39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 39:1

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

اس کتاب ( قرآن کریم) کا نازل کیا جانا اللہ کی طرف سے ہے جو بڑا غالب حکمت والا ہے

اس کتاب قرآن کریم کا نزول اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے 1۔ کفار مکہ کو اس بات سے انکار تھا کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے اگرچہ ان کو اس کی فصاحت و بلاغت سے انکار نہیں تھا لیکن منزل من اللہ وہ تسلیم نہیں کرتے تھے۔ جیسا کہ پیچھے ذکر گزر چکا ان کا خیال تھا کہ یہ پیغمبر نے خود گھڑ لی ہے اور یہ بھی کہ اس کو کوئی دوسرا آ کر سکھا جاتا ہے پھر وہ اس کو اپنی زبان میں ڈھال کر بیان کردیتا ہے۔ شروع شروع میں وہ یہی کچھ کہا کرتے تھے لیکن رفتہ رفتہ وہ سب نہیں تو ان کی اکثریت اس بات کو مان گئی تھی کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہے۔ اس وقت تک ابھی ان کو یہ بھی امدی تھی کہ یہ دین ہماری موجودگی میں پھیل نہیں سکتا اور اس کی ترقی کے کوئی امکان نظر نہیں آتے کیونکہ اہل مکہ کے جتنے خاندان ہیں اور جتنے مذاہب اس وقت وہاں موجود تھے اسلام ان سب کی تردید کرتا تھا کیونکہ شرک سب ادیان میں برابر پایا جاتا تھا اور ایک بھی ایسا نہیں تھے جو اس کی زد سے بچا ہو۔ ان کو اس بات کا پختہ یقین تھا کہ ہمارے علاقے میں ایک بھی ایسا نہیں جس کے یہ دین خلاف نہ ہو اور پھر جب وہ سب کے خلاف بیان دیتا ہے تو آخر کون ہے جو اس کو تسلیم کرے گا۔ وہ اپنی مخصوص مجلسوں میں جب بیٹھتے تو اکثر ان باتوں کا اظہار کرتے کہ اس دین کو کوئی بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوگا اور اگر کوئی سر پھر امان ہی لے گا تو زمانہ خود اس کو کاٹ کر رکھ دے گا اور ان کی مجلس کا اکثر اختتام اس طرح ہوتا کہ اس تحریک کا ذکر ہی نہ کیا کرو اس طرح یہ خود بخود ختم ہر کر رہ جائے گی اس کی عارضی کامیابی پر زیادہ پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں اس طرح کی باتیں وہ ایک دوسرے سے کر کے دل بہلاتے تھے اگرچہ ان کے بڑے بڑے سرغنے اور سیاسی اور مذہبی لیڈار اپنے اندر اس کو بہت حد تک محسوس کرتے تھے اور اس کا توڑ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ زیر نظر آیت اور اس جیے دوسری آیات کریمات میں ان کی ان خوش فہمیوں کا جواب دیا گیا ہے اور پر زور الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ بلاشبہ اس کتاب کا نزول کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اور یہ کہ جس رب ذوالجلال والاکرام نے اس کو نازل کیا ہے وہ غالب آنے والا بھی ہے اور نہایت حد تک حکیم بھی ہے زمانہ کے حالات اور زمانہ کی چالیں اس سے کچھ پوشیدہ نہیں ہیں۔ تم کچھ بھی کہتے رہے ہو اور کچھ ہی کہتے رہو گے لیکن قرآن کریم کی روشنی کو پھیلنا ہے اور وہ یقینا پھیل کر رہے گی۔
Ayah 39:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) بلاشبہ ہم نے یہ کتاب آپ ﷺ پر حق کے ساتھ نازل کی ہے ، پس آپ ﷺ اللہ کے ہو کر خالص اس کی بندگی کرتے رہیں

اس کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا گیا ہے اللہ واحد کی عبادت کا درس دیا گیا 2۔ اے پیغمبر اسلام ! اس کتاب کو ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل کیا ہے جس میں باطل کی ذرا بھر بھی آمیزش نہیں ہے۔ حق کے ساتھ نازل کرنے کا مطلب کیا ؟ مطلب یہ ہے کہ اس کتاب میں ایسی دلیلیں پیش کی گئی ہیں جن کا کوئی جواب نہیں ہے۔ خیال رہے کہ کوئی قول اور فعل اس وقت حق کہلاتا ہے جب کہ وہ اس طرح پایا جائے جیسے چاہیے اور اس انداز سے پایا جائے جتنا مناسب اور موزوں ہو اور اس وقت پایا جائے جب کہ اس کی ضرورت ہو۔ قرآن ِ کریم کو جگہ جگہ حق کہا گیا ہے تو اس وجہ سے کہا گیا ہے غور کرو کہ قرآن کریم آیا تو اس شان و شوکت سے آیا جو اس کی شایان شان تھی ایسے دلائل وبراہین سے مزین ہو کر آیا جن کو عقل سلیم ماننے پر مجبور تھی اور عین اس وقت آیا جب ہر طرف گھپ اندھیرا چھا گیا تھا اور انسانیت کا کارواں دشت حیرت وضلالت میں بھٹک رہا تھا اور اس وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے آیا جب عقل انسانی اپنی طفولیت کی سرحد عبور کر کے فکر و نظر کی وادی میں قدم رکھ چکی تھی اور انسان کے حواس کو مرعوب کرنے والے نشانات سے کہیں زیادہ عقل و خرد کو مطمئن کرنے والی آیات بینات کی ضرورت تھی۔ سبحان اللہ ! یہ اعجاز ہے ( بالحق) کے لفظ میں آپ جوں جوں غور کرتے جائیں گے آپ کو اس ایک ہی لفظ میں معانی کا سمندر نظر آنے لگے گا۔ پھر زیر نظر آیت میں اللہ کی عبادت کا حکم ہے کہ خاص اسی کی عبادت کرو کہ یہی دین اسلام کی اصل ہے۔ بلاشبہ شرک ایک ایسا گناہ ہے جس سے بڑا اور برا کوئی اور گناہ نہیں اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی بھی عبادت کرتا ہے اور ساتھ ساتھ کسی دوسری کی بھی عبادت و پرستش کرتا ہے تو اس کی ساری نیکی اکارت چلی جاتی ہے اس لیے اس جگہ حکم دیا جا رہا ہے کہ فقط اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اسی کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرو اپنے خالق حقیقی کے بغیر کسی کی بندگی و عبادت کا تصور تک کرنا اور اپنے بادشاہ حقیقی کے احکام کو نظر انداز کرکے کسی غیر کی اطاعت کا دم بھرنا مرد مومن کے لیے زیبا نہیں بلکہ ایسی حرکت کے ارتکاب کے بعد اس کا نام اہل ایمان کی فہرت سے کا رج کردیا جائے گا لیکن افسوس کہ آج بھی اس ملک عزیز کے مسلمانوں کے ہاں دین خالص کی اسی طرح کمی موجود ہے جس طرح قرآن کریم کے نزول کے وقت تھی فرق ہے تو صرف یہ کہ ان کو اسلام نے کفر کا فتوی دیا اور اپنی دعوت کھلے لفظوں میں پیش کی آج نام کے مسلمان اسلام کی خالص دعوت پیش کرنے والوں کو کافر اور نہ معلوم کیا کچھ مزید کہہ جاتے ہیں۔ الی اللہ المشتکی
Ayah 39:3

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

یاد رکھو خالص عبادت اللہ ہی کے لیے ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بنا رکھا ہے (وہ کہتے ہیں) ہم تو ان کی پرستش محض اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہم کو اللہ کا مقرب بنا دیں ، بلاشبہ جن باتوں میں یہ اختلاف کر رہے ہیں اللہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا بلاشبہ اللہ ایسے آدمی کو راہ ہدایت نہیں دکھاتا جو جھوٹا اور ناشکرا ہو

