Ayah 41:38اگر مشرکین تکبیر کرتے ہیں تو اللہ کی بہت سی مخلوق ایسی ہے جو اس کو سجدہ کرتی ہے
38 ؎ اگر مشرکین محض تکبر اور بڑائی کے نشہ میں آپ ﷺ کی بات سلیم نہیں کرتے اور شرک سے باز نہیں آتے تو آپ ﷺ بھی ان کی پرواہ نہ کریں۔ مشرکین کو یہ تکبر کیوں ہے ؟ محض اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اور اپنے دل میں یہ خیال جمائے بیٹھے ہیں کہ محمد (رسول اللہ ﷺ کو ہم پر کیا فوقیت حاصل ہے کہ اللہ نے اس پر فرشتہ نازل کیا ہے اور اپنے پیغام کے لیے اس کو چن لیا ہے حالانکہ دنیا کے سارے وسائل تو ہمارے پاس موجود ہیں اور ہر طرح کی آسانیاں ہم کو میسر ہیں اور نبوت کے لیے ایک ایسے آدمی کو منتخب کرلیا ہے جس کے پاس ان وسائل میں سے کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی آدمی تو اس کو پوچھنے والا نہ ہو کہ اگر تم اس کی عبادت کرنے کے لیے اور اس کے کلام کو اس کا کلام تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو اللہ کی بہت مخلوق ایسی ہے جو اس کے سامنے سجدہ ریز ہو رہی ہے اور کبھی اس کے ذکر اور حمدو تسبیح سے نہیں تھکتی۔ زیرنظر آیت کے ختم پر سجدئہ تلاوت کیا جاتا ہے اور یہ مقام بھی ان پندرہ مقامات میں سے ایک ہے جن پر سجدہ کیا جاتا ہے اس سجدہ کو سجدئہ تلاوت سے موسوم کرتے ہیں اور بہتر اور صیح یہی ہے کہ اس آیت کی تلاوت پر یا اس کے سننے کے ساتھ ہی سجدہ ادا کیا جائے۔ قرآن کریم میں کل پن درہ سجدے ہیں۔ پہلا سجدہ سورة الاعراف کی آخری آیت 206 پر دوسرا سورة الرعد کی آیت 15 پر ، تیسرا سجدہ سورة النحل کی آیت 50 پر ، چوتھا سجدۃ سورة الحج کی آیت 77 پر ہے اگرچہ اس سجدہ کو اختلافی سجدہ کہا جاتا ہے اور قرآن کریم کے حاشیہ پر (السجدہ عند الشافعی و احمد بن حنبل (رح)) کے الفاظ درج ہوتے ہیں اور اس کا شمار نہیں کیا جاتا حالانکہ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ آٹھواں سجدہ سورة الفرقان کی آیت 60 پر ، نواں سجدہ سورة النحل آیت 26 پر ، دسواں سجدہ سورة السجدہ کی آیت 15 پر گیارہواں سجدہ سورة ص کی آیت 24 پر بارہواں سجدہ سورة حم السجدہ کی آیت 38 پر ، تیرہواں سجدہ سورة النجم کی آیت 62 پر ، چودھواں سجدہ سورة الانشقاق کی آیت 21 پر اور پندرہواں سجدہ سورة العلق کی آیت 19 پر ہے لیکن معروف یہی ہے کہ کل چودہ سجدے ہیں اور یہ فرق نہ پہلے کوئی نکال سکا ہے اور نہ ہم نکال سکتے ہیں اگرچہ ہم نے پندرہ کی گنتی پوری کردی ہے اور اسی طرح سورة ص کی آیت 24 کی بجائے آیت 25 پر سجدہ کرایا جاتا ہے اگرچہ یہ بات صحیح نہیں ہے بلکہ صحیح یہی ہے کہ آیت 24 پر سجدہ کیا جائے۔
Ayah 41:39جو لوگ قیامت کے آنے سے انکاری ہیں ان کے لیے دلیل قاطع
39 ؎ جب زمین خشک ہوجائے اور اس پر مینہ نہ برسے اور اس لحاظ سے زمین مردہ ہوجائے اور سبزہ اس میں نہ اُگ سکے اس کو { خاشعۃً } سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح (ارض خاشعۃ) اس زمین کو بھی کہا جاتا ہے جسے نرمی کے باعث ہوائیں اڑا کر کہیں سے کہیں پھینک دیں۔ زیر نظر آیت میں وہی زمین مراد ہے جو خشک ہوجائے اور پیداوار کے قابل نہ رہے اور یہ مثال بیان کی جا رہی ہے ان لوگوں کے لیے جو قیامت کے آنے سے منکر ہیں کہ تم لوگ قیامت کے آنے کی بات کا مذاق اڑا رہے ہو کیوں ؟ محض اس لیے کہ تم اس کو بعید از عقل سمجھتے ہو حالانکہ تم روزمرہ زندگی میں دیکھ رہے ہو کہ زمین بالکل خشک ، بےجان اور بےبرگ وگیاہ ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے قانون قدرت کے مطابق اس پر پانی نازل کردیتا ہے اور زمین ہری بھری ہوجاتی ہے۔ کیا یہ اس مردہ زمین کی زندگی نہیں ہے کہ کل جو زمین سڑی پڑی تھی اور سبزہ کا نام و نشان بھی نظر نہیں آتا تھا آج اس میں زندگی کہاں سے آگئی ہے کہ ہر طرف ہریاول ہی ہریاول نظر آرہی ہے۔ اللہ کریم نے جس طرح اس زمین پر بادل کی گھٹا کو برسنے کا حکم دیا اور وہ ربِّ الجلال والا کرام کے حکم سے بری پڑی پھر کیا تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ سبزہ زار ہوگئی بلاشبہ جب حکم الٰہی ہوگا تو پوری دنیا کو ایک بار تباہ و برباد کر کے اس کے نشیب و فراز کو مٹا کر اس کو { قاعاً صفصفاً } ہتھیلی کی طرح صاف ستھرا بنا دیا جائے گا اور پھر حکم ہوگا کہ جو لوگ اس دنیا میں آنے کے بد مر چکے ہوں گے دوبارہ اس میدان میں زندہ ہو کر حاضر ہوں تو دیر نہیں لگے گی کہ وہ اللہ کے حکم سے زمین کی اس انگوری کی طرح نظر آنے لگیں گے اور بلاشبہ یہی ان کا دوبارہ اٹھایا جانا ہے اور وہ اس طرح ہے جس طرح اس زمین کی موت کے بعد اس کا زندہ ہونا ہے بار بار یہ عمل ہوتے رہنا اپنی آنکھوں سے روز دیکھتے ہو پھر تم انسانوں کا اس طرح جی اٹھنا کیوں بعید از عقل سمجھتے ہو کیا جو اللہ اس مردہ زمین کو دوبارہ زندہ کرسکتا ہے انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے ؟ اگر نہیں تو آخرکیوں ؟ بہرحال تو مانو یا نہ مانو اللہ ربِّ کریم اس بات پر قادر ہے اور وہ یینا انسانوں کو اس طرح پیدا کر دے گا۔
Ayah 41:40ملحدین ہماری نظروں سے اوجھل نہیں ان کو آگاہ رہنا چاہئے
40 ؎ ملحد کون ہیں ؟ وہی لوگ جو حق سے اعراض کرتے ہوئے ایک طرف کو جھک جاتے ہیں اور ایسے ایسے اعتراض پیدا کرتے ہیں جن کے پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوتا گویا حق سے منہ پھیر کر باطل کی طرف مائل ہوجاتے ہیں اور آیتوں سے الحاد کے معنی یہی ہیں کہ قرآن کریم کی عبارت کسی اور طرف جا رہی ہو اور اس کا مفہوم کچھ اور ہی بتایا جاتا ہے اور ایسا استدلال کیا جائے جو ظاہر استدلال نہ کہا جاسکتا ہو جس طرح ہمارے اسلامی مکاتف فکر اکثر کرتے ہیں مثلاً قرآن کریم کی سورة الاعراف کی آیت 204 کا تعلق امام کے پیچھے سورة فاتحہ کے پڑھنے سے مطلق نہیں ہے جیسا کہ اس سورت کی آیت 26 میں ہم نے بیان کردیا ہے کہ یہ آیت سورة السجدہ کی آیت 26 میں جو کفار نے اسکیم تیار کی تھی کہ جب اور جہاں قرآن کریم پڑھا جاتا ہو وہاں تم شورو غوغا کرو تاکہ قرآن کریم کی سمجھ کسی کو نہ آسکے تو اس کے رد میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خاص ہدایت دی کہ جب قرآن کریم پڑھا جائے تو تم خاموشی کے ساتھ سنا کرو تاکہ تم اس کو سمجھ سکو لیکن ایک گروہ نے اس سے وہ استدلال شروع کردیا جس استدلال کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ ایک بات ہے لیکن اس طرح کی بیسیوں نہیں سینکڑوں باتیں ہیں جو مسلمان گروہوں کے درمیان خواہ مخواہ لڑائی کا باعث ہو رہی ہیں جب کہ ان آیات کا اس مفہوم سے دور کا بھی واسطہ نہیں جو ان سے استدلال کر کے نکالاجاتا ہے۔
