Ayah 40:67اللہ وہ ذات ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر تمہاری عمریں مقرر کیں
67۔ زیر نظر آیت پیچھے سورة المومنون سورة الحج اور سورة الروم میں گزر چکی ہے جس میں پہلی دونوں سورتیں عروۃ الوثقی جلد ششم میں اور آخری سورة الروم جلد ہذا میں بیان کی گئی ہے اور وہاں اس کی وضاحت تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں حسب سابق یہاں بھی بالکل وہی مضمون تخلیق انسانی کے متعلق گزر چکا ہے کہ وہ ذات الٰہ جس نے انسان کو مختلف ادوار واطوار سے گزرنے کے بعد اس ڈھانچے اور موجودہ شکل و صورت میں بنایا اور پھر تمہارے لیے اپنے قانون میں عمریں مقرر کردیں تم میں سے کتنے ہیں جو پھولوں کی طرح کھلتے ہیں ، مرجھا جاتے ہیں اور کتنے ہیں جو موتیے کی کلیوں کی طرح توڑ لیے جاتے ہیں اور پھر کتنے ہیں جو بلوغت کو پہنچتے ہیں اور ان میں سے کتنے ہی ہیں جو بوڑھے ہوجاتے ہیں اللہ رب العزت نے سب کے لیے وقت متعین کردیا ہے اور ان حالات واطوار سے انسان کس طرح گزرتا چلا جاتا ہے لیکن کسی ایک مقام پر ہی وہ رک جانا چاہے تو نہیں رک سکتا کہ یہ اس کے اختیار کی بات نہیں جو اس نے کسی کو مہلت دے دی ہے اس سے پہلے کوئی شخص مر نہیں سکتا اور جب اس کے انتقال کا وقت آجاتا ہے تو کوئی اس کو ایک پل بھر کے لیے روک نہیں سکتا۔ پھر ہر ذی روح کے لیے ایک وقت متعین ہے اور ان میں سے انسان کو بتایا جا رہا ہے کہ تم غور کرو کہ ایسا کیوں ہے کہ تم کو اتنے مراحل سے گزارا جاتا ہے اور ایسا کیوں نہیں کہ وہ تم کو یکدم زمین سے پیدا کردیتا یا آسمان سے نازل فرما دیتا ؟ کیا وہ ایسا نہیں کرسکتا تھا ؟ یقینا کرسکتا تھا لیکن اس کی میشت کے فیصلہ نے ایسا نہیں کیا بلکہ ان سارے ادوار ومدارج سے تم کو گزارا ہے اس لیے کہ تم اپنے ان ادوار ومدارج پر غور وفکر بھی کرسکو اور اپنے مالک حقیقی اور خالق کائنات کی قدرتوں اور حکمتوں کو سمجھنے کی کوشش کرو اور انہی باتوں سے عقل وفکر سے کام لے کر اپنی زندگی کے سراغ کو پا جائو گویا یہ دنیا میں تمہارے لیے ایک بہترین تعلیم کا نمونہ ہے۔ اب تمہارا اپنا فرض ہے تم اس رب ذوالجلال والاکرام کی پہچان کرو اور جس نے تم کو بغیر کسی کی مدد اور شرکت کے پیدا کردیا اور تمہاری زندگی کے دارے سازو سامان پیدا کردیئے ہیں اور اس کے لیے مختلف سطحیں مقرر کر ہیں کبھی تم نطفہ ، علقہ اور منصفہ تھے اور پھر تم کو ایک گوشت و پوست کا لوٹھڑا بنایا اور پھر اپنے قانون کے مطابق زندگی عطا کر کے ایک خوبصورت بچہ بنایا اور زندگی کے مختلف مدارج مقرر کردیئے اور ان میں سے ایک بھی نہیں جس میں تم رک جانا چاہو تو رک جائو اور آگے نہ بڑھو نہیں تم جوان ہوئے اور تم نہیں چاہتے تھے کہ یہ جوانی کبھی تم سے زائل ہوجائے لیکن تمہارے سارے پاپڑ بیلنے کے باوجود تم کو بوڑھا کردیا گیا کیا تم چاہتے تھے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو تم اس سے سمجھ جائو کہ انسان کتنا بےبس ہے لیکن اس کے باوجود جب اترانے اور فخر کرنے لگتا ہے تو اس کے غرور کا سر نیچے ہونے ہی کو نہیں آتا۔ بہرحال انسان غور کرے یا نہ کرے اس دار فانی میں بڑے بڑے اونچے سروں اور ثملوں والے آئے جن کے غرور کی دھجیاں اڑ گئیں اور اس دنیا سے اس طرح مٹ گئے کہ آج ان کے نام بھی بطور عبرت لیے جاتے ہیں اگر کہیں لیے جاتے ہیں اور رب کائنات کا نظام اسی طرح جاری وساری ہے اگر کل کے مغروروں کا نام نہیں رہا تو یقینا آج کے مغرور بھی اپنے ناموں کو زندہ نہیں رکھ سکیں گے اور مٹ مٹا کر رہ جائیں گے۔
Ayah 40:68زندگی اور موت اس کے اختیار میں ہے جو کلمہ کن کا مالک ہے