خبردر ! صرف اللہ کے لیے دین خالص ہے 3۔ دین کے معنی نہایت وسعی ہیں اور بلاشبہ ( الدین) اپنے وسیع معنوں کے ساتھ اللہ کے لیے خالص ہے اور بےآمیز اطاعت و بندگی اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے دوسرے الفاظ میں بندگی کا مستحق کوئی اور ہے ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی بھی پرستش اور اس کے احکام و قوانین کی بھی اطاعت کی جائے اگر کوئی شخص اللہ کے سوا کسی اور کی بھی بندگی و پرستش کرتا ہے تو یہی شرک ہے اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کی بھی بندگی و پرستش کرے۔ ( الدین) کیا ہے ؟ الدین سامی زبانوں کا ایک قدیم مادہ ” دان “ اور ” دین “ ہے جو بدلہ اور مکافات کے معنوں میں بولا جاتا تھا اور بعد میں قانون کے معنوں میں بولا جانے لگا چناچہ عبرانی اور آرامی میں اس کے متعدد مشتقات ملتے ہیں۔ آرامی زبان ہی سے یہ لفظ قدیم ایران میں بھی پہنچا اور پہلوی میں ” دینیہ “ نے شریعت و قانون کا مفہوم پیدا کرلیا ” خورد اوستا “ میں سے ایک سے زیادہ مواقع پر یہ لفظ مستعمل ہوا ہے اور زردشتیوں کی قدیم ادبیات میں انشاء و کتابت کے آئین وقواعد کو بھی ” دین دبیرہ “ کے نام سے موسوم کیا ہے علاوہ ازیں زردشتیوں کی ایک مذہبی کتاب کا نام ” دین کا وت “ ہے جو غالبا ساتویں صدی عیسوی میں ایران کے ایک مدبر نے مرتب کی تھی۔ دین کے سلسلے میں کئی کتابیں قابل غور ہیں۔ اولا قرآن کریم نے نہ صرف اس موقع پر بلکہ عام طور پر جزا کے لیے (الدین) کا لفظ اختیار کیا ہے اور اسی لیے وہ قیامت کو بھی عموما ( یوم الدین) سے تعبیر کرتا ہے۔ یہ تعبیر اس لیے اختیار کی گئی کہ جزا کے بارے میں وہ جو اعتقاد پیدا کرنا چاہتا تھا اس کے لیے یہی تعبیر سب سے زیادہ موزوں اور واقعی تعبیر تھی وہ جزا کو اعمال کا قدرتی نتیجہ اور مکافات قرار دیتا ہے۔ نزول قرآن کے وقت پیروان مذاہب کا عالمگیر اعتقاد یہ تھا کہ جزا محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اسی کے قہر وغضب کا نتیجہ ہے اعمال کے نتائج کو اس میں دخل نہیں الوہیت اور شاہیت کا تشابہ تمام مذہبی تصورات کی طرح اس معاملہ میں بھی گمراہی فکر کا نتیجہ ہوا تھا لوگ دیکھتے تھے کہ ایک مطلق العنان بادشاہ کبھی خوش ہو کر انعام واکرام دینے لگتا ہے اور کبھی بگڑ کر سزائیں دینے لگتا ہے اس لیے وہ خیال کرتے تھے کہ اللہ کا بھی ایسا ہی حال ہے وہ کبھی ہم سے خوش ہوجاتا ہے اور کبھی غیظ وغضب میں آجاتا ہے۔ طرح طرح کی قربانیوں اور چڑھاو وں کی رسم اسی اعتقاد سے پڑی تھی لوگ دیوتائوں کا جوش غضب ٹھنڈا کرنے کے لیے قربانیاں کرتے اور ان کی نظر التفات حاصل کرنے کے لیے نذریں چڑھاتے تھے۔ بلاشبہ یہودیوں اور عیسائیوں کا عام تصور دیوتائی تصورات سے بلند ہوگیا تھا لیکن جہاں تک اس معاملہ کا تعلق ہے ان کے تصور نے بھی کوئی دقیع ترقی نہیں کی تھی۔ یہودی بہت سے دیوتائوں کی جگہ خاندان اسرائیل کا ایک خدا مانتے تھے لیکن پرانے دیوتائوں کی طرح یہ خدا بھی شاہی اور مطلق العنانی کا خدا تھا وہ کبھی خوش ہو کر ان کو اپنی چہیتی قوم بنا لیتا ، کبھی جوش انتقام میں آکر انہیں بربادی وہلاکت کے حوالے کردیتا ، عیسائیوں کا اعتقاد تھا کہ آدم کے گناہ کی وجہ سے اس کی پوری نسل مغضوب ہوگئی اور جب تک خدا نے اپنی صفت ابنیت کو بشکل مسیح قربان نہیں کردیا اس کے نسلی گناہ اور مغضوبیت کا کفارہ نہ ہوسکا پھر اس کی تفصیل بہت لمبی ہے اختصار کے لیے بھی ایک دفتر درکار ہے اور اس جگہ وہ میسر نہیں۔ مختصر یہ کہ جزا وسزا کی اس حقیقت کے لیے (الدین) کا لفظ نہایت موزوں لفظ ہے اور ان تمام گمراہیوں کی راہ بند کردیتا ہے جو اس بارے میں پھیلی ہوئی تھیں اس لفظ کے استعمال نے جزا وسزا کی ساری حقیقیت آشکارا کردی۔ ثانیا یہی وجہ ہے کہ مذہب اور قانون کے لی ( الدین) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کیونکہ مذہب کا بنیادی اعتقاد مکافات عمل کا اعتقاد ہے اور قانون کی بنیاد بھی تعزیر وسیاست پر ہے اس کی تفصیل ہم نے سورة یوسف کی آیت 76 میںٰ کردی ہے اور بتا دیا ہے کہ دین سے مقصود اس جگہ قانون ہے اور الدین کے معنی قانون کے ہیں۔ ثالثا یہ کہ قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا جو تصور قائم کیا ہے اس میں قہر وغضب کے لیے کوئی جگہ نہیں البتہ عدالت ضرور ہے اور صفات قہریہ جس قدر بیان کی گئی ہیں دراصل اس کے مظاہر ہیں یہ بات تھوڑی سی تفصیل کرنے سے سمجھ میں آئے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ صفات الہٰی کے تصور کا یہی مقام ہے جہاں فکر انسانی نے ہمیشہ ٹھوکر کھائی ، یہ ظاہر ہے کہ فطرتِ کائنات ، ربوبیت و رحمت کیساتھ اپنے مجازات بھی رکتھی ہے اور اگر ایک طرف اس میں پرورش و بخشش ہے تو دوسری طرف مواخذہ ومکافات بھی ہے۔ فکر انسانی کے لیے فیصلہ طلب سوال یہ تھا کہ فطرت کے مجازات کو قہر وغضب پر محمول کرلیا اور یہیں سے اللہ تعالیٰ کی صفات میں خوف و دہشت کا تصور پیدا ہوگیا۔ حالانکہ اگر وہ فطرتِ کائنات کو زیادہ قریب ہو کر دیکھ سکتا تو معلوم کرلیتا کہ جن مظاہر کو قہر وغضب پر محمول کر رہا ہے وہ قہر وغضب کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ عین مقتضاء رحمت ہیں۔ اگر فطرتِ کائنات میں مکافات کا مواخذہ نہ ہوتا یا تعبیر کی تحسین و تکمیل کے لیے تخریب نہ ہوتی تو میزان عدل قائم نہ رہتا اور تمام نظام ہستی درہم برہم ہوجاتا۔ بات دین خالص کی ہو رہی تھی اور مقصود کلام یہ تھا کہ ” دین خالص اللہ کا حق ہے “ جس کا مختصر اور آسان مطلب یہ ہے کہ ہر وہ کام جو دین کا کام متعارف ہے اگر اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے تو بلاشبہ دین خالص ہے اور اگر رضاء الہٰی مطلوب نہ ہو تو وہ چاہے کام کتنا ہی نیک اور کتنا ہی صحیح کیوں نہ ہو دین خالص نہ ہوا علاوہ ازیں اسے جو کچھ بھی کہو اور جب دین خالص نہ رہا تو اس کا اجر بھی اللہ تعالیٰ کے ذمہ لازم نہ رہا مثلا نیک کاموں میں مال خرچ کرنا دین کا کام ہے لیکن جب اللہ کی رضا کے لیے ہو اگر وہ ناموری حاصل کرنے کے لیے سخی کہلانے کی غرض سے خرچ کیا تو اگرچہ وہ مال کسی نیک کام ہی میں کیوں نہ خرچ کیا وہ دین کا کام نہ رہا اور اس کا اجر بھی اللہ کے ذمہ لازم نہ ٹھہرا جیسا کہ حدیث میں ہے کہ سائل نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ ہم اپنا مال دیتے ہیں اس لیے کہ ہمارا نام بلند ہو تو کہا اس پر ہمیں کوئی اجر ملے گا ؟ آۃُ نے فرمایا نہیں۔ اس نے پوچھا اگر اللہ تعالیٰ کے اجر اور دنیا کی ناموری دونوں کی نیت ہو ؟ آپ نے فرمایا ان اللہ تعالیٰ لا یقبل الا من اخلص لہ ” اللہ تعالیٰ کوئی عمل بھی قبول نہیں کرتا جب تک وہ خالص اس کے لے نہ ہو “ اس کے بعدھ نے زیر نظر آیت تلاوت فرمائی۔ ( ابن مردویہ عن زید الرقاش ؓ عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر ایک انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی جس شخص نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے لیے ہجرت کی بلاشبہ اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کے لیے ہے اور جس نے صرف دنیا حاصل کرنے کے لیے ہجرت کی اس نے دنیا حاصل کرلی اور جس نے کسی عورت کے لیے ہجرت کی کہ اس سے وہ اس طرح نکاح کرلے تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ (بخاری ج 1 ح 1577 ، صحیح مسلم ح 1907 ، ابو دائود ح 2201 ، ترمذی ح 1647 ، نسائی جلد اول ح 59 ، 60) زیر نظر آیت میں جو یہ فرمایا کہ ” جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بنا رکھا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی پرستش محض اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہم کو اللہ تعالیٰ کا مقرب بنا دیں۔ “ معلوم ہوا کہ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کے زمانہ کے مشرک بھی یہی کہتے تھے کہ ہم اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کی عبادت ان کو خالق ومالک اور رزاق سمجھ کر نہیں کرتے بلکہ ہم جانتے ہیں کہ خالق ومالک اور رازق تو اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس کے سوا کوئی نہیں لیکن اس کی شان بہت اونچی ہے جس تک ہماری رسائی نہیں ہوتی اس لیے ہم ان بزرگ ہستیوں کو ذریعہ بناتے ہیں تاکہ یہ ہماری دعائیں ، التجائیں اور حاتجیں اللہ رب ذوالجلال والاکرام تک پہنچا دیں اور آج کے مشرک بھی بلاشبہ یہی کچھ کہتے ہیں جو اس زمانہ کے مشرک کہتے تھے پھر یہ کیونکہ انصاف ہو سکتا ہے کہ ہم ان کو تو کافر اور مشرک تسلیم کریں لیکن آج کل ایسا کہنے والوں کو اہل سنت والجماعت اور پکے مسلمان کہیں کیا ایسا کہنا سراسر زیادتی نہیں ہوگی ؟ فرمایا کہ ” بلاشبہ جن باتوں میں یہ اختلاف کر ہے ہیں اللہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا “ ایک شخص وہ ہے جو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتا ہے لیکن دوسرا اس کے مقابلہ میں اللہ کے ساتھ ولیوں ، بزرگوں ، نبیوں ، رسولوں اور فرشتوں کو بھی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتا ہے اور فرق یہ اختیار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو حاجت روا اور مشکل کشا ہے لیکن یہ ولی پیر اور بزرگ بھی تو اس کے بنائے ہوئے ہیں لہٰذا یہ بھی باذن اللہ یہ کام کرسکتے ہیں اور کرتے ہیں اس لیے ان دونوں میں اختلاف ناگزیر ہوگیا اب سمجھنا یہ ہے کہ ان دونوں میں سے دونوں ہی اختلاف کر رہے ہیں یا دونوں میں کوئی ایک اختلاف کر رہا ہے ؟ جواب یہ ہے کہ ان دونوں میں اختلاف رونما ہے لیکن بناء اختلاف وہ شخص ہے جس نے غیر اللہ کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا خواہ اللہ کے سوا کسی کو ایسا سمجھا اس لیے ہم کہیں گے اختلاف بھی اس نے کیا جو توحید کا درس دیتا رہا اختلاف اس کے ذمہ نہیں لگایا جاسکتا۔ گویا حقیقت کے خلاف کہنے والوں ہی کو اختلاف کرنے والے کہا جائے گا۔ فرمایا ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو راہی ہدایت نہیں دکھاتا جو جھوٹا اور ناشکرا ہو “ اس جملہ میں سنت اللہ کا بیان ہے سنت اللہ یہی ہے کہ جب تک ایک انسان ہدایت حاسل کرنے کی خود کوشش نہیں کرتا اس وقت تک اس کو ہدایت نہیں دی جاتی پھر یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کود تو کفر اور شرک سے باز نہ آئے اور جھوٹ کی پیروی کرتا رہے اور اس سے باز نہ آئے اللہ تعالیٰ اس کو راہ ہدایت پر لگا دے اگر بزور اللہ تعالیٰ کسی کو راہ راست پر لانا چاہتا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ کوئی ایک شخص بھی راہ ہدایت سے فرار حاصل کرسکتا ۔ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے دو الفاظ استعمال فرمائے ہیں ایک ” کاذب “ اور دوسرے ” کفار “ ” کاذب “ اس لیے فرمایا کہ انہوں نے اپنی طرف سے جھوٹ موٹ یہ عقیدہ گھڑ لیا ہے اور پھر اس جھوٹ کی اشاعت وہ کر رہے ہیں اور ” کافر “ تو وہ تھے ہی اب مزید کفر پر مصر ہوگئے اور کفر کو ترک کرنا پسند نہ کیا اور سیدھی اور صاف راہ کر جھٹلا کر ٹیڑھی اور الٹی راہ اختیار کی کہ کھاتے اللہ کا ہیں اور گاتے غیروں کا۔ نعت میں اللہ تعالیٰ سے پا رہے ہیں اور شکریئے ان ہستیوں کے ادا کر رہے ہیں جن کے متعلق ان کا گمان یہ ہے کہ ان کی مداخلت کے باعث ہم کو یہ نعمتیں حاصل ہو رہی ہیں حالانکہ اس گمان پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔
Ayah 39:4