زیرنظر آیت میں ارشاد ہے کہ وہ لوگ جو قرآن کریم کی آیات کریمات کا رخ اس طرف کو پھیرنے کی کوشش میں مصروف ہیں جس طرف کو ان کا رخ نہیں پھرتا اور پھر اس پر بضد ہیں اور کج بحثیوں میں مبتلا ہیں اور دوسروں کو بھی کر رکھا ہے ہم ان سے غافل نہیں اور نہ ہی وہ ہم سے کوئی چھپے ہوئے ہیں۔ آپ غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ آج بھی مذہبی پیشوا اور سیاسی لیڈر یہی کچھ کر رہے ہیں اور قرآن کریم کی آیات سے ایسے ایسے استدلال کرتے ہیں جن استدلالات کی کوئی گنجائش تک نہیں جیسا کہ پیچھے اس صورت کی آیت 25 میں بھی اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ اس جگہ بھی فرمایا جا رہا ہے کہ جب وہ ہم سے مخفی نہیں ہیں تو یقینا ایک دن ہم ان سب کو اس کا مزہ چکھائیں گے۔ اچھا تم ہی بتاؤ کہ وہ شخص جو آگ میں پھینکا جائے اچھا ہے یا وہ جو آگ سے بچالیا جائے اور قیامت کے روز امن و سلامتی میں رہے ، عزت و احترام کے ساتھ اس کو جنت میں داخل کردیا جائے۔ فرمایا بات ہم نے آپ کو پہنچا دی ہے اب تمہاری مرضی کہ جس طرح سے چاہو اعمال کرتے رہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر عمل سے خوب اچھی طرح واقف ہے لنکا اس نے اپنے قانون امہال کے تحت جو تم کو ڈھیل دے رکھی ہے اور تم کو آزاد چھوڑ دیا ہے کہ جیسے چاہو اعمال کرتے رہو وہ آزادی تم سے واپس لینے کو تیار نہیں اور عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ اس آزادی سے کیے گئے اعمال کی تم سے باز پرس ہوجائے گی اور ان کا نتہجا کھل کر تمہارے سامنے آجائے گا۔ آیت کے الفاظ پر غور کرتے جاؤ مفہوم خود بخود واضح ہوتا چلا جائے گا کہ اختیار دینے والا کیا ارشاد فرما رہا ہے۔
Ayah 41:41کفار کون ہے ؟ وہی جو قرآن کریم سے منحرف ہیں اور حق کو حق نہیں کہتے
41 ؎ قرآن کریم اللہ ربِّ الجلال والا کرام کی آخری ہدایت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کی طرف بھیجی گئی ہے اس کے بعد کوئی کتاب ہدایت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوگی۔ قیامت تک کے لوگوں کے لیے یہی ذکر ہے اور اس سے ان کو نصیحت حاصل کرنا ہے۔ مخالفین و معاندین اپنا زور لگانا ہی چاہتے ہیں تو لگا کر دیکھ لیں اس کی حقیقتوں کو جھٹلایا نہیں جاسکتا اس لیے کہ اس کا نزول اس ذات کی طرف سے ہوا جو ذات حق ہے اور حق ہونے میں سب پر غالب ہے کیونکہ اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں اور حق کو حق نہ تسلیم کرنے کا انجام سارے انسانوں کی آنکھوں کے سامنے ہے گزشتہ قوموں نے بھی دیکھا اور قریش بھی دیکھیں گے اور ان کے بعد آنے والے لوگ بھی کیونکہ یہ کتاب ایسی ہے جو قیامت تک کے انسانوں کے لیے منبع ہدایت ہے بلاشبہ اس کا نازل کرنے والا بھی عزیز ہے اور یہ کتاب خود بھی اسی صفت سے متصف ہے اور اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ یہ ایک قانون خداوندی ہے نہ کہ محض درخواست اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کا جو حال ہوتا ہے وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے پھر قانون الٰہی کی خلاف ورزی کرنے والے اس کی گرفت سے کیونکر بچ سکتے ہیں۔
Ayah 41:42قرآن کریم وہ کتاب ہے جو آگے اور پیچھے دونوں طرف سے محفوظ ہے
42 ؎ قرآن کریم کے آگے اور پیچھے دونوں طرف سے محفوظ ہونے کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ وہ کتاب ہے جو اللہ ربِّ الجلال والا کرام کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور اس کے لانے ولاے جبریل امین ہیں اور جن کی طرف سے یہ کتاب بھیجی گئی ہے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ ان کی امانت و دیانت اور سچائی و صداقت بھی ضرب المثل ہے اس لیے بحمد اللہ یہ کتاب دونوں طرف سے محفوظ ہے ، اس میں کمی بیشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی دوسری کتابیں ہیں جن کو یہود و عیسائی اور خود مکہ کے لوگ بھی تسلمی کرتے ہیں جیسے صحائف ابراہیمی اس لیے اس کی سچائی کو پچیھے سے محفوظ کردیا گیا ہے کہ جو قرآن کریم کہہ رہا ہے وہ وہی ہے جس کو گزشتہ کتابیں کہتی آئی ہیں اور جس کی شہادت آج بھی آسمانی کتب دے رہی ہیں اور قرآن کریم کے کتاب اللہ ہونے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے رسول ہونے کی بشارات بھی ان میں موجود ہیں اور کوئی آسمانی کتاب بھی ایسی نہیں جو اس کی تصدیق نہ کرتی ہو اس لیے اس کتاب کو گویا پیچھے سے محفوظ کردیا گیا ہے اور آگے سے یہ اس طرح محفوظ ہے کہ اس کے بعد کوئی کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں آئے گی یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب اور محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا یا پرانا رسول نہیں آئے گا۔ اور یہ بات بھی اپنی جگہ صحیح اور درست ہے کہ گزشتہ کتب آسمانی کی حفاظت حاملین کتب آسمانی پر ڈالی گئی تھی جس کو بلاشبہ وہ پورا نہ کرسکے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری براہ راست اللہ ربِّ الجلال والا کرام نے اپنے ذمہ لی ہے جس میں کسی طرح کا کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس کی وضاحت قرآن کریم نے خود دوسری جگہ کردی ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے : { انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون } (9:15) جس کی وضاحت پیچھے اس کے مقام پر گزر چکی ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ اس اللہ ربِّ کریم کی طرف سے نازل ہوا ہے جو حکیم بھی ہے اور حمید بھی کہ وہ دوسروں کی تعریف کا محتاج نہیں بہت سی مخلوق ہے جو اس کی تعریف کے گیت گانے والی ہے یعنی اس کی تخلقک ہی محض اس لیے ہے کہ وہ اس کی تعریف وتحمید میں لگی رہے۔
Ayah 41:43اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کے لیے وہی کچھ کہا جا رہا ہے جو پہلے رسولوں کو کہا گیا
