40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 40:14

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

پس تم خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ کو پکارو اور اگرچہ کافر لوگ برا ہی کیوں نہ مانیں

اے مسلمانوں ! تم اللہ کو پکارو کالص کرکے واسطے اس کے دین 14۔ مسلمانو کو مخاطب کر کے تلقین کی جا رہی ہے کہ تم اپنی حاجت ومشکلات میں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کہ ذات کو پکارو کسی اور کو نہ پکارو خواہ وہ کوئی ہو ، کہاں ہو اور کون ہو اگر مشرکوں کو یہ بات پسند نہیں آئی تو نہ آئے تم ان کی پرواہ نہ کرو اگر وہ تمہاری دعوت توحید ان پر شاق گزرتی ہے تو گزرا کرے تم ان سے بےپرواہ ہو جائو وہ مشرک ہو کر اگر تمہاری پرواہ نہیں کرتے تو تم موحد ہو کر ان کی اکثریت سے ہرگز نہ ڈرو کیونکہ موحد اللہ سے ڈرنے اور غیر اللہ سے نہ ڈرنے ہی کا نام ہے اور حق کی پیروی کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عزم وجزم سے کام لیا جائے اور کسی کی مخالفت کی قطعا پرواہ نہ کی جائے۔
Ayah 40:15

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہی (اللہ) بلند مرتبہ ہے ، عرش کا مالک ہے ، وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے (اپنے قانون کے مطابق) وحی بھیجتا ہے تاکہ وہ (لوگوں کو) ملاقات کے دن سے ڈرائے

پوری کائنات کا مالک اور بلند درجات رکھنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ 15۔ اللہ تعالیٰ کے صاحب عرش ہونے کا مطلب کیا ہے ؟ اس کی وضاحت گزشتہ سورتوں میں کردی گئی اور اسی جلد میں سورة الزمر کی آخری آیت میں بھی اس کو بیان کیا گیا ہے اور یہ بات بھی سب پر واضح ہے کہ اللہ رب کریم سے نہ تو کوئی درجات میں بلند ہے اور نہ ہی صاحب عرش ہونے میں کوئی اس سے اوپر ہے ہاں ! بلاشبہ یہ بات کہنے اور سننے کے لیے تو کہی اور سنی جاسکتی ہے لیکن جب عمل کا وقت آئے تو یہ بات یاد ہی نہیں رہتی کہ عرش حکومت کا مالک کون ہے مشرکین تو خیر پہلے ہی مشرک ہیں اگر وہ غیر اللہ کو اللہ کا سہیم وشریک بنائے بیٹھے ہیںٰ تو مشرک بھی تو کہلاتے ہیں یا کہے جاتے ہیں لیکن یہاں تو ایک اللہ کی پرستش کرنے والے اور اپنے آپ کو موحد کہلانے والے بھی عمل کے وقت اس بات کو بھول جاتے ہیں اور وقتی فوائد کے حاصل کرنے کے لیے ان اصولوں سے انحراف کر جاتے ہیں جو اسلام نے موھدین کو زندگی گزارنے کے لیے دیئے ہیں۔ فی زماننا وہ مشرک جو عرف عام میں مشرک سمجھے جاتے ہیں اگر ان کی کمی نہیں ہے تو ایسے اصولوں سے انحراف کرکے غیر اللہ کے بنائے ہوے اصولوں کی پیروی کرنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے حالانکہ حقیقت میں غیر اللہ کے اصولوں کی پیروی بھی اتنا ہی بڑا شرک ہے جو غیر اللہ کی پرستش کرنے کا ہے افسوس کہ موحدین کہلانے والوں کو وہ شرک تو نظر آتا ہے جو غیر اللہ کو پکارنے اور سورنے کا شرک ہے لیکن وہ شرک نظر نہیں آتا جس کے وہ خود بھی مرتکب ہیں اور اس ارتکاب شرک کے باوجود اپنے آپ کو موھد کہلاتے اور موحد سمجھتے ہیں اگر یہی توحید ہے تو پھر جن کو اس وقت مشرک کہا جاتا ہے وہ اپنے آپ کو کب مشرک کہتے یا سمجھتے ہیں وہ تو موحدین کہلانے والوں سے بھی زیادہ اپنے آپ کو موحد اور توحید پرست کہتے ہیں ، پھر نتیجہ کیا رہا ؟ زیر نظر آیت میں تین صفات الٰہی کا ذکر کیا گیا ہے ایک یہ کہ وہ ” رفیع الدرجات “ ہے اور رفیع دو معنوں میں استعمال ہے ایک رافع کے معنی میں اور دوسرا مرتفع کے معنی میں پہلی صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ وہ اپنی مخلوق کے مراتب ودرجات کو ان کی طبعی استعداد کے مطابق اور ان کی سعی پیم کے مطابق بلند فرمانے والا ہے اور دوسری صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ وہ سب سے اونچی شانوں کا مالک ہے اور کوئی بھی خواہ وہ کون ہو ، کہاں ہو اس کی برابری وہمسری کا نہیں ہو سکتا وہ ہر بالا سے بالا اور ہر طاقت ور سے طاقتور ہے۔ دوسری صفت رب کریم کی اس جگہ ( ذوا العرش) بیان کی گئی ہے کہ وہ عرش عظیم کا مالک ہے کہ عالم کون ومکان کی فرمانبرداری کا تکت اس کے تصرف میں ہے اور ہرچیز اس کے فرمان کے مطابق ظہور پذیر ہو رہی ہے اس کے اذن کے بغیر کوئی پتہ بھی جنبش نہیں کرسکتا اور کوئی زرہ اپنی جگہ سے سرک نہیں سکتا ہر ایک چیز پر اس کے تکوینی احکام جاری وساری ہیں ، زندگ وموت ، عزت وذلت ، صحت وبیماری ، غربت و ثروت سب اس کی شان کریمی کی جلوہ نمائیاں ہیں اور اس کی ربوبیت وکرم فرمائیاں اور جلوہ نمائیاں ہیں۔ اور تیسری صفت یلقی الروح ہے اور روح سے مراد اس جگہ وحی ہے اور مطلب اس کا یہ کہ جس طرح اللہ رب العزت بارش برسا کر ہر انسان کی مادی زندگی کے تقاضوں کی تکمیل کر رہا ہے اور ہرچیز کو اس کی طبیعت ، مزاج اور ضرورت کے مطابق رزق بہم پہنچا رہا ہے اس طرح انسان کی اخلاقی وروحانی ترقی اور نشو ونما کے لیے اللہ تعالیٰ وحی نازل فرماتا ہے اور شان ایزدی دیکھئے کہ اس نے نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کے ذریعہ سے اس بارش کو اس قدر عام کردیا کہ ہدایت کے دو ایسے چشمے جاری کردیئے جو تا قیامت کبھی خشک ہونے والے نہیں اور بلاشبہ یہ کتاب وسنت کے چشمے ہیں کہ جوں جوں زمانہ ترقی کرتا جائے گا ان کی آبیاری بڑھی ہی چلی جائے گی اور جوں جوں ان کا استعمال ہوگا ان کی روانی میں اضافہ ہوتا جائے گا اور جس طرح آسمانی بارش کا ہر جگہ ایک جیسا اثر نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثر کا انحصار زمین پر ہوتا ہے اسی طرح ان دونوں چشموں کی سیرابی کا حال ہے جیسی کسی کی دل کی زمین ہوگی ویسا ہی اس پر اثر ہوگا۔ اللہ ہمارے دلوں کی زمین کو اس قابل بنا دے کہ ان پر وہ اثر ہو سکے جو صدر اول کے ایمان لانے والوں پر ہوا۔ یامقلب القلوب ہمارے دلوں کو اپنے پسندیدہ دین اسلام کی طرف پھیر دے اے اللہ ہماری دعا قبول فرما۔
Ayah 40:16

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس دن سب لوگ (برزخ سے) نکل پڑیں گے اللہ سے ان کی کوئی بات چھپی نہ ہوگی ، آج کے دن کس کی حکومت ہے ؟ (ندا آئے گی) اللہ کی جو واحد ہے (اور) زبردست ہے