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اگر اللہ کسی کو اولاد بنانا چاہتا تو جس کو چاہتا مخلوق میں سے چن لیتا وہ (ایسے تمام تصورات سے) پاک ہے ، وہ اللہ ایک ہے (وہ) غلبہ والا ہے

اگر اللہ کسی کو اولاد بنانا چاہتا تو مخلوق میں سے کسی کو چن لیتا 4۔ اولاد ہونا اور اولاد بنانا دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اولاد ہونے کی نفی میں یہ ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اللہ کی اولاد قرار دیتے ہو اگر ایسی بات ہے تو تم پر لازم ہے کہ تم اللہ کی کوئی بیوی بتائو کیونکہ اولاد ہونے کے لیے جس طرح ولد ضروری ہے اسی طرح اس ولد کی والدہ بھی لازم و ضروری ہے اگر تم نے اللہ کو کسی کا والد بنایا ہے تو تم پر لازم ہے کہ تم اللہ کی بیوی بتائو۔ لیکن اللہ کی اولاد ماننے والوں نے بھی اس کا کوئی جواب نہ دیا اور اپنے نظریہ سے بھی باز نہ آئے۔ زیر نظر آیت میں اولاد بنانے کا ذکر ہے جس کو متبنیٰ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جن لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کرنے یعنی کسی کو اولاد بنانے کا نظریہ قائم کیا زیر نظر آیت میں ان کو مخاطب کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اولاد کرنا چاہتا تو اس مقصد کے لیے جس کو چاہتا چن لیتا اور پھر جس کو اولاد بنا لیتا اس کے لیے بےجھجک وہ اعلان بھی کردیتا کہ فلاں کو میں نے اپنی اولاد قرار دے دیا ہے یہ بات تم لوگوں پر وہ کیوں چھوڑ دیتا کہ تم جس کو چاہو اللہ کی اولاد قراردے لو اور اعلان کر دو کہ فلاں کو اللہ نے اپنا بیٹا یا بیٹی بنا لیا ہے۔ پھر جب اللہ نے اس بات کا اعلان نہیں کیا اور اپنی مخلوق میں سے کسی کو اس نے اولاد نہیں ٹھہرایا تو آخر تم کو ایسا کہنے کا کیا حق ہے ؟ بلاشبہ اللہ جس طرح اولاد سے پاک ہے اسی طرح کسی کو اولاد قرار دینے یعنی متبنیٰ بنانے سے بھی پاک ہے اور وہ اکیلا ہی زبردست ہے اس کو مخلوق میں سے کسی کو اپنی اولاد قرار دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اولاد کا ہونا یا کسی کو اولاد قرار دینا دونوں باتیں ہی کمزوری کی دلیل ہیں اور اللہ تعالیٰ کسی قسم کی کمزوری سے پاک ہے وہ اول بھی ہے اور آخر بی اس کو نہ نیند ہے اور نہ اونگھ نہ اس کو موت ہے اور نہ بڑھاپا پھر آکر اس کو اولاد کی ضرورت کیا ؟ ظاہر ہے کہ جو خود فانی ہے وہی اس کا محتاج ہے کہ اس کے ہاں اولاد ہو اور اس کی نسل اور نوع باقی رہے اور اسی طرح متبنیٰ بھی وہی بناتا ہے جو یا تو لا وارث ہونے کی وجہ سے کسی کو وارث بنانے کی حاجت محسوص کرتا ہے یا محبت کے جذبے سے مغلوب ہو کر کسی کو بیٹا بنا لیتا ہے اس طرح کی انسانی اور حیوانی کمزوریاں اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف منسوب کرنا اور ان کی بنا پر مذہبی عقیدے گھڑ لینا جہالت نہیں تو اور کیا ہے ؟
Ayah 39:5

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

اس نے آسمانوں اور زمین کو درستی کے ساتھ بنایا وہ رات کو دن پر لپیٹتا اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے ، سب ایک وقت معین تک چلتے رہیں گے ، یاد رکھو وہی صاحب عزت ، بخشنے والا ہے

اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو درستی کے ساتھ بنایا ہے 5۔ اللہ تعالیٰ کے زبردست ، طاقتور اور ہر طرح کی کمزوریوں سے پاک ہونے کی دلیل بیان کی جارہی ہے کہ غور کرو کہ کیا اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات نہیں ہے جس نے آسمانوں اور زمین کا یہ عظیم الشان کارخانہ تخلیق کیا ہے کیا اس نے اس اتنے بڑے کام میں کسی کو اپنا معاون ٹھہرایا ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر اس کو اس سے بہت چھوٹے کاموں کے لیے کسی کی معاونت کی آخر ضرورت کیا ہے ؟ اچھا جس طرح اس نے اس اتنے بڑے اجرام فلکی اور اس زمین کو بنایا ہے جس پر آپ سکونت پذیر ہیں تو کیا اس نے ان سب کو بنا کر ان کا انتظام دوسروں کے سپرد کردیا ہے ؟ نہیں اور یقینا نہیں جس طرح وہ اس کائنات کا بنانے والا ہے اس کا ناظم ومنتظم بھی وہ خود ہی ہے کسی دوسرے کے ذمہ اس نے کچھ بھی نہیں ڈالا۔ وہی ہے جو دن پر رات اور رات پر دن کو لپیٹتا ہے اور اس کے لیے اس نے ایک خاص بندھن باندھ دیا ہے جس میں آج تک ایک ذرہ برابر بھی فرق نہیں آیا اور کبھی نہیں آئے گا جب تک کہ اس کا چلائے رکھنا اس کو منظور ہے۔ یہ جو آپ لوگوں نے جنتریاں اور حساب و کتاب کے انداذے مقرر کیے ہیں یہ سب کے سب کیسے ہیں اور کیوں ہیں ؟ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس نظام کو اس طرح کامل اور مکمل بنا دیا ہے کہ اس میں گھڑی کی ٹک ٹک میں سے ایک ٹک کا بھی فرق نہیں پڑتا اس لیے تمہارے تجربہ میں یہ بات آچکی کہ 18 اکتوبر 1979 ء کو جو طلوع تھا وہی 18 اکتوبر 1997 ء کو ہے اور یہی 18 اکتوبر 2097 کو ہوگا۔ اس پختہ یقین پر تم نے حساب کتاب کی بنیاد رکھ لی کیا تم اللہ کے اس نظام کے سوا کسی دوسرے نظام پر بھی اس قدر یقین رکھ سکتے ہو غور کرو کہ تم نے آج تک جتنے ٹائم ٹیبل بنائے کسی میں اس قدر پختگی آسکی اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر تم کو یہ یقین کیوں نہیں آتا کہ اس نظام میں کسی بڑے سے بڑے انسان اور کسی نہایت ہی ماہر فن سائنسدان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے بلکہ یہ نظام اسی واحد القہار کے ہاتھ میں ہے جو اس کو اس باقاعدگی کے ساتھ چلا رہا ہے اور جس کے حکم کی ایک ایک چیز پابند ہے جس کو اس نے پابند کردیا ہے اور اس کو یہ اختیار نہیں دیا کہ جب وہ چاہے طلوع ہو اور جب چاہے غروب ہو۔ بلاشبہ اس نے سورج اور چاند جیدے بڑے بڑے اجرام فلکی کو اپنے حکم و ارادہ کے ساتھ باندھ دیا ہے اور یہ دونوں اور اسی طرح دوسرے اجرام فلکی اپنی اپنی منزلوں پر رواں دواں ہیں اور اسی طرح رواں دواں رہیں گے جب تک اس رب ذوالجلال والاکرام کو ان سب کو اسی طرح رواں دواں رکھنا ہے اور وہ غالب آنے والا ہے اور اپنے بندوں کے گناہوں اور کمزوریوں کو بخشنے والا ہے۔ اگر وہ تم کو تمہارے گناہوں اور کمزوریوں پر فورا گرفت کرنا چاہتا تو کرلیتا لیکن تم ایک قدم بھی نہ چل سکتے یہ تو اس کا کرم ہے کہ اس نے تم کو مہلت پر مہلت دے رکھی ہے اور اسی مہلت کو اس جگہ مغفرت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
Ayah 39:6

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

اس نے تم سب کو ایک نفس (جنس) سے پیدا کیا پھر اس (جنس) سے اس کا جوڑا بنایا اور تمہارے (فائدے کے لیے) جانوروں میں سے آٹھ نر و مادہ اتارے ، اس نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تاریکیوں میں (رکھ کر) بنایا ، یہی اللہ تمہارا رب ہے ، اس کی حکومت ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں بہکے چلے جاتے ہو ؟

اللہ نے تم کو ایک جنس سے پیدا کیا اور اسی جنس سے اس کا جوڑا بنایا 6۔ ” اس نے یعنی اللہ تعالیٰ نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیا پھر اس سے اس کو جوڑا بنایا۔ “ نفس سے مراد کیا ہے ؟ کہا گیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) پھر ظاہر مطلب تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا پھر اس سے بہت سے انسانوں کو پیدا کیا اور اس کے بعد اسی سے اس کا جوڑا پیدا کردیا حالانکہ اس بات کو کوئی بھی تسلما نہیں کرتا بلکہ سب کے سب یہی مانتے اور تسلیم کرتے ہیں کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور پھر آدم (علیہ السلام) ہی سے اس کا جوڑا یعنی اس کی بیوی پیدا کردی اور پھر ان دونوں میاں بیوی سے ان کی اولاد پیدا کردی اور ہم نے اس کی وضاھت سورة النساء کی آیت اول میں پھر سورة الاعراف کی آیت 11 میں کردی ہے کہ نفس سے مراد جنس ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم سب کو ایک ہی جنس سے پیدا کیا اور تم میں سے ہر ایک کے جوڑا کو بھی تمہاری جنس ہی سے پیدا کیا گیا جیسا کہ اس کی وضاحت عروۃ الوثقی جلد ہذا میں سورة الروم کی آیت 21 میں ہم کر آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں کے فائدہ کے لیے الانعام میں سے آٹھ طرح کے جانور پیدا کردیئے جو نر و مادہ کی صورت میں ہیں اور یہ بھی انسانوں کی طرح چار الگ الگ اجناس سے تعلق رکھتے ہیں مثلا اونٹ میں سے دو نر اور مادہ ، گائے میں سے دو نر اور مادہ ، بھیڑ میں سے دو نر اور مادہ ، بکری میں سے دو نر اور مادہ گویا یہ کل چار نر اور چار مادہ مل کر آٹھ ہوگئے جن کا تعلق چار الگ الگ اجناس سے ہوا یہ انسان کے فائدہ کی چیزیں ہیں ان کا ذکر کرنے کے بعد پھر انسان کی پیدائش کا ذکر شروع کردیا فرمایا اللہ وہ ذات ہے جس نے اپنے قانون تخلیق کے تحت تمہاری مائوں کے پیٹوں تدریجا ایک حالت سے دوسری حالت میں داخل کرتے ہوء؁ تین اندھیروں کے اندر پیدا کردیا تین اندھیروں سے مراد نہایت گہرا اندھیرا ہے جو مادر شکم کے اندر رحم مادر اور پھر رحم مادر میں بچہ کے باہر کا مکمل غلاف جس کو جھلی کہا جاسکتا ہے گویا اتنے گھپ اندھیرے میں بچہ تیار ہو رہا ہے اس قطرہ آب سے جس کے اندر کروڑوں جرثومے پائے جاتے ہیں جس جرثومہ کو اللہ تعالیٰ پروان چڑھانا چاہتا ہے اس کو ٹک جانے اور ٹھہر جانے سے ہم تعبیر کرتے ہیں اس جرثومہ کو مختلف مرحلوں سے گزار کر کامل انسان کی صورت میں دونوں اصناف میں سے ایک صنف کو کبھی دونوں کو اور کبھی ایک ہی صنف کے دو افراد کو وہ پیدا کردیتا ہے۔ غور کرو کہ اس جرثومہ میں وہ کامل اور مکمل انسان کس طرح پوشیدہ تھا جس کے ہر ہر عضو میں جو جو باریکیاں ، لطافتیں اور پیچیدگیاں ہیں سب کی سب دن کی روشنی میں تمہاری آنکھوں کے سامنے انجام پذیر نہیں ہوتیں بلکہ تہ درتہ اندھیروں میں یہ تکوینی عمل جاری رہتا ہے اور نہایت آرام و احتیاط کے ساتھ بچہ تیار ہوتا رہتا ہے۔ ” یہی اللہ تمہارا رب ہے ، اسی کی حکومت ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے “ یہ تمہارا اللہ ہے جو یہ سارے کام کر رہا ہے جن کاموں کا گزش تہ عبارت میں ذکر کیا گیا اور یہی تمہارا رب ، الٰہ اور معبود ہے اور یہی حقیقی کار ساز اور حاجت روا ہے اور پھر یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اسی کی حکومت ہے جس کو کبھی زوال نہیں تمہارے بناوٹی حکمران ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں اور وہ اصلی اور حقیقی بادشاہ ہے جس کی بادشاہی کبھی نہیں بدلتی اور نہ ہی کبھی بدلے گی وہی حقیقی معبود ہے اس کے سوا کوئی نہیں جو عبادت کے لائق ہو پھر تم کدھر دھکے کھا رہے ہو اس سے منہ موڑ کر تم کدھر جا رہے ہو اگر تم انکار وکفر کی روش نہیں چھوڑو گے تو تم خود عبرتناک انجام سے دوچار ہو جائو گے اللہ تعالیٰ کا تو تم کچھ نہیں بگاڑ سکو گے کیونکہ تم ہر بات میں اس کے محتاج ہو اور اس کو تمہاری کوئی ضرورت یا احتیاج نہیں اور یہ بات بھی محض انسانوں کو باور کرانے کے لیے کہی گئی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے بہت ہی پیار ہے یہی وجہ ہے کہ ایک گناہوں میں لت پت انسان بھی جب اللہ کو یاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو فریاد کو سنتا ہے۔ اس مضمون کی میزید وضاحت سورة النحل کی آیت 62 میں ملے گی اور سورة النحل عروۃ الوثقی جلد پنجم کی دوسری سورت ہے۔
Ayah 39:7

