39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 39:32–41

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:32 in the Quran reader

تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ بولے اور سچی بات جب اس کے پاس پہنچ جائے تو اسے جھٹلائے کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں ہے ؟۔

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 39:33 in the Quran reader

اور جو شخص سچی بات لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ متقی ہیں۔

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ Open ayah 39:34 in the Quran reader

وہ جو چاہیں گے ان کے لیے ان کے رب کے پاس موجود ہے، نیکوکاروں کا یہی بدلہ ہے۔

لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 39:35 in the Quran reader

تا کہ اللہ ان سے ان برائیوں کو جو انہوں نے کیں ‘ دور کر دے اور نیک کاموں کا جو وہ کرتے رہے بدلہ دے۔

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ Open ayah 39:36 in the Quran reader

کیا اللہ اپنے بندے کیلئے کافی نہیں ؟ اور یہ تم کو ان لوگوں سے جو اس کے سوا ہیں یعنی غیر اللہ سے ڈراتے ہیں اور جس کو اللہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ Open ayah 39:37 in the Quran reader

اور جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ کیا اللہ غالب (اور) بدلہ لینے والا نہیں ہے ؟

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 39:38 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان و زمین کس نے پیدا کیے ؟ تو کہہ دیں گے : اللہ نے۔ کہو کہ بھلا دیکھو تو جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہچانی چاہے تو کیا وہ اس تکلیف کو دور کرسکتے ہیں ؟ یا اگر مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو وہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں ؟ کہہ دو کہ مجھے اللہ ہی کافی ہے۔ بھروسہ رکھنے والے اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 39:39 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے میری قوم ! تم اپنی جگہ عمل کیے جاؤ، میں اپنی جگہ عمل کئے جاتا ہوں عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا۔

مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 39:40 in the Quran reader

کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ Open ayah 39:41 in the Quran reader

ہم نے آپ پر کتاب لوگوں کی ہدایت کیلئے سچائی کے ساتھ نازل کی ہے تو جو شخص ہدایت پاتا ہے وہ اپنے بھلے کیلئے ہی ہدایت پاتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اور اے پیغمبر ! آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہو۔

سچوں اور جھوٹوں کے احوال تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات صاف ظاہر ہوجاتی ہے کہ مومن کی شان بہت بلند ہے اس کا رتبہ بڑا اونچا ہے اور اس پہ زندگی پُر وقار اور آخرت کی زندگی پُر آسائش، آرام دہ، بہترین اور ہمیشہ رہنے والی ہوگی ایسا کیوں نہ ہو کہ جب مومن کا آقا بہترین ہے جو مالک کون و مکان، واحدہ لا شریک، سب پر غالب، مالک یوم الدین، بہترین انصاف کرنے والا، شاندار عالی مرتبہ، غفور ورحیم، نعمتیں اور برکتیں دینے والا اور جنت و دوزخ کا مالک تو بھلا اس قدر علیم وخبیر اپنے بندوں کو کبھی اکیلا چھوڑ سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ البتہ اللہ سے منکر ہونے والوں کی یہ دنیا بھی خراب اور آخرت کی دنیا تو بہت ہی خراب ہوگی کیونکہ ان کو جن پر بھروسہ ہے جن کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ تو خود مجبور، بےبس، لاچار، محتاج اور اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ وہ بھلا کیا کسی کی مدد کریں گے ؟ اسی لیے تو ان کے لیے اور ان کو پوجنے والوں کیلئے دنیا بھی خراب اور آخرت تو بہت ہی خراب ہوگی۔ جب مسلمان اللہ پر پورا یقین رکھ کر زندگیاں گزارتے ہیں تو ان کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا ان کو ہر وقت ہر صورت صرف اور صرف اپنے پیدا کرنے والے بہترین خالق ومالک پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اور وہ کسی سے نہیں ڈرتے۔ نیک راہوں پر بےخوف ہو کر چلتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم نے آگ میں ڈالے جانے کے وقت کہا (حسبنا اللہ و نعم الوکیل) : میرے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کارساز ہے “۔ غزوہ بدر میں آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ نے بھی یہی کہا۔ دونوں دفعہ اللہ نے اپنی خاص مدد بھیجی اور ان کو کامیاب کیا۔ سو ثابت ہوگیا کہ زندگی میں اور زندگی کے بعد مومن کا سب سے بڑا ہتھیار ’ ’ لا الہ الا اللہ “ ہے۔
Ayahs 39:42–45