68۔ زیر نظر آیت اس سے قبل دس بار قرآن ِ کریم میں کچھ الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ آچکی ہے اور ہم نے اس کی وضاحت بہت سے مقامات پر کردی ہے اور تقریبا ہر جگہ اس کا مفہوم ایک ہی جیسا ہے اس جگہ بھی پہلے اس بات کا اقرار لیا گیا ہے کہ اللہ وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور بلاشبہ اس کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے اور جب وہ کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس کے کلمہ کن سے سب کچھ ہوجاتا ہے جس کے ہونے کا وہ ارادہ کرتا ہے رہا یہ کلمہ کن تو یہ محض تفہیم کے لیے ہے ورنہ ارادہ کے لیے اس کو کسی تلفظ کی ضرورت ہی کب ہے ؟ دنیا میں جو کچھ تم کو نظر آرہا ہے وہ سب کچھ اللہ رب کریم نے اپنے ارادہ کے لیے اس کو کسی تلفظ کی ضرورت ہی کب ہے ؟ دنیا میں جو کچھ تم کو نظر آرہا ہے وہ سب کچھ اللہ رب کریم نے اپنے ارادہ سے پید کردیا ہے اور اس طرح تم خود بھی اس کے ارادہ مشیت سے اس دنیا میں آئے ہو جو اس نے چاہا ہے کیا ہے اور جو وہ چاہ رہا ہے وہ ہو رہا اور جو چاہے گا وہ وہو گا کوئی اس کے ارادہ میں اس کا مشیر نہیں جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا اس کی وضاحت عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 117 ، جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 47 ، 59 ، جلد سوم سورة الانعام کی آیت 73 ، جلد پنجم سورة النحل آیت 40 ، سورة مریم آیت 35 ، جلد ششم سورة یٰسین کی آیت 82 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔؎
Ayah 40:69جو لوگ آیات اللہ میں جھگڑا کرتے ہیں وہ کہاں دھکے کھا رہے ہیں
69۔ جب سب کچھ یہ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ، کانوں سے سن رہے ہیں پھر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑ رہے ہیں اور وحی الٰہی سے انکار کیے جا رہے ہیں ان کو کیا کہا جائے تعجب تو اس بات پر ہے کہ ان آیات اللہ میں وہ خود اور اس کائنات کی ہرچیز آتی ہے کیونکہ جو نشانیاں ان کے سامنے پیش کی جاتی ہیں ان کو آفاق وانفس دونوں سے پیش کیا جاتا ہے پھر کیا یہ لوگ اپنی اپنی ذاتوں کا انکار کرتے ہیں اور اس کائنات کے وجود کا بھی جس میں یہ خود بھی زندگی بسر کر رہے ہیں اس سے زیادہ تکذیب کی بری صورت اور کیا ہو سکتی ہے اور ان کی مت کیسے ماری جا چکی ہے اور اس کی وضاحت میزید آتے آرہی ہے۔
Ayah 40:70ان لوگوں نے کتاب اللہ اور رسولوں سب کی تکذیب کی
70۔ ان لوگوں نے کتاب للہ یعنی قرآن کریم کی تکذیب کی اور قرآن کریم کی تکذیب کر کے وہ گزشتہ تمام کتابوں کی بھی تکذیب کر مرتکب ٹھہرے کیونکہ قرآن کریم گزشتہ تمام کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور تحدی کی طور پر یہ بیان کرتا ہے کہ میرا پیغام کوئی نیا پیغام نہیں بلکہ وہی ہے جو قبل ازیں اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے پیش کیا تھا اور جس میں ان کی قوموں نے تحریف کر کے بہت کچھ اپنے پاس سے اس میں داخل کردیا کسی نے ان میں تفریط کی اور کسی نے افراط سے کام لیا لیکن یہ دنیوی زندگی آخر کتنی ہے ؟ تکذیب کرنے والے کب تک تکذیب کریں گے ؟ جب تک زندہ ہیں بس زندگی کا یہ کھیل ختم ہوتے ہی وہ اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لیں گے جو کچھ ان کے لیے تیار کیا جا چکا ہے تو ان پر ساری حقیقت حال کھل جائے گی۔ اس کی وضاحت قب ازین بیان کی جا چکی ہے کہ جب کوئی شخص اس دارالعمل سے رخصت ہوجاتا ہے تو گویا اس کی قیامت آجاتی ہے کیونکہ اس کو دوبارہ لوٹ کر اس دنیا میں نہیں آنا ہے اور جب ان کو زندہ کیا جائے گا تو پہلے ان آسمانوں اور زمین کو بھی بدل دیا جائے گا اور اس نظام میں جو کچھ ہوگا سب نئے سرے سے ہوگا لیکن انہی ناموں سے ان کو موسوم کیا جئاے گا۔ جس طرح کوئی شخص اپنی پہلی جگہ پر پہلا گھر منہدم کر کے نیا تعمیر کر دے تو بھی وہ گھر بہرحال گھر ہی رہے گا اور اس طرح وہ پہلا گھر ہی کہلائے گا اگرچہ اس پہلے میڑیل سے کوئی چیز بھی اس میں استعمال نہ کی گئی ہو اور اس سے انسانوں کے اجسام کی حقیقت کو بھی سمجھ لینا چاہیے اس الجھن کو حل کرنے کے لیے لوگوں نے جو ہر اور عرض کی اصطلاحات گھڑی ہیں تاکہ تفہیم کرائی جاسکے۔
Ayah 40:71ان کے پائوں میں زنجیریں اور گردنوں میں طوق پہنائے جائیں گے
71۔ (السلاسل) السلسلۃ کی جمع ہے زنجیریں اور اس طرح (الاغلال) غل کی جمع ہے جس کے معنی باندھ دینے اور جکڑ دینے یا قید کردینے کے ہیں اور اس کے معنی طوق کے بھی کیے گئے ہیں جو کسی کو مجبور کرنے کیلیے یا شناخت کے لیے گلے میں لٹکایا جاتا ہے کہ دیکھتے ہیں لوگ پہچان جائیں۔ فرمایا وہ دن یعنی قیامت کا دن ایسا ہوگا کہ جب ان مجرمین ومعاندین اور مخالفین انبیاء ورسل کی پائوں میں زنجیریں ہوں گی اور گردونوں میں طوق یہی ان کی پہچان ہے اور ان کو گھسیٹ گھسیٹ کر دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا۔
