ وہ پاک ہے وہی تو واحد اور غالب ہے۔

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اور وہی رات کو دن میں لپیٹتا اور وہی دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو مسخر کردیا ہے سب ایک وقت مقرر تک چلتے رہیں گے دیکھو وہی غالب اور بخشنے والا ہے۔

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

اسی نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا پھر اس سے اس کا جوڑا بنایا اور اسی نے تمہارے لیے چارپایوں میں سے آٹھ جوڑے بنائے ‘ وہی تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں پہلے ایک طرح پھر دوسری طرح تین اندھیروں میں بناتا ہے یہی اللہ تمہارا رب ہے اسی کی بادشاہی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو۔

انسانی پیدائش اللہ کے وجود کی نشانی ہے تشریح : ان آیات میں اللہ کی وحدانیت ‘ قرآن کی سچائی اور حضور پاک ﷺ کی سچائی کو بڑی صاف صورت میں بیان کیا گیا ہے کفر و شرک کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ یہ سب باتیں ہمارے سامنے ثبوت کے ساتھ موجود ہیں۔ آج ہم باقی تمام مظاہر قدرت کو چھوڑ کر صرف انسانی تخلیق کے بارے میں غور کرتے ہیں یہ حیاتیاتی راز یعنی انسان اور انسان کی طرح پیدا ہونے والے جانوروں کا راز اس آیت 6 میں بڑے ہی مختصر الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب نے اس راز کو واضح کیا ہے ملاحظہ ہو لکھتے ہیں : ” جیسا کہ ظاہر ہے آیت کا یہ حصہ ایک انسان کی ساخت کیلئے ماں کے پیٹ میں تین مختلف تاریکیوں کا ذکر کرتا ہے۔ اس لیے یہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ ایک زرخیز شدہ انڈے کا خلیہ یا زائیگوٹ تین تاریک حالتوں سے گزرتا ہے۔ پندرہ صدیاں قبل بلکہ صرف ایک صدی پہلے تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ ایک انسان کی پیدائش کا عمل صرف ماں کے پیٹ میں موجود رحم میں ہوتا ہے یعنی صرف ایک تاریک حالت میں مگر جدید طبی سائنس کی معلومات کا خلاصہ یہ ہے۔ پہلا مرحلہ : جب بیضہ والا خلیہ رحم کی دو نلیوں میں زرخیز پذیر ہوتا ہے (جڑ پکڑ لیتا ہے) اور یہ عمل صرف اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے اور یہ مقام ‘ رحم مادر میں انتہائی انوکھا اور نازک مقام ہوتا ہے۔ یہ باریک ترین خلیہ (Cell) ہی ہے جس میں ہر چیز تیار ہوتی ہے۔ ہماری آئندہ زندگی کی مکمل تفصیلات اسی مقام پر متعین ہوجاتی ہیں ‘ اس مقام سے آگے یہ دوسرے طبقے میں پہنچایا جاتا ہے۔ دوسرا مرحلہ : یہ خلیہ (Cell) رحم کی لعاب دار جھلی میں پہنچتا ہے یہ تاریک طبقہ ایک جنگل سے ملتا جلتا ہے۔ یہاں یہ خلیہ جڑ پکڑ جاتا ہے اور اپنے آپ کو وہیں مناسب جگہ پر قائم کرلیتا ہے یہ مقام ایک سرنگ کی طرح جگہ میں ہوتا ہے۔ یہ بچے کی خوراک ماں کے جسم سے مہیا کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ زائیگوٹ اسی جگہ تقسیم کا عمل شروع کرتا ہے۔ یہ ابتدائی تقسیم انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اس لیے کہ بچے کی ابتداء (Embryo) کے پہلے مرحلہ میں تمام اعضاء کی تشکیل کی ابتداء بھی اسی دوسرے تاریک طبقہ میں شروع ہوتی ہے اصل میں بارآور بیضہ تخلیق کی ابتداء کا پہلہ مرحلہ ہوتا ہے جبکہ خلیوں کی ابتدائی تقسیم اس کے دوسرے مرحلے کی تشکیل کرتی ہے۔ یعنی مختلف انسانی خصوصیات کا باہم مل کر یک جا ہونا ‘ اس پہلے مرحلے میں قیام پذیر ہوتا ہے۔ جبکہ مختلف اعضاء کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل دوسرے مرحلے میں شروع ہوتی ہے۔ تیسرا مرحلہ : یہاں ایک پوٹلی یعنی (Amniotic Sae) کے اردگرد ایک مخصوص مائع کی صورت میں پیدا ہوجاتی ہے، پھر ہمارے اعضاء اور دوسرا حیاتیاتی نظام اسی پوٹلی کے اندر ارتقاء کے مراحل طے کرتا ہے۔ یہ تیسرا تاریک مر حلہ ہوتا ہے۔ اس طرح انسان کی تشکیل کا سلسلہ ماں کے پیٹ میں تین مختلف طبقوں میں ایک تین جہتی کہانی بیان کرتا ہے۔ چناچہ یہ آیات کریمہ ان تمام سائنسی حقائق کو ظاہر کرتی ہیں جن کی مدد سے ابھی حال ہی میں ایسی دریافتیں ہوئی ہیں جو بےحد صحیح انداز میں حیاتیاتی معجزے بیان کرتی نظر آتی ہیں۔ اور پھر یہ آیت کریمہ ایک چیلنج کے ساتھ اختتام پذیر ہوتی ہے کہ ” تم کس طرح جھٹلا سکتے ہو “۔ یہ یقینی طور پر قرآن کی عظمت کی نشاندہی ہے کہ اس آیت نے ماں کے پیٹ میں انسان کی تشکیل کی ایک ایسی کہانی پندرہ صدیاں قبل اس طرح کھول کر بیان کردی جب کہ اس وقت ارتقائی مرحلوں (Embryogenesis) کے متعلق کسی قسم کے حقائق موجود نہ تھے۔ (از قرآنی آیات اور سائنسی حقائق) کیا یہ سب حقائق انسان کے ایمان کی مضبوطی کیلئے کافی نہیں انسان کی پیدائش کتنا بڑا معجزہ ہے۔ قرآن کیا ہے ؟ بندے کو اس کی حقیقت اور اس کو دی گئی نعمتوں کے بارے میں معلومات کی بےمثال کتاب ہے۔ کیوں نہ ہو۔ اس کا بھیجنے والا اور ہم تک پہنچانے والا خود بےمثال ہے۔ وہ ایک اللہ ہے جو ہمارا اور ہماری تمام ضروریات کا خالق ہے۔ اسی لیے تو اس کو زبردست حکمتوں والا ‘ خدائے واحد زور آور، زبردست گناہ بخشنے والا اور تمام بادشاہوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ اس لیے صرف اسی سے ہی مدد مانگنی چاہیے اور کوئی مدد کرنے والا نہیں۔ ہاں البتہ جو وسیلے اس نے بنا دئیے ہیں وہ اللہ کی مرضی کے مطابق آپس میں مدد ضرور کرسکتے ہیں مثلاً ماں باپ ‘ بہن بھائی ‘ رشتہ دار ‘ عزیز و اقارب اور پوری انسانی برادری۔ ہم سب کو اللہ نے حقوق العباد کی ڈوری میں پر وکر بقائے باہمی کا وسیلہ بنا دیا ہے۔ اسی لیے علامہ اقبال (رح) نے کہا۔ دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّو بیاں کیسی دلچسپ داستان ہے انسان کی۔ اللہ نے ہمیں اپنا نائب بنایا فرشتوں سے سجدہ کروایا ‘ علم اور ارادہ دے دیا مگر یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی اور اسی مرنے کی پابندی اور جینے کی پابندی میں ہی انسان کی تخلیق کا راز پوشیدہ ہے۔ پتہ یہ چلتا ہے کہ ہم بےمقصد پیدا نہیں کیے گئے۔
Ayahs 39:7–21

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر ناشکری کروگے تو اللہ تم سے بےپرواہ ہے اور وہ اپنے بندوں کیلئے ناشکری پسند نہیں کرتا اور اگر شکر کرو گے تو وہ اس کو تمہارے لیے پسند کرے گا اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تم کو اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے پھر جو کچھ تم کرتے رہے وہ تم کو بتائے گا وہ تو دلوں کی پوشیدہ باتوں تک سے آگاہ ہے۔

