40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 40:1

حٰمٓۚ Open ayah 40:1 in the Quran reader

حا۔ می ... م

1۔ حروف مقطعات کی بحث سورة البقرہ کی پہلی آیت کے تحت گزر چکی ہے اگر یاد نہ رہی ہو تو وہیں سے ایک بار پھر ملاحظہ کرلیں۔ (حم) سے شروع ہونے والی اس جگہ مسلسل سات سورتیں ہیں اور ساتوں مکی ہیں اور ساتوں ہی کا مزاج یکساں ہے اور ایک ہی جیسے مضمون ان میں بیان کیے گئے ہیں اگرچہ معروف ناموں کے لحاظ سے وہ الگ الگ ہیں اور ان سب کا دیباچہ سورة الزمر ہے۔
Ayah 40:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتاری گئی ہے جو غالب آنے والے جاننے والا ہے

یہ کتاب غالب آنے والے اور سب کچھ جاننے والے سے نازل کی گئی ہے 2۔ سب پر غالب اور سب کچھ جاننے والا کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ یہ کتاب اللہ تعالیٰ نے ہی نازل کی ہے کوئی اس بات کو تسلیم کرے یا نہ کرے۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے لیے آخری پیغام ہدایت ہے وہ سارے مخالفین کی ہدایت کا اہتمام کرتا ہے اور ہدایت کے اہتمام کے ساتھ مخالفین کے لیے ایک طرح کی تنبیہ بھی ہے۔ بلاشبہ یہ اس لیے اتارا گیا ہے کہ لوگ اس کی قدر کریں اور اس سے ہدایت و راہنمائی حاصل کریں لیکن اگر انہوں نے اس سے ہدایت و راہنمائی حاصل نہ کی تو ایسا کرکے وہ قرآن کریم کا یا اس کے بھیجنے والے کا یا جس کے سینہ اقدس پر وہ نازل ہوا ہے اس کا کوئی نقصان نہیں کریں گے ، نقصان جو ہوگا وہ فی الواقع ان کا اپنا ہوگا جنہوں نے اس کی مخالفت کی خواہ وہ قولی مخالفت کریں یا عملی۔ قرآن کریم اس ذات سے نازل کیا گیا ہے جو سب پر غالب آنے والا ہے وہ مخالفت کرنے والوں کو اس دنیا میں سزا دے سکتا ہے اور آخرت میں بھی اور کوئی اس کا ہاتھ روکنے والا نہیں ہو سکتا خواہ وہ کون ہو اور کہاں ہو اور بلاشبہ وہ عزیز ہونے کے ساتھ سب کچھ جاننے والا بھی ہے لہٰذا وہ مخالفین ومعاندین کو خوب جانتا ہے اور کوئی اس کے احاطہ علم سے باہر نہیں۔ خیال رہے کہ قرآن کریم اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے انسانوں کی طرف درخواست نہیں کہ وہ اسے ضرور منظور کریں بلکہ حکم عام ہے جو مانے گا انعام کا حق دار ہے اور جو قبول نہیں کرے گا اس کے کان پکڑا کو جوتے لگائے جائیں گے خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہوا اور کہاں ہوا۔
Ayah 40:3

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے ، سخت عذاب دینے والا ہے (اور) بڑی قوت والا ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں (اور) اس کی طرف (سب کو) واپس جانا ہے

ہاں ! اس کا نازل کرنے والا گناہوں کا بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا بھی ہے۔ 3۔ گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات بیان کی گئی تھیں ، ایک یہ کہ وہ زبردست ہے اور دوسری یہ کہ وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔ زیر نظر آیت میں تین مزید صفات بیان کی جا رہی ہیں کہ وہ گناہوں کو بخشنے ولا۔ توبہ قبول کرنے والا۔ سخت سزا دینے والا ہے جو صاحب قدرت بھی ہے اور صاحب احسان بھی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ سورة الزمر کے آخر میں کفار کے ہولناک انجام کا ذکر کیا گیا تھا اب اپنی مغفرت ورحمت کی نوید سنائی جا رہی ہے کہ وہ مایوس نہ ہوں کیونکہ وہ غافر الذنب یعنی گناہوں کا معاف کرنے والا بھی ہے اگر کوئی معافی طلب کرے بلاشبہ وہ شخص جو معافی طلب کرے وہ اس کے گناہوں کو ڈھانپ دے گا اور اس کی پردہ پوشی کرے گا اور کوئی شخص کتنا ہی گناہگار اور بدکردار کیوں نہ ہو جب وہ اپنے کیے پر نادم ہوجائے اور اعتراف کرتے ہوئے بخشش کا طالب ہو تو وہ اس کے گناہوں کو اپنی رحمت کی بارش سے دھو کر صاف کردیتا ہے۔ توبہ کیا ہے ؟ خیال رہے کہ توبہ چار چیزوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ 1۔ گناہوں کا برا سمجھ کر چھوڑ دینا 2۔ جو فروگزشتیں ہوچکی ہیں ان پر دل سے شرمسار ہونا 3۔ دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنا 4۔ جہاں تک ممکن ہو گزشتہ اعمال کا تدارک کرنا۔ یہ جو ہمارے ہاں رواج ہے کہ کوئی بات ظلم و زیادتی کی سنی یا کوئی حادثہ ایسا رونما ہوا جو دیکھا یا سنا تو منہ سے ایک دو بار یا بار بار توبہ توبہ کہہ دیا اور سمجھے کہ ہم نے توبہ کرلی تو بس تائب ہوگئے یا زبان سے استغفر اللہ ۔ استغفر اللہ کہ دیا اور عمل کے وقت کام بدستور اسی طرح کرتے رہے تو اس طرح بھی توبہ نہیں ہوتی۔ ( شدید العقاب) کہہ کر واضح کردیا کہ اس کا عذاب بھی بہت سکت ہے اور وہ اپنے قانون کے مطابق عذاب دینا چاہے اور عذاب میں کسی کو پکڑ لے تو کوئی جو اس کی پکڑ سے چھڑا سکے اس طرح وہ (ذی الطول) بھی ہے طول فضل و کرم اور انعام و احسان کو کہا جاتا ہے مطلب یہ ہے کہ وہ صاحب فضل و کرم بھی ہے کہ اس نے مہلت دے رکھی ہے ، گناہ کرتے ہی کسی کو پکڑ نہیں لیتا بلاشبہ یہ اس وجہ سے ہے کہ انسان توبہ کرے اور وہ اس پر احسان و انعام کر دے اور اس کو معاف فرما دے کہ ہر انسان اس کا پروردہ ہے ، اسی کا بندہ ہے اور ہر انسان کا وہی پروردگار ہے۔ اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور ان صفات کا مالک بھی ہے تو وہ اپنی اس غلط فہمی کی اصلاح کرلے۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جو ان صفات کا حامل ہو اور قیامت کے روز ہم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اسی طرح زیر نظر آیت میں اطاعت گزاروں کے لیے مزدہ جانفزا ہے اور عاصی ونافرمانوں کے لئے سززنش ہے۔
Ayah 40:4

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

اللہ کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں ، پس آپ کو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا دھوکے میں نہ ڈال دے