قیامت کا دن وہ دن ہے کہ وہ بھی ظاہر ہوں گے اور ان کا کیا ہوا بھی 16۔ (بارذون) کی اصل برزش ہے اور برز کے معنی ہیں کھلے میدان میں آگیا اور اس طرح جس کی حالت پہلے چھپی ہوئی ہو جب وہ ظاہر ہوجائے تو اس پر بھی برز کا لفظ بولا جاتا ہے۔ جب وہ ظاہر ہوں گے یا نکل کھڑے ہوں گے اور مطلب وہی قیامت کے روز ظاہر ہونے یا نکل کھڑے ہونے کا ہے اور یہ بھی کہ جو کچھ انسانوں کا کیا ہے اس میں سے بہت کچھ مخفی اور چھپا ہے لیکن اس روز سب ظاہر ہوجائے گا اور کوئی بات چھپی نہیں رہے گی اور سب لوگ قبروں سے نکل کر دست بستہ بارگاہ ربِ ذوالجلال والاکرام میں حاضر ہوجائیں گے۔ ہمیں معلوم ہے یہ فقرہ کہ ” لوگ قبروں سے نکل کر بارگاہ خداوندی میں حاضر ہوجائیں گے “ آج بھی بہت سے لوگوں کو شاق گزرتا ہے اور وہ یہ بحث شروع کر دیتی ہیں کہ اچھا قبروں والے تو نکل آئیں گے اور جلائے جانے والے ، جل مرنے والے ، سمندر برد ہونے والے اور اسی طرح سارے وہ مردے جو قبروں میں دفن نہیں ہوئے وہ تو سزا سے بچ گئے اور حاضر ہونے سے مستثنیٰ ہوگئے ؟ حالانکہ ایسا کہہ کر وہ خود اپنی کم علمی وکم عقلی کا مظاہرہ کرتے ہیں اگرچہ اپنے آپ کو صاحب علم اور صاحب عقل سمجھتے ہیں۔ کتاب وسنت میں یہ جو ” قبروں “ کا ذکر آیا ہے تو ان سے مراد وہ گڑھے نہیں جہاں ہم مسلمان اپنے مردوں کو گاڑتے ہیں اگرچہ ہم ان کو بھی قبر کہتے ہیں دراصل قبر وہ مقام ہے جہاں مرنے کے بعد انسان کی روح محفوظ کرلی جاتی ہے۔ ہمارا قبرستان جانا ، وہاں مردوں کو اسلام علیکم یا اھل القبور کہنا اور اپنے دل ہی دل میں ان سے باتیں کرنا یہ سب کچھ کیوں ہے ؟ اس لیے کہ ہمارے عرف اسلامی کے مطابق یہی وہ جائے واردات ہے جہاں ہم اپنے مرنے والوں کو پہنچاتے ہیں جو ہمارے اختیار میں ہوں اس لیے جائے واردات پر آنے سے ہمیں بہت کچھ فائدہ ہوتا ہے جو نہ تو قلم تحریر کرسکتی ہے اور نہ اس کو زبان سے ادا کیا جاسکتا ہے تا ہم اس فائدہ سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا بشرطیکہ دل کی اس حاضری کے ساتھ قبرستان جایا جائے کہ یہی ہو جگہ ہے جہاں مر کر مجھے پہنچنا ہے۔ اس کو مثال کے طور پر سمجھ لو کہ آج ہم جان چکے ہیں اور ہمارے علم میں ہے کہ سورج نہیں چلتا ، زمین گھومتی ہے اور اگر سورج کا چلنا ہے بھی تو وہ ایک ہی مجور پر قائم رہ کر ہے کہیں آجا نہیں رہا۔ ہماری نظر محض زمین کی گردش کے باعث ایسا محسوس کرتی ہے لیکن اس کے باوجود ہم روز مرہ گفتگو میں یہی کہتے ہیں کہ آفتاب طلوع شد ، آفتاب غروب شد ، سورج طلوع ہوا ، سورج غروب ہوگیا (طلعۃ الشمس وغربۃ الشمس دن ڈوب گیا ، دن چڑھ گیا وغیرہ تو کیا ہم یہ کہہ کر جھوٹ بول رہے ہیں یا ہمارا ایسا بولنا قابل بحث ہے ؟ اگر نہیں تو یہ ” قبروں سے نکل کھڑا ہونا “ آپ پر کیوں شاق گزرتا ہے ؟ یہ جملہ سنتے ہیں آپ کیوں الٹی سیدھی بحث شروع کردیتے ہیں ؟ اگر رسول اللہ ﷺ نے کسی مردے کو معذب پا کر اس کی قبر کی طرف مراجعت کی ہے اور اس کے لیے دعائے مغفرت کی ہے تو آپ محض اس جائے واردات کی طرف تشریف لے گئے ہیں جو محض اس لیے ہے کہ ہم انسانوں کی تفہیم کرائی جاسکے اور ہر ذہن وفکر کا انسان اس سے فائدہ حاصل کرسکے اور آخرت کے عذاب وثواب کی طرف اس کی نگاہ پلٹے تاکہ وہ اپنے کیے کا خود محاسبہ کر کے اپنی اصلاح کرسکے۔ ہاں ! ہم کوشش کریں گے کہ ہم صرف اس حد تک رہیں جس حد تک نبی اعظم وآخر محمد ﷺ ہم کو لے گئے ان حدود سے آگے بڑھ کر اپنے پاس سے استدلالا کچھ کہنے سے گریز کریں کیونکہ ان حدود کو پھلانگنا ہوگا جن کو اسلام نے مقرر کیا جس سے اصلاح کی بجائے بگاڑ شروع ہوجائے جیسا کہ اس وقت ہم نے اکثر وہ بگاڑ کر ہی دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ مختصر یہ کہ گزشتہ آیت میں جو (یوم التلاق) آیا ہے اس سے مراد وہی قیامت کا دن ہے جہاں سب کے سب جمع ہوں گے اور ایک دوسرے سے ملاقات ہوگی اور سارے انسان مرنے کے بعد جہاں بھی ان کی روحیں ہیں وہاں سے وہ نئے اجسام کے ساتھ حاضر ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ان کا ظاہر و باطن عیاں ہوگا بڑے بڑے تاجدار ، کشور کشا ، فاتح عالم ، بڑے بڑے حضرت العلام اور علامہ حضرات ، اسی ط طرح بڑے بڑے فرعون ، نمرود اور شداد جو انا ربکم الاعلی کا نقارہ بجایا کرتے تھے اور سارے وہ ہیکڑ جو ہم چوما دیگرے نیست کی ڈینگیں مارتے تھے۔ دنیا میں چنگیز اور ہلاکو سب کے سب وہاں کھڑے ہوں گے اور ان کے سامنے اعلان کیا جائے گا کہ (لمن الملک الیوم ؟ ) کس کی بادشاہی ہے آج ؟ کسی کی جرات نہ ہوگی کہ کوئی جواب دے سکے یا سوائے اللہ کے کسی کا نام لے سکے پھر رب کریم کی طرف سے ہی جواب دیا جائے گا کہ ( للہ الواحد القھار) صرف اور صرف اللہ کی جو واحد اور قہار ہے۔ ” قھار “ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت ہے اور اللہ تعالیٰ کی یہ صفت (القھار) کے تلفظ سے قرآن کریم میں چھ بار آئی ہے اور (القاھر) کا لفظ دو بار آیا ہے اور اس صفت کا بیان عروۃ الوثقی جلد سوم سورة الانعام کی آیت 18 ، 61 میں گزر چکا ہے اور جلد چہارم سورة یوسف کی آیت 39 میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
Ayah 40:17

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

(کہا جائے گا) آج کے دن ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائے گا (کسی پر) کوئی زیادتی نہ ہوگی بلاشبہ اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے

یہ وہ دن ہے کہ ہر ایک جان کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا 17۔ دنیا کیا ہے ؟ دارالعمل ہے اور ضروری نہیں کہ ہر عمل کا بدلہ اسہ وقت انسان کو مل جائے جب اس نے وہ عمل کیا ہو بلکہ اس کے عمل کا نتیجہ حکمت الہٰی نے موخر کردیا ہے اور اگر یہ تاخیر نہ ہوتی تو یہ نظام ایک منٹ کے لیے بھی نہ چل سکتا اور یہ بھی کہ کوئی شخص اپنی کیے کا جوابدہ نہ ہوتا مشیت ایزدی نے نتیجہ کو موخر رکھا ہے اور اس کے لیے ایک خاص دن مقرر کردیا ہے جیسا کہ امتحان کا دن مقرر کیا جاتا ہے اور اس دن کا نام قیاقت کا دن ہے جس کو (الیوم) کہا گیا ہے۔ اس روز ہر شخص کو اس کے اپنے عمل کا بدلہ ملے گا اور کسی شخص کی کسی طرح سے بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی نہ کسی کے عمل سے کسی کو کم ملے گا اور نہ زیادہ اور احسان کا معاملہ عدل کے بعد ہوگا اور اس کام میں کوئی زیادہ مدت نہیں لگے گی بلکہ یہ سب کچھ چشم زدن یعنی آنکھ جھپکنے میں ہوجائے گا یقین جان لیجئے کہ اللہ سے بڑھ کر کوئی سریع الحساب نہیں ہے وہ بہت جلد حساب کو واضح کردینے والا ہے ۔ قرآن کریم نے اس کی بہت سی تعبیرات کی ہیں جن کا ذکر انشاء اللہ العزیز جلد ہی آنے والا ہے۔
Ayah 40:18

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر اسلام ! ) آپ ﷺ ان کو نزدیک آنے والے دن سے ڈرائیے جب (گھبراہٹ سے) گُھٹ کر کلیجے منہ کو آئیں گے (تکلیف کی انتہا ہوجائے گی) اور ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات قبول ہو

