40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 40:40

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 40:40 in the Quran reader

یاد رکھو جس نے (دُنیا میں) برائی کی تو اس کو اس (برائی) کے برابر بدلہ ملے گا اور جس نے نیک عمل کیا خواہ مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان (بھی) ہو تو وہ سب جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں ان کو بےحساب رزق ملے گا (جس کا انہیں سان و گمان بھی نہ تھا)

اے قوم کے لوگو ! ایمان اور عمل صالح ہی وہ چیز ہے جس کا نتیجہ جنت ہے۔ 40۔ یہ دنیا کیا ہے ؟ یہ دنیا دارالعمل ہے کہ اس میں رہ کر انسان جو عمل کرتا ہے آخرت میں اس کی جزا وسزا بطور نتیجہ انسان کو ملے گی جو لوگ گناہ اور بدکاریاں کر کے اللہ رب کریم کی طرف مراجعت کریں گے ان کو اس کے مطابق سزا ملے گی اور ان پر کسی قسم کا ظلم و زیادتی نہیں ہوگی لیکن جو لوگ نیکیاں کما کر جائیں گے اور اچھے اعمال کیے ہوں گے ان کو ان کی نیکیوں سے کئی گنا زیادہ دیا جائے گا اور وہ جنت میں اپنے اپنے درجات کے مطابق خوش وخرم رہیں گے اور وہ جو چاہیں گے ان کو پیش کیا جائے گا۔ یہ تقریر اس مرد مومن کی ہے جو وہ اپنی قوم کے سامنے کر رہا ہے اور فرعون جو اس وقت کا مطلق العنان حکمران ہے وہ بھی وہاں موجود ہے اور اس کی موجودگی میں یہ سب کچھ بیان کیا جا رہا ہے اور وہ مخاطب تو پوری قوم کو کر رہا ہے لیکن حقیقت میں وہ سناتا صرف فرعون ہی کو چاہتا ہے تاکہ وہ مشتعل ہو کر اگر کوئی قدم اٹھانا چاہتا ہے تو اٹھائے لیکن فرعون بھی زمانہ کا خرانٹ ہے وہ اس کی باتوں کو سنتا ہے لیکن ایک کا بھی جواب نہیں دیتا اور اگر کوئی جواب دیتا بھی ہے تو اس کو مخاطب کر کے نہیں بلکہ دوسرے اہل مجلس کو مخاطب کر کے جیسا کہ اس سے پہلے اس نے ہامان کو مخاطب کر کے کچھ باتیں کی ہیں جن کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے۔
Ayah 40:41

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! یہ کیا ہے کہ میں تم کو (راہ) نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھ کو دوزخ کی طرف دعوت دیتے ہو

اس مرد مومن نے کہا کہ اے قوم کے لوگو ! میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں 41۔ اس نے قوم کو مخاطب کر کے بہت کچھ کہا جیسا کہ اس کا مسلسل ذکر ہوتا چالا آرا ہے لیکن قوم کی طرف سے کوئی جواب اس کو نہیں دیا گیا فرعون نے بات کی تو بھی اس کو مخاطب کر کے نہیں کی اور نہ ہی اس کی باتوں کا کوئی جواب دیا بلکہ اس کی طرف سے توجہ ہٹانے کے لیے اپنے حاشیہ برداروں کو مخاطب کر کے کہا جو کچھ کہا لیکن اس مرد مومن نے بھی اس کی باتوں کو سنا اور اس کو جواب نہیں دیا بلکہ قوم ہی کی طرف سے وہ باتیں کر جواب دیا کہ اے میری قوم کے لوگو ! مجھے تعجب ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف دعوت دیتا ہوں کہ تم وہ کام کرو جس کے نتیجہ میں اس دنیا سے رخصت ہوتے ہی سیدھا جنت سے تمہارا رابطہ قائم ہوجائے لیکن تم اس کے برعکس مجھے آگ جہنم کی طرف دعوت دیتے ہو کیا یہ انصاف کی دعوت ہے جو تم مجھے دے رہے ہو اس لیے اگر تم میری دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جس کی دعوت سراسر ایمان کی دعوت ہے تو میں تمہاری دعوت کو کیونکہ قبول کرسکتا ہوں جو جہنم کا راستہ دکھانے والی ہے۔
Ayah 40:42

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم مجھ کو اس طرف بلاتے ہو کہ اللہ کا انکار کروں اور ایسوں کو اس کا شریک کروں جس کی میرے پاس کوئی دلیل موجود نہیں اور میں (تمہاری خیر خواہی کے لیے) تم کو غالب آنے والے بخشنے والے (اللہ) کی طرف بلاتا ہوں

تم مجھے اللہ کے ساتھ کفر کرنے کی دعوت دیتے جب کہ میں تم کو دعوت الی اللہ دیتا ہوں 42۔ اس نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تم مجھے دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ساتھ کفر کروں اور اس شرک میں مبتلا ہو جائوں جس میں تم مبتلا ہو حالانکہ کسی کو بھی اس بات کا حق نہیں پہنچتا کہ دوسرے کو ایسی دعوت دے جو دنیا اور آخرت دونوں کو برباد کردینے والی ہو میں تم کو دعوت دیتا ہوں کہ تم اس رب کریم کی طرف لوٹ آئو جو غالب آنے والا بھی ہے اور بخش دینے والا بھی جس کی پکڑ بھی سارے پکڑنے والوں سے زیادہ مضبوط ہے اور جس کی رحمت بےپایاں کا بھی کوئی کنارہ نہیں ہے۔ میں تم کو اس ذات کی طرف دعوت دے رہا ہوں جس ذات سے کوئی غال قسم کا کافر اور مشرک بھی انکار نہیں کرتا بلکہ کسی نہ کسی رنگ میں مانتا ہے اور تم مجھے اس بات کی طرف دعوت دیتے ہو جس بات کا مجھے کچھ بھی علم نہیں ہے اور کوئی دلیل اس کی میرے پاس نہیں اور نہ ہی تم نے کوئی اس کی دلیل پیش کی ہے اگر میں ایسی بےدلیل بات کو قبول کرلوں تو آخر آنے والے کل کو مجھے اس رسوائی سے کون بچائے گا اور میں اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو کونسا منہ دکھائوں گا۔
Ayah 40:43

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

حقیقت تو یہ ہے کہ تم جس چیز کی (عبادت کی) طرف مجھ کو بلاتے ہو وہ تو دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے نہ آخرت میں اور یہ کہ ہم کو اللہ ہی کی طرف واپس جانا ہے اور بلاشبہ حد سے گزرنے والے ہی دوزخی ہیں

تم مجھے اس کی طرف دعوت دیتے ہو کہ اس کے لیے دنیا و آخرت میں بربادی ہے 43۔ اے میری قوم کے لوگو ! جن کی طرف تم مجھے دعوت دیتے ہو اس کی طرف دعوت دینے کا آپ کو کوئی حق نہیں ہے نہ دنیا میں اور نہ ہی آخرت میں نہ تو ساے کے سارے ایسے ہیں کہ انہیں اس کا حق ہی نہیں ہے کہ کوئی شخص اس دنیا میں یا اس میں جس کا نام آخرت ہے انہیں خدا تسلیم کرنے لگے پھر نہ تو انہوں نے خود کبھی اپنے خدا ہونے کا دعوی کیا اور نہ وہ ایسے کرسکتے ہیں اور یہ بھی کہ وہ اس قدر بےبس ہیں اور بےاختیار ہیں کہ نہ تو دنیا میں ان کو پکارنے کا کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی آخرت میں پکارنے کا اور نہ ہی قیامت کے روز کسی شخص کا کسی قسم کا فائدہ کرسکتے ہیں پھر ایسوں کو پکارنا اور اپنی دین و ایمان خراب کرنا کہاں کی عقل مندی ہے۔ بلاشبہ ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور بلاشبہ زیادتی کرنے والے ہی دوزخ کا ایندھن بننے والے ہیں۔
Ayah 40:44

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

پس جو بات میں تم کو کہتا ہوں آگے چل کر تم اسے یاد کرو گے اور میں تو اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں بلاشبہ سارے بندے اللہ کی نظر میں ہیں

میں جو تم سے کہہ رہا ہوں تم اس کو سننے کے لیے تیار نہیں تو میں اللہ کی طرف رجوع کرتا ہوں 44۔ سامعین نے اس مرد مومن کی باتیں سنیں اور خاموشی کے ساتھ سنتے ہی چلے گئے اور جب اس کو کسی نے کوئی جواب نہ دیا تو اس نے انجام کار یہ کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! آج تو میں تم کو نصیحت کرتا ہوں اور تم میری بات کو سننے کے لیے تیار نہیں لیکن عنقریب وقت آنے والا ہے تم میری باتوں کو یاد کروگے یہ میری آخری گزارش ہے اور میں اپنے سارے کام اپنے اللہ کے سپرد کرچکا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ تم اس وقت حکومت کے نشہ میں ہو لیکن میں نے بھی کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی کوئی پرواہ نہ کرتے ہوئے حق بات تم کو پہنچا دی ہے اور می یہ بھی جانتا ہوں کہ تمہاری اس طرح کی خاموشی اپنے اندر بہت کچھ رکھتی ہے لیکن میں جو کچھ کہہ رہا ہوں ہر لحاظ سے سوچ سمجھ کر کہہ رہا ہوں اور اس کے نتائج سے اچھی طرح آگاہ ہوں اور میرا ایمان ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے سارے کاموں سے اچھی طرح واقف ہے اس سے نہ کوئی میری بات پوشیدہ ہے اور نہ ہی آپ کی اور ہم سب کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہی ہم سب کا حامی وناصر ہے۔
Ayah 40:45

