41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 41:1

حٰمٓۚ Open ayah 41:1 in the Quran reader

حا۔ می ... م

حا… می … م حروف مقطعات میں سے ہے 1 ؎ … می… م حروف مقطعات میں سے ہے اور بعض نے اس کو سورت کا نام بھی بتادیا ہے۔ حروف مقطعات کی بحث ہم نے سورة البقرہ میں بیان کردی ہے وہیں سے ملاحظہ فرمالیں تو صحیح ہے۔ کیونکہ حروف مقطعات جہاں بھی بیان ہوئے ہیں سورتوں کے شروع ہی میں ہوئے ہیں اور ان کی وجہ تسمیہ ایک ہی جیسی ہے۔
Ayah 41:2

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

(یہ قرآن) رحمن و رحیم کی طرف سے نازل ہوا ہے

قرآن کریم اللہ رب کریم کی طرف سے نازل ہوا ہے جو رحمن ورحیم ہے 2 ؎ قرآن کریم میں کفار مکہ کی یہ بات بار بار ذکر کی گئی ہے کہ کفار اس کو کتاب اللہ ماننے اور تسلیم کرنے کے یے تیار نہیں بلکہ وہ بضد ہیں کہ فہ محمد ﷺ نے گھڑا ہے یا اس کے سامنے بعض لوگ اس طرح کا بیان دیتے ہیں اور وہ اس کو اس طرح لکھوادیتا ہے۔ ان سے بار بار یہ مطالبہ کیا گیا کہ اگر یہ قرآن محمد ﷺ نے گھڑلیا ہے تو تم بھی اس جیسا ایک کلام گھڑ کرلے آئو اور اگر زیادہ نہیں تو چلو دس سورتیں ہی گھڑ کرلے آئو اور تم جس جس کو چاہتے ہو اپنے ساتھ شریک کرلو اور انجام کا ردس سورتوں سے کم کرکے اس کو ایک سورت پر لے آیا گیا کہ چلو ایک سورت ہی لے آئو اگر تم لاسکتے ہو ؟ لیکن ان کی ہٹ دھرمی کا کمال یہ ہے کہ نہ تو وہ ایسا کلام پیش کرسکے اور نہ ہی انہوں نے اس کلام کو کلام اللہ تسلیم کیا۔ گزشتہ سورت کے شروع میں نازل کرنے والے اللہ کی دو صفات (العزیز) اور (العلیم) ذکر کی گئی تھیں اور اس سورت میں نازل کرنے والے کی دو صفات (الرحمن) اور (الرحیم) ارشاد فرمائی گئی ہیں اور رحمن ورحیم میں تفصل کے ساتھ گزرچکی ہے۔ قارئین عزوۃ الوثقی جلد اول کے صفحات 83 ، 101 سے 105 ملاحظہ کریں۔
Ayah 41:3

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں واضح طور پر بیان کردی گئی ہیں ، قرآن عربی زبان میں ان لوگوں کے لیے ہے جو جانتے ہیں

اس کتاب کی آیتیں مفصل ہیں جو عربی زبان میں نازل کی گئی ہیں 3 ؎ اس کتاب کا خاصہ یہ ہے کہ اس کی آیتیں عقائد ونظریات اور قصص وواقعات کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں اور جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے ان کے مضمون کی وسعت اور بڑھتی چلی جاتی ہے اور یہ کمال ہے اس عربی زبان کا جس میں یہ کتاب نازل ہوئی یعنی نازل کی گئی کیونکہ جو وسعت بیان اللہ نے اس زبان میں رکھا ہے وہ اور کسی زبان میں نہیں پایا جاتا اور یہ بھی کہ اس کی آیات ایسی ہیں کہ بعض بعض کی تفصیل خود کردیتی ہیں اس لیے قرآن کریم کو کسی ایک جگہ سے پڑھ کر صرف اس جز سے اس کا مفہوم متعین کرنا سراسر غلطی اور قرآن کریم کے ساتھ زیادتی ہے۔ اس کا مفہوم متعین کرنے کے لیے اس مضمون کو جتنی آیات ہیں ان کو پیش نظر رکھنا نہایت ضروری اور لازم ہے۔ نیز یہ بھی کہ اس کی آیتیں صرف ان لوگوں کی سمجھ میں آتی ہیں جو عقل وفکر سے کام لیتے ہیں اور ایک بات کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں افسوس ہے کہ اکثر وبیشتر نے اس کتاب کے عربی میں نازل ہونے کی صرف یہ توجیہہ بیان کی ہے کہ یہ کلام جن لوگوں پر نازل ہوا ان کی زبان عربی تھی اگر یہ کلام کسی اور زبان میں نازل ہونے کی صرف یہ توجیہہ بیان کی ہے کہ یہ کلام جن لوگوں پر نازل ہوا ان کی زبان عربی تھی اگر یہ کلام کسی اور زبان میں نازل ہوتا تو ان کے لیے اس کا سمجھنا مشکل ہوتا اس لیے قرآن کریم نے اس کی خود وضاحت فرمادی کہ عربی میں نازل ہونے کی اصل وجہ کیا ہے ؟ لیکن ہمارے خیال میں اس کی صرف یہ توجیہہ کسی حال میں بھی درست نہیں کیونکہ قرآن کریم کا نزول صرف عربوں کے لیے نہیں ہوا اگرچہ محمد رسول اللہ ﷺ کی زبان عربی ہونے کے باعث عربی تھی۔ مشیت ایزدی نے اپنے سارے کلاموں سے اس کو مؤخر کرکے اور عرب میں محمد رسول اللہ ﷺ کو پیدا فرما کر اس کو عربی میں اس لیے نازل فرمایا کہ جو فصاحت وبلاغت اور کلام کی گہرائی اور نظریات عمق اس زبان میں بیان کیا جاسکتا ہے کسی دوسری زبان میں وہ ممکن ہی نہیں ہے۔ قدرت الٰہی کی اسکیم پر غور کرو کہ اللہ نے اپنا آخری نبی ورسول اسمعیل (علیہ السلام) کی پشت درپشت سے پیدا کرنا تھا اس لیے اس نے ایسے حالات پیدا کیے کہ کہ ایک مدت مدید پہلے اسماعیل (علیہ السلام) کو فلسطین سے اٹھاکر بیت اللہ کے قریب لا آباد کیا اور ان کی زبان کو خالصتاً عربی زبان بنایا گیا جس میں یہ حکمت تھی کہ نبی اعظم وآخر ﷺ کو اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے پیدا کرنا مقصود تھا لہٰذا اس کے لیے ایک مدت مدید پہلے یہ اسکیم تیار کی گئی تاکہ اللہ تعالیٰ اپنا آخری کلام اس زبان میں نازل کرے جس زبان میں اتنی وسعت موجود ہو کہ ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی اس کی وسعت میں کوئی فرق نہ آئے اور جوں جوں حالات عالم غیب سے عالم شہادت کی طرف مراجعت کریں تو اس کی وسعت خود بخودکھل کر آنے والی نسلوں کے سامنے آتی جائے۔ سبحان اللہ ! یہ کمال ہے اس کلام کا جو کلام کسی دوسری زبان میں نہیں ہوسکتا تھا اس لیے اس کلام کو عربی زبان میں نازل کیا گیا بلا کہ اس کی وہ ضرورت بھی تھی جو مفسرین نے بیان کی لیکن اس وقتی ضرورت سے بھی زیادہ یہ ضرورت تھی جس کا ذکر ہم نے اس جگہ کیا کو رن کہ وقتی ضرورت سے یہ ضرورت زیادہ اہم تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی اصل زبان کو اللہ تعالیٰ نے آج تک زندہ رکھا اور غیروں کی ساری کوششوں کے باوجود اس زباں کا تاقیام قیامت اس طرح برقرار رہنا بطور تحدی اور چیلنج کے بیان کیا گیا ہے اور غیروں نے جو اس وقت تک کوششیں کی ہیں ان سے سو گنا وہ اور زیادہ بڑھا دیں تو بھی ان کوششوں میں و کامیاب نہیں ہوسکتے۔ یہ چیلنج قرآن کریم کا ہے اور قرآن کریم رب کریم کا کلام ہے اس لیے رب کریم کے چیلنج کو کون غلط ثابت کرے گا ؟ بلاشبہ نہ کوئی کرسکا اور نہ ہی کرسکے گا بلکہ ہر وہ شخص خود خائب و خاسر ہوکررہ جائے گا جو اس طرح کی جسارت کرے گا۔
Ayah 41:4

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

(یہ) خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگوں نے روگردانی کی ہے وہ سنتے ہی نہیں (سمجھیں گے کیا ؟ )

قرآن کریم کی سنت یہ بھی ہے کہ وہ جہانوں کے لیے بشیر ونذیر بنایا گیا 4 ؎ بشیرونذیر قرآن کریم کی بھی صفت ہے اور نبی اعظم وآخر ﷺ کی بھی کیونکہ قرآن کریم اپنے ماننے والوں کے لیے بلا ریب خوشخبری ہے اور مخالفین ومعاندین کے لیے انداز ہے اور نبی کریم ﷺ اس خوشخبری کے سنانے والے اور مخالفت کرنے والوں کو ڈرانے والے ہیں۔ زیر نظر آیت میں یہ لفظ قرآن کریم کی صفت کے طور پر آیا ہے لیکن اس بشارت ونذرات سے وہی لوگ فائدہ اٹھاسکتے ہیں جو اس پر کام رکھیں اور اس کو سننے اور سمجھنے کے لیے تیار ہوں۔ قرآن کریم کی اپنی پیش گوئی کے مطابق بھی لوگوں کی اکثریت اس کو سننے کے لیے تیار نہیں اور جو سنتے ہیں ان میں بھی سن کر ، سمجھ کر اَن سنا اور اَن سمجھا کرنے والے بہت ہیں کیونکہ ان کے اعمال سراسر اس کے خلاف ہیں اور مخالفین تو پہلے ہی مخالفین ہیں۔
Ayah 41:5