یہ آنے والا دن بالکل قریب ہے کہ وعدہ کا دن آتے دیر نہیں لگتی 18۔ انسان بھی عجیب مخلوق ہے کہ کوئی نہایت مشکل چیز نظر آتی ہے لیکن اس کو سمجھنے میں اس کو ذرا دیر نہیں لگتی اور فورا سیکھ جاتا ہے اور کوئی نہایت آسان بات ہوتی ہے لیکن اس کو سمجھنا اس کے لیے محال ہوجاتا ہے اور مثالیں دے دے کر سمجھانے سے بھی وہ نہیں سمجھتا اور اکثر ان نہ سمجھ آنے والی چیزوں ہی میں سے ایک چیز قیامت کا دن بھی ہے کہ جب کسی بھی انسان کو کہا جاتا ہے کہ یہ دن بہت قریب ہے تو وہ ہنس کر رہ جاتا ہے کہ ملاں کتنا پاگل ہے ایک ایسی چیز کو جس کو ایک مدت دراز سے سنتے آرہے ہیں کہ قریب ہے اور بالکل قریب ہے لیکن آج تک نہ آئی ہے پھر وہ قریب کیسے ہے ؟ یا تو وہ ہے ہی نہیں اور اگر ہے بھی تو وہ تو بہت ہی دور ہے پھر اس کو ( یوم الازفہ) قریب آ لگنے والا دن کیسے کہا گیا اور اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ہر مرنے والے کی قیامت کا دن تو آگیا کہ جب وہ مر گیا اور موت کے وقت کس کو علم ہے کہ وہ کب اور کس وقت آجائے ؟ کیا وہ آنکھ جھپکنے میں نہیں آتی ؟ غور کرو کہ یہ بات کتنی صاف اور کتنی آسان ہے کہ جوں ہی کسی کی موت آئی گویا اس کی قیامت آگئی کیونکہ اس جگہ سے ایک بار جانے کے بعد کب وہ واپس آئے گا ؟ پھر جب ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے والدین ، رشتہ دار اور اولاد تک یہاں سے رخصت ہوتے رہتے ہیں اور ہم اپنے ہاتھوں ان کو زمین میں دفن کرتے آ رہے ہیں اور یہ سب کچھ کرنے اور دیکھنے کے بعد پر بھی یقین نہ آئے تو یہ انسان کی بدبختی اور کم عقلی نہیں تو اور کیا ہے ؟ اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ من مات فقد قامت قیامتہ یعنی جو مرا اس کی قیامت تو آگئی کیونکہ اصل قیامت کے روز تک کو جو فاصلہ ہے وہ آج مرنے والوں اور آج سے ہزاروں سال پہلے مرنے والوں اور ہزاروں سال بعد مرنے والوں کے لئے یکساں ہے۔ مرنے کے بعد جی اٹھنے والے سارے کے سارے یہی سمجھیں کہ ابھی سوئے تھے جگا دیئے گئے اس ہر شخص کے لیے قیامت کا اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا اس کی دنیوی زندگی کا اور غور کرو کہ کون جانتا ہے کہ اس کی دنیوی زندگی کا وقت کتنا باقی ہے جب کہ ہم روزانہ یہ بات دیکھ رہے ہیں کہ ابھی ایک آدمی اچھا بھلا تھا کہ اچانک آواز بلند ہوگئی کہ فلاں وفات پا گیا یہاں تک کہ فعض اوقات سننے والوں کو یقین ہی نہیں آتا کہ کہنے والا سچ کہہ رہا ہے لیکن اس کی تصدیق ہوتے دیر نہیں لگتی کہ جس کو سچ نہیں سمجھ رہا تھا وہ سو فی صد سچ تھا۔ بات بالکل واضح ہے اور حقیقت ہے کہ ہر شخص کی موت اس کے پہلو میں کھڑی ہے اور موت کی جگہ اگر تم قیامت کہہ لو تو خود بخود سمجھ جائو گے کہ قیامت ہر انسان کے بغل میں موجود ہے۔ اس کے بعد اس قیامت کی ہولناکی کی تصویر ہے کہ اس دن مجرموں کے دل گویا حلق میں آئے ہوئے ہوں گے اور اس دن کے ہولناک مناظر کو دیکھ کر لوگوں پر اتنی دہشت اور خوف طاری ہوگا کہ ان کے اوسان خطا ہوجائیں گے اور جس بات پر ان کو کبھی یقین نہیں آتا تھا اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ششدر ہوجائیں گے اور وہی حالت ان کی ہوگی جب انسان نہایت غصہ کی حالت میں ہو اور غصہ نکالنے کی کوئی صورت بھی اس کو نظر نہ آئے اور اس کا دم گھٹنے لگے اور چاہے کہ اس کو موت ہی آجائے لیکن وہ مانگنے سے کب خآتی ہے ؟ رہے ظالموں کے وہ دوست و احباب جو ان کو مشورے دیا کرتے تھے اور جن سے مل کر یہ پیغمبر اسلام ﷺ پر پھبتیاں کستے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئیں گے کیونکہ وہ بھی ان کے ساتھ ہی اس دن کے عذاب میں مبتلا ہوں گے اور نہ ہی ان کے وہ سفارشی جن پر وہ انحصار کر کے مگن اور لا پرواہ تھے وہ بھی ان کی سفارش کے لیے کہیں نظر آئیں گے اور اگر وہ سفارش کریں بھی تو آخر انکی سفارش کون سنے گا اور کیوں کر وہ سفارش کرسکیں گے جب کہ ان کو سفارش کی اجازت ہی نہ ہوگی۔ بلاشبہ ان لوگون نے دنیا میں بڑے بڑے لوگوں سے تعلقات قائم کیے تھے لیکن اس دن ان کے یہ سارے تعلقات منقطع ہوجائیں گے اور کوئی تعلق دار ان کے قریب بھی نہیں بھٹکے گا۔ دنیاوی تعلق کی جتنی اقسام ہیں سب کی سب ختم ہو کر رہ جائیں گی اس کی تفصیل عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 125 سے 127 تک میں کردی گئی ہے وہاں سے ملاحظہ کرلیں۔
Ayah 40:19

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

وہ آنکھوں کی چوری کو جانتا ہے اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہوا ہے وہ بھی

اللہ تعالیٰ ہر آنکھ کی خیانت اور ہر دل کی مخفی حالت سے واقف ہے 19۔ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو علام الغیوب اور دلوں کے رازوں تک سے واقف ہے اس کے ہاں آخر کسی کی سفارش چل ہی کیونکر سکتی ہے ، اس کے علم محیط سے ان ظالموں کی کوئی حرکت بھی تو پوشیدہ نہیں وہ تو ان کے سارے کرتوتوں سے اچھی طرح واقف ہے اور ان کے دلوں میں جو راز پوشیدہ ہیں ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے۔ اس کے سامنے ایسوں کی سفارش کیوں اور کیسے ؟
Ayah 40:20

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور اللہ تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور اللہ کے سوا جن کو یہ (لوگ) پکارتے ہیں وہ تو کچھ بھی فیصلہ نہیں کرسکتے (کہ وہ اس معاملہ میں مجبور محض ہیں) بلاشبہ اللہ ہی سننے والا ، دیکھنے والا ہے

اللہ کا فیصلہ حق ہے اور اس کا فیصلہ سب پر غالب ہے وہ سننے والا ، جاننے والا ہے 20۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ سارے حقائق سے براہ راست واقف ہے اس لیے جو فیصلہ کرے گا یقینا وہ حق ہی ہوگا اور پھر یہ بھی کہ ہو حق کو حق کر دکھائے گا اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں اور وہ کسی بات کو پوشیدہ نہیں رہنے دے گا اگر حق کو واضھ کرنے کے لیے خارجی شہادتوں کی ضرورت پیش آئے تو ان کی بھی وہاں کوئی کمی نہیں ہوگی ان کے اعمال کا اندراج ان کے ہاتھ پائوں اور دوسرے جوارح شہادتیں پیش کردیں گے اور ان کو وہ کام کرتے دکھادیا جائے گا جو انہوں نے دنیا میں کیے ہوں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی بھی یہ لوگ پرستش کرتے تھے اور جن جن کے بارے میں خیال کرتے تھے کہ یہ ہماری سفارش کریں گے اور اللہ سے جس طرح چاہیں گے فیصلہ کروا لیں گے بلکہ یہاں تک کہ فیصلہ ہی ان کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے ان کے اس طرح کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اور کسی کو جرات نہ ہوگی کہ وہ کسی بات کا کوئی فیصلہ کرسکے بلکہ ان سب کے فیصلے بھی رب کریم ہی کے پاس ہوں گے کیونکہ وہی ہے جو سب کی حالت کو اچھی طرح جانتا ہے اور براہ راست سننے اور جاننے والا ہے اس کو کسی واسطہ اور وسیلہ کی ضرورت نہیں ہے اس کا فیصلہ سب فیصلوں پر حاوی ہے یہاں تک کہ نبیوں اور رسولوں کے فیصلوں پر بھی اس کی عدالت میں اپیل ہو سکتی ہے کیونکہ اس کے سوا کوئی نہیں ہے جو ہر بات کو سننے اور جاننے والا ہو۔
Ayah 40:21

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے زمین پر سیر و سیاحت نہیں کی کہ یہ دیکھ لیتے کہ ان سے پہلے والوں کا کیسا انجام ہوا حالانکہ وہ لوگ ان سے قوت میں (بھی) زیادہ تھے اور ان نشانیوں میں (بھی) جو وہ زمین میں چھوڑ گئے ہیں (کھنڈرات بتا رہے ہیں کہ عمارت عجیب تھی) پس اللہ نے ان کے گناہوں کے سبب ان کی گرفت کی اور اللہ (کے عذاب) سے ان کو کوئی بچانے والا نہ ہوا

کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں اور لوگوں کے انجام سے بھی واقف نہیں ؟ 21۔ زیر نظر آیت میں نبی کریم ﷺ کے مخالفین اور معاندین کو مخاطب کیا جارہا ہے اور ظاہر ہے کہ اول مخاطبین آُ کے قبیلہ کے لوگ تھے ان سے استفسار کیا جارہا ہے کہ تم تو تاجر لوگ ہو اور جن راستوں سے چل کر تم تجارت کی غرض سے جاتے ہو وہ راستے پہلی قوموں کی تباہی و بربادی کی حالت کو ظاہر کر رہے ہیں اور بول بول کر کہہ رہے ہیں کہ جن لوگوں نے نبیوں اور رسولوں کی مخالفت کی ہے ان کے ساتھ کیا کیا گیا ہے ، ان کا انجام دیکھنے کے لیے ان کی آبادیوں کے کھنڈرات سب کچھ بیان کر رہے ہیں حالانکہ وہ لوگ ان سے زیادہ کرو فر اور زیادہ طاقت وقوت اور شان و شوکت رکھتے تھے۔ ان کے بنائے ہوئے فلک بوس محلات ، پہاڑوں کی مانند مستحکم قلع ، ان کے بسائے ہوئے شہر اور قصبات ، ان کے لگائے ہوئے باغات کے نشانات آۃ ج بھی جگہ جگہ موجود ہیں جو ان کی عظمت کو گواہی دے رہے ہیں پھر آپ لوگ اگر بینا آنکھ رکھتے ہو تو اس سے عبرت حاصل کیوں نہیں کرتے ؟ ان لوگوں نے بھی اپنے نبیوں اور رسولوں کی مخالفت کی تھی اور ان کو استہزاء کا نشانہ بنایا تھا اور اس جرم کی پاداش میں ان کو اس صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا اور پھر جب ان کی پکڑ کا وقت آیا تو کوئی بھی ان کو بچانے والا نہ ہوا پھر جب ان کو کوئی نہ بچا سکا تو تم کو آخر کوئی کیسے بچا لے گا اگر تم پر بھی پکڑ کا وقت آگیا ؟
Ayah 40:22