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 39:42 in the Quran reader

اللہ لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے اور جو مرے نہیں ان کی روحیں سوتے میں قبض کرلیتا ہے پھر جن پر موت کا حکم کر چکتا ہے ان کو روک رکھتا ہے اور باقی روحوں کو ایک وقت مقرر تک چھوڑ دیتا ہے، جو لوگ فکر کرتے ہیں ان کیلئے اس میں نشانیاں ہیں

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 39:43 in the Quran reader

کیا انہوں نے اللہ کے سوا اور سفارشی بنالیے ہیں کہو کہ خواہ وہ کسی چیز کا بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ کچھ سمجھتے ہی ہوں ؟

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 39:44 in the Quran reader

کہہ دو کہ سفارش تو سب اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اسی کیلئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔

وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 39:45 in the Quran reader

اور جب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تو ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں “

حیات بعد الموت کی دلیل تشریح : طبی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو نیند کا نظام جو اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے بلکہ تمام جانداروں کیلئے بنا رکھا ہے یہ جسم کیلئے اسی طرح ضروری ہے جس طرح ہوا، خوارک، پانی اور روشنی جانداروں کی بقا کیلئے ضروری ہے۔ نیند کے بارے میں بڑی تفصیل سے لکھا جا چکا ہے اب مختصراً عرض یہ ہے کہ جسم کے تمام اعضاء کو کچھ دیر کیلئے اس قدر سکون چاہیے ہوتا ہے کہ جس قدر سکون موت میں مل جاتا ہے۔ کیونکہ نیند میں روح کافی حد تک جسم سے علیحدہ ہوجاتی ہے۔ مگر اس کا رابطہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور معجزانہ نظام سے یوں رکھتا ہے کہ جو نہی جسمانی اعضاء کی تھکن دور ہوجاتی ہے، روح دوبارہ جانداروں کو چاک و چوبند کر کے اٹھا کھڑا کرتی ہے۔ ہاں جن کی موت کا وقت مقرر آچکا ہوتا ہے تو ان کی روحوں کا رابطہ جسم سے کاٹ دیا جاتا ہے۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کیونکہ یہ ہمارے لیے معمول کی بات ہے اس لیے عجیب نہیں لگتی ورنہ غور کرنے سے اللہ کی شان یاد آتی ہے۔ اللہ کی بہت بڑی بڑی حکمتوں میں سے یہ نیند بھی ایک لاجواب حکمت ہے۔ نیند بیشک موت کے قریب ہوتی ہے اسی لیے مثل مشہور ہے۔ ” ستا مویا اک برابر “۔ یعنی سویا ہوا اور مرا ہوا ایک برابر ہوتا ہے۔ حسیات کے لحاظ سے جسم بالکل ساکت ہوجاتا ہے مگر دل دماغ کچھ کچھ کام کرتے رہتے ہیں۔ یہ اور اسی طرح کی بیشمار مثالیں ان کے سامنے دن رات وجود میں آتی رہتی ہیں۔ مگر یہ مشرک و کافر عقل کے اندھے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی کو فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کوشش کرتے چلے جاؤ۔ مسلسل ان کو اللہ کی حکمتوں ‘ اختیارات اور بادشاہت کے بارے میں بتاتے چلے جاؤ۔ اور یہ بھی دہراتے جاؤ کہ اللہ ایک ہے اور مرنے کے بعداس کے پاس ضرور جانا ہے۔ آپ پرواہ نہ کریں کیونکہ ان لوگوں کی ذہنیت ہم خوب جانتے ہیں۔
Ayahs 39:46–52

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 39:46 in the Quran reader

کہو کہ اے اللہ ! اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ‘ پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے، تو ہی اپنے بندوں میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں

وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ Open ayah 39:47 in the Quran reader