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتا اور اس کی طرف دل سے رجوع کرتا ہے پھر جب وہ اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت دیتا ہے تو جس کام کیلئے اس کو پہلے پکارتا ہے اس کو بھول جاتا ہے اور اللہ کا شریک بنانے لگتا ہے تاکہ لوگوں کو اس کے راستے سے گمراہ کرے۔ کہہ دو کہ ” اے کافر نعمت اپنی نا شکری سے تھوڑا سا فائدہ اٹھالے پھر تو تو دوزخیوں میں ہوگا

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

(بھلا مشرک اچھا ہے یا وہ) جو رات کے وقتوں میں زمین پر پیشانی رکھ کر اور کھڑے ہو کر عبادت کرتا ‘ آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہے۔ کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں اور نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیں۔

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے میرے بندو ! جو ایمان لائے ہو اپنے رب سے ڈرو۔ جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کیلئے بھلائی ہے اور اللہ کی زمین کشادہ ہے ‘ جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بیشمار ثواب ملے گا

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

کہہ دو کہ ’‘ مجھ کو ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کی عبادت کو خالص کر کے اس کی بندگی کروں۔

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ میں سب سے اول مسلمان بنوں

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر میں اپنے رب کا حکم نہ مانوں تو مجھے بڑے دن کے عذاب سے ڈر لگتا ہے

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں اپنے دین کو شرک سے خالص کر کے اس کی عبادت کرتا ہوں

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

تو تم اس کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو کہہ دو کہ نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈالادیکھو یہی صریح نقصان ہے۔

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

ان کے اوپر تو آگ کے سائبان ہوں گے اور نیچے اس کے فرش ہوں گے (آگ کے) یہ وہ عذاب ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے تو اے میرے بندو ! مجھ سے ڈرتے رہو

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

اور جنہوں نے اس سے اجتناب کیا کہ بتوں کو پوجیں اور اللہ کی طرف رجوع کیا ان کیلئے بشارت ہے تو میرے بندوں کو بشارت سنا دو ۔

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو بات کو سنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی اور یہی لوگ عقل والے ہیں۔

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم صادر ہوچکا ‘ تو کیا تم ایسے دوزخی کو مخلصی (چھٹکارا) دے سکو گے ؟

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کیلئے اونچے اونچے محل ہیں جن کے اوپر بالا خانے بنے ہوئے ہیں اور ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں یہ اللہ کا وعدہ ہے ‘ اللہ وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمان سے پانی نازل کرتا ہے ‘ پھر اس کو زمین میں چشمے بنا کر جاری کرتا ہے پھر اس سے کھیتی اگاتا ہے جس کے طرح طرح کے رنگ ہوتے ہیں پھر وہ خشک ہوجاتی ہے تو تم اس کو دیکھتے ہو کہ زرد ہوگئی ہے پھر اسے چورا چورا کردیتا ہے بیشک اس میں عقل والوں کیلئے نصیحت ہے۔