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف میں ہیں ، اس بات سے جس کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں اور (کہتے ہیں کہ) ہمارے کانوں میں ڈٹ ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان ایک حجاب ہے پس آپ اپنا کام کیے جایئے ہم اپنا کام کیے جاتے ہیں

مخالفین نے برملا کہا کہ جس بات کی آپ ہم کو دعوت دیتے ہیں اس بات پر ہمارا جی نہیں لگتا 5 ؎ مخالفین ایک تو مخالف تھے اور دوسرا تکبر و رعونت سے بھی بھرے ہوئے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ ہم چومادیگرے نیست اس لیے انہوں نے برملا کہنا شروع کیا اے پیغمبر اسلام ! جس بات کی طرف آپ ہم کو دعوت دیتے ہیں اس دعوت پر ہمارا جی نہیں لگتا پھر ہم اس دعوت کو کیونکر قبول کرلیں۔ یہ سورت مکی ہے اور مکہ میں رسول اللہ ﷺ نے صرف اور صرف دو باتوں کی دعوت دی تھی ایک توحید الٰہی کی اور دوسری روز قیامت کی یعنی مرنے کے بعد جی اٹھنے کی یہی دونوں عقیدے اسلام میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں باقی سب ان کی معاونت کے لیے ہیں اور یہ دونوں باتیں ہی کفار مکہ اور مشرکین مکہ پر بہت شاق گزرتی تھیں اور بعینہ آج بھی یہ دونوں باتیں لوگوں پر بہت بھاری ہیں بہرحال کفار مکہ نے یہود کی طرح اس کا جواب واضح الفاظ میں دے دیا اور کہہ دیا کہ ہمارے دل تیری ان باتوں کے سننے سے بہت تنگ پڑتے ہیں ، رُکتے ہیں اور بند ہوتے ہیں اس لیے ہم آپ کی دعوت کو قبول نہیں کرسکتے اور اس طرح کی باتیں جو آپ کرتے ہیں ہمارے کان ان کو سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے بلکہ ہم پر آپ کی یہ دعوت بہت ہی بھاری گزرتی ہے کیونکہ ہمارے باپ دادا کے نظریات کے بالکل یہ باتیں خلاف ہیں اور اپنے باپ دادا کے خلاف بات سننے کا مطلب یہ ہوا کہ وہ سارے غلط تھے اور ان کی سمجھ اتنی نہ تھی جتنی کہ آپ کی اور یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے اس لیے ہماری سمجھ میں تو یہی آتان ہے کہ تیری اس تبلیغ سے تیرے اور ہمارے درمیان ایک مسلسل دیوار حائل ہوتی چلی جارہی ہے اور آخر ہم اس کو کب تک برداشت کریں گے اور آپ سے کیونکر مل بیٹھیں گے۔ ہماری سمجھ میں تو کچھ نہیں آتا کہ آخر آپ کو ہو کیا گیا ہے کہ اس طرح کی بہکی بہکی باتیں کرنے لگے۔ اچھا فی الحال ہم یہی کہیں گے کہ ہم اپنے آبائو اجداد کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق عمل کر رہے ہیں اور تم اس کے خلاف اپنی صوابدید کے مطابق عمل کر رہے ہو۔ چاہئے کہ ہم بھی عمل کرتے رہیں اور تم بھی اپنا عمل جاری رکھو۔ بات آپ کی اور ہماری خود بخود واضح ہوجائے گی۔ یہ بات انہوں نے زورکلام میں کہہ تو دی لیکن انہوں نے اپنی اس کہی ہوئی بات کا بھی احساس نہ کیا کہ ہم نے کیا کہا ہے اور پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے پے آزار ہوگئے کہ ہم تم کو اپنے اس علاقے میں تمہاری مرضی کے مطابق عمل نہیں کرنے دیں گے۔ اگر وہ اس بات پر قائم رہتے ہو جو انہوں نے زور بیان میں کہہ دی تھی تو اسلام کے منشا کے عین مطابق تھی بلکہ قرآن کریم نے باربار ان کو اس بات کی تلقین کی ہے کہ تم اپنا کام جاری رکھو لیکن مسلمانوں کو بھی اپنی جگہ پر عمل کرتے رہنے دو لیکن ہمیشہ مسلمانوں کو اپنے گھر میں رہ کر اسلام کے احکام پر عمل کرنے سے بزور منع کیا جس کے نتیجہ میں پہلی ہجرت حبشہ ہوئی اور دوسری ہجرت مدینہ جس میں مکہ کو کچھ عرصہ کے لیے بالکل چھوڑ دیا گیا بلکہ مکہ کو ظالموں کی بستی قرار دیا گیا۔
Ayah 41:6

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

آپ ﷺ فرما دیجئے میں بھی تمہاری طرح آدمی [ ہوں ، مجھ پر وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے پس تم اس کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور اس سے بخشش طلب کرو اور ان مشرکوں کے لیے بڑی خرابی ہے

6 ؎ آپ فرمادیجئے اے پیغمبر اسلام ! کہ میں تمہارے ہی جیسا انسان ہوں۔ اس جگہ اس جملہ کا مطلب کیا ؟ مطلب یہ ہے کہ جس طرح تم انسان ہو اور باپ دادا رکھتے ہو میں بھی انسان ہوں اور باپ دادارکھتا ہوں۔ جس طرح تم کہتے ہو کہ ہمارے باپ دادا ایسا ایسا کرتے آئے ہیں میں بھی کہتا ہوں بلکہ تم سب سے بڑھ کر ان کی عزت واحترام کا خواہش مند ہوں۔ میرے جسم میں بھی ایک دل ہے فرق یہ ہے کہ تم جس چیز کو میری صوابدید سمجھتے ہو اور پھر اپنی اولاد اور اپنے آبائو اجداد کی صوابدید کے ساتھ مقابلہ کرتے ہو یہ تم کو غلطی لگی ہے میں اپنی صوابدید کے مطابق عمل نہیں کرتا بلکہ میری طرف رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے وحی کی جاتی ہے جس کا میں پابند ہوں اور وہ وحی یہ ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی اور معبود نہیں بلکہ وہ اور صرف وہ وہی عبادت کے لائق ہے اور اس کا اور صرف اس کا قانون چلتا ہے۔ اس ہی کے قانون کا سب کو پابند رہناچاہیے اور اسی اکلے اللہ کے حکم پر قائم ودائم رہنا چاہئے اور اس سے اپنی کمزوریوں کی معافی طلب کرتے رہناچاہئے لیکن مشرکین کے لیے افسوس ہے کہ ان کو ایک اللہ کی عبادت سے بہت چڑ ہے اور وہ جب تک اللہ تعالیٰ کے شریک نہ قرار دے لیں ان کو سکون نہیں آتا گویا عین بےسکونی میں ان کا سکون مضمر ہے۔ جب بھی ان کو ایک اللہ کے دین کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو ان کے چہرے اتر جاتے ہیں اور جب بھی ان کے سامنے غیر اللہ کو اللہ بناکر پیش کیا جاتا ہے تو خوشی سے پھولے نہیں سماتے اور شرک کی دعوت دینے والوں کے وہ بہت گرویدہ ہیں۔ یہاں تک کہ اللہ کا بندہ بننا ان کو ناگوار گزرتا ہے اور غیر اللہ کے کتے بننے ان کو سو بار گوارا ہے آج بھی کسی کو کلب علی اور سگ حسین کہہ کر دیکھ لو وہ تمہارے پائوں چومیں گے کہ تم نے ان کو بہت بڑے خطاب سے نوازا ہے۔
Ayah 41:7

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو لوگ زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت (کے دن یعنی قیامت کے روز) کے بھی منکر ہیں

یہ وہی لوگ ہیں جن پر زکوۃ بہت بھاری ہے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں 7 ؎ جیسا کہ پیچھے بیان کیا جاچکا ہے کہ یہ سورت مکی ہے جس میں ابھی تک نہ تو نظام زکوۃ قائم تھا اور نہ ہی زکوۃ کی فرضیت کا اعلان ہوا تھا البتہ انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب جاری تھی اور اس کو زکوۃ ادا کرنے کے الفاظ سے یاد کیا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ مشرکین سے چاہے جتنا خرچ کرالیں وہ کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن کہاں خرچ ریں گے وہی شرک کی ترغیب و ترویج پر اس وقت وہ مشرک بتوں کی نذر ونیاز میں بہت کچھ کر گزرتے تھے اور آج کل کے مشرک خانقاہوں اور درباروں پر تو ہر وقت خرچ کرنے کے لیے تیار ہیں اور گیارہویں کی نیاز کے لیے چاہے جتنا آپ مانگ لیں لیکن اللہ رب کریم کی ہدایت کے مطابق خرچ کرنا ان پر بہت شاق گزرتا ہے۔ فرمایا ایسا کیوں ہے ؟ جواب دیا گیا اس لیے کہ آخرت پر ان کو یقین نہیں ہے اور شرک میں حرام کی چاشنی ان کے منہ کو لگ چکی ہے اور جو کچھ کرتے ہیں وہ شیطان کی شہ پر خرچ کرتے ہیں اور یہ کہ اس طرح خرچ کیا ہوا وہ خرچ نہیں سمجھتے یا ان کی طبع پر گراں نہیں گزرتا اس لیے کہ ان کی خواہش کے عین مطابق خرچ ہوتا ہے اور سمجھتے ہیں کہ اس سے ہمارا نام روشن ہوگا اور جس کی رضا کے لیے خرچ کر رہے ہیں وہ ہم سے خوش ہو کر ہمیں اور زیادہ دے گا کیونکہ وہی تو ان کا اصل داتا ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو آخر وہ مشرک ہی کیوں ہوتے پھر یہ بھی کہ اگر آخرت کا کوئی تصور ان کے دماغ کے کسی حصہ میں پایا بھی جاتا ہے تو ساتھ ہی ان کو اس کی امید بھی لگی ہوتی ہے کہ جس کے نام کی ہم نذر ونیاز دے رہے ہیں وہ ہماری سفارش کرکے ہم کو اس مقام پر پہنچادیں گے جہاں کی ان کو موحدوں کو ہوا بھی نہیں لگی ہوگی۔
Ayah 41:8