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر تم ناشکری کروگے تو اللہ تم سے بےنیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر گزاری کرو گے تو اس کو تمہارے لیے پسند فرمائے گا اور (قیامت کے دن) کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ، پھر تم سب کو اپنے پروردگار ہی کی طرف واپس جانا ہے پھر وہ تم کو تمہارے سارے اعمال بتلائے گا ، وہ تو تمہارے دلوں کے حال سے بھی باخبر ہے

اللہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا اور وہ شکر گزاروں کو پسند کرتا ہے 7۔ اگر تم کفر کرتے ہو تو تمہارے کفر کا اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہابل کہ کفر کر کے تم خود اپنی نقصان کر رہے ہو وہ تم کو کفر سے منع کرتا ہے تو اس لیے نہیں کرتا کہ تمہارے کفر کرنے سے اس کی کبریائی میں فرق پڑ اجائے گا بلکہ وہ بار بار تم کو روکتا ہے تو اس لیے کہ تم اس کی قدرت کے شاہکار ہو اس کو تم سے فی الواقع پیار ہے کفر سے جو تم اپنا ستیاناس کر رہے ہو تمہاری عظمتیں خاک میں مل رہی ہیں اور وہ تمہارا خالق ہے اس ذلت و رسوائی کو وہ تمہارے لیے پسند نہیں کرتا وہ چاہتا ہے کہ تم اس کے شکر گزار بندے بن جائو تاکہ اس کے جود و کرم کی بارش تم پر برستی رہے اور ہر گھڑی تم بلند سے بلند تر منزل کی طرف رواں دواں رہو تا آنکہ تم جنت الفردوس میں پہنچ جائو۔ اس جگہ ایک بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اللہ تعالیٰ کی رضا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ مشیت یہ ہے کہ انسان کو جو اختیار دیا گیا ہے اور جس حد تک اس کو اختیار دیا گیا ہے اس کو وہ اسی حد تک استعمال کرے اور آزادی کے ساتھ استعمال کرے نیکی اور برائی دو طاقتیں ہیں اور دونوں آپس میں متجاد ہیں ، دونوں کی صلاحیت اس میں رکھ دی گئی اور اس کو اختیار بھ دے دیا گیا کہ وہ چاہے نیکی اختیار کرے اور چاہے برائی۔ اس طرح اگر وہ برائی کو اپنے لیے انتخاب کرتا ہے تو اس کو مجبور کر کے نیکی پر وہ نہیں لگاتا البتہ اس کی رضا یہ ہے کہ انسان نیکی کرے بلاشبہ وہ خیر و نیکی پر راضی ہوتا ہے اور شر اور برائی پر وہ راضی نہیں ہوتا۔ غور کرو کہ چور چوری کرتا ہے ، زانی زنا کرتا ہے ، ڈاکو ڈاکہ ڈالتا ہے اور قاتل قتل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت و قوت ہی سے کرتا ہے لیکن وہ اس اختیار کے تحت کرتا ہے جو اس کو اللہ نے دے دیا ہے تا ہم وہ اس کے ان افعال پر راضی نہیں ہے بلکہ یہ سارے لوگ اس طرح کے کام کرے کے اس کے غضب و قہر کو دعوت دیتے ہیں اور اس کا غضب و قہر کیا ہے ؟ ان اعمال بد کا نتیجہ ہی تو ہے کیونکہ اگر وہ کام نہ کرتے تو اس کے قہر وغضب کے مستحق نہ ہوتے اور اعمال بد کا استحقاق کیا ہے ؟ قہر وغضب الہٰی ۔ جس کا دوسرا نام عذاب الہٰی ہے اور زیر نظر آیت میں اس بات کا ذکر کا و گیا ہے کہ وہ اپنے بندوں کے کفر کو پسند نہیں کرتا اس کے برعکس اگر تم اس کی رضامندی کے کام کرو گے تو ہو تم پر راضی ہوگا گویا کہ تمہارے اچھے اعمال ہی اس کی رضا مندی ہے۔ ” (قیامت کے روز) کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ “ نہ تو وہ شخص جو اپنے گناہوں کے بوجھ کے نیچے دبا پڑا ہے اور ظاہر ہے کہ وہ ایسے حالت میں کسی دوسرے کا بوجھ کیونکہ اٹھا سکتا ہے اور نہ ہی وہ شخص جس پر اپنے گناہوں کا تو کوئی بار نہیں اور بحمد اللہ اس کے گناہوں کا ایسا بوجھ نہیں تھا جو اس پر لادا جاتا تا ہم دوسرے کا بوجھ اس پر لاد دینا عدل و انصاف کے خلاف ہے اور قیامت کا دن ایسا نہیں کہ اس روز بھی کوئی کام عدل و انصاف کے خلاف ہو سکے۔ دوسری جگہ دوسروں کے گناہ اٹھانے کا ذکر کیا گیا ہے وہ بھی دراصل ان ہی کا گناہ تھا جو ان کو اٹھانا پڑے گا دوسروں کے گناہ اس لیے کہا گیا کہ انہوں نے صرف ان کو گناہ پر لگانے کا کام کیا پھر کام اگرچہ انہوں نے کیا تام ہم اس گناہ کے کام پر لگانے کا کام جو تھا اس کے بوجھ کو ان کا بوجھ قرار دیا گیا یہ گناہ گویا ایسا تھا جو ان کے لیے بےلذت تھا تفصیل اس کی عروۃ الوثقی کی اسی جلد میں سورة العنکبوت کی آیت 13 میں گزر چکی ہے اور سورة العنکبوت کی آیت کی مزید وضاحت دیکھنا ہو تو وہ آپ کو عروۃ الوثقی جلد پنجم سورة النحل کی آیت 25 میں دیکھیں۔ ” تم سب کو اپنے پروردگار کی طرف جانا ہے پھر تم کو وہ تمہارے ساتے اعمال بتلائے گا وہ تمہارے رسولوں کے حال سے بھی اچھی طرح باخبر ہے۔ “ انسان گناہ کرتا ہے اور بھول جاتا ہے لیکن تحریر شدہ چیز اپنی جگہ قائم رہتی ہے یہی حال ان گناہ گاروں کا ہوگا جو قیامت کے روز حاضر کیے جائیں گے ممکن ہے کہ وہ گناہ کر کے بھول گئے ہوں لیکن قیامت کے روز ان کی ایک ایک حرکت ان کے سامنے کھول کر رکھ دی جائے گی اور ان کو بتا دیا جائے گا کہ یہ وہی اعمال ہیں جن کے نتائج تمہارے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں بلاشبہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام حرکات تو حرکات تمہارے دلوں کے رازوں سے بھی واقف ہے۔ پھر اگر وہ اپنے کسی عمل کو دیکھنا ہی چاہیں گے تو ان کے سامنے اس کی فوٹو پیش کردی جائے گی جس میں ان کو وہ عمل کرتے دکھا دیا جائے گا اور ظاہر ہے کہ اس سے ان کی مزید تضحیک ہوگی۔ جس کا باعث بھی وہ خود ہی ہوں گے۔
Ayah 39:8

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

اور جب انسان پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو وہ اپنے رب کو اس کی طرف رجوع ہو کر پکارتا ہے پھر جب (اللہ) اس کو اپنے پاس سے نعمت بخشتا ہے (اس کی تکلیف دور کر کے راحت پہنچاتا ہے) تو جس کے لیے اس کو پہلے پکار رہا تھا (یعنی اللہ کو) وہ بھول جاتا ہے اور اللہ کے شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (لوگوں کو) اس کی راہ سے بہکائے آپ ﷺ اس سے فرما دیجئے کہ (اے کافر ! ) اپنے کفر کے باوجود کچھ فائدہ اٹھا لے (بالآخر) تو دوزخیوں میں سے ہو گا