مخلص عبادت گزار کیلئے جنت اور کافر کیلئے دوزخ تشریح : جب ہم اپنی زندگیوں پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ تو ہماری عبادت ہماری نیکی اور ہماری نیتوں سے بالکل بےنیاز ہے اس کو کسی بھی بندے کی عبادت سے کوئی بھی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ میں نے تم لوگوں کو اپنی نگاہ میں رکھا ہوا ہے۔ کوئی بھی مخلوق میری نگاہ سے چھپی ہوئی نہیں اس لیے میں ظاہری اور باطنی سب طرح سے ہر ایک شخص کو اچھی طرح دیکھ رہا ہوں جو نیکی اختیار کرتے ہیں ان کو بڑے انصاف سے قیامت کے بعد ہمیشہ والی زندگی میں بہترین انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور جو ظاہری نیکی کرتے ہیں نیت صاف نہیں ہوتی یا جو کھلم کھلا کفر کرتے ہیں۔ تو ان کی بھی ہر حرکت اور نیت کو میں بہت ہی اچھی طرح جانتا ہوں تو ان کو بڑے انصاف کے ساتھ قیامت کے بعد ہمیشہ رہنے والی زندگی میں درد ناک شدید قسم کا عذاب ضرور ہی دیا جائے گا۔ یہ سب باتیں اس اللہ کی کہی ہوئی ہیں جو بڑا ہی عظیم اور بڑی ہی قدرتوں والا ہے۔ جو بھی اس میں شک کرے گا تو وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور جو اللہ کی کہی ہوئی باتوں پر یقین کرے گا، اس سے ڈرے گا اور نیکی کی راہ اختیار کرے گا تو اس کا اپنا ہی فائدہ ہوگا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مطلب صرف اور صرف یہ ہے کہ ہر شخص اپنا محاسبہ کرے اپنے دن رات کے کاموں پر کڑی نظر رکھے ہر قدم پر اللہ کی رضا حاصل کرنے کی پوری پوری کوشش کرے کیونکہ اپنا کیا ہوا ہی صرف کام آئے گا۔ کوئی کسی کی مدد یا بچاؤ اللہ کے حکم کے بغیر نہ کرسکے گا یعنی نیک کیلئے انعام کا حکم اور بد کیلئے سزا کا حکم کوئی دوسرا تبدیل نہیں کرسکے گا۔ جو کمایا دنیا میں اسی کا بدلہ ملے گا۔ نہ کسی کی نیکیاں ضائع ہوں گی نہ کسی کی برائیاں ضائع ہوں گی ہر شخص اپنا اپنا بدلہ ضرور پائے گا۔ ” یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ وعدے کے خلاف نہیں کرتا “ (الزمر :20) کیا خوب وضاحت کی ہے شاعر نے۔ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری (علامہ اقبال (رح) )
Ayahs 39:22–27

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

بھلا جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کیلئے کھول دیا ہو اور وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی پر ہو تو کیا وہ سخت دل کافر کی طرح ہوسکتا ہے ؟ پس ان پر افسوس ہے جن کے دل اللہ کی یاد سے سخت ہو رہے ہیں اور یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

اللہ نے نہایت اچھی باتیں نازل فرمائی ہیں یعنی کتاب جس کی آیات باہم ملتی جلتی ہیں اور دہرائی جاتی ہیں۔ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے بدن کے رونگٹے ان سے کھڑے ہوجاتے ہیں پھر ان کے بدن اور دل نرم ہو کر اللہ کی یاد کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں یہی اللہ کی ہدایت ہے وہ اس سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہے اور ظالموں سے کہا جائے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے اس کا مزہ چکھو۔

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی تکذیب کی تھی (جھٹلایا تھا) تو ان پر عذاب ایسی جگہ سے آگیا کہ ان کو خبر ہی نہ تھی۔

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

پھر ان کو اللہ نے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھا دیا اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے کاش یہ سمجھ رکھتے۔

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

اور ہم نے لوگوں کو سمجھانے کیلئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

