38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 38:1–26

صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ Open ayah 38:1 in the Quran reader

صۗ قسم ہے قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے ( کہ تم حق پر ہو)

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ Open ayah 38:2 in the Quran reader

مگر جو لوگ کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں ہیں

كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ Open ayah 38:3 in the Quran reader

ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا (تو وہ عذاب کے وقت) لگے فریاد کرنے اور وہ رہائی کا وقت نہیں تھا

وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ Open ayah 38:4 in the Quran reader

اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ہدایت کرنے والا آیا اور کافر کہنے لگے ” یہ تو جادوگر ہے جھوٹا

اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ Open ayah 38:5 in the Quran reader

کیا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے

وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ Open ayah 38:6 in the Quran reader

تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے اور بولے کہ ” چلو اور اپنے معبودوں کی پوجا پر قائم رہو، بیشک یہ ایسی بات ہے، جس سے ( تم پر کوئی فضیلت) مقصود ہے (یعنی بیشک اس بات میں کوئی غرض ہے)

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ Open ayah 38:7 in the Quran reader

یہ پچھلے مذاہب میں ہم نے کبھی نہیں سنا، یہ بالکل بنائی ہوئی بات ہے۔

ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ Open ayah 38:8 in the Quran reader

کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت کی کتاب اتری ہے نہیں بلکہ یہ میری نصیحت کی کتاب سے شک میں ہیں۔ بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ Open ayah 38:9 in the Quran reader

کیا ان کے پاس تمہارے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب اور بہت عطا کرنے والا ہے۔

اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ Open ayah 38:10 in the Quran reader

یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے، ان سب پر انہی کی حکومت ہے تو چاہے کہ رسیاں تان کر آسمانوں پر چڑھ جائیں۔

جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ Open ayah 38:11 in the Quran reader

یہاں شکست کھائے ہوئے گروہوں میں سے یہ بھی ایک لشکر ہے۔

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ Open ayah 38:12 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم، عاد اور میخوں والا فرعون اور اس کی قوم کے لوگ بھی جھٹلائے جا چکے ہیں۔

وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ Open ayah 38:13 in the Quran reader

ثمود اور لوط کی قوم اور بن کے رہنے والے بھی۔ یہی وہ گروہ ہیں۔

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ Open ayah 38:14 in the Quran reader

ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو میرا عذاب ان پر آ واقع ہوا۔

وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ Open ayah 38:15 in the Quran reader

اور یہ لوگ تو صرف ایک زور کی آواز کا جو مسلسل ہوگی انتظار کرتے ہیں۔

وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:16 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ” اے ہمارے رب ! ہم کو ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی دے دے

اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:17 in the Quran reader

) اے پیغمبر ! یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو۔ اور ہمارے بندے داود کو یاد کرو جو مضبوط تھے اور بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے۔

اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ Open ayah 38:18 in the Quran reader

) ہم نے پہاڑوں کو ان کے زیر فرماں کردیا تھا کہ صبح و شام ان کیساتھ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے۔

وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:19 in the Quran reader

اور پرندوں کو بھی کہ جمع رہتے تھے اور سب ان کے فرمانبردار تھے

وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ Open ayah 38:20 in the Quran reader

اور ہم نے ان کی بادشاہی کو مستحکم کیا اور ان کو حکمت عطا فرمائی اور ان کو خصوصیت کی بات کا فیصلہ سکھایا۔

وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ Open ayah 38:21 in the Quran reader

بھلا تمہارے پاس ان جھگڑنے والوں کی بھی خبر آئی ہے ؟ جب وہ دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے

اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ Open ayah 38:22 in the Quran reader

) جب وہ داؤد کے پاس آئے تو وہ ان سے گھبرا گئے انہوں نے کہا ” خوف نہ کیجئے ہم دونوں کا ایک مقدمہ ہے کہ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے تو آپ ہم میں انصاف سے فیصلہ کر دیجئے اور بےانصافی نہ کیجئے اور ہم کو سیدھا راستہ دکھا دیجئے

اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ Open ayah 38:23 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دنبی ہے یہ کہتا ہے کہ یہ بھی میرے حوالے کر دے اور بات چیت میں مجھ پر زبردستی کرتا ہے

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ Open ayah 38:24 in the Quran reader

انہوں نے کہا یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے بیشک تم پر ظلم کرتا ہے اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کرتے ہیں، ہاں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں “ اور داؤد نے خیال کیا کہ ( اس واقعہ) سے ہم نے ان کو آزمایا ہے تو انہوں نے اپنے رب سے مغفرت مانگی اور جھک کر گر پڑے اور اللہ کی طرف رجوع کیا۔

فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ Open ayah 38:25 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو بخش دیا اور بیشک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ Open ayah 38:26 in the Quran reader

اور داؤد ہم نے تم کو زمین میں بادشاہ بنایا ہے تو لوگوں میں انصاف کے فیصلے کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب تیار ہے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا۔

سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس عذاب کا بھی علم نہیں جو ہم نے ان کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ یہ تو ایسے بات کرتے ہیں جیسے تیرے رب کی رحمت کے تمام خزانے انہی کے قبضہ میں ہیں کہ جیسے چاہیں خرچ کریں۔ اور پھر زمین و آسمان کی بادشاہی انہی کے ہاتھ میں تو ہے۔ ان کو ان تمام قوموں کے بارے میں بتاؤ جو ان سے کئی گنا زیادہ طاقتور اور مضبوط تھیں مگر اپنی گمراہی کے سبب نیست و نابود ہوگئیں ان میں قوم نوح، قوم عاد، قوم فرعون، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم ایکہ یہ سب بڑی بڑی قومیں عذاب سے نہ بچ سکیں تو یہ کیا چیز ہیـں۔ یہ بھی اپنے انجام بد کے انتظار میں ہیں۔ فی لحال تو مذاقاً کہتے ہیں کہ ہمارا اعمال نامہ ابھی ہی ہمیں دے دیں۔ جب سامنے آئے گا تو ان کی سختی آجائے گی تو رب العزت آپ کو تسلی دیتے ہوئے سیدنا داؤد کی مثال دیتے ہیں کہ ان کو دیکھیں انہوں نے صبرو شکر سے کام لیا تو اللہ نے ان کو بیشمار نعمتوں سے نوازا۔ ان کا ذکر سورة سبا اور انبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں مختصراً دوبارہ صرف دلیل کے لیے کیا گیا ہے۔ سیدنا داؤد (علیہ السلام) کو حکمت، حکومت، نبوت، بہترین آواز، ہواؤں، پہاڑوں اور پرندوں پر قدرت دے رکھی تھی اور فیصلے بڑے اچھے کرتے تھے۔ معمولی بات پر فوراً استغفار کرتے اسی طرح یہاں بھی ان کی زندگی کا ایک واقعہ سبق دینے کے لیے ذکر کیا جا رہا ہے۔ ہوا یوں کہ ایک دن وہ اپنے کمرے میں مصروف عبادت تھے کہ اچانک دو آدمی دیوار پھلانگ کر بلااجازت اندر آکھڑے ہوئے۔ آپ سخت حیران ہوئے مگر انہوں نے کہا کہ ہمار ایک جھگڑا ہے فیصلہ کردیں تب انہوں نے دبنیوں والا جھگڑا آپ کے سامنے پیش کیا اور آپ نے فیصلہ کردیا اور وہ دونوں غائب ہوگئے۔ تب آپ کو احساس ہوا کہ کوئی غلطی ہوگئی ہے۔ فیصلہ کرتے ہوئے جو غلطی ہوئی وہ عجلت میں کیا گیا فیصلہ تھا جبکہ معاملے کی تہہ تک پہنچے بغیر فیصلہ کرنا بالکل جائز نہیں یعنی یک طرفہ فیصلہ۔ لہٰذا آپ فوراً سجدے میں گر پڑے اور اللہ سے مغفرت طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف کردیا اور آپ کو کچھ خاص ہدایات اللہ کی طرف سے دی گئیں جن میں تین بنیادی باتیں یہ تھیں۔ (از معارف القرآن ) 1۔ ہم نے آپ کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا ہے۔ 2۔ اس حیثیت سے آپ کا بنیادی کام حق کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ 3۔ اور اس کام کے لیے نفسانی خواہشات سے بچنا لازمی شرط ہے۔ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب لکھتے ہیں کہ ” ذمہ داری کے عہدوں میں سب سے پہلے دیکھنے کی چیز، انسان کا کردار ہے۔ یہیں سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ کسی شخص کو حاکم، قاضی یا کسی محکمے کا افسر بنانے کے لیے سب سے پہلے دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس میں اللہ کا خوف اور آخرت کی فکر ہے یا نہیں اور اس کے اخلاق و کردار کی کیا حالت ہے ؟ اگر یہ محسوس ہو کہ اس کے دل پر خوف خدا کی بجائے نفسانی خواہشات کی حکمرانی ہے تو خواہ وہ کیسی اعلیٰ ڈگریاں رکھتا ہو اور اپنے فن میں کتنا ماہر ہو پختہ کار ہو اسلام کی نظر میں وہ کسی اونچے منصب کا مستحق نہیں ہے۔ “۔ (از معارف القرآن جلد 7 ص 509) اسی طرح جب عام لوگوں کو دعوت دی جائے کہ کسی شخض کو کسی خاص ذمہ داری کے پورا کرنے کے لیے اپنی رائے کا اظہار کریں یعنی منتخب کریں تو لوگوں کو چاہئے کہ اس کو منتخب کرتے ہوئے پوری طرح تسلی کرلیں کہ آیا اس شخص میں وہ تمام صفات پائی جاتی ہیں یا نہیـں جن صفات کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ اگر کسی دباؤ میں آکر یا کسی لالچ میں آکر یا کسی بھی محبوری کی وجہ سے غلط انسان کو منتخب کرنے کے لیے اپنی رائے یا ووٹ دیا گیا تو یہ بہت بڑا گناہ ہوگا کیوں کہ اس سے متعلقہ محکمہ یا ادارہ کا ناقابل تلافی نقصان ہوجاتا ہے۔ اور اس نقصان کی ذمہ داری ووٹ دینے والے پر پڑتی ہے۔ غلط رائے چاہے وہ کسی بندے کے لیے ہو یا کسی مسئلہ کے لیے ہو بڑے گناہ کی بات ہے اور نقصان دہ بھی ہے۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ صاحب لکھتے ہیں کہ ” خود خلفاء کا بھی یہی معمول تھا۔ سیدنا ابوبکر ؓ ، سیدنا عمر ؓ ، سیدنا عثمان ؓ اور سیدنا علی ؓ کے متعلق ہمیں کثرت سے ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ کوئی پیچیدہ مقدمہ ان کے سامنے آتا جس کے بارے میں قرآن و حدیث میں وضاحت کے ساتھ کوئی قانون نہ ملتا تو اجتماع عام کیا جاتا۔ اس اجتماع میں ہر شخض رائے دینے کا مجاز تھا بڑا ہو یا چھوٹا مرد ہو یا عورت ہر ایک مشاروت میں شریک ہوسکتا تھا “۔ (از خطبات بہاولپور) ڈاکٹر موصوف مزید لکھتے ہیں کہ ” رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے بعد خلفائے راشدین کے دور میں ہمیں حکومت کی طرف اجتماعی مشورہ مفتیوں اور قاضیوں کی طرف سے انفرادی آراء کا ملنا نظر آتا ہے۔ “ تو یہ ثابت ہوگیا کہ انفرادی یا اجتماعی رائے دینا کس قدرذمہ داری کا کام ہے۔ جس میں ذرا سی لاپرواہی یا بدیانتی بڑے گناہ کے برابر ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ” جو لوگ راہ سے بھٹکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب تیار ہے۔ کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا “۔ (سورۃ ص آیت : 2)
Ayahs 38:27–29

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کائنات میں ہے اس کو بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ یہ ان کا گمان ہے جو کافر ہیں سو کافروں کے لیے دوزخ کی آگ سے ہلاکت ہے