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے

بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کیے ان کا اجر محفوظ ہے 8 ؎ گزشتہ آیات میں نذرات وتنذیر کا بیان تھا اور اس آیت میں بشارت وتبشیر کا بیان شروع کیا جارہا ہے کہ جو لوگ سچے دل سے ایمان لائے اور ایمان لانے کے بعد اچھے اعمال کا انہوں نے مظاہرہ کیا اور اللہ تعالیٰ کی توحید کو بیان کرتے رہے اور اس کی تعلیم وتبلیغ میں لگے رہے ان کا بہترین اجر اللہ رب کریم کے ہاں محفوظ ہے جو کبھی ضائع نہیں ہوگا اور یہ اجر بھی ایسا ہے جو ان کو ان کے اعمال ہی کے نتیجے میں دیا جائے گا کوئی احسان نہیں ہوگا ہاں ! جو احسان ہوگا وہ اس کے علاوہ ہے اور یہ بھی کہ یہ اجر کوئی وقتی چیز نہیں ہوگی بلکہ ہمشہو ہمیشہ کے لیے بحال رہے گا۔
Ayahs 41:9–10

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) آپ ﷺ (ان سے) پوچھئے کیا تم لوگ اس (کی ذات) سے منکر ہو جس نے دو دن (ادوار) میں زمین بنائی اور تم اس کے ہمسر ٹھہراتے ہو (یاد رکھو) وہی تمام جہانوں کا پروردگار ہے

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اور اس نے اس (زمین) میں اس کے اوپر پہاڑ بنائے اور ان کے اندر بڑی برکت رکھ دی اور اس میں سامان معیشت مقرر کیا (صرف) چار دن (ادوار) میں ، یہ بات سب پوچھنے والوں کے لیے برابر ہے

9 ؎ ذرا غور کرو کہ یہ زمین کتنی بڑی چیز ہے لیکن وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرم کی ذات کتنی طاقت وقوت رکھتی ہے جس نے اس کو صرف اور صرف دو ادوار میں پیدا کردیا اور یہ دو ادوار یا دو دن کا تصور بھی تمہاری تفہیم کے لیے ہے ورنہ کلمہ (کُن) پر کتنا وقت صرف ہوتا ہے بہرحال اتنی بڑی زمین کا بچھادینا اور اس میں قوت نمو اس قدر رکھ دینا کہ کوئی چیز جو قابل کاشت ہے اس میں کاشت کی اور ادھر بیج اُگ کر اس نے کئی گنا زیادہ واپس دینے کی تیاری شروع کردی لیکن تعجب ہے تم پر کہ تم خود یہ بات تسلیم بھی کرتے ہو کہ یہ سارے کام وہ اکیلا کررہا ہے اور پھر اس کے ساتھ شرک بھی کرتے جا رہے ہو حالانکہ تم بھی یہ سارے کام کرنے والے کو پروردگار مانتے اور تسلیم کرتے ہو۔ زیر نظر آیت میں بہ بات بھی قابل تفہیم ہے کہ اس میں خطاب تو مشرکین سے ہے اور مشرک رب کریم کا انکاری نہیں بلکہ سختی کے ساتھ اس کا اقرار کرتا ہے پھر وہ مشرک کیوں ہے ؟ اس لیے کہ اگرچہ وہ عقلاً اقرار کرتا ہے لیکن عملاً انکاری ہے کیونکہ وہ غیر اللہ کو بھی اللہ رب ذوالجلال والا کرام کے ساتھ شریک وسہیم ٹھہراتا ہے اور عملاً انکار بھی بلاشبہ کفر کے مرادف ہے یہی وجہ ہے کہ شروع آیت ہی میں یہ بیان کردیا کہ (ائنکم تکفرون) کیا تم کفر کرتے ہو حالانکہ تم تو اللہ کے اقراری ہو اور اس پر تعجب کے طور پر یہ جملہ بولا گیا ہے اس لیے کہ ہر کافر تو یقینا مشرک نہیں ہوتا لیکن ہر مشرک یقینا کافر ہوتا ہے لہٰذا کسی مشرک کو کافر کہنا ہر حال میں صحیح اور درست ہے اور زیر نظر آیت میں مخاطب انہی لوگوں کو کیا جارہا ہے جو مشرک ہیں اس لیے کسی مشرک کو کہنا کہ تو کفر کرتا ہے بالکل صحیح اور درست ہے (یومین) کی وضاحت قبل ازیں ہم (یوم) کے لفظ میں کرچکے ہیں اور یہ بات بھی واضح ہوچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک دن ہمارے ایک ہزار سال اور بعض حالات میں پچاس ہزار سال کے برابر ہے جن دنوں سے ہم اپنے سال شمار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس دو ادوار سے تعبیر کیا ہے۔ قرآن کریم میں اس پوری کائنات کے پیدا کرنے کا ذکر قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں کئی ایک مقامات پر کیا ہے جیسے سورة الاعراف کی آیت 54 ، سورة یونس کی آیت 3 ، سورة ہود کی آیت 7 ، سورة الفرقان کی آیت 59 ، سورة السجدہ کی آیت 4 ، سورة ق کی آیت 38 ، سورة الحدید کی آیت 4 میں اور ان دنوں سے مراد بھی وہی ادوار ہیں اور انہی چھ ادوار میں سے دو ادوار میں زمین کو اور دوادوار میں آسمانوں کو بنانے کا کر آتا ہے اور یہ وہ استعارات واشارات ہیں جو محض ایمانیات سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی اصل حقیقت ابھی تک یقینا آشکارا نہیں ہوئی اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ابھی مشاہدات میں آنے کے لیے بہت کچھ ہے اور قرآن کریم کی اس ابدی تعلیم کے سربستہ راز کھلیں گے اور اس معاملہ میں سمجھے کی بات صرف اور صرف یہ ہے کہ ہمت مرداں مدد خدا۔ بلاشبہ جو تلاش کرے گا وہ یقینا پائے گا ملائیت اگرچہ اس راز سے واقف ہونے کے باعث سو بار اس کا انکار کرے اور اپنی تفہیم کو حرف آخر سمجھے لیکن ملاں کوتاہ عقل کے باعث اگر قوم مسلم کے نوجوانوں نے ہمت نہ کی تو سارے انسان بہرحال اللہ تعالیٰ ہی کے بندے ہیں اور بلاشبہ سارے انسانوں کا ایک ہی رب ہے وہ کسی بھی تلاش کرنے والے کا منہ اس طرف موڑ سکتا ہے۔ ویسے زمین کی تخلیق انسان کے لیے آسمانوں سے بڑھ کر اور آسمانوں کی تخلیق زمین سے بڑھ کر اپنے اندر درس عبرت رکھتی ہے اگر کوئی اس درس سے عبرت حاصل کرنا چاہیے۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ یہ سب کچھ سننے ، سمجھنے کے باوجود لوگ اللہ رب ذوالجلال والاکرم کے ساتھ شریک قرار دیتے ہیں اور یہ بھی کوئی نہیں بتاتا کہ آخر ان کی شرکت کس سلسلہ میں ہوئی اور اس کی دلیل کیا ہے ؟ جس کا جواب سوائے خاموشی کے اور کچھ نہیں ملتا ، اوپر ذکرزمین کی تخلیق کا تھا اور آگے زمین کے اندر جو برکتیں رکھی گئی ہیں ان کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے اور اس طرح یہ آیات گویا (فی ستۃ ایام) والی آیات کی تفصیل و تفسیر ہیں جو خود قرآن کریم نے کردی ہے۔
Ayah 41:11

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا کہ وہ دھواں (سا) تھا پھر ان کو اور زمین کو حکم دیا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے ، دونوں نے کہا کہ ہم خوشی سے حاضر ہیں (یہ باتیں زبان حال کی ہیں)