Ayah 40:72دوزک میں کھولتا ہوا پانی ہوگا جس میں ان کو ڈال دیا جائے گا۔
72۔ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ ان معاندین ومجرمین کو دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا اور زیر نظر آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ وہاں ان کو ابلتے ہوئے پانی میں ڈال دیا جائے گا اور آگ میں سیدھے جھونک دیئے جائیں گے۔ جس طرح کسی کو قتل کردینا بہت اذیت ناک بات ہے لیکن جب اس کے قتل کرنے کو اس طرح بیان کیا جائے کہ فلاں آدمی کو پہلے باندھا گیا اور پھر نیزے کی انی سے اس کو چھیدا گیا اور دیر تک اس کو اذیتیں دی جاتی رہیں اور انجام کار اس کو قتل کردیا گیا تو انسان اس طرح کی بات سن کر اور اس طرح کے عذاب دیئے جانے کی داستان سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور دل پر ایک ایسا اثر ہوتا ہے کہ بعض اوقات کپکپی شروع ہوجاتی ہے اور بےقراری اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ انسان کا زندہ رہنا مشکل نظر آنے لگتا ہے اس طرح دوزخ کے عذاب کے مختلف طریقے اور مختلف صورتیں قرآن کریم میں ذکر کی گئی ہیں تاکہ ان حالات کو سن کر اور پڑھ کر لوگ اپنے آپ کو دوزخ سے بچانے کی ہر حال میں کوشش کرلیں اور جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ ایسی حقیقت ہے جس کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے اور اس کو سورة البقرہ میں اس طرح بیان کیا گیا کہ کچھ لوگوں کو دوزخ میں بطور ایندھن ڈالا جائے گا تاکہ دوزخ کے شعلے بھڑک اٹھیں۔
Ayah 40:73پھر ان سے پوچھا جائے اگ کہ جن کو تم اللہ کے شریک ٹھہراتے تھے وہ کہاں ہیں ؟
73۔ ایک طرف تو ان کو عذاب میں گرفتار کیا جا رہا ہوگا اور دوسری طرف ان سے سوال کیا جائے گا کہ دوزخ میں اس طرح اذیت دیئے جانے والو ! تم نے تو بہت سے اللہ کے اس عذاب سے بچانے والے بنا رکھے تھے لیکن اس کے باوجود تم کو دوزخ میں گرایا جا رہا ہے اور عذاب پر عذاب میں مبتلا کیا جا رہا ہے وہ کہاں ہیں جن کو اللہ کے علاوہ تم نے اپنے سفارشی اور شریک بنا رکھا تھا اور بلاشبہ وہ اس وقت بدحواسی کے عالم میں ہوں گے لیکن سمجھتے ہوں گے کہ ہم سے کیا پوچھا جا رہا ہے۔
Ayah 40:74وہ تو ہم سے کھوئے گئے ، نہیں ہم ان کو پکارتے ہی کب تھے ؟
74۔ وہ بوکھلا کر جواب دیں گے اور جواب ان کا صحیح ہوگا کہ ( ضلوا عنا) وہ تو ہم سے کھوئے گئے لیکن فورا ہی سنبھل کر مزید بولیں گے کہ ہم تو کسی کو کبھی پکارا ہی کب کرتے تھے اس کو کہتے ہیں کہ رسی جل گئی پر بل نہ گیا۔ دوزخ عذاب میں گرفتار ہیں لیکن اب بھی جھوٹ بولنے سے باز نہیں آتے اور پھر سچی بات کو چھپا کر جھوٹ بول رہے ہیں کہ ہم تو اللہ کے سوا کسی کو پکار ہی کب کرتے تھے۔ مفسرین نے ان کا یہ بیان بدحواس پر محمول کیا ہے لیکن یہ بات صحیح نہیں صحیح یہی ہے کہ پہلے مرحلہ میں بات سنتے ہی وہ وسچی بات کہہ دیں گے اگرچہ انہوں نے کچھ سوچ سمجھ کر جواب نہ دیا ہوگا کیونکہ وہ لوگ تو سوچ سمجھ کر ہی جھوٹ بولنے کے عادی تھے۔ اب جب وہ سنبھلیں گے تو معا پہلو بدل دیں گے اور بول اٹھیں گے کہ ہم نے تو کبھی اللہ کے سوا کسی کو پکارا ہی نہیں تھا اور ان کے خیال میں یہ بات نہ رہے گی اس جھوٹ نے تو پہلے ہی ہماری یہ حالت بنائی ہے اور یہی ہم دوبارہ بول رہے ہیں اور سوچ سمجھ کر بول رہے ہیں کیا سوچ سمجھ کر کی گئی بات کو بھی کبھی اتفاق کہا جاسکتا ہے یا بدحواسی پر محمول کیا جاسکتا ہے شاید مفسرین نے دوزخ کے اس عذاب سے ڈر کر ایسا کہہ دیا ہو کہ ان کی اپنی سمجھ میں یہ بات نہ رہی ہو کہ سوچ سمجھ کر کی گئی بات کو بدحواسی پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی مزید وضاحت چاہتے ہوں تو عروۃ الوثقی کی جلد سوم میں سورة الانعام کی آیت 23 ، 24 کی تفسیر کو دیکھیں۔ اس جگہ فرمایا کہ ” یہ کافروں کی کھلی گمراہی کے باعث بات ہوگی “۔
Ayah 40:75ایسا کیوں ہوا ؟ اس لیے کہ ان کا خوش ہونا اور اترانا بےمحل تھا
