41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 41:21

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

اور وہ اپنی کھالوں (چمڑوں) سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی وہ کہیں گی ہم کو اس اللہ نے گویائی دی جس نے ہرچیز کو گویا کیا ہے اور اس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے

وہ سٹپٹا اٹھیں گے اور اپنی جلدوں سے کہیں گے کہ تم ہم پر کیوں گواہی دیتی ہو ؟ 21 ؎ اعضاء وجوارح کے ساتھ جلدوں یعنی چمڑوں کا ذکر اس لیے کیا جارہا ہے تاکہ معاندین و مخالفین کو معلوم ہوجائے کہ وہاں جب انسان کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا تو یہ نہیں کہ صرف ان میں روحیں وہی ہوں گے جو ان کی تھیں بلکہ ان کی جسمانی ہئیت اور رنگ ڈھنگ بھی بالکل ویسا ہی ہوگا جیسا کہ اس جرم کے کرنے کے وقت وہ تھا اور اس کا یہ پورا نقشہ اسی وقت سے محفوظ چلا آرہا ہے جب اس نے یہ گناہ اور یہ جرم کیا تھا مثلاً 22/ مارچ 1940 ء کو اقبال پارک لاہور جس کا اس وقت منٹو پارک نام تھا میں قائداعظم ایک جلسہ کی صدارت کے لیے صدارت کی کرسی پر تشریف فرما تھے اور صدارتی خطاب میں کچھ فرما رہے تھے اگر کسی معاملہ میں ضرورت پیش آگئی تو ان کی وہی تصویر اور وہی جلسہ گاہ کا پورا نقشہ ان کے سامنے پیش کردیا جائے گا جس کو وہ خود اور باقی سارے شرکاء محشردیکھیں گے اور اس وقت ان کو وہ شکل و صورت جو میدان حشر میں ہوگی وہ بھی اسی طرح اس سے ملتی ہوئی نظر آئے گی اور اس 22/مارچ 1940 ء والے جناح اور اس روز حشر والے جناح میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ اور یہی حال سارے انسانوں کا ہوگا اور یہی وہ کھال اور جلد در کی گواہی ہے جس کا ذکر اس جگہ کیا گیا ہے۔ رہی یہ بات کہ صاحب جلد وچمڑا یہ کہے گا کہ تو مجھ پر کیوں گواہی دیتی ہے تو یہ اس تعجب کا بیان ہے جو اس صورت حال کو دیکھ کر ان کا ہوگا اور یہ بیان اس وقت کی زبان حال کا ہے اور اس طرح زبان حال سے وہ ان کو جواب دے گی کہ اس میں ہمارا کیا قصور ہے جو تم ہم کو گھور کر دیکھ رہے ہو یہ تو اس ذات رب کریم کا معاملہ ہے جس نے ہر ایک چیز کو زبان دے رکھی ہے اور وہ جب چاہتا ہے اس کو گواہی کے لیے پیش کردیتا ہے ورنہ ہم تو تمہاری ہی جلدیں اور تمہارے ہی اعضاء ہیں جو تم سے کوئی الگ چیز نہیں ہیں اور جو عذاب تم کو ہوگا اس میں ہم بھی برابر کی شریک ہوں گی کیونکہ ہمارا آپ سے الگ تو کوئی وجود ہی نہیں ہے اور اس سارے ڈھانچے کا نام ” تو “ اور ” میں “ ہے کیونکہ جب تم پہلی بار پیدا کیے گئے تھے تو ہم تمہارے ساتھ ہی تھیں اور جب تم یہ کارستانیاں کرتے رہے تو ہم تمہارے ساتھ تھیں لہٰذا اس وقت جب تم کو عذاب میں مبتلا کیا جارہا ہے تو بی ہم تمہارے ساتھ ہیں اور جس طرح تم رب ذوالجلا والاکرام کی طرف لوٹائے جا رہے تھے ہم بھی تمہارے ساتھ ہی لوٹادی گئی تھیں اور جب تم کو یہاں حاضر کرلیا گیا ہم تم سے کیونکر الگ رہ سکتی تھیں ہم وہ جلدیں تو نہیں جن کو تم نے اوپر سے پہن رکھا تھا اور جن کو تم اپنی مرضی سے بدل لیا کرتے تھے بلکہ ہم تو وہ جلدیں ہیں جو ہر حال میں تمہارے ساتھ رہی ہیں اور اس وقت بھی تمہارے ساتھ ہیں۔ اس سے واضح اور روشن ہے کہ جس طرح دنیا میں اجسام ہیں میدان حشر اور حساب کتاب کے وقت اور جنت اور دوزخ میں بعینہ وہی اجسام ہوں گے جو اس دنیا میں تھے اور ان میں کوئی فرق نہیں ہوگا اور برزخ کی زندگی اور موت کے بعد دو بار جی اٹھنے کے دورانیہ میں حالات بالکل اس سے مختلف ہوں گے اور اس دورانیہ میں اجسام ساتھ نہیں ہوں گے کیونکہ وہ اجسام جو دنیا میں تھے وہ توفنافی الارض ہوگئے اور نئے اجسام جو اس غرض سے ہوں گے وہ ابھی دوبارہ پیدا نہیں ہوئے ہوں گے اور چونکہ اس دورانیہ میں جور جس کو اسلام کی زبان میں روح سے تعبیر کیا گیا ہے یقینا موجود ہوگا اس کی تفہیم کے لیے خواہ کس طرح کی مماثلت دے کر بیان کیا جائے کیونکہ مماثلت محض تفہیم ہی کے لیے ہوتی ہے گزشتہ علمائے اسلام نے اس کو نیند سے تشبیہہ یا مماثلت دی ہے اگر کسی صاحب کو یہ شاق گزرتی ہے تو وہ جس سے چاہے مماثلت دے لے لیکن محض انکار کرنے سے احادیث کا انکار لازم آتا ہے جو کسی حال میں بھی صحیح نہیں کیونکہ حدیث کا انکار اسلامی عقائد کا کھلا انکار ہے جس سے اسلام کا پورا نقشہ ہی بدل کر رہ جائے گا اس طرح قرآن کریم کے بہت سے بیانات سے بھی انکار لازم آئے گا جو ایک واضح اور بین کفر ہے کیونکہ رسول کی حیثیت قرآنی تھیوری (Theory) کار پریکٹیکل (Practical) پیش کرنے والے کی ہے اور ظاہر ہے کہ تھیوری اور پریکٹیکل لازم وملزوم ہیں اور ایک کا انکار دوسرے کا انکار ہے اور اس طرح پریکٹیکل کا غلط ہونا پریکٹیکل کرنے والے کا غلط ہونا ہے اور جب پریکٹیکل کرنے والا اور رسول دونوں ایک ہی ہیں تو گویا اس طرح رسول کا غلط ہونا ثابت ہوگیا جو بروئے قرآن کریم کفر ہے پھر آپ ہی غور کریں کہ جس اسلام اور کفر کا نتیجہ یکساں نکل رہا ہو اس اسلام یا اس کفر کو کفر کی سے قرار دیا جاسکتا ہے ؟ دراصل یہ مسئلہ اس اصل سے تعلق رکھتا ہے کہ اسلام میں رسول کی حیثیت کیا ہے اور یہ کہ رسالت اور کتاب اللہ کا تعلق کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ ضمنی بحث کو جب اصل سے الگ کردیاجائے تو اس وقت سوائے جھگڑے کے کچھ بھی باقی نہیں رہتا اس بحث کو کرنے والے خواہ کتنے ہی ذہین وفطین اور کتنے ہی متقی و پرہیز گار کیوں نہ ہوں۔ اسی طرح احادیث کی اقسام کی بحث ہے جس کا آج تک نہ کوئی حل نکلا اور نہ ہی قیامت تک نکل سکتا ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں اصولوں پر نظر نہیں رکھی جاتی اور فروعات پر ساری لڑائی لڑی جاتی ہے۔ آپ غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ ہم نے محض اس وجہ سے کبھی اس موضوع کو چھیڑا تک نہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس بحث کی بنا پر جتنے گروہ اور پارٹیاں تشکیل پاچکی ہیں ہم سب کو ایک ہی نظر طے دیکھتے ہیں اور اخذ کرنے کی چیز ہم ہر ایک سے اخذ کرلیتے ہیں اس طرح چھوڑنے کی چیز کو ہم ہر حال میں چھوڑ دیتے ہیں لیکن احادیث کے معاملہ میں ہمارا رویہ بالکل اس سے مختلف ہے کیونکہ احادیث کو ہم وہی حیثیت دیتے ہیں جو حیثیت رسول کی ہے جب بھی یقین ہوجائے کہ یہ حدیث رسول کی ہے تو ہمارا اس کے سامنے سر تسلیم خم ہوجاتا ہے یعنی اس سے انکار ہم کفر کے مرادف سمجھتے ہیں اور کسی کفر کو ہم اسلام اور کسی اسلام کو ہم کفر نہیں کہہ سکتے اس لیے کہ ان دونوں کا نتیجہ کبھی یکساں نہیں ہوسکتا۔ ہمارے مذہبی اور سیاسی گروہوں کی حالت یہ ہے کہ وہ سب مل کر ایک ہی کنوئیں سے پانی نکالتے ہیں حالانکہ ہمارے مذہبی گروہ اس کو ناپاک اور سیاسی گروہ پاک سمجھتے ہیں اس ناپاک کنوئیں سے پانی نکال کر سب آپس میں لڑ رہے ہیں ، جھگڑ رہے ہیں اور ہر ایک اپنے نکالے ہوئے پانی کو پاک اور دوسروں کے نکالے ہوئے پانی کو ناپاک کہتا ہے اور دلیل میں وہ اپنے آدمی کو پیش کرتا ہے اور کہتا ہے دیکھ لو ہمارا پانی نکالنے والا بہت ہی متقی اور پرہیز گار ہے ، پانچ وقت کا نمازی اور اللہ اور اس کے رسول کا سچا فرمانبردار ہے اور دوسرا اپنے مقتدا کو پیش کرتے ہوئے اس کی دیانت وامانت اور اخلاق وکردار کو پیش کرتا ہے اور جو مبالغہ وہ اس میں کرسکتا ہے کرتا ہے ہم ان سے مطلق کوئی بحث نہیں کرتے اور برملا کہتے ہیں کہ چونکہ یہ سب ایک ہی کنویں سے پانی نکال رہے ہیں لہٰذا سب کا پانی ناپاک ہے اس لیے ہم اسے پینا تو درکنا ہاتھ بھی نہیں دھوسکتے لیکن ہمارے اس شور کو پاگل پن ، بیوقوفی ، ہٹ دھرمی ، تکبر ونخوت اور ہم چوما دیگرے نیست ، سراسر جاہل ، مرکب اور اسی طرح کے بہت سے خطابات سے نوازا جاتا ہے اور جس کے منہ میں جو آتا ہے وہ ہم کو کہہ دیتا ہے لیکن آج تک کسی مذہبی گروہ نے ہم کو یہ نہیں بتایا کہ صاحب جس کنویں کو آپ ناپاک کہہ رہے ہیں وہ تو کنواں بالکل پاک ہے اور آپ کو یہ غلطی لگی ہے اور جو سیاسی لوگ پہلے ہی اس کو پاک کہتے ہیں ان سے جب ہم پوچھتے ہیں کہ بھائی جب کنواں پاک ہے تو جو بھی اس سے پانی نکالتا ہے وہ بہرحال پاک ہے تم کیوں لڑتے ہو تو وہ ہم سے کہتے ہیں کہ ان صاحب کا وہ برتن ناپاک ہے جس سے یہ پانی نکال رہے ہیں اور جب ہم درخواست کرتے ہیں کہ کنویں میں اگر کوئی ناپاک چیز پڑجائے تو کیا وہ ناپاک نہیں ہوجاتا تو بعینہ اسی طرح کے فتوی وہ بھی ہم پر لگانا شروع کردیتے ہیں جب کہ ہم فی الواقع اس کنویں کو ناپاک سمجھتے ہیں اور سب کے نکالے ہوئے پانی کو ناپاک کہتے ہیں خواہ ہم کو کوئی کیا کہے اور جو اس کے دل میں آئے وہ کہہ لے ہم بہرحال اس کو کچھ بھی نہیں کہتے کیونکہ ہم کہہ سکنے کی پوزیشن ہی میں نہیں ہیں ! ! یہ کہ ناپاک کو ناپاک کہتے رہیں کوئی خواہ ہم کو کیا کہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ انسان کے سارے فیصلے اس دنیا میں نہیں ہوجاتے بلکہ بعض فیصلے آخرت کے لیے بھی باقی رہ جاتے ہیں اور ہم کو کہنا پڑتا ہے کہ چلو یہاں نہیں وہاں سہی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ کی توفیق دے۔ آمین بہرحال ان اعضاء وجوارح کی گواہی کے متعلق مزید کچھ دیکھنا چاہیں تو عروۃ الوثقی کی جلد پنجم میں سورة بنی اسرائیل کی آیات 49 تا 51 ، جلد ششم میں سورة المومنون کی آیت 35 تا 38 ، 82 ، 83 ، سورة النور کی آیت 24 ، سورة السجدہ کی آیت 10 ، جلد ہفتم میں سورة یٰسین کی آیت 65 ، 78 ، 79 ، الصافات کی آیت 16 تا 18 کا مطالعہ کریں انشاء اللہ بہت کچھ مل جائے گا۔
Ayah 41:22