اور اگر ظالموں کے پاس سب مال متاع ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اسی قدر اور ہو تو قیامت کے روز برے عذاب سے بچنے کیلئے بدلہ میں دیدیں اور ان پر اللہ کی طرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا ان کو خیال بھی نہ تھا

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 39:48 in the Quran reader

اور ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس عذاب کی وہ ہنسی اڑاتے تھے وہ ان کو آگھیرے گا۔

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:49 in the Quran reader

جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے پھر جب ہم اپنی طرف سے اس کو نعمتیں بخشتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے میرے علم اور دانش کی وجہ سے ملی ہیں۔ نہیں بلکہ وہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:50 in the Quran reader

جو لوـگ ان سے پہلے تھے وہ بھی یہی کہا کرتے تھے، تو جو کچھ وہ کیا کرتے تھے ان کے کچھ بھی کام نہ آیا۔

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 39:51 in the Quran reader

ان پر ان کے اعمال کے وبال پڑگئے اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ان پر ان کے عملوں کے وبال عنقریب پڑیں گے اور اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے۔

اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 39:52 in the Quran reader

کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی جس کیلئے چاہتا ہے رزق کو فراخ کردیتا ہے اور جس کیلئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں

اللہ کی کچھ اور قدرتیں تشریح : یہ باتیں اللہ تعالیٰ اپنے پیارے رسول کی زبان سے بار بار لوگوں کو سناتا ہے اور قرآن کے ذریعہ سے بار بار ہماری آنکھوں کے سامنے لاتا ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے قدرت والا ہے۔ اس کے برابر کوئی نہیں ہوسکتا یہ کوئی غلط یا انہونی بات نہیں کیونکہ ہم خود اور ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی یہ پوری کائنات ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ اس کو بنانے والا ایک ہی ہے ورنہ یہ نظم و ضبط جو کائنات کے کارخانے میں موجود ہے کبھی ایک سا نہ رہتا۔ وہ کیونکہ عالم الغیب ہے اور رحمن و رحیم ہے اس لیے بار بار بتا رہا ہے کہ نیکی کی راہیں اختیار کرو، شیطان کو دوست مت بناؤ کیونکہ نیکی کا راستہ جنت کو اور شیطان کا راستہ دوزخ کو جاتا ہے۔ یہ پکی بات ہے کہ قیامت آئے گی، حساب کتاب ہوگا تو پھر بھی انسان لاپرواہی اور سستی میں دن رات گزار رہا ہے۔ یعنی احمق ہے انسان کہ اتنے بڑے مالک کی بات اس کی سمجھ میں نہیں آرہی۔ اس کی مثال ہم یوں دے سکتے ہیں کہ بیماری کی حالت میں ڈاکٹر ہمیں صحت کی بحالی کیلئے کچھ چیزوں کے کھانے سے اور کاموں کے کرنے سے کچھ دنوں کے لیے منع کردیتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر صحت کی بحالی چاہتے ہو اور تندرست ہونے کے بعد سب کچھ ہمیشہ کھانا اور ہر کام ہمیشہ کرنا چاہتے ہو تو پھر چند دن، ہفتے یا مہینے احتیاط سے یہ کھاؤ یہ نہ کھاؤ، یہ کرو اور یہ نہ کرو۔ ہم اس کی نصیحت پر عمل کرتے ہیں اور ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ ہم ڈاکٹر کی بات کو اہمیت دیتے ہیں مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ اس رب اعلیٰ کی بات پر دھیان نہیں دیتے اور ہر اس کام کی طرف لپکتے ہیں جو آخرت میں عذاب کا باعث ہوگا۔ ہم اس رزق کیلئے دن رات جائز و ناجائز راستے اختیار کرتے رہتے ہیں جس کا ذمہ خود اللہ نے لے رکھا ہے۔ پیدا کرنا اور رزق دینا یہ تو اللہ رب العزت کا ہی کام ہے۔ ہاں اس کی بتائی ہوئی راہوں پر چل کر انتہائی احتیاط ‘ خلوص اور محنت سے ہر کام کرنا ہر شخص کا فرض ہے مگر ضروری ہے کہ اپنی سوچ میں سب سے اول یہ سوچ رکھے کہ یہ جہان فانی ہے یہاں سے سوائے اعمال کے کچھ بھی ساتھ نہ جائے گا۔ بیوی ‘ بچے ‘ مال اسباب سب یہاں ہی رہ جائے گا صرف نماز، روزہ، اعمال صالحہ، نیک نیتی، خلوص محبت اور ایمان کامل اللہ پر رسول پر اور آخرت پر ہماری نجات کا باعث بنیں گے۔ یہ بات سمجھنے کیلئے ایک چھوٹی سی مثال دیتی ہوں۔ ہمیں کوئیـ شخص جھوٹ موٹ کہہ دیتا ہے کہ دیکھو دیکھو تمہارے اوپر بچھو یا کیڑا چڑھ رہا ہے “۔ تو آپ بتائیں کہ آپ کس خوف اور پریشانی میں اٹھ کر کپڑے جھاڑنے لگتے ہیں ؟ تو کیا اللہ و رسول کی یہ اطلاع یا وارننگ آپ کے اندر کوئی خوف پیدا نہیں کرتی ؟ بیشک یہ دنیا طرح طرح کی خواہشات سے بھری پڑی ہے مگر ہماری نجات اور ہمارا فائدہ اسی میں ہے کہ ہم اپنے نفس کو قابو میں رکھ کر جائز خواہشات کو اللہ کے مقرر کردہ قانون کے اندر رہ کر پورا کریں تاکہ دنیا بھی کمائیں اور آخرت بھی کمائیں۔ کیوں نہ بہترین چیز کیلئے بد ترین چیز کو چھوڑ دیا جائے۔ انسانی نفس کے تین درجات ہیں۔ نفس امارہ ‘ نفس لوامہ اور نفس مطمٔنہ۔ نفس مطمنہ مومنین کی میراث ہے کیونکہ یہ لوگ بڑی آسانی سے خود کو شیطان سے بچا کر جنت کی راہ پر چل سکتے ہے۔ یہ بات اتنی ہی حقیقت پر مبنی ہے یعنی اتنی ہی سچ ہے جتنی کہ آپ خود کو کچھ دیر کیلئے سورج کی تیز دھوپ میں کھڑا رکھیں یا ابلتا ہوا پانی اپنے اوپر ڈال لیں۔ اگر یہ مشکل ہے تو جہنم کی آگ کس طرح برداشت ہوگی۔ جس کا ذکر قرآن پاک میں بیشمار دفعہ آچکا ہے۔ اور یہ بالکل سچ ہے، قرآن پاک میں اس طرح کی بیشمار آیات موجود ہیں مثلاً ” اور یہ کہ انسان کیلئے کچھ نہیں مگر وہ جس کی اس نے کوشش کی “۔ (سورۃ النجم آیت 39)
Ayahs 39:53–61