75۔ فرمایا جا رہا ہے کہ تم تو بڑے بڑے سمجھدار اور دنیا میں ایک اچھی بھلی پوزیشن رکھنے والے لوگ تھے تم کو اس عذاب سے کیوں دوچار کیا گیا ؟ اور پھر ان کو مخاطب کر کے جواب دیا جائے گا کہ اس لیے کہ تم نے دنیا میں خوش ہو کر اور اترا کر اس دن کا انکار کیا تھا کہ تم ہم کو اس طرح اس دن سے ڈراتے ہو اگر ہم ایسے ہوتے کہ ہم کو عذاب دیا جانا ہوتا تو دنیا میں جو یہ انعام واکرام ہم پر کیے جا رہے ہیں یہ کیوں ہیں ؟ اس بات نے تم کو حقیقت فراموش کردیا حالانکہ جس رب کریم نے تم پر یہ احسان کیا تھا اگر تم اس پر خوش ہو کر سیدھی راہ اختیار کرتے اور سیدھی بات کو سیدھے طریقہ سے سمجھنے کی کوشش کرتے تو دنیا میں بھی تم نے عیش و بہار دیکھا تھا اور آج آخرت میں بھی تم اس سے بڑھ کر عیش و بہار میں ہوتے۔ تم کتنے بدبخت ہو کہ تم کو دنیا دی گئی اور اس میں ہر طرح کا عیش و آرام تم کو مہیا کیا گیا لیکن تم آسانیوں میں رہ کر اپنے لیے مشکلات پیدا کرتے رہے اور اس غرور وگھمنڈ میں آکر اللہ کے رسولوں کی توہین اور تکذیب کرتے رہے حالانکہ وہ تم کو اصل حقیقت سے آگاہ کرنے ہی کے لیے بھیجے گئے تھے لیکن تم ایسے اکھڑ اور ناسمجھ ہو کہ اس عذاب میں مبتلا ہو کر بھی تم نے جھوٹ بولنا شروع کردیا اور یہ نہ سمجھے کہ اس جھوٹ کے باعث تو تم پہلے اس حالت میں گرفتار کیے گئے۔ اب تو تم کو غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے تھا لیکن تکبر اور نخوت ہے کہ اس نے ابھی تک تم کو نہیں چھوڑا۔ ہم نے جو کچھ دنیا میں کیا اس کا بھی تم کو حق نہیں تھا اور اب بھی جو تم کہہ رہے ہو ایسا کہنے کا تم کو حق نہیں کیا اتنی صاف اور عام فہم بات کو اب بھی تم سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ اس آیت میں (فرح) اور (مرح) کا خوب استعمال ہوا ہے جو قرآنی خوبی پر دال ہے۔
Ayah 40:76جہنم میں داخل ہو جائو بغیر حق کے تکبر کرنے والوں کا یہی ٹھکانا ہے
76۔ جہنم کی ساری راہیں تمہارے لیے کھلی ہیں جس دروازے سے چاہو داخل ہو جائو اور وہاں ہمیشہ ہمشہ کے لیے رہو کیونکہ اب تو قیامت بپا ہوچکی ہے اور موت صاحب کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اب کسی کے لیے مرنا ہی کب ہے ؟ زیر نظر آیت میں (ادخلوا ابواب جھنم) کے الفاظ آئے ہیں اور اس سے قبل (فی النار یسجرون) کے ان میں کوئی تضاد نہ سمجھ لے حقیقت یہ ہے کہ اس روز بھی دوزخیوں کی کئی اقسام ہوں گی اور ہر قسم کے لوگوں کے لیے الگ الگ احکام جاری کیے جائیں گے بعض کو دوزخ میں پھینکا جائے گا ، بعض کو گھسیٹ کر پھینکا جائے گا ، بعض کو داخل ہونے کے لیے کہا جائے گا۔ آیت کے آخر میں کہا گیا ہے کہ ان کو دوزخ میں داخل ہونے کے لیے کہا جائے گا اس لیے کہ دنیا میں وہ لوگوں کو اپنے حکم کا پابند رکھنے کے لیے حکم ہی دیا کرتے تھے اور ان کو اس طرح حکم سنایا جائے گا اور ظاہر ہے کہ جو خود حکم دینے والا ہو جب اس کو اس طرح کا حکم سنایا جائے تو جو اس پر اس وقت گزرتی ہے اس کو وہی سمجھتا ہے دوسرا اس راز کو نہیں سمجھ سکتا دنیا میں وہ ناحق تکبر و غرور کیا کرتے تھے اس لیے ان کو اس جگہ اپنے تکبر و غرور ہی کا مزہ چکھنا ہو کیونکہ برائی کا انجام ہمیشہ ویسا ہی ہوتا ہے۔
Ayah 40:77اے پیغمبر اسلام ! آپ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو اپنی نگاہ میں رکھیں
77۔ یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ اے پیغمبر اسلام ! صبر کیجئے آپ کے مخالفین کو اس دنیا میں بھی عذاب میں مبتلا کرنے کا ہمارا وعدہ ہے اور آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارا وعدہ کبھی غلط اور جھوٹ نہیں ہوتا بلاشبہ آپ کی موجودگی میں پورا ہوتا ہے یا آپ کی وفات کے بعد یہ کلام بطور شک نہیں بلکہ بطور تسلی ہے کیونکہ جو ہمارے ہاں طے ہے اس کے مطابق ہونا اس لیے لازم ہے۔ آپ اس عزم وجزم کے ساتھ ہمارا پیغام ان لوگوں تک پہنچاتے رہے کہ وہ وقت دور نہیں جب ان سب لوگوں کو لوٹ کر ہمارے پاس جمع ہونا ہے اور یہ بھی کہ اب آپ کی نبوت و رسالت تو تا قیامت ہے آپ کی نبوت و رسالت کے مخالفین بھی قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے اور آپ کی نبوت کو ماننے اور تسلیم کرنے والے بھی لیکن آپ کی زندگی تو بہرحال تا قیامت نہیں ہے انجام کار طبعی زندگی کے بعد آپ کو اس دنیا سے بہرحال رخصت ہونا ہے اس لیے آپ کی رخصت کے بعد بھی ہمارا یہ وعدہ تو قیامت تک اسی طرح قائم ودائم رہے گا اور جو پیدا ہوں گے انجام کار ان سب کو بھی مرنا ہے اور اسی طرح آپ کی نبوت و رسالت پر یہ لوگ آزمائے جاتے رہیں گے اور مخالف وموافق پیدا ہوتے رہیں گے اور ہمارا وعدہ صرف آپ کی زندگی تک نہیں بلکہ آپ کی نبوت و رسالت کے اجرا تک ہے اور اس کو تا قیامت باقی رہنا ہے۔