اللہ تعلایٰ کی آیتوں میں کافروں کے سوا کوئی جھگڑا نہیں ڈالتا 4۔ ( یجادل) ج د ل سے ہے اور جدل کے معنی جھگڑنے کے ہیں۔ جھگڑا کیا ہے ؟ بغیر کسی دلیل وحجت کے اپنی بات پر ڈٹے رہنا اور دوسرے شخص یعنی مقابل کی دلیل وحجت کو بغیر کسی دلیل وحجت کے ٹھکرا دینا اور مقابل پر چھاجانے کو کوشش کرنا اور پیچ وتاب کھانا۔ ( آۃ یات اللہ) سے مراد اس جگہ قرآن کریم ہی کی آیات ہیں۔ کافر کون ہے ؟ وہی جو اللہ تعالیٰ کی آیات کو اللہ تعالیٰ کی آیات تسلیم نہ کرے اور اپنی بات کو بغیر کسی دلیل وبرہان کے درست سمجھے یہی آیات اللہ کی تکذیب کرنا ہے۔ یہ مقام بہت نازک ہے اور اس کا سمجھنا بھی بہت ضروری ہے۔ مثلا یہ کہ کافر قرآن کریم کو اللہ کی کتاب تسلیم نہیں کرتے تھے اور کھلے الفاظ میں یہ بات کہتے تھے کہ یہ خود محمد ﷺ نے گھڑ لی ہے یا یہ کہ کوئی دوسرا شخص اس کے پاس آتا ہے وہ اس کو جو کچھ سکھاتا ہے وہ اپنے زبان میں اس کو کہہ دیتا ہے۔ کفار کی اس بات کا جواب ان کو یہ دیا گیا کہ اٹھو تم بھی اس جیسا کلام گھڑ لائو اور اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے سارے فصحاء بلغاء کو جمع کرلو اور اس معاملہ میں ان سے مدد لو ، اٹھو اور جلدی کرو تاکہ اس بات کا فیصلہ ہوجائے پھر کچھ عرصہ کے بعد ان سے صرف دس سورتوں کا مطالبہ کیا گیا اور مزید کچھ عرصہ کے بعد صرف ایک سورت گھڑ کر لانے کا ان کو کہا گیا لیکن ان میں سے ایک نے بھی اس کی جرات نہ کی اور اپنی بات سے بھی وہ باز نہ آئے اور جھگڑا بدستور جاری رکھا۔ یہ کہ انہوں نے بشر کے رسول ہونے سے انکار کیا اور نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو کھاتا پیتا ، چلتا پھرتا اور اپنے دنیوی کام بھی خود کرتے دیکھ کر انہوں نے یہ کہا کہ بھلا جو انسان ہو اور کھائے پئے ، بازاروں میں خود جا کر سودا سلف خریدے وہ کبھی نبی ورسول ہو سکتا ہے ؟ ان سے کہا گیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کوئی پہلا رسول دنیا میں نہیں آیا آپ سے پہلے بھی بہت سے نبی ورسول گزر چکے جن میں سے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کو تم بھی نبی ورسول تسلیم کرتے ہو کیا اس بات کی کوئی دلیل پیش کرسکتے ہو کہ وہ انسان نہیں تھے اور نہ ہی وہ کھاتے پیتے اور سودا سلف خریدتے تھے۔ انہوں نے اس کے لیے کوئی دلیل نہ دی جس سے یہ بات ثابت ہوجاتی کہ فی الواقع نبی کریم ﷺ سے پہلے آنے والے انسان نہیں تھے یا ان کے ساتھ یہ ضرورتیں نہیں تھیں پھر نہ ہی انہوں نے اپنے نظریہ کے ثبوت میں کوئی دلیل پیش کی اور نہ ہی اپنے نظریہ سے دست بردار ہوئے۔ یہ کہ انہوں نے بیسیوں نہیں بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں اپنے حاجت روا اور مشکل کشا بنا رکھے تھے یہاں تک کہ جن بزرگوں کے متعلق ان کا یہ نظریہ تھا ان کے بت بنا کر بطور نشان اپنے سامنے رکھتے تھے قرآن کریم نے ان سے پوچھا کہ ان آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے ولا کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا ” اللہ “ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں موجود ہے ان سب کا خالق ومالک اور رب کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ” اللہ “ قرآن کریم نے پوچھا پھر تم نے جن کو اپنے حاجت روا اور مشکل کشا بنا رکھا ہے انہوں نے سارے نظام میں کیا کیا ہے جو تم ان کو حاجت روا ٹھہراتے ہو تو انہوں نے صاف صاف جواب دیا کہ ہم ان کی عبادت نہیں کرتے ان کے نام کی نذریں اور نیازیں نہیں دیتے مگر محض اس لیے کہ یہ لوگ ہم کو اللہ کے قریب ونزدیک کردیتے ہیں ان کو جواب دیا گیا کہ اللہ اور بندے کے درمیان تو کوئی فاصلہ ہی نہیں اور جب دوری ہے ہی نہیں تو یہ تم کو نزدیک و قریب کیا کریں گے جب کہ اللہ ہر انسان کی شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے تو انہوں نے نہ تو اس کی کوئی دلیل دی اور نہ ہی قرآن کریم کی دلیل کو دلیل وحجت مان کر اپنے نظریہ چھوڑا اور یہ جھگڑا بدستور جاری رکھا۔ اس طرح کی بیسیوں نہیں بلکہ سینکڑوں سے بھی متجاوز باتیں ہیں جو قرآن کریم نے ان کو سمجھائیں لیکن انہوں نے اپنے کفر کے باعث ان کو کبھی سمجھنے کی کوشش نہ کی اور اپنے غلط نظریات بغیر کسی دلیل وبرہان کے بدستور قائم رکھے زیادہ سے زیادہ کہا تو یہ کہا کہ یہ سب کچھ ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں اور اب بھی لوگوں کی اکثریت ان کو کر رہی ہے اور کیا ہم قرآن کریم کی ان تعلیمات کو تسلیم کر کے اپنے باپ دادا اور لوگوں کی اکثریت کو غلط مان لیں یہ نہیں ہو سکتا لہٰذا ہم کہیں گے کہ یہ قرآن کریم نہ اللہ کی کتاب ہے اور نہ ہی اللہ نے اس کو محمد ﷺ پر نازل کیا ہے۔ انہی لوگوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں نہیں جھگڑا کرتے مگر وہ لوگ جو کافر ہیں۔ مطلق بحث و تکرار سے منع نہیں کیا جا رہا کیونکہ بحث و تکرار کبھی افہام و تفہیم کے لیے کبھی کوئی مشکل مسئلہ حل کرنے کے لیے کبھی کسی غلط فہمی کے ازالہ کے لیے اور اس طرح منکرین حق کے اعتراضات کا جواب دینے کے لیے ہوتا اور یہ بحث و تکرار مستحسن ہے اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کی سنت ہے اور قرآن کریم میں دوسری جگہ (وجادلھم بالتیھی احسن) ( النحل 16 : 125) کہہ کر خود نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو حکم دیا ہے جس کی وضاحت ہم آیت کے اصل مقام پر کرچکے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بہت سے مذہبی گروہوں نے جو اپنے اپنے گروہ کو تحفظ دینے کے لیے نظریات گھڑ لیے ہیں ان نظریات میں سے کسی کے نظریہ کی تغلیط کی جائے تو وہ چیخ اٹھتا ہے کہ دیکھو اس نے ایسا جدال اور مناظرہ شروع کردیا ہے جس سے اس کا مقصد فضول شبہات پیدا کر کے حق کو مشکوک کرنا ہے ، آیات الٰہی میں باہمی تناقض ثابت کرنا ہے۔ آیات الٰہی کی تضحیک کرنا ہے۔ اس شخص نے جدال کی جرات کر کے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور ایمان رکھنے سے روک دیا ہے یا کم از کم ان کے ایمان کو متزلزل کردیا ہے اس طرح کی لفاظی کسی کے دل کو کتنی ہی اچھی لگے حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ حق کو چاہے کوئی کتنا ہی مشکوک کرنے کی کوشش کرے وہ کبھی مشکوک نہیں ہو سکتا اور جو مشکوک ہوجائے وہ کبھی حق نہیں ہوتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی آیات میں تناقض نام کی کوئی چیز موجود ہیں نہیں ہے پھر جب ایک چیز کا وجود ہیں نہیں تو کوئی ثابت کیا خاک کرے گا اور اگر آیات الٰہی میں کوئی تناقض ثابہت ہوجائے تو یقینا اس کی تفہیم میں کسی سے غلطی سرزد ہوئی ہے اور کسی کی تفہیم کا نام آیات الٰہی نہیں ہے آیات الٰہی اللہ تعالیٰ آیات کا نام ہے جن میں کوئی تناقض ثابت کر ہی نہیں سکتا اگر کہیں تناقض ہے تو وہ محض آیات الٰہی میں تناقض ثابت نہیں ہوتا اور اس طرح اللہ اور اس کے رسول پر سچے دل سے ایمان لانے والوں کو کوئی ہزار کوشش بھی کرے تو وہ روک نہیں سکتا ہمیشہ روکنے والا منہ کی کھاتا ہے یہاں تک کہ ایمان لانے والا مر سکتا ہے قتل ہو سکتا ہے لیکن ایمان سے اس کو کوئی نہیں پھیر سکتا۔ اس لیے اس طرح کے الزامات لگا کر غلط نظریات کی تشہیر کو جاری نہیں رکھا جاسکتا اور نہ ہی غلط نظریات کو تسلیم کرایا جاسکتا ہے اور نہ کسی کے لیے جائز ہے کہ وہ اس خطرہ کے باعث حق اور ناحق کو پرکھنا ترک کر دے اور جو کوئی بات کہے اس کی ہاں میں ہاں ملاتا رہے جیسے آج کل کی ملائیت کر رہی ہے۔ ایک صورت حال مدت سے چلی آرہی ہے کہ جن لوگوں کو مال و دولت اور عزت ووقار اور دنیاوی عیش و آرام میسر ہوتا ہے ان کے متعلق عام تصور یہی کیا جاتا ہے کہ ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا بہت فضل ہے حالانکہ ان چیزوں کی بہتات ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل ہی سے نہیں ملتیں بلکہ بعض اوقات آزمائش وامتھان کے طور پر بھی ملتی ہیں اور بڑے بڑے کفار مشرکین کے پاس ان چیزوں کی بہتات ہوتی ہے زیر نظر آۃ یت میں اس کا بھی ازالہ کیا گیا ہے فرمایا کہ ” اے پیغمبر اسلام ! بعض لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی یہ حق کے منکر ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سچے رسول کو جھٹلاتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب ان کو تباہ وبرباد کیوں نہیں کردیتا۔ یہ کیوں بڑے کروفر سے کبھی اپنے تجارتی قافلے لے کر شام کی طرف اور کبھی یمن کی طرف اور ہر بار دولت و ثروت کے ڈھیر سمیٹ کر واپس آتے ہیں۔ فرمایا جا رہا ہے کہ یہ بات آپ کو دھوکے میں نہ ڈال دے ہم نے جتنے عرصہ کے لیے ان کو مہلت دے رکھی ہے وہ اپنے قانون امہال کے تحت ہے اور ہمارا قانون بدلا نہیں کرتا اگر انہوں نے اس مہلت سے فائدہ نہ اٹھایا تو ان کی تباہی یقینی ہے اگرچہ ہمارے علم قدرت میں موجود ہے کہ کون کون ان میں سے ایمان لائے گا اور کون کون عذاب کی زد میں آئے گا تا ہم جب تک قانون تکوینی کے تحت یہ بات سب پر واضح نہ ہوجائے عذاب نہیں آئے گا اور آپ اپنا کام کرتے چلے جائیں جب وقت آئے گا تو دونوں قسم کے لوگ بالکل الگ الگ ہوجائیں گے اور پھر جو عذاب کے مستحق ہوں گے ان کو عذاب آئے گا اور ان کا نام ونشان مٹا کر رکھ دیے گا۔ قرآن کریم نے جس بات کو قبل از وقت کہا تھا وہ جب وقت آیا تو فی الواقع اسی طرح پوری ہوئی اور جس جس کو عذاب کی زد میں آنا مقدر تھا وہ کفر پر قائم رہ کر عذاب کی زد میں آگیا اور کسی کو بھی اس کا مال و دولت ، عزت ووقار اور اقتدار اس عذاب سے نہ بچا سکا اور یہی بات بدستور ہوتی چلی آرہی ہے لیکن ہم میں سے کون ہے جو اس غلط فہمی میں آج بھی مبتلا نہیں کہ جس کے پاس اس دنیا کا مال و دولت ، عزت ووقار اور اقتدار وسیادت یا مذہبی پیشوائی ہے لوگ کہتے ہیں کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے اور اللہ اس پر راضی ہے حالانکہ یہ دنیاوی کروفر اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی ہرگز ہرگز نشانی نہیں ہے۔ قرآن کریم اسی اصول کا داعی ہے لیکن دنیا کے یہ باپ دادا والے لوگ کبھی اس کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
Ayah 40:5