اللہ تعالیٰ نے چار دنوں میں اس زمین کے اندر کے خزائن اور دفینے پیدا کیے 10 ؎ زمین کے اندر اللہ رب کریم نے پہاڑ گاڑ دئیے جو ہر ظاہر آنکھ رکھنے والے کو اپنی مہیب شکل و صورت میں نظر آتے اور ان پہاڑوں کے اندر جو دفینے اور خزائن انسانوں کے لیے پوشیدہ رکھے ہیں ان کا شمار نہیں کیا جاسکتا اس وقت تک ان دفینوں اور خزانوں کو اگر شمار کرنے کی ہمت کی جائے تو یقینا وہ بیسیوں سے متجاوز ہیں اور ابھی نہ معلوم کیا کیا چیزیں ہیں جو دریافت نہیں ہوئیں لیکن قرآن کریم نے مجمل طور پر ان پر ان سب کی طرف اشارہ کردیا ہے اور یہ اشارہ ہر اس انسان کے لیے ہے جو اس طرح ان کے دریافت کرنے کی جستجو رکھتا ہے جس طرح قرآن کریم نے ان کی جستجو کا اشارہ دیا ہے۔ دراصل یہ کام ان لوگوں کا تھا جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم جیسی کتاب کا وارث بنایا لیکن وارث بنایا لیکن وارث جب اس معاملہ میں ناخلف نکلے تو یہ سلسلہ غیروں کے ہاتھ لگ گیا اور وارثین ایسے کوتاہ اندیشن نکلے کہ انہوں نے کبھی نظراٹھا کر بھی نہ دیکھا کہ یہ ساری برکات تو ذوالجلال والاکرام نے قرآن کریم کی آیات میں بطور وتھیوری (Theory) ہمارے سامنے پہلے ہی بیان کردی تھیں اور اس تھیوری سے ہم نے کیا کام لینا شروع کردیا اور غیروں کے حصہ میں کیا آیا۔ چھلکے ہم سمیٹتے رہے لیکن مغز کون کھا گیا ؟ فرمایا ہم نے ان پہاڑوں کو زمین میں گاڑ کر انسانوں کا کیا فائدہ کیا ؟ ایک تو یہ کہ زمین چلنے اور ایک طرف جھکنے سے رک گئی اور دوسرا یہ کہ ان دفینوں اور خزانوں کو ایسا محفوظ کیا کہ جب تک ان کو کوئی نکال کر کام میں نہ لائے وہ اپنی اصل ہئیت وماہیت میں محفوظ رہیں اور اس امانت کو حاصل کرنے والے جب آئیں تو ان کو ان کے سپرد کردیاجائے اب تک انسان نے کتنی معدنیات حاصل کیں اور کتنی ہیں جو اب بھی پوشیدہ ہیں اور کتنی ہیں جن کو ابھی تیار کیا جانا ہے کیونکہ ان کا اصل مواد پیدا کردیا گیا ہے اور زمین کے ان حملوں کو وضع کرنے والے ابھی خود بھی وضع نہیں ہوئے اور اس طرح آسمان کی رجعت بھی ابھی جاری ہے جس سے نئے نئے حمل ہوں گے اور یہ بوڑھی زمین ابھی تک بانجھ نہیں ہوئی اور نہ ہی آسمان رجعت سے روک دیا گیا ہے اگرچہ اس کی قوتیں اس میں ودیعت کردی گئی ہیں اور انہی قوتوں میں انسانوں ، حیوانوں اور نباتات و جمادات کی غذائیں محفوظ رکھ دی گئی ہیں اور انسان بہمت جس قدر نکال سکتا ہے نکالتا چلا جارہا ہے اور رب کریم کی یہ ربوبیت بدستور اسی طرح قائم ہے اور ابھی ایک بھی ایسا دفینہ نہیں جس کو انسان ختم کرچکا ہو۔ اسی طرح تلاش کرتے جائو اور پاتے جائو۔ رب کریم کی توحید کی گیت گاتے جائو اور خوب سمجھ لو کہ جو کچھ تم نے حاصل کیا اور جو کچھ ابھی تم حاصل نہ کرسکے اس سارے کے سارے کو تمہارے پروردگار حقیقی نے صرف دو ادوار میں پیدا کردیا۔ اس طرح زمین کی پیدائش اور زمین کے اندر سارے خزائن ودفینوں پرچار ادوار پورے ہوئے اور یہ جتنے استعارات واشارات بیان کیے گئے ان میں سوال کرنے والوں کے لیے بیشمار اور بےانداز جوابات پنہاں ہیں لیکن سوال اٹھانے والوں کو حکم یہ دیا گیا ہے کہ اس سوال کا جو تم نے اٹھایا ہے تم کو خود ہی جواب تلاش کرنا ہے کیونکہ اس کائنات میں اس سوال کا جواب موجود ہے لیکن اسی کو ملتا ہے جو تلاش کرتا ہے۔ خالق کائنات نے جس طرح سوال تمہارے سامنے رکھے ہیں اسی طرح ان کے جوابات بھی رکھ دئیے ہیں اور تمہیں عقل وفکر سے نوازا ہے اور تمہارے اندر جستجو بھی ودیعت کردی ہے اگر تم انسان ہو تو انسان کی طرح ان کو حاصل کرنے کی کوشش کرو کیونکہ رب کائنات نے اس پر کسی شخص یا کسی قوم کی اجارہ داری قائم نہیں کی بلکہ ربوبیت کے دوسرے تقاضوں کی طرح اس کو بھی عام رکھا ہے کیونکہ اس کا تعلق بھی اسی ربوبیت سے ہے اور اس سامان ربوبیت پر چار ادوار میں کام ہوا اور اس طرح جو کچھ بیان ہوا سب کا سب تمہاری تفہیم کے لیے ہے اللہ کی ذات کسی دور یا کسی دن کی محتاج نہیں تمہارے فہم وادراک کے لیے ان لفظوں کا لباس پہنایا گیا ہے۔
Ayah 41:12

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

پھر ان سات آسمانوں کو دو دن (ادوار) میں بنایا اور ہر آسمان میں جو کچھ ہونا تھا اس کا حکم اس میں وحی کردیا اور آسمان دنیا کو روشنیوں کے ساتھ سجا دیا اور اس کو (اچھی طرح) محفوظ کردیا ، یہ انتظام ہے اس زبردست اور (ہر چیز کا) علم رکھنے والے کا

پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو زمین و آسمان کو فرمانبردار پایا 11 ؎ ہم بار بار ذکر کرتے چلے آرہے ہیں کہ یہ جو کچھ بیان کیا جارہا ہے یہ سب استعارات واشارات ہیں اور ان کو محض انسانوں کی تفہیم کے لیے اختیار کیا گیا ہے ورنہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام نہ دنوں کا محتاج ہے اور نہ ہی سالوں کا۔ اس طرح یہ جو ارشاد فرمایا کہ (ثم استویٰ الی السماء) پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو اس سے کوئی کوتاہ عمل یہ نہ سمجھے کہ اس سے پہلے وہ آسمان کی طرف سے غافل تھا اور اس کے علم میں ان کا کوئی تصور نہ تھا اس سارے کام سے فارغ ہو کر اس کو آسمان کا خیال آیا۔ ہرگز نہیں بلکہ یہ وہی پیرا یہ بیان ہے تاکہ بات کو اس طرح بیان کرکے ہر طرح کی عقل میں آنے کے مطابق اس کو پیش کیا جائے کیونکہ انسان تفہیم کے لیے اس طرح کے الفاظ اور اس پیرایہ بیان سے متعارف ہے وہ بھی اس وقت جب وہ اس زبان سے واقف ہو جس زبان میں ان کو بیان کیا گیا ہے۔ پھر جب وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو وہ اس ہئیت و بناوٹ سے قبل جس ہئیت و صورت میں اس وقت ہم کو نظر آتا ہے بالکل مختلف تھا اور اس کو یوں سمجھو کہ وہ ایک دھواں ہی دھواں تھا یعنی ابھی آبی بخارات کو اوپر فضا میں لے جانے کا مکمل نظام معرض وجود میں نہیں آیا تھا جہاں پہنچ کر وہ اس قدر لطیف ہوجاتے ہیں کہ گویا حد نظر میں جاکر وہ غائب ہوگئے ہوں جیسا کہ اس وقت بادل اور کہر کی صورت میں حالت پیدا ہوجاتی ہے اگرچہ یہ علاقائی صورت ہوتی ہے کیونکہ زمین کی تخلیق ابھی ابھی ہوئی تھی اور پورا نظم قائم نہیں ہوا تھا کیونکہ پورا نظام تب قائم ہوتا جب زمین کا جوڑا پیدا ہوتا اور وہ آسمان ہے اب جب کہ اللہ رب کریم نے زمین و آسمان دونوں کو اپناتکوینی حکم دیا کہ تم میرے فرمانبردار ہوجائو چونکہ وہ بےارادہ تھے اور اس بات کو ظاہر کرنے کے لیے یہ ارشاد فرمایا کہ تم چاہو یا نہ چاہو حالانکہ ان میں چاہنے یا نہ چاہنے کا ارادہ ہی کب تھا ؟ وہ تو محض حکم کے پابند تھے اس لیے ان کی طرف سے جو جوابی صورت تھی اس کو اس طرح بیان فرما دیا کہ ان دونوں نے کہا کہ ہم تو پہلے ہی حکم کے پابند اور فرمانبردار ہیں اور جو حکم تو نے ہم کو دیا ہے اس کے بالکل پابند ہیں۔ دراصل یہ بات انسانوں کی تفہیم کے لیے ایک طریق بیان ہے کہ وہ غور وفکر کریں کہ وہ بہت بڑی مہیب چیزیں ہیں جن کے وجود کا انسان تصور بھی نہیں کرسکتا لیکن اس کے باوجود وہ بےارادہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے تکوینی حکم کی پابند کہ جس کام کے لیے اس نے ان کو لگادیا اور جس بندھن میں اس نے ان کو باندھ دیا وہ بندھ گئے اور آج تک بندھے ہی چلے آرہے ہیں اور جب تک کوئی دوسرا حکم ان کو نہیں ہوتا ، بندھے ہی رہیں گے۔ ہمارے مفسرین نے جس طرح ان کو بیان کیا ہے وہ ایسا ہی ہے جیسا بچے ایک بات کو سنتے ہیں تو اپنی معصوم عقل وفکر کے ساتھ خود ہی اس کا تانا بانا جوڑتے رہتے ہیں اور اپنی عقل وفکر کے مطابق جو ابھی کامل نہیں ہوتی بڑا عجیب سا تخیل بنالیتے ہیں اور سارے بچے ایک ہی طرح کا تخیل نہیں بناتے ان کا تخیل آپس میں مختلف ہوتا ہے اور وہ آپس میں عجیب عجیب طرح کی بحث پیدا کردیتے ہیں پھر جب ان کی عقل کامل ہوتی ہے اور وہ زمانہ میں چلنے پھرنے اور بہت سی باتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اپنے بچپنے کی باتوں پر ہنس کر رہ جاتے ہیں اور یہ صورت اس وقت بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے جب وہ آنے والے بچوں کی آپس کی بحث کو سنتے ہیں۔ اس آیت کا اور اس جیسی دوسری آیتوں کا نتیجہ جو ہمارے مفسرین نے نکالا ہے وہ اس طرح ہے کہ ” اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس کائنات کی جن چیزوں کو ہم لایعقل سمجھتے ہیں۔ اور جمادات کے درجہ میں رکھتے ہیں وہ بھی اپنے رب کے حکموں کو سمجھنے ، اس کی باتوں کا جواب دینے ، اس کے اشارات کی تعمیل کرنے اور اس کے کی تحمید وتسبیح کے معاملہ میں پوری طرح عاقل ہیں چناچہ یہاں آسمان و زمین کی زبان سے جو قول نقل ہوا ہے اس میں بھی لفظ (طائعین) آیا ہے جو ذوی العقول اور ذی ارادہ چیزوں ہی کے لیے بولا جاتا ہے اگر ہم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے یا ان کو خطاب نہیں کرسکتے تو ان کی بنا پر ہم کو حق نہیں پہنچتا کہ ہم ان کو لایعقل خیال کریں بلکہ یہ محض ہمارے علم کی نارسائی ہے۔ “ ظاہر ہے کہ ان خیالات کو ایک مشاہدہ کرنے والا نوجوان جب سنے گا تو وہ کیا کہے گا اور کیا بیان کرے گا ؟ یہی کچھ جو آج کے نوجوان ، کالجوں کے تعلیم یافتہ سائنس کے طالب علم ملائیت کے بارے میں ہی نہیں بلکہ قرآن کے بارے میں کہتے ہیں اور ان کو یہ خیال نہیں رہتا کہ یہ بات تو ملاں صاحب کی ہے نہ کہ قرآن کریم کی لہٰذا وہ سیدھی راہ چلنے کے بجائے الٹا ہی چل نکلتے ہیں اور نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ یہ قرآن کریم نہ تو اللہ کی کتاب ہے اور نہ ہی اللہ نام کی کوئی شے موجود ہے۔ اس طرح وہ اس کفر کے مرتکب ہوتے ہیں اور ملائیت ان کو دہریہ اور نیچری کہہ کر اپنا غصہ نکالتی ہے اور اس طرح دونوں فریق اپنا غصہ نکال کر مطمئن ہوجاتے ہیں اور جب ضرورت پڑتی ہے تو ملائیت ان سے اپنا کام نکالتی ہے اور اس نے کبھی یہ خیال نہیں کیا کہ یہ تو دہریہ اور نیچری ہے میں اس سے یہ کام کیوں لوں گا اور یہی حال اس تعلیم یافتہ جاہل کا ہے جو اپنی رسوم کو ادا کرنے کے لیے ملائیت کی طرف دوڑتا ہے اور برادری میں ناک نیچی نہ ہوجانے کے ڈر سے وہ سارے کام اس سے نکالتا ہے جو ملائیت کے ذمہ معاشرہ نے لگادئیے ہیں۔ اس طرح دونوں ہی ایک دوسرے سے غصہ میں بھی رہتے ہیں اور دونوں ہی اپنی اپنی ضرورتوں کو بھی ایک دوسرے سے پورا کر رہے ہیں اور دین کی طرف سے دونوں ہی غافل ہیں کہ دین اسلام کیا چاہتا ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں ؟ اللہ ہم کو سمجھ کی توفیق دے اور ہم دین اسلام کی اصل حقیقت کو سمجھ جائیں اگر ایسا ہوجائے تو ہمارا سارا غصہ ختم ہو کر رہ جائے اور ہمارا معاشرہ بلاشبہ اسلامی معاشرہ ہوجائے ، اللہ کرے کہ ایسا ہو۔ حالانکہ حقیقت صرف یہ ہے کہ یہ ایک پیرا یہ بیان ہے جو انسان کو تفہیم کرانے کے لیے اختیار کیا گیا ہے تاکہ ہر انسان خواہ وہ کسی عقل وفکرکا مالک ہو ایک ہی طرح کا نتیجہ اس بیان سے اخذ کرسکے یہ گویا تفصیل ہے ان آیات کریمات کی جن میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ جب کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو بس اسے حکم دیتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتا ہے۔ زیر نظر آیت اور اس جیسی تمام آیتیں اس حکم الٰہی کی تعبیر ہیں تاکہ انسان اپنے عقل وفہم کے مطابق اس کو سمجھ سکے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنے کی توفیق دے اور ہم ایک دوسرے کے لیے فتویٰ کی تلاش میں نہ رہیں بلکہ اس کائنات پر غورکرکے اپنی آخرت کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس کائنات کی چیزوں سے استفادہ کرتے ہوئے آخرت کی تیاری کریں اور ملائیت اور دہریت کے فتوئوں سے باز آجائیں۔ اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے ، آمنا۔ اللہ تعالیٰ نے دو دنوں میں ساتوں آسمانوں کو پیدافرمادیا 12 ؎ یہ بات تو واضح ہوگئی کہ دنوں سے مراد یہ دن نہیں جن کو ہم اپنی زبان میں ایک دن بولتے ہیں بلکہ اس سے مراد وہ دور ہے جس دور کو قرآن کریم میں دوسری جگہ ایک ہزار سال یا پچاس ہزار سال سے ادا کیا ہے ان دو ادوار میں سات آسمان مکمل ہوگئے اور زمین و آسمان کا موجودہ تعلق قائم ہوگیا جو اس وقت تک قائم ہے اور تاوقت قیامت قائم رہے گا پھر جس طرح ہر انسان کے اندر طبعی طور پر نیکی اور بدی کی قوت ودیعت کی گئی ہے اسی طرح کائنات کی ہرچیز میں اس کی طبیعت کے مطابق اس کی صلاحیتیں ودیعت کی گئی ہیں اور بالکل اس طرح چونکہ آسمان بھی ایک آفاقی چیز ہے لہٰذا اس میں بھی اس کی طبیعت کے مطابق صلاحیتیں ودیعت کردیں اور انہی صلاحیتوں کو (واوخیکل سماء) سے تعبیر کیا گیا ہے چونکہ ان کی تعداد سات ہے اور ساتوں میں یقینا اختلاف طبیعت بھی لازم ہے اس لیے ہر ایک آسمان کی الگ الگ طبعی حالت کو ظاہر کرنے کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے گئے اس طرح گویا رب ذوالجلال والاکرام نے تین چار لفظوں میں وہ سب کچھ بیان کردیا جس کی وضاحت ہر دور میں کی جاتی رہی اور انسانوں کے سارے طبقات خواہ وہ طبقہ علماء ہے یا طبقہ سائنس دان یا طبقہ ہئیت دان سب کے سب اپنی اپنی سمجھ کے مطابق تفسیر وتشریح کرتے آرہے ہیں اور ان کی اس تفسیر وتشریح نے کیا کچھ کردیا ہے اور ابھی نہ معلوم کیا کچھ پوشیدہ ہے جس کو ظاہر کرنا ہے۔ ان ساتوں آسمانوں کے طبقات کا آپس میں کیا تعلق ہے اور زمین کے ساتھ ان کا جوڑ کس طرح لگایا گیا ہے۔ سورج کس آسمان پرے ، ہر دو آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ، ان کو سات کی تعداد میں کیوں رکھا گیا ہے۔ یہ سب طبقات اوپر نیچے ہیں یا ایک دوسرے کے برابر ہیں ، ان کو الگ الگ کرنے کے لیے درمیان میں کیا پردہ حائل ہے ، آیا وہ پردہ دیکھا گیا ہے یا ابھی تک انسانی نظر آلات کے ذریعہ بھی وہاں تک پہنچی ہے یا نہیں ، ان کو طبعی طور پر الگ الگ کیا گیا ہے یا ان کی تقسیم کی کیا صورت ہے ؟ یہ ساری باتیں انسانوں کے جاننے کی ہیں ، انسان نے اس میں سے کیا کچھ جانا ہے اور کیا کچھ جاننا ابھی باقی ہے ؟ کیا کچھ جان سکے گا اور کیا کچھ جاننا اس کے بس کی بات نہیں ہے ؟ یہ ساری تفصیل ان تین چار الفاظ میں بند ہے۔ جوں جوں انسان کھولتا جائے گا تو یہ کھلتی چلی جائے گی یہی وجہ ہے کہ ہم بار بار یہ بات عرض کرتے چلے آرہے ہیں کہ قرآن کریم اللہ رب کریم کی وہ کتاب ہے جس کی تفسیر ہر دور میں ہوتی آئی ہے ، ہورہی ہے اور ہوتی رہے کی لہٰذا کسی دور کی تفاسیر پر انحصار کرکے قرآن کریم کو نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ یہ (Word of God) ہے اور کائنات کے اندر جو کچھ ہے وہ (Word of God) ہے اور اور یہ بھی ظاہر ہے کہ تھیوری (Theory) کے ساتھ پریکٹیکل (Practical) لازم وضروری ہوتا ہے اور ابھی بہت کچھ ہے جو پریکٹیکل (Practical) ہونے والا ہے ابھی صرف Word ہی Word ہے اور صرف (Word) سے وہ تفہیم ممکن ہی نہیں جو (Practical) سے ممکن ہے۔ آج تک جو کچھ بیان ہوا اس کی تفصیل اس جگہ بیان نہی کی جاسکتی اور جو کچھ ابھی ہونا ہے اس کو کون جانتا ہے ؟ فرمایا ان سات آسمانوں میں سے ایک آسمان دنیا بھی ہے جس کو ہم نے مصابیح یعنی چراغوں سے آراستہ پیراستہ کردیا ہے اور ہر طرف سے اس کو محفوظ بھی کردیا ہے۔ محفوظ کرنے کا مفہوم کیا ہے ؟ اس کا مفہوم سمجھنے کے لیے (عزوۃ الوثقی) جلد چہارم میں سورة الرعد کی آیت 2 ، سورة الحجر کی آیت 17 ، 18 ، جلد ششم سورة الانبیاء کی آیت 30 ، سورة المومنون آیت 17 ، جلد 7 سورة یٰسین آیت 40 کا مطالعہ کریں اور یاد رکھیں کہ اس نظام کا چلانے والا وہی اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہے جو ایک زردست علیم ہستی ہے۔
Ayah 41:13