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

اے پیغمبر ! میری طرف سے لوگوں کو کہہ دو کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے نامید نہ ہونا اللہ تو سب گناہوں کی بخشش دیتا ہے اور وہ تو بخشنے والا مہربان ہے

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 39:54 in the Quran reader

اور اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمانبردار ہوجاؤ پھر تم کو مدد نہیں ملے گی

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

اور اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو اس بہترین کتاب کی جو تمہارے رب کی طرف سے تم پر نا زل ہوئی ہے پیروی کرو۔

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

کبھی کوئی شخص کہنے لگے : ہائے افسوس ! اس پر کہ میں اللہ کے حق میں کوتاہی کرتا رہا اور میں تو ہنستا ہی رہا۔

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

یا یہ کہنے لگے کہا گر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں ہوتا۔

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا جب عذاب دیکھ لے تو کہنے لگے کہ اگر مجھے دنیا میں ایک دفعہ پھرجانا ہو تو میں نیکو کاروں میں ہوجاؤں

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

اللہ فرمائے گا۔ کیوں نہیں تیرے پاس میرے حکم پہنچ چکے تھے۔ پھر تو نے ان کو جھٹلایا ‘ غرور کیا اور تو منکروں میں سے تھا

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ بولا تم قیامت کے دن دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہو رہے ہوں گے کیا غرور کرنے والوں کا ٹھکانا دوزخ میں نہیں ہے ؟