43 ؎ یہ فطرتِ انسانی کا بیان ہے کہ ایک انسان کے ساتھ کچھ ہوا تو اس کی تسلی کے لیے یہ کہا جاتا ہے کہ دیکھو جو کچھ آپ کے ساتھ ہوا پہلے بھی فلاں فلاں کے ساتھ ایسا ہوچکا ہے چونکہ کفار مکہ آپ کو کبھی ساحر اور کبھی سحرزدہ ، کبھی کذاب اور کبھی شاعر و مجنون کے الفاظ سے یاد کرتے تھے اس لیے آپ ﷺ کو بطور تسلی کہا جا رہا ہے کہ یہ جو کچھ آپ ﷺ کو کہہ رہے ہیں یہ سب کچھ آپ ﷺ سے پہلے رسولوں کو بھی کہا گیا ہے اور جس طرح انہوں نے اپنے اپنے وقت مخالفین و معاندین سے اس طرح کی باتیں سن کر صبرو ثبات سے کام لیا آپ ﷺ کو بھی لینا ہوگا کیونکہ جو پیغام انہوں نے دیا وہی پیغام آپ ﷺ ان کو پہنچا رہے ہیں اور جو جواب گزشتہ انبیاء کو ملا وہی آپ ﷺ کو بھی مل رہا ہے اس سے یہ بات بھی سمجھ لو کہ جو کچھ پچھلے مخالفین کے ساتھ ہوا وہی کچھ تمہارے مخالفین کے ساتھ بھی ہوگا۔ گزشتہ انبیاء و رسل کو جو کچھ کہا گیا اس کو بھی ہم دیکھتے ہیں اور جو کچھ آپ ﷺ کو کہا جا رہا ہے اس کو بھی ہم دیکھ رہے ہیں لیکن ان کو بھی ہم نے ڈھیل دی اور آپ ﷺ کے مخالفین کو بھی دے رہے ہیں گویا سارے نبیوں اور رسولوں کی حالت ایک دوسرے کے ساتھ منطبق ہوتی چلی آئی ہے اور آپ ﷺ کی حالت بھی اسی طرح منطبق ہو رہی ہے یہ آپ ﷺ کے رب کا حلم اور عفو ہے کہ اس کے رسولوں کو جھٹلایا گیا ، گالیاں دی گئیں ، اذیتیں پہنچائی گئیں لیکن اس کے باوجودان کے مخالفین کو فوراً نہیں پکڑ لیا گیا اور یہی حال آپ ﷺ کے مخالفین کا ہے۔ ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ جہاں وہ حلمن و بردبار ہے وہاں وہ پیچھا کرنے والا بھی ہے اور درد ناک عذاب دینے والا بھی۔
Ayah 41:44قرآن کریم کو اگر کسی عجمی زبان میں نازل کیا جاتا تو بھی انہی لوگوں کو اعتراض ہوتا
44 ؎ قرآن کریم سے پہلے کی معروف آسمانی کتب کی زبان عبرانی تھی اور ان کے خلاف قرآن کریم کی زبانخالص عربی ہے اس پر یہود و نصاریٰ کو یہ اعتراض تھا کہ قرآن کریم اگر اللہ کی کتاب ہوتا تو اس کی زبان بھی عبرانی ہوتی اگرچہ ان کا یہ اعتراض معقول نہیں تھا کو کن کہ وہ کتابیں جن رسولوں پر نازل ہوئیں ان کی زبان بھی عبرانی تھی اور ان اقوام کی زبان بھی عبرانی تھی یہی وجہ تھی کہ ان کتابوں کی زبان عبرانی ہوئی تاہم یہود و نصاریٰ کے لیے تو یہ اعتراض ہوتا لیکن اس کو قریش مکہ نے کیسے اٹھا دیا جب کہ ان کی اپنی زبان عربی تھی۔ انہوں نے محض دوسروں کے اکسانے پر ایسا کہہ دیا اور یہ نہیں غور کیا کہ اگر قرآن کریم کی زبان کوئی بھی عجمی زبان ہوتی تو ان کو سب سے زیادہ اعتراض ہوتا کہ جب یہ قرآن ہماری زبان میں نازل نہیں ہوا تو ہم اس کے اوّل مخاطب کیونکر ہوئے یہ تو ان لوگوں کے لیے ہے جو عجمی ہے اس لیے کہ اس کی آیتیں ہماری سمجھ میں تو نہیں آتیں کیونکہ ان کی زبان صاف نہیں ہے اگر اس قرآن کریم کی زبان عربی ہوتی تو ہم سمجھتے کہ قرآن کریم کے اوّل مخاطب ہم ہی لوگ ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ قرآن کریم عجمی زبان میں نازل ہوا اور ہماری زبان عربی ہوئی گویا یہ وہی بات ہے جس کو اس طرح ادا کیا جاتا ہے کہ ” تم آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہو ؟ “
قرآنِ کریم کے عربی ہونے میں کیا حکمت ہے ؟ اس کی وضاحت ہم پیچھے کرچکے ہیں اور اس جگہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ لوگ کچھ بھی کہیں کہتے رہیں بہرحال قرآن کریم ہدایت اور شفا ہے مگر ان لوگوں کے لیے جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کو اللہ کی کتاب مانتے اور تسلیم کرتے ہیں۔ رہے وہ لوگجو صرف کٹ حجتیاں کرتے ہیں کرتے ہیں اور ان کا کام ہی کٹ حجتیاں کرنا ہے وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ وہ ایمان نہیں لائے کہ ان کے کانوں میں گرانی ہے اور نہ صرف یہ کہ ان کی آنکھیں اندھی ہیں بلکہ ان کے دل اندھے ہوچکے ہیں کہ وہ سیدھی اور صاف بات سننے کیل یے تیار ہی نہیں کیونکہ وہ ٹیڑھی بات سننے کے عادی ہوچکے ہیں۔ دیہات کی زندگی کو اس بات کے سمجھنے میں کچھ بھی دشواری نہیں ہے کیونکہ یہاں ہر وقت اس کا تجربہ ہوتا رہتا ہے اور یہاں طبقاتی تقسیم اس طرح ہوچکی ہے کہ اس کا سمجھنا مشکل نہیں۔ بعض لوگ ایسے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں کہ اگر ان کا نام بگاڑ کر اور دو تین گالیاں نکال کر بات کی جائے تو وہ کام کرنے پر فوراً آمادہ ہوجاتے ہیں اور خوش بھی ہوتے ہیں کہ چوہدری صاحب نے یہ کام کہا ہے اور اگر کوئی دوسرا آدمی ان کا سیدھا نام پکار کر ادب و احترام کے ساتھ ان سے بات کرے تو ہرگز پروا نہیں کرتے اور سنی اَن سنی کردیتے ہیں اس لیے یہ محاورہ عام ہے کہ ” لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ “ ایک تو اس طرح کے اندھے اور بہرے ہیں جن کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے لیکن ایک وہ ہیں جنہوں نے قرآن کریم کو ہدایت اور شفا تو سمجھا ہے لیکن اس کا مفہوم انہوں نے اپنے پاس سے کچھ غیب سا پیدا کرلیا ہے کہ اس کو مریضوں اور بیماروں کے لیے تعویذ بنانے لگے ہیں اور ان کو گھول گھول کر پلانے لگے ہیں اور پیار و محبت کی پینگیں چڑھانے کے لیے اس کی ضمانت پر کام کرنے لگے ہیں اور اس طرح وہ اپنے دلوں کے امراض کے لیے اس کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کی حالت بھی بڑی عجیب ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ” آسمان سے گرا اور کھجور پہ اٹکا “ فرمایا ان کو بتا دو کہ ابھی تو ان کو بہت قریب سے پکارا جا رہا ہے کہ خود اللہ کا رسول محمد رسول اللہ ﷺ ان کے پاس بنفس نفیس موجود ہے جو اللہ کی کتاب اور اس کا پیغام لے کر ان کے پیچھے پیچھے ان کو سنانے کے لیے اور ہدایت دینے کے لیے موجود ہے لیکن ان کو اس کی ذرا بھی قدر نہیں ہے اور اپنی رعونت کے باعث یہ لوگ اس کی بات سننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں لیکن ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وقت کتنی تیزی سے گزر رہا ہے اور گھڑی کی ٹک ٹک ان کی زندگی کو کس طرح ختم کر رہی ہے اور ان کی اپنی ہی سانس اس کو کس طرح گھٹاتی چلی جا رہی ہے کہ ہر سانس ان کی عمر کو کھائے جا رہا ہے پھر یہ ایسی منزل کے مسافر ہیں کہ جس کے ختم ہونے کا ان کو علم ہی نہیں کہ شاید جو قدم انہوں نے اٹھایا ہے وہ آخری ہے یا ابھی چند قدم اور بھی آگے ہیں اگر یہ قریب کے بلائے جانے والے داعی کی بات پر کان نہیں دھرتے تو ان کو دور سے بلانے والا داعی بھی آواز دے رہا ہے اور پھر جب ہی اس کی آواز ان کے کان پڑے گی تو یہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی طرف بھاگ پڑیں گے اور مجال نہیں ہوگی کہ اس میں ایک ذرا بھی تاخیر کریں۔ زیر نظر آیت کی مزید وضاحت چاہتے ہوں تو اس سورت کی آیت ایک تا پانچ کا مطالعہ بھی کریں اس سے زیادہ وضاحت وہاں مل جائے گی کیونکہ یہ آیت ان گزشتہ آیتوں کی تفسیر ہے۔