جب انسان کو کوئی دکھ پہنچتا ہے تو اپنے رب کو پکارنے لگتا ہے 8۔ (الانسان) سے مراد وہ خاص انسان ہے جو کفر و شرک میں لت پت رہتا ہے اور اس سے نکلنا بھی نہیں چاہتا فرمایا جب اس کو کوئی سخت دکھ پہنچتا ہے اور وہ کسی ایسی تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے جو آسانی سے اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی تو پھر اپنے رب کریم کو نہایت تضرع اور عاجزی سے پکارتا ہے اور ایسی حالت میں اس کو دوسرے معبود یاد نہیں رہتے جنہیں وہ اپنی اچھی حالت میں پکارا کرتا تھا بلکہ ان سب کی طرف سے مایوس ہو کر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے جس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ہر انسان اپنے دل کی گہرائیوں میں دوسرے معبودوں کے لیے بےاختیار ہونے کا احساس یقینا رکھتا ہے اور کم از کم وہ یہ ضرور سمجھتا ہے کہ یہ کام دوسرے معبودوں کے بس کا نہیں ہے تب ہی تو وہ سب کی طرف سے منہ پھیر کر اللہ رب کریم کی طرف رجوع کررہا ہے۔ ” پھر جب اللہ تعالیٰ اس کو اپنے پاس سے نعمت بخشتا ہے تو جس کام کے لیے وہ اللہ کو پکار رہا تھا وہ بھول جاتا ہے اور اللہ کے شریک بنانے لگتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائے۔ “ وہ برا وقت اس کو یاد ہی نہیں رہتا جس میں وہ سب کی طرف سے منہ پھیر کر اللہ وحدہ لا شریک لہ کی طرف متوجہ ہوا تھا اور دعائیں مانگ رہا تھا اسی رب کریم کو وہ اس طرح بھول جاتا ہے گویا کہ اس نے اس کو کبھی پکارا ہی نہ تھا اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنے لگتا ہے ان کے نام کی نذریں ، نیازیں اور چرھاوے چرھاتا ہے۔ یہی حالت اس وقت کے کفار کی تھی جو نبی کریم ﷺ کے وقت میں اور خصوصا مکی زندگی میں موجود تھے اور یہی حال آج کے مسلمان کہلانے والوں کی اکثریت کا ہے جو فرق ہے وہ صرف یہ ہے کہ وہ جن بزرگ ، ولیوں اور پیروں کو اللہ رب کریم کا شریک ٹھہراتے تھے ان کے بت بنا کر سامنے رکھتے تھے اور آج کل کے مسلمان کہلانے والے بتوں کی بجائے قبروں ، خانقاہوں اور روضوں کو اپنے اپنے سامنے رکھتے ہیں علاوہ ازیں ان میں اور ان میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ کلمہ توحید کا ہے وہ چونکہ (لا الٰہ الا اللہ) کے معنی سمجھتے تھے اس لیے یہ کلمہ اپنے منہ سے نہیں نکالتے تھے اور آج کے یہ مشرک ایسے ہیں کہ ان کی اکثریت تو اس کلمہ کے معنوں ہی سے ناواقف ہے وہ ان کی دیکھا دیکھی ( لا الٰہ الا اللہ) پڑھتی ہے اور شرک پر مصر ہے۔ ” اے پیغمبر اسلام ! آپ کہہ دیجئے اے کافرو ! اپنے کفر کے باوجود کچھ دیر تک فائدہ اٹھا لو اور بالآخر تم کو دوزخیوں میں داخل ہونا ہے۔ “ گویا ان کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تم کو مہلت دے رکھی ہے وہ اس وقت تک بدستور قائم رہے گی تم سے چھینی نہیں جاسکتی کیونکہ یہ میرے ہاں طے شدہ بات ہے اور جو بات میری طرف سے طے ہوچکی ہے اس میں ردوبدل ممکن نہیں۔
Ayah 39:9

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

بھلا جو شخص اللہ کی بندگی میں لگا ہوا ہے رات کی گھڑیوں میں مصروف سجدہ اور قیام ہے ، خوف آخرت بھی رکھتا ہے ، اپنے رب کی رحمت کا امید وار ہے ، آپ ﷺ فرما دیجئے کہ سمجھ والے اور ناسمجھ کہیں برابر ہوتے ہیں ؟ بلاشبہ وہی سوچتے ہیں جو صاحب عقل ہیں

وہ لوگ جو خالص اللہ کی بندگی میں لگے ہوئے ہیں وہ راتوں کو سجدہ اور قیام میں ہوتے ہیں 9۔ یہ ذکر ان لوگوں کا ہے جو گزشتہ آیت میں ذکر کیے گئے لوگوں کے بالکل الٹ اور مخالف ہیں کہ ان کو جن حالات سے بھی گزرنا پڑے وہ ہر حال میں اللہ رب ذوالجلال والاکرام پر راضی ہیں خوشی اور دکھ دونوں صورتوں میں وہ اس کو پکارتے اور اسی کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں اور راتوں کو جاگتے ہیں عین اس وقت جب لوگ گہری نیند میں خراٹے لے رہے ہوتے ہیں تو یہ لوگ اس طرح اٹھتے ہیں کہ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی اور یہ لوگ کبھی قیام میں کھڑے ہیں ، کبھی رکوع کی حالت میں ہیں اور کبھی رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے سجدہ ریز ہیں اور آخرت کا ڈر ان کو بستروں سے الک گر دیتا ہے اور نہ تو گرمیوں کی چھوٹی رات ان کو اس سے باز رکھ سکتی ہے اور نہ ہی سردیوں کا پالا ان کے لیے روک کا باعث ہو سکتا ہے وہ بدستور اللہ رب کریم کے حضور گڑگڑاتے اور روتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہتے ہیں اور خصوصا اس کائنات میں غور وفکر کرتے اور اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی عرضیاں پیش کرتے ہیں اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوال کی جا رہا ہے کہ ” کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے کبھی برابر ہو سکتے ہیں ؟ “ ان جاننے والوں اور نہ جاننے والوں سے کون لوگ مراد ہیں ؟ ظاہر ہے کہ جاننے والوں سے وہی لوگ مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں اور اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہیں کرتے خواہ وہ کوئی ہو اور کون ہو اور ان پر کتنا ہی سخت وقت کیوں نہ آپڑے وہ کبھی غیر اللہ کو نہیں پکارتے اس لیے کہ وہ اس کے سوا کسی کو حاجت روا نہیں سمجھتے اور دوسرے وہ ہیں جو غیر اللہ کی طرف رجوع رہتے ہیں اور غیر اللہ کی نذر ونیاز میں لگے رہتے ہیں تا آنکہ ان کے ناک میں دم آجائے تو اس وقت ان کو اللہ یاد آتا ہے اور جوں ہی اللہ نے ان کو اس مصیبت سے نجات دی تو وہ پھر اللہ تعالیٰ کو اسی طرح بھول گئے گویا کہ انہوں نے کبھی اللہ تعالیٰ کو پکارا ہی نہ تھا۔ ظاہر ہے کہ انہی لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے نہ جاننے والے قرار کرسکتے ہوں ، کسی آدمی کے تلمذ میں انہوں نے تہ زانو بھی نہ کیے ہوں جب وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق ایسا نظریہ رکھتے ہیں تو یقینا وہ جاننے والے ہی ہیں اور دوسری قسم کے لوگوں کے پاس اگرچہ بہت بڑے بڑے کتب خانے ہوں اور دینی و دنیوی علوم کی بیشمار سندات رکھتے ہوں اور ان کے ناموں کے ساتھ کتنی کتنی ڈگریاں لگائی گئی ہوں اور لوگ ان کو عالم و فاضل قرار دیتے ہوں عند اللہ وہ کچھ بھی جاننے والے نہیں ہیں۔ پہلی قسم کے لوگوں کو قرآن ِ کریم نے اولو الالباب قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ نصیحت کو قبول کرتے ہیں تو یہی لوگ قبول کرتے ہیں ان کے مخالف دوسرے لوگ کبھی بھی نصیحت نہیں پکڑتے۔ مقام غور ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جاننے والے کون ہیں ؟ اور ہمارے نزدیک جاننے والے کن لوگوں کو کہا جاتا ہے ؟ اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو میں بےدھڑک کہہ سکتا ہوں کہ جو صرف جاہل ہی نہیں بلکہ ” اجہل “ لوگ ہیں اگرچہ عوام ان کو امام اور پیشوا ہی کیوں نہ مانتے ہوں۔ کاش کہ ہمارے بھی علم کی تعریف وہی کی جاتی جو قرآن کریم نے اور اللہ تعالیٰ نے کی لیکن آج ہمارے نظام علیم میں انہی لوگوں کو کوئی وقعت نہیں دی جاتی جو عقل و فکر سے باز رکھے وہ علم نہیں بلکہ سراسر جہالت ہوتی ہے اور ہمارے سکول و کالج اور مذہبی تمام درسگاہیں علم نہیں بلکہ سراسر جہالت ہی سکھا رہی ہیں اور جس نے بھی علم سے کھن اور علم کی بات کرنے کا ارادہ کیا اس کے پیچھے یہ لوگ لٹھ لے کر ایسے لگ گئے کہ اس کو اگر وہ مار نہ سکے تو ” ادھ موا “ ضرور کردیا تاکہ کوئی دوسرا علم کی بات کرنا شروع نہ کر دے۔
Ayah 39:10

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

آپ ﷺ (میری طرف سے) فرما دیجئے کہ اے میرے بندو ! جو ایمان لائے ہو اپنے رب سے ڈرتے رہو (یاد رکھو کہ) جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک کام کیے ان کے لیے بھلائی ہے اور اللہ کی زمین کشادہ ہے بلاشبہ صبر کرنے والوں کو ان کے صبر کا پورا پور اجر ملے گا جو (اَجر ملنے والوں کے لیے) بےحساب ہو گا

جن لوگوں کو گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے جاننے والے کہا اب ان کو مخاطب کر رہا ہے 10۔ جو اللہ کے نزدیک جاننے والے ہیں ان کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے اور مخاطب کرتے وقت ان کو ایمان والو ! کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے کیونکہ یہی لوگ ہیں جن کو حقیقت میں ایمان والے کہا جاسکتا ہے فرمایا جا رہا ہے کہ تم ہی ہو جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہو اور اس بات کے مستحق ہو کہ تم کو دنیا میں بھی نیک کہا جائے اور آخرت میں بھی۔ فرمایا جاہل طبقہ یعنی وہ لوگ جن کو گزشتہ آیت میں نہ جاننے ولاے کہا گیا ہے اگر وہ تم کو تنگ کرلیں اور تمہارا جینا دوبھر کردیں تو وہاں سے ہجرت کر جائو جہاں انہوں نے تمہارا ناطقہ بند کردیا ہے اور تم اللہ تعالیٰ کی زمین میں کشادگی اور کشائش پاء گے اور اگر تم ہجرت نہ کرسکو یا تمہاری ہجرت کرنے پر کوئی بات مانع اور روک ہو تو ان نہ جاننے والوں کے مقابلہ میں ڈٹ جائو اس لیے کہ اب تمہارے جاننے والے ہونے کی یہی اصلیت ہے اگر تم ان جاہلوں کے مقابلے میں ڈٹ جائو گے تو یقینا تم آخرت کے اجر کے مستحق ہو جائو گے اور تم میں سے بہت سے لوگوں کو بغیر حساب کتاب جنت میں داخل کردیا جائے گا یہی جنت تمہارا اجر ہوگی۔
Ayah 39:11