نرم دل لوگ قرآن سے ہدایت حاصل کرتے ہیں تشریح : جب ہم اللہ کہتے ہیں تو ہمیں اس سپر پاور کا خیال آتا ہے جس نے ہمارے لیے اس قدر ڈھیر ساری چیزیں بنا دی ہیں پانی جو زندگی کی انتہائی بڑی، ضروری اور اہم چیز ہے۔ وافر مقدار میں مفت ہی مفت اور انتہائی شاندار نظام کے ساتھ کھاری پانی بھاپ کے ذریعے پاک صاف اور میٹھا ہو کر دور دراز علاقوں تک بڑے مناسب وقت پر پہنچ جاتا ہے۔ برف، نہروں، چشموں، ندی، نالوں، دریاؤں، کنوؤں اور سمندروں کے ذریعہ کس قدر منظم طریقے سے ہر ہر جاندار کو ہر وقت بڑے مناسب طریقے سے ملتا چلا جاتا ہے۔ صرف یہ ایک نظام، پانی کی سپلائی کا دیکھ کر اس نظام کے بنانے والے اور چلانے والے کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ تو کیوں نہ اس کے شکریہ میں سجدے کیے جائیں۔ بس یہی وقت ہوتا ہے جب ایک شخص کا دل و دماغ توحید کی روشنی سے منور ہوجاتا ہے اور جب یہ نور دل و دماغ پر چھا جاتا ہے تو پھر انفرادی اور اجتماعی زندگی کچھ یوں ہوجاتی ہے۔ ایسا شخص مضبوط ارادہ رکھتا ہے ‘ قناعت اور بےنیازی اس کی فطرت بن جاتی ہے۔ تنگ نظری ‘ مایوسی ‘ شکستہ دلی یعنی ڈپریشن بالکل ختم ہوجاتی ہے اور ایسے شخص میں تواضع ‘ انکساری اور نفس کی پاکیزگی پیدا ہوجاتی ہے۔ اور یوں ایسا انسان ہر چیز میں اللہ کو تلاش کرنے لگتا ہے ہم نئے دور کے پروفیسر صوفیوں کی بات کرنے میں کوئی برائی نہیں سمجھتے انہوں نے چوٹی کے سائنسدان کے افکار کا نچوڑ پیش کیا ہے۔ ملاحظہ ہو : ” ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نئی دنیائے سائنس میں مذہبی نقطہ نظر بھی اتنی ہی محبت اور صداقت کا حامل ہے جتنا سائنسی نقطہ نظر، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس نئی سائنسی دنیا کے سب سے بڑے خالق آئن سٹائن کی نظر میں تو مذہبی فکر ہی سائنسی نقطہ نظر کا ماخذ اور رہبر ہے “۔ ( از مطالعہ قرآن ص 167 مصنف میجر جنرل غلام محمد ملک) زندگی کے کسی بھی شعبہ میں جب ایک معقول مرد مومن نکلتا ہے تو وہ ہر میدان میں اللہ کی خاص مدد اور فضل و کرم اور ایمان کی روشنی میں عام انسانوں کی کثیر تعداد پر بھی بھاری ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے۔ محسن انسانیت ﷺ اپنے مٹھی بھر جانثاروں کے ساتھ ایک ایسا عظیم الشان انقلاب برپا کرنے میں کامیاب ہوگئے جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ توحید کی ہی برکت، طاقت اور مدد ایسی ہے جو انقلاب کی ضمانت دے سکتی ہے۔ تمام دنیا کے مسلمان رہنماؤں، لیڈروں اور جماعتوں کو اس وقت بلکہ ہر وقت اور ہر زمانہ میں توحید کے زیر سایہ خود کو منظم کرنا چاہیے۔ شعر پیش خدمت ہے : توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے (مولانا محمد علی جوہر) ” نرم دلی مومن کی خاص صفت ہے۔ سیدنا مکحول (رح) نے فرمایا کہ ” لوگوں میں سب سے زیادہ نرم دل والا وہ شخص ہوتا ہے جس کے گناہ سب سے کم ہوں “۔ مکحول (رح) کے اس قول میں ایک عجیب روحانی و دینی ضابطے اور قانون کا ذکر ہے۔ وہ یہ کہ جس شخص کے گناہ جتنے کم ہوں گے وہ اتنا ہی نرم دل ہوگا۔ ثابت ہوگیا کہ گناہوں کی کثرت قساوت قلب (دل کی سختی) کا سبب بنتی ہے۔ (از گلستان قناعت۔ محمد موسیٰ روحانی بازی ) یہ تمام باتیں جو بیان کی گئی ہیں انسان کیلئے بےحد ضروری ہیں اسی لیے اس موضوع پر قرآن پاک میں بار بار پُر زور انداز میں لوگوں کو سمجھایا گیا ہے۔ اور بیشمار مثالیں دے دے کر سمجھایا گیا ہے۔ جیسا کہ آیت 27 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کیلئے ہر چیز کی مثال بیان کی تاکہ وہ دھیان کریں “۔ (الزمر)
Ayah 39:28

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

اور ہم نے دیا ہے ( انہیں) قرآن جو عربی زبان میں ہے جس میں ذرا کجی نہیں تاکہ وہ اللہ سے ڈریں

قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا تشریح : پچھلی آیات میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ قرآن پاک میں انسان، اس کی زندگی، زندگی گزارنے کے اصول اور پوری کائنات کے بارے میں بڑی وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے تاکہ بندے کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسی لیے پیغمبر کی زبان کے مطابق آسمانی کتاب نازل ہوتی ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ عرب میں پیدا ہوئے پلے بڑھے اور عرب ہی آپ کے ارد گرد رہتے تھے۔ ظاہر ہے مادری زبان کو سمجھنا بےحد آسان ہوتا ہے۔ پھر یوں سمجھ لیجئے کہ یہ قرآن کی ہی برکت ہے کہ عربی زبان 15 صدیاں گزر جانے کے بعد بھی تبدیل نہیں ہوئی جبکہ یہ اصولی بات ہے کہ ہر زبان وقت کے ساتھ ساتھ اس قدر بدل جاتی ہے کہ اس کی گرامر، تشبیہات، تمثیلیں ‘ محاورے بلکہ الفاظ کی شکل لہجہ اور معنی تک تبدیل ہوجاتے ہیں اور پانچ سو سال میں تو وہ یا معدوم ہوجاتی ہے یا بالکل ناقابل فہم ہوجاتی ہے۔ مگر سبحان اللہ قرآن کی زبان، عبارت اور لہجہ میں معمولی سا فرق بھی نہیں آیا اور یہ ایک معجزہ سے کم نہیں۔ ہم بڑے دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ عربی زبان نہ صرف فصاحت، بلاغت، ترنم اور جامعیت کے لحاظ سے بےمثال ہے بلکہ یہ ایک غیر متبدل (نہ بدلنے والا) ہونے کی خاصیت بھی رکھتی ہے۔ اس کی مثال موجودہ نشرواشاعت کے ادارے بھی ہیں۔ وہی معیاری زبان ریڈیو، ٹیوی اور رسائل و کتب میں استعمال کی جاتی ہے جس کی بنیاد 14 سو سال پہلے موجود تھی۔ لوکل لینگوئج میں کچھ تبدیلی ہو تو ہو سٹینڈرڈ زبان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ ایک خالص ترین زبان ہے، لہٰذا عربی زبان سے محبت کرنی چاہیے کیونکہ 1 نبی اکرم سیدنا محمد ﷺ کی زبان عربی ہے۔ 2 قرآن عربی میں ہے۔ 3 جنتیوں کی زبان عربی ہوگی۔ تو یہ سب باتیں ہیں قرآن کے عربی زبان میں نازل ہونے کی وجہ، عرب لوگ زبان کے بارے میں بڑے محتاط ہوتے تھے اور بعثت سے پہلے عرب میں شعر و شاعری کی بڑی زبردست محفلیں منعقد ہوتی تھیں اس زمانے میں جب آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور قرآن پاک کا نزول ہوچکا تو عام رواج کے مطابق سورة ٔ کوثر خانہ کعبہ کے دروازے پر لکھ کر لگا دی گئی۔ لبید بن ربیعہ جو کہ اس وقت ملک الشعراء کہلاتا تھا۔ اپنا کلام لے کر گیا کہ خانہ کعبہ کے دروازے پر لگاؤں جب اس نے سورة کوثر پڑھی تو کلام کی عظمت، بھیجنے والے کی عظمت اور لانے والے کی عظمت اس کے دل و دماغ پر یوں چھاگئی کہ سجدے میں گر پڑا اور ایمان لے آیا۔ قرآن کی جامعیت کی یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ اسی طرح سیدنا عمر ؓ کا ایمان لانا بھی قرآنی آیات کا ہی معجزہ تھا۔ بہر حال مقصد یہ ہے کہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ عربی زبان سیکھنے کی پوری پوری کوشش کرے کیونکہ غیر عربی لوگوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے علماء دین، فقہاء، محدثین اور بیشمار مترجمین کا بندوبست کر رکھا ہے، تاکہ کلام پاک کو غیر عربی لوگ بھی سمجھ سکیں اور اس پر عمل کرسکیں۔ جب انسان سمجھے گا تو پھر اللہ سے ڈر کر صاف ستھری زندگی گزارنے کا اہتمام کرے گا۔ اللہ ہمیں قرآن پڑھنے سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دے آمین۔ کیونکہ اللہ کا مقصد تو صرف ہمیں آخرت کے عذاب سے بچانا ہے۔ اس کو ہماری عبادت کی ضرورت نہیں۔ اس کی عبادت سے تو صرف ہمارا اپنا ہی بھلا ہوگا۔
Ayahs 39:29–31