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم جھٹلا چکی ہے اور ان کے بعد اور امتیں بھی اور ہر امت اپنے رسول کو پکڑنے پر تل گئی (کہ قتل کر دے) اور ناحق جھگڑے نکالے تاکہ حق کو ناکام بنا دیں ، بالآخر میں نے ان کی گرفت کی پھر (دیکھ لو) ہماری سزا کیسی ہوئی (اور ان کو کس طرح تباہ و برباد کیا گیا)

اگر آج ان کو تسلیم نہیں ہے تو قبل ازیں نوح کی قوم اور بعد کی قومیں بھی جھٹلا چکی ہیں 5۔ گزشتہ آیت میں جو مضمون بیان ہوا ہے اس کی دلیل پیش کی جا رہی ہے کہ اگر آج قوم قریش کے لوگ اس حقیقت کو جھٹلا رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں یہ جھٹلا دینے کی بیماری بہت پرانی ہے قوم نوح اور اس کے بعد بہت سی دوسری قومیں بھی اسی طرح جھٹلا چکی ہیں اور اپنے اپنے رسولوں اور نبیوں کی تکذیب کرچکی ہیں ہر قوم نے اپنے رسول کی مخالفت کی اور مخالفت بھی بےانداز کی یہاں تک کہ پورا زور لگا کر ان کو حق سے جدا کرنے کی کوشش کی لیکن انجام سب قوموں کا آپ پیچھے پڑھتے چلے آرہے ہیں کہ کیا ہوا ؟ یہی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے عمل کی پاداش میں ایسا سخت پکڑا کہ ان کا نام ونشان تک مٹا کر رکھ دیا اور اپنی صفت (شدید العقاب) کو روز روشن کی طرح واضح کردیا۔ لیکن رب ذوالجلال والاکرام نے اپنی اس صفت ( شدید العقاب) کا فورا اظہار کردیا ؟ ہرگز نہیں بلکہ قوم نے ایک مدت تک مکالفت کی اور اپنے رسولوں کو پکڑ کر قید کرنے کے منصوبے بنائے ، ان سے جھکڑا کیا ، ان کو باطل کی طرف بزور موڑنے کی اپنی ساری کوشش کی ، حق کو حق سمجھ لینے کے بعد اس کو جھٹلایا اور ان کو جب چاروں طرف سے گھیرنے کی کوشش کی تو انجام کار ان کو اچانک دھر لیا گیا اور اس دنیا سے ان کو اس طرح نکال باہر کردیا جیسے وہ کبھی اس دنیا میں آباد ہی نہ ہوئے تھے۔
Ayah 40:6

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح آپ ﷺ کے رب کی بات کافروں پر ثابت ہوچکی کہ وہ دوزخی ہیں (جو دوزخ ہی میں رہیں گے)

اللہ تعالیٰ کی بات اس دنیا میں پوری ہوئی اور آخرت کا عذاب بھی ان کو دیا جائے گا 6۔ جن قوموں کی طرف پیچھے اشارہ کیا گیا ان کے حالات کی تفصیل پیچھے سورة الاعراف ، سورة ہود ، سورة الشعراء اور الصفت وغیرہ میں آپ پڑھ آئے ہیں اور وہیں ان پر عذاب آنے کی صورتیں بیان ہوئی ہیں یہی وہ کلمہ عذاب ہے جس کا ذکر گزشتہ سورة الزمر کی آیت 17 میں بھی کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وہ فیصلہ جو اس نے مکالمہ ابلیس میں بیان فرمایا جب اس نے نسل آدم کو گمراہ کرنے کی دینگ ماری تھی اور اللہ تعالیٰ نے بھی واضح اعلان فرمادیا کہ جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر شیطان کی پیروی کریں گے وہ خواہ کون ہوں کیا ہوں اور کہاں ہوں ان سب کو جہنم رسید کردیا جائے گا۔ وہ دنیا میں بھی انجام کار لعنت الٰہی کے مستحق ہوں گے اور آخرت بھی ان کی یقینا برباد ہوگی اور وہ ہمیشہ ہمیشہ خسارہ میں رہیں گے۔ زیر نظر آیت میں بھی نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کے مخالفین ومعاندین کو مخاطب کر کے بتایا جا رہا ہے کہ صرف دنیا ہی میں تم پر عذاب نہیں آئے گا بلکہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام جو ( شدید العقاب) بھی ہے اپنے حتمی فیصلہ کے مطابق تم میں سے جو کفر پر قائم رہتے ہوئے مریں گے جہنم میں ہمیشہ کے لیے جھونک دے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور اللہ تعالیٰ کبھی اپنے فیصلے کے خلاف نہیں کرتا اور نہ ہی خلاف ہونے دیتا ہے کہ وہ صاحب طاقت وقوت ہے جب کہ وعدہ کی خلاف ورزی سراسر اور کمزوری سے اللہ پاک ہے۔
Ayah 40:7

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

اور وہ (فرشتے) جو عرش : کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے ارد گرد ہیں (سب) اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں اور اس پر (وہ) فرشتے) ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والے لوگوں کے لیے بھی بخشش مانگتے رہتے ہیں ، اے ہمارے رب ! تیری رحمت اور علم ہرچیز کو گھیرے ہوئے ہے پس تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کرلی اور تیری راہ پر چلے اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا

فرشتے بھی حکم الٰہی کے پابند ہیں اور مومنوں کے حق میں دعائیں کرتے ہیں 7۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کوئی جسمانی چیز نہیں ہے کہ اس کا کوئی جسم قرار دیا جائے اور اس کی کوئی ہیت بیان کی جائے کہ وہ کیسا ہے اور نہ ہی اس کی وکئی مثل ہے کہ اس سے مثال دے کر اس کی پہچان کرائی جاسکے۔ بلاشبہ وہ واجب الوجود ہے لیکن اس کا موجود ہونا اس کی صفات کے لحاظ سے ہے گویا اس کا وجود عقلی ہے جو نہ جسم رکھتا ہے اور نہ ہی کوئی شکل و صورت اس کی بیان کی جاسکتی ہے ایک نظام کے باقاعدہ بننے اور چلنے کے باعث ایک منتظم اور کالق کے ہونے کے لیے یقینیاتِ عقل سے ہے اس کو بیان کرنے کے لیے اس کی صفات کا ذکر کرنے کے لیے اس کی ذات کے اثبات کے لیے اہم الفاظ بولنے کے لیے مجبور محض ہیں اس لیے جو الفاظ ہم اپنی مجبوری کے باعث استعمال کرتے ہیں ان افلاظ کے استعمال سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے کیونکہ وہی لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہوتے ہیں جو ہم ایک دوسرے کے لیے استعمال کرتے ہیں مگر ان کی حقیقت میں زمین و آسمان سے بھی زیادہ فرق ہے۔ اللہ کے بھی ہاتھ ہیں ، وہ سنتا ہے ، دیکھتا ہے مگر ان کو انسان کے ہاتھوں پر ، انسان کے کانوں پر اور انسان کی آنکھوں پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ہے اور اگر کوئی قیاس کرے گا تو وہ صریحا غلطی کرے گا۔ اسی طرح رب کریم کے لیے عرش وکرسی کے الفاظ کا استعمال ہے چونکہ ہمارے ایک بادشاہ کے لیے عرش کا استعمال ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے لیے بھی عرش کا ستعمال ہم کریں گے لیکن بادشاہ کے عرش سے اس کے عرش کی تشبیہہ ناجائز و حرام ہے کیونکہ دونوں سے ایک ہی معنی نہیں لیے جاسکتے چونکہ قرآن کریم بھی ہم انسانوں ہی کی زبان میں نازل کیا گیا ہے اور اسی طرح کے الفاظ بول کو ہم کو بات سمجھائی گئی ہے جس طرح انسان دوسرے انسان کو ایک بات سمجھاتا ہے اس لیے ان الفاظ پر بحث کرنا بھی کسی حال میں درست نہیں ہو سکتا خصوصا جب قرآن کریم ہی نے ہم کو یہ بھی بتایا ہے کہ (لیس کمثلہ شئی ) لا لہ ندو لا لہ ضد اس لیے قرآن کریم نے اس ذات کا بیان کرنے کیلیے جو الفاظ بیان کیے ہیں محض ہماری تفہیم کی خاطر کیے ہیں ورنہ ہمیں تفہیم نہیں کرایا جاسکتا تھا اس لیے اس کو بحث کا موضوع بنان سراسر جہالت ہے علم نہیں۔ چونکہ زیر نظر آیت میں ذکر ہے کہ ” وہ جو اس کے عرش کر اٹھائے ہیں اور وہ جو اس کے اردگرد ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں “ تو اس سے کوئی مرئی عرش یا مرئی مخلوق تصور کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ وہ اس سے پاک ہے کہ اس کے لیے کوئی ایسا تخت ہو جو مرئی ہو اور اس کا کوئی جسم تخیل میں لایا جاسکے یا کوئی ایسی مرئی مخلوق ہو کہ وہ تخت پر بیٹھا ہو اور اس مرائی مخلوق نے اس کو اٹھایا ہوا ہو وہ بذاتہ قیوم ہے اور ساری مخلوقات اس کے قائم کرنے سے قائم ہے وہ کسی سے قائم نہیں ہے اس لیے حمل عرش کا مفہوم وہ نہیں لیا جاسکتا جو کسی چیز کے اٹھانے کا مفہوم ہوتا ہے اور نہ ہی فرشتوں کا اٹھانا اسی طرح ہے جیسے انسان اپنے سروں یا کندھوں پر ایک بوجھ اٹھا لیتا ہے۔ جہاں قرآن کریم نے ( کرسی) کا ذکر رب ذوالجلال والاکرام کے لیے کیا ہے اس سے مراد ” علم الٰہی “ ہی لیا جاسکتا ہے اور یہی جائز اور درست ہے اور جہاں کہیں ( عرش) کا ذکر کیا ہے اس سے مراد ” قدرت “ ہی لی جاسکتی ہے اور اس کی وضاھت ہم قبل ازیں عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 255 میں اور جلدچہارم سورة یونس کی آیت 3 میں کرچکے ہیں۔ ایک بار پھر آپ سن لیں اور اچھی طرح یاد رکھیں کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف وہ الفاظ منسوب ہوں جو انسانوں کے متعلق استعمال ہوتے ہیں تو جو ان میں آلہ یا ذریعہ ہو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں ہوتا بلکہ فعل کی آخری غرج منسوب ہوتی ہے۔ جب قدرت الٰہی کے ثبوت کے لیے عرش کا تخیل پیش کیا گیا تو عرش کے چار کونے یا چار پائے مقصود ہوتے تھے اس سبب سے زیر نظر آیت میں حاملین عرش میں چار کا نام لیا گیا جو ملائکہ ہیں یعنی اس قدرت کے نفاذ کے لیے ایک تعبیر بیان کی گئی حالانکہ ان کا خارج میں کوئی مرئی جسم موجود ہی نہیں ہے۔ فرشتہ کیا ہے ؟ اس کی وضاحت پیچھے کئی ایک مقامات پر آپ پڑھ چکے اور خصوصا سورة فاطر کی پہلی آیت میں بھی اس کا بیان گزر چکا ہے جو اس جلد میں موجود ہے یعنی ان طاقتوں اور قوتوں کا نام ہے جو جسمانی نہیں جن کا جسم نظر آئے بلکہ ان کا جسم عقلی یا عطائی ہوتا ہے جو حالت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے حلان کہ ان کی طاقت کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا اگرچہ وہ ان دیکھی مخلوق ہے تا ہم مخلوق ہے جس کی تشبیہہ اور تمثیل دی جاسکتی ہے جیسے مثلا ہوا ہے کہ جسم اس کا نظر نہیں آتا لیکن اس کی طاقت وقوت سے کسی کو انکار نہیں اور پھر جس جسم میں اس کو بھر لیا جاتا ہے وہی اس کا جسم قرار دیا جاتا ہے اور بھی بہت سے اشیاء ایسی مخلوق ہیں جیسے سردی اور گرمی وغیرہ۔ زیر نظر آیت میں چار فرشتوں کا ذکر کر کے جو تصور دیا گیا ہے اس کو زیادہ طاقتور اور قوت والا پیش کرنے کے لیے قیامت کے روز جب یہ نظام بدل کر ایک نیا نظام قائم کیا جائے گا تو ان فرشتوں کی تعداد کو آٹھ کے عدد سے بیان کردیا گیا کیونکہ قدرت الٰہی اور غلبہ خداوندی کو مزید طاقت وقوت کے ساتھ بیان کرنے ہی کا یہ تصور ہوسکتا ہے چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ : ( یحمل عرش ربک فوقھم یومئذ ثمانیۃ ) (الحاقۃ 69 : 17) ” تیرے رب کے عرش کو اٹھانے والے آج کے دن ( قیامت کے دن) آٹھ فرشتے ہوں گے۔ “ اس وقت وہ چار ہیں اور قیامت کے روز آٹھ ۔ ظاہر ہے کہ تمام عالم کا ظہور اور اس کا قیام صفات الٰہی ہی سے ہے اور انہی صفات کے حامل ملائکہ ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی صفات جن کی قدرت نفاذ پاتی ہے چار ہیں اول ان میں ربوبیت ہے ، دوم رحمانیت ، سوم رحیمیت اور چہارم مالکیت اور قیامت کے روز ان چاروں کا ظہور اور بھی زیادہ ہوگا اسی وجہ سے ان کو آٹھ سے بیان کیا گیا اور ( من حولہ) گویا ان چار صفات کے اردگرد ان گنت صفات مزید بھی ہیں جو ان چاروں کی معاون وممد ہیں اور اگر ان کو کوئی شمار کرنا چاہے تو یقینا نہیں کرسکتا۔ ان فرشتوں کے ذمہ جہاں دوسری صفات الٰہی کا نفاذ ہے وہاں یہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی طلب کرتے ہیں کہ اے اللہ اپنے ایمان والوں کی حفاظت فرما کہ تیری رحمت اور علم ہرچیز پر پھیلا ہوا ہے اور ہرچیز پر حاوی ہے اور خصوصا ان میں سے وہ لوگ جو تجھ سے اے ہمارے پروردگار خود بھی مغفرت طلب کرتے ہیں اور تیرے طرف لوٹ آتے ہیں اور تیری بتائی ہوئی راہ پر چلتے ہیں ان سب کو آگ کے عذاب سے نجات عطا فرما دے کہ تم وہی عذاب سے نجات دینے والا ہے فرشتوں کی اس مغفرت سے بلاشبہ ایمان والوں کی ہمت اپنے ایمان کے باعث بہت بڑھ جاتی ہے اور وہ نیک کاموں کی طرف زیادہ رغبت کرتے ہیں اور یہ وہی بات ہے کہ جب کسی مشکل کام کرنے والے کے پیچھے اس کے ممدومعاون موجود ہوں اور ان کی مدد و تعاون کا اس کو یقین ہو تو وہ اس مشکل کام کو بھی مشکل نہیں سمجھتا اور اس پر ہاتھ ڈال دیتا ہے اور اسی طاقت وقوت کے باعث جو اس کے علم میں ہے کہ مجھے حاصل ہے اس کے ورطے پر اس کام کو بآسانی سر انجام دے لیتا ہے۔
Ayah 40:8

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! ان کو ہمیشگی کی جنتوں میں داخل فرما جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا اور ان کو بھی جو ان کے آباؤ اجداد میں سے اور ان کی بیویوں میں سے اور ان کی اولاد میں سے نیک ہوں ، بلاشبہ تو بڑا ہی غالب آنے والا ، حکمت والا ہے

فرشتون کی دعا مومنوں کے حق میں جاری ہے وہ دعا کے ہر پہلو سے آگاہ ہیں 8۔ فرشتوں کی دعامومنین کے حق میں ابھی جاری ہے اور اس سے ہم کو یہ سبق بھی ملتا ہے کہ مومنوں کے حق میں مومنوں کی دعائیں کیا اثر رکھتی ہیں بشرطیکہ یہ اس یقین و ایمان کے ساتھ ہوں جن میں دکھاوا اور ظاہر داری نہ ہو بلکہ حقیقت ہو جو مخفی طریقہ سے مانگی جاتی ہوں اور ہر مومن کے دل کی آواز و آرزو ہوں وہ یقینا اثر رکھتی ہیں اور ان کا اثر مانگنے والے کے اپنے حق میں بھی بہت اچھا رہتا ہے۔ پھر یہی نہیں کہ وہ فقط صرف ان مومنوں ہی کی حق میں دعائیں کریں بلکہ ان کی نیک اولاد اور ازدواج کے لیے بھی دعا گو ہیں اور ہر طرح کی خیر کے طالب ہیں جس سے ایک مومن کو آرام و سکون حاصل ہوتا ہو اور یہ بات کسی کو سمجھانے کی ضرورت نہیں کہ جس آدمی کو ہر طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک میسر ہو اس کے بخت کتنے یاور ہوتے ہیں اور اس سے زیادہ انسان کی بھلائی اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ خود بھی آسانی و آرام سے وقت گزار رہا ہو اور اس کے قریب کے ماحول میں بھی سکھ اور آرام ہو جو خود بھی نیک ہو اور اس کو بیوی اور اولاد بھی نیک میسر آجائے۔ فرشتوں کی دعا کے الفاظ پر اچھی طرح نگاہ ڈالو اور یہی خواہش اپنے دل میں ہر دوسرے مومن کے لیے جمالو اور اس دعا کو اس طرح مانگو کہ یہی تمہارے دل کی آواز بن کر باہر آئے اور اسی کے مطابق تمہارا عمل بھی ہو پھر دیکھو کہ اس طرح جو معاشرہ تشکیل پاتا ہے اس کا رنگ کیا ہوتا ہے۔ اللہ توفیق دے۔
Ayah 40:9