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

اور تم (گناہ کرتے وقت اس بات سے) حجاب نہ کرتے تھے کہ تمہارے کان ، تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں تمہارے خلاف گواہی دیں گی ، بلکہ تم تو خیال کرتے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کام جو تم کرتے ہو جانتا ہی نہیں ہے (اب بھی یقین آیا ہے یا نہیں ؟ )

سوچ کر جواب دو کہ تم اللہ سے اپنے گناہوں کو کیسے چھپالو گے ؟ 22 ؎ اب مجرموں اور گناہگاروں سے پوچھا جارہا ہے کہ جب بات ایسی ہے جیسا کہ اوپر بیان کی گئی کہ تم پر تمہارے ہاتھ پائوں ، آنکھیں اور کان یہاں تک کہ تمہاری جلدوں تک کی گواہی دینے کو کھڑے کردئیے جائیں گے تو تم ان گناہوں اور جرموں کا کیسے انکار کرپائوگے حالانکہ تم تو دنیا میں اکثر یہی نظریہ رکھتے ہو کہ شاید تمہارے ان جرائم و گناہوں سے اللہ بھی واقف نہیں کیونکہ تم دھڑا دھڑ ان کو کیے چلے جا رہے ہو اور تمہیں کبھی خیال تک بھی نہیں آیا کہ کوئی ہم کو دیکھ رہا ہے۔ تعجب ہے تم پر کہ تم لوگوں سے تو پوچھتے ہو لیکن رب ذوالجلال والاکرام سے تم کو کوئی حجاب نہیں جو تمہارے دلوں کے رازوں تک سے واقف ہے۔
Ayah 41:23

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

اور تمہارے اس گمان سے جو تم اپنے پروردگار کے متعلق رکھتے تھے تم کو برباد کیا پس تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گئے

تمہارا یہی گمان جو اپنے رب سے رکھتے تھے تم کو لے ڈوبا 23 ؎ تعجب ہے تم پر کہ تم نے مخلوق سے تو کچھ نہ کچھ اپنے آپ کو چھپانے کی کوشش کی اگرچہ وہ بھی جھوٹ موٹ ہی کی تھی لیکن خالق کے ساتھ تم نے وہ گمان رکھا کہ وہ ہمارے کیے سے کچھ واقف ہی نہیں ہے اور اس گمان نے تم کو ہلاک کردیا اور تم خسارہ پانے والوں میں شامل ہوگئے یا تمہارا یہ گمان تھا کہ تمہارے بنائے ہوئے شریک اللہ تعالیٰ کے عذاب سے تم کو خسارہ پانے والوں میں شامل ہوگئے یا تمہارا یہ گمان تھا کہ تمہارے بنائے ہوئے شریک اللہ تعالیٰ کے عذاب سے تم کو چھڑالیں گے اور اب زعم میں تم وہ سب کچھ کرتے رہے جو کچھ تم کرکے یہاں پہنچ گئے اور اب تمہاری آنکھیں کھلیں کہ تمہارا سارا بنایا ہوا تصور حباب آب نکلا۔ خیال رہے کہ یہ بات بالکل صحیح اور درست ہے کہ ہر آدمی کا رویہ اپنے خالق ومالک کے ساتھ اس گمان کے لحاظ سے متعین ہوتا ہے جو وہ اپنے رب کے متعلق رکھتا ہے ، مومن صالح کا رویہ اس لیے درست ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کے بارے میں صحیح گمان رکھتا ہے اور کافر ، منافق اور مشرک و فاسق کا رویہ اس لیے غلط ہوتا ہے کہ اپنے رب کے بارے میں صحیح گمان رکھتا ہے اور یہی بات ہم کو ہمارے نبی کریم ﷺ نے بتائی ہے جیسا کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تمہارا رب کہتا ہے کہ (انا عند ظن عبدی بی) کہ میں اس گمان کے ساتھ ہوں جو میرا بندہ میرے ساتھ رکھتا ہے اور اس کی وضاحت سرسید (رح) نے خوب کی ہے اور بہت صحیح کی ہے اور نہایت ہی درد دل سے کی ہے۔ (خطبات احمدیہ)
Ayah 41:24

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

اب اگر وہ صبر کریں تو (کوئی بلا نہ ٹل جائے گی) دوزخ ہی ان کا ٹھکانا ہوگا اور اگر وہ عذر کریں گے تو کوئی منت (سماجت) قبول نہ ہو گی

آیت 24 تا 27 اب روئیں ، چیخیں یا صبر کریں دونوں حال ان کے لیے برابر ہوں گے 24 ؎ کفار کو کہا جارہا ہے کہ دنیا میں تم کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیجے لیکن تم نے ان کو ایک نہ سنی اور اپنی من مانیاں کرتے رہے اب جب تم کو تمہارے کاموں کے نتیجہ میں پکڑلیا گیا ہے تو اب تم روئویا چیخویا صبر کرکے خاموش ہوجائویہ تمہاری مرضی اس لیے کہ تمہارا ٹھکانا تو اب آگ ہی ہے اور اس آگ میں تم کو رہنا ہے اس وقت تم رو رو کر اور چیخیں مار مار کر بھی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو راضی کرنا چاہو تو اس کے راضی ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے کیونکہ اب وقت گزرچکا ہے اب تم چاہو جو بھی کرو اللہ کریم کبھی راضی ہونے کا نہیں ہے اس لیے تمہارا آہ وزاری کرنے اور معذرتیں پیش کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہے۔ ( یستعتبوا) جمع مذکر غائب مضارع مجزوم استعتاب سے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کو رضا مند کرنے کی استدعا کریں گے۔ (المعتبین) اسم مفعول جمع مذکر (المعتب) واحد (فماھم من المعتبین) پس وہ ان سے کبھی بھی راضی ہونے والا نہیں ہے۔
Ayah 41:25