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

پھر اگر وہ روگردانی کریں تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم کو ایک خوفناک عذاب سے ڈراتا ہوں جس طرح کا خوفناک عذاب عاد وثمود پر آیا تھا

اعراض کرنے والوں کو آنے والے سخت وقت سے ڈرائو جو اچانک آجاتا ہے 13 ؎ اے پیغمبر اسلام ! جو لوگ آپ ﷺ کے پیش کردہ عقائد سے منہ موڑتے ہیں اور ان کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ان کو آپ ﷺ کہہ دیں کہ میں تم کو اس عذاب کے اچانک آپڑنے سے ڈراتا ہوں کہ کہیں تمہارے ساتھ وہی کچھ نہ ہو جو عاد قوم اور ثمود قوم کے ساتھ ہوا۔ رہی یہ بات کہ عاد قوم اور ثمود قوم کے ساتھ کیا ہوا ؟ تو اس کا ذکر عزوۃ الوثقی جلد چہارم میں سورة ہود کی آیت 50 سے آیت 68 تک وضاحت سے کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ہود (علیہ السلام) کی سرگزشت اور صالح (علیہ السلام) کی سرگزشت میں کیا گیا ہے اور ان دونوں نبیوں کی سرگزشتیں بھی سورة ہود میں درج کی گئی ہیں۔
Ayah 41:14

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جب ان کے پاس اللہ کے رسول ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے آئے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو (تو وہ) کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے بھیجتا (اور ہم ان کا کہنا مانتے) پس بلاشبہ ہم اس سے انکار کرتے ہیں جو تمہارا لایا ہوا (پیغام) ہے

ان قوموں کے پاس ان کی طرف بھیجے ہوئے رسول آئے لیکن انہوں نے ان کی ایک نہ مانی 14 ؎ عاد قوم کے رسول ہود (علیہ السلام) اور ثمود قوم کے رسول صالح (علیہ السلام) تھے لیکن اس جگہ (اذجاء تھم الرسل) کے الفاظ آئے ہیں اس سے کسی کو وہم نہ ہونا چاہیے کہ یہ خلاف واقع ہے۔ ہرگز نہیں یہاں ذکر قوموں کا ہے اور قوموں میں سے مثال کے طور پر ان دو قوموں کا ذکر کیا گیا ہے ورنہ مراد ساری اقوام عالم ہیں جس طرح قرآن کریم میں جب بھی اقوام عالم کا ذکر آتا ہے تو ان میں سے محض پانچ سات اقوام کا ذکر کیا جاتا ہے ساری اقوام عالم کا نہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ ان چند اقوام سے لوگ اور خصوصاً قریش واقف تھے اور باقی اقوام سے متعارف نہیں تھے اس طرح جب نبیوں اور رسولوں کا ذکر آتا ہے تو قرآن کریم ہم کو بتاتا ہے کہ اللہ رب کریم نے ہر قوم کی طرف کوئی نہ کوئی ہادی اور راہنما بھیجا ہے لیکن جب ان ہادیوں کا ذکر آتا ہے تو محض بیس ، چوبیس کا ذکر آتا ہے اور ان میں سے بھی بعض کے فقط نام آتے ہیں باقی حالات کا کچھ ذکر نہیں کیا جاتا اور قبل ازیں ہم یہ بھی بتاچکے ہیں کہ کسی نبی ورسول کی تکذیب لازم آتی ہے اس لحاظ سے بھی ارشاد خداوندی صادق آتا ہے پھر یہ بھی کہ قرآن کریم نے ( من بین ایدیھم ومن خلفھم) کے الفاظ اضافہ کرکے عاد قوم اور ثمود قوم کے اردگرد دوسرے علاقوں اور قوموں کو اور ان قوموں سے پہلے اور بعد میں آنے والوں کو شامل کردیا ہے اور ساتھ ہی ان کی تعلیم کی طرف بھی اشارہ کردیا ہے کیونکہ سارے نبیوں اور رسولوں کی تعلیم ایک ہی تھی اور ایک ہی طریقہ تفہیم تھا کہ ” اللہ رب کریم کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو “ اور جب رسولوں اور نبیوں کا طریقہ تعلیم اور فی نفسہ تعلیم ایک طرح کی تھی تو اس طرح ساری قوموں کا اپنے اپنے نبیوں اور رسولوں کو جواب بھی ایک ہی طرح کا تھا جیسا کہ زیر نظر آیت میں بھی کر کیا گیا ہے کہ ” قوموں کی طرف سے جو جواب دیا گیا وہ یہی تھا کہ ہمارا رب چاہتا تو فرشتے رسول بناکر بھیج دیتا تم ہمارے ہی جیسے انسان کیسے رسول بن کر آگئے ؟ اگر تم کو اللہ رسول بناسکتا تھا تو آخرہم کو کیوں نہیں بناسکتا تھا ؟ یہی وجہ ہے کہ ہم تو تمہارے رسول بناکر بھیجے جانے سے کھلا انکار کرتے ہیں اور تمہاری اس بات کو ہرگز نہیں تسلیم کرتے پھر کسی قوم نے اپنے رسول کو مجنون قرار دیا اور کسی نے اپنے جیسا بشر کہہ کر جھٹلایا اور کسی نے کہا کہ جب اللہ نے تم کو رسول بنادیا تو ہم کو رسول آخرکیوں نہ بنایا اور اس طرح کی کٹ بجتیاں کیں جن کا کوئی سر پر نہیں تھا اور اللہ رب کریم نے بھی ہر قوم کو ان کے سوال کے مطابق جواب دیا جیسا کہ آپ پیچھے پڑھتے چلے آرہے ہیں۔
Ayah 41:15

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

پس جو عاد کے لوگ تھے وہ ملک میں ناحق غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے زیادہ زور آور کون ہے ، کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ بلاشبہ وہ اللہ جس نے ان کو بنایا وہ قوت میں ان سے کہیں زیادہ ہے اور وہ ہماری آیتوں سے انکار ہی کرتے رہے