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور ان کو گناہوں سے بچا لے اور جس کو تو نے اس دن گناہوں سے بچالیا تو اس پر تو نے (بڑی) مہربانی فرمائی اور یہی (سب سے) بڑی کامیابی ہے

فرشتوں کی اس دعا سے قیامت کے روز کی ہولناکی کا اندازہ لگائو 9۔ (سئیات) وہ بھولیں اور خطائیں جو انسان اپنے انسان ہونے کے باعث بےخیالی میں کر گزرتا ہے جن سے انبیاء کرام اور رسل عظام ہیں معصوم ہوتے ہیں باقی انسانوں میں سے بڑے بڑے کاملین سے بھی وہ ہوجاتی ہیں وہ سئیات کو کرنا اور سئیات کا ہوجانا دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے فرشتوں کی اس دعا نے قیامت کے روز شفاعت اور سفارش کا سارا عقدہ بھی حل کردیا کہ وہ انہی سئیات کے بارے میں ہوگی اور وہی کرسکے گا جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ہوگی اور یقینا یہ سئیات محو بھی ہوں گی کیونکہ اب ان سئیات کے نتائج سے معافی مانگی جا رہی ہے نہ کہ سئیات کے کرنے سے کیونکہ وہ دارالعمل تو نہیں ہے کہ وہاں بھی جا کر کوئی برائی یا نیکی کرسکے اب تو برائی یا نیکی کے اجر وصول ہونے کا وقت ہے اور فرشتوں کی دعا کے الفاظ بھی یہی بتا رہے ہیں کہ وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے دعائیں مانگ رہے ہیں کہ ان سچے مسلمانوں اور پرہیزگاروں سے بھی جو لغزشیں ہوچکی ہیں ان کے وبال سے ان کو بچا اور وہ لغزشیں ان کو معاف فرما دے اور فرشتوں کی دعا کے یہ الفاظ کہ ” جو شخص برائیوں کے ان نتائج سے بچالیا گیا یقینا اے اللہ تو نے ان پر رحم کیا “ اس روز کی ہولناکیوں کی نشاندہی کر رہا ہے کہ وہ کتنا سخت ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سوا کوئی شخص اس کامیابی سے ہم کنار نہیں ہو سکتا بلکہ ہر ایک کو روکا جاسکتا ہے اور ہر ایک کے قدم لڑکھڑا سکتے ہیں خواہ وہ کون ہے ؟ کہاں ہے اور کیسا ہے ؟ اس لیے انسان کی ساری کامیابیوں کا انحصار اس آخرت کی کامیابی پر ہے کیونکہ دراصل کامیابی یہی ہے جس کو کامیابی کہا جاسکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج ہماری سوچ اس نہج پر نہیں چل رہی بلکہ ہم اتنے پست ہوچکے ہیں کہ نہ ہی ہماری دنیا سنور رہی اور نہ آخرت کے سنورنے کی کوئی صورت نظر آرہی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہماری قوم مسلم کو بھی ایسی سوچ اور ایسا عمل عطا فرما دے کہ ہم سرخرو ہو کر تیرے سامنے حاضر ہوں اور تیری اس مخلوق کی دعائوں میں ہم کو وافر حصہ ملے اے اللہ ! ہمارے ان بہی خواہوں کے ساتھ ہم کو بھی تعاون کی توفیق عطا فرما دے اے اللہ ! ہماری دعا قبول فرما۔
Ayah 40:10

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

بلا شبہ جن لوگوں نے کفر کیا ان کو پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ جیسی تم کو (آج) اپنے آپ سے نفرت ہے اس سے زیادہ اللہ کو تم سے (اس وقت) نفرت تھی جب تم کو (دُنیا میں) ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم انکار کرتے تھے

کافر کون ؟ وہی جن کو اللہ کی طرف دعوت دی گئی اور انہوں نے منہ پھیر دیا 10۔ پیغمبر اسلام کی دعوت کوئی بطور تحکم نہیں ہے بلکہ آپ کی دعوت سراسر تعقل ، تفکر اور تدبر پر مبنی ہے اور یہ بھی کہ اس دعوت کی بنیاد آپ ہی نے نہیں رکھی بلکہ آپ سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنے پیغام بر آئے سب کی دعوت یہی تھی کیونکہ سب کا سرچشمہ ہدایت ایک ہی تھیا۔ جن لوگوں نے آپ کی دعوت کا انکار کیا اور اسلام نے ان کا نام ” کافر “ رکھا انہوں نے جو اس کا انکار کیا اس انکار کا کوئی جواز ان کے پاس نہیں تھا بلکہ محض ضد اور ہٹ دھرمی تھی کہ جو باتیں محمد (رسول اللہ ﷺ کہہ رہا ہے وہ بالکل نئی ہے اور ہمارے باپ دادا کے دین کے سراسر خلاف ہیں اس لیے ہم ان کو صحیح نہیں مانتے حالانکہ ایک سچی بات کو تسلیم کرنے کے لیے یہ دلیل نہیں ہے کہ ہمارا باپ دادا اس کو نہیں کہتے تھے یا نہیں کرتے تھے۔ پیغمبر اسلام کی دعوت قبول نہ کرنے والوں کو کافر کہا گیا اور ان کافروں کو خواہ اس وقت کے کافر ہوں جب یہ دعوت پیش کی گئی اور خواہ اس وقت کے جب کہ یہ دعوت پیش کی جا چکی اور لیکن اس کے باوجود جن لوگوں نے اس پر غور وفکر کرنے کی بجائے اس کو رسما تسلیم کرلیا حالانکہ ان کو کچھ علم ہی نہیں کہ انہوں نے کیا تسلیم کیا ہے اور کس سے انکار کیا ہے صرف زبانی دعوی تسلیم پر اکتفا کرتے ہوئے کہ وہی کچھ کر رہے ہیں جو اس وقت کے مشرک کرتے تھے بہرحال ان کفر کرنے والوں کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ جب یہ کافر جن چیزوں کا انکار کرتے تھے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو ظاہر ہے کہ وہ اس وقت اپنے اس کفر پر شرمندہ ہوں گے اور یہی شرمندگی ان کو اپنے اس انکار کرنے پر بیزار کر دے گی۔ پیغمبر اسلام سے فرمایا جا رہا ہے کہ ان کافروں کو قیامت کے روز پکارا جائے گا کہ اس وقت جو تم کو اپنی جانوں سے بیزاری ہو رہی ہے اس سے بھی بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی تم سے بیزاری تھی جب تم کو ایمان کی طرف دعوت دی جاتی تھی اور تم مسلسل انکار کیے جاتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اس وقت تم کو بیزاری کیوں ہے ؟ محض اس لیے کہ اب اس انکار کے نتائج کو تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور نتائج ظاہر ہوتے ہی تم اپنے کیے سے بیزار ہوگئے حالانکہ تم کو اس بیزاری سے بچانے کے لیے اس وقت دعوت دی گئی جب تم دارالعمل میں عمل کر رہے تھے لیکن اس وقت تم نے اس دعوت کو بغیر کسی دلیل کے ٹھکرا دیا اور باوجود سمجھانے کے تم نے اس دعوت کو قبول نہ کیا۔
Ayah 40:11

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہم کو دو بار موت دی اور دو بار زندگی دی ، اب ہم کو اپنے گناہوں کا اعتراف ہے پھر اب (کیا اس عذاب سے) نکلنے کی کوئی راہ ہے ؟