Ayah 40:78کتنے انبیاء ورسل بھیجے گئے بعض کا ہم نے ذکر کیا اور بعض کے ذکر کو چھوڑ دیا
78۔ یہ مضمون اکثر بیان ہوا ہے جو زیر نظر آیت میں بیان کیا گیا کہ آپ اے پیغمبر اسلام کوئی نئے رسول نہیں اور نہ ہی آپ کی قوم کوئی نئی قوم ہے آپ سے پہلے کتنے ہی رسول بھیجے گئے جن میں سے بعض کا ذکر نام بنام قرآن کریم میں کیا گیا اور اکثر کا ذکر چھوڑ دیا گیا اور مجمل طور پر ان کا نام لیا گیا۔ پھر جن رسولوں کا نام لیا گیا ان کی قوموں کا تذکرہ بھی کیا گیا اور ان کا رویہ بھی آپ کو بتایا گیا اور پھر ان سب کا انجام بھی تم پڑھ چکے ہو کہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کی عام روش یہی رہی ہے کہ جب ان کے رسول نے اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو قوم نے رسول کی تکذیب شروع کردی اور روز بروز ایک نیا مطالبہ طلب کرنا شروع کردیا جبکہ اس مطالبہ کا کوئی جواز نہیں تھا ، کیوں ؟ اس لیے کہ مطالبہ کا کوئی تعلق اس دعوت کے ساتھ نہیں تھا جو دعویٰ نبی ورسول نے کیا مثلا غور کرو کہ ہر نبی ورسول نے یہ دعویٰ کیا کہ میں اللہ کا نبی یا رسول ہوں اور مجھے تمہاری طرف یہ پیغام دے کر بھیجا گیا ہے کہ تم ایک اللہ کی عبادت کرو وہ اللہ جس نے تم کو تمہارے آباء و اجداد کو اور اس کائنات کی ہر ایک چیز کو پیدا کیا ہے اور پھر یہ کہ صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ ہر ایک چیز کا مکمل انتظام بھی کیا ہے اور سب کو ایک بندھن میں بھی باندھ دیا ہے پھر اس پر آفاق وانفس کے دلائل بھی پیش کیے اور ان کو ڈرایا کہ اگر تم شرک سے باز نہ آئے اور اس تعلیم اسلام سے منہ موڑا تو تم کو رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور قیامت کے روز بھی تم کو رسوائی ہوگی تو قوم نے جھٹ مطالبہ کیا اگر تم اس دعویٰ میں سچے ہو تو چاہیے کہ تمہارا رب تمہارے لیے ایک سونے کا محل تیار کر دے اور تم اس سے درخواست کرو کہ تمہارے لیے ایک بہت بڑا باغ ہی پیدا ہوجائے اچھا تم آسمان پر چڑھ جائو اور ہمارے سامنے خالی ہاتھ جائو اور وہاں سے لکھی ہوئی تحریر لے کر آئو ، اگر یہ نہیں تو آسمان کا کوئی ٹکڑا ہی ہم پر گرا دو یا اس قیامت کو ابھی لے آئو جس کا ہم کو بار بار ڈر اوا دیتے ہو۔ اب ایمان داری سے بتائو کہ ان باتوں کا اور ان جیسی دوسری باتوں کا اس دعویٰ کے ساتھ بھی کوئی تعلق قائم ہوتا ہے جو نبی ورسول نے کیا ؟
Ayah 40:79اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے چارپائے بنائے بعض کھانے کے لیے بعض سواری کے لیے
79۔ زیر نظر آیت میں آئے دنوں نئی نئی نشانیاں طلب کرنے والوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ اللہ رب کریم کی طرف سے جو نشانیاں آ چکی ہیں ان کو تو تم تسلیم کرنے اور ماننے کے لیے تیار نہیں اور نئی نئی نشانیاں طلب کرنے کا تم کو بہت شوق ہے جو نشان اس کی طرف سے آئے ہیں کیا وہ نشان نہیں ہیں اور جو انعام وہ تم کو یاد کراتا ہے کیا وہ انعام اس نے نہیں کیے ؟ اگر فی الواقع اس نے نہیں کیے تو پھر تم ہی بتائو کہ آخر وہ کس نے کیے ہیں ؟ وہ کہتا ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے چارپائے پیدا کیے ان میں سے بعض کے متعلق تمہاری راہنمائی کی کہ تم ان کو اپنی سواری کے لیے استعمال کرو اور اپنا سامان ادھر لانے لے جانے کے لیے ان کو استعمال کرو اور بعض کے متعلق تمہاری راہنمائی کی کہ تم خوراک حاصل کرنے کے لیے استعمال کرو تو بصد شوق استعمال کرسکتے ہو اور پھر بعض سے دونوں کام بھی تم لے سکتے ہو پھر تم جو اس نے حکم دیا ہے اس کے مطابق اپنا کام نکالو جن جانوروں کے متعلق جو حکم اس نے دیا ہے اس طرح ان کا استعمال کرو اور جن فوائد کے حاصل کرنے کا اس نے کہا وہی فوائد ان سے حاصل کرو پھر ان ہی جانوروں میں ایسے جانور بھی ہیں جن پر تم غور کرو تو تمہارے لیے بہت ہی عبرت بھی رکھ دی ہے کہ ان کی پیدائش ہی کو دیکھ کر اللہ یاد آجاتا ہے کیا کہ یہی وہ خالق حقیقی ہے جس نے انسان کے فائدہ کے لیے ابھی ایسی چیزیں پیدا کردی ہیں۔ ذرا اونٹ ہی پر غور کرو کہ اس کی تخلیق میں کاریگر حقیقی نے کیا کاریگری کا مظاہرہ کیا ہے کہ اتنے بڑے جانور کو بٹھا کر تم اس پر اس کے اپنے وزن سے بھی زیادہ بوجھ لادتے ہو اور نہایت آرام کے ساتھ لاد کر تم اپنی زبان سے صرف ” ہش ، ہش “ کی صدا دیتے ہو تو وہ اس سارے بوجھ کو لے کر کھرا ہوجاتا ہے اور نہایت خراماں خراماں چلتا ہوا تمہاری منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے پھر تعجب ہے کہ جھاڑیوں سے پتے کھا کر خوراک حاصل کرتا ہے اور مہینوں کے لیے ایک بار پانی پی کر اپنے اندر سٹور دیا ذخیرہ کرلیتا ہے تاکہ تم کو روزانہ اس کو پانی پر لے جانا نہ پڑے اور ریگستان میں جہاں چلنا نہایت مشکل ہوتا ہے وہ بڑی آسانی سے منزلوں پر منزلیں طے کرتا ہوا چلا جاتا ہے کہ لوگ اس کو ریگستان کا جہاز کہتے ہیں اور بلاشبہ یہ بات سو فی صدی صحیح ہے اس طرح اگر تم دوسرے جانوروں پر بھی غور کرو گے تو انجام کار کہنا ہی پڑے گا کہ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔
Ayah 40:80ان جانوروں میں تمہارے لیے بہت سی نشانیاں رکھی ہیں اگر تم غور کرو
80۔ ان جانوروں کی تجارت کرو تو تمہارے لیے منافع ، ان کی پرورش کرو تو تمہارے منافع کہ اون تم استعمال کرو۔ ضرورت کے لیے فروخت کر کے اپنی ضرورت کا سامان خرید کرو ان جانوروں سے وافر دودھ مہیا ہو سکتا جس کی تجارت بھی کرسکتے ہو اور خود اس کو بطور خوراک استعمال بھی کرسکتے ہو تمہارا جی چاہے تو سوای کے جانوروں کو سواری کے لیے استعمال کرسکتے ہو اور پھر سواری کرنے کے لیے کئی طریقے تم کو سکھائے گئے ہیں جس طرح سے بھی ان کو بطور سواری استعمال کرنا چاہو کرسکتے ہو پھر اس طرح کی کتنی ضروریات ہیں جن کو اگر تم چاہو تو پورا کرسکتے ہو اور ان جانوروں کی بجائے تم کشتیوں پر سوار ہو سکتے ہو جب تم کو بحری سفر در پیش ہو کہ اس تمہاری کشتی پر جو سامان بھی تم نے لگایا ہے اس سارے سامان کا پیدا کرنے والا اللہ رب کریم ہی ہے اور پھر جس عقل وفکر کو تم نے استعمال کر کے اس سے یہ کام لیا ہے وہ عقل بھی بلاشبہ خداداد چیز ہی ہے۔ ابھی نہ معلوم کہ تمہارے سینوں میں ان جانوروں سے کیا کیا کام لینا محفوظ ہے جوں جوں تم آگے بڑھو گے ان ساری چیزوں کے فوائد خود بخود تم پر کھلتے جائیں گے۔
Ayah 40:81کیا ان ساری چیزوں میں تمہارے لیے نشانیاں موجود نہیں ہیں ؟
81۔ جن چیزوں کا ذکر گزشتہ دو آیتوں میں کیا گیا ہے کیا ان میں تمہارے لیے نشانیاں موجو نہیں ہیں ؟ اگر ہیں تو تم کٹ حجتیاں کرنے کے لیے نئی نئی نشانیوں کے مطالبات کیوں کرتے ہو جب کہ تم خود اور تمہارے اردگرد ہزاروں نشانیاں خود بخود موجود ہیں اور یہ کہ اگر تم ان نشانیوں کو شمار کرنا چاہو تو تم شمار نہیں کرسکتے تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو کون کون سی نشانیوں کو جھٹلانے کی کوشش کرو گے اور جھٹلا سکو گے۔ معلوم ہوا کہ اللہ رب کریم کی نشانیوں کی کوئی کمی نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ تمہاری آنکھیں ان نشانیوں کو دیکھ ہی نہیں سکتیں کیونکہ تم اپنی آنکھوں سے وہ کام لینا ہی نہیں چاہتے جس کام کے لیے اللہ رب ذوالجلال والاکرم نے تم کو دی ہیں اور جن نشانیوں کا تم مطالبہ کرتے ہو اگر ان کو بھی لایا جائے تو تم ان کو دیکھو کہ ایمان نہیں لائو گے ذرا زبان ہلا کر اس کو جادو کہہ دو گے جس طرح تمہارے آبائواجداد کہتے آئے ہیں کیونکہ نہ ماننے والوں کے لیے سو بہانے موجود ہوتے ہیں۔
Ayah 40:82کیا تم کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں کہ تم دیکھتے کہ جھٹلانے والوں کا کیا حال ہوا ؟