عاد قوم کے لوگوں نے تکبر کیا اور اپنی قوت کا ناجائز مظاہرہ کیا 15 ؎ گزشتہ آیتوں میں قوم عاد اور قوم ثمود کا ذکر تھا اگرچہ مراد ساری ہی اقوام سے تھی پھر زیر نظر آیت میں عاد قوم کا مخصوص ذکر کیا جارہا ہے کہ عاد قوم نے زمین میں بغیر حق تکبر کرنا شروع کیا اور ان کے اس تکبر کا ذکر عزوۃ الوثقی جلد ششم کی سورة الشعراء میں تفصیل سے کیا جاچکا ہے جس کا اختصار یہ ہے کہ ایک تو قوم عاد متکبرانہ انداز میں عمارتیں بنایا کرتے تھے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے بہت بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرتے تھے جو بلندی میں فلک بوس ہوتی تھیں حالانکہ ان کو ان عمارات کی کوئی ضرورت نہ ہوتی تھی صرف نام آوری کے لیے انہوں نے یہ مشغلہ اختیار کیا تھا تاکہ ان عمارتوں کے باعث ہمارا نام زندہ رہے ، دوسرا ان کی یہ عادت تھی کہ جس فرد وقوم پر وہ ٹوٹ پڑتے تھے اور ایک بار کوئی پرخاش شروع ہوجاتی تھی تو اس کو چھوڑنے کا نام نہیں لیتے تھے ، تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مال و دولت اور اولاد کی دولت سے مالامال کیا تھا لیکن وہ اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے انہی چیزوں پر فخر کرتے اور اتراتے تھے اور اپنے چشموں اور باغوں پر ان کو خاص کر بہت فخر تھا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہود (علیہ السلام) کی دعوت کو انہوں نے ٹھکرادیا اور برملا کہا کہ اے ہود ! تیری ان نصیحتوں اور وعظوں کا ہم پر مطلق اثر نہیں ہے تو ہم کو تبلیغ کرے یا نہ کرے ہم تیری بات کو قطعاً ماننے والے نہیں اور یہ بات بھی انہوں نے رسماً کہہ دی تھی کہ تو ہم کو تبلیغ کرے یا نہ کرے حالانکہ ان کو آپ کا تبلیغ کرنا بالکل برداشت نہیں تھا اور پورا زور دے کر انہوں نے کہا کہ جاجس عذاب تو ہم کو ڈراوادیتا ہے اس کو جلد ہم پر لے آ اگر تو سچا ہے تو ذرا بھی دیر نہ کر۔ زیر نظر آیت میں بھی انہی باتوں کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے کہا ” کون ہے جو ہم سے زیادہ طاقت وقوت رکھتا ہے “ لیکن یہ بات کہتے وقت ان کو ذرا خیال نہ آیا کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں کیونکہ اگر ان کو اس بات کا خیال آتا تو وہ سمجھتے کہ ہم کو پیدا کرنے والا تو ہم سے زیادہ طاقت وقوت رکھتا ہے وہ اپنے رب کو یاد رکھتے لیکن انہوں نے اس کو بھی بھلادیا اور دنیا کا وہ مال و دولت اور اولاد جو ان کو اللہ نے عطا کیا تھا اس پر اس قدر اتراتے کہ اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کا شکر بجا لانے کی بجائے اللہ کی آیتوں کا ہی انکار کرنا شروع کردیا اور ہم چوماودیگرے نیست کا نعرہ بلند کردیا۔
Ayah 41:16

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

پھر ہم نے ایک زور کی آندھی (ان پر) نحوست کے دنوں میں بھیجی (کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے) تاکہ ہم انہیں دنیا میں رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھائیں اور آخرت کا عذاب اس سے کہیں زیادہ رسوا کن ہوگا اور ان کی مدد بھی نہ کی جائے گی

ان کا انجام یہ ہوا کہ ہم نے ایک بار صر صر چلای اور ان کا کام تمام کردیا 16 ؎ عاد قوم کے لوگ جو ناحق استکبار میں مبتلا تھے اور تکبرہی کے باعث وہ ہم چومادیگرے نیست کی ڈینگیں مارتے تھے اور ہود (علیہ السلام) کے سمجھانے کے باوجود وہ کسی بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہ تھے اور بار بار یہ مطالبہ کرتے تھے کہ آپ اگر اپنے بیان میں سچے ہیں تو وہ عذاب لے کیوں نہیں آتے جس کا ہم کو باربار وعدہ دیتے ہیں اور اپنی طاقت وقوت کا ناجائز مظاہرہ ان کا مشغلہ بن کر رہ گیا تھا اور یہ سلسلہ ایک مدت تک جاری رہا تا آنکہ وہ وقت آہی گیا جس کے آنے کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ جب وہ وعدہ کا دن آیا تو اللہ کے رسول ہود (علیہ السلام) نے ان کا آخری وارننگ دی اور خود اللہ رب کریم کے حکم کے مطابق وہاں سے ہجرت کرگئے۔ سردیوں کا موسم تھا کہ وعدہ کی رات کو اللہ نے نہایت ٹھنڈی ہوا چلائی اور وہ جوں جوں چلتی گئی تیز سے تیز ہوتی گئی اور اسی طرح مسلسل چلتی رہی کہ برابرسات رات اور آٹھ دن تک چلتی گئی اور ظاہر ہے کہ اس عذاب کے باعث یہ آٹھ دن ان کے لیے نہایت نحس ثابت ہوئے کیونکہ ان دنوں کے اندراندر ان کا نام و نشان مٹ کر رہ گیا یہ طوفانی ہوا یا آندھی جب رکی تو اس پوری قوم کی قوم کا تہس نہس ہوچکا تھا اور ان کا ایک فرد بھی زندہ نہ رہا تھا سوائے ان لوگوں کے جو ہود (علیہ السلام) کے ساتھ اس علاقہ سے نکل گئے تھے۔ قرآن کریم نے سورة الذاریات میں اور سورة الحاقہ میں ان کی تباہی کا مختصرحال ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس آندھی کے زور سے وہ ایک دوسرے کا پتہ بھی نہ لے سکے اور لوگ اس طرح گرگر کر مرگئے اور مرکر گر پڑے جیسے کھجور کے درخت کاٹ کاٹ کر گرائے جاتے ہیں یا کٹ کٹ کر گرتے ہیں اور تعجب پر تعجب یہ ہے کہ جس وقت یہ ہوا اور بادل آرہے تھے تو یہ لوگ خوشیاں منا رہے تھے کہ یہ گھٹا خوب سیاہ ہوکرچلی آرہی ہے اور پھر ہم پر وافر بارش برسائے گی اور سوکھے باغات ہرے ہوجائیں گے کیونکہ ہود (علیہ السلام) کی بات پر ان کو بالکل یقین نہ آتا تھا اور جب یہ مسلسل چل پڑی اور اس زور سے چلی کہ ان کے اس علاقے کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا اس طرح وہ اس دنیا میں بھی رسوائی سے دوچار ہوئے اور آخرت بھی ان کی برباد ہوگئی اور قیامت کے روز کوئی شخص بھی ان کا مددگار نہیں ہوگا جوان کا عذاب دوزخ سے نجات دلائے یا کم ازکم تخفیف الواقع کبھی دن بھی منحوس ہوتے ہیں ہرگز نہیں بلکہ ایک ہی دن بعض کے لیے نحس اور بعض کے لیے سعد ثابت ہوتا ہے اگر کوئی دن منحوس ہوتا تو وہ کسی کے لیے سعد نہ ہوتا حقیقت اس کی صرف یہ ہے کہ وہ دن جو قوم عاد کے لیے نحس ثابت ہوئے اور یہ وہی بات ہے جس کا ذکر ہم پیچھے کر آئے ہیں کہ زمین گھومتی ہے اور سورج ایک جگہ اپنے محور پر قائم ہے لیکن اس کے باوجودانسانی مشاہدہ کے باعث سورج ہی کے طلوع و غروب کا ذکر کیا جاتا ہے اور یہی خواہص و عوام میں معروف ہے اور اسی عرف عام کے باعث یہ لفظ بولا جاتا ہے یہی صورت ان دنوں کے نحس ہونے کی بھی ہے حالانکہ حقیقت میں وہ آدمی جس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کوئی قوم جو کسی عذاب کی زد میں آتی ہے وہ خود اپنی حالت کے باعث نحس ہوتی ہے اور بعض مفسرین نے (ایام نحسات) سے مراد نہایت سردی کے دن بھی لیے ہیں اور یہ بات اپنی جگہ حق ہے کہ وہ دن بلاشبہ ان کی بدقسمتی کے دن تھے جن دنوں میں وہ سسرے سسری کی طرح سوگئے اور کوئی ایک دوسرے کے لیے پرسان حال بھی نہ ہوا کہ کوئی مرنے اور گرنے کی خبر ہی لے لیتا۔
Ayah 41:17

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

اور جو ثمود تھے ہم نے ان کو ہدایت کی لیکن انہوں نے ہدایت کے مقابلہ میں اندھا رہنا پسند کیا ، پھر ان کے اعمال کی پاداش میں (ایک) ذلت کے عذاب نے انہیں ایک ہولناک آواز کی صورت میں آلیا