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

آپ ﷺ فرما دیجئے (اے پیغمبر اسلام ! ) کہ مجھے تو حکم ملا ہے کہ میں دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اس کی عبادت کروں

آپ اعلان کر دیجئے کہ مجھے دین خالص ہی کی ہدایت کی گئی ہے 11۔ گزشتہ آیت میں ایمان والوں کو نصیحت کی گئی ہے اور زیر نظر آیت میں نبی کریم ﷺ سے اعلان کروایا جا رہا ہے کہ اے میرے رسول ! آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میں جو تم کو توحید کا درس دے رہا ہوں اور نصیحت کر رہا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں صرف تم ہی کو اس بات کا حکم دے رہ اس ہوں اور ” اوروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت “ کا مصداق ہو رہا ہوں ، ہرگز نہیں میرے رب نے مجھے بھی ایسا ہی کرنا کا حکم دیا ہے اور حق بات پر ثابت قدم رہنے اور شمع توحید کر روشن رکھنے کی تاکید کی ہے اور میری زندگی کا ایک ایک لمحہ اس کی خبر دے رہا ہے۔
Ayah 39:12

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلمان بنوں

مجھے حکم دیا گیا ہے میں سب سے پہلے فرمانبرداروں میں ہوں 12۔ یہ آیت بھی اسی اعلان نبوی کا ایک حصہ ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اے رسول ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں یعنی میرا اعلان بعد میں ہوا اور اس اعلان سے پہلے میں اپنی دلیل پیش کرچکا ہوں کہ جس بات کا اعلان کر رہا ہوں اس کا عامل میں خود ہوچکا ہوں یہی نہیں کہ صرف تم کو ایک ایسی بات کہہ رہا ہوں جس کا میں خوب پابند نہیں اور اس میں ہماری زندگی کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے آج آپ اپنا اور اپنے مذہبی ٹھیکہ داروں کا تجزیہ کر کے دیکھیں ہم میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جو اس بات کا پابند ہو سکے کہ جو دوسروں کو تلقین کرے پہلے خود اس تلقین کا پابند ہو۔ آج ہماری اکثریت کا کہنا اور کرنا دو مختلف باتیں ہیں جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں حالانکہ اعلان الہٰی یہی ہے کہ انسان وہی کہے جو خود کرے اور وہی کرے جو خود کہے۔ یہی بات زیر نظر آیت میں باور کرائی جا رہی ہے لیکن کیا آج یہ بات کہیں نظر آتی ہے ؟
Ayah 39:13

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) آپ ﷺ یہ بھی فرما دیجئے کہ اگر میں حکم نہ مانوں تو مجھے بڑے دن (قیامت) کے عذاب سے ڈر لگتا ہے

ّآپ کہہ دیجئے کہ اگر میں حکم الہٰی نہ مانوں تو مجھے بھی آخرت کا ڈر ہے 13۔ معلوم ہوا کہ کہنے والے کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ جو بات کہتا ہے اور دوسروں کو اس کا حکم دیتا ہے خود اس کا پابند ہو اور یہ بھی کہ اگر وہ خود پابندی نہ کرے تو اس کو بھی سزا دیا جانا ضروری اور لازمی ہے بلکہ وہ دوسرے لوگوں سے زیادہ سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ زیر نظر آیت میں اس بات کا اعلان نبی اعظم وآخر محمد ﷺ سے کرایا جا رہا ہے کہ آپ اعلان کر دیجئے کہ جس بات کا میں تم کو حکم دے رہا ہوں اگر میں اس کو نہ مانوں تو میں بھی عذاب کا مستحق ٹھہرتا ہوں اگرچہ آپ کی حکم عدولی کا کوئی سوال ہیں پیدا نہیں ہوتا تھا تا ہم آپ سے یہ اعلان کرایا گیا تاکہ دوسروں کو نصیحت ہو لیکن دوسروں نے جو نصیحت حاصل کی وہ سب کے سامنے ہے کہ دین کا پیغام پہنچانا ایک کاروبار ہے اور ایک پیشہ ہے جو لوگ یہ ذمہ داری اپنے سر لیتے ہیں ان کی ذمہ داری فقط اتنی ہے کہ وہ دوسرے لوگوں تک ایک بات پہنچا دیں اور وہ خود کسی ضابطہ کے پابند نہیں۔ اس حالت پر آج جتنا افسوس کیا جائے کم ہے اور یہی کہا جاسکتا ہے کہ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ (یوم عظیم) سے مراد قیامت ہی کا روز ہے۔
Ayah 39:14

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میں اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اس کی عبادت کرتا ہوں

کہہ دیجئے میں تو اللہ کی عبادت کرتا ہوں خالص کر کے اس کے لیے دین 14۔ یہ وہی اعلان ہے جو آیت گیارہ میں گزر چکا ہے فرق ہے تو صرف یہ کہ پہلی آیت میں آپ سے کہا گیا تھا کہ آپ کہہ دیجئے کہ میں دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اس کی بندگی کا حکم دے دیا گیا ہوں کہ میں خالص اس کی بندگی کروں اور زیر نظر آیت میں وہی حکم آگے پہنچانے کا حکم دیا جا رہا ہے تاکہ جن کو حکم دیا جا رہا ہے ان پر واضح کردیا جائے کہ میں جس بات کا تم کو حکم دے رہا ہوں وہ وہی بات ہے جس کے مطابق کود کرتا ہوں گویا میرے کہنے اور کرنے میں کوئی فرق نہیں ہے اور نہ ہی میں اس فرق کو روا رکھتا ہوں۔ آپ نبی کریم ﷺ کی زندگی کے جس باب کا چاہیں مطالعہ کریں آپ دیکھیں گے جو آپ نے فرمایا وہ پتھر پر لکیر ہے۔
Ayah 39:15

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

(اے کافرو ! ) تم اس کے سوا جس کی چاہو پرستش کرو ، آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ سب سے بڑھ کر خسارہ میں وہی رہے جنہوں نے اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن خسارہ میں ڈالا ، آگاہ رہو یہ خسارہ ہی کھلا خسارہ ہے

میرا کام تو تم کو منع کرنا تھا وہ میں نے کردیا اب تمہاری مرضی کہ جو چاہو کرو 15۔ فطرتِ انسانی ہے کہ اگر وہ کسی آدمی کو کسی بات سے روکتا ہے اور جب وہ اس سے باز نہیں آتا تو انجام کار وہ کہہ دیتا ہے کہ جو تو کرتا ہے کرتا رہ اس انداز میں یہ بات کہی جا رہی ہے کہ اے کافرو ! اور مشرکو ! اللہ کے سوا تم جس کی عبادت و بندگی چاہتے ہو کرتے رہو میرا اعلان تو یہ ہے کہ قیامت کے روز گھاٹے میں وہی لوگ رہیں گے جو خود بھی گھاٹے میں ہوں گے اور ان کے اہل و عیال بھی اور دوست و احباب بھی جو ان کو اس معاملہ میں چاہنے والے ہوں گے اور بلاشبہ ان کا گھاٹا بھی ایسا ہوگھاٹا ہوگا جو نہایت کھلا اور واضح ہوگا۔ کھلا خسارہ وہی ہوگا جس کو عرف عام میں دیوالیہ کہا جاتا ہے اور دیوالیہ یہ ہے کہ آدمی جو سرمایہ کسی کاروبار میں لگائے وہ اس طرح ڈوبے کہ اس کے اصل سرمایہ کا بھی کچھ پتہ نہ چلے اور لوگوں کے مطالبات بھی اس کے سر ہوں جن کو وہ کسی صورت پورا نہ کرسکتا ہو گویا کمائی تو کمائی رہی اس کا اصل زر بھی گم ہو کر رہ جائے۔ اس چیز کو قرآن ِ کریم نے (الخسران المبین) کہا ہے۔ انسان کی دنیوی زندگی میں جو کچھ بھی اس کو دیا گیا ہے یعنی عمر ، عقل ، جسم کی قوتیں اور قابلیتیں ، ذرائع اور مواقع سب کا مجموعہ ہی وہ سرمایہ ہے جس وہ حیات دنیوی کے کاروبار میں لگاتا ہے۔ یہ سارا سرمایہ اگر کسی شخص نے اس مفروضے پر لگا دیا کہ اللہ کی ذات مطلق ہے ہی نہیں یا یہ کہ اس کائنات میں بہت سے رب ہیں جن کا میں بندہ ہوں اور مجھے کسی کے سامنے حساب کے لیے پیش نہیں ہونا ہے یا یہ کہ حساب لینے والا اللہ ہے لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو اس حساب سے مجھے چھڑا لیں گے اور میرا حساب نہیں ہونے دیں گے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے ایسا سمجھ کر ایسا عقیدہ رکھ کر سب کچھ ڈبو دیا اس طرح زندگی کا نفع تو نفع رہا گویا اس نے زندگی کا اصل زر بھی ضائع کردیا کیونکہ اس کا یہ مفروضہ غلط تھا اور اس غلط مفروضے پر جتنے کام بھی اس نے کیے ان سب میں وہ اپنے نفس سے لے کر دنیا کے بہت سے انسانوں اور آئندہ آنے والی نسلوں اور اللہ کی دوسری بہت سی مخلوق پر عمر بھر ظلم کرتا رہا اس لیے قیامت کے روز اس پر بیشمار مطالبے چرھے ہوئے ہوں گے لیکن اس کے پاس اس وقت کچھ بھی نہیں ہوگا جس سے وہ ان مطالبات کا ازالہ کرے اس طرح وہ فقط خود ہی نہ ڈوبا بلکہ اپنے بچوں کو ، بیوی کو اور بہت سے دوست یاروں کو بھی لے ڈوبا جو اس پر انحصار کرتے تھے۔
Ayah 39:16