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader

اللہ ایک مثال بیان کرتا ہے کہ ایک شخص ہے جس میں کئی آدمی شریک ہیں مختلف مزاج اور بد فطرت اور ایک آدمی ایک خاص شخص کا غلام ہے بھلا دونوں کی حالت برابر ہے ؟ نہیں ! سب خوبی اللہ ہی کیلئے ہے مگر اکثر لوگ ان میں سمجھ نہیں رکھتے۔

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ﷺ بیشک تم بھی اور یہ بھی مرجائیں گے۔

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ Open ayah 39:31 in the Quran reader

پھر البتہ قیامت کے دن تم سب اللہ کے سامنے جھگڑو گے

مومن اور کافر کی مثال تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی بات کو بڑے آسان اور عام فہم الفاظ میں یوں بیان کردیا ہے کہ اگر کوئی جاہل سے جاہل بندہ بھی اس پر غور کرے گا تو توحید کے نور سے منور ہوئے بغیر نہ رہ سکے گا۔ کتنی پیاری مثال ہے سب سے پہلے یہ یقین کرلیں کہ ہم اللہ کے ” عبد “ یعنی غلام ہیں۔ ہم اپنے آپ کو اس غلامی سے ہرگز آزاد نہیں رکھ سکتے اور دوسری بات یہ ہے کہ ہمارا آقا انتہائی مہربان، بہت قریب، مشفق، رہنمائی کر کے مشکلات سے بچانے والا اور ماں کی شفقت اور محبت سے کئی گنا زیادہ ہم سے محبت کرنے والا ہے۔ ہماری دعاؤں کو قبول کرنا۔ تکلیفیں دور کرنا، اونچ نیچ سے آگاہ کرنا ہماری تکلیفیں دور کرنا۔ تکلیفیں دینا کہ کہیں ہم راہ سے نہ بھٹک جائیں۔ لاپرواہ نہ ہوجائیں پھر سمجھانے کیلئے زیادہ سے زیادہ موقعے فراہم کرنا۔ توبہ کرنے پر معاف کردینا۔ یہ ہیں صفات ہمارے آقا کی۔ یہ تو تھوڑی سی صفات ہیں۔ تو کیا ایسا ایک آقا اچھا ہے یا کہ کوئی ظالم یا بہت سے آقا اچھے ہیں ؟ کہ کوئی ایک حکم دے اور کوئی دوسرا حکم دے اور بندہ درمیان میں پاگل ہو کر رہ جائے۔ اور اس کی زندگی اجیرن ہوجائے کہ کس کو خوش کرے اور کس کو خوش نہ کرے۔ چھوٹا سا بچہ بھی اس فرق کو سمجھ سکتا ہے کہ ایک اور مشفق آقا ہی بہترین ہے اور وہ ہے ” اللہ “۔ جو اس بات کو سمجھ سکتے ہیں وہ ہیں مومن اور مسلم مگر جو اس بات کو نہیں سمجھ سکتے اور بہت سے آقاؤں کو مانتے ہیں تو وہ ہیں مشرک ‘ کافر اور غیر مسلم۔ آخر میں یہ بات سمجھا دی گئی ہے کہ اللہ کے نظام کے مطابق ہر شخص ‘ پیغمبر ہو رسول ‘ نبی ‘ عالم فاضل ‘ ڈاکٹر ‘ سائنسدان ‘ کافر یا مسلمان سب نے ضرور مرجانا ہے۔ قیامت کے بعد میدان حشر ضرور قائم ہوگا۔ جہاں تمام لوگ دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے حضور حاضر ہوں گے۔ وہاں مومن تو بےفکر اور سکون میں ہوں گے مگر مشرک لوگ اپنے خودبنائے ہوئے آقاؤں سے جھگڑا کریں گے۔ ” وہ کہیں گے کہ تم نے ہمیں غلط راہ پر ڈالا “ جب کہ ان کے غلط رہنما اور جھوٹے خدا کہیں گے کہ ” ہم نے تو جو کیا سو کیا تم نے عقل سے کام کیوں نہ لیا۔ جاؤ ہم تمہیں نہ جانتے ہیں نہ پہچانتے ہیں۔ ہمارا تمہارے ساتھ کوئی واسطہ نہیں “۔