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے لیے ایسے ہم نشین مقرر کردیئے تھے جو انہیں ان کے آگے اور ان کے پیچھے ہرچیز خوشنما کر کے دکھاتے تھے اور آج ان کے حق میں عذاب ثابت ہوگیا جیسا کہ ان سے پہلے جنوں اور انسانوں کے گروہوں کے حق میں ثابت ہوا تھا کیونکہ وہ سب کے سب زیاں کار تھے

ان کے لیے ایسے ساتھی تھے جوان کو نیکی کے قریب جانے نہیں دیتے تھے 25 ؎ اللہ تعالیٰ کے عذابوں میں سے ایک عذاب یہ بھی ہے کہ کسی قوم کو بڑے لیڈر اور بڑے رہنما مل جائیں جو ان کو سیدھی راہ سے روک کر بری راہ پر لگادیں اور بلاشبہ دنیا کے سارے عذابوں میں سے یہ برا عذاب ہے جس کا نتیجہ اس قوم کو دنیا میں بھی بھگتنا پڑتا ہے اور آخرت بھی ان کی برباد ہوجاتی ہے اگر قارئین برا نہ مانیں تو یہی حالت اس وقت مجموعی طور پر مسلمان قوم کی ہے اور خصوصاً اس ملک عزیز کی جس کو حاصل کرنے کے لیے اس ملک کے باسیوں نے بیشمار قربانیاں دیں۔ بہرحال اس جگہ سنت الٰہی کا ذکر کیا گیا ہے اور اہل مکہ کو بات سمجھائی جارہی ہے کیونکہ انہوں نے نبوت کو پرکھنے کے لیے یہود کو اپنا ساتھی مقرر کیا تھا اس لیے ان کو بات سمجھائی جارہی ہے کہ جن لوگوں کو ایسے مشیر میسر آئیں وہ ان کی آنکھیں بند کرکے الٹی راہ پر لگادیتے ہیں اور سیدھی راہ کی طرف جانے ہی نہیں دیتے یہاں تک کہ بڑوں بڑوں کے پائوں وہ نکال دیتے ہیں اس کی تفصیل پیچھے سورة الزخرف کی آیت 36 میں ہم نے بیان کردی ہے۔ فرمایا ان لوگوں کو شاید کبھی یہ خیال تو آتا ہو کہ وہ راہ راست سے بھٹک گئے ہیں کیونکہ جب وہ برسر اقتدارآنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے تو جو وعدے قوم سے کیے تھے ان کو اب وہ درخواعتناء ہی نہی سمجھتے اس لیے شاید انہیں شرمندگی اور ندامت بھی محسوس ہوتی ہو لیکن ان کے مصاحب جن کا کام ہی ہر وقت خوشامد کرنا اور ناخوب کو خوب بناکر پیش کرنا ہے وہ انہیں بداعمالیوں سے باز نہیں آنے دیتے۔ ان کے برے کاموں کو بھی ایسے دل کش پیرائے میں پیش کرتے ہیں کہ ان پر نیکیوں کا گمان ہونے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ برسر اقتدار آنے کے بعد وہ اپنے مخالفین کو گھیرے میں لانے کے لیے ہر طرح کے مظالم کرتے ہیں لیکن ان کے مشیر انہیں باور کراتے رہتے ہیں کہ جناب والا جو اقدام آپ نے کیے ہیں اس میں ملک وملت کا راز مضمر ہے اور یہ تعزیری قوانین جو آپ بڑی تگ ودو کے ساتھ بنا رہے ہیں ناگزیر ہیں اور جب تک یہ قانون نافذ نہ ہوگا حکومت صحیح چل نہیں سکے گی پھر جب ان ظالمانہ اور جابرانہ قوانین کے خلاف ملک کے گوشہ گوشہ سے صدائے احتجاج بلند ہوتی ہے تو احتجاج کرنے والوں پر دشمن کے ابجنٹ ہونے کا الزام لگادیا جاتا ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ خوشامدی ٹولہ اپنے ممدوح کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیتا ہے اور دوسری طرف رب ذوالجلال والا کرام کا وہ قانون مکافات جو ہر انسان کے اعمال کا احصاء کرتا چلا جارہا ہے اس کے نافذ ہونے کا وقت آجاتا ہے اور اس طرح اس پوری قوم کو قوم کا بیڑا پھنس کر رہ جاتا ہے اور اس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو گزشتہ قوم کے ایسے اعمال کا نکلتا آیا ہے خواہ وہ کتنے ہی عقلمند اور سمجھ رکھنے والے انسان ہوں اور خواہ وہ اپنے آپ کو کتنے ہی قوی ہیکل اور انتقام لینے والے لوگوں میں شمار کرتے ہوں لازم بہرحال ان کا خسارہ ہی ہوتا ہے جو ان کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے کیونکہ عمل کے ساتھ نتیجہ لازم کردیا گیا ہے اس لیے اگر کوئی نہایت اچھا اور سمجھدار غلط اور برا عمل کرتا ہے تو نتیجہ اس کو بھی معاف نہیں کرتا اور اگر کوئی بڑا اور ہیکڑ وہ کام کرتا ہے تو بھی اس کے نتیجہ سے دوچار ہوتا ہے اور آخر کار انجام سے وہ بھی نہیں بچ سکتا۔ اس وقت یہ بات مکہ والوں کو سمجھائی جارہی تھی اور جب وہ باز نہ آئے تو نتیجہ ان کو بھگتنا پڑا اور اس کے بعد قوم مسلم کی باری آئی تو وہ کتنی بار اس نتیجہ سے دوچار ہوچکی اور اس ہمارے دور میں اب وہ پھر اس نتیجہ کی زد میں ہے۔ اللہ تعالیٰ سے اپیل ہے کہ اللہ کوئی ایسا بندہ پیدا کردے جو مسلمانوں کی مجموعی حالت کو بہتر کرنے کی فکر کرے اور انشاء اللہ العزیز اس کو ایک دن ایسا ہونا ہے خواہ وہ تعمیر کسی بہت بڑی تباہی و بربادی کے بعد ہو اور خواہ ہمارے قدم اب ڈگمگاتے ہی سنبھل جائیں اور کوئی اللہ کا بندہ ان کو سنبھال لے بہرحال سنت اللہ یہی ہے کہ اعمال کا نتیجہ عمل کرنے والا دیکھے وہ قوم ہو یا وہ فرد ہو اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا چاہیے کہ اگر وہ قوم کا لیڈر ہے تو اس کو اچھے مشیر ملیں اور اگر وہ عام فرد ہے تو اچھے دوست جو اس کی صحیح راہنمائی کرکے اس کی دنیا اور آخرت دونوں کو سنواردیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم کو اپنی مان میں رکھتے ہوئے اچھے دوست عطا فرمائے اللہ ہماری دعا کو قبولیت بخشے۔ آمین
Ayah 41:26

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اور یہ کافر ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ اس قرآن کو سنا ہی نہ کرو اور (جب سنایا جائے تو) اس وقت شور مچایا کرو ، شاید اس طرح تم غالب رہو