82۔ زیر نظر آیت کا مضمون انہی الفاظ میں تھوڑی سی کمی بیشی کے ساتھ عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة یوسف کی آیت 109 ، جلد ششم سورة الحج کی آیت 46 جلد ہذا سورة الروم کی آیت 9 ، سورة فاطر کی آیت 42 نیز اس سورة فاطر کی آیت 21 میں بھی یہی مضمون تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے وہاں سے ملاحثہ کریں ۔ ان آیات میں گزشتہ اقوام کی تاریخ کو بار بار دہرایا گیا ہے تاکہ اس سے استفادہ کرتے ہوئے لوگ اپنی اصلاح حال کرلیں اگر اصلاح کرنا چاہیں ؟ اس طرح بہر حال سوئی ہوئی قوم کو جگانے کی بار بار کوشش کی گئی ہے تاکہ ان کو معلوم ہو کہ جو لوگ انبیاء کرام اور رسل عظام کی مخالفت کرتے ہیں ان کا انجام ان کو معلوم ہوجائے جب کہ گزشتہ قوموں کے لوگ ان سے زیادہ طاقتور اور اس زمین خداوندی میں بہت اثر ورسوخ رکھنے والے تھے اور آج کے ان لوگوں سے بھی زیادہ ترقی یافہ اور سلجھے ہوئے تھے اور تعمیری آثار میں ان قوموں کا مقابلہ آج کی یہ نہایت ترقی یافتہ قوم نہیں کرسکتی لیکن ان قوموں پر جب عذاب الہٰی آیا تو ان کا ستیاناس کر کے رکھ گیا اور ان چیزوں میں کوئی چیز بھی ان کے کام نہ آئی اس سے واضح ہوگیا کہ جب بھی کوئی قوم اخلاقی زوال میں مبتلا ہوجاتی ہے تو اسی وقت اپنی عددی اکثریت اور ظاہری اثرورسوخ کے سہارے زندہ رہنا چاہتی ہے گویا یہ وہی بات ہے کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بھلا کبھی ایسا ہوا بھی ہے اور کوئی قوم اس بل بوتے پر کبھی زندہ رہی بھی ہے ہاں ! یہ ضرور ہے کہ مرنے مٹنے کے باوجود وہ اپنے آپ کو زندہ ہی سمجھتی رہے جیسے آج کل ہم قوم مسلم کی حالت ہوچکی ہے کہ ہمارا شمار دنیوی لحاظ سے بھی زندہ قوموں میں نہی رہا اور دین لحاظ سے بھی اور جس طرح گزشتہ قوموں کو اس سہارے نے کچھ کفایت نہ کیا اور جو انہوں نے کمایا سب اکارت گیا یقینا یہی حال ہمارا ہو رہا ہے لیکن ہماری اکثریت آجء بھی اس کو ماننے کے لیے تیار نہ ہے اور ہنوز دلی دور است کی صدائیں آج بھی بلند ہیں۔
Ayah 40:83اللہ تعالیٰ کے رسول ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے لیکن انہوں نے مذاق ہی اڑایا
83۔ ان قوموں کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب رسول آئے اور انہوں نے اپنی اپنی قوم کو توحید الٰہی کا درس دیا اور آخرت کی یاددہانی کرائی تو ہر قوم نے اپنے رسول کی ان باتوں کی تردید کی اور اس کا مذاق اڑایا یہ دونوں عقیدے ہی ان کو ہضم نہ ہو سکے۔ جب انبیاء کرام اور رسل عظام نے ان کو دلائل سے رام کرنا چاہا تو وہ ڈٹ گئے اور ان کے دلائل کا جواب ڈنڈے کے زور سے دیا کسی قوم نے کہا کہ ” اگر تم اپنی اس تعلیم سے باز نہ آئے تو تم کو پتھر مار مار کر ہلاک کردیا جائے گا “ اور کسی نے آپس میں مخاطب ہو کر کہا کہ ” ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو یہ لوگ بڑے پاکباز بنے بیٹھے ہیں۔ “ اور کسی نے کہا کہ ” اے ہامان ! ایک بہت اونچا محل بنوائو تاکہ میں اس پر چڑھ کر اس کے رب کو جھانکوں کہ وہ کہاں ہے مجھے تو یہ جھوٹا ہی نظر آتا ہے “ اس طرح اے پیغمبر اسلام ! آپ کی قوم کے لوگ بھی آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو آپ بھی اپنا صبر وثبات کے ساتھ کرے جائیں اور ان استہزاء اور مذاق اڑانے والوں کی پکر کا ایک وقت مقرر ہے جو لوگ آپ کی مخالفت میں ڈٹے رہے ان کو یقینا پکڑ لیا جائے گا اور ان کو ان کے اس استہزاء اور مذاق کا ضرور مزہ چکھایا جائے گا جیسا کہ ان سے پہلے جھٹلانے والوں کو چکھایا گیا تھا۔ یہ ان قوموں کی داستانوں کا مجمل بیان ہے لیکن تفصیلی بیان ان کا آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں جیسا کہ سورة الاعراف ، سورة ہود اور سوہ الشعراء میں ان کے تذکار گزرے ہیں کسی قوم کو کونسا عذاب دیا گیا اور انہوں نے اپنے رسول سے کیا کیا مذاق کیا تھا۔
Ayah 40:84جب ان کو عذاب نے آلیا انہوں نے ایمان کا اقرار کرنا شروع کرد یا