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

اور جو پرہیز گـارہیں ان کی سعادت اور کامیابی کے سبب اللہ ان کو نجات دے گا۔ نہ تو ان کو کوئی سختی پہنچے گی اور نہ وہ غم ناک ہوں گے

عذاب اور ثواب کے صاف صاف احکامات تشریح : ان آیات میں پھر یہی اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ غفور و رحیم ہے۔ جب بھی تمہارے دلوں کو اللہ کا پیغام بھا جائے تو اس کی طرف چل پڑو یہ نہ سوچو کہ اوہو تمام عمر تو کفر میں گزر گئی اب کیا ہوگا۔ اس مقام پر چند خاص باتیں اچھی طرح یاد رکھیں۔ 1 ۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہے توبہ کی شرائط پوری کرتے ہوئے توبہ کرو۔ 2 ۔ موت سے پہلے توبہ کرو کیونکہ موت کے وقت توبہ قبول نہ ہوگی۔ 3 ۔ قیامت کے دن یہ حیلہ ہرگز قبول نہ ہوگا کہ ہمیں تو معلوم ہی نہ ہوا کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آخری نبی ﷺ تک برابرنبی اور پیغمبر لوگوں کی ہدایت کیلئے مسلسل آتے رہے ہیں۔ 4 ۔ جو نیک کام کرنا ہے فوراً کرو کیونکہ موت اور قیامت یکدم آجائے گی جیسا حدیث میں ہے کہ جو شخص مرگیا اس کے لیے قیامت آگئی (مشکوٰۃ) زندگی کے ہر سانس کو مہلت سمجھو اور سدھر جاؤ۔ 5 ۔ قیامت کے بعد پچھتاوا کسی کام نہ آئے گا۔ 6 ۔ عذاب کو دیکھ کر دوبارہ دنیا میں آ کر نیکی اختیار کرنے کی خواہش بالکل بےکار ہوگی۔ کیونکہ یہاں کی زندگی بس ایک ہی دفعہ ہوگی۔ 7 ۔ اللہ کو جھٹلانے والے بڑے سخت عذاب میں ڈالے جائیں گے۔ 8 ۔ یاد رکھو اللہ ہر چیز کا نگہبان ہے کیونکہ ہر چیز اسی نے پیدا کی ہے۔ 9 ۔ نیک لوگ انتہائی سکون میں ہوں گے۔ 10 ۔ کفرو شرک سے اللہ کا کوئی نقصان نہیں ہوتا مگر کفروشرک کرنے والے کا سو فیصد اپنا ہی نقصان ہے۔ یہاں بھی اور وہاں بھی۔ جیسے موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں ایسے ہی قیامت کا وقت کسی کو معلوم نہیں اس لیے موت اور قیامت کو ہر وقت یاد رکھو گناہوں سے خود بخود ہی نجات مل جائے گی۔ موت کو تو ہم ہر وقت اپنی آنکھوں سے دن رات دیکھتے رہتے ہیں۔ اصل میں مرنے والے کی قیامت تو موت کے وقت ہی آجاتی ہے۔ رہ گئی پوری دنیا کی قیامت جس کو ہم بڑی اور فیصلہ کن قیامت کہتے ہیں۔ قرآن پاک نے تو اس کی تصدیق صدیاں پہلے کردی ہوئی ہے۔ مگر اب تو غیر مسلم تمام سائنسدان بھی اس بات پر متفق ہوچکے ہیں کہ ایک دن سورج ٹھنڈا اور بےنور ہوجائے گا سیارے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے اور دنیا تباہ ہوجائے گی۔ اس سے آگے تمام سائنسدان جتنا مرضی زور لگا لیں وقت کا تعین ہرگز نہیں کرسکتے ان کو تو اتنا بھی معلوم نہیں ہوتا کہ باہر کام سے نکلے ہیں اچھے بھلے تو واپس زندہ آئیں گے یا نہیں۔ قیامت کے وقت کا وہ کیا بتائیں گے۔ اسی طرح دوبارہ زندہ ہونا بھی ان کیلئے خاصہ مشکل مسئلہ بنا ہوا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب اللہ نے کہہ دیا، رسول ﷺ نے تصدیق کردی اور اولیاء کرام نے بھی تصدیق کردی اور کسی حد تک جدیدسائنس نے بھی کچھ تجربات کی روشنی میں مان لیا ہے (تفصیل گزر چکی ہے) تو پھر اللہ کے اس فرمان پر شک کرنا سوائے جہالت اور نقصان اٹھانے کے اور کیا ہوسکتا ہے ؟ عقل مند اور سچا مومن وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی اس پیشگی اطلاع پر ایمان لے آئے اور اس آنے والے اور ہمیشہ رہنے والے جہان کی تیاری پوری طرح اس زندگی میں کرلے۔ اس وقفہ سے پورا پورا فائدہ اٹھائے اور دنیا وآخرت کمالے۔ یہی سچے مومن کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ مضبوط عقیدہ کی وجہ سے اللہ کی کہی ہوئی بات دوزخ و جنت کا بیان کیا ہوا نقشہ اس کی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور دل میں اتر جاتا ہے پھر کون ہے جو جنت کی تمنا نہ کرے اور دوزخ کی راہوں پر چل نکلے لہذا ہم دعا گو ہیں کہ اے اللہ ہم تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتے ہیں۔ (صحیح مسلم)
Ayahs 39:62–66