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کیا ان کو ہم ان کی طرح کردیں گے جو ملک میں فساد کرتے ہیں یا پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کردیں گے

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

یہ کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں

کوئی چیز بےمقصد نہیں ہے تشریح : ان آیات میں بڑی پتے کی باتیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سمجھا رہا ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی زندگی بس ایک کھیل تماشہ ہے کھاؤ پیوعیش کرو اور بس مرجاؤ۔ تو ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس دنیا میں ہر چیز ہر کام کا دوسرے کے ساتھ تعلق ہے اسی طرح اس دنیا کا دوسری دنیا کے ساتھ تعلق ہے۔ اصل میں یہ دنیا خاتمہ کا نام نہیں بلکہ ایک دوسری دنیا کے شروع ہونے کا نام اور ذریعہ ہے۔ جب ہماری زندگی کی ابتدا ہوتی ہے تو ایک انتہائی باریک سپرم کے اندر ہماری پوری زندگی کا ٹائم ٹیبل لکھ کر رکھ دیا جاتا ہے۔ اس کو تقدیر کہتے ہیں۔ یہ تقدیر دراصل امتحانی پرچہ ہوتا ہے جو ہم نے اس دنیا میں رہنے کے دوران حل کرنا ہوتا ہے مثلا ہماری تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے کہ ہم غریب زندگی گزاریں گے تو دیکھا یہ جائے گا کہ اس غربت کی زندگی کو ہم نے صبر شکر کرتے ہوئے انتہائی نیک راہوں پر چلتے ہوئے، اللہ و رسول کے تمام احکامات پورا کرتے ہوئے اللہ کی رضا پر خوش ہو کر مطمئن زندگی گزارتے ہیں یا کہ ہر وقت اپنی غربت پر جلتے ہوئے اللہ کا شکوہ کرتے ہوئے دوسروں کو دیکھ کر حسدبغض اور نفرت کی آگ میں جلتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں یا پھر غربت کو دور کرنے کے لیے غلط اور ناجائز راستے اختیار کرتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں کتنا بڑا امتحان ہے یہ جو ہم دے رہے ہوں گے۔ اسی طرح اگر ہم امیر پیدا کیے جائیں تو بھی ہماری زندگی کا ہر عمل امتحان ہوگا۔ وہ اس طرح یہ دیکھا جائے گا کہ کیا ہم اس دولت و عزت کو اللہ کی نعمت سمجھ کر شکر ادا کرتے رہتے ہیں یا کہ اپنا کمال سمجھ کر نخوت اور غرور میں آجاتے ہیں اپنے سے کمتر لوگوں کو حقیر سمجھ کر بجائے ان کی مدد کرنے کے ان سے نفرت کرتے ہیں اور ان سے بات کرنا بھی اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ یا کہ انتہائی عاجزی و انکساری کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اللہ کے اس دیئے ہوئے مال و دولت کو اس کے مقرر کردہ احکامات کے مطابق خرچ کرتے ہیں اور انتہائی سادگی، سکون، محبت اور عبادت گزاری کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ اس طرح ہماری زندگی کا ہر لمحہ امتحانی پرچہ حل کرنے میں گزر جاتا ہے۔ اب اس پرچہ کا لینا کیا بےمقصد ہے ؟ ہرگز نہیں اللہ بڑا انصاف کرنے والا ہے۔ بھلا نیک و بد کو انعام اور سزا کیوں نہ دی جائے۔ بس اسی نتیجہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے دوسری زندگی کا بندوبست کیا ہے اور یہی مقاصد ہیں ہماری دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی کے۔ اس دنیا میں تو ایک ذرہ بھی بےمقصد پیدا نہیں کیا گیا انسان تو بہت بڑی مخلوق ہے۔ اس کی زندگی بےمقصد کیسے ہوسکتی ہے۔ دنیا میں بھی ہمیں ظلم و ناانصافی کا بدلہ مل جاتا ہے مگر بعض اوقات یہاں بظاہر ظالم کو ظلم کا بدلہ نہیں ملتا۔ تو کیا اللہ کا یہی انصاف ہے کہ ظالم و مظلو م، کافر و مومن، نیک اور بد، شریف اور خبیث سب برابر ہوجائیں ؟ ایسا نہیں ہوسکتا اللہ کا بڑا زبردست انتظام ہے اور وہ بڑا زبردست انصاف کرنے والا ہے۔ جو یہاں بدلہ پانے میں بچ جاتے ہیں ان کو آخرت میں بڑا زبردست بدلہ پانا ہوگا۔ وہاں کوئی بھی بچ نہ سکے گا۔ سب کی زبردست پوچھ گچھ ہوگی۔ یہی مقصد ہے اس دنیا کی زندگی کا اور پھر آخرت کی زندگی کا۔ اب قرآن کا مقصد بھی سن لیں۔ اس میں زندگی کے متعلق ہر نکتہ، ہر مسئلے کا حل اور ہر اونچ نیچ بڑی وضاحت سے بتا دی گئی ہے۔ جو لوگ اس میں تدبر اور تفکر سے کام لیتے ہیں وہی کامیاب ہیں۔ اب تھوڑا تدبر اور تفکر کو سمجھ لیا جائے۔ تدبر کا مطلب یہ ہے کہ ایک عام انسان جب قرآن پڑھتا ہے تو اس کو عبادت میں ایک خاص حسن، جامعیت، معقولیت اور ربط و ضبط نظر آتا ہے تو سمجھتا ہے کہ یہ کلام کسی خاص ہستی کا ہے جو انسانی خصوصیات سے بہت ہی بلند وبالا ہے۔ وہ کلام کو پڑھتا ہے اور جھوم جھوم جاتا ہے یہ تو ایک انسان کا عام طریقہ سے پڑھنے کا نتیجہ ہے لیکن یہی کام جب ایک مفکر یا عالم دین یا فلسفی کرتا ہے تو اس کا کام ذرا مختلف ہوتا ہے۔ وہ یوں کہ وہ عربی زبان سے واقفیت رکھتا ہے۔ علوم قرآن اور مقاصد قرآن سے اگاہی رکھتا ہے۔ اسلام سے واقفیت اور پابندی کا قائل ہوتا ہے۔ اخلاقی لحاظ سے بہت بلند ہوتا ہے۔ قرآن کی عظمت، پاکیزگی اور مفہوم کی باریکیوں سے واقف ہوتا ہے اور وہ شخص روحانی اور عملی زندگی میں ایک متقی، پاکیزہ اور بلند مرتبہ رکھنے والا انسان ہوتا ہے ایسا مفکر عالم دین جب قرآن پڑھتا ہے تو اس کی باریکیوں اور بہترین مقاصد کو خوب اچھی طرح سمجھ کر آسان الفاظ میں اس کو لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے تو یوں تدبر کا مطلب واضح ہوجاتا ہے۔ اب باری آتی ہے لفظ تذکر کی۔ تذکر کو ہم دو طرح واضح کرسکتے ہیں۔ تذکر کا مطلب ہے یاد کرنا۔ یہ بڑی عام سی بات ہے۔ کسی مضمون کو ہم غور سے پڑھتے ہیں تو جتنی دفعہ پڑھتے ہیں اس کا مطلب زیادہ سے زیادہ واضح ہوتا چلا جاتا ہے اور اس کی باریکیاں ذہن میں بیٹھنی شروع ہوجاتی ہیں اور جب ایک بات ذہن کے اندر بیٹھ جاتی ہے تو اس پر عمل بھی خود بخود ہونے لگتا ہے۔ اور اس طرح قرآن کے احکامات ہماری زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں اور یوں ہم ایک سچے مسلمان کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں۔ تذکر کا مطلب ہے نصیحت کرنا۔ اس سے قرآن کے مفہوم کو دوسروں تک پہنچانا مقصد ہے۔ یہ ذریعہ اس قدر بہترین ہے کہ جب ہم کوئی بات یا علم دوسرے کو سکھاتے ہیں تو یقینی طور پر مضمون کے اندر کچھ اور چھپے ہوئے نکات ہمارے سامنے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح نصیحت کرنے والے کے اپنے علم میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ یعنی درس و دتدیس ہمارے ذہن کو اور بھی مضبوط اور وسیع کرتے ہیں اور جو پیغام ہم دوسروں کو دیتے ہیں تو اس کے لیے زبان اور الفاظ زیادہ مستحکم اور معقول ہوتے چلے جاتے ہیں یوں قرآن کے احکامات ہماری زندگی کے اندر جذب ہوجاتے ہیں اور ہم بےاختیار ان کو اپنی عملی زندگی میں لانا شروع کردیتے ہیں اور جس قدر خود ہم ان کو اپنا کر نصیحت کرتے ہیں اسی قدر زیادہ ہماری نصیحت میں اثر پیدا ہونے لگتا ہے۔ جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ ” اگر کسی کو گڑ کھانے سے منع کرنا ہو تو پہلے خود گڑ کھانا بند کرو۔ “
Ayahs 38:30–33