کافروں کی مجلس شوریٰ کا فیصلہ کتاب اللہ کے خلاف ایک سازش 26 ؎ قرآن کریم کی زبان خالصتاً عربی تھی اس لیے قریش کے بچے ، جوان ، بوڑھے ، مرد اور عورتیں سب اس کو سمجھتے تھے پھر یہ بات بھی آپ پیچھے کئی ایک مقامات پر پڑھ آئے ہیں کہ کچھ لوگ ناخواندہ ہوتے ہیں لیکن جاہل نہیں ہوتے جس طرح بہت کچھ پڑھے لکھے بھی جاہل ہوتے ہیں۔ عربوں میں ناخواندگی ضرور تھی لیکن بہت سے ایسے بھی تھے جو جاہل نہیں تھے اگرچہ ناخواندہ تھے ایسے لوگوں پر قرآن کریم کے سنتے ہی اثر ہوجاتا اور اس اثر کے باعث اگر وہ حالات کی سنگینی کے باعث اگر ایمان کا اعلان نہ بھی کرتے تب بھی ان کے اندر ایمان گھرجاتا اس اثر کو روکنے کے لیے روسا مکہ کی مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوا اور اس میں فیصلہ ہوا کہ اپنے اوباش لڑکوں کو ، اپنے غلاموں کو اور اسی طرح دوسرے نوجوانوں کو خصوصی ہدایات جاری کریں کہ کسی جگہ محمد ﷺ یا آپ کے ساتھیوں میں سے کتاب اللہ کا کوئی حصہ پڑھے تو جو جو بھی اس مجلس میں ہو وہ سب مل کر خوب شور وغوغا کریں تاکہ کسی کے کان میں ان کی آواز نہ پڑے اس طرح گویا مکہ کے غنڈے اور اوباش قسم کے نوجوان تیار کیے گئے اور ان کا مشغلہ ہی یہ تھا کہ جہاں قرآن کریم کی آواز بلند ہوتی وہاں شوروغوغا شروع ہوگیا اور ان اوچھے ہتھیاروں سے انہوں نے اسلام اور مسلمانوں پر غالب آنے کی کوشش کی اور یہ بھی کہ صرف یہ ایک ہی اسکیم نہ تھی اس طرح کی کئی ایک اسکیمیں انہوں نے بنائیں۔ جس طرح اوپر ذکر کیا گیا کہ یہ سورة مکی ہے اور مکہ ہی میں یہ اسکیم بنائی گئی اور چونکہ کفار مکہ نے اس اسکیم کو خفیہ رکھا تھا اس وجہ سے اللہ رب کریم نے محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ذریعہ سے سارے اسلام لانے والوں تک ان کی اسکیم پہنچادی اور ان کو اچھی طرح چوکنا کردیا۔ کفار مکہ نے یہ اسکیم کیوں اور کیسے چلائی ؟ اس بات کا خیال ان کو یقینا اس باعث پیدا ہوا کہ قرآن کریم میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ جب تم کسی مجلس میں یا کسی مقام پر موجود ہو اور محمد رسول اللہ ﷺ یا آپ ﷺ کا کوئی ساتھی قرآن کریم کی کوئی آیت پڑھے تو تم اپنی گفتگو کو بالکل بند کردیا کرو اور اللہ تعالیٰ کی اس کتاب کی طرف توجہ کرلیا کرو اور اس کو غور سے سننے ، سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کیا کرو۔ چناچہ یہ ہدایت بھی مسلمانوں کو مکہ ہی میں کی گئ تھی جیسا کہ سورة الاعراف کی آیت 204 میں رب کریم کا ارشاد ہے کہ ( ” اے مسلمانو ! ) جب قرآن کریم پڑھا جائے تو جی لگا کر سنو اور چپ رہو تاکہ اللہ کی مہربانی کے مستحق ثابت ہو۔ “ یہ ہدایت جب کفار مکہ کے کان پڑی کہ محمد ﷺ نے اپنے ماننے والوں کو اس طرح کی ہدایت دی ہے چونکہ وہ کتاب اللہ کو اللہ کی کتاب تو تسلیم ہی نہیں کرتے تھے کفار نے اس کے خلاف یہ اسکیم بنائی اور اپنے غنڈوں اور اوباش لوگوں کو اس کام کے لیے تیار کیا جیسا کہ اوپر ذکر گزرچکا ہے۔ اب ذرا غور کریں کہ بات کیا تھی اور ہم مسلمانوں نے اس کو کی ابنادیا کہ مسلمانوں کے بعض گروہ سورة فاتحہ کو نماز کی ہر رکعت میں فرض سمجھتے ہیں اور سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق ہر مقتدی کو ہدایت کرتے ہیں کہ امام کے پیچھے بھی جب امام نماز جہر کررہا ہو تو سورة فاتحہ کو اپنے دل میں پڑھ لیا کرو لیکن جبر نہیں اور سری نمازوں میں بھی امام کے پیچھے سورة فاتحہ ضرور پڑھا کرو ورنہ وہ رکعت نہیں ہوگی کیونکہ نماز کی ہر رکعت میں سورة فاتحہ پڑھنا ہر فرد کے لیے فرض ہے اور اس پر بعض وہ گروہ جو فاتحہ کو نماز کی ہر رکعت میں پڑھنا واجب مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے مقتیدوں کو بالکل خاموش کھڑا رہنا چاہیے نماز سری ہو یا جہری قرآن کریم کا کوئی حصہ مقتدیوں کو پڑھنا گناہ ہے اور جو پڑھے گا وہ اس آیت کی خلاف ورزی کرے گا۔ آیت زیر نظر ہے یعنی سورة السجدہ کی آیت 26 ، کیوں ؟ وہ جواب دیتے ہیں اس لیے کہ حکم دیا جارہا ہے کہ جب ” نماز میں امام “ قرآن کریم پڑھے تو (مقتدی) خاموشی کے ساتھ سنیں اور دل میں بھی سورة فاتحہ نہ پڑھیں۔ اگر ایمان کوئی چیز ہے تو اپنی ایمانداری سے کہیے کہ کیا مسلمان گروہوں کی آپس کی لڑائی اور وہ بھی قرآن کریم کے اس حکم پر اس کا کوئی جواز ہے ؟ کیا قرآن کریم کی اس آیت سے یہ استدلال سراسر مذاق نہیں ہے ؟ فاتحہ فرض ہے یا واجب ، امام کے پیچھے پڑھنی چاہے یا نہیں اس کا کوئی تعلق اس آیت سے جب کہ ان دونوں ہی آیتوں کے نزول کے وقت نہ نماز فرض تھی اور نہ ہی اس کی باقاعدہ جماعت تشکیل پائی تھی۔ پھر یہ ایک آیت ہی نہیں بلکہ اس جیسی بیسیوں آیتیں ہیں جو مسلمان گروہوں کے درمیان لڑائی کا باعث بنی ہوئی ہیں اور اگر غور کیا جائے تو فی نفسہ ان اختلافات سے ان آیتوں کا کوئی تعلق نہیں لیکن خواہ مخواہ تعلق بنالیا گیا ہے اور عرصہ ہوا کہ ہم آپس میں برسر پیکار ہیں ، لڑ رہے ہیں ، لڑا رہے ہیں لیکن کبھی اس بات کا خیال تک نہیں آیا کہ اس شیطانی عمل کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اللہ ہم سب کو سمجھ کی توفیق دے اور ان بےلذت گناہوں سے بچائے جن کا سراسر نقصان ہی نقصان ہے اور فائدے کی اس میں کوئی چیز بھی نہیں اور نہ ہی ایسے استدلالات کا قرآن کریم متحمل ہے جس طرح کے استدلالات ہم کر رہے ہیں۔
Ayah 41:27

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

پھر ہم بھی (ان) کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور ان کے برے کاموں کی جو وہ کرتے رہے ان کو سزا دیں گے

کافروں کو عذاب شدید کی وعید اور اعمال کی جزا کا اعلان 27 ؎ قریش کے جن سرداروں اور وڈیروں نے یہ فیصلہ کیا تھا جن کا ذکر اوپر کیا گیا کہ قرآن کریم جب پڑھا جائے تو اس وقت تم شوروغوغا کیا کرو ان سب کو خواہ وہ اسکیم بنانے والے ہوں یا اسکیم پر عمل کرنے والے مخاطب کرکے کہا جارہا ہے کہ ان حرکتوں کی پاداش میں تم کو یقینا عذاب شدید دیا جائے گا یا تم کو ان حرکتوں سے باز آنا ہوگا اور اگر تمہاری روش یہی رہی تو وہ دن دور نہیں کہ تم کو تمہارے اس سارے کیے کی جزاء سے دوچار کیا جائے گا اور یقینا کو اس دنیا میں بھی رسوائی ہوگی اور تمہیں ان برے اعمال کا بدلہ آخرت میں بھی برا ہی ملے گا اور آنے والے کل کو تم وہی کچھ کاٹو گے جو آج تم بو رہے ہو اور یہ بھی تم کو اندازہ نہیں ہو رہا کہ بونے والا کتنا بوتا ہے اور جب اس کا نتیجہ اس کے سامنے پیش ہوتا ہے تو اس کی صورت کیا ہوتی ہے اگر تمہاری عقل میں یہ بات آجاتی تو تم کبھی برائی کا بیج نہ بوتے۔ عقل کے ناخن لو اور غوروفکر کرنے والی بات پر غورفکر کیا کرو کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں کل ہم کو اس کے نتیجہ سے بھی دوچار ہونا ہے اس لیے خود ہی اپنی تباہی کا سامان پیدا نہ کرو۔
Ayah 41:28

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

اللہ کے دشمنوں کی یہی آگ سزا ہے (جو دوزخ میں بھڑک رہی ہے) وہی ان کے ہمیشہ رہنے کا گھر ہے یہ اس (بات) کی سزا ہے کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے

اللہ کے دشمنوں کی جزا آگ ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے 28 ؎ گزشتہ آیت میں برے اعمال کی جزا کا اعلان فرمایا گیا تھا کہ جو لوگ برے اعمال کرتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ ان اعمال کی بری جزا بھی حاصل کریں گے جب کہ یہ طے ہے کہ ہر عمل اپنی جزا رکھتا ہے تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ اس روز جو روز محض اس لیے ہے کہ ہر عمل کرنے والے کو ویسی ہی جزا ملے جیسے وہ عمل کررہا ہے جب کہ دنیا میں اکثر ایسا نہیں ہوتا حالانکہ مکافات مل لازم وضروری ہے۔ فرمایا اس کے ازالہ کے لیے جو دن مقرر ہے جب وہ آئے گا تو ان لوگوں کو بالکل ویسی ہی جزا ملے گی اور وہ جزا کیا ہے ؟ فرمایا وہ آگ ہے اور برے اعمال کرنے والے اپنے اعمال کے مطابق اس میں رہیں گے پھر بعض کو اس آگ میں داخل کرکے سزا دے کر اس آگ سے نکال لیا جائے گا اور بعض ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس آگ میں جلتے رہیں گے خواہ وہ آگ جس قسم کی بھی ہوگی کیونکہ وہ آگ اس جگہ مشاہدہ نہیں کی جاسکتی۔ اس وقت ان کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے جھگڑے کرنے کی پوری سمجھ آجائے گی اگرچہ اس وقت ان کو سمجھ آجانے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ (اعداء اللہ) سے مراد بلاشبہ اس وقت مخاطبین اول میں مذہبی پیشوا اور سیاسی لیڈر قریش تھے۔ اور اس کے بعد قیامت تک کے اس کردار واخلاق کے مالک جتنے بھی مذہبی پیشوا اور سیاسی لیڈر آئیں گے سب کے سب اسی زمرہ میں داخل ہیں کیونکہ یہی وہ گروہ ہیں جو روز اول سے حق کی مخالفت میں پیش پیش ہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ وسائل ان کے پاس ہیں اور لوگ ان ہی کے گرویدہ ہوتے ہیں اور یہ ات سب ہی جانتے ہیں کہ ” جس کے ہاتھ میں ڈوئی اس کا سب کوئی “ کل بھی یہ تھا اور آج بھی یہی ہے۔
Ayah 41:29

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں وہ جن اور انسان دونوں دکھا دے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا تاکہ ہم ان دونوں کو ذلیل کرنے کے لیے انہیں اپنے پیروں کے نیچے روند ڈالیں