Ayah 41:45ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی کتاب دی اور اس میں بھی اختلاف کیا گیا
45 ؎ قرآن کریم سے پہلے عیسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی گئی تھی اور ان سے بھی قبل موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات دی تھی لیکن اس میں بھی اختلاف کرنے والوں نے اختلاف کیا بعض نے اس کو مانا اور تسیمو کیا اور بعض نے اس کو تکذیب کی اور پھر یہ بھی کہ جن لوگوں نے اس کو تسلیم کیا انہوں نے اس میں تحریف شروع کردی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج تورات کے بیانات صریحاً ایک دوسرے کے خلاف نظر آنے لگے اور اس پر طرہ یہ کہ نہ تو تورات کا کوئی اصل نسخہ ہی باقی رہا اور نہ ہی حاملین اوّل موجود رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کھرا اور کھوٹا اس طرح مل گیا کہ اس کا الگ الگ کرنا محال ہوگیا کیونکہ جب بھی کسی نے اس معاملہ میں کوشش کی تو اختلافات نے مزید جنم لیا جس کا نتیجہ بہت ہی خطرناک رہا لیکن قرآن کریم نے آ کر حق کو حق اور باطل کو باطل کر دکھایا لیکن یہود نا مسعود کہ قرآن کریم کے حق کو حق ثابت کرنے پر ان کو یقین نہ آیا اور وہ اپنی تحریف شدہ باتوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اگر ربِّ ذوالجلال والا کرام کی طرف سے یہ بات طے نہ ہوتی تو اس کا فیصلہ اسی وقت کردیا جاتا لیکن وہ جس شک میں مبتلا ہیں ان کا اس شک میں مبتلا رہنا ایک طے شدہ امر ہے کہ اب وہ اس شک میں رہیں گے۔ زیر نظر آیت چونکہ سورة ہود میں گزر چکی ہے اس لیے بہتر ہے کہ مزید تفصیل کے لیے سورة ہود کی آیت 110 کی طرف مراجعت کی جائے اور سورة ہود عزوۃ الوثقی کی جلد چہارم میں ہے اور یہی مضمون آگے جلد ہذا کی سورة الشوریٰ کی آیت 14 میں آ رہا ہے۔
Ayah 41:46جو شخص اچھے عمل کرتا ہے اس کو فائدہ اور برے عمل کرنے والے کا نقصان بھی اپنا ہے
46 ؎ زیر نظر آیت میں قانون الٰہی کا اعلان بھی ہے اور متکبرین سے بےپروائی کا اظہار بھی اور قانون الٰہی یہ ہے کہ جو شخص نیکی کرتا ہے کل اس نیکی کا نتیجہ بھی اس کو ملے گا اور بعینہٖ برائی کمانے والا بھی اپنی برائی سے دوچار ہوگا اور اس کا وبال بھی اس پر پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ کا کسی کے نیکی کرنے سے کچھ فائدہ اور کسی کے برائی کرنے سے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ اللہ بےنیاز ہے اس کو کسی کی کوئی احتیاج نہیں اور نہ ہی اس کی طرف سے کسی انسان پر کسی طرح کا کوئی ظلم ہوگا جس کے جو اعمال ہوں گے اس کے ثمرات و نتائج وہ ان کے سامنے پیش کر دے گا اور اس کو ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ جو کچھ کوئی بیجے گا کل وہی کچھ کاٹے گا۔ رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے جو رسول بھیجتا رہا اور اب بھی اپنے بندوں کو نبی اعظم و آخر ﷺ کی دی ہوئی دعوت کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے جو لوگوں کو توفیق بخشتا ہے تو وہ ایسا کیوں کرتا ہے ؟ محض اس لیے کہ وہ اس کے بندے ہیں اور وہ ان سارے بندوں کا خالق اور رب ہے اس لیے یہ ساری بھاگ دوڑ اپنے بندوں ہی کی بھلائی کے لیے ہے جو دعوت دیتے ہیں ان کا اپنا فائدہ ہے اور جو دعوت کو قبول کرتے ہیں ان کا بھی اپنا فائدہ ہے اور اللہ ربِّ کریم کی طرف سے لوگوں پر اتمام حجت ہو رہی ہے کہ میں نے تم کو خلق کیا اور خالقیت کے سارے تقاضے پورے کردیئے ، میں تمہارا کہلاتا ہوں تو سارے تقاضے ربوبیت کے بھی پورے کر رہا ہوں پھر تم میرے بندے ہو اور بندہ ہونے کے ناطے سے جو ذمہ داریاں تم پر عائد ہوتی ہیں ان میں تم کوتاہی کرتے ہو تو اس کوتاہی کو تسلیم کر کے اگر معافی مانگنا بھی پسند نہیں کرتے تو ظاہر ہے کہ تم خود ہی اپنی ذات پر ظلم کر رہے ہو اور ظاہر ہے کہ اس ظلم کا وبال بھی تم ہی پر پڑے گا میری طرف سے اپنے کسی بندے پر کسی طرح کا ظلم نہیں ہوگا تو بلاشبہ وہ ذرہ بھر بھی نہیں ہوگا اور یہ مضمون قرآن کریم میں بار بار بیان ہوا ہے اگرچہ الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ ہی ہوا ہو تاکہ اس طرح اس کی مکمل وضاحت ہوجائے اور یہ آیت بعینہٖ سورة الجاثیہ کی آیت 15 کے طور پر بھی بیان ہوئی ہے اور اسی جگہ اس آیت پر چوبیسواں پارہ ختم ہو رہا ہے۔
Ayah 41:47اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دینے کا دن اور وقت کب آئے گا ؟
47 ؎ گزشتہ آیت میں اچھے یا برے اعمال کا بدلہ دیئے جانے کا ذکر تھا جس سے مخاطبین کے ذہن میں اکثر یہ سوال ابھرتا ہے کہ ہم جب وہ کچھ کر رہے ہیں جن سے آپ ہم کو منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر تم نے ایسے اعمال کیے تو ہم کو یہ سزا دی جائے گی جب ہم وہی کچھ کر رہے ہیں تو آخر ہم کو وہ سزا کیوں نہیں ملتی ؟ مخالفین کا یہ سوال کئی ایک مقامات پر ذہرایا بھی گیا ہے لیکن اس جگہ بغیر اس کے ذکر کرنے کے اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ کیا باقی سب کچھ تم جان چکے ہو اور صرف اور صرف یہی قیامت کا ایک دن ایسا رہ گیا ہے جس کے متعلق تم کو اتنی تشویش ہے کہ پھر وہ دن آ کیوں نہیں جاتا یا آئے گا تو کب آئے گا ؟ اس سوال کو دہرانے سے بقل ذرا تم یہ تو بتاؤ کہ یہ پھل دار درخت جو تم نے لگایا ہے بتا سکتے ہو کہ یہ کس روز اور کس وقت پھل کا خوشہ تمہارے سامنے پش کر دے گا ؟ ایک ایسا حمل جس کے تم خود باعث ہوئے کیا اس حاملہ کے حمل کے بارے میں تم بتا سکتے ہو کہ یہ کس تاریخ اور کسی وقت تک اس کو وضع کر دے گی اور یہ بھی کہ جو کچھ یہ وضع کرے گی وہ نر ہوگا یا مادہ ، صحیح وسالم ہوگا یا اس میں کوئی کمی بیشی ہوگی جب ایسی سطحی اور روزمرہ زندگی میں آنے والی باتوں کے متعلق بھی تم کامل اور مکمل علم نہیں رکھتے اِلّا یہ کہ جو کچھ تم نے تجربہ سے حاصل کیا ہے اور وہ بھی سو فی صد صحیح نہیں بتا سکتے اور اندازہ اور تجربہ بارہا غلط بھی نکل سکتا ہے اور تمہارے اندازہ سے قبل یا دیر سے بھی وضع ہوتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ پایہء تکمیل ہی کو نہ پہنچے۔ اس سے آگے بڑھ کر وہ باتیں جن سے روزانہ بلاناغہ تم کو واسطہ پڑتا ہے ان کے اوقات بھی تم فکس نہیں کرسکتے بلکہ ٹائم سے آگے پیچھے ہوجانا ممکن ہے تو تم کو قیامت کے بارے میں اتنی کیوں فکر لگ گئی ہے کہ وہ آ کیوں نہیں جاتی ؟ آخر تم نے اس دن کے لیے کیا تیاری کی ہے جس کے نتیجہ میں تم لیٹ ہو رہے ہو۔ یہ جو تم کو ڈھیل دی جا رہی ہے اس کو غنیمت کیوں نہیں جانتے ؟ کیا تم کو معلوم نہیں ہے کہ جو مر جاتا ہے اس کی قیامت تو بپا ہو ہی جاتی ہے۔ کیا تم نے کبھی کسی کو مرتے نہیں دیکھا یا سنا ؟ کیا تمہارے مرنے والوں میں سے کوئی واپس بھی آیا ہے ؟ کیا تم بھی مرو گے یا نہیں ؟ اگر مرو گے تو کیا تم کو واپس آنے کی کوئی امید ہے ؟ یہ اور اس طرح کے کتنے ہی سوال ہیں جن کا جواب تم نہیں دے سکتے اور اگر تم کچھ کہو گے بھی تو حتمی نہیں کہہ سکتے پھر تم کو یہ معلوم کرنے کی کیوں ضرورت پیش آئی کہق یا مت کب آئے گی ؟ اس کی مزیدوضاحت درکار ہو تو عزوۃ الوثقی کی جلد ششم میں سورة الفرقان کی آیت 18 , 17 جلد ہفتم میں سورة لقمن کی آیت 34 ، سورة ال مومن کی آیت 74 , 73 کا مطالعہ کریں مزید تفصیل آپ کو مل جائے گی۔
فرمایا وہ دن ایسا ہوگا کہ ” اس دن وہ ان لوگوں کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک ؟ وہ کہیں گے کہ ہم عرض کرچکے ہیں کہ آج ہم میں سے کوئی اس کی گواہی دینے والا نہیں ہے۔ “ مطلب یہ ہے کہ اگر قیامت کے دن سے بےپروائی ان لوگوں کو اپنے مزموعہ شرکاء کے بل پر ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اس روز جب اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام ان کو حکم دے گا کہ جن جن لوگوں کو تم نے میرا شریک گمان کر رکھا تھا ان کو بلاؤ تاکہ وہ تمہارے کچھ تو کام آئیں اور تم کو میری پکڑ سے چھڑا لیں تو یہ جواب دڈیں گے کہ ہم نے عرض کردیا ہے کہ اب ہم میں سے کوئی بھی اس کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ ان میں سے کوئی بھی تیرا شریک ہے گویا ان کی مثال اس بلی کی سی ہے جو سو چوہے کھا کر پھر پاک کی پاک ہے۔ لیکن بعض مفسرین نے { اذنک ما منا من شہیدٍ } کو ان کے مزعومہ شرکاء کا قول بھی تسلیم کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ جب مشرکوں سے یہ مطالبہ کرے گا کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم نے میرا شریک گمان کیا تھا ؟ تو جن جن کی انہوں نے پرستش کی ہوگی وہ سبقت کر کے اپنی صفائی میں یہ جملہ کہیں گے کہ ہم میں سے تو ایک بھی ایسا نہیں ہے جو اس بات کا گواہ بننے کے لیے تایر ہو کہ کوئی تیرا شریک ہے اور علاوہ ازیں بھی اس کا مفہوم بیان کیا گیا ہے جو اپنے اپنے مقام پر درست ہو سکتا ہے۔
Ayah 41:48جن جن کو وہ پکارتے رہے سب کے سب اس روز کھوئے جائیں گے
48 ؎ بلاشبہ وہ دن ہی ایسا دن ہے کہ سارے پیر اپنے مریدوں سے اور سارے مرید اپنے پیروں سے اظہار براءت کریں گے یہی وجہ ہے کہ وہ دن مشرکوں کی نامرادی اور ناکامی کا دن ہوگا کیونکہ انہوں نے جن جن سہاروں اور آسروں سے اس دن کو بھلائے رکھا اور اس کے لیے کچھ بھی تیاری نہ کی اس دن ان سب کو یقین ہوجائے گا کہ اب عذاب الٰہی سے ان کو کوئی نہیں بچائے گا اور اس وقت ان کو یقین ہوجائے گا لیکن اس وقت کسی بات کا یقین آجانا جب اس کا وقت نکل چکا کیسے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ گاڑی جب چھوٹ گئی تب یقین آیا کہ ہاں فی الواقع گاڑی چھوٹ گئی تو کیا وہ اس یقین سے واپس آجائے گی ؟ اگر نہیں اور فی الحقیقت نہیں تو اس یقین کا فائدہ ؟ ہاں ! اس وقت جب تک سانس موجود ہے کوئی اس سے استفادہ کرنا چاہے اور اب یقین کرلے تو اس نے اس سے فائدہ حاصل کرلیا اور اس فائدہ حاصل کرنے کے لیے اس مضمون کو بار بار پیش کیا گیا اور بتایا گیا کہ ابھی وقت ہے اس حقیقت کو حقیقت تسلیم کرلو کہ صبح کا بھولا اگر شام کو گھر واپس آجائے تو اس بھولے کی خیر ہے۔
Ayah 41:49انسانی کمزوری کا ذکر کہ وہ برائی بیجتا ہے اور نیکی کاٹنے کو پسند کرتا ہے
49 ؎ { الانسان } سے مراد اس جگہ ہر ایک انسان نہیں اور نہ ہی کوئی ایک مخصوص انسان ہے بلکہ مخالفین و معاندین جو اللہ ، رسول اور خصوصاً قیامت کے منکرین ہیں وہ سب اس سے مراد ہیں گویا جن لوگوں نے اس وقت نبی کریم ﷺ کے سامنے شور بپا کر رکھا تھا کہ جس قیمت کا آپ ﷺ بار بار کہہ رہے ہیں اس کو لے کیوں نہیں آتے ایسے سارے انسانوں کو بطور جنس خطاب کر کے کہا جا رہا ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ دنیا کی بھلائی اور خیر مانگتے ہرگز نہیں تھکتے بلکہ ان کا حال یہ ہے کہ سارا مال ، سارا رزق ، تندرستی اور صحت ، بہت سی اولاد وہ بھی نرینہ اور دینا کا اقتدار ان ساری چیزوں کی ہوس تو ان کو ہر وقت لگی رہتی ہے اور کسی وقت ان کی یہ طلب پوری ہی نہیں ہوتی لیکن یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ جن کو یہ ملتی ہیں کبھی واپس بھی لے لی جاتی ہیں پھر اگر کوئی ایسی بات ہوگئی کہ اللہ نے یہ نعمتیں دے کر اس میں سے کوئی نعمت لے لی تو یہ لوگ مایوس ہونے لگتے ہیں اور اس قدر دل شکستہ ہوجاتے ہیں کہ وہ پہلے انسان نظر ہی نہیں آتے پھر ماتھا رگڑتے ، اپنی کوتاہیوں کا ذکر کرتے ، توبہ و استغفار کرتے اور اللہ تعالیٰ کو پکارنے کے کئی ڈھنگ اختیار کرتے ہیں لیکن جو نہی ان کی کشتی بھنور سے نکلی تو وہی پہلے والی ڈگر پھر دوبارہ شروع کہ نہ اللہ یاد رہا اور نہ ہی اپنی وہ حالت جس میں مبتلا ہوگئے تھے گویا ان کے نزدیک بھلائی اور خیر محض انہی چیزوں کا نام ہے جن کا پیچھے ذکر کیا گیا اور ان کو کبھی بھول کر بھی یاد نہیں آیا کہ ہم کو مرنا بھی ہے اور ان ساری نعمتوں کے ملنے کے بعد ان کے بارے میں ہم سے کسی نے سوال بھی کرنا ہے۔ اس مضمون کو قرآن کریم میں بار بار دہرایا گیا ہے اور مختلف طریقوں ، مثالوں اور یاد دہانیوں سے ان کا رخ اس طرف موڑنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ اس حالت سے نکل کر صحیح اور درست حالت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس مضمون کی آیات سورة یونس میں بھی بکثرت ہیں اور نہایت وضاحت سے وہاں ہم نے اس کو بیان کیا ہے۔ عزوۃ الوثقی کی جلد چہارم میں یورۃ یونس ہے اور اس سورت کی آیات 23 , 22 , 12 کی تفسیر دیکھیں پھر یہی مضمون جلد ششم میں سورة لقمٰن کی آیت 32 میں بھی وضاحت سے گزر چکا ہے۔ { سام } کا مادہ قرآن کریم میں صرف تین بار استعمال ہوا ہے جن میں سے دو بار اس صورت میں استعمال ہوا کہ آیت میں { لا یسئمون } کا لفظ ہے اور ایک بار اس کا استعمال سورة البقرہ کی آیت 282 میں ہوا ہے جس کے معنی تھکنے یا اکتانے کے ہیں۔