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

پس اللہ نے اس (مرد مومن) کو لوگوں کی بری تدبیر سے محفوظ رکھا اور آل فرعون کو سخت عذاب نے آگھیرا

اللہ تعالیٰ نے ان کے سارے مکروں سے اس کو محفوظ رکھا اور فرعون گھیر لیا گیا 45۔ بلاشبہ ان کی خاموشی معنی خیز تھی اور وہ چاہتے تھے کہ موسیٰ سے بھی پہلے اس کو ٹھکانے لگا دیا جائے اور انہوں نے جو مخفی تدبیریں اس کے لیے سوچیں وہ سب کی سب دھری کی دھری رہ گئیں اور فرعون اور اس کے لائو لشکر کو سخت عذاب نے اپنے گھیرے میں لے لیا مطلب یہ ہے کہ اس مرد مومن کی مداخلت سے جو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی سازش کی تھی اس سے بالکل بچالیا اور اس مرد مومن کی طرف ان کی توجہ مبذول ہوگی اور جتنا وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر غصہ تھے اس سے زیادہ وہ اس مرد مومن پر غصہ میں آگئے لیکن ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ فرعون اور اس کا سارا لائو لشکر عذاب الہٰی کی زد میں آگیا اور عذاب الہٰی جس صورت میں نازل ہوا وہ صورت کسی سے بھی پوشیدہ نہیں رہی اور بنی اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے ان کو پانی میں غرق کر کے رکھ دیا اور یہی وہ عذاب الہٰی تھا جس کا ذکر اس آیت میں کردیا گیا۔
Ayah 40:46

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

(اور عالم برزخ میں) ان لوگوں کو دوزخ کی آگ کے سامنے صبح و شام لایا جاتا ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کردیا جائے گا

آگ ہے جس پر وہ صبح وشام پیش کیے جاتے ہیں اور قیامت کے روز کا عذاب اس کے سوا ہو گا 46۔ قرآن کریم میں موت کو نیند اور نیند کو موت سے تشبیہ دی گئی اور ہماری زبان میں عام محاورہ بھی ہے کہ مرا ہوا اور سویا ہوا یک ہی طرح کے ہوتے ہیں اور یہ بات ہمارے تجربہ میں ہے کہ سوئے ہوئے آدمی کے پاس بڑے بڑے کام ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ لوگ آتے ہیں اور پورے گھر کا صفایا کر جاتے ہیں لیکن سوئے ہوئے کو کچھ خبر ہی نہیں ہوتی ہاں ! وہ جاگ جائے یہ دوسری بات ہے۔ خواب میں بستر استراحت پو سویا ہوا انسان اگر کوئی ڈرائونا خواب دیکھتا ہے یا اس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے تو ہو مضطرب حالت میں جاگتا ہے اور اس کے جسم پر اس کے اثرات ہوتے ہیں ان باتوں سے کوئی شخص بھی اگر وہ ذرا عقل وفکر رکھتا ہے تو انکار نہیں کرسکتا۔ یہ تو اس عالم دنیا کی بات ہے اور جب انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے خواہ وہ کسی طریقہ سے بھی ہو تو روح وجسم دونوں میں تفریق کلی ہوجاتی ہے جسم مردہ ہو کر فنا فی الارض ہوجاتا ہے خواہ وہ جس طریقہ سے بھی ہو اور روح رب ذوالجلال والاکرام کی طرف مراجعت کر جاتی ہے جس کا مطلب و مفہوم یہی ہو سکتا ہے کہ اللہ نے جو مقام روحوں کو روکنے کا بنا رکھا ہے وہ اس مقام پر پنچا دی جاتی ہے لیکن یہ معاملہ عالم غیب کا ہے جس کے متعلق نہ کوئی جان سکا اور نہ ہی جان سکے گا جب تک کہ مرنے کے بعد اس دنیا سے اس کا تعلق قائم نہ ہوجائے۔ اب اس پر اگر بحث کی جائے تو وہ فضول ہے اور بالکل لا حاصل ہے اس لیے اس کے متعلق جو کتاب وسنت میں اشارات واستعارات بیان کیے گئے ہیں ان ہی پر ہم کو اکتفا کرنا ہوگا کیونکہ یہ وہ مقام ہے جہاں عقل انسانی کی رسائی نہیں خواہ وہ کون ہو جو باتیں انبیاء کرام اور رسل عظام نے اس سلسلہ میں کہی ہیں ان کو اس بطرح تسلیم کرنا ہوگا کیونکہ رسالت و نبوت نے جو کچھ کہا ہے وہ تفہیمات الہیہ ہیں جو نبوت و رسالت ہی سے خاص ہیں سوائے ان کے کسی انسان کو ان باتوں میں بحث بےراہ رو تو کرسکتی ہے سیدھی راہ کی طرف نہیں لے جاسکتی جس طرح دینیات کا عالم ایک انجینئر کے کام کو اس طرح نہیں سمجھ سکتا جس طرح انجینئر سمجھتا ہے اور اس طرح کی ساری مثالیں رسالت ونبوت کے سامنے ہیچ ہیں تا ہم ان کے سوا چارہ بھی نہیں ہاں ! ایک انجینئرکا انجینئر سے اگر کوئی اختلاف ہوجائے تو وہ بھی کوئی استاد ہی حل کرسکتا ہے آپ اور میں اگر کچھ لیں گے تو دخل در معقولات ہی ہوگا لیکن کسی نبی ورسول کو کسی دوسرے نبی ورسول سے کبھی کوئی اختلاف نہیں ہوا اور اب اس کا امکان ہی ختم ہوچکا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہمارے لیے صرف اور صرف مان لینے کے سوا چارہ نہیں۔ ہم اگر زیادہ سے زیادہ دیکھ سکتے ہیں تو یہی کہ اس معاملہ میں کسی جگہ کوئی ایسا اختلاف تو نہیں پایا جاتا جس اختلاف سے دو متضاد باتیں ہم کو سمجھائی جا رہی ہوں اور اگر وہ متضاد باتیں ہوں گی تو ہم ان دونوں میں سے ایک کا اگر اثبات کریں گے تو دوسری کا بہرحال انکار کرنا ہوگا کیونکہ ہم کو یہ اصول معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی بات میں تضاد ممکن نہیں ہے اور یہ بحث اصولی بحث ہے۔ انسان کے مرنے کے ساتھ ہی اگر اس کی روح بھی مر جاتی ہے تو قیامت تک مرنے والا بلاشبہ مراہی رہے گا اور کوئی عذاب قبر یا عذاب برزخ وغیرہ نہیں ہوگا اور اگر جسم مرتا ہے اور روح نہیں مرتی تو عذاب قبر اور عالم برزخ وغیرہ کے استعارات بالکل صحیح اور درست ہیں اگرچہ ہم ان کی حقیقت سے نہ آگاہ ہیں اور نہ ہو سکتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ بحث جو کچھ ہے وہ صرف اور صرف روح کے مرنے پر ہے نہ کہ عذاب قبر یا عالم برزخ کے عذاب کے متعلق کیونکہ یہ تو وہ استعارات وشارات ہیں جو محض تفہیم کے لیے بولے گئے ہیں اور بولے جانے چاہیں تھے اور اب اگر یہ تحقیق ہوجائے اور تحقیق بھی صحیح ہو کہ بلاشبہ جسم کے ساتھ روح نہیں مرتی تو ان تسلیم شدہ حقائق پر زیادہ چڑنے کی ضرورت نہیں صرف اس تحقیق کی ضرورت ہے کہ آیا رسول اللہ ﷺ نے اس معاملہ میں جو ارشاد فرمایا وہ ثابت ہوتا ہے یا نہیں ؟ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ عذاب قبر اور عذاب برزخ وغیرہ سے انکاری ہیں وہ انکار بھی کرتے ہیں اور روح کو بھی مردہ نہیں مانتے یا تسلیم کرتے اور یہی وجہ ہے کہ یہ بحث مثبت بحث نہیں رہتی بلکہ منفی بحث شروع ہوجاتی ہے جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ زیر نظر آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کو صبح وشام اس آگ پر پیش کیا جاتا ہے جس آگ سے وہ منکر تھے اور تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے اور پھر قیامت کے روز عذاب دوزخ میں باقاعدہ طور پر ان کو داخل کردیا جائے گا اور اب دوبارہ زندگی جو جسم اور روح کے ساتھ ہوگی اس میں بھی وہ عذاب الہٰی میں مبتلا کردیئے جائیں گے۔ جس طرح دو زندگیاں اور دو موتیں ہیں اور وہ سب کے لیے یکساں ہیں خواہ وہ کون ہو کہاں ہو اور کیسا ہو اسی طرح اس جگہ بدکاروں اور بدکرداروں کے لیے دو عذابوں کا ذکر کیا گیا ہے اور دونوں ہی مرنے کے بعد ہوں گے ایک اصل عذاب ہے جو آخرت نہ آئی ہو تو اس حکم کے بعد کی زندگی تو ہوتی ہے لیکن نہایت کربناک اور تکلیف دہ ہوتی ہے لیکن اس کو موت بھی نہیں کہا جاسکتا۔ یہ محض تفہیم کے لیے ہم نے کہا ہے ورنہ اس دنیوی عذاب اور مرنے کے بعد کے عذاب میں جو فرق ہے وہ سب پر عیاں ہے اور اگر نہیں تو یقینا ہوجائے گا۔ دراصل عذاب قبر ہو یا علام برزخ یا اس کو کسی نام سے بھی یاد کیا جائے اس کی وضاھت چونکہ قرآن کریم نے نہیں کی بلکہ رسول مکرم ﷺ ہی نے کی ہے اور احادیث ہی میں اس کا زیادہ ذکر کیا گیا ہے لیکن یہ صرف اس معاملہ میں نہیں ہوا بلکہ علاوہ ازیں ارکان اسلام تک کی وضاھت وتشریح قرآن کریم نے نہیں کی بلکہ وضاحت کا سارا انحصار احادیث ہی پر ہے اور احادیث کا انکار کرنے والوں کے لیے یہ راستہ بالکل آسان ہے کہ وہ کہہ دیں کہ اس کا ذکر احادیث میں ہے جن کو کوئی اعتبار نہیں اور قرآن کریم میں اس کی کوئی وضاحت موجود نہیں اور احادیث کے ماننے اور تسلیم کرنے والوں کے لیے اس کا انکار ممکن ہی نہیں اور جو اشارات قرآن کریم میں پائے گئے ہیں وہ دوسرے ارکان اسلام کی طرح ان احادیث کے صحیح یا موضوع ہونے میں مدد دے سکتے ہیں اگر کوئی ان سے مدد حاصل کرنا چاہے اور اگر احادیث کی اقسام پر بحث شروع کردی جائے تو یہ ایک ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائے گا جس کا عمر نوح بھی فیصلہ نہیں کرسکتی اس طرح کی بحث قبل ازیں لوگوں نے ارکان اسلام پر بھی کی ہے اور ارکان اسلام کو اس طرح ماننے اور تسلیم کرنے والوں کے درمیان جو ضمنی بحث چلتی ہے کہ کیا اس میں مرفوع اور کیا غیر مرفوع تو وہ بھی ہر معاملہ میں موجود ہے ایک ایک بات کو غیر مرفوع قرار دیتا ہے تو دوسرا دوسری کو ایک ایک روایت میں کیڑے نکالتا ہے تو دوسرا دوسری میں یہاں تک کہ نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ جیسی چیزوں میں اس قدر اختلاف کیے گئے ہیں کہ اگر شمار کرنا شروع کردیں تو شمار نہیں کیا جاسکتا اور اگر ایک کے متعلق بحث شروع کریں تو جنگ وجدال تک نوبت آجاتی ہے کوئی ایک بھی کسی دوسرے کی بات کو تسلیم نہیں کرتا اور اگر ساتھ ان ضمنی سوالوں کو بھی ملا دیا جائے کہ آیا عذاب قبر اور برزخ کی زندگی کیسی اور کونسی زندگی ہے ؟ یا یہ کہ آیا یہ کوئی زندگی ہے بھی یا نہیں تو اس سے آخر کیا فرق پڑے گا یہی کہ جیسے پہلے معاملات میں لڑ رہے ہیں اس ایک نئے معاملے میں لڑتے رہیں گے۔ بہرحال ہمارے خیال میں خالص بحث طلب بات صرف اور صرف یہ ہے کہ آیا انسان کے مرنے کے ساتھ ہی اس کی روح بھی مرجاتی ہے یا صرف جسم مرتا ہے روح کے لیے موت نہیں ہے ؟ لیکن ہمارے ہاں اصولوں پر بات کم ہی لوگ کرتے ہیں صرف فروعات کی بحث پر زندگیاں ختم کردی جاتی ہیں اور اصولوں کی طرف کبھی نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا جاتا کیوں ؟ اس لیے کہ اصول پر بحث کرنے سے انسان کسی نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے اور ہم کسی نتیجہ پر پہنچنا نہیں چاہتے بلکہ محض بحث کا میدان جیتنا چاہتے ہیں اس لیے بحث یہاں بھی کر رہے ہیں اور دوزخ میں بھی اس سے پیچھا نہیں چھوٹے گا اس کا خاتمہ ہے تو وہ صرف اور صرف جنت کی زندگی ہی میں اللہ سے دعا ہے کہ اللہ اس بحث ومناظرہ سے نجات عطا فرما دے اور ہمیں جنت کی طرف گا مزہ ہونے کی توفیق عطا فرما دیے۔ اے اللہ ! ہماری دعا قبول فرما۔
Ayah 40:47