کافر کہیں گے اے اللہ ہم کو وہ لوگ دکھاجو ہم کو گمراہ کرتے رہے 29 ؎ فرمایا جب کافروں کو دوزخ کے عذاب میں جھونک دیاجائے گا اس وقت ان کو یقین آئے گا کہ ہماری اس شامت کا اصل باعث تو ہمارے مذہبی اور سیاسی پیشوا اور لیڈر ہوئے جن آسروں اور ساروں کے بل پر ہم جھٹلاتے رہے اور آج یہاں ہمیں وہ نظر آئیں تو ان کو مزہ چکھادیں اور اس غصہ میں آکر وہ اپیل کریں گے کہ اے اللہ وہ لوگ ایک بار ہم کو دکھا جنہوں نے ہم کو سیدھی راہ سے روک کر الٹی راہ پر لگایا وہ کتنے ہی قوی ہیکل اور سورمے کیوں نہ ہوں ہم ان کو اپنے قدموں کے نیچے دے کر ان کو اس طرح دبایں کہ ان کی انتڑیا نکال دیں اس طرح گویا وہ دانت پیسیں گے اور اپنے غصہ کا اظہار کریں گے۔ اچھا اگر وہ ان کو مل بھی جائیں اور وہ ان کو پائوں تلے رگید بھی دیں اور ان کی ساری پھوں پھاں نکال دیں تب بھی ان کا کوئی فائدہ ہوگا ؟ یقینا نہیں ، یہ تو ان کی ساری ہوا خارج ہوجائے گی اس جگہ نہیں تو دوسرے مقام پر اس کا ذکر گزرچکا ہے اور ہی بھی کہ اس وقت ان کے دانت پیسنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ان سے کہا جائے گا کہ تم کو تو یہ بات باربار یاد دلائی گئی تھی اگر تم کو یہ سیاسی لیڈر اور مذہبی راہنما اس طرح بلا رہے تھے تو دوسری طرف تم کو سیدھی راہ کی طرف بھی بلانے والے موجود تھے لیکن تم ان کی ایک نہ سنی تھی اس وجہ سے جتنے مجرم تمہارے مذہبی پیشوا اور سیاسی لیڈر ہیں اتنے ہی مجرم تمخود بھی ہو اس لیے تم سب برابر کے مجرم ہو اور اس جگہ بھی تم سب کو برابر ہی رکھا گیا ہے اور اب تم آپس میں ملاقات کرو اور اپنی بھڑاس ایک دوسرے پر نکال لو اس طرح وہ واپس میں ملیں گے اور ایک دوسرے سے غم وغصہ کا اظہار کرکے رہ جائیں گے۔ اس کی تفصیل سورة القصص کی آیت 62 ، 63 میں کی جاچکی ہے اور علاوہ ازیں بھی بہت سے مقامات پر بیان کی گئی ہے۔
Ayah 41:30

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

بلاشبہ جن لوگوں نے اقرار کیا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر (اس پر) قائم رہے ، ان پر فرشتے اترتے ہیں (جو ان سے کہتے ہیں) کہ تم مت ڈرو اور غم نہ کھاؤ (تم اللہ سے ڈرتے رہے اللہ تم سے راضی ہوا) اور تم جنت کی خوشخبری سنو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا

جنہوں نے اللہ کو رب مانا ان کے لیے دنیا وآخرت کی خوشخبری ہے 30 ؎ کفار کی حرکتوں کا ذکر کرنے کے بعد ان کے انجام کو بھی اچھی طرح بیان کردیا کرو کہ وہ کیسا ہوگا اور آخرت میں ان کی پذیرائی کیونکر ہوگی اور یہ بھی کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے کس طرح الجھیں گے۔ اب زیر نظر آیت میں اللہ کے ان بندوں کا ذکر کیا جارہا ہے جن کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ہاں عزتیں اور سرفرازیاں بخشی جانے والی ہیں اس لیے کہ انہوں نے دنیوی زندگی محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے وقف کررکھی تھی اور جو کام وہ کرتے رہے محض رضائے الٰہی کے لیے کرتے رہے بلاشبہ ان لوگوں نے ثابت کردیا کہ شان بندگی کیا ہے کہ اپنا سب کچھ اللہ کی رضا کے لیے وقف کردینا اور اب ان کو بتایا جائے گا کہ شان بندہ نوازی کیا ہے ؟ فرمایا یہی وہ لوگ ہیں جن کے پاس اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے آتے ہیں اور ان کی ہمت بڑھاتے ہیں اور ان کو تسلی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب بحمد اللہ تمہارے مشکل دن گزرگئے اور اب آنے والی زندگی میں نہ تو تمہارے لیے کوئی غم ہے اور نہ خوف اس لیے کہ اب تم کو بحمد اللہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں رہنا ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا اور تم نے اس وعدہ پر یقین کرکے دکھایا جس طرح یقین کرنے کا حق تھا۔ یہ بات ان سے کب کہی جائے گی ؟ اس کے جواب میں مختلف دئیے گئے ہیں لیکن زیادہ صحیح یہی ہے کہ اس وقت جب ان کی قبروں سے اٹھایا جائے گا اور میدان حشر کی طرف لے جایا جائے گا تو وہ فرشتے جو دنیا میں ان کے پاس آتے جاتے تھے وہ ان سے یہ بات کہیں گے کیونکہ آیت میں جنت کی طرف لے جائے جانے کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ اس میدان سے فارغ ہو کر ان کو بحمد اللہ جنت ہی کی طرف جاناے اور وہی ان کے رہنے کی جگہ ہے جس میں اب وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ فرشتوں کی طرف سے ان کو ساتھ رہنے کی خوشخبری بھی سنائی جائے گی 31 ؎ فرشتوں کی اس خوشخبری کے باعث ہم نے اوپر یہ بات کہی ہے کہ یہ بات ان سے دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت کہی جائے گی کیونکہ فرشتے ایسے ہی بات کہہ رہے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ تھے ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور بلاشبہ دنیا میں بھی فرشتے اچھی باتیں اپنے ساتھیوں کو القا کرتے ہیں اور شیطانوں سے بھی ان کی مدد کرکے ان کو بچاتے ہیں اور اسی طرح وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں کے ساتھ رہیں گے اور ان کو خوش وخرم رکھنے میں ان کا ساتھ دیں گے اور اسی کو الٰہی نصرت سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ بات بلاشبہ حق ہے کہ کسی اچھی بات کا دل میں جم جانا اور شیطانوں سے نفرت ہوجانا اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں اور اس جگہ اس مدد خداوندی کا یہاں ذکر کیا گیا ہے اور فرشتوں کا بیان ابھی جاری ہے کہ وہ اپنے انسانی ساتھیوں سے کہہ رہے ہیں کہ اب تمہارے لیے اس جنت میں جو کچھ تمہارا جی چاہے گا موجود ملے گا اور جو طلب کروگے وہ تم کو دیا جائے گا (ماتدعون) جس چیز کی تم طلب کروگے گویا یہ لفظ دعا سے ماخود ہے اور دعا کے معنی مانگنے اور طلب کرنے ہی کے ہیں۔
Ayahs 41:31–32

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

اور ہم دنیا میں تمہارے رفیق ہیں اور آخرت میں بھی اور تمہارے لیے وہاں وہ سب کچھ موجود ہے جو تمہار اجی چاہے اور تمہارے لیے وہ سب کچھ جو تم مانگو موجود ہے

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

یہ مہمانی ہے بخشنے والے پیار کرنے والے کی طرف سے

فرشتوں کا آخری کلام جو وہ اہل جنت کو جنت لے جاتے وقت کریں گے 32 ؎ اہل جنت کی جو تمنا ہوگی وہ ان کو ملے گی اور یہ بات کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس وقت انسانوں کی تمنا ایک جیسی ہوگی یا مختلف اور اس طرح یہ بھی کہ اس وقت کس چیز کی تمنا ہوگی ؟ لیکن جو تمنا ہوگی اس کے مطابق ان کو دیا جائے گا تاہم اس وقت کتاب وسنت میں جو کچھ انسانوں کو ملنے کا مختصر ذکر کیا گیا ہے یہ محض ایک انداز تفہیم ہے اور ظاہر ہے کہ وہ انسان کے سامنے اس طرح اور انہیں الفاظ میں پیش کیا جاسکتا تھا کیونکہ انسان کی سمجھ میں وہی چیز آسکتی ہے جس کا مشاہدہ انسان کو ہوتا ہے اور ایسی چیز جس کا مشاہدہ نہیں ہوتا یا نہیں ہوسکتا اس کو بیان کرنے کے لیے جو الفاظ بیان کیے جاتے ہیں وہ تو وہی ہوں گے جن الفاظ سے انسان دنیا میں محفوظ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نام وہی رکھے گئے تاکہ بات سمجھ میں آجائے۔ ہاں ! جو کچھ اہل جنت کو دیا جائے گا وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے گویا اہل جنت کی مہمانی کے طور پر پیش کیا جائے گا اور اس ذات کی طرف کیا جائے گا جو غفور بھی ہے اور رحیم بھی پھر ایسے پروردگار کی میزبانی کیا ہی میزبانی ہوگی ؟ پیغمبر اسلام ﷺ نے اس مہمانی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے جو کچھ تیار کررکھا ہے وہ نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا ہے ، نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اس کا صحیح تصور آسکتا ہے لیکن اس کے باوجود کتاب وسنت ہی میں جنتیوں کو ملنے والی چیزوں کے نام گنوائے گئے ہیں اور وہ وہی ہیں جسے آج ہم اس دنیا میں استعمال کر رہے ہیں یا سن رہے ہیں اگرچہ وہ ہم سب کو میسر نہ ہوں اس طرح ان دونوں باتوں میں بظاہر تضاد نظر آتا ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ ان چیزوں کے یہ نام محض اس لیے ہیں کہ ہم یہ نام لینے پر مجبور محض ہیں ورنہ ان چیزوں اور ان چیزوں میں سوائے نام کے کوئی مشابہت نہیں ہے تو یہ بات بالکل صحیح ہے اور یہی کتاب وسنت کے ان ناموں کو بیان کرنے کی اصل وجہ ہے۔ اندریں صورت جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے یہ تاویل نہیں بلکہ قائل کی اصل مراد یہی ہے جس کو ہم نے وضاحت سے بیان کردیا ہے۔
Ayah 41:33