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کئے بہت خوب بندے تھے اور وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

شام کو جب ان کے سامنے بہت اچھے گھوڑے لائے گئے (الصفنات یعنی ایسے گھوڑے جو تین قدموں پر کھڑے ہوتے ہوں اور چوتھے قدم کے سم کا کنارہ زمین پر ٹیکتے ہوں) ۔

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

تو کہنے لگے میں نے دوست رکھا مال کی محبت کو اپنے رب سے محبت (کی وجہ) سے، پھر انہیں چلانے کا حکم دیا یہاں تک کہ آنکھوں سے اوجھل ہوگئے۔

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

(حکم دیا) کہ انہیں واپس لاؤ میرے پاس تو ہاتھ پھیرنے لگے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر۔

سیدناسلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ تشریح : سیدنا داؤد (علیہ السلام) کے اوپر جو کچھ عنایات اللہ کی طرف سے کی گئیں اُ ن میں سے ایک نعمت بہت اچھے بیٹے کی بھی دی گئی۔ ان کا نام سیدنا سلیمان (علیہ السلام) تھا۔ آپ کو بھی نبوت، حکومت اور بہت سی نعمتیں دی گئی تھیں۔ آپ کا ذکر سورة بقرہ، بنی اسرائیل، انبیاء، نمل اور سبا میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں دوبارہ مصلحتاً دہرایا جا رہا ہے۔ تاکہ اللہ کی مہربانیاں اور اچھے انسانوں کی خوبیاں بیان کی جاسکیں۔ آپ کی تسلی کیلئے ان آیات کے ترجمہ و تفسیر میں بےحد اختلاف ہے۔ تذکرۃ الانبیاء محترم حافظ قاضی عبد الرزاق صاحب اور تفہیم القرآن کی روشنی میں مجھے کچھ یوں مناسب لگا ہے کہ جب سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے ان کے پسندیدہ بہترین گھوڑے لائے گئے تو وہ ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اللہ کی حمد وثناء کرتے ہوئے انہوں نے ان کو بڑے پیار سے دیکھا اور اللہ کی دی ہوئی (ان بہترین گھوڑوں کی) نعمت پر شکر بجا لائے غرور نہیں کیا اور فرمانے لگے ” کیونکہ ان پر بیٹھ کرا اللہ کی راہ میں جہاد کیا جاتا ہے اس لیے یہ مجھے اور بھی زیادہ پسند ہیں “۔ پھر ان گھوڑوں کو دوڑانے کا حکم دیا جب وہ آنکھوں سے اوجھل ہوگئے تو واپس لانے کا حکم دیا۔ جب وہ واپس لائے گئے تو انتہائی محبت، شفقت اور خوشی سے ان کی پنڈلیوں کو جھاڑنے لگے اور ان کی گردنوں پر تھپکی دینے لگے مگر دل اللہ کے شکر اور محبت سے بھرا ہوا تھا۔ تو یہاں یہی بتایا گیا ہے کہ اس قدر نعمتیں، برکتیں، عزتیں اور آسائشیں حاصل کرنے کے باوجود غرور کا نام تک نہیں بلکہ ہر دم اللہ کا شکر ادا کرتے تھے کیونکہ وہ اللہ کے پسندیدہ نیک اور برگزیدہ انسان تھے۔ جیسا کہ آپ کے والد سیدنا داؤد (علیہ السلام) تھے۔ مگر ان کو بھی اللہ نے آزمائش میں ڈالا اور ان کا محاسبہ بھی کیا۔ تو انہوں نے فورا استغفار کیا اور اللہ نے ان کو معاف کردیا۔
Ayahs 38:34–35