رہی قوم ثمود تو ان کو بھی ہم نے ہدایت دی لیکن انہوں نے اندھے پن کو محبوب سمجھا 17 ؎ ثمود قوم کی طرف صالح (علیہ السلام) کو رسول بناکر بھیجا گیا تھا۔ صالح (علیہ السلام) نے ان کو ہدایت کی طرف بلایا لیکن عاد کی طرح انہوں نے بھی صالح (علیہ السلام) کی ایک نہ سنی اور ایک لمبی مدت تک وہ مخالفت کرتے رہے اور قوم کے وڈیروں نے صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ اے صالح ہم تو آپ پر بہت امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ یہ لڑکا ہوگا تو کبھی نام آور ہوگا اور ہمارے علاقے ، بستی اور خاندان کا نام روشن کرے گا لیکن آپ کو نہ معلوم کیا ہوا کہ آپ بڑے ہو کر ہم سب کے باپ دادوں کا دین و مذہب ہی چھڑوانے لگے اور منع کرنے لگے کہ جو کچھ تمہارے آبائو و اجداد آج تک کرتے آئے ہیں سب غلط ہی تھا کیا یہ باپ دادا کا نام روشن کرنا ہے یا اپنے بزرگوں اور قوم کے برسر آور وہ لوگوں کے سر پر پانی ڈالنا ہے یہ عجیب قسم کی دعوت تو ہم کو دینے لگا ہے۔ حالانکہ صالح (علیہ السلام) نے جو دعوت پیش کی تھی اس میں نہایت ہی پیارے اور سلجھے ہوئے انداز کے الفاظاستعمال کے اور توحید الٰہی کی دعوت پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ” اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ اور معبود نہیں ، وہی ہے جس نے تم کو اس زمین سے پیدا کیا ہے اور اس جگہ تم کو بسایا ہے لہٰذا تم اس سے اپنے کیے کی معافی چاہو اور اسی کی طرف پلٹ آئو یقینا میرا رب قریب ہے اور وہ دعائوں کا سننے والا اور جواب دینے والا یعنی قبول کرنے والا ہے۔ “ غور کیجئے کہ ان باتوں میں کونسی بات ہے جو کسی شخص کو دکھ دینے والی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ لوگ اللہ کو اپنے راجوں ، مہاراجوں اور بادشاہوں ، شہنشاہوں پر قیاس کرتے تھے جو رعیت سے بہت دور اپنے محلوں میں داد عیش دیا کرتے ہیں جن کے دربار تک عام رعایا میں سے کسی کی رسائی نہیں ہوسکتی جن کی خدمت میں کوئی درخواست پہنچای ہو تو مقربین بارگاہ میں سے کسی کا دامن تھامنا پڑتا ہے اور پھر اگر خوش قسمتی سے کسی کی درخواست ان کے آستانہ بلند پر پہنچ بھی جاتی ہے تو ان کا پندار نا خدائی یہ گوارا نہیں کرتا کہ خود اس کا جواب دیں بلکہ جواب دینے کا کام مقربین ہی میں سے کسی کے سپرد کیا جاتا ہے اس غلط گمان کی وجہ سے یہ لوگ ایسا سمجھتے ہیں اور ہوشیار لوگوں نے ان کو ایساسمجھانے کی کوشش بھی کی ہے کہ خداوند عالم کا آستانہ اقدس عام انسانوں کی دسترس سے بہت دور ہے اس کے دربار تک بھلا کسی ہماں شماں کی پہنچ کیسے ہوسکتی ہے وہاں تک دعائوں اور درخواستوں کا پہنچانا اور پھر ان کا جواب ملنا تو کسی طرح ممکن ہی نہیں ہوسکتا جب تک کہ پاک لوگوں ، بزرگوں اور روحوں کا وسیلہ نہ ڈھونڈا جائے اور ان مذہبی پردہتوں اور منصب داروں کی خدمات حاصل نہ کی جائیں جو اوپر تک نذریں ، نیازیں اور عرضیاں پہنچانے کے ڈھب جانتے ہیں یہی وہ غلط فہمی ہے جو ہر دور کے مشرکوں کو لگتی ہے اور جس نے بندے اور رب کے درمیان بہت سے چھوٹے بڑے معبودوں اور سفارشیوں کا ایک جم غفیر کھڑا کردیا ہے اور اس کے ساتھ مہنت گری اور پروہت ہونے کا وہ نظام پیدا کیا جس کے توسط کے بغیر جاہل مذاہب کے پیروپیدائش سے لے کر موت تک اپنی کوئی مذہبی رسم بھی انجام نہیں دے سکتے لیکن صالح (علیہ السلام) نے اس سارے طلسم کو دو لفظوں میں رو کردیا کہ اللہ قریب ہے اور عجیب ہے اور ظاہر ہے کہ اس نظریہ کا شاق گزرنا لازم تھا۔ صالح (علیہ السلام) کی قوم کے لوگوں نے اسی طرح اندھا رہنے کو ہدایت پر ترجیح دی اور صالح (علیہ السلام) کی مخالفت شروع کردی اور جوں جوں وقت گزرتا گیا مخالفت بھی تیز سے تیز تر ہوتی گئی یہاں تک کہ قوم عاد کی طرح ان کو بھی عذاب الٰہی نے آلیا جس کا اصل باعث ان کا اپنا کسب وکمائی ہی تھی۔ ان لوگوں پر جو عذاب آیا اس کو قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ (انا ارسلنا علیہم صیحۃ واحدۃ فکانو کھشیم المحنظر) (القمر 54 : 31) ہم نے ان پر ایک سخت آواز مسلط کردی پس وہ باڑ لگانے والے کی روندی ہوئی باڑ کی طرح چورا چورا ہو کر رہ گئے۔ اور ظاہر ہے کہ مراد اس سے تہس نہس ہونا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عاد قوم اور ثمود قوم دونوں کے عذاب کی نوعیت تقریباً ایک ہی جسیک تھی۔
Ayah 41:18

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے بچا لیا

عذاب الٰہی سے نجات صرف ان لوگوں کے حصہ میں آئی جو پرہیز گار تھے 18 ؎ اور ظاہر ہے کہ جن لوگوں کو پرہیز گار اور نیک لوگ کہا گیا یہ وہی تھے جو صالح (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت کرگئے تھے اور اس علاقہ کو چھوڑ گئے تھے گویا انہوں نے اپنے ہر معاملہ میں صالح (علیہ السلام) کی پیروی کی اور ان کی ہدایت کے مطابق عمل کیا یہاں تک کہ جب ان کو علاقہ چھوڑ دینے کا حکم دیا تو اس وقت بھی ان کو علاقے اور اپنے عزیزواقارب کی صحبت روک نہ سکی۔ یہی ان کے پرہیز گار ہونے کی بظاہر نشانی تھی اور اس عذاب سے وہی عذاب مراد ہے جس عذاب الٰہی نے ان کو ہلاک کیا اور ان کے پورے علاقے کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ قوم ثمود کے حالات دیکھنے ہوں تو (عزوۃ الوثقی) کے مندرجہ ذیل مقامات کا مطالعہ کریں جلد سوم سورة الاعراف کی آیت 73 ، 74 ، جلد چہارم سورة ہود کی آیت 61 تا 68 ، جلد پنجم سورة الحجر آیت 83 ، 84 ، جلد ششم سورة المومنون آیت 34 ، 43 ، سورة الشعرا آیت 141 تا 156 ، جلد 7 سورة العنکبوت آیت 38۔
Ayah 41:19

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

اور جس روز اللہ کے دشمن دوزخ کی جانب جمع کیے جائیں گے پھر وہ (مختلف گروہوں میں) تقسیم کیے جائیں گے

وہ دن کہ اس طرح کے سارے اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف چائے جائیں گے 19 ؎ مطلب یہ ہے کہ قوم عاد کے کافر ہوں یا قوم ثمود کے یا دوسری اقوام سے تعلق رکھنے والے یہاں تک کہ نبی اعظم وآخر ﷺ سے عداوت اور مخالفت رکھنے والے سب کو ایک روز دوزخ کی طرف گھیر کر لایا جائے گا وہ جہاں بھی ہیں جیسے بھی ہیں اور جو کچھ بھی ہیں اور ان میں سے کسی زور آور سے زور آور کو یہ جرات نہیں ہوگی کہ وہ دوزخ کی طرف چلائے جانے سے انکار کرے اور سر پھیرے کیونکہ اس وقت ان سب کا سارا تکبر ہوا ہوچکا ہوگا اور ان غباروں سے ہوا خارج ہوچکی ہوگی اور یہ ظاہر ہے کہ ان کو دوزخ کی طرف لایا جائے گا تو پہلے عدالت الٰہی سے پیشی بھگت کر ہی ان کو آنا ہوگا۔
Ayah 41:20

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ اس (دوزخ) کے پاس پہنچیں گے تو ان کے کان ، ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے اعمال کی (بزبان حال) گواہی دیں گی

وہ دن ایسا ہوگا کہ ان کے اپنے سارے اعضاء ان پر گواہی دیں گے اور اس وقت اعضاء کی گواہی کو سمجھنا کوئی مشکل امر نہیں ہے جب تک اعضاء کی گواہی ابھی مشاہدہ میں نہ آئی تھی اس وقت تک اس کی تفسیر مفسرین نے کی جو کی اور اپنی تفہیمات سے وہ کہتے رہے جو کہتے رہے لن کی اس وقت یہ مشاہدہ میں آچکی ہے کہ عمران خان ہٹ لگا رہے ہوں ، علامہ صاحب تقریر کر رہے ہوں ، چور نقب زنی کررہا ہو ، ڈاکو ڈاکہ کے لیے کسی گھر یا کارخانہ وبنک میں گھس رہے ہوں اور ایک کاشتکار اپنے کھیت یا کھلیان میں کام کاج میں مصروف ہو اور اسی حالت میں اس کو دکھایا جاسکتا ہے تو اس وقت جو وہ کررہا ہوتا ہے وہ اس کے ہاتھ اور پائوں اور جلد وبشرہ تک دکھائی نہیں دے رہے ہوتے ؟ یقینا دے رہے ہوتے ہیں تو کیا اس سے وہ فعل کرنے والا انکار کرسکتا ہے کہ یہ میں نہیں ہوں اس لیے ہم نے کہا کہ اس وقت ہاتھ پائوں کی گواہی مشاہدہ میں آچکی ہے اور جس طرح یہ سب کچھ مشاہدہ میں ہے بالکل اسی طرح اس دن اعضاء اور جلدوں کی گواہی ہوگی اور خود ان کی آنکھیں دیکھیں گی کہ یہ سب کچھ ہم خود ہی کر رہے ہیں اور اس سے وہ یقیناً انکار نہیں کرسکیں گے اور یہ اسی صورت میں ہوگا جب وہ بظاہرعام پوچھ گچھ میں انکار کرچکے ہوں گے۔ اس لیے ان کے اپنے اعضاء وجوارح کی گواہی ان پر دلادی جائے گی اور ان کی جلدیں بول بول کر ان پر گواہی دیں گی۔ جس کو وہ کبھی بھی جھٹلا نہیں سکیں گے۔