Ayah 41:50ایسے انسانوں کو پکڑنے کے بعد جب چھوڑ دیا جاتا ہے تو ان کی حالت کیا ہوتی ہے ؟
50 ؎ { ولئن اذقنہ } ہٗ ضمیر اس الانسان کی طرف ہے جس کا ذکر پیچھے سے چلا آ رہا ہے جس پر ل ہے انعامات کی بارش ہوئی حالانکہ وہ ناشکرا اور کفر کرنے والا تھا لیکن اللہ نے اپنی ربوبیت کے قانون کے مطابق اس کو کافی حد تک فارغ البال کیا تھا لیکن اس نے اس فارغ البالی سے صحیح فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کی بلکہ غلط در غلط ہی ہوتا چلا گیا پھر اللہ نے اپنے قانون کے مطابق اس خوشحالی اور فارغ البالی میں اس کو پکڑ لیا اور اس پر نئی آزمائش ڈال دی اور وہ اس طرح چیخنے اور چلانے لگا اور اللہ سے لمبی لمبی دعائیں مانگنے لگا اور ہاتھ جوڑنے لگا لیکن جب کچھ پیش نہ چلی تو مایوس ہو کر بیٹھ گیا اس وقت اس کی مایوسی کی حالت دیدنی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی حالت پر دوبارہ مہربانی فرمائی اور اس کو وہ تکلیف اور وہ دکھ جس کے باعث وہ ہلاک ہوئے جا رہا تھا اللہ نے کھول دیا اور اس کی حالت پھر بدلنی شروع ہوگئی جہاں تک کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ خوش حال اور فارغ البال ہوگیا۔ بس اس کی حالت کے بدلنے کی دیر ہوئی کہ وہ شکر گزار ہونے کی بجائے اترانے لگا اور وہی ہم چوما دیگرے نیست کی ڈینگیں مارنے لگا اور گھمنڈ میں آ کر کہنے لگا کہ میں نے یہ کیا اور میں نے وہ کیا ایسا کیا تو میری حالت کتنی سدھر گئی اب مجھے کون اس خوش حالی اور فارغ البالی میں پکڑ سکتا ہے میں بھاگ پڑا ہوں ہے کوئی مجھے پکڑنے والا تو بھاگ کر مجھے پکڑ لے۔ یہ ملاں لوگ تو قیامت قیامت کی رٹ لگاتے رہتے ہیں حالانکہ قیامت و یا مت کچھ بھی نہیں محض ایک ڈراوا ہے جو انہوں نے قوم کو دے رکھا ہے۔ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اگر ہوتی تو آخر آ بھیجاتی ہم تو باپ دادا سے ان لوگوں کی یہی رٹ سنتے آ رہے ہیں لیکن بالفرض اگر وہ ہوئی بھی تو مجھے جس طرح اس جگہ نوازا گیا ہے وہاں بھی یقینا نوازا جائے گا کیونکہ جو یہاں خوش حال اور فارغ البال ہوں گے وہ وہاں بھی یقینا ایسے ہی ہوں گے اور جو یہاں ٹکے ٹکے کے محتاج ہیں ان کی حالت وہاں بھی ایسی ہی ہوگی اور اللہ میاں ان کو پوچھے گا بھی نہیں۔ ہاں ! بعض لوگ بزبگان قال اس طرح کی باتیں کرتے ہیں اور بعض بزبان حال کہہ رہے ہوتے ہیں جن کی حالت یہ سب کچھ بول بول کر کہہ رہی ہوتی ہیں فرمایا ہم ان کی باتیں بھی سن رہے ہیں اور ان کی حالت کو بھی اچھی طرح دیکھ رہے ہیں ہم تو ان کے سینوں کے رازوں سے واقف ہیں ہم ان کو ان کے کفر کا مزہ چکھائیں گے کیونکہ ہم ان کی کرتوتوں کو اچھی طرح جانتے ہیں اس لیے جب ہماری پکڑ کا وقت آئے گا تو ان کا یہ سارا نشہ ہرن ہوجائے گا اور ان کی وزارتیں ، صدارتیں ، مال و دولت اور اعوان و انصار میں سے ایک چیز بھی ان کے کام نہیں آئے گی اور وہ بالکل تن تنہا رہ جائیں گے اور آخرت کے سخت عذاب میں ان کو گرفتار کرلیا جائے گا اور اس وقت ان کی یہ ساری باتیں جو دنیوی خوش حالی میں بنا رہے تھے یک قلم ختم ہو کر رہ جائیں گی۔
Ayah 41:51ایسے انسانوں کی فطرتِ ثانیہ ہی کچھ اس قسم کی ہوتی ہے کہ وہ بےتکی ہانکتے ہیں
51 ؎ ان لوگوں کی عادت ہی کچھ اس قسم کی ہوجاتی ہے کہ یہ گھڑی میں تولہ اور گھڑی میں ماشہ نظر آتے ہیں ان کا ذاتی فائدہ ایک آنہ کا ہو تو یہ قومی سو روپے کے نقصان کو کوئی نقصان نہیں سمجھتے اور اپنا ایک آنہ کا فائدہ نہیں چھوڑتے۔ ان کو ذرا نقصان پہنچ جائے تو چیخنے لگتے ہیں اور غرض پوری ہو تو پھولے نہیں سماتے تکبر اور غرور سے ہر وقت بھرے رہتے ہیں اِلاّ یہ کہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوں تو پھر گردن جھکا دیتے ہیں۔ ان کی صحیح تصویر دیکھنا ہو تو کسی دیوانی عدالت میں چلے جائیے جہاں ان کے ساتھی کسی زمین کے مقدمہ میں پیشی بھگت رہے ہوتے ہیں تو پھر ان کی ساری حالت واضح ہوجائے گی اور اگر مکمل حالات سے واقفیت درکار ہو تو پھر اس چوہدری کو اس کے دہ میں بھی ایک بار دیکھ لیا جائے جس کو عدالت کے جنگلے میں کھڑا دیکھا تھا۔ ان کی حالت کو قرآن کریم نے جن الفاظ میں بیان کیا ہے اس پر نظر رکھو فرمایا { ونا بجانبہ } یہ الفاظ اس شخص کے لیے بولے جاتے ہیں جو تکبر اور غرور کے باعث منہ پھیر لیتا ہے اور یہ حالت ان کی اس وقت ہوتی ہے جب وہ خوشحالی اور فارغ البالی میں ہوتے ہیں کہ اس وقت نہ اللہ یاد رہتا ہے اور نہ ہی قیامت کا ڈر ان کے دلوں میں موجود ہوتا ہے کیوں ؟ اس لیے کہ وہ اس کو دل و جان سے تسلیم ہی نہیں کرتے لیکن اس حالت کے خلاف جب ذرا بھر ان کو ٹھیس پہنچتی ہے جس کا مداوا ان کے پاس ہوتا ، نہ رشوت چلتی ہے ، نہ سفارش اور وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں ہوتے ہیں تو فوراً بڑی بڑی لمبی چوڑی دعائیں شروع کردیتے ہیں اس حالت کو ان الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ بندھے راس آتے ہیں۔ یہی حالت اس وقت روسائے مکہ کی تھی اور یہی حال آج کے وڈیروں کا ہے خواہ وہ دیہات کی سطح پر ہوں اور خواہ وہ قصبوں اور شہروں کی سطح پر اور خواہ ان کا شمار اپنے ملک کے نا خداؤں میں ہوتا ہو اور چاہے ان کا تعلق دنیا کی بڑی بڑی شخصیتوں میں کیا جاتا ہو بہرحال عادات و خصائل ان کے ایک ہی جیسے ہوتے ہیں خواہ وہ کسی معیار کے لوگ ہوں ان کو اتراتے اور بلبلاتے ذرا دیر نہیں لگتی اسی وجہ سے ہم نے ان کو گھڑی میں تولہ اور گھڑی میں ماشہ کہا ہے۔ اس مضمون پر مشتمل آیات کریمات پیچھے گزر چکی ہے مثلاً عزوۃ الوثقی ، جلد چہارم ، سورة یونس کی آیت 11 ، جلد پنجم بنی اسرائیل کی آیت 82 ، جلد ہفتم سورة الروم کی آیت 36 , 33 سورة الزمر کی آیات 49 , 9 , 8 ملاحظہ ہوں۔
Ayah 41:52کتاب اللہ کے ساتھ کفر کر کے گمراہی کو خواہ مخواہ مول نہ لو