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

یہ اس لیے ہوا کہ ان کے پیغمبر ان کے لیے کھلی کھلی نشانیاں لے کر آتے رہے لیکن یہ (لوگ) کفر ہی کرتے رہے پس اللہ نے ان کو پکڑ لیا بلاشبہ وہ بڑی قوت والا (اور) سخت سزا دینے والا ہے

گزشتہ قوموں کو کیوں ہلاک کیا گیا ؟ اس لیے کہ انہوں نے کفر کیا 22۔ گزشتہ قوموں کی ہلاکت کا ذکر کر کے اب ان کے کھنڈرات دیکھنے والوں سے پوچھا جار ہا ہے کہ وہ لوگ جن کی بستیوں اور آبادیوں کے یہ کھنڈرات تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو ان کو آخر کیوں ہلاک کیا گیا ؟ کیا ان کے ساتھ اللہ رب کریم کو کوئی خاص بیر تھا ؟ فرمایا نہٰں اور ہرگز نہیں بلکہ ان کی ہلاکت کا سبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی طرف اپنے رسول مبعوث کیے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام ہدایت ان تک پہنچایا لیکن ان لوگوں نے بگوش ہوش اس کو نہ سنا اور جو کچھ سنا وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا اور ان کی ہی سنی کو ان سنی کردیا اور اللہ کے رسولوں کی کوئی پرواہ نہ کی بلکہ مخالفت میں ڈٹ گئے اللہ تعالیٰ کے قانون امہال سے بھی انہوں نے کوئی فائدہ حاصل نہ کیا بلکہ جو ڈھیل ان کو دی گئی اس نے ان کو کفر پر اور دلیر کردیا پھر نتیجہ کیا ہوا ؟ یہی کہ ان کو ان کے کیے کی سزا میں دھر لیا گیا اور کوئی دتبیر بھی ان کے کام نہ آئی اور انجام کار ان کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا گیا اور آج ان کے کھنڈرات بتا رہے ہیں کہ عمارت عجیب تھی۔ آگے آنے والی آیات میں اس دعویٰ کی دلیل پیش کی جا رہی ہے اور دلیل میں موسیٰ اور فرعون کی سرگزشت کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔
Ayah 40:23

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے احکام اور کھلی دلیل کے ساتھ بھیجا

موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی روشن دلائل دے کر بھیجا گیا تھا 23۔ اس میں کوئی شک وشبہ کی بات نہیں کہ ہم نے اس وقت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین بنا کر مبعوث کیا ہے اور ہم ہی نے اس سے بہت پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول بنا کر اور اس کو روشن دلائل دے کر بھیجا تھا۔ پھر جن لوگوں کی طرف موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا گیا انہوں نے موسیٰ کی تکذیب کی اور ایک مختصر گروہ کے سوا وہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) مسلسل جھٹلاتے رہے اور ان کا انجام ذرا تم قریش مکہ کان کھول کر سن لو اور اگر تم میں کوئی اپنے اندر ایمان رکھتا ہے اور اس کا اظہار کرنے سے ڈرتا ہے تو وہ بھی اس سرگزشت سے فائدہ حاصل کرلے۔
Ayah 40:24

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

(موسیٰ کو) فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف (پیغام دے کر بھیجا) پھر وہ کہتے رہے کہ یہ جادوگر ہے جھوٹا

موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون ، ہامان اور قارون کی طرف بھیجا گیا ، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر کہا 24۔ فرعون اس وقت کا بادشاہ مصر تھا اور قارون کا تعلق خاص موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بنی اسرائیل سے تھا لیکن چونکہ اس کے پاس دولت کے انبار تھے اس لیے اس نے فرعون کے دربار میں عزت ومنزلت حاصل کرلی اور قوم پر ظلم وستم کرواتارہا اور خود حکومت سے فواہد حاصل کرتا رہا تا ہم قارون اس کا نام تھا خواہ وہ ذاتی نام تھا یا لقب اور ہامان کے متعلق معلوم نہیں ہوسکا وہ نام ہے یا کسی عہدہ کے باعث اس کو ہامان کہا گیا ہے بہرحال وہ فرعون کے خاص وزراء ومراء میں سے ایک تھا جو بہت شہرت رکھتا تھا۔ ان تینوں سرداروں اور حکمرانوں کا ذکر کر کے نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کے مخالفین کو بتایا جا رہا ہے کہ جس طرح تم روساء قریش مخالفت میں ڈٹے ہوئے ہو اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت میں بھی فرعون اور اس کے اعوان وانصار ڈٹ گئے تھے اور آج جس طرح تم نے محمد رسول اللہ ﷺ کو جادوگر کہنا شروع کیا ہے ؟ بالکل اسی طرح فرعون اور اس کے ساتھیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا تھا۔
Ayah 40:25

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

پس جب (موسیٰ ) لوگوں کے پاس ہماری طرف سے (دین) حق لے کر پہنچا تو وہ بولے کہ جو لوگ اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر دو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ چھوڑ دو (اس طرح موسیٰ کی جماعت کمزور ہوجائے گی) لیکن کافروں کی یہ تدبیر بھی رائیگاں ہی گئی

فرعونیوں پر موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا کوئی اثر نہ ہوا 25۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کے اعوان وانصار کے سامنے حق کو پیش کیا ، توحید الہٰی اور ربوبیت خداوندی کا درس دیا لیکن فرعون پر اور اس کے ساتھیوں پر اس کا الٹا اثر ہوا اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے جواب میں بنی اسرائیل پر وہی مظالم دوبارہ شروع کردیئے جو قبل ازیں وقفہ وقفہ سے کرتا آ رہا تھا۔ اب انہوں نے اتفاق رائے سے دوباراہ بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرنے اور عورتوں کو زندہ رکھ کر ان کی عصمت سے کھیلنے کا دوبارہ عزم کیا گا کہ بنی اسرائیل تنگ آکر اپنے لیڈر موسیٰ (علیہ السلام) کے گلے پڑجائیں کیونکہ اب کی دفعہ انہوں نے یہ وضاحت کردی کہ بنی اسرائیل میں سے صرف ان لوگوں کے ساتھ یہ ظلم روا رکھا جائے گا جو موسیٰ پر ایمان لائیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے قبل یہ سزا پوری قوم بنی اسرائیل کے لیے مقرر تھی جو وقتا فوقتا دی جاتی تھی لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی آمد کے بعد صرف ان لوگوں کے ساتھ مخصوص کردی جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تاکہ وہ ایمان لانے سے باز رہیں لیکن اتنی سخت اور وحشیانہ سزائوں کے باوجود جو ایمان کو مقدم سمجھتے تھے وہ ایمان لے آئے اور فرعونیوں کا یہ مکر زیادہ دیر نہ چل سکا اور جو مکاریاں فرون اور اس کے ساتھیوں نے اختیار کی تھیں وہ بیکار ثابت ہوئیں کیونکہ وہ بنی اسرائیل کی تعداد کو اس طرح کم کرنا چاہتے تھے لیکن وہ اس معاملہ میں بری طرح ناکام ہوئے اس لیے کہ بنی اسرائیل کم ہونے کی بجائے اور زیادہ بڑھ گئے۔
Ayah 40:26

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا کہ مجھے چھوڑ دو کہ موسیٰ کو قتل کردوں اور چاہیے کہ وہ اپنے رب کو بلا لے (اس لیے کہ) مجھے اندیشہ ہے کہ وہ تمہارے دین کو بدل نہ ڈالے اور ملک میں فساد نہ بپا کر دے