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس سے بہتر کس کا قول ہے جو (دوسروں کو) اللہ کی طرف بلائے اور (خود بھی) عمل صالح کرے اور یہ کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں

اس شخص سے بہتر کون ہو سکتا ہے جو اچھے عمل کرے اور ربِّ کریم کی دعوت دے 33 ؎ بلاشبہ اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کی ذات پر ایمان لانا اور اسلام کی سچائی کو سچے دل سے قبول کرنا اور اس کی تصدیق بالعمل پیش کرنا بہت درجے کی بات ہے تاہم ایک مقام اس سے بھی بلند ہے اور مبارک ہیں وہ جو اس مقام پر فائز ہیں اور بندئہ مومن اس مقام پر پہنچنے کی سعی کرسکتا ہے اور اپنے مقام و مرتبہ کے مطابق اس کو حاصل کرسکتا ہے اگر وہ کرنا چاہے۔ وہ بلند مقام کیا ہے ؟ وہ یہ کہ لوگوں کو بھی ربِّ کریم کی وحدانیت وکبریائی پر ایمان لانے کی دعوت دے اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے آخری نبی و رسول ہیں ان کی پیروی و فرمانبرداری میں لگا دے اور اس کی طرف دوسرے لوگوں کو بھی دعوت دے بلاشبہ ایسے ہی لوگ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام کے چشمہ سے اپنی پیاس بجھائی اور دوسرے تشنہ کاموں کے درد نے ان کو ایسا بےقرار کیا کہ وہ ان لوگوں کو جو ریگ زار حیات میں ایک قطرئہ آب کے لیے ترس رہے ہیں ان کے لیے بھی بےتاب ہوگئے کہ جس طرح ان کی اپنی پیاس بجھی ہے وہ دوسروں کی پیاس بجھانے کی فکر میں لگ گئے۔ غور کیجئے کہ اس مقام کو مقام رفیع کیوں نہ کہا جائے جب کہ اس میں دوسروں کی بھلائی اور خیر خواہی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ زیر نظر آیت سارے انسانوں کو اس بات کی دعوت دے رہی ہے اور کسی ایک کو اس کام کے لیے مختص نہیں کرتی لیکن اس بات میں بھی ذرا شبہ کی گنجائش نہیں کہ تبلیغ و ارشاد میں جو مقام انبیاء و رسل کا ہے وہ بہرحال اس سے وراء الوراء ہے کیونکہ ان کو خود ربِّ ذوالجلال والا کرام نے اس کام کے لیے چن لیا ہے پھر نبیوں اور رسولوں میں جو مقام نبی اعظم و آخر ﷺ کو حاصل ہے وہ دوسرے نبیوں اور رسولوں کو بھی حاصل نہیں کیونکہ خاتم النبیین ہونے کی فضیلت آپ ﷺ کو حاصل ہے اور آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کا دورتاحین نظام دنیا قائم رہے گا اور اسی پر اس نظام عالم کو ختم کردیا جائے گا۔ زیرنظر آیت کو اس جگہ بیان کرنے میں ایک خاص حکمت ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی دعوت کو ٹھکرانے کا ذکر پیچھے گزر چکا اور کفار مکہ کی اس اسکیم کا بیان بھی گزر چکا کہ اس قرآن کریم کو جب بھی اور جہاں بھی پڑھا جائے تم اس میں شورو غوغا کرو اور اس طرح اس کو دوسروں تک مت پہنچنے دو تمہاری کامیابی کا راز اسی میں ہے لہٰذا اس طرح نبی اعظم و آخر ﷺ اور آپ ﷺ کی دعوت کو جاری رکھنے والوں کے لیے یہ آیت نشان راہ ہے کہ ان لوگوں کے پیچھے پڑھنے کی ضرورت نہیں اس لیے کہ ان کے رویہ سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ساری خرابی خود انہی لوگوں کے اندر ہے اس میں تمہارا یا تمہاری دعوت کا کوئی قصور نہیں ہے اور یہ کہ تمہاری دعوت توحید الٰہی کی دعوت ہے اور اللہ رب ذوالجلال والا کرام کی بندگی کی دعوت ہے اس لیے اس دعوت سے بڑھ کر اس آسمان کے نیچے اور کس بات کی دعوت ہو سکتی ہے اور یہ بھی کہ آپ ﷺ دی گئی یہدعوت جو جو شخص بھی آگے پہنچائے اور اس کے مطابق خود عامل ہو اور اس بات کا اعلان بھی کرے کہ میں اللہ ربِّ کریم کے لیے ہر طرح فرمانبردار ہوں اور صرف اور صرف اسی کے سامنے فرمانبرداری کا عزم و جزم رکھتا ہوں تو اس سے بڑا عزم اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس آیت کے تحت مفسرین نے اذان وقت کا بھی بہت شرح و بسط سے ذکر کیا ہے اور اذان کی فضیلت اور اس کے جواب کا ذکر بھی کیا ہے یعنی وہ اذان جو صلوٰۃ کے لیے پکاری جاتی ہے اس کی فضیلت کیا ہے ؟ مؤذن کا مقام اور اس کے درجات کی بلندی کو بھی اس ضمن میں بیان کیا ہے جو اپنی جگہ ایک حقیقت ہے اور یہاں اس آیت سے اس کا استدلال بالکل واضح ہے اور احادیث میں بھی اس کی وضاحت موجود ہے اور حدیث کی ہر کتاب میں باب الاذان موجود ہے جہاں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ہاں ! فی زماننا ہمارے علمائے اسلام اور خطباء حضرات کو اس اذان سے جتنی نفرت ہوچکی ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کوئی علامہ ، حضرت العلام اور خطیب مسجد کبھی اذان نہیں دیتا بلکہ اس کے لیے ایک الگ مؤذن کا عہدہ رکھا گیا ہے جو امام صاحب کا نائب و خادم کہلاتا ہے اور اس کے ذمہ اذان کی خدمت بھی لگا دی گئی ہے اور اس کو باقاعدہ اس خدمت کا معاوضہ دیا جاتا ہے اگرچہ اس کا رواج عام ہے لیکن اسلام میں اس کو کبھی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ جس بات سے ہمارے یہ خطیب اور مولانا حضرات استدلال کرتے ہیں کہ اذان ہم کو نہیں دینا چاہئے وہ استدلال نہایت غلط ہے لیکن یہ بحث اس جگہ خواہ مخواہ طوالت ہے اور یہ بھی کہ اس کا تفسیر سے کوئی تعلق نہیں محض استدلال پر استدلال ہے جس کا بیان اس جگہ مناسء نہیں اس کا تعلق کتاب الصلوٰۃ کے باب الاذان سے ہے اور وہیں اس کو بیان کیا جائے گا۔ انشاء اللہ العزیز 1997 ء کے بعد اگر (قرۃ عینی فی الصلوٰۃ) کی طباعت میری زندگی میں ہوئی تو اس کی وضاحت اس میں آئے گی یا علیحدہ اس مضمون کو طبع کرا دیا جائے گا۔ آنے والی آیت نبی اعظم و آخر ﷺ اور آپ ﷺ کے سچے فرمانبرداروں کو تعلیم دے رہی ہے کہ وہ مخالفین و معاندین کی بدتمیزیوں کا جواب کیونکر دیں اور ان کے مقابلہ میں کونسا رویہ اختیار کریں اور یہ وہی رویہ ہے جس کی ہدایت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو دی گئی تھی جس کا ذکر عروۃ الوثقی ، جلد اوّل سورة البقرہ کی آیت 260 میں گزر چکا ہے۔
Ayah 41:34

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

کبھی بھلائی اور برائی برابر نہیں ہو سکتی برائی کا جواب ایسے طریقے سے دو جو اچھا طریقہ ہو اگر تم نے ایسا کیا تو تم دیکھو گے کہ جس شخص کے ساتھ تمہاری عداوت تھی وہ ایسا ہی ہوجائے گا جیسا کہ ایک دلی دوست (ہوتا ہے)