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

اور (اس وقت کا ذکر کرو) جب وہ لوگ دوزخ میں جھگڑیں گے تو ان کے کمزور لوگ ان لوگوں سے جو بڑے بنتے تھے کہیں گے ہم تو تمہاری پیروی کرتے تھے پس کیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ کم کرسکتے ہو

دوزخ میں دوزخیوں کا آپس میں جھگڑا ہوا ، وہ ایک دوسرے پر گال چڑھائیں گے 47۔ اہل دوزخ میں وہ بھی ہوں گے جو بڑے بڑے مترفین اور قوموں اور بستیوں کے سردار تھے اور وہ بھی ہوں گے جو ان مترفین اور سرداروں کے دبائو کے باعث ان کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے اور نبیوں ، رسولوں اور اللہ والوں کی مخالفت میں پیش پیش رہے لیکن ان کی مخالفت ان مترفین اور سرداروں کی شہہ پر تھی کہ وہ ان کو ابھارا کرتے تھے اور باور کراتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں تم ان کے ساتھ اس طرح کے مذاق کرو اور ان کی ہنسی اڑائو اور وہ ان کی مددوکمک کی وجہ سے وہ سب کچھ کرتے تھے جو وہ کہتے تھے تاکہ ان کی خوشنودی حاصل کر کے اور ان کا دل خوش کر کے ان کا جو ٹھا میٹھا کھاتے رہیں۔ اب جب دوزخ میں مترفین بھی جائیں گے اور یہ ان کے پیرو کار اور خدام حقہ بھرنے والے بھی تو کمزور لوگ جبھی ان سرداروں کو دیکھیں گے تو ان کی ساری مکاریاں ان کو یاد آجائیں گی اس لیے وہ ان کو دیکھتے ہی پکاریں گے کہ ہم تو تمہاری پیروی کرکے دوزخ میں پھنس گئے ہماری بدقسمتی اور بدنصیبی کے ہم نے تمہارا کہا مانا اور کیا اب چاہیے کہ تم ہمارے حق میں کچھ تو کفایت کرو جب کہ تم دنیا میں ہمارے سامنے بڑی بڑیں ڈینگیں مارا کرتے تھے اور ہم تمہارے چکر میں پھنس گئے اس طرح وہ ان کے گلے پڑنے کی کوشش کریں گے اور مخاصمت پر اتر آئیں گے۔
Ayah 40:48

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہیں گے جو بڑے بنتے تھے کہ ہم سب ہی اس (آگ) میں پڑے ہیں بلاشبہ اللہ تو بندوں کے درمیان فیصلہ فرما چکا

مترفین و متکبرین ان کو جواب دیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں ہیں ؟ 48۔ کمزور لوگ جب اپنی بات پوری کر چکیں گے اور ایک بار اپنا غصہ نکال لیں گے تو پھر متکبریں ومترفین بول پڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم پر تم کیوں غصہ نکالتے ہو کیا ہم بھی اس جگہ تمہارے پاس اور ساتھ نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا ہے اور یک بات کا فیصلہ ہوجانے کے بعد ہم کیا کرسکتے ہیں اس وقت دنیا میں بھی ہم نے تم کو مجبور کر کے کسی کی مخالفت پر نہیں لگایا تھا بلکہ تم خود ہم سے فوائد حاصل کرنے کے لیے ہماری ہاں میں ہاں ملاتے رہے اور ہم کو خوش کر کے تم نے بھی اپنا الو سیدھا کیا۔ اس جگہ وضاحت نہیں بلکہ جواب کا ذکر اختصار کے ساتھ کیا گیا ہے لیکن سورة القصص اور دوسرے کئی ایک مقامات پر پیچھے اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ مطلب اس بیان کا صرف اور صرف یہ ہے کہ سب لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ یہ عذر کسی کے لیے کچھ بھی نافع نہیں ہوگا کہ میں دوسروں کے دبائو میں تھا یا یہ کہ میں دنیا میں کمزور تھا یا یہ کہ میں تو ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا مجھ سے ایسا کرایا گیا۔ ہرگز نہیں ہر نفس اپنی جان کے کیے کا خود ذمہ دار ہے کوئی شخص اپنی ذمہ داری دوسروں کے سر ڈال کر سرخرو نہیں ہو سکتا خواہ کتان ہی کمزور ہو یا کتنا ہی طاقتور اور یہی بات اس جگہ بیان کی گئی ہے تاکہ کل اس طرح کے عذر پیش کرنے والوں کو آج ہی سنبھل جانا چاہیے اگر وہ سنبھلنا چاہیں۔
Ayah 40:49