جب اس کا نتیجہ کچھ نہ نکل سکا تو فرعون بوکھلا گیا اور کہنے لگا کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں گا 26۔ یہ فطری چیز ہے کہ جب کسی کی اسکیم ناکام ہوجائے اور اس کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہو تو وہ انسان جو اسکیم بنانے والا ہوتا ہے وہ تقریبا بوکھلا جاتا ہے یہی حالت اس وقت فرعون کی ہوگئی اس نے بنی اسرائیل پر یہ ظلم محض اس لیے روا رکھا کہ بنی اسرائیل اس کے ظلم سے گھبرا کر اپنے لیڈر اور نبی رسول موسیٰ کے گلے پڑجائیں گے لیکن بنی اسرائیل کی اکثریت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہی رہی اور ساتھ چھوڑنے پر تیار نہ ہوئی۔ ان حالات کے پیش نظر فرعون گھبرا گیا اور اپنے اعوان وانصار سے کہنے لگا کہ آپ لوگ مجھے اجازت دیں تو موسیٰ کو قتل کردوں اور اس سے دو ٹوک کہہ دوں کہ اگر تیرا کوئی خدا ہے تو اس کو اپنی مدد کے لیے بلالے پھر اس نے اپنی اسکیم کو نافذ کرنے کی دلیل پیش کرتے ہوئے مزید کہا کہ مجھے خیال پڑتا ہے کہ اگر موسیٰ کو اس طرح کھلی چھٹی دی تو وہ یقینا ہم لوگوں کا دین بدل دے گا اور اس طرح زمین میں ایک نیا فساد بپا کر دے گا۔ فرعون نے ایک قدم مزید آگے بڑھاتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ موسیٰ ملک میں بغاوت پھیلا دے گا جس کے نتائج بڑے خطرناک ہوں گے۔ فرعون اپنی قوم میں جو سیاسی حیثیت رکھتا تھا وہ تو بہت ہی مضبوط تھی لیکن اس کی مذہبی حیثیت بھی تھی کہ وہ قوم والوں کے نزدیک سورج دیوتا کا مظہر تھا اور اس کی حیثیت ایک اوتار کی بھی تھی اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) کی بیان کردہ توحید کی زد براہ راست اس پر پڑتی تھی اس طرح جیسا خطرہ اس کو حکومت کا لاحق تھا ویسا ہی خطرہ اس کو مذہب کے بھرمٹ ہوجانے کا بھی تھا یہی وجہ تھی کہ وہ بوکھلا گیا تھا اور چاہتا تھا کہ جو قدم اٹھائوں وہ اتنا مضبوط ہو کہ موسیٰ فورا چت ہو اجائے یا اس کے راستے سے ہٹا دیا جائے اور اس کی اب ایک ہی صورت اس کے سامنے تھی اور یہ کہ اس طرح کا اقدام کرنے سے وہ خوفزدہ بھی تھا کہ یہ استروں کی مالا کہیں اس کے گلے میں نہ پڑجائے۔ معلوم ہوتا ہے کہ سیاسی شاطر آج ہی نہیںٰ آج سے بہت پہلے سے یہ ہتھیار استعمال کرتے آئے ہیں کہ جب ان کی سیاست ماند پڑنے لگے تو وہ اس کو مذہبی سہارا دے کر کھڑا رکھنا چاہتے ہیں اور تعجب ہے کہ یہی گر اس وقت اس ملک عزیز کے ساست دانوں نے اختیار کر رکھا ہے جس کے نتیجہ میں مذہبی لیدر اور سیاسی لیڈر ایک دوسرے کے لیے سہارا بنے ہوئے ہیں اور اس سہارے پر اب ملک کی سیاست اور مذہب دونوں چل رہے ہیں اور عوام کو دھوکا دے کر آج کے مذہبی اور سیاسی لیڈر فوائد حاصل کر رہے ہیں لیکن یہ صورت حال آخر کب تک چل سکتی ہے جب کہ اس اسکیم کے تحت دونوں کا بیڑا غرق ہوتا چلا جا رہا ہے اور لیڈروں نے نہ سیاست کو سیاست رہنے دیا ہے اور نہ ہی مذہب کو مذہب ، دونوں ہی کو ایک دھوکا اور فریب بنا کر رکھ دیا ہے اور وہی پرانی چالیں چل رہے ہیں اگر فرق ہے تو وہ صرف نام کا ہے اور دور کا کہ وہ دور فرعون کا تھا اور یہ دور فراعنہ کا وہاں فردِ واحد کا نام چلتا تھا اور یہاں جمہوریت کے بل پر جماعت اور پارٹی کا نام لیا جاتا ہے اور وہ بھی فقط نام ہی کی حد تک محدود ہے۔
Ayah 40:27

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

اور موسیٰ نے (بڑے اطمینان سے) کہا کہ میں تو اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آچکا ہوں ہر (اس) متکبر سے جو حساب کے دن پر یقین نہیں رکھتا

فرعون نے سوال تو اپنے اعوان وانصار سے کیا تھا لیکن جواب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیا 27۔ فرعون کے اعوان وانصارنے فرعون کی بات سنی لیکن فیصلہ کو محفوظ رکھا کیونکہ وہ فیصلہ ہی ایسا تھا کہ محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے فیصلہ کیا دیا ؟ بات بالکل واضح ہے کہ فرعون کی بات کی انہوں نے تصدیق کردی کہ یہ بات بالکل صحیح ہے جب تک موسیٰ کو راستۃ سے ہٹا نہ دیا جائے اس وقت تک قوم بنی اسرائیل کو قابو میں نہیں رکھا جاسکتا لیکن اس فیصلہ کو انائونس نہ کیا جئاے بلکہ کسی مناسب موقعہ کی تاڑ میں رہ کر پتہ تب ہی چلے جب موسیٰ کا کام تمام کردیا گیا ہو لیکن ان کا یہ فیصلہ محفوظ نہ رہ سکا اور بنی اسرائیل کے رسول و نبی اور فرعون کے مخالف لیڈر کو معلوم ہوگیا کہ فرعون کی اسکیم کی تصدیق کردی گئی جب موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوا تو انہوں نے اس کا جواب از خود دے دیا اور ذرا گھبراہٹ محسوس نہیں کی نہایت زور دار الفاظ میں فرعون تک اپنا جواب پہنچا دیا کہ میرا موقف تم کو معلوم ہے میں اپنا اور تمہارا رب اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو سمجھتا ہوں اور اب بھی اسی نظریہ پر قائم ہوں اس میں ذرا لچک ڈالنے کے لیے تیار نہیں میں اپنے اس رب سے پناہ طلب کرتا ہوں اس دنیا کے ہر ایک متکبر سے کبھی خائف ہونے کے لیے تیار نہیں اور وہ لوگ جو یوم آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان سے آخر ڈروں تو کیوں اور کیسے ؟ وہ اس قابل ہی کب ہیں کہ ان سے ڈرا جائے اس لیے میری طرف سے اعلان ہے کہ تم نے جو فیصلہ کیا ہے اس کو نافذ کرنے کی اپنی ساری کوشش کرو اور اگر اللہ نے میری زندگی ابھی باقی رکھی ہے تو تم کون ہوتے ہو مجھے قتل کرنے والے اور اگر عنداللہ میرا وقت موت کا ہے تو میں موت سے کیسے بچ سکتا ہوں لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ تم اپنے فیصلہ میں کامیاب نہیں ہو سکتے میں اور میرے ساتھیوں نے اس کے دامن میں پناہ لی ہے جس کا دامن رحمت بہت وسیع ہے اور تمہارے جیسے ظالموں کی وہاں تک پہنچ نہیں ہے۔
Ayah 40:28

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اور ایک مرد جو فرعون ہی کے لوگوں میں سے تھا اور اپنے ایمان کو (اپنے دل میں) چھپائے ہوئے تھا وہ بولا کیا تم ایک شخص کو (محض) اس بات پر قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور (پھر) وہ تمہارے پروردگار کے ہاں سے تمہارے پاس کھلی نشانیاں لے کر آیا ہے اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اس پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہے تو جو پیشین گوئی وہ کر رہا ہے اس میں سے کچھ تم پر پڑ کر رہے گا (تم ذلیل و ناکام ہو گے) بلاشبہ اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے تجاوز کرنے والا سراسر جھوٹا ہو

موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے جواب نے بات کو سب پر واضح کر دیا 28۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے جو جواب دیا گیا ہے وہ پورے ملک میں آناََ فانا پھیل گیا اور ملک کے ہر فرد پر واضح ہوگیا کہ اب فرعون اوچھے ہتھیاروں پر اتر آیا ہے اس لیے جہاں فرعون کا ساتھ دینے والے منصوبہ بندیاں کر رہے تھے وہاں جس جس دل میں ایمان کا ذرہ موجود تھا وہ بھی چھپا نہ رہ سکا اور یہ بھی کہ جہاں بنی اسرائیل کے کچھ لالچی قسم کے لوگ جو صرف دولت کے پوت تھے فرعون کے ساتھ ہاں میں ہاں ملا رہے تھے وہاں قبطی قوم کے وہ لوگ جن کے دلوں میں سچائی راہ پا چکی تھی وہ بھی چھپے نہ رہ سکے انہی لوگوں میں سے ایک آدمی جس کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے لیکن نام نہیں لیا وہ بھی تھا اس نے جب موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب سنا اور اس پر واضح ہوگیا کہ فرعون اب ایسا قدم اٹھانا چاہتا ہے کہ اگر اس کی مزاحمت نہ کی گئی تو شاید پھر اس کا موقع ہی ہاتھ سے جاتا رہے وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی قوم کے لوگوں کو مخاطب کر کے کہنے لگا کہ کیا تم ایک ایسے مرد کو قتل کرنا چاہتے ہو جس کا قصور فقط یہ ہے کہ اس نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو اپنا رب کہا ہے اور اس معاملہ میں تمہارے سامنے واضح دلائل بھی پیش کردیئے ہیں کہ تمہارا رب اور الٰہ فرعون نہیں بلکہ اللہ رب کریم ہے پھر تم اس کے قتل کے درپے ہوگئے ہو کیا صرف اتنی بات پر کسی کو قتل کردینا قرین انصاف ہے ؟ تم کو ایسا اقدام ہرگز نہیں کرنا چاہیے اگر وہ یہ بات کہنے میں جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا تم صرف اس بات کی وجہ سے اس کے قتل کے درپے کیوں ہوگئے اور اگر وہ اپنے موقف میں صادق ہے اور تم سے ایک سچی بات کہہ رہا ہے تو جو کچھ وہ کہہ رہا ہے وہ ووعدہ الٰہی کہہ کر بیان کر رہا ہے پھر تم کو وہ عذاب اپنے لپیٹ میں لے لے گا جس کا اس نے اعلان کیا ہے اور اس میں کوئی شک وشبہ اب باقی نہیں رہ گیا کہ اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں اور جھوٹوں کو کبھی راہ ہدایت نہیں دیتا اس طرح اس اللہ کے بندے نے جو بات شروع کی تھی شروع کرتے ہوئے تو ابھی وہ اپنے آپ کو چھپائے ہوئے ہی تھا لیکن اب بات کرتے کرتے اس نے فرعون اور اس کے ساتھیوں پر واضح کردیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جو تعلیم دے رہا ہے اس کا اثر فرعون کے اپنے خاندان کے لوگوں پر بھی کسی حد تک ہوچکا ہے اور اگر فرعون نے کوئی ایسی حرکت کی جو نازیبا ہوئی تو وہ سمجھ لے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ صرف بنی اسرائیل ہی کے لوگ نہیں فرعون کی اپنی پارٹی کے لوگ بھی اس کے ساتھ ہیں اس طرح اس نے بات کرتے کرتے اس کی وضاحت کردی اور ابھی اس مومن کا بیان جاری ہے۔
Ayah 40:29