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے سلیمان کو آزمایا کہ ہم نے اس کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے اللہ کی طرف توجہ کی۔

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

اور یوں دعا کی کہ ” اے میرے رب ! میری مغفرت کر دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا کر کہ میرے بعد کسی کے شایان شان نہ ہو بیشک تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے

سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش اور بخشش تشریح : اس میں بھی بڑی مختلف آراء ہیں، لہٰذا بیشمار مستند تفاسیر کی روشنی میں اور ترجمہ کی مناسبت سے میری سمجھ میں تو کچھ اس طرح آیا ہے کہ آپ ایک مرتبہ شدید بیمار ہوگئے اور کمزوری کی وجہ سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئے یوں لگتا تھا کہ آپ کے تخت پر ایک بےجان جسم پڑا ہوا ہے۔ تب آپ نے اللہ جل شانہ سے دعا کی اور آپ کی صحت و تندرستی واپس آگئی اور آپ نظام حکومت کو پہلے سے بھی زیادہ اچھی طرح چلانے لگے اور سب سے مختلف حکومت آپ کو ملی وہ اس طرح کہ جنات بھی آپ کے تابع کردیئے گئے تھے اور وہ آپ کے حکم کے منتظر رہتے۔ کچھ اور نعمتیں بھی آپ کو دی گئیں ملاحظہ ہو۔
Ayahs 38:36–40

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

پھر ہم نے ہوا کو ان کے زیر فرمان کردیا کہ جہاں وہ پہنچنا چاہتے نرم نرم چلنے لگتی ان کے حکم کے مطابق۔

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور سب جن بھی ماتحت کردیے کوئی معمار اور کوئی غوطہ خور۔

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور ان کے علاوہ ( جو سرکش تھے) باندھ دیئے گئے زنجیروں میں۔

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

(اے سلیمان ! ) یہ ہماری بخشش ہے چاہو تو احسان کرو چاہو تو رکھ چھوڑو، تم سے کوئی حساب نہ ہوگا۔

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

بیشک ان کو ہمارے ہاں بڑا قرب حاصل ہے اور خوبصورت انجام

سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر انعامات تشریح : یہ آیات شان کریمی کی روشن دلیل ہیں۔ اللہ کو نخوت غرور نا شکری اور تکبر بےحد ناپسند ہے وہ ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی عذاب دیتا ہے اور آخرت میں بھی عذاب ضرور ملے گا۔ اس کے مقابلہ میں استغفار، شکر، عاجزی، انکساری اور فرمانبرداری اس قدر پسند ہے کہ جس کی مثال سیدنا سلیمان ہیں۔ جب انہوں نے صبر و شکر سے استغفار کیا اور دعا مانگی تو ان کی منہ مانگی دعا قبول ہوگئی واقعی آج تک کسی کو ہواؤں، جِنوں اور پھر تمام نعمتوں کو خرچ کرنے پر حساب کتاب سے آزادی نہیں ملی۔ آپ کو پورا اختیار دیا گیا تھا کہ اپنی مرضی سے ہواؤں کو چلاؤ اور جنوں کو بھی آپ کے قبضہ میں کردیا گیا تھا۔ کچھ جِن عمارتیں بناتے کچھ سمندروں سے قیمتی موتی نکال کر لاتے اور جو شیطان اور نافرمان جِن تھے ان کو قید کرنے کا اختیار اور طاقت بھی آپ کو دی گئی تھی۔ یہ طاقت واقعی آپ کے سوا کسی بادشاہ کو نہیں دی گئی اور نہ ہی دی جائے گی۔ اور پھر آخر میں فرمایا کہ ” یقینا اس کے لیے ہمارے ہاں تقرب کا مقام اور (اچھا ٹھکانا ہے) بہتر انجام ہے۔ “ (آیت 40 )