نیکی اور برائی کبھی برابر نہیں ہو سکتی ، داعی الی اللہ کے لیے خاص ہدایت 34 ؎ اچھائی اور برائی دونوں کبھی یکساں نہیں ہو سکتیں پھر جب یہ دونوں برابر نہیں تو آخر ان کے کرنے والے کیسے برابر ہو سکتے ہیں ؟ پھر جس طرح اچھائی اور برائی برابر نہیں اسی طرح اچھا اور برا بھی یکساں نہیں تو آخر ان کے نتائج کیونکر برابر ہو سکتے ہیں ؟ بلاشبہ ان دونوں کے نتائج بھی برابر نہیں ہو سکتے ، نہ کبھی ہوئے اور نہ ہی کبھی ہوں گے۔ جس طرح یہ بات تحدی سے کہی جاسکتی ہے اس یطرح یہ بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو کبھی معدوم نہیں کرسکتیں نہ برئای نیکی کو مدوم کرسکتی ہے اور نہ ہی نیکی برائی کو کیونکہ دونوں ایک دوسرے کی نقیض ہیں اس لیے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ برائی نیکی کا لبادہ پہن لیتی ہے اور وہ پوری کوشش شروع کردیتی ہے کہ نیکی برائی متصور ہونے لگے اور ہر برائی جب نیکی کا لبادہ پہن لیتی ہے تو وہ زیادہ مقبول ہونا شروع ہوجاتی ہے بنسبت اصل نیکی کے جو فی الواقع نیکی ہوتی ہے۔ آپ کہیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے ؟ حالانکہ روزمرہ زندگی میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ ایسا ہی ہو رہا ہے ، ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ آپ غور کیجئے کہ انبیاء و رسل کے حالات آپ نے پڑھے کیا کسی نبی و رسول کا نام آپ لے سکتے ہیں جس کی قوم نے بھرپور مخالفت نہ کی ہو ؟ نہیں ! اور یقینا نہیں تو کیا کسی نبی و رسول کے بارے میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ بداخلاق یا بدکردار تھا ؟ بلاشبہ یہ بھی ممکن نہیں اور نہ ہی کبھی ایسا ہوا بلکہ ہر دور میں نبی و رسول ہی وہ انسان ہوا جو سارے انسانوں کے مقابلہ میں اچھے اخلاق اور اچھے کردار کا مالک تھا۔ پھر کیا خیال ہے کہ اچھے اخلاق اور اچھے کردار کی مخالفت کی گئی ہے اور کبھی کہا گیا کہ اچھے اخلاق و کردار کی بجائے برا اخلاق و کردار ہی بہتر ہوتا ہے ؟ ہرگز نہیں اور یقینا نہیں تو پھر انبیاء و رسل کی مخالفت کیوں ہوئی ؟ تسلیم کرلیجئے کہ محض اس لیے کہ اس دور میں برائی نے اس طرح نیکی کا لبادہ اوڑھا کہ وہ برائی نیکی ہو کر رہ گئی اور اس کے مقابلہ میں نیکی برائی متصور ہونے لگی اور نبی و رسول نے اصل نیکی کو نیکی اور اصل برائی کو برائی کے طوپر شناخت کرانا چاہا لیکن قوم نے اس کو باور نہ کیا اس لیے نبی و رسول کی مخالفت کی اور کھل کر کہا کہ تم قوم کو نیکی کی راہ سے روک کر برائی کے راستے پر گامزن کرنا چاہتے ہو اس لیے تم نبی و رسول تو ہو نہیں سکتے۔ یہ محض تم نے ایک ڈھونگ رچایا ہے جو تم اپنے آپ کو نبی و رسول کہتے ہو حالانکہ تم تو ایک اچھے انسان بھی نہیں مانے جاسکتے ہو نہ ہو تم کو محض ہمارے بزرگوں میں سے کسی کی مار لگ گئی ہے۔ تم جادوگر ہو ، تم سحرزدہ ہو ، تم قوم میں افتراق ڈالنے والے ہو۔ تمہارا مقصد محض اقتدار ہے اور تم چاہتے ہو کہ ہیاں کے رہنے والوں کو نکال باہر کرو اور حکومت تم سنبھال لو۔ مختصر یہ کہ جس کے جو منہ آیا اس نے کہہ دیا لیکن کسی قوم نے یہ نہیں کہا کہ چونکہ تمہارا کردار و اخلاق بہت اچھا ہے اس لیے ہم کو ایسے کردار والا آدمی پسند نہیں مگر یہ کہ تمسخر کی صورت میں۔ زیر نظر آیت میں نبی اعظم و آخر ﷺ اور آپ ﷺ کی امت کے ہر داعی کو یہ کہا جا رہا ہے کہ بلاشبہ اچھائی اور برائی دونوں برابر نہیں ہیں اس لیے برائی کے مقابلہ میں بھی تم اپنا اچھا رویہ جاری رکھو اس لیے کہ برائی کے عوض میں برائی بھی بہرحال برائی ہی ہے اس لیے برائی کے مقابلہ میں بھی تم اپنا اچھا رویہ جاری رکھو اس لیے کہ برائی کے عوض میں برائی بھی بہرحال برائی ہی ہے اور نیکی صحیح معنوں میں وہی ہے جو برائی کے مقابلہ میں برائی کرنے والے کے ساتھ کی جائے وہ سمجھے یا نہ سمجھئے اس لیے کہ جب نتائج کا وقت آئے گا تو تم اس نتیجہ سے دوچار ہو گے تو اس حقیقت کا سارا پول کھل جائے گا اور تم کو برائی کے مقابلہ میں نیکی کرنے سے جو تکلیف پہنچی ہوگی اس کا سارا عوض تم کو چکایا جائے گا اور تم یقینا خوش ہوجاؤ گے اور تمہاری ساری تکلیف رفع ہوجائے گی۔ اس کی مزید وضاحت چاہتے ہو تو عروۃ الوثقی جلد چہارم میں سورة النحل کی آیت 126 , 125 کا مطالعہ کریں۔ واضح رہے کہ یہ رویہ اسی وقت تک ہی جاری رکھنے کا حکم ہے جب تک داعی دعوت الی اللہ جاری رکھنے کے حکم میں ہو اور اس کی دعوت کا سلسلہ جاری رہ سکے اگر مخالفین دعوت کے جاری رکھنے میں مزاحم ہوں اور اس کو بزور روک دینا چاہیں تو پھر حالات اس سے بالکل مختلف ہوجائیں گے اور یہ زمانہ حالت جنگ کا ہوگا جس کے اسلامی آداب اپنی جگہ وضاحت سے بیان کیے جا چکے ہیں اور اس کے لیے سورة الانفال اور سورة التوبہ کا مطالعہ ضروری ہے۔ خیال رہے کہ انسانوں کی آپس میں عداوت کے کئی ایک اسباب ہوتے ہیں۔ عداوت کے ان اسباب میں سے ایک سبب مذہبی تعصب بھی ہوتا ہے اگرچہ اس کا اصل باعث جہالت ہے نہ کہ مذہب انسانی جہالت کے باعث اس کو مذہبی تعصب کہا جاتا ہے اگر یہ خالصتاً مذہبی ہی ہو تو وہ شخص جب دیکھتا ہے کہ دوسرا آدمی باوجود مذہبی اختلاف رکھنے کے اس کے ساتھ حسن اخلاق اور اچھے کردار سے پیش آ رہا ہے تو وہ یقینا ایک نہ ایک روز اس مذہبی تعصب کو چھوڑ کر حقیقت کو سمجھنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور زیادہ نہ ہو تو وہ اس تعصب کو چھوڑ دیتا ہے اور اندر کی بات کہنے اور سننے پر مجبور ہوجاتا ہے اور یقینا اس کی عداوت دوستی میں بدل جاتی ہے لیکن یہ ایک دو دن کی بات نہیں ہوتی اس کے لیے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے اور مسلسل قربانیاں دینی پڑتی ہے اور بہت دکھ سہنے پڑتے ہیں اور جتنا اس بات کو کرنا آسان ہے اتنا ہی اس کو اختیار کرنا مشکل ہے اور انبیاء کرام کا یہ خاصہ ہے اور وہی یہ نسخہ استعمال کرسکتے ہیں اور کرتے رہے ہیں اور باقی لوگوں پر اس کا پَر تو پڑجائے تو بھی بہت بڑی بات ہے۔ زیر نظر آیت میں جس عداوت کو چھوڑ کر دوست بن جانے کا ذکر ہے وہ یہی ایک عداوت ہے اور اسی عداوت کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے ، باقی عداوتیں اسی اصول کے تحت حل نہیں ہوتیں اور اس کی مزید وضاحت خود آنے والی آیت کر رہی ہے۔
Ayah 41:35

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

اور یہ بات انہیں کو نصیب ہوتی ہے جو تحمل سے کام لیتے ہیں اور یہ بات انہیں کو نصیب ہوتی ہے جو بڑے ہی خوش قسمت ہوتے ہیں

اس مقام پر پہنچنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں صبر کا دامن تھامنا پڑتا ہے 35 ؎ وہی بات جو ہم نے اوپر بیان کردی ہے کہ اس مقام کو حاصل کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں یہ مقام وہی حاصل کرسکتے ہیں جو صبر کے مفہوم اور اس کے اجر سے اچھی طرح واقف ہیں اور بلاشبہ وہ شخص نہایت خوش بخت اور بہت ہی بڑے نصیبے کا مالک ہے جس کو اس کی ہمت میسر آئے۔ صبر کیا ہے ؟ اس کے متعلق تفصیلی بحث سورة طہٰ کی آیت 130 میں گزر چکی ہے اور سورة طہٰ جلد پنجم کی آخری سورت ہے۔ خیال رہے کہ جس چیز کو برداشت کہتے ہیں اس کو بعض لوگ صبر سے تعبیر کرتے ہیں حالانکہ برداشت اور صبر میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ برداشت ایک دو بار ہوتی ہے اور صبر کا مظاہرہ سالہا سال تک ہوتا ہے بلکہ ایک انسان کی ساری زندگی کے ساتھ اس کا تعلق ہے اس لیے اوپر گزشتہ آیت میں جو کچھ بیان ہوا وہ ایک عظیم حکمت ہے اور اس کا نام اصل میں حکمت عملی ہے دوسری بات یہ بھی کہ اس حکمت کے حامل وہی لوگ ہو سکتے ہیں جن کے اندر صبرو ثبات کوٹ کوٹ کر بر دیا گیا ہو اور وہ کسی حال میں بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں خواہ ان کو زندگی سے ہاتھ دھونے پڑیں۔ اس لیے اس میں بتایا کہ یہ کوئی معمولی چیز نہیں۔ کہنے کو یہ بات خواہ کتنی ہی آسان نظر آئے اس بوجھ کو اٹھانا بہت مشکل ہے اس لیے اس میں یہ خطرہ بھی موجود ہوتا ہے کہ کسی وقت یہ ہنڈیا چورا ہے ہی میں نہ ٹوٹ جائے یہی وجہ ہے کہ خود ربِّ ذوالجلال والا کرام نے ارشاد فرمایا کہ ” بڑے اقبال مند اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو یہ بازی جیت جائیں۔ “
Ayah 41:36