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

اور جو لوگ دوزخ میں پڑے ہوں گے وہ دوزخ کے محافظوں سے کہیں گے کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وہ ہم پر ایک دن تو عذاب ہلکا کر دے

اہل دوذخ ایک اوعر تدبیر لڑانے کی کوشش کریں گے 49۔ اب آگ میں پڑنے والوں کو ایک اور تدبیر سوجھے گی اور شاید اس تدبیر میں پیرومرید ، آقا و غلام اور مرشد ومسترشد سب شریک ہوں گے اور دوزخ کے دربانوں سے وہ کہیں گے کہ اپنے رب کو تم ہی پکارو اور ہماری سفارش کر کے کچھ تو ہمارا عذاب ہلکا کرا دو گویا جب وہ دیکھیں گے کہ ان کے شرکاء سفارشی سارے کے سارے تو ان کے ساتھ اس جگہ موجود ہیں جن کے متعلق وہ اس طرح کا زعم رکھتے تھے او اس طرح کی تدبیر لڑانے کوشش کریں گے اور یہ بھی کہ ان کو درخواست پیش کرنے کا گر تو پہلے بھی آتا ہے کہ جہاں عام طرح کی باتوں سے کام نہ چلے وہاں منت سماجت سے چلایا جاسکتا ہے اس لیے وہ منت وسماجت شروع کردیں گے۔
Ayah 40:50

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

وہ (محافظ) کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں لے کر نہیں گئے تھے وہ (دوزخی) کہیں گے کیوں نہیں (ہاں ! گئے تھے ، محافظ) کہیں گے پھر تم ہی دعا کرو اور (جان لو کہ) کافروں کی دعا تو (اس وقت) بس بیکار ہے

دوزخ کے دربان انسے کہیں گے کیا تمہارے پاس ڈرانے والے نہیں آئے تھے ؟ 50۔ دوزخ کے دربان ان کی بات کو سنیں گے اور ان سے استفسار کریں گے کہ کیا تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر نہیں آئے تھے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہاں ضرور آئے تھے لیکن ہم نے اس وقت ان کی ایک نہ سنی تھی بلکہ ان کو کہا تھا کہ اللہ نے تم سے یہ بات نہیں کی بلکہ تم خود ہی جھوٹ گھڑ کر بیان کر رہے ہو پھر دوزخ کے دربان ان سے کہیں گے کہ اگر یہ بات ہے تو پھر تم خود ہی اپنی درخواست کرو ہم تو تمہارے جیسے لوگوں کی سفارش کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں پھر یہی وہ وقت ہے کہ مخالفین ومعاندین کو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ ہمارے رونے اور چیخنے سے اب کچھ نہیں ہوگا اور بلاشبہ اب ان کے سارے سارے جواب دے جائیں گے اور اس طرح وہ بھی روپیٹ کرا یک طرح سے کاموش ہوجائیں گے اور سمجھ جائیں گے کہ اب ان کے لیے سارے درازے بند ہیں اور کوئی بھی ان کی مدد کرنے والا نہیں ہوگا۔
Ayah 40:51

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

بلاشبہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے رہے ہیں اور (اس دن بھی) جس دن گواہ کھڑے ہوں گے

رسولوں کے بارے میں ہماری طے شدہ بات ہے کہ ہم ان کی مدد کرتے ہیں 51۔ زیر نظر آیت مفسرین کے درمیان ایک معرکہ آرا آیت ہے اور بہت کچھ اس کے متعلق کہا گیا ہے بعض نے رسولوں اور نبیوں میں ایک فرق بیان کرکے تحریر کیا ہے کہ اس جگہ چونکہ رسولوں کی مدد کا ذکر ہے اس لیے جتنے رسولوں کا قرآن کریم نے ذکر کیا ہے ان سب کی قوموں کو انجام کار ہلاک کیا گیا ہے اور ان کو صرف ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اس دنیا میں بھی کامیابی حاصل ہوتی ہے ور یہ بیان کر کے وہ بہت کوش ہیں کہ ہم نے حرف آخر کہہ دیا اور اب ہمارے نظریہ کا کوئی بدل ممکن نہیں حالانکہ قرآن کریم نے کتنے ہی لوگوں کو رسول کہا ہے اگرچہ ان کے نام نہیں لیے لیکن ان کی قوم نے ان کو بہت ظلم کر کے قتل کیا ہے اور پھر قوم کی ہلاکت بھی نہیں ہوئی۔ ان مفسرین کو اگر صرف سورة یسٰین ہی کا مطالعہ یاد ہوتا تو وہ اس نظریہ کو تحریر کر کے اپنے سے باہر نہ ہوتے کیونکہ زیر نظر آیت اور اس جیسے دوسری آیتوں میں صرف رسولوں کی مدد ونصرت کا ذکر نہیں بلکہ ساتھ ہی تمام ایمان والوں کی مدد ونصرت کا بھی ذکر ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ (انا لننصر رسلنا والذین امنوا) یقینا ہم اپنے رسولون کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے مدد کرتے ہیں اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ جس طرح رسولوں پر ایمان لانے والے موجود تھے نبیوں پر بھی ایمان لائے اور جس طرح رسولوں کی مخالفت کی گئی نبیوں کی بھی کی گئی جس طرح بعض ایمان والے قتل ہوئے اسی طرح نبی بھی ہوئے اور ورسول بھی ہوئے جس طرح ایمان والوں کو تنگ کیا گیا رسولون کو بھی کیا گیا اور نبیوں کو بھی کیا گیا پھر اس میں تخصیص چہ معنی دارد ؟ حالانکہ حقیقت اس کی فقط یہ ہے کہ نصرت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ جس حق کو رسول لائے ہیں اور جس کو پھیلانے کی ایمان والے حتی المقدور کوشش کرتے ہیں اور اس کو پھیلانے چاہتے ہیں اس مقصد میں یقینا ان کو کامیابی ہوتی ہے ان کی موجودگی میں ہو یا ان کی عدم موجودگی میں وہ قتل ہوجائیں یا طبعی موت مریں اور اس کا ماحصل یہ ہے کہ سچ اور حق ہمیشہ سچ اوپر حق ہی رہتا ہے وہ بات کا مرہون منت نہیں ہوتا کہ اس کو کسی نے سچ اور حق قبول کیا ہے یا جھوٹ اور دھوکا اور فریب کہا ہے بہرحال کوئی کچھ کہے جب نکھار کا وقت آتا ہے تو دونوں کا فرق واضح ہوجاتا ہے اور یہی وہ کامیابی ہے جو حق کو اور سچ کو مل چکی ہے کوئی تسلیم کرے یا بالکل نہ کرے نمک اور پتھر ایک ہی وزن اور ایک ہی رنگت رکھتے ہوں لیکن جب ان کو پانی میں رکھ دیا جائے تو فرق واضح ہوجاتا ہے کہ پتھر کیا ہے اور نمک کیا ؟ یہی حال حق و باطل کا ہے اس کی وضاھت ہم پیچھے عروۃ الوثقی جلد پنجم سورة بنی اسرائیل کی آیت 81 ، 82 میں کر آئے ہیں۔ بلاشبہ اس دنیا میں یہی حدود ہے جو اللہ تعالیٰ نے رسولوں اور ایمان والوں کے لیے اپنے قانون میں طے کردی ہوئی ہے کہ حق کو دبانے کے لیے بڑے بڑے زور آور اس دنیا میں آئے لیکن حق اگر حق ہے تو اس نے کبھی شکست نہیں کھائی بلکہ انجام کار کامیابی اس کو حاصل ہوتی ہے اگرچہ بظاہر ایسا نظر نہ آیا ہو کیونکہ دنیا داروں کی فتح وشکست کے اصول اور ہیں اور دینداروں کی فتح و کامیابی کے اصول اور پھر دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اس فرق کو نہ سمجھنے کے باعث لوگوں کو ٹھوکر لگی ہے جو غور وفکر نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ فرمایا یہ تو دنیا میں ہماری مدد ہے جو ہمیشہ ان کے ساتھ ہے اور آخرت میں جو ( یوم الاشھاد) ہے اس کی مزید وضاھت تمہارے سامنے آجائے گی کیونکہ آج جو لوگوں کی آنکھوں سے مستور اور چھپا ہوا ہے اس دن وہ مکمل طور پر واضح اور روشن ہوجائے گا اور ہر ایک اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور یقین کرلے گا کیونکہ گواہ وہاں موجود ہوں گے۔ یہ بات اس جگہ بیان کرنے کی ضرورت کیوں ہوئی ؟ اس لیے کہ پیچھے ایک مرد مومن کا ذکر آیا تھا اور اس کی باتوں کا بھی جو فی الواقع حق تھیں اگرچہ ان کو اس وقت کسی ایک نے بھی تسلیم نہ کیا ہو۔ لیکن حق کسی کے تسلیم کرنے کا محتاج کب ہے ؟ یہی بات اس جگہ تفہیم کرائی گئی ہے اور آنے والی آیت اس کی مزید وضاحت کر رہی ہے۔
Ayah 40:52