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

(وہ مزید کہنے لگا کہ) اے میری قوم ! آج تمہاری حکومت ہے اور اس سرزمین میں تم غالب ہو پھر اگر عذاب الٰہی آجائے تو ہم کو اس سے کون بچا سکے گا ، فرعون بولا (میں بحث نہیں کرتا) میں تو تم کو وہی بات سمجھاتا ہوں جو خود سمجھتا ہوں اور میں تم کو وہی بتاتا ہوں جو (ہر طرح) بھلائی ہی بھلائی ہے

اس مومن نے اپنی قوم کو مخاطب کر کے خود موسیٰ (علیہ السلام) کا پیغام جاری کر دیا 29۔ اس مومن کی تقریر پر غور کریں کہ کس قدر اس کے نظریات پختہ اور ایمان کامل ہے کہ وہ قوم کو مخاطب کر کے کہہ رہا ہے کہ اے میری قوم کے لوگو ! مانا کہ آج تمہاری حکومت ہے اور ملک کی باگ ڈور تمہارے ہاتھ میں ہے اور اس سرزمین پر تم کو غلبہ حاصل ہے لیکن میں تم سے پوچھتا ہوں کہ اگر کل اللہ تعالیٰ کے عذاب نے تم کو آلیا تو آخر کون ہے جو تم کو اس عذاب سے بچائے گا۔ اس کی باتیں سن کر فرعون بھی دم بخود رہ گیا کیونکہ یہ آدمی اس کی قوم سے تعلق رکھتا تھا اور معلوم ہوتا ہے یہ آدمی بھی کوئی معمولی نہیں تھا بلکہ اچھے بھلے اثر و رسوخ کا مالک تھا جس کے سامنے فرعون بھی سہم گیا اور کہا تو صرف یہ کہا کہ میں نے تم کو ایک مشورہ دیا ہے اور جو میں سمجھا ہوں وہ تمہارے سامنے بیان کردیا ہے اور میں اب بھی یہی کہوں گا کہ جو میں نے کہا وہ وہی کچھ ہے جو میرے نزدیک صحیح اور درست ہے میں نے تم کو سیدھی راہ دکھانے کی کوشش کی ہے تم کو تسلیم ہے تو فبہا ورنہ جو تمہاری مرضی میں تم کو کسی معاملہ میں مجبور نہیں کرنا چاہتا۔ فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کا مخالف اور آپ کی نبوت و رسالت کا منکر ضرور تھا لیکن اس کے باوجود وہ صلاحیتوں کا ضرورمالک تھا زیر نظر آیت میں جو اس نے جواب دیا وہ ایک مطلق العنان بادشاہ کا جواب ہے لیکن آج کل جمہوری فرعونوں سے اس کا جواب بہت سلجھا ہوا ہے کہ وہ ان کی طرح تنگ مزاج اور کم ظرف نہیں تھا کہ ادھر کسی نے مخالفت کی اور ادھر جھٹ مخالفت کرنے والے پر غداری کا الزام لگا دیا اور پارٹی سے نکال باہر کردیا اس نے اپنی قوم کے اس فردِ مومن کی باتوں کو نہایت تحمل وبردباری کے ساتھ سنا اور سلجھا ہوا جواب دیا کہ آج ہمارے سیاست دانوں میں سے یک بھی ایسا نہیں جو اس فرعون ہی کے مزاج کا ہوا اور اتنی برداشت رکھتا ہو۔
Ayah 40:30

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

اور اس شخص نے جو ایمان لے آیا تھا کہا کہ اے میری قوم ! مجھے تم پر ایسے روز (بد) کا اندیشہ ہے جو (تم سے پہلے) دوسری قوموں پر پڑا ہے

مومن نے ایک مثال سے اپنی قوم کے لوگوں کو سمجھانا چاہا 30۔ اس مومن نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں تمہارے متعلق اس بات سے ڈرتا ہوں کی کہیں تمہارا وہی حال نہ ہو جو پہلے بہت سی جماعتوں کا ان کی بداعمالیوں کے باعث ہوچکا ہے کہ وہ اپنی بداعمالیوں ہی کی وجہ سے تباہ وبربادہو چکی ہیں بہتر ہوتا کہ تم لوگ ان کی سرگزشتوں سے سبق حاصل کرتے اور موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو اتنی جالدی نہ جھٹلا دیتے جتنی جلدی تم نے جھٹلا دیا۔ اس لیے کہ اس طرح ضروری ہوگیا کہ جو حال ان کا ہوا وہی تمہارا حال بھی ہوگا۔
Ayah 40:31

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

جیسا کہ قوم نوح ، عاد وثمود اور ان (سب) کے بعد آنے والوں کا حال ہوا اور اللہ (اپنے) بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا (ان کی تباہی ان کے اعمال ہی کا نتیجہ تھی)

ان گزشتہ قوموں میں سے چند کے نام بھی اس نے لے لیے 31۔ اس مرد مومن نے اپنی قوم کو سمجھاتے ہوئے مثال میں قوم نوح ، عاد اور ثمود کا نام بھی لیا اور ان جماعتوں اور گروہوں کے بعد کے لگوں کا بھی ذکر کیا اور دو ٹوک الفاظ میں قوم سے کہہ دیا کہ میری قوم کے لوگو ! ان گزشتہ قوموں کو جو ہلاک کیا گیا تو کوئی ظلما ان کو ہلاک نہیں کیا بلکہ ان کے اعمال کے نتیجہ میں ان کی ہلاکت ہوئی اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس تو ایسی نہیں ہے کہ وہ کسی پر ظلم کرے۔ میری قوم کے لوگو ! تم نے قوم نوح ، عاد قوم اور ثمود قوم کی سرگزشتیں سنیں اور دیکھی ہوں گی اور ان کے بعد بھی بہت سی قوموں کے حالات سے تم کو واقفیت ہوگی کیا ان کو ہلاک نہیں کیا گیا تھا ؟ اگر کیا گیا تھا تو آخر کیوں ؟ اس لیے کہ انہوں نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ساتھ ظلم روا رکھا اور وہی کچھ تم اللہ کے رسول موسیٰ کے ساتھ کر رہے ہو۔
Ayah 40:32

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! مجھے تمہارے متعلق چیخ و پکار کے دن کا اندیشہ ہے

اے میری قوم کے لوگو ! میں تو قیامت کے عذاب سے تم کو ڈراتا ہوں 32۔ (یوم التناد) پکارے جانے کا دن یا ہانک پکار کا دن ، یہ اس عذاب کی تفصیل ہے جو گزشتہ آیت میں مذکور ہے اور یہ اس مرد مومن کی تقریر کا حصہ ہے جو اس نے اپنی قوم کے وڈیروں کو مخاطب کر کے کی تھی اور خصوصا فرعون کو مخاطب کر کے کہ مجھے تو اس بات کا خوف کھائے جا رہا ہے کہ تمہارا حال اس روز کیا ہوگا جب ایک طرح کی ہل چل مچ جائے گی اور کسی کو کسی کی خبر نہ رہے گی اگر تم نے کبھی کسی ناگہانی مصیبت کو آتے دیکھا ہے یا کبھی زلزلہ سے آپ کا واسطہ پڑا ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ایسے وقت میں کیا ہوتا ہے لیکن یہ ایک ادنی سے مثال ہے بلاشبہ وہ دن بہت ہی خطرناک ہے اور یقینا مجرمین کو اس دن کی ہولناکیاں ہر طرف سے گھیر لیں گی اور ان کی حالت تاگفتہ بہ ہوگی۔
Ayah 40:33

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

اس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے ، کوئی تم کو اللہ سے بچانے والا نہ ہوگا اور جس کے لیے اللہ (اپنے قانون کے مطابق) راہ گم کر دے اس کو کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے

مجرمین کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ تم کو اللہ سے کوئی نہیں بچائے گا 33۔ اس مرد مومن نے جب تک اپنی حالت کو چھپائے رکھا وہ مخفی رہا لیکن جب اس نے بات شروع کردی تو گویا اپنی قوم کو پورا وعظ کرنا شروع کردیا اور جذبات سے بھرپور ہو کر بات کرنا شروع کردی اور قیامت کے روز کی حالت بیان کرتے ہوئے اس نے کہا کہ اس روز تم پیٹھیں پھیر کر بھاگ کھڑے ہو گے اور تم کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنے قانون مشیت کے مطابق جس کسی کو گمراہ کردے اس کو راہ دکھانے والا کوئی نہیں ہو سکتا اور ہدایت حاصل کرنے کے بارے میں قانون الہٰی یہی ہے کہ ہمیشہ تلاش کرنے والا ہی پاتا ہے۔
Ayah 40:34