کفار قیامت کو جوا قرار کریں گے اس اقرار کا ان کو کچھ فائدہ نہ ہوگا 11۔ کفار کو دوبارہ اٹھائے جانے سے سخت انکار تھا اور وہ اس کو کبھی ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ اس زندگی کے بعد بھی کوئی دوسری زندگی ہے اب جب ان کو دوبارہ زندہ کردیا گیا تو اب وہ اس کا انکار تو کر ہی نہیں سکتے تھے اس طرح انہوں نے برملا اس بات کا اقرار شروع کردیا کہ اے ہمارے رب ! ہمارے نزدیک مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ممکن نہ تھا اس لیے ہم دنیا میں پوری آزادی کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق کام کرتے رہے اور اس سے بےنیاز رہے کہ ہم کو کسی کے سامنے جوابدہی کرنا ہے یہی وجہ تھی کہ ہم نے تیرے نبیوں اور رسولوں کا مذاق اڑایا اب تو نے ہم کو دوبارہ موت اور دوبارہ زندگی دے کر موت کے بعد کی زندگی کا مشاہدہ کروا دیا اب ہم اپنے گناہوں کا برملا اعتراف کرتے ہیں تو کیا اس وقت یہاں سے نکلنے کی کوئی راہ ہے ؟ کہ ہم دوبارہ ایک بار پھر دنیا میں جائیں اور اس ایمان ویقین کے ساتھ نیک کام کریں تاکہ اس عذاب سے ہم کو نجات مل جائے اس جگہ کفار کا دو بار زندگی اور دو بار موت کا اقرار کیا گیا ہے اور یہ بھی کہ موت کا ذکر پہلے ہے اور زندگی کا بعد میں جس سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ پہلی زندگی جو دنیوی زندگی تھی اس سے پہلے کی عدم زندگی کو موت کہا گیا ہے اور یہ وہی موت ہے جس کا ذکر سورة البقرہ کی آیت 28 میں کیا گیا ہے یعنی پہلی زندگی سے پہلے کی حالت کو موت کہا گیا ہے اور پھر اس دنیوی زندگی کے بعد دنیا میں جو موت آئی اس کو دوسری موت تصور کیا گیا اور اس کے بعد آخری زندگی کو دوسری زندگی کہا گیا ہے جس زندگی میں وہ بات کہہ رہے ہیں۔ خیال رہے کہ یہ مقولہ جو اوپر بیان کیا گیا کہ (ربنا امتنا اثنتین) الخ بلاشبہ وہ کفار کا ہے لیکن چونکہ یہ آخری زندگی کے بعد کہا جانے والا ہے کہ وہ اس طرح آخری زندگی میں اقرار کریں گے اور جو اقرار کریں گے ایک تو مشاہدہ کے بعد کریں گے دوسرا جہاں یہ اقرار کریں گے وہ دارالآخرت ہے نہ کہ دارالعمل۔ دارالعمل میں تو انہوں نے دو موتوں اور دو زندگیوں کا کبھی اقرار نہیں کیا تھا بلکہ کھلے الفاظ میں انکار کرتے رہے اور ان کے اس انکار کا جگہ جگہ قرآن کریم میں ذکر کیا گیا ہے اور سورة الدکان کی آیت 34 ، 35 میں بڑی وضاحت سے اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ( ان ھولاء لیقولون انھی الا موتتنا الاولی وما نحن بمنشرین) ” یہ لوگ برے وثوق کے ساتھ کہتے ہیں کہ بس یہ ہماری پہلی موت ہی ہے اور ہم اس کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے “ اس لیے ان کے اس جملہ سے قرآن کریم میں کوئی تضاد نہیں ہوا کیا ن کہ یہ مقولہ بھی کفار کا ہے اور ظاہر ہے کہ کفار دنیا میں حقیقت سے انکار کرتے رہے اس لیے ان کو کافر کہا گیا اور ان کے اس طرح انکار اور اس طرح اقرار کرنے سے ان کی باتوں میں تضاد کو ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ دنیا میں کچھ کہتے تھے اور آخرت میں کچھ کہیں گے۔ دنیا میں حقیقت سے انکار کرتے تھے اور آخرت میں وہ حقیقت کا اقرار کریں گے لیکن اس وقت کا اقرار کرنا ان کے کچھ کام نہیں آئے گا۔ زیر نظر آیت میں جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کفار کا مقولہ ہے جو قرآن کریم نے درج کیا ہے اور اس طرح سورة الدخان کی آیت 34 ، 35 میں بھی کفار کا مقولہ ہے جسے قرآن کریم نے بیان کیا ہے اور اس طرح اور مقامت پر بھی کفار کے اسی طرح کے مقولے بیان ہوئے ہیں۔ مذکورہ دو مقولوں میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ سورة ہذا کا مقولہ قیامت کے روز جو کفار کہیں گے وہ ہے اور سورة الدخان کا مقولہ وہ ہے جو کفار دنیا میں کہہ رہے ہیں اور کہتے رہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کا ارشاد جو سورة البقرہ کی آیت 28 میں ، سورة یونس کی آیت 23 ، سورة ہود کی آیت 7 ، سورة الروم کی آیت 40 وغیرہ اور اسی طرح بہت سے دوسرے مقامات پر بیان ہوا ہے جس میں مرنے کے بعد زندہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے ان سب مقامات پر اس زندگی کا ذکر ہے جو روح اور جسم دونوں کی زندگی یا دونوں کی الحاقی زندگی ہے جس پر عذاب وثواب مرتب ہوتا ہے اور ایک کو دنیوی زندگی اور دوسری کو اخروی زندگی کہا گیا ہے یا ایک کو دارالعمل کی زندگی اور دوسری کو دارالآخرت کی زندگی کہا جاتا ہے دنیوی زندگی کے اعمال کا نتیجہ اخروی زندگی میں ظاہر ہوگا دنیوی زندگی کے جسم کو فناہ فی الارض کر کے میدان حشر میں قیامت کے روز ہر روح کو ایک نیا جسم ملے گا اور عذاب وثواب اسی جسم پر وارد ہوگا جو اس روح کو دوسری بار میسر آئے گا اور چونکہ عذاب وثواب کا احساس روح ہی سے معلق ہے کسی جسم سے جب روح کو الگ کرلیا جاتا ہے تو جسم پر کسی طرح کا کوئی احساس نہیں ہوتا نہ دکھ دینے اور اذیت دینے سے اس کو دکھ پہنچتا ہے اور نہ اس کو آرام پہنچانے سے اس کو کسی طرح کا آرام پہنچتا ہے اور اسی طرح جس چیز کو ہم موت کہتے ہیں وہ اجسام پر وارد ہوئی ہے گویا روح اور جسم کا الحاق ختم ہونے کا نام موت ہے اور الحاق ہونے کا نام زندگی۔ یہی وجہ ہے کہ سورة البقرہ کی آیت 28 میں جب ابھی پہلی بار مرئی جسم اور روح کا الحاق نہیں ہوا تھا تو اس کو موت سے تعبیر کیا گیا اور پھر دوسری بار جب روح کو جسم سے الگ کر دیاجاتا ہے تو اس کو موت کہا جاتا ہے اور اس طرح جب دوبارہ اس روح کا الحاق ایک دوسرے جسم سے کیا جائے گا تو اس کو زندگی کا نام دیا جائے گا۔ اس دنیوی اور اخروی زندگی کے درمیان ایک وقفہ ہے جس وقفہ میں روح کا الحاق جسم اصلی سے نہیں ہوتا اور اس وقفہ کو قرآن کریم نے برزخ کا نام دیا ہے جس کے معنی ایک آڑ یا پردہ کے ہیں اور اس کا تعلق خالصتا ایمان بالغیب ہے یا آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایمان بالآخرت سے ہے وہ خالصتا روح سے ہے نہ کہ اصلی جسم دنیوی سے اور نہ ہی اصل جسم اخروی سے اس کی تشبیہہ و تمثیل نیند یا خواب سے دی جاسکتی ہے اور وہ بھی صرف اور صرف تفہیم کے لیے جس طرح جنت و دوزخ کی زندگی کی تعبیرات ہیں اسی طرح برزخ کی تعبیر ہے فرق صرف یہ ہے کہ جنت اور دوزخ میں جو کچھ پیش آنے والا ہے وہ جسم و روح کے الحاق سے پیش آنے والا ہے اور برزخ میں جو کچھ پیش آنا ہے ، آرہا ہے یا آئے گا وہ صرف روح کے متعلق ہے جب کہ جسم سے اس کا الحاق ختم ہوچکا ہے۔ برزخ مثل جیل ہے یا مثل نظربندی اگرچہ اس میں سزا نہیں لیکن سزا بھی کہا جاسکتا ہے۔ احادیث میں اس کی تعبیرات میں عذاب قبر یا قبر کی کشادگی یا اس طرح کے دوسرے استعارات سے اس کو بیان کیا گیا ہے اور منکرین احادیث نے اس سے کھل کر انکار کیا ہے اور طرح طرح سے اس کا مذاق اڑایا ہے لیکن اس کے باوجود بعض اوقات وہ نئی نئی تعبیرات پیش کرنے پر بھی مجبور ہوتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ بحث اندھیرے میں پتھر مانے کے مرادف ہے۔ آخرت کے باب میں وہ نظریات جو ترغیب وترہیب کے لیے بیان کیے گئے ہیں جب ان کا کوئی منفی اثر اس دنیوی زندگی پر نہ پڑتا ہو تو خواہ مخواہ ان سے انکار یہ ان کی جگہ نئے نظریات یا نئے استعارات بیان کرنے سے خصوصا جب نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہو تو ان سے گریز لازم وضروری ہے یہ کوئی عقائد کی بحث نہیں جن پر کفر واسلام کا انحصار ہے بلکہ ہر سطح کے انسانوں کی تفہیم کے لیے احادیث میں ان کو ان استعارات میں بیان کیا گیا ہے دنیوی زندگی کے خاتمہ کے بعد میدان حشر تک جو کچھ عوارضاتِ پیش آنے والے ہیں وہ سب کے سب عالم برزخ کی باتیں ہیں اور برزخ پردے کا نام ہے اور پردے کے دوسری طرف جو کچھ ہو رہا ہے وہ مشاہدہ کی چیز نہیں ہے نہ کسی نے کیا ہے نہ کرسکتا ہے الا یہ کہ لسان نبوی نے اس سلسلہ میں جو کچھ فرمایا ہے وہ ہماری تفہیم کے لیے استعارات ہیں نہ قبر سے مراد یہ گڑھا ہے اور نہ ہی برزخ سے مراد کوئی کپڑے کا پردہ ہے یا دیوار کی آڑ لیکن یہ نام جس مقصد کے لیے تجویز کیے گئے ہیں وہ مقصد بلاشبہ مبارک ہے کیونکہ انسانی اصلاح کے لیے یہ اکسیر ہیں اگر کوئی اپنی اصلاح چاہتا ہو اور اعتراض برائے اعتراض کرنے کا عادہ نہ ہو اور بلاشبہ ان سے اچھے استعارات ممکن ہی نہیں ہیں رہی لفظی بحث تو وہ بحث اگر آدمی چھیڑ دے اور ارکان اسلام نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ اور کلمہ کی تعبیرات پیش کرنا شروع کر دے تو آخر کونسی چیز ہے جو اپنی اصلی حالت پر باقی رہ سکتی ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہم سب اس بات کو جاننے اور سمجھنے کے باوجود کہ روح بغیر جسم اور جسم بغیر روح کے کسی بحث کا مستحق نہیں ٹھہرتا لیکن ہمارا ایمان ہے کہ یہ دونوں بہرحال الگ الگ ہیں اور ان کے الحاق کا نام زندگی ہے اس لیے جس بیان میں ان دونوں کا الحاق نہیں ہے اس مقام پر بحث بےکار ہے اور دونوں کا الحاق ایک بار دنیوی زندگی میں ہو اور دوسری بار میدان حشر میں ہوگا۔ کتب صحاح ہوں یا احادیث کا دوسرا ذخیرہ بلاشبہ جن لوگوں نے اس معاملہ میں محنت کی وہ مستحق تحسین ہیں اور جو کچھ انہوں نے قوم کے سامنے اس سلسلہ میں پیش کیا وہ نہایت دیانت وامانت کے ساتھ پیش کیا ان کی اس خدمت پر خواہ مخواہ کی تنقید جائز نہیں اس طرح ان کو کلی طور پر ظنیات سے پاک بھی نہیں کیا جاسکتا اور احادیث کی بحث میں جو اقسام حدیث بیان کی گئی ہیں ان کو حرف آخر سمجھنا بھی کسی حال میں درست نہیں ہے لیکن ہم اس جگہ اس بحث کو شروع کردینا بھی جائز اور درست نہیں سمجھتے اور صرف اس بات پر اکتفا کرتے ہیں کہ سچ ہر حال میں سچ ہے خواہ اس کو سچ ماننے والا ایک بھی موجود نہ ہو اور جھوٹ ہر حال میں جھوٹ ہے خواہ اس کو لوگ کثیر تعداد میں بولتے ہوں اس طرح ایک سچ اگر سو جھوٹ میں ملا دیا جائے تو پھر بھی اس کی سچائی متاثر نہیں ہوتی۔ یہ فرق اسی وقت لگتا ہے اور اس کو لگتا ہے جس وقت کسی کے پاس سچ اور جھوٹ کی پہچان موجود نہ ہو بلکہ وہ لوگوں کے سچ اور جھوٹ کہنے سے کہہ دیتا کہ یہ سچ ہے اور یہ جھوٹ حالانکہ یہ علم کی نہیں بلکہ سراسر جہالت کی نشانی ہے اگرچہ ملائیت اس کو علم گردانتی ہے۔
Ayah 40:12