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

ان کے لیے اوپر سے بھی آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی (آگ کے) فرش ہوں گے یہی (وہ عذاب) ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے ، پس اے میرے بندو مجھ سے ڈرتے رہو

قیامت کے دن ایسے خسران والوں کی حالت کا صحیح نقشہ کیا ہوگا ؟ 16۔ جس گھاٹے کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ جن کو ایسی حالت ہے ان کا نقشہ قیامت کے روز اور بھی عجیب ہوگا کہ ان کے لیے آگ کے شعلے ہوں گے اور یہ بات قبل از وقت ان کو اس لیے بتائی گئی ہے کہ شاید وہ اب بھی باز آجائیں اور توبہ و استغفار کر کے اپنی اصلاح کرلیں جیسے بھی وہ ہیں بہرحال اللہ کے تو وہ بندے ہی ہیں اور اللہ اپنے بندوں کو اس حقیقت کی طرف سے ڈرا رہا ہے تاکہ وہ ان حرکتوں سے باز آجائیں یہی وجہ ہے کہ آیت کے آخر میں پھر دوبارہ ان کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اے میرے بندو ! مجھ سے یعنی میرے قانون مکافات سے ڈرتے رہو جو ہر اس شخص کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے جو اس کے قانون کی گرفت سے بچنے کی کوشش نہیں کرتا۔
Ayah 39:17

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

اور جو لوگ بتوں کی پرستش سے بچتے رہے اور اللہ کی طرف رجوع رہے ان کے لیے بشارت ہے پس آپ ﷺ میرے ان بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے

غیر اللہ کی پرستش سے بچنے والوں کے لیے جنت کی بشارت 17۔ طاغوت کیا ہے ؟ طاغوت اس نظریہ کو کہا گیا ہے جس نظریہ کے تحت غیر اللہ کی عبادت کفر نہ رہے اور غیر اللہ میں ہر وہ چیز آجاتی ہے جو اللہ نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ صرف اور صرف ایک ذات واحد کا نام ہے لہذا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت بھی طاغوت ہی کہلاتی ہے خواہ وہ کوئی ہو۔ اس میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے انبیاء ورسل اور اولیاء کرام کی بھی لوگوں نے عبادت کی ہے اور ان کو بھی رب اور الٰہ قرار دیا ہے کہ ان کی عبادت کو بھی طاغوت سے تعبیر کیا جائے گا ؟ تو یاد رکھنا چاہیے کہ بلاشبہ ان سب کی یا ان میں سے کسی کی عبادت بھی طاغوت ہی کی عبادت ہوگی کیونکہ جس نظریہ کے تحت ان کی عبادت کی گئی وہ نظریہ طاغوت کا نظریہ ہے نہ کہ ان انبیاء ورسل اور اولیائے کرام کا۔ کسی نبی ورسول اور ولی اللہ نے اپنی عبادت کرنے کا نہیٰں فرمایا اس پر پوری بحث پیچھے عروۃ الوثقی ، جلدسوم میں سورة المائدہ کی آیت 116 ، 117 میں گزر چکی ہے۔ بلاشبہ ان چیزوں کو بھی طاغوت کہا گیا ہے جن کی لوگوں نے پرستش کی جیسے بتوں کو ، اس لیے دھوکا باز بار بار یہ شور مچاتے ہیں کہ طاغوت تو بتوں کو کہتے ہیں ان وہابیوں نے اس کا اطلاق نبیوں ، ولیوں اور بزرگوں پر کر کے لوگوں کو دھوکا دیا ہے حالانکہ دھوکہ وہ خود دینا چاہتے ہیں اس لیے کہ یہ بت جن کی مشرکین پرستش کرتے تھے کوئی عام بت نہ تھے بلکہ ان لوگوں ہی کے بت تھے جن کو وہ اپنے نظریہ کے مطابق نیل لوگ سمجھتے تھے خواہ وہ نبی ورسول تھے یا اولیاء کرام تو ان لوگوں نے نہایت عیاری سے ان بتوں کی جگہ قبروں کو دے دی اور قبروں میں عمارتیں اور روضے تعمیر کر کے ان کی پرستش شروع کردی اور مکہ کے مشرک جو عقیدت صاحب بت سے رکھتے تھے انہوں نے صاحب قبر سے کی اور اسطرح اس سوانگ کو اس سوانگ میں بدل کر مطمئن ہوگئے اور پھر لوگوں کو بھی مطمئن کرنے کی کوشش میں دن رات مصروف ہیں مکہ کے مشرک جو چڑھاوے بتوں کے نام سے کھاتے تھے انہوں نے قبروں کے نام سے کھانے شروع کردیئے اور سمجھے کہ ہم اسلام کا کام کر رہے ہیں حالانکہ شرک کا سوانگ بدل دینے سے شرک کے شرک ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا لہٰذا کوئی شخص رام چندر کے بت کی پرستش کرے یا علی ہجویری کی قبر کی دونوں میں سوائے نام کی کوئی فرق نہیں اور عد اللہ دونوں ایک ہی جیسے مشرک قرار پائیں گے فرق صرف یہ ہے کہ رامچندر ہندوئوں کے ہاں بزرگ تھے اور علی ہجویری مسلمان کہلانے والوں کے ہاں۔ ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ نہ تو رام چندر نے ہندوئوں کو یہ کہا تھا کہ یہ بت بنا کر اس کی پرستش کرنا اور نہ ہی علیہ ہجویری نے مسلمانوں کو یہ کہا تھا کہ میری قبر کی پرستش شروع کردینا اور چڑھاو وں کا مرکز قرار دیے لینا بلاشبہ وہ ہندئوں کی اختراع تھی اور ہر مسلمان کہلانے والوں کو اندریں صورت کسی نبی یا رسول یا ولی و بزرگ کی قبر کی پرستش کرنا اور اس پر چڑھاوے چڑھانا بھی ایسا ہی شرک ہے جیسے کہ لات ومنات اور عزیٰ کی پرستش کا اس لحاظ سے یہ نظریہ طاغوت کا نظریہ کہلائے گا۔ ہم اپنے بھائیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ٹھنڈے دل سے اس نظریہ پر غور کریں اور اس طرح جن جن کی وہ پرستش کرتے ہیں ان کی پرستش سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کی طرف رجوع کریں کہ زیر نظر آیت میں اس بات کا حکم دیا گیا ہے تاکہ ان کے لیے خوشخبری ہو ہم یقینا ان کو اللہ کے بندے سمجھ کر ان کو یہ خوشخبری دیتے ہیں اور وہ اس خوشخبری کے عوض ہمیں گالیاں نہ دیں اس لیے ہم کو ہابی کہہ دینے سے ان کے شرک میں کچھ تخفیف نہیں ہوگی اور شرک ایسی بری شے ہے جس سے انسان کی عاقبت بھی خراب ہوجاتی ہے اور دنیا بھی یقینا نہیں سنورتی۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان کو بھی بلاشبہ شرک کے نام سے نفرت ہے اور ہم جب ان کو کہتے ہیں کہ تم شرک کر رہے ہو تو وہ ہم سے نفرت کرتے ہیں لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ مشرک ہم نہیں کہ ہم سے نفرت کریں بلکہ شرک ان کا وہ نظریہ ہے جس کے تحت وہ شرک کے مرتکب ہوتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ ہر کسی کی پرستش کرنا محبت نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی پرستش کرنا ہی اللہ تعالیٰ کی محبت کا اظہار ہے اور جو محبت جس سے کرنے کا حق ہو وہی اس سے کرنا صحیح اور درست ہے ورنہ محبت تو محبت ہی ہے خواہ وہ ماں سے ہو یا بیوی سے لیکن دونوں محبتوں میں جو فرق ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اس لیے ہم یقین سے کہتے ہیں کہ ہمارے بھائیوں سے بھی پوشیدہ نہیں کیونکہ ان کے ہاں بھی یہ دونوں رشتے موجود ہیں محبت کا لفظ تو ایک ہی ہے لیکن جو محبت ماں سے ہے وہ بیوی سے حرام ہے اور جو محبت بیوی سے ہے وہ ماں سے حرام ہے۔ فافم فتدبر۔