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اور بلاشبہ تمہارے پاس (موسیٰ سے) پہلے یوسف (علیہ السلام) (بھی) کھلی نشانیاں لے کر آیا تھا لیکن تم ان باتوں کے متعلق جو وہ تمہارے پاس لے کر آیا تھا برابر شک ہی میں پڑے رہے تھے یہاں تک کہ جب وہ وفات پا گیا اور تم کہنے لگے بس اب اللہ کوئی رسول اس کے بعد نہ بھیجے گا ، اس طرح اللہ حد سے بڑھنے والوں ، شک کرنے والوں کو محروم ہدایت ہی رکھتا ہے

مرد مومن نے قوم سے بات کرتے ہوئے یوسف (علیہ السلام) کا حوالہ ان کو دیا 34۔ اسی مرد مومن نے پ ہے بہت دور کا حوالہ پیش کیا تھا یعنی قوم نوح ، عاد اور ثمود کا لیکن اب قوم کے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم کو معلوم ہے کہ تمہارے پاس اس سے قبل سیدنا یوسف (علیہ السلام) بھی روشن دلائل لے کر آئے تھے لیکن تم وہ لوگ ہو کہ اس وقت بھی تمہارا شک وشبہ نہ نکلا حالانکہ یوسف (علیہ السلام) کا دور ایسا دور تھا کہ ان کے حسن تدبیر سے کون ہے جو واقف نہیں اور کون ہے جس نے ان کے دور میں آسائش و آرام نہ پایا ہو خصوصا مصر میں وہ کون شخص ہے جو ان کا مرہون منت نہ ہو تم کو معلوم ہے کہ تم ان ہی لوگوں کی اولاد در اولاد ہو جنہوں نے اس سنہری دور سے براہ راست استفادہ کیا تھا اور یہ بھی کہ جب ان کی وفات ہوگئی تو تمہارے ہی باپ دادوں نے کہا تھا اب ان کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا اور تمہارا یہ جملہ افسوس سے بھرا ہوا تھا کہ اب ایسی ہستی دوبارہ کب اور کیسے پیدا ہوگی حالانکہ جب تک نبوت و رسالت جاری تھی کسی کو اپنی طرف سے یہ اعلان کرنے کا کوئی حق نہ تھا کہ وہ نبوت و رسالت کو کسی طرح کا بوجھ سمجھیں اور اس طرح کا اعلان کریں کہ ایک سے جان چھوٹی ہے اور اب امید ہے کہ ہماری خواہشوں پر بند لگانے والا کوئی نہیں آئے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے جو قانون مشیت بنایا ہے اس میں اس طرح کے شکوک و شبہات پیدا کرنے والوں کو گمراہ قرار دیا گیا ہے اور زیادتیاں ان کی گھٹی میں پلائی گئی ہیں اس لیے ان کو سیدھی راہ چلنے کی کبھی توفیق نہیں ملتی کتنا ذو معنی وعظ ہے جو اس مرد مومن نے اپنی قوم کے سامنے اچانک شروع کردیا اور پوری قوم کی قوم اس کی باتیں سن کر حیران سرگرداں ہو کر رہ گئی اور اس کی باتوں کا کسی نے کوئی جواب بھی نہ دیا۔
Ayah 40:35

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی آیتوں میں بلا کسی سند کے جو ان کے پاس پہنچی ہو جھگڑتے ہیں (یہ) اللہ اور مومنوں کے نزدیک بڑی ہی بیزاری کی بات ہے اس طرح اللہ ہر مغرور ، سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے (اور ان کے تکبر کے باعث قبول حق کی صلاحیتیں مردہ ہوجاتی ہیں)

دین کے معاملہ میں بےدلیل بات کبھی قابل قبول نہیں ہوتی 35۔ اس مرد مومن نے جو باتیں کیں وہ سب کی سب ایک دوسرے سے زیادہ بڑھ کر عقل وفکر کو اپیل کرنے والی ہیں اور اتنی سچی اور صاف ہیں کہ کوئی شخص ان کو من حیث العقل غیر معقول نہیں کہہ سکتا اگرچہ تسلیم کرنا نہ کرنا اس کا ذاتی فعل ہے۔ زیر نظر آیت میں اس کا بیان ہے جو اس نے قوم کے سامنے دیا اور ان کو باور کرایا کہ دین کے معاملہ میں کوئی بات بےسند اور بےدلیل قابل قبول نہیں ہونی چاہیے اور جو لوگ بغیر کسی دلیل اور سند کے مخالفت کرتے ہیں وہ اللہ اور اہل ایمان کے نہایت مبغوض ہیں لیکن افسوس کہ اس وقت ہمارے زمنہ میں لوگوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ دین کے معاملہ میں عقل کا کوئی مطلب نہیں اور نہ ہی دین کی باتوں کو عقل وفکر کی کسوٹی پر پرکھا جاسکتا ہے کیونکہ دین میں عقل کو کوئی دخل نہیں ہے۔ فرمایا یاد رکھو کہ جو لوگ اس طرح کی کٹ حجتیاں کرتے ہیں وہ بڑے بڑے متکبر اور جبار لوگ ہیں اور ان کے دلوں پر جو مہر لگتی ہے وہ اسی تکبر اور برائی کے باعث لگتی ہے۔ یہ لوگ محض اپنے غرور بڑائی کے باعث ہر اس بات کی مخالفت کرتے ہیں جو ان کی خواہش اور مرضی کے خلاف ہو اگر کوئی اللہ کا رسول بھی ان کو کوئی بات سمھائے تو اس کی کہی بات کو بھی وہ گوارا نہیں کرتے اور ان کے اندر اس بات کا قلق بھی ہوتا ہے کہ آخر وہ کیوں نبی ورسول ہوا اگر نبوت و رسالت ملنا ہی تھی تو وہ ہمارا حق تھا۔ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کے مخالفین کو بھی اس سوال نے پکڑلیا کہ کیا نبوت و رسالت کے لیے محمد ﷺ ہی رہ گیا تھا حالانکہ مکہ اور طائف میں بڑے برے لوگ موجود تھے اگر اللہ کو نبی بناناہی تھا تو پھر ان میں سے کسی کو نبی بنا دیتا اس کا تفصیلی ذکر آگے سورة الزخرف کی آیت 31 میں آ رہا ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔ سورة الزخرف عروۃ الوثقی کی آٹھویں جلد میں ہے۔
Ayah 40:36

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

اور فرعون نے (ازراہ تمسخر) کہا اے ہامان ! (ذرا) میرے لیے ایک بلند عمارت تو بنوا دے شاید میں (اس پر چڑھ کر ان) راہوں تک پہنچ جاؤں

فرعون نے اس مرد مومن کی کسی بات کا جواب نہ دیا لیکن ہامان سے مخاطب ہوا 36۔ فرعون نے اس مرد مومن کی باتیں سنیں اور ان میں سے کسی ایک بات کا جواب بھی نہ دیا اور ہامان سے مخاطب ہو کر کہنے لگا اے ہامان ! تم ایک بہت بلند عمارت ( طول منارہ ) بنائو جس کے اوپر چرھ کر میں موسیٰ کے رب کو تو جھانکوں کہ وہ اوپر کہاں ہے۔ یہ اس نے از راہ مذاق اور استہزاء کہا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے باربار رب کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جو آسمانوں کا رب ہے اور یقینا باتوں ہی باتوں میں اوپر کو اشارہ بھی کیا ہوگیا کیونکہ قدرت الٰہی کا جب ذکر آتا ہے تو انسان فطرتا اوپر کو اشارہ کرتا ہے اور اس سے احمق اور بیوقوف لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ رب ذوالجلال والاکرام اوپر کہیں آسمان پر یا آسمان سے بھی اوپر رہتا ہے حالانکہ اوپر کی طرف جو اشارہ کیا جاتا ہے وہ محض بلندی کے باعث کیا جاتا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ ایسی ذات نہیں کہ اس کی طرف کوئی انسان دنیا میں رہ کر اشارہ کرسکے کہ اللہ وہاں ہے کیونکہ ہو ہر جگہ اور ہر مقام پر موجود ہے اور کوئی ایسا مقام نہیں ہے جہاں اللہ رب ذوالجلال والاکرام موجود نہ ہو۔ خیال رہے کہ فرعون نے اس طرح کی بات کر کے محض لوگوں کی توجہ اس مرد مومن کی طرف سے ہٹانا چاہی ورنہ وہ خود بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھتا تھا کہ نہ تو موسیٰ کا رب کہیں اوپر آسمان پر رہتا ہے اور نہ ہی موسیٰ کی وہ مراد ہے جو وہ کہہ رہا ہے اس نے جو کہا جان بوجھ کر عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے استہزاء کیا اور اس آیت کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس نے فی الواقع ہامان کو کسی عمارت یا منارہ کے تعمیر کا حکم جاری کیا اور پھر ہامان نے منارہ تیار کرایا جیسا کہ ہمارے مفسرین نے اس بحث کو بیان کیا ہے مذاق اور شرارت دونوں کو ملا جلا کر اس نے محض لوگوں کی توجہ اسی مرد مومن کی ہاتھ کی طرف ہٹانا چاہی تھی اور آۃ ج بھی شاطر اور چالاک لوگ جب کسی مخالف کی بات اثر کر رہی ہو تو دوسرے روز کوئی نہ کوئی مذاق کا بیان داغ دیتے ہیں تاکہ لوگوں کی توجہ اس طرف سے ہٹ جائے اور سیاسی لیڈروں کی قلابازیاں آض بھی اسی طرح کی ہوتی ہیں اگر کوئی شک گزرے تو اپنے پیر جی پیر پگاڑا صاحب کا بیان اخبار میں پڑھ لیا کریں ان کا مذاق ذرا زیادہ کھلا ہوتا ہے ورنہ سارے سیاسی لیڈر ایسی چالیں چلتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح کی نوک جھونک ہوتی رہتی ہے اور لوگ اس نوک جھونک میں الجھے رہتے ہیں اور ان کے بیانات پر تبصرے کرتے رہتے ہیں اور یہی ان کی دراصل مراد ہوتی ہے اس کی تفصیل پیچھے عروۃ الوثقی کی جلد 6 میں سورة القصص کی آیت 38 میں بھی گزر چکی ہے وہاں سے بھی دیکھ لیں مزید وضاحت مل جائے گی۔
Ayah 40:37