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

تمہارا یہ حال اس واسطے ہے کہ جب اللہ کو ایک کہا جاتا تھا تو تم نہیں مانتے تھے اور جب اس کے ساتھ شریک ٹھہرائے جاتے تو تم (فوراً ) قبول کرلیتے تھے ، اب تو فیصلہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے جو سب سے بلند وبالا ہے

کفار کی یہ حالت کیوں ہے ؟ اس لیے کہ جب اکیلے اللہ کو یاد کیا جاتا تھا تو وہ کفر کرتے تھے۔ 12۔ کفار کی یہ یہ حالت جس سے اس وقت وہ نکلنے کی کوئی راہ پوچھ رہے ہیں ایسی کیوں ہے ؟ اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ یہ اس لیے ہے کہ دنیا میں جب ان کے سامنے اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا تھا تو ان کے تیور بدل جاتے تھے اور چاہتے تھے کہ اس طرح کا ذکر کرنے والے کو اگر ان کا بس چلے تو مار مار کر ہلاک کردیں اور وہ ایسے کر نہیں سکتے تھے تو بہر حال اس کی باتوں کو ٹھکرادیتے تھے اور ماننے کے لیے کبھی تیار نہ ہوتے تھے اور اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو یعنی نبیوں ، رسولوں ، ولیوں اور بزرگوں کو شریک ٹھہرایا جاتا تو اس وقت خوش ہوجایا کرتے تھے اور ایسا کہنے والوں کی باتوں پر فورا یقین کرنے لگتے تھے اور اس کو شاباش دینے کے ساتھ ساتھ اس کی ہر طرح سے اعانت بھی کرتے تھے اور یہی ان کا کفر اور شرک تھا جس کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے۔ ایسے مشرکوں اور کافروں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ اب تمہارے متعلق فیصلہ کرنے کا حق اور کلی اختیار اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے اور تمہارے وہ سارے ٹھہرائے ہوئے شریک کلی طور پر بےاختیار ہیں جن کے متعلق تمہارا اصرار تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے پیارے اور اس کے کاموں میں شریک ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اب سارا اختیار ان کے سپرد کردیا ہے اب تمہاری بےبسی کے ساتھ ہی ان کے بےبسی بھی واضح کی جارہی ہے اور تمہاری غلطی تم پر روز روشن کی طرح عیاں ہے اور تم بھی جان چکے ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی بلند وبالا ہے جس کی توحید کی طرف تم کو دعوت دی جاتی رہی ہے اور تم اس دعوت کو سنتے ہی بپھر جاتے تھے اور جن کو پکارنے اور سورنے میں تم مگن تھے آج وہ کسی طرح کی تمہاری مدد نہیں کرسکتے کیونکہ تم اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ساتھ شریک کر کے ان کی بھی توہین کے مرتکب ہوئے ہو۔ اس کی وضاحت پیچھے سورة الزمر کی آیت 45 میں گزر چکی ہے۔
Ayah 40:13

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لیے آسمان سے رزق اتارتا ہے نصیحت تو وہی قبول کرتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے