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

جس روز بہانے بازیاں ظالموں (مشرکوں) کے کچھ کام نہ آئیں گی اور ان پر (اللہ کی) لعنت ہوگی اور ان کے لیے بدترین گھر ہو گا

(یوم الاشھاد) وہ ہے کہ ظالموں کو معذرت سے بھی کچھ فائدہ نہ ہو گا 52۔ آج اگر ظلم کا دور دورہ ہے اور اس طرح کسی کو ظلم ظلم دکھائی نہیں دیتا تو کل جب عدل و انصاف کا دن آئے گا تو بات روز روشن سے بھی زیادہ واضح ہوجائے گی پھر سارے ظالم معذرتیں پیش کریں گے لیکن ان کے دنیوی ظلم کے باعث ظلم کا نتیجہ ظاہر ہوگا اور وہ لعنت الٰہی کے مستحق قرار پائیں گے اس طرح ٹھکانوں میں سے برا ٹھکانہ ان کے حصے میں آئے گا جس کا نام دوزخ یا جہنم ہے اس طرح ان کا خسارہ سب پر واضح ہوجائے گا اور ان کی کوئی معذرت بھی قابل سماعت نہیں ہوگی۔
Ayah 40:53

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (کتابِ ) ہدایت دی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا

موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے کتاب ہدایت دی اور بنی اسرائیل کو وارث بنایا 53۔ گزشتہ آیت میں رسولوں کی مدد کا ذکر تھا اب اس کی مثال پیش کی جا رہی ہے کہ تم غور کرو کہ فرعون اور اس کے لوگ بنی اسرائیل پر کس طرح مظالم ڈھا رہے تھے اور ہم نے فرعون اور اس کے لوگوں کے مقابلہ میں موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی گری پڑی قوم بنی اسرائیل کی مدد کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فرعون اور اس کے لوگ اس دنیا میں عذاب الٰہی میں پھنس کر رہ گئے اور ان کو بنی اسرائیل کے سامنے غرق کردیا گیا اور موسیٰ وہارون (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور اللہ تعالیٰ کی کتاب تورات کے وارث بنادئیے گئے اور آزادی دے کر تمکن فی الارض بھی انہی کو دے دیا گیا۔ اس طرح گویا وہ دونوں وعدے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے بنی اسرائیل پور پورے ہوئے کہ ان کی مدد دنیاوی لحاظ سے بھی کی گئی اور آخرت کے لحاظ سے بھی۔
Ayah 40:54

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

عقل مندوں کی ہدایت اور نصیحت کیلئے

جو صاحب عقل ہوں وہی ہدایت ونصیحت حاصل کرتے ہیں 54۔ اس میں بلاشبہ نصیحت ہے لیکن ان لوگوں کے لیے جو عقل وفکر اور سمجھ سوچ سے کام لیتے ہیں رہے وہ لوگ جو عقل وفکر استعمال کرنے پر بین لگا دیتے ہیں تو وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوتے ہیں اور آخرت بھی ان کی برباد ہوتی ہے اور اس طرح کتاب اللہ کی وراثت ان سے چھن جاتی ہے جیسے آج کل اس زمانہ میں من حیث القوم قوم مسلم سے چھن چکی ہے اگرچہ قوم اس بات کو آج بھی تسلیم نہیں کرتی کیونکہ اس کو احساس زیاں بھی نہیں رہا اور نہ ہی مذہبی پیشوائوں اور سیاسی لیڈروں نے رہنے دیا ہے۔
Ayah 40:55

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

پس آپ ﷺ صبر کریں بلاشبہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کیجئے اور صبح و شام اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے رہیے

قوم بنی اسرائیل کے ذکر سے قوم مسلم کو سبق لینے کی ہدایت 55۔ اوپر قوم بنی اسرائیل سے ایمان لانے والوں اور اپنے رسولوں سیدنا موسیٰ اور سیدنا ہارون (علیہ السلام) کی مدد کا ذکر تھا اور اس طرح تمکن فی الارض دیئے جانے کا بھی جو بلاشبہ اس وقت ان کو فرعونیوں کے مقابلہ میں عطا ہوا لیکن قوم بنی اسرائیل اس وراثت کو سنبھال نہ سکی اس لیے ان کی دنیا بھی خراب ہوگئی اور آخرت بھی برباد ہوئی۔ زیر نظر آیت میں نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اس وقت جو معاملہ موسیٰ وہارون (علیہ السلام) کو پیش آۃ یا آج وہی معاملہ آپ کو درپیش ہے اور جس طرح ہم نے موسیٰ وہارون (علیہ السلام) کی مدد کی تھی یقینا آپ کی بھی کریں گے کیونکہ آپ بھی اسی طرح اللہ کے رسول ہیں جس طرح موسیٰ وہارون (علیہ السلام) تھے لیکن موسیٰ وہارون (علیہ السلام) کو ہم نے حکم دیا تھا کہ وہ قومی کوتاہیوں کا سدباب کریں اس طرح آپ کو بھی ہمارا یہی حکم ہے کہ آپ قومی کوتاہیوں کا سدباب کریں ( واستغفرلذنبک) اور ہر وقت ہر آن صبح وشام اللہ کی حمد و ستائش میں لگے رہیں اور صبر استقلال سے کام لیتے ہوئے دعوت الی اللہ جاری رکھیں آپ کی بھی اور آپ کی ایمان لانے والی جماعت کی بھی یقینا مدد کی جائے گی پھر دنیا نے دیکھا کہ جو بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہی گئی ہے وہ کس طرح پوری ہوئی اور پیغمبر اسلام نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو اور آپ پر ایمان لانے والوں کو کس طرح دین و دنیا دونوں میں کامیابی عطا کی گئی لیکن افسوس کہ قوم بنی اسرائیل کی طرح ہم بھی اس کامیابی کو سنبھال نہ سکے اور آج پھر ہماری حالت دنیاوی ناگفتہ بہ ہو کر رہ گئی ہے بلاشبہ اس نقصان پر جتنا رویا جائے اتنا ہی کم ہے۔ آنے اولی آیات میں ابھی نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو مخاطب کر کے ہدایات دی جا رہی ہیں اور صبر و استقامت کی تلقین باربار کی گئی ہے اور اپنے وعدہ کو دہرایا جا رہا ہے جس سے قوم مسلم کو سبق حاصل کرنا چاہیے اور یہ بات ذہن میں جما لین چاہیے کہ ہم قوم ہی دنیا کی آخری قوم ہیں اس لیے اب ہم کو ہمت کر کے اپنی کوتاہیوں کا ازالہ کرنا چاہیے اور جو ہمارے رسول مکرم کو عطا ہوا تھا اس وراثت کو سنبھالنے کی جو ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے اس کا احساص کرتے ہوئے جو کچھ ہم سے چھن چکا ہے اسے واپس لینا چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت کو ادا کر کے ہم دین ددنیا میں سرخرو ہو سکیں۔
Ayah 40:56

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں (وہ بھی) بلا کسی سند (اور دلیل) کے جو ان کے پاس پہنچی ہو ان کے دل میں بس ایک (ایسی) بڑائی (کی ہوس) ہے جس تک وہ پہنچ نہ سکیں گے پس آپ (حاسدوں سے) اللہ کی پناہ مانگتے رہیے بلاشبہ وہ سننے والا دیکھنے والا ہے