52 ؎ زیر نظر آیت میں نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ ” اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہو کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ واقعی یہ قرآن اللہ ربِّ کریم کی طرف سے ہو اور تم اس کا انکار ہی کرتے رہے تو اس شخص سے زیادہ بھٹکا ہوا کون ہوگا جو اس کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو۔ “ اس کا مطلب یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ان کو کہا جا رہا ہے کہ محض اس خطرے کے باعث تم ایمان لے آؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ ہی کی طرف سے ہوا اور تم اس پر ایمان نہ لائے تو پھر کیا ہوگا ؟ یہ کسی شک و شبہ کی وجہ سے بیان نہیں کیا جا رہا بلکہ ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث کہا جا رہا ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کو کتاب اللہ کی طرف جو دعوت دے رہے ہیں وہ عین عقل و فکر کی دعوت ہے لیکن تم ہو کہ محض ضد بازی میں اس کا انکار کیے جا رہے ہو اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی عقل و دانش کی بات نہیں تم سو بار انکار کرو لیکن تمہارا انکار آخر علم کی بنا پر تو نہیں ہو سکتا کہ تم کو اس کا واضح علم ہوگیا ہے کہ یہ کتاب اللہ کی کتاب نہیں ہے تمہاران انکار بھی تو محض ضد ہی کی وجہ سے ہے گویا مخالفین کو یہ کہا جا رہا ہے کہ تمہارا انکار کرنا محض اس گمان کی بنا پر ہو نہ کہ کسی یقین کی بنا پر اندریں صورت اگر اس کا صحیح ہونا تمہاری نگاہ میں محل نظر ہے تو اس کا غلط ہونا بھی محل نظر ہونا چاہئے تب ہی اس کا امکان ہو سکتا ہے کہ دونوں صورتوں کا جائزہ لیا جائے کہ کون سی صورت اس میں صحیح ہے اور کونسی صورت صحیح نہیں ہے۔ اب تم کو چہئے کہ تم اس کا جائزہ لو اور غرو کرو کہ اس دعوت کی بنیاد کیا ہے ؟ اس کی بنیاد یہ ہے کہ قرآن کریم اپنی تکذیب کرنے والوں کو جس انجام سے خبردار کر رہا ہے اور جن دلائل کے ساتھ آگاہ کر رہا ہے وہ ایسی چیز نہیں ہے کہ اس کو مذاق ہی مذاق میں ٹال دیا جائے بلکہ وہ نہایت قوی دلائل کے ساتھ اس ہولناک عذاب کی خبر سنا رہا ہے جس کی ہولناکی میں ذرا بھر بھی مبالغہ نہیں ہے لیکن جو لوگ نہایت ڈھٹائی سے اس کو جھٹلا رہے ہیں اگر ذرا بھر کے لیے بھی وہ غور کریں تو یقینا اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ قرآن کریم کی یہ خبر بالکل صحیح اور درست ہے اس لیے وہ لوگ جو اس میں شک کا امکان پیدا کر رہے ہیں وہ کسی دلیل کی بنا پر نہیں کر رہے بلکہ محض ہٹ دھرمی کی بنا پر کر رہے ہیں اور پیغمبر اسلام ﷺ کی ضد ان سے یہ کرا رہی ہے اور وہ روز بروز اپنے اس اختلاف میں آگے ہی آگے بڑھتے جا رہے ہیں پھر ضد کا جو انجام ہوتا ہے وہ کسی بھی صاحب عقل سے مخفی نہیں۔
Ayah 41:53قرآن کریم اور اسلام کی صداقت کے آثار آفاق وانفس میں پھیلے ہوئے ہیں
53 ؎ زیر نظر آیت میں بتایا گیا ہے کہ ” عنقریب ہم ان لوگوں کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی “ ظاہر ہے کہ ” ہم “ ضمیر سے مراد ہی لوگ ہیں جو مخاطبین اوّل تھے اور جنہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ کی مخالفت رو در رو کی تھی۔ فرمایا جا رہا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب یہ لوگ بھی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ قرآن کریم کی یہ دعوت تمام گرد و پیش ممالک پرچھا گئی ہے اور یہ خود بخود اس کے سامنے گردنیں جھکا چکے ہیں اس وقت یہ لوگ جان لیں گے کہ جو کچھ کل ان سے کہا گیا تھا وہ آج بالکل صحیح نکلا کیوں ؟ اس لیے کہ یہ وہ بلاشبہ سرا سرحق تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی تحریک کا اٹھنا اور پھر پھیل جانا اس بات کی دلیل ہو سکتا ہے کہ یہ تحریک حق ہے ؟ نہیں ! اور یقینا نہیں لیکن انسانوں کی چلائی گئی تحریکوں میں سے کسی ایک کے متعلق بھی ایسے حالات میں جب کہ اس کی مخالفت پورے زوروں پر ہو اور یہی مخالفت کسی کو اس تحریک کے ساتھ وابستہ ہونے سے روک رہی ہو اور پھر تحریک چلانے والے کے ساتھ پورا زمانہ ظلم و ستم کر رہا ہو اور اس کا نام تک لینے سے لوگ ڈر رہے ہوں ایسے حالات میں کسی ایک تحریک چلانے والے کا نام آپ لے سکتے ہیں کہ وہ اس کی کامیابی کی پیش گوئیاں شائع کر رہا ہو اور یہ کہ وہ پیش گوئیاں بالکل صاف اور واضح الفاظ میں کی جائیں اور پھر وہ حرف بہ حرف پوری بھی ہو رہی ہوں سوائے ان تحریکوں کے جو اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور نبیوں نے چلائی ہوں بلاشبہ نہ تو آپ کسی ایک تحریک کا نام لے سکتے ہیں اور نہ ہی اس طرح کی کوئی تحریک چلائی گئی کامیاب ہوئی ہے کسی تحریک کا اٹھنا اور آناً فاناً پھیل جانا اور بات ہے لیکن کسی تحریک کا اٹھنا اور اس کو سالہا سال تک ہر طرف سے دبایا جانا اور اس تحریک کے ساتھ وابستہ ہونا لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے لیکن اس کے باوجود اس تحریک کا کامیاب ہوجانا بلکہ ایسا کامیاب ہونا جس طرح اس کے کامیاب ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہو صرف اور صرف انہی تحریکوں کے حصہ میں آیا ہے جو فی الحقیقت حق اور سچ تھیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ اس تحریک کے داعی نے جو اعلان کیا وہ صبح صادق ہونے سے بھی زیادہ واضح اور سچ ثابت ہوا جو اس تحریک کے حق ہونے کی علامت قرار پایا اور اس بات کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے اور انہی کو آیات بینات کہا گیا ہے۔ غور کرو کہ وہ فتوحات جو ان بےسرو سامانوں اور اپنے گھروں سے نکالے ہوئے لوگوں کو اندرون ملک اور بیرون ملک حاصل ہوئیں اور جس طرح مکہ کیمغرور اور متکبر سردار میدان بدر میں شکست سے دوچار ہوئے کیا اس کا ان کو کبھی خیال تک بھی آیا ہوگا ؟ وہ تو مکہ سے مسلمانوں کا شکار کھیلنے کے لیے بدر تک آئے تھے انہیں تو یہ شوق یہاں کھینچ کر لایا تھا کہ وہ ایک ایک مسلمان کو پکڑیں اور ان کو گھائل کریں گے اور اس طرح رقص بسمل کا تماشا دیکھیں گے لیکن قدرت الٰہی نے جو کرشمہ دکھایا اس نے ان کی آنکھیں کھول دیں اور وہ اسلام کے بارے میں ایک بار پھر سوچنے پر مجبور ہوگئے۔ بھلا کوئی یہ بھی سوچ سکتا تھا کہ یہ چھپ چھپ کر اپنی متاع ایمان کو لے کر مکہ سے ہجرت کرنے والے زندگی میں پھر کبھی مکہ واپس آسکیں گے لیکن ابھی چند سال بھی نہ گزرے تھے کہ وہ نبی اعظم و آخر ﷺ دس ہزار لشکر لے کر مکہ کو رواں دواں ہوئے اور اس لشکر کے مختلف دستوں کے پرچم تھامنے والے وہی مکہ کے قریش تھے جنہوں نے مسلمانوں کو یہاں سے نکالا تھا آج کفر و شرک میں اتنی طاقت بھی نہیں کہ اس لشکر کی پیش قدمی کو روک سکے یا اس پر اپنی ناگواری کا ہی اظہار کرسکے پھر یہی لوگ مشرق و مغرب میں جور و ستم کے قلعوں پر جب حملہ آور ہوئے تو نہ کسریٰ اور نہ اس کے رستم و اسفند یار ان کا راستہ روک سکے اور نہ قیصر اپنی ہزارہا سالہ قوت و حشمت کے ساتھ ان کے مقابلہ میں ٹھہر سکا۔ نہ صرف یہ کہ انہوں نے میدان جنگ میں دشمن کو پے در پے شکست دی اور ممالک فتح کیے بلکہ یہ لوگ جہاں گئے وہاں ابر رحمت بن کر برسے۔ انسانیت کے چہرہ سے ذلت و نکبت کے غبار کو صاف کیا۔ ملوک و سلاطین کی غلامی کی زنجیروں کو پارہ پارہ کیا اور غیر اللہ کی خدائی سے بھی ان کے قلوب و اذہان کو رہائی دلائی اور جہاں جہاں یہ پہنچے گلشن انسانیت میں بہار آگئی وہاں کے لوگ اپنے فاتحین کے اخلاق ، ان کے اطوار اور ان کی سیرت کی پختگی اور پاکیزگی سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر عرب کے ان صحرا نشینوں کا دین قبول کیا اور اپنی مادری زبان چھوڑ کر عربی زبان کو اپنا لیا۔ اپنے قدیم تمدن و ثقافت کو الوداع کہا اور عرب کے تمدن و ثقافت کو اختیار کیا۔ اسلام کے برحق ہونے کی اس سے بڑی روشن دلیل اور کیا ہو سکتی تھی کہ اس نے عرب جیسی فرومایہ ، وحشی ، اُجڈ اور غیر شائستہ قوم کی چند ہی سالوں میں کایا پلٹ کر رکھ دی۔ کہاں وہ دن کہ سارا جزیرہ جہالت و وحشت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا ، مدارس و مکاتب نام کی وہاں کوئی چیز نہ تھی ، مکہ جیسے مرکزی شہر میں گنتی کے چند آدمیوں کے سوا لکھنا تک کوئی نہ جانتا تھا اور کہاں وہ صبح نور کہ ہر طرف علم کے آفتاب و ماہتاب ضیاء پاشیاں کرنے لگے بلاشبہ اس بات کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ وہ ناخواندہ ضرور تھے لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی تھے کہ ناخواندہ ہونے کے باوجود جاہل نہیں تھے جیسے آج کل ہمارے ہاں خواندہ جاہلوں کی کمی نہیں ہے۔
جس طرح ان نشانیوں کی کمی نہیں تھی جو ان کی آنکھوں کے سامنے تھیں ویسے ہی قرآن کریم نے ان کو مظاہر فطرت میں غورو فکر کی دعوت بھی دی کہ تم لوگ اپنی ذات کے ایک ایک عضو میں غور کرتے جاؤ جن کے مجموعہ کا نام انسان ہے تو تم کو بیسیوں ہیں سینکڑوں نشانیاں تماہرے اپنے جسم و جان میں مل جائیں گی اس طرح اس کائنات کے ایک ایک ذرہ پر غور و فکر کرتے جاؤ تو تم ایک ایک پتہ اور گھاس کا ایک ایک تنکا توحید الٰہی کے گیت گاتا ہوا نظر آئے گا بشرطیکہ تمہارے پاس بینا آنکھ موجود ہوئی پھر اپنے جسم و جان سے باہر آؤ اور اس کائنات کی فضا اور آسمانوں کے خلاف کو دیکھو تم کو کتنے کتنے بڑے سیارے اور سورج جیسی مہیب صورت نظر آئے گی کیا ان میں سے کوئی ایک بھی ہے جو ربِّ کریم کے بندھن میں نہ باندھ دیا گیا ہو اور اس کے حکم سے کچھ بھی انحراف کرے جب ہرچیز اس کے حکم کی پابند ہے پھر کیا انسان ہی ایک ایسی چیز ہے جو پابند نہ رہنا چاہے اور اپنی مانی مانیاں کرتا پھرے۔ حقیقت اس کی نافرمانیوں کی فقط یہ ہے کہ اللہ نے اس کو صاحب ارادہ بنایا ہے اور اس ارادہ نے اس کو مکلف ٹھہرایا ہے لہٰذا اس سے ارادہ صلب نہیں کیا جاسکتا اور جہاں تک اس کی یہ آزادی بخشی ہے وہیں تک اس کی آزمائش بھی کی گئی ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ کون اس آزمائش میں پورا اترتا ہے اور کون ہے جو فیل ہو کر رہ جاتا ہے۔ اب پیغمر اسلام کو اور آپ ﷺ کے ذریعہ سے آپ ﷺ کی امت کے ہر اس فرد کو جو اللہ ربِّ کریم کے دین کی دعوت پیش کرتا ہے بلاشبہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کافی ہے اور وہ ہر ایک چیز پر خود گواہ ہے وہ آپ ﷺ کے دشمنوں کو یقینا ناکام و نامراد کرے گا اور آپ ﷺ کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کا اس کا وعدہ ہے جو کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا اور وہ اپنے وقت پر کس طرح پورا ہوا۔
Ayah 41:54جو لوگ پروردگار کی ملاقات سے شک میں ہیں ان کا شک یقینا نکل کر رہے گا
54 ؎ ملاقات خداوندی کے لیے اس دنیاوی زندگی کا حجاب ہے جب یہ حجاب اٹھتا ہے تو سارے شکوک و شبہات دور ہوجاتے ہیں ہاں ! جو لوگ ملاقات الٰہی کا یقین نہیں رکھتے ان کے یقین نہ رکھنے کا اصل باعث قیامت کے بارے میں پختہ یقین نہ ہونا ہے بلکہ اس کے برعکس ان کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ قایمت و یا مت کچھ نہیں یہ محض ایک ڈراوا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اس زندگی میں سرکشی اور نافرمانی سے باز نہیں آتے ، ان کے سامنے ہزاروں دلائل پیش کیے جائیں وہ انہیں لائق التفات ہی نہیں سمجھتے کیونکہ وہ اس دنیوی زندگی ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اس لیے ان کی جتنی بھی کوششیں ہوتی ہیں وہ صرف اور صرف اس زندگی کے لیے ہوتی ہیں اور وہ اس زندگی کے لطف و آرام اور آسائش ہی کے لیے کوشاں رہتے ہیں حالانکہ اگر وہ ذرا غور کریں اور اپنی پیدائش اور اپنی زندگی کے سارے اتار چڑھاؤ پر غور کریں تو ان کے اندر ایسی نشانیاں موجود ہیں جو ان کو بتاتی ہیں کہ انسان اختیار رکھنے کے باوجود بہت حد تک بےاختیار ہے کیونکہ اس کا اختیار محدود ہے اور یقینا کوئی ذات ایسی موجود ہے جس نے ان کو یہ اختیار دیا ہے اور یہ بھی کہ جو اختیار اس نے نہیں دیا وہ کہیں سے حاصل بھی نہیں کیا جاسکتا اس لیے کہ تصنع ، بناوٹ کا اتنا واضع فرق ہے کہ وہ کبھی حقیقت نہیں ہو سکتی۔ پھر یہ کہ کلی اختیار اور ہرچیز قدرت و طاقت رکھنے والی صرف اور صرف ایک ہی ذات ہے جو ہرچیز کو گھیرے ہوئے ہے اور کوئی چیز بھی اس کے کنٹرول سے باہر نہیں اور وہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو مرنے کے بعد جب انسان دوبارہ اٹھ کھڑے کیے جائیں گے تو ان کے سارے شکوک و شبہات دور ہوجائیں گے اگرچہ اس وقت ان شکوک و شبہات کا دور ہونا ، ان کے کچھ بھی کام نہیں آئے گا۔
و اخر دعونا عن الحمد للہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین و خاتم النبیین۔
الحمد للہ سورت حم السجدہ کی تفسیر مکمل ہوئی۔
عبدالکریم اثری
قبل از صلوٰۃ الفجر ، بروز جمعتہ المبارک 4 دسمبر 1997 ء