اللہ تعالیٰ کے ہونے اور اس کے ایک ہونے کے قطعی دلائل 13۔ اس بات کا ثبوت کہ اللہ ہے اور یہ کہ وہ صرف اور صرف ایک ہے۔ قرآن کریم نے اس کے دلائل آفاق وانفس سے بار بار پیش کیے ہیں اور لوگوں نے ہمیشہ ضد کی ہے کہ ہم اس طرح ماننے کے لیے تیار نہیں ہاں ! اللہ کو ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ خود ہم سے کہے کہ میں ایک ہوں اور جو دلائل وہ رسول سے بیان کرتا ہے ہم سے کیوں نہیں کرتا ؟ اس نظریہ کے پیش نظر بعض نے اللہ کے ہونے ہی سے انکار کیا اور بعض نے اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی مخلوق کو اللہ کا اوتار سمجھ کر اس کو یا اس کے ذریعہ سے اللہ کو مانا اور بغیر کسی ذریعہ کے اس کو تسلیم کرنے کے لیے وہ تیار نہ ہوئے اور قرآن کریم ان دونوں طرح کے نظریہ رکھنے والوں کی توجہ نشانات الٰہی کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کرتا ہے کبھی سورج کو ، کبھی ستاروں کو ، کبھی آسمانوں کو ، کبھی زمین کو اور کبھی آسمانوں اور زمین کے خلا کو بطور نشان پیش کرتا ہے کہ ان پر نظر کر کے ہی اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کو پہچانا جاسکتا ہے اور یہی پہچان حق ہے علاوہ ازیں ہر نظریہ شریک کی طرف دعوت دیتا ہے اور اس عذاب الٰہ کی بجائے توجہ دوسروں کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔ زیر نظر آیت میں بھی نشانیوں سے مراد یہی نشانیاں ہیں جو اس بات کا پتی دیتی ہیں کہ اس کائنات کا صانع اور مدبر ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ایک ہی ذات ہے کوئی دوسرا اس کا اس معاملہ میں شریک نہیں ہے اور وہی ہے جو آسمان سے مخلوق کے لیے رزق کو اتارتا ہے اور ظاہر ہے کہ رزق سے مراد اس جگہ بارش ہے اور یہ کہ اس ایک نشانی پر ہی انسان اگر بغور دھیان دے تو سارے حجاب اس کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹ جائیں۔ غور کرو کہ انسان کو یہ متعلقاتِ انسان کو جتنا رزق ملتا ہے اور جتنی اقسام کا رزق ملتا ہے ان سب کا آخری مدار بارش ہی ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سارے نشانات میں سے اسی نشان بارش کو بار بار پیش کرتا ہے اور بار بار اس کی طرف توجہ مبذول کراتا ہے کہ تم صرف اس ایک نشانی پر غور وفکر کرو تو تمہاری سمجھ میں آجائے کہ نظام کائنات کے متعلق جو تصور تم کو قرآن کریم میں دیا جاتا ہے فی الحقیقت وہی اصل تصور ہے کیونکہ اس کائنات کی ہر ایک چیز کا انحصار اس پانی پر ہے اور یہ بھی کہ اس کائنات کے ایک ذرہ سے لے کر کائنات کے بڑے بڑے اجرام فلکی تک سب اس کام میں مصروف ہیں کہ اس پانی کو ذخیرہ کیا جائے اور پھر اس ذخیرہ سے اس کو استعمال کیا جائے پھر اگر اس کائنات میں ایک سے زیادہ اللہ ہوتے تو ایک اللہ اپنی مخلوق کو اس کام پر لگاتا اور دوسرا اپنی مخلوق کو اس سے روک دیتا تو نتیجہ کیا نکلتا وہی جو ساجھے کی ہنڈیا کا نتیجہ نکلتا ہے پھر جب ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے بلکہ یا باقاعدہ ایک سلسلہ چل رہا ہے جو مسلسل ایک قاعدہ کے مطابق چلتا ہی چلا جا رہا ہے تو ہم کو تسلیم کرلینا چاہئے کہ اس سارے نظام کا ناظم اعلیٰ ایک اور صرف ایک ہی ہے اور وہی اس کائنات کا خالق ہے اور ہر ایک چیز کا اصل اختیار اسی کے پاس ہے اس ساری کائنات میں سے اگر کچھ اختیار اس نے دیا ہے تو وہ فقط انسان کو دیا ہے اور وہ بھی ایک حد تک محدود ہے اور یہ بھی کہ جس سے چاہے وہ اختیار واپس لے کر اس کے بےکار محض بنا دے۔ بات پانی کے نشان ہونے سے چلی تھی آپ غور کریں گے تو پتہ چلے گا کہ یہ دھرتی جس پر ہم آباد ہیں اس پانی کی مرہون منت ہے اور اس کا سارا نظام بھی اس پانی پر قائم ہے۔ پہاڑ جو ایک ٹھوس اور جامد چیز آپ کو نظر آرہے ہیں اس پانی سے وہ معرض وجود میں آئے اور جو کچھ پہاڑوں کے اندر ذخائر موجود ہیں وہ سب کے سب اس پانی کی بدولت ہیں اجرام فلکی اس پانی کو بھاپ کی صورت میں اوپر کو اٹھانے کا کام کر رہے ہیں اور پھر اس بھاپ کو بھالپ ہی کی صورت میں فضا کے اندر محفوظ رکھا گیا ہے ان سیارگان کی سیر اس سے قائم ودائم ہے اس کی تفسیر اتنی لمبی ہے کہ ایک چیز کا تجزیہ کیا جائے تو بات سے بات نکلتی جائے گی جس کے لیے اس جگہ گنجائش نہیں ہے جتنے علوم کہلاتے ہیں جن کی شاخیں اس وقت بیسیوں سے بھی متجاوز ہیں جتنی گیسیں اس وقت تک دریافت ہوئی ہیں جو سینکڑوں کو پہنچ رہی ہیں جن کے نام ہم انسانوں ہی نے رکھے ہیں سب کا اصل انحصار اس پانی پر ہے اور قرآن کریم نے صرف چار الفاظ کے ایک کلمہ میں اس کو پیش کردیا ہے کہ من الماء کل شی حتی (الانبیاء 21 : 30) ہر ایک چیز کی زندگی پانی سے ہے اور پانی کا خالق خود اللہ تعالیٰ ہے چناچہ فرمایا کہ (وجعلنا ) اور ہم نے بنایا ہے یعنی پانی اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ایک چیز ہے جس پر ہر ایک کی زندگی کا انحصار اللہ نے مقرر کردیا ہے آیت کے اس ایک حصہ کی وضاحت پوری دنیا کے سارے علوم مل کر بھی نہیں کرسکے اور جب تک یہ نظام دنیا قائم ہے نہ معلوم ابھی کیا کیا علوم پیدا ہوں گے اور ان کی کیا کیا وضاحت ہوگی اور یہ لامتناہی سلسلہ اس جملہ کی وضاحت بھی نہیں کر پائے گا۔ ہمیں افسوس ہے کہ ان سائنسی علوم کو جو قرآن کریم ہی کی تفسیر کہلاتے ہیں علمائے اسلام نے ان سے کیوں نفرت رکھی اور کیوں مسلمانوں کو باور نہ کرایا کہ قرآن کریم کی اس تفسیر پر بھی وہ بغائر نظر ڈالیں اور ان سائنس دانوں کی غلطیوں کو قرآن کریم کی روشنی میں واضح کریں حالانکہ قرآن کریم کے اشارات و استعارات ہی سے انسانوں نے وہ سب کچھ دریافت کیا جو دریافت ہوچکا اور ابھی نہ معلوم کتنا حصہ ہے جو تا حال دریافت نہیں ہوا اور وہ جوں جوں دریافت ہوتا جائے گا خود بخود قرآن کریم کی تفسیر ہوتی جائے گی لیکن بدقسمتی سے ہم نے چند ایک تفسیر کی کتابوں کو کتب تفسیر قرآن مان لیا ہے اور اس مخصوص دائرہ سے باہر نکلنے کے لیے تیار ہیں نہیں گویا ہم پر وہی مثل صادق آتی ہے کہ کنوئیں کا مینڈک کے پیندے ہی کو ساری دنیا سمجھتا ہے۔ اے علمائے اسلام ! اس کائنات میں جو کچھ ہے سب کا خالق اللہ ہے اور انسان فی نفسہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا شاہکار ہے آج تک جو کچھ اس نے دریافت کیا ہے صرف دریافت کیا ہے نہ کہ کسی چیز کو خلق کیا ہے اور نہ ہی کوئی انسان کسی چیز کو خلق کرسکتا ہے جو دریافت ہوا ہے وہ تخلیقاتِ الٰہی سے ہے انسانوں نے صرف ان کو دریافت کیا ہے اور ان کے نام رکھ دیئے ہیں کیوں ؟ اس لیے کہ انسانوں کی تخلیق کے اندر اللہ نے یہ صلاحیت ودیعت کردی ہے کہ وہ دریافت کرے اور اپنی دریافت شدہ چیزوں کے نام رکھے اور یہی کچھ وہ کر رہا ہے تم کو کہاں سے دھوکا لگا اور تم نے ان چیزوں کی دریافت کو حرام قرار دے دیا اور قوم مسلم کے جوانوں کے سامنے ایسے بند باندھ دیا کہ ان کی توجہ اس طرح سے بالکل ہٹادی اور تم نے یہ اتنی فاش غلطی کی جس کا خمیازہ نہ معلوم قوم مسلم کب تک بھگتتی رہے گی حق کیا تھا ؟ یہی کہ دریافت کرنے والے دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ رب کریم کی طرف رجوع کرتے تو انہیں اپنی دریافت سے وہ دنیوی فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ہی آخرت کو بھی سنوار لیتے لیکن بدقسمتی سے انہوں نے رجوع الی اللہ نہ کیا جس کے باعث وہ اپنی دریافت سے دنیا میں تو مستفید ہوئے لیکن آخرت کو اپنے ہاتھوں برباد کرلیا اور انہیں اپنی دریافت شدہ چیزوں سے نصیحت حاصل کرنے کی بجائے آخرت کا خسارہ حاصل کرلیا جو یقینا کبھی پورا نہیں ہوگا۔ قرآن کریم ایک ابدی تعلیم ہے اس سے اگر وہ فوائد حاصل نہیں کیے گئے جو کرنے چاہئے تھے تو اس میں قصور تعلیم حاصل کرنے والوں کا ہے فی نفسی تعلیم کا نہیں بلاشبہ قرآن کریم دینا کی طلب سے نہیں روکتا بلکہ دنیا کو اس طرح حاصل کرنے کی تلقین کرتا ہے کہ آخرت برباد نہ ہو اور آخرت کی کمائی کی اس طرح تعلیم دیتا ہے کہ دنیا خراب نہ ہو لیکن بدقسمتی سے انسانوں کی اکثریت دونوں کو سنوارنے کی بہت ہی کم کوشش کرتی ہے۔ اس وقت قوم ملسم من حیث القوم دونوں کو برباد کر رہے ہیں یعنی خسر الدنیا والآخرۃ کے مصداق ہیں اور دوسری اقوام عالم صرف دنیوی ترقی تک محدود ہو کر رہی گئی ہیں اور آخرت کو کلی طور پر بھلا دیا ہے اس طرح انہوں نے بھی کوئی نفع کا سودا نہیں کیا۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے اس نظریہ کو علمائے اسلام کی اکثریت رد کرے گی اور ہمیں گالیاں دے گی کہ ہم نے اپنوں پر غیروں کو فوقیت دے دی لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ فوقیت ہم نے نہیں دی بلکہ غیروں نے حاصل کرلی اور ہم نے اس کو تسلیم کرلیا اور اپنی قوم کا ماتم شروع کردیا کہ قوم مسلم کا کام تو دونوں میں فوقیت حاصل کرنا تھا لیکن قوم نے دونوں میں پستی کو قبول کرلیا اور اس پستی کا باعث ہم نے قوم مسلم کے دو طبقوں کو قرار دیا ایک طبقہ مذہبی پیشوائوں کا ہے اور دوسرا طبقہ سیاسی راہنمائوں کا اور عوام اس میں بالکل بےقصور ہیں کیونکہ عوام کا سارا انحصار انہی دو طبقوں پر ہونا ایک فطری امر ہے اور ان دونوں طبقہ کی گمراہی پوری قوم کو لے ڈوبتی ہے اور آج ہماری حالت فی الحقیقت یہی ہے کہ ہم من حیث القوم ڈوب چکے ہیں اور ڈوبتے ہی چلے جا رہے ہیں اللہ ہمارے ان دونوں طبقوں کی اصلاح فرما دے کہ اصلاح ہی سے ہماری حالت بدل سکتی ہے اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری حالت کو درست فرما دے اور ہم اپنے اندر متوجہ ہوں اور سوچنے اور سمجھنے کا ارادہ ہم میں مضبوط ہوجائے اگر ہمارا ارادہ مضبوط نہ ہوا اور ہمارے ان دونوں طبقوں نے آنکھیں نہ کھولیں تو نتیجہ وہی نکلے گا جو پیچھے سے نکلتا چلا آیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سوچنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرما دے۔ ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ وقنا عذاب النار۔