جو لوگ بغیر دلیل کے بات کرتے ہیں وہی جھگڑے کا اصل باعث ہیں 56۔ آیات آفاقی ہوں یا آیات قرآنی ان میں بات کرنے کے لیے دلیل وحجت ضروری ہے لیکن جب سے یہ دنیا قائم ہوئی اس وقت سے لے کر ہر نبی ورسول کے ساتھ ان کی قوموں کا الجھائو ہوا تا ہم کسی قوم نے دلیل کے ساتھ کسی نبی ورسول کی دعوت کو نہیں ٹھکرایا بلکہ ہر نبی ورسول کی مخالفت میں معترضین اور سردار لوگوں نے اتراتے ہوئے اور تکبروبڑائی کے بل بوتے پر انکار کیا بلکہ ان کا مذاق اڑایا اور اگر کسی نے دلیل پیش کی تو فقط یہ تھی کہ ہمارے سارے باپ دادا ایسا کرتے چلے آرہے ہیں کیا وہ سب غلط تھے ؟ کیا ہم اپنے سارے بزرگوں اور معزز لوگوں کو چھوڑ کر آپ کی بات کو سچ مان لیں ؟ کیا یہ سارے لوگوں میں سے ایک ہی ہیں جن کی سمجھ میں یہ بات آئی ہے وغیر وغیر لیکن یہ اور اس طرح کی ساری باتوں میں سے کوئی معقول بات بھی ہے جس کو دلیل وحجت تسلیم کیا جائے ؟ بلاشبہ کوئی صاحب عقل بھی اس بات کو دلیل نہیں کہہ سکتا لیکن جن کو صاحب عقل وفکر کہا جاتا ہے آج بھی ان سب کی یہی دلیل ہے جس کو وہ حق کے مقابلہ میں پیش کرتے ہیں۔ قرآن کریم ہم کو بتاتا ہے کہ جو لوگ اس دلیل کو پیش کرتے ہیں وہ دلیل سمجھ کر پیش نہیں کرتے بلکہ ان کے دلوں میں تو کبر ونخوت اور بڑائی بھری پڑی ہے وہ دنیوی مال ومنال ، خاندان اور برادری اور عزت واقتدار کے باعث جو ان کو حاصل ہے اس طرح کی باتیں کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ” ہم چوما دیگرے نیست “ پھر دنیوی چیزوں میں سے جب یہ سب کچھ ان کے پاس ہے تو زبان بھی آخر ان کی اپنی ہے وہ جو چاہیں بولیں ان کا تو ہر بول دلیل ہے آپ کس دلیل کی بات کرتے ہیں ؟ فرمایا ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ یہ جو کچھ ان کے پاس ہے اور جس کے بل بوتے وہ سب کچھ کر رہے ہیں ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آپ اپنی تبلیغ وتعلیم جاری رکھیں تو ان کی خواہشات کا یہ محل محض رویت پر قائم ہے اس کو منہدم ہوتے دیر ہیں نہیں لگے گی اور یہ کبھی باراد نہیں ہو سکتے جب قانون الٰہی کے نفاذ کا وقت آئے گا تو یہ ساری کی ساری چیزیں بےکار اور ناکارہ ہو کر رہ جائیں گی اور جو گزشتہ قوموں کے ساتھ ہوا وہی ان کے ساتھ بھی ہوگا۔ یہ جو کچھ کہتے ہیں اور جو کچھ کرتے ہیں آپ اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے رہیں اور دیکھیں کہ مخالفین کی مخالفتیں کس طرح دم توڑتی ہیں شرط یہ ہے کہ آپ ان مخالفین کو بالکل چھوڑ کر اور ان کی طرف سے نگاہ روک کر اپنا کام کرتے چلے جائیں ان کے ساتھ الجھنے کی کوشش مطلق نہ کریں یہاں تک کہ یہ مخالفت کرتے کرتے تھک ہار جائیں یہی وہ گر ہے جس سے سارے جھگڑے خود بخود ختم ہوجاتے ہیں۔ حقیقت ہے کہ دوچیزوں کے ٹکرانے سے آواز پیدا ہوتی ہے اور مثل ہے کہ دونوں ہاتھوں سے تالی بجتی ہے۔ آپ اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں بلاشبہ وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے اور بےدھڑک ہو کر وہ کام کرتے جائیں جس کا آپ کو حکم دیا جاتا ہے مصروف کار رہنا اور کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھنا متکبرین کے تکبر کا بہترین علاج ہے۔
Ayah 40:57

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

ہاں ! (یاد رہے کہ) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے (دوبارہ) پیدا کرنے سے بڑا (کام) ہے اور لیکن اکثر لوگ (اتنی بات بھی) نہیں سمجھتے

زمین وآسمانوں کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے بھی بڑا کام ہے اگر کوئی غور کرے 57۔ مخالفین اسلام پر دوبارہ جی اٹھنا نہایت شاق گزرتا تھا وہ اس پر تعجب کرتے کہ یہ نبی دوبارہ جی اٹھنے پر جو ایمان لانے کا حکم دیتا ہے یہ کیسے ممکن ہے اور اس کو کیونکر صحیح مان لیا جائے ؟ قرآن کریم ان کی اس بات کا بار بار جواب دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تم نے اپنی پہلی پیدائش پر کبھی غور کیا اگر کیا ہے تو بتائو کہ وہ کیسے ممکن ہوئی اگر اس پر تم کو یقین ہے تو دوسری پیدائش سے تم کیونکر انکار کرسکتے ہو جب کہ تم خود زندہ وجاوید اس کا ثبوت ہو۔ پھر پوچھتا ہے کہ تم ہی بتائو اور من حیث العقل بتائو کہ پہل بار پیدا کرنا مشکل ہے یا دوسری بار ؟ اگر پہلی بار مشکل ہے اور اس کو تم مانتے اور تسلیم کرتے ہو تو دوسری بار جو پہلی بار پیدا کرنے سے ہر حال میں آسان ہے اس کو ماننے سے تم کیوں گریز کرتے ہو ؟ زیر نظر آیت میں وہ دیہ دلیل پیش کر رہا ہے کہ ذرا غور کرو اور بتائو کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش پیدائش کے لحاظ سے بری چیز ہے یا انسان ؟ اگر انسان کی پیدائش کی نسبت اتنے بڑے آسمان اور زمین کی پیدائش پیدائش کے لحاظ سے بڑی چیز ہے یا انسان ؟ اگر انسان کی پیدائش کی نسبت اتنے بڑے آسمان اور اتنی بڑی زمین اور فضا اور پھر اس خلا میں ان گنت اور بیشمار اجرام فلکی ایک بہت بڑی پیدائش اور تم اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو اور مانتے ہو کہ ان سب کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے تو پھر تم ہی بتائو کہ ان سب کی پیدائش کے مقابلہ میں آخر انسان کا دوبارہ پیدا کرنا کیسے مشکل ہوگیا ؟ زیادہ سے زیادہ تم کو یہی بات مشکل نظر آتی ہے کہ ایک مرنے والے پر جب ہزاروں سال گزر گئے اور اس کی خاک کے ذرے بھی کائنات کی وسعتوں میں گم ہوگئے تو پھر ان کو دوبارہ اکٹھا کرنا اور زندہ کردکھانا کیسے ممکن ہو سکتا ہے ؟ کیا دوباراہ پیدا کرنا ہمارا کام ہے کہ اس کے متعلق تم ایسی سوچ سوچتے ہیں جب رب ذوالجلال والاکرام نے کلمہ کن سے تم کو تمہارے آباء و اجداد کو اور اس پوری کائنات کو تخلیق کیا اور اس کا نظام قائم کیا اس میں کڑوڑوں سال گزرنے کے باوجود ایک ثانیہ تک کا فرق نہیں پڑا اس ذات کے لیے پہلے انسانوں جیسی مخلوق پیدا کر کے انہی روحوں کو ان میں پھونک دینا آخر کیوں مشکل ہو سکتا ہے اگر تم عقل رکھتے ہو تو عقل وفکر اور دلیل وبرہان سے جواب دو کسی بات کا انکار کرنا اور کیے ہی جانا اور اس طرح کسی بات کا اقرار کرنا اور کیے ہی چلے جانا نہ انکار کرنے کی کوئی دلیل دینا اور نہ اقرار کرنے کے متعلق کوئی حجت وبرہان پیش کرنا سراسر جہل وہٹ دھرمی ہے اور پھر تم جہالت اور ہٹ دھرمی کی بات سے باز کیوں نہیں آتے اور جہالت پر کیوں بضد ہوگئے ہو۔
Ayah 40:58

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اور اندھا (کافر) اور بینا (مومن) برابر نہیں ہو سکتے اور نہ صاحب ایمان نیکوکار اور بدکار (برابر ہو سکتے ہیں) تم بہت ہی کم غور و فکر کرتے ہو

اندھا اور بینا دونوں برابر نہیں ہو سکتے لیکن لوگ کم ہی غور کرتے ہیں 58۔ کافر اندھا بھی ہے ، بہر ابھی اور مومن بینا بھی ہے اور سماعت بھی اس کی درست ہے بلاشبہ دونوں انسان ہیں لیکن دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ اتنی بات تو تم بھی تسلیم کرتے ہو کہ اندھا اور بینا دونوں برابر نہیں لیکن تم یہ بات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ کافر اور مومن میں بھی کوئی فرق ہے بلکہ بظاہر دیکھ کر تم کافر کو بھی اچھا قرار دے دیتے ہو ، بنسبت ایک مومن کی کیونکہ ایمان کی قدروقیمت کیا ہے ؟ تم کو اس بات کا احساس نہیں کہ کفر موت ہے اور ایمان زندگی ۔ اس وقت اگر تم اس بات کو نہیں سمجھتے تو عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا اس دارالعمل سے رخصت ہونے کی دیر ہے تمہاری بینائی بحال ہوجائے گی اور تم کو سب کچھ نظر آئے گا لیکن اس وقت اس کا وقت نکل چکا ہوگا کہ تمہاری بینائی سے تم کو کچھ فائدہ ہو ابھی وقت ہے غور کرلو کہ ایمان اور عمل صالح اور کفر اور بد عمل دونوں اپنے اپنے اندر نتائج رکھتے ہیں اور جس طرح دونوں طرح کے اعمال برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح دونوں کا نتیجہ بھی یکساں نہیں ہو سکتا تعجب ہے کہ تم کم ہی غور وفکر کرتے ہو اور کم ہی نصیحت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہو۔
Ayah 40:59

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

بلاشبہ قیامت ضرور آئے گی اس میں کچھ شبہ نہیں لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت پر) ایمان نہیں لاتے