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز کا نگران ہے

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں اور جنہوں نے اللہ کی آیتوں سے کفر کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے نادانو ! تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی کی پرستش کروں۔

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

اور اے محمد ﷺ تمہا ری طرف اور ان پیغمبروں کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں یہی وحی بھیجی گئی ہے ” کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے اعمال برباد ہوجائیں گے اور تم نقصان اٹھانے والوں میں ہوجاؤ گے۔

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

بلکہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور شکر گزاروں میں ہوجاؤ۔ “

شرک کی نحوست تمام اعمال کی بربادی تشریح : ان آیات میں یہ بات بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ عبادت کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہی ہر چیز کا خالق ہے اور اسی کے اختیار میں آسمانوں زمین کی کنجیاں ہیں۔ اس کے نبی ﷺ کی زبان اطہر سے مشرکین کو مخاطب کرکے یہ اعلان فرمایا ہے کہ تم لوگ مجھے غیر اللہ کی عبادت کا حکم دیتے ہو حالانکہ میری طرف سے اور مجھ سے پہلے تمام نبیوں کی طرف یہی وحی آئی ہے کہ جو اللہ کا شریک ٹہرائے گا اس کے تمام اعمال برباد کر دے جائیں گے۔
Ayahs 39:67–70

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کی قدر شناسی جیسی کرنی چاہیے تھی نہیں کی اور قیامت کے دن تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے اور وہ ان لوگوں کے شرک سے پاک اور عالی شان ہے

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور جب صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمان میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب بےہوش ہو کر گر پڑیں گے مگر وہ جس کو اللہ چاہے ‘ پھر دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو فوراً سب کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

اور زمین اپنے رب کے نور سے چمکنے لگے گی اور اعمال کی کتاب کھول کر رکھدی جائے گی ‘ پیغمبر اور گواہ حاضر کیے جائیں گے اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی۔

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور جس شخص نے جو عمل کیا ہوگا اس کو اس کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور جو کچھ یہ کرتے ہیں اس کو سب کی خبر ہے۔

مشرک اللہ کی قدر نہیں پہچانتے تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ شرک کی مذمت کے بعد مشرکین کے مرض کا سبب بتا رہے ہیں کہ ان لوگوں نے اللہ کی شان باالکل نہیں پہچانی۔ اگر یہ اللہ کے قدر شناس ہوتے تو کبھی اس کے ساتھ شرک نہ کرتے۔ حالانکہ ارض وسماء کی تخلیق اسی نے کی اور تباہی بھی اسی کی طرف سے ہوگی، جس وقت صور پھونکا جائے گا تو سب بےہوش ہو کر گر پڑیں گے اور پھر جب دوبارہ پھونکا جائے گا تو سب اٹھ کھڑے ہونگے۔ زمین اللہ کے نور سے چمک اٹھے گی، دفتر کھولا جائے گا، نبیوں اور دیگر گواہوں کی طلبی ہوگی اور لوگوں کے درمیان بالکل انصاف کیساتھ فیصلہ کردیا جائے گا۔