84۔ ہر رسول کی دعوت اور ہر رسول کی قوم کی مخالفت ایک لمبی مدت تک چلتی رہی اور کسی قوم نے بھی اپنے نبی ورسول کے بیان کردہ دلائل کو تسلیم نہ کیا اور نہ صرف یہ کہ اس کے دلائل کو تسلیم نہ کیا بلکہ اس کو طرح طرح سے مذاق اور استہزا کا نشانہ بنایا لیکن انجام کار جب وہ قوم اپنے کیے کی پاداش میں پکر لی گئی تو وہ پکار اٹھی کہ ہم اس اللہ وحدہ لا شریک لہ پر ایمان لائے اور ہم نے اپنے ان شریکوں سے انکار کیا جن کی دہایاں آج تک ہم دیتے رہے۔ غور کرو فرعون نے کتنی مدت تک موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کی اور کیا کیا نشانات کا مطالبہ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کر کے اس کے ہر مطالبہ کو پورا کرایا لیکن ہر بار اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر کہہ کر اس کی بات کو واگزار کردیا اور انجام کار اللہ رب کریم کے حکم سے موسیٰ (علیہ السلام) کو سبق سکھانے کے لیے نکل کھڑا ہوا اور بنی اسرائیل کو آگے کی طرف سے پکڑنے کے لیے جب بنی اسرائیل بحرقلزم کو پار کر رہے تھے ان کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن جب مع اپنے لائو لشکر کے پانی میں مکمل طور پر داخل ہوگیا تو اللہ تعالیٰ کی پکڑ کا حکم نازل ہوگیا اور پانی کو حکم ہوا کہ ان میں سے ایک بھی بچ کر نہ جائے ابھی دو گھونٹ پانی فرعون کے منہ کے اندر داخل ہوا اور پہلی ڈبکی پر جو عذاب الٰہی کی ڈبکی تھی تھرتھرا گیا اور بول اٹھا کہ ” میں اس رب پر ایمان لایا جو بنی اسرائیل کا رب ہے “ لیکن اس کا جواب دیا گیا کہ ” اب تو ایمان لاتا ہے اور آج تک تو نافرمانی کرتا رہا ، اب وہ وقت تو نکل گیا کہ تیرے ایمان کی کوئی قیمت پڑے گی کیونکہ عذاب کو دیکھ لینے کے بعد ایمان لانا کسی کے لیے بھی مقبول نہیں ہوتا یہ وعدہ الٰہی ہے اور اللہ تعالیٰ کبھی اپنے وعدہ کا خلاف نہیں کرتا۔ فرعون ساری قوموں کے لوگوں سے زیادہ اکھڑ تھا قرآن کریم نے اس کا ذکر وضاحت سے کردیا اور باقی قوموں کے لوگوں کی حالت کو مجمل طور پر ارشاد فرمایا کہ وہ عذاب الٰہی کو دیکھ کر اللہ وحدہ لا شریک لہ پر ایمان لانے کا اعلان کرتے رہے لیکن وقت نکل جانے کے بعد کسی کے اعلان سے کیا ہوتا ہے اس کی تفصیل آنے والی آیت پیش کر رہی ہے۔
Ayah 40:85موعود عذاب دیکھ لینے کے بعد لایا ہوا ایمان مقبول نہیں ہوتا
85۔ جس اعلان الٰہی کا ذکر ہم نے گزشتہ آیت میں کیا ہے وہ یہی اعلان ہے جو زیر نظر آیت میں کیا جا رہا ہے کہ ” جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو ان کا ایمان لانا ان کے لئے سود مند نہ ہوا “ کیوں سود مند نہ ہوا ؟ فرمایا اس لیے کہ ” یہ سنت اللہ ہے جو اس کے بندوں میں پیچھے سے چلی آرہی ہے “ یعنی سارے منکرین اللہ ہی کے بندے تھے اور اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ گزشتہ قوموں سے یہی چلتا آرہا ہے کہ جب عذاب خداوندی کے آنے کا اعلان ہوجاتا ہے تو اس اعلان الٰہی کے بعد عذاب دیکھ لینے کے پیچھے اگر کوئی فرد یا کوئی قوم ایمان لاتی ہے تو ہم اس کے ایمان کو قبول نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کی سنت کے لئے بدلنا نہیں ہے اس کے بعد جو دوسرا اعلان خداوندی ہوتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ اب کافروں کو آخرت کے گھاٹے کے سوا کچھ میسر نہ آیا۔ عذاب الٰہی کوئی ایک طرح کی چے شدہ چیز نہیں یہی وجہ ہے کہ کسی قوم کو کسی طرح کا عذاب آیا اور کسی قوم کو کسی اور طرح کا یہ تو قوموں کی حالت کا بیان تھا لیکن سنت اللہ کے اس اعلان نبوی کے باعث انفرادی طور پر بھی ہر انسان پر جب اس شدت کا وقت آتا ہے جس کو نزع کا وقت کہا جاتا ہے تو اس وقت کی باتوں کا کوئی اعتبار نہیں کیا جاتا اور نہ ہی اس کی توبہ کا یہ وقت ہے یہی وجہ ہے کہ ایسے مرنے والے کو کسی طرح کی ترغیب دینے سے منع کیا گیا ہے لیکن ہماری اکثریت وہی کام کرتی نظر آتی ہے جس سے اسلام نے منع کیا ہے۔ قارئین سے درخواست ہے کہ وہ جو کچھ پڑھتے ہیں اگر دل میں جمتا ہے کہ یہ قرآن کریم کا منشا ہے تو اس کو اپنے اوپر اور اپنے ماحول میں اپنی بساط کے مطابق لازم کرلینے کا عہد کریں تاکہ زندگی ہی میں اپنی حالت کو خود سمجھ سوچ کر بدل لیں جو حالت عالم آخرت میں کام آئے اور اگر میرے کسی بھائی کو آخرت کے ساتھ یہ ” عالم “ کا سابقہ شاق گزرے تو وہ اس کو صرف آخرت پڑھ لے۔
سورۃ مومن اس مضمون پر ختم ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنی دنیا اور آخرت کو سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین
الحمد للہ کہ اس جگہ جلد ہفتم ختم ہوئی
عبدالکریم اثری 23۔ نومبر 1997 ء بعد از نماز فجر