قیامت یقینا آئے گی اگرچہ اکثریت ایمان لانے والی نہ ہو 59۔ بلاشبہ قیامت آنے والی ہے اور وہ یقینا آئے گی کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے اس سے کوئی فرق اس کی آمد میں نہیں پڑے گا لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ جو لوگ نہیں مانتے ان کو منوانے کے لیے وہ ابھی آجائے ایسا نہیں ہو سکتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح قیامت صغریٰ یعنی افراد کی موت کے لیے وقت مقرر کر رکھا ہے قیامت کبریٰ یعنی قیامت کے لیے بھی وقت مقرر کر رکھا ہے اور جس طرح موت کا وقت کسی کو نہیں بتایا گیا اس طرح قیامت کا وقت بھی کسی کو نہیں بتایا گیا اور نہ بتایا جاسکتا تھے کیونکہ انسانوں کی اس میں بھلائی ہے اگرچہ انسانوں ہی کی اکثریت اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہ ہو۔
Ayah 40:60

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

اور تمہارے رب کا ارشاد ہے کہ مجھ کو پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا بلاشبہ جو لوگ میری بندگی سے تکبر کرتے ہیں عنقریب وہ دوزخ میں ذلیل (و خوار) ہو کر داخل ہوں گے (اور وہاں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا)

ربِ کریم کا یہ کلمہ ہے کہ تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا 60۔ دعا کیا ہے ؟ عبادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کا ارشاد ہے کہ الدعا مخ العبادہ کہ دعا عبادت کا مغز ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اسئلونی اعطکم “ تم مجھ سے مانگو میں تم کو دوں گا اور پھر دونوں فریقوں میں دونوں معنوں میں کوئی فرق نہیں ہے جس طرح دعا عبادت ہے اسی طرح دعا سوال بھی ہے اور جس طرح غیر اللہ کی عبادت جائز اور درست نہیں اسی طرح غیر اللہ سے دعا بھی جائز اور درست نہیں اور بالکل اس طرح غیر اللہ کے سامنے دست سوال پھیلانا بھی ناجائز و حرام ہے۔ خیال رہے کہ انتہا درجہ کی عاجزی اور نیاز مندی کو عبادت کہتے ہیں اس کا ظہور صحیح معنوں میں اسی وقت ہوتا ہے جب انسان مکمل طور پر مصائب میں گھرا ہوا ہو اور دنیا کے جتنے سہارے اور آۃ سرے انسان نے سمجھ رکھے ہوں ایک ایک کر کے وہ ٹوٹ چکے ہوں اور حالات کی سنگینی نے اس کی قوت و طاقت کو پاش پاش کر ڈالا ہو جب چو طرفہ امیدیں منقطع ہوچکی ہوں اور ساری راہیں بند ہوچکی ہوں اور انسان نہایت مجبوری کی حالت میں درِ خداوندی پر سر نیاز جھکا دے اس کی زبان گنگ ہوچکی ہو دل دردمند کی داستا اشک بار آنکھیں سنا رہی ہوں اور اس کو پورا پورا یقین ہو کہ وہ اس قادر مطلق کے سامنے اپنے قصہ غم پیش کر رہا ہے اور اپنی مشکل کو بیان کر رہا ہے جو سب کا سہارا اور سب کا مشکل کشا ہے اور جس کے سوا کوئی اور مشکل کشا نہیں۔ جس بندہ کی یہ حالت ہوئی اور اس نے صرف اور صرف رب ذوالجلال والاکرام پر انحصار کیا بلاشبہ وہ بندہ مومن ہے اور اس ایمان وایقان کا نتیجہ ہی ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرما لیتا ہے اس کی عبادت خالصتا اس کے لیے قرار پاتی ہے اور اس دعا کو دین کا ستون کہا گیا ہے اور زمین و آسمان اس کے نور سے منور ہے اور پیغمبر اسلام ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ” جس شخص کے لیے دعا کا دروازہ کھول دیا گیا گویا اس کے لیے رحمت کا دروازہ کھل گیا اور اب وہ اللہ تعالیٰ سے اپنی عافیت کا سوال کرلے تو یہ بات اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اور اس پسندیدگی کی حالت کو احادیث میں مختلف مثالیں دے دے کر تفہیم کرایا گا ہے اور بار بار یہ باور کرایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مانگنے کے لیے کسی وسیلہ و واسطہ کی ضرورت نہیں کیونکہ آخرت کی یاد دہانی کے بعد توحید کی یاد دہانی کا مطلب بالکل واضح ہے اور دوسری جگہ خود قرآن کریم میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ” مجھ سے مانگنے کے لیے کسی واسطہ ووسیلہ کی ضرورت نہیں جس کو مانگنا ہو وہ مجھی سے مانگے میں اس کی درخواست کو سنتا بھی ہوں ، قبول بھی کرتا ہوں “ (البقرہ : 186) پھر یہاں پر بھی بس نہیں کہ بلکہ اس سے بہت آگے بڑھ کر اپنے ان بندوں کو بلایا ہے جو طرح طرح کے مظالم ڈھاچکے ہیں اور زیادتیاں کرچکے ہیں کہ آئو تم نے اپنے پر بہت ظلم کرلیا اب بھی میری رحمت سے مایوس نہ ہو چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ ” اے پیغمبر ! میرے ان بندوں سے کہہ دو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جائو بلاشبہ اللہ سارے گناہ معاف کردیتا ہے وہ تو غفور ورحیم ہے “ (الزمر 39 : 53) تفصیل کے لیے اسی جلد میں سورة الزمر کی مذکورہ آیت کی تفسیر دیکھ لیں۔ قرآنی نظم پر غور کرو کہ کس صفائی کے ساتھ ( ادعونی) کی وضاحت ( عبادتی) سے کردی ہے اور اس طرح دعا اور عبادت دونوں کو ایک کردیا ہے اور اس میں یہ بھی بتا دیا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے سے بھی تکبر کرتے ہیں وہ گویا اللہ کی عبادت سے منہ پھیرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ پھیرتا ہے اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہوگا اس کے سوا اور کہیں نہیں ہو سکتا۔ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے والوں کو یہ تلقین کی ہے کہ جب وہ دعا مانگیں تو ان کو دل میں پختہ یقین کرنا چاہئے کہ ہم اس رب ذوالجلال والاکرام سے مانگ رہے ہیں جو کریم بھی ہے اور رحیم بھی اور ہماری ان عاجزانہ التجائوں کو وہ یقینا قبول فرمائے گا کیونکہ یہ اس کا وعدہ ہے چناچہ احادیث میں ہے کہ : قال قال رسول اللہ ﷺ ادعوا اللہ وانتم موقنون بالاجابۃ فاعلموا ان اللہ تعالیٰ لا یستجیب دعاء من قلب غافل لاہ ( رواہ الترمذی ، کتاب الدعوات) جان لو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول نہیں کرتا جو غافل دل سے دعا مانگتا ہے۔ دعا کی فضیلت بہت ہے لیکن دعا کے آداب بھی ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے تفصیل کے ساتھ سمجھائے ہیں۔ دعا سے پہلے اپنے جائزہ لینا بھی ضروری ہے بلکہ قبولیت دعا میں اس کا بھی بہت بڑا دخل ہے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اللہ سے کچھ نہ مانگنا افضل ہے اس میں تسلیم اور رضا بالقضا کا زیادہ ظہور ہوتا ہے لیکن یہ بات صریحا قرآن کریم کی ہدایت کے خلاف ہے اور کتاب اللہ کے خلاف بات کسی کی بھی آخر کیسے صحیح تسلیم کی جاسکتی ہے خواۃ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کیسا ہو۔ جب انبیاء کرام (علیہ السلام) کو خود اللہ رب کریم نے دعائیں سکھائیں اور دعائیں مانگنے اور مانگتے رہنے کی تلقین فرمائی اور امت کو سکھائیں اور واضح ارشاد فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں دعا سے بڑھ کر کوئی چیز باوقعت نہیں ہے “ ( عن ابی ہریرہ ، ترمذی وابن ماجہ) دعا کے بارے میں مکمل تفصیل ہماری کتاب ” الدعاء مخ العبادۃ “ دعا عبادت کا مغز میں ملے گی اور وہیں آپ کو آج کل کی مروجہ دعائوں کے متعلق بھی وضاحت دستیاب ہوگی۔
Ayah 40:61

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے واسطے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا (تاکہ تم کام کاج کرسکو) بلاشبہ اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے لیکن اکثر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے (بلکہ اللہ کو بھول ہی جاتے ہیں)

اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس سکون پکڑو 61۔ دن اور رات دونوں توحید الٰہی کے دو نشان ہیں۔ دن کا باقاعدگی کے ساتھ طلوع و غروب اور پورے نظم وضبط کے ساتھ ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصہ کا بھی فرق نہ ڈالنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سورج پر اور زمین پر حکومت اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کی ہے کیونکہ ان دونوں میں ایک خاص تعلق سے دن رات بنتے اور پیدا ہوتے ہیں اور خاص نظم کے تحت ان کی کمی بیشی ہوتی ہے اور یہ بھی کہ موسموں کا تغیر وتبدل بھی انہی دونوں کے ساتھ وابستہ ہے جس سے پوری کائنات کی ذی روح اور غیر ذی روح سب کو یکساں فائدہ پہنچ رہا ہے جس سے اس کی وضاحت خود بخود ہوجاتی ہے کہ اس ساری کائنات کا خالق اور مالک ایک اور صرف ایک ہی ہے پھر دونوں کی افادیت کو بھی صرف دو لفظوں میں واضح کردیا کہ رات سے تم کو یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ تم سکون حاصل کرتے ہو اور دن سے یہ کہ تم ہرچیز کو دیکھتے اور کام کاج میں مصروف ہوتے ہو اور یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے فضل کے دو بڑے نشانات ہیں لیکن لوگوں کی اکثریت ان سے فوائد بھی حاصل کر رہی ہے اور مسلسل اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا انکار بھی کیے جا رہی ہے حالانکہ اگر یہ لوگ انسانیت ہی سے عاری نہ ہوتے تو انکار کیونکر کرتے اور شرک کے مرتکب کیوں ہوتے۔ تف ایسے انسانون پر جن کے ڈھانچے تو انسانوں کے سے ہیں لیکن وہ اپنی صفات کے لحاظ سے حیوانوں سے بھی گئے گزرے ہوتے ہیں۔ قرآن کریم میں اکثر مقامت پر دن رات کو قدرت الٰہی کے دو نشان بتایا گیا اور پھر اس توحید الٰہی پر استدلال کر کے لوگوں کی تفہیم کرائی گئی ہے تا ہم بہت ہی کم لوگ ہیں جنہوں نے اس سے فائدہ حاصل کر کے توحید الٰہی کو اختیار کیا ہو اس کی وضاحت ہم پیچھے عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة یونس آیت 67 ، سورة النحل آیت 86 ، سورة القصص آیت 71 ، 72 جلد ہذا سورة الروم کی آیت 25 سورة یٰسین آیت 73 میں کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 40:62

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

وہی اللہ تمہارا رب ہے (جو) ہر شئے کا پیدا کرنے والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں (کہ اس کی عبادت کی جائے) پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو

یہ ہے تمہارا اللہ جو تمہارا رب بھی ہے تم کہاں دھکے کھاتے ہو 62۔ یہ دن رات اور کائنات کی ہرچیز کا جو کالق حقیقی ہے یہی تمہارا اللہ اور پروردگار ہے اس نے تم کو بھی تخلیق کیا ہے اور اس کائنات کہ ہر ایک چیز کو بھی تمہارے فائدہ کے لیے بنایا ہے کوئی چیز اس کے حکم سے باہر نہیں ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے پھر تم اس ذات الٰہ کو چھوڑ کر کہاں دھکے کھا رہے ہو اور کن کن لوگوں کی چوکھٹوں پر جبہ فرسائی کر رہے ہو۔
Ayah 40:63

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

اس طرح وہ لوگ (اس سے قبل) بھٹکتے پھرتے تھے جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے رہتے تھے

ان سب کو کون الٹی پٹی پڑھا رہا ہے کہ یہ لوگ آیات سے جھگڑا کر رہے ہیں 63۔ ان لوگوں کو کون الٹی پٹی پڑھا گیا ہے اور کس نے کہا ہے کہ تم پروردگارِ عالم کی عبادت چھوڑ کر غیروں کی عبادت شروع کر دو اور دوسروں کے نام کے ورد وظیفے پڑھا کرو اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ جھگڑا شروع کردو۔ پھر تعجب ہے کہ عوام الناس تو پہلے ہی عوام الناس ہوتے ہیں خواص کو یہ چکمہ کون دے گیا ؟ ہاں ! جن کو خواص سمجھ لیا گیا وہ محض ان کے منصب ومقام کے باعث سمجھ لیا گیا اس وقت خواص عوام کے مطیع وفرمانبردار ہو کر خواص کہلاتے ہیں ان کی حالت عوام سے بھی گئی گزری ہے وہ خود خود غرضیوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں اس لیے انہوں نے جگہ جگہ جعلی معبودوں کے آستانے آباد کر کے لوگوں سے خواص کا ٹکٹ حاصل کر رکھا ہے غور سے دیکھو تے تو تم کو اس طرح کے سارے جعلی شیر نظر آئیں گے اور کوئی گدھا اگر شیر کی کھال پہنا دیا جائے تو شیر نہیں ہو سکتا اگرچہ دیکھنے والوں کو دھوکا اور فریب دے جائے۔
Ayah 40:64

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

(لوگو ! ) اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قیام کی جگہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں (بھی) بنائیں تو کیا ہی اچھی صورتیں بنائیں اور پاکیزہ چیزوں سے تم کو رزق عطا کیا ، یہ ہے اللہ جو تمہارا رب (بھی) ہے ، پس اللہ بڑی برکت والا ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے

اللہ وہ ہے جس نے آسمان و زمین بنائے تم کو اور تمہارے لیلے رزق بنایا 64۔ اللہ تعالیٰ وہ ذات الٰہ ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے جائے قرار بنایا اور آسمان کو تم پر سائبان کی طرح اٹھا دیا اور تمہاری اتنی خوب صورت صورتیں بنائیں کہ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق سے تم اشرف المخلوقات قرار پائے تمہیں عقل وفکر اور سمجھ سوچ عطا کی اور اپنی پوری کائنات سے تم کو استفادہ کرنے کی صلاحیت اس نے عطا کی پھر تعجب ہے کہ تم اس کی اس کائنات سے استفادہ بھی کر رہے ہو اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بھی ٹھہراتے ہو ، اس کا دیا رزق بھی کھاتے ہو اور اس سے تم کا انکار ہے بہرحال تم مانو نہ مانو یہی اللہ تمہارا رب ہے بلاشبہ وہ بےحساب برکتوں والا ہے جو تمام عالموں کا بھی پروردگار ہے تمہارے ماننے سے اس کا فائدہ اور تمہارے نہ ماننے سے اس کا کوئی نقصان نہیں ہے۔ وضاحت اس کی عروۃ الوثقی جلد ششم سورة النحل کی آیت 61 ، 62 میں گزر چکی ہے۔
Ayah 40:65

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

وہ زندہ رہنے والا ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، پس خلوص نیت کے ساتھ اس کو پکارو ، تمام اچھی تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے

وہی زندہ ہے اور اس سے زندگی ہے وہی تعریفوں کا مالک ہے 65۔ وہ زندہ ہے اور بلاشبہ زندگی اس سے تعبیر ہے اور اس ذات الٰہ کے سوا تم جن جن ہستیوں کو بھی پکارتے ہو وہ اس قابل نہیں ہیں کہ ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکار اجائے اور ان کے نام کے وظیفے پڑھے جائیں اس کے سوا کوئی پکار کے لائق نہیں اور کسی کو حق نہیں کہ وہ اپنے الٰہ ہونے کا اعلان کرے یا اس کے لیے کوئی خفیہ کوشش میں مصروف ہو کیونکہ وہی ہمیشہ سے زندہ ہے اور وہی ہمیشہ زندہ رہے گا وہ نہ تو کسی کی سنتے ہیں اور نہ ہی کسی کی مدد کرسکتے ہیں ان کو پکارنا لا حاصل ہے جس سے بجائے فائدہ کے سراسر نقصان ہے کہ انسان شرک کے مرتکب ہو کر اپنا سچ کچھ برباد کرلیتا ہے۔ اس کی اطاعت ہے اور وہی اطاعت کے لائق ہے سب اچھی تعریفوں کے لائق صرف اور صرف وہی ذات ہے جو اللہ تعالیٰ ہے اور تمام جہانوں کا مالک و خالق ہے اور ملجاء وماویٰ ہے اس لیے بلاشبہ وہ شکریہ کا سزاوار حقیقی ہے۔
Ayah 40:66

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

آپ ﷺ فرما دیجئے کہ مجھ کو منع کردیا گیا ہے کہ اللہ کے سوا تم جن کو پکارتے ہو میں ان کی عبادت کروں جب کہ میرے رب کی طرف سے میرے پاس روشن دلیلیں آچکیں اور مجھے یہ حکم مل چکا ہے کہ میں سارے جہانوں کے پروردگار کا فرمانبردار ہوں

اے پیغمبر اسلام ! آپ اعلان کر دیجئے کہ مجھے غیر اللہ کی پکار سے منع کیا گیا ہے 66۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ کہہ دیں کہ مجھے تو منع کیا گیا ہے کہ میں ان لوگوں کو پکاروں جن کو تم پکارتے ہو۔ اس جگہ دوبارہ عبادت اور دعا کو ہم معنی قرار دیا گیا ہے اور اس کے متعلق میرے رب کی طرف سے روشن دلائل میرے پاس آچکے ہیں۔ وہ دلائل کیا ہیں ؟ وہی جو پیچھے بیان ہوتے چلے آ رہے ہیں اور آفاق وانفس سے ان دلائل کو بیان کیا گیا ہے کہ اس کائنات کا رب صرف اور صرف اللہ ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جس کا کام ربوبیت کے نظام میں ایک ذرہ کا بھی پیدا کرنا ہو۔ یہ دو ٹوک باتیں کرنے کا حکم خود نبی کریم ﷺ کو دے کر آپ کی امت کے ہر اس فرد کو دیا گیا ہے جو توحید الٰہی کو بیان کرتا ہے۔ اس کی تفصیل پیچھے عروۃ الوثقی جلد سوم کی سورة یونس کی آیت 104 تا 109 میں بیان کی گئی ہے اور اس طرح جلد ششم سورة الحج کی آیت 73 ، 74 میں گزر چکی ہے۔