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر شیطانی وسوسہ آپ کو کسی وقت ابھارے تو آپ اللہ کی پناہ طلب کریں بلاشبہ وہ (اللہ) ہی سب کچھ سننے والا ہرچیز کو جاننے والا ہے

پیغمبرِ اسلام ﷺ کے ذریعہ آپ ﷺ کی قوم کے لیے ایک انتباہ 36 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے آپ ﷺ کی پوری امت کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ اچھی طرح سن لو اور خوب یاد رکھو کہ جب کوئی اللہ کا بندہ حسن اخلاق اور اچھے کردار کا مظاہرہ کرتا ہے تو شیطان بھی اس کے مقابلہ میں اتنی ہی طاقت و قوت سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور اپنی پوری کوشش کرتا ہے کہ وہ تم کو پچھاڑ دے کیونکہ وہ تو نیکی اور اچھے کردار کا پکا بیری ہے وہ کیسے گوارا کرسکتا ہے کہ تمہاری ذات میں نیکی ، حسن خلق اور پاکبازی کا ایک ایسا حسین پیکر دنیا کے سامنے پیش ہو جسے دیکھ کر دل بےساختہ اس کی طرف کھچے چلے جائیں وہ تو ضرور راستہ روکے گا اور پوری جدوجہد کرے گا کہ تجھ سے کوئی ایسی بات صادر ہوجائے جس بات کا بتنگڑ بنا کر وہ تیری سیرت کی دلکشی اور جاذبیت کو ختم کر دے اس لیے اس نامراد دشمن کے اس وار سے بچنے کے لیے آپ کو بہت چوکنا رہنا ہوگا خصوصاً وہ وقت بہت نازک ہوتا ہے جب تم اچھے کردار اور حسن اخلاق کا مظاہرہ پورے زور سے کر رہے ہو اور یہ بدبخت آپ کے مقابلہ میں کسی گھٹیا قسم کے آدمی کو کھڑا کر دے اور وہ بغیر دیکھے سنے آپ کو سخت سست سنانی شروع کر دے جس صدمہ کو آپ برداشت نہ کرتے ہوئے اس کو اس کی سخت سست کا کوئی جواب ایسا ویسا دیں جو آپ کے اخلاق و کردار کے سرا سر منافی ہو تو فوراً سمجھ جاؤ کہ شیطان نے اپنا کام کر دکھایا اور اس کا وار تم پر غالب آگیا۔ ہاں ! جب تم کو کوئی ایسا اشتعال محسوس ہو تو فوراً خبردار ہوجاؤ کہ یہ شیطان کا داؤ ہے اور وہ غصہ دلا کر تم سے کوئی غلطی کرانا چاہتا ہے کیونکہ کسی غلطی کے عوض میں کی گئی غلطی بھی بہرحال غلطی ہی کہلائے گی اس کا نام نیکی نہیں رکھا جاسکتا۔ اس برائی کے مقابلہ میں نیکی نیکی کہلاتی ہے اور یہی نیکی حسن اخلاق اور اچھا کردار ہے اور شیطان کے اس چوکے سے تم کو خبردار کیا گیا ہے اس لیے جب بھی شیطان کوئی اس طرح کی بات آپ کے دل میں ڈالے تو آپ کو چاہئے کہ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کے لیے ربِّ کریم سے التجا کرو کہ وہ شیطان کے شر سے آپ کو محفوظ رکھے۔ یاد رکھو تم اس مکار و عیار کا مقابلہ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کے سوا نہیں کرسکتے اس لیے تم اپنی بےبسی اور کمزوری کا اظہار ربِّ ذوالجلال والا کرام کے سامنے کرتے رہو اور اسی سے مدد و نصرت کی دعا والتجا کرتے رہو بلاشبہ ربِّ ذوالجلال والا کرام ہی دعاؤں اور التجاؤں کا سننے والا اور انسانی کمزوریوں کا خوب اچھی طرح جاننے والا ہے وہ یقینا تمہاری مدد کرے گا اور تم کامیاب و کامران ہو گے۔ خیال رہے کہ { نزغ الشیطٰن } انہی وساوس کا نام ہے جو انسان کے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں اور انسان ایسے کام پر آمادہ ہوجاتا ہے جس سے وہ مکمل طور پر بچنا چاہتا ہے اور جس اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے وہ اس کے اندرونی وساوس سے اچھی طرح واقف ہے اور واقف حال سے مدد و نصرت کی اپیل کرنا جب وہ مدد و نصرت کر بھی سکتا ہو بلاشبہ جائز اور درست ہے اور وہ اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے کہ ہر انسان کے حال سے بھی واقف ہے اور ہر انسان کی مدد و نصرت بھی کرتا ہے۔ غیر اللہ میں یہ دونوں چیزیں بیک وقت موجود ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔
Ayah 41:37

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے رات اور دن اور چاند اور سورج ہیں پس تم نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو (بلکہ) اللہ کو سجدہ کرو (اس کی عبادت کرو) جس نے ان کو پیدا کیا اگر تم (واقعی) اس کے عبادت گزار ہو

اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کی نشانیوں کا بیان جن پر غورو فکر لازم ہے 37 ؎ انسان کو غلطی لگنے پر آئے تو معمولی سی بات بھی اس کی غلطی کا باعث ہو سکتی ہے لیکن اگر معلوم ہوجائے کہ میں نے غلطی کی ہے یا مجھ سے غلطی ہوگئی ہے تو اس سے باز آجانے سے اس غلطی کا ازالہ ہوجاتا ہے یہ خاصہ صرف اور صرف مشرکین کا ہے کہ وہ غلطی کرتے ہیں اور پھر غلطی کو غلطی تسلیم بھی نہیں کرتے اور اس بات کا کوئی ثبوت یا کوئی دلیل بھی پیش نہیں کرتے کہ یہ غلطی نہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ ان کی سو دلیل کے برابر ایک دلیل ہوتی ہے کہ ہمارا باپ دادا ایسا کرتا آیا ہے اور یہ کہ ساری دنیا ایسا کر رہی ہے حالانکہ اس کو کوئی عقل مند دلیل نہیں کہتا اور نہ ہی یہ دلیل ہے بہرحال اللہ ربِّ الجلال والا کرام نے اپیں الوہیت کے طور پر آفاق سے ہر ایک چیز کو بطور دلیل ان کے سامنے پیش کیا ہے اور طرح طرح سے اس پر زور دے کر ان کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ زیر نظر آیت میں بھی ان سے کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے رات اور دن کا آنا جانا دو بہت بڑی نشانیاں ہیں کیا تم میں سے کوئی ہے جو رات کو نہ آنے دے یا دن کو نہ جانے دے یا ان کے آنے جانے میں ایک سیکنڈ ہی کی کمی بیشی کرا دے اور یہی حال چاند کا ہے کہ چاند کبھی ہلال ہوتا ہے ، کبھی قمر اور کبھی بدر بن جاتا ہے اور جو نظام اللہ نے ان کے لیے باندھ دیا ہے اس نظام میں ایک سوئی کے ناکے کے برابر بھی فرق نہیں پڑتا پھر تمہاری مت کیسے ماری گئی کہ تم سورج کی پرستش کرنے لگتے ہو اور کبھی چاند اور ستاروں کو اپنا اِلٰہ و رب ماننے لگتے ہو اور ان کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہو اور کبھی غور نہیں کرتے کہ وہ تو خود کسی کے بندھن سے بندھے ہوئے ہیں اور ایک ذرہ کی کمی بیشی نہیں کرسکتے بلکہ ان کو تو اللہ نے مجبور محض بنا دیا ہے اور معمولی اختیار بھی وہ نہیں رکتے اللہ رب العزت ہی ان کا خالق اور وہی ان کے نظام کو قائم کرنے والا اور اس نظام کا چلانے والا ہے پھر تم کتنے ناسمجھ ہو کہ ان کی پرستش کرنے لگتے ہو۔ یہ بات اس لیے ارشاد فرمائی کہ عربوں کے بعض گروہ ان کی پرستش کرتے تھے اور ان کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے گویا جہاں انسانوں کی پرستش کرنے والے موجود تھے اور ان مخصوص انسانوں کے انہوں نے بت بنا رکھے تھے اس طرح ان میں سورج ، چاند اور ستاروں کی پرستش کرنے والے بھی موجود تھے اور ان سب کے بقیہ جات آج بھی دنیا میں موجود ہیں اور جس طرح انسانوں کو بزرگ سمجھ کر ان کی پرستش کی جاتی ہے اور ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا جاتا ہے بعینہٖ اسی طرح اس کائنات کی دوسری آفاقی اور دنیوی و زمنیں چیزوں کی بھی پرستش ہوتی ہے اور ” کیر انسانی “ تک کی پرستش کرنے والے اس دھرتی پر پائے جاتے ہیں اور اس کی شبیہ کو بطور تبرک استعمال کیا جاتا ہے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے ان چیزوں کی پرستش کرنے والوں کو خوب وعظ کیا ہے اور نہایت دل نشیں انداز میں سمجھانے کی کوشش کی ہے جس کا ذکر پیچھے سورة الانعام کی آیات 74 تا 78 میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے اور سورة الانعام عروۃ الوثقی کی تیسری جلد میں ہے۔