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

(جو) آسمانوں کی راہوں میں (جا ملتی ہیں) پھر موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں اور میں اس (موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا سمجھتا ہوں اور اس طرح فرعون کو اپنے برے اعمال اچھے معلوم ہوتے رہے اور وہ راہ (حق) سے روک دیا گیا اور فرعون کی ہر تدبیر تو (خود اس کی) ہلاکت کے لیے رہی

فرعون کا پیغام ہامان کے نام ابھی جاری ہے جو از راہ مذاق اس نے دیا 37۔ گزشتہ آیت میں جو بیان فرعون نے دیا تھا جس کا مقصد محض اس مرد مومن کی باتوں سے لوگوں کی توجہ کو ہٹانا تھا اور اس نے ہامان سے آسمان پر جھانکنے کے لیے ایک محل یا منارہ بنانے کا کہا تھا اس بیان کو مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ ایسا راستہ مجھے ملا کہ میں موسیٰ کے معبود کو ایک بار تاک جھانک سکوں حالانکہ موسیٰ کے بیان کی سوائے اس کے کوئی حقیقت نہیں کہ یہ نظریہ اس نے میری مخالفت کے لیے گھڑ لیا ہے جو سراسر جھوٹ اور فریب ہے۔ غور کیجئے کہ خود فریبی اور جھوٹا ہے اور الزام موسیٰ (علیہ السلام) پر دے رہا ہے کہ اس نے جھوٹ گھڑا ہے اور اس بات کو وہ خود بھی اچھی طرح سمجھتا ہے کہ جو کچھ موسیٰ نے پیش کیا ہے وہ حق اور سچ ہے اور جو باتیں اس مرد مومن نے کہ ہیں ان کا کوئی جواب میرے پاس نہیں ہے لیکن چونکہ یہ مرد مومن اس کی اپنی جماعت اور برادری کا آدمی ہے اس لیے اس کی طرف توجہ کر کے بات بھی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ اس کو کھرا جواب سنانے میں اب دیر نہیں لگے گی اور اپنا ہر وہ کام جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں ہے بےدھڑک کہے جارہا ہے کیونکہ اس کے پاس حاشیہ نشین موجود ہیں جو اس کی ہاں میں ہاں ملانے والے ہیں وہ دراصل ان کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ یہ ہمارے خاندان اور برادری کا آدمی بھی موسیٰ کے جادو میں آگیا ہے اور وہ باور کرانا چاہتا ہے کہ جس پر موسیٰ کا جادو چل جاتا ہے اس پر اس کی غلط باتوں کا اثر ہو ہی جاتا ہے اس لیے میں یہ کہتا ہوں کہ پاگل کو مت مارو بلکہ پاگل کی ماں کو مارو کہ کہیں اور پاگل نہ پیدا کر دے اس طریقہ سے وہ اس مرد مومن کی طرف سے پاگل سمجھ کر لوگوں کو توجہ کو ہٹانا چاہتا ہے کہ آئندہ کوئی اس کی باتوں پر توجہ نہ دے اس کو کہتے ہیں کہ سانپ بھی مرے اور لٹھ بھی بچی رہے۔ وہ ولوگوں کو سیدھی راہ سے روکنا بھی چاہتا ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ ان کو باور کرا دے کہ وہ راہ سیدھی نہیں ہے بلکہ سیدھی راہ وہ ہے جس پر ہم چل رہے ہیں اور ہمارے باپ دادا چلتے آرہے ہیں کیا وہ سارے غلط تھے اور اس ایک کے دماغ میں سیدھی بات آئی ہے ؟ حالانکہ فرعون خود ایک بہت بڑا مکار اور چالاک آدمی تھا لیکن آخر مکار کی مکاری کب تک چل سکتی ہے ایک روز آ ہی جاتا ہے کہ ڈھول کا پول کھل جاتا ہے۔ فرعون جو کچھ کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا وہ اس کے لیے اور اس کی پوری جماعت کے لیے سراسر نقصان کا باعث تھا۔
Ayah 40:38

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ Open ayah 40:38 in the Quran reader

اور اس (مرد) مومن نے کہا اے میری قوم ! تم میری پیروی کرو (فرعون کو چھوڑ کر) میں تم کو نیکی کی راہ دکھاؤں گا

فرعون کی بات پوری ہوتے ہی وہ مرد مومن پھر بول پڑا 38۔ فرعون نے اس مرد مومن کو مخاطب کر کے بات کرنے کی بجائے اپنے حاشیہ نشینوں کو مخاطب کیا تھا تو اس مرد مومن نے بھی اب فرعون کو مخاطب کر کے بات کرنا ترک کردیا اور قوم کے دوسرے لوگوں کو مخاطب کیا اور بجائے اس کے کہ موسیٰ (علیہ السلام) یا ان کی دعوت کو موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کہتا یا موسیٰ کا ذکر کرتا اس نے براہ راست لوگوں کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف دعوت دے دی اور ان کو کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! آئو میں تم کو سیدھی راہ کی طرف دعوت دیتا ہوں اس طرح اس اللہ کے بندے نے فرعون کی دعوت کی تکذیب بھی کردی اور فرعون کا نام تک بھی نہیں لیا اور نہ ہی لینا پسند کیا بلاشبہ وہ مرد مومن ایسا مومن تھا کہ ایمان کی ساری صلاحیتیں اس میں پائی جاتی تھیں اس نے جو کچھ کہا پورے ایمان وایقان کے ساتھ کہا اور قوم کے لوگوں پر واضح کردیا کہ فرعون کی پیروی میں دین و دنیا دونوں کی تباہی ہے اگرچہ وہ وقت کا حاکم اور مطلق العنان حکمران ہے اور اس کے مقابلہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی میں دین و دنیا کی بھلائی ہے اگرچہ نہ تو وہ حکمران ہے اور نہ ہی ہماری قوم کا فرد ہے اور بات اس جگہ قوم کی نہیں ہدایت اور بھلائی کی ہے اس طرح اس اللہ کے بندے نے اپنا کلام جاری رکھا۔
Ayah 40:39

یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ Open ayah 40:39 in the Quran reader

اے میری قوم ! بلاشبہ یہ دنیا کی زندگی تو (چند روزہ) فائدہ اٹھا لینے کی چیز ہے اور بلاشبہ آخرت ہی (در اصل) قرار و قیام کی (صحیح) جگہ ہے

اے میری قوم کے لوگو ! یہ دنیا چار روزہ ہے اور آخرت ہمیشہ رہنے کی جگہ 39۔ اس مرد مومن نے فرعون کی ایک ایک بات کا باقاعدہ دلیل سے رد کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر تک نہ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ساری تعلیم کا خلاصہ بھی بیان کردیا۔ قابل غور امر ہے کہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کا نام تک آخر کیوں نہ لیا ؟ اس لیے کہ وہ قوم کے لوگوں اور فرعون کو چڑ نہیں دلانا چاہتا تھا بلکہ پیغام پہنچانا چاہتا تھا اور جن حالات میں وہ یہ بیان دے رہا تھا ان حالات میں جو نقصان چڑ سے کسیف کو ہو سکتا ہے اس سے بھی اپنی قوم کو بچانا چاہتا تھا اور یہ علامت ہے اس بات کی کہ وہ صحیح معنوں میں قوم کا خیرخواہ تھا اور چاہتا تھا کہ میرے قوم ہدایت پائے اور اس دنیا میں بھی کامیاب ہو اور اس کی آخرت بھی سنور جائے اس کو اپنی چودھراہٹ اور ناموری کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی موسیٰ (علیہ السلام) پر وہ کسی طرح کا احسان کرنا چاہتا تھا اس کے پیش نظر بلاشبہ اصلاح حال تھی نہ کہ اپنے نام کی نمود ونمائش اور نہ ہی وہ اپنی قوم کا کوئی لیڈر بننا چاہتا تھا کہ ایسا انداز اختیار کرتا جس میں اس کا نام بھی روشن ہوتا وہ تو عنداللہ اپنے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتا تھا اس لیے اس نے قوم کو آخرت کی زندگی کا درس دیا اور اس کی طرف توجہ دلائی جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس کو فرعون کی مخالفت کرنا مقصود نہیں تھا بلکہ اپنی قوم کو سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کرنا مطلوب تھا اس لیے اس نے وہی طریقہ اختیار کیا جو انبیاء کرام اور رسل عظام کا طریقہ تبلیغ ہے اور قوم کو آخرت کی طرف توجہ دلائی تاکہ ان کو آخرت کی یادہانی ہوجائے۔