40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsسراج البیان

Ayahs 40:1–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست جاننے والا ہے

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ۔ سخت عذاب (ف 1) دینے والا ، صاحب انعام ہے ۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

سورة مومن 1: کتاب اللہ کے تعارف سے سورة کا آغاز فرمایا ہے ۔ کہ یہ صحیفہ رشدوہدایت اس اللہ کی جانب سے ہے ۔ جو صاحب عزت وعلم ہے ۔ گناہوں پر نگاہ کرم رکھتا ہے ۔ توبہ کو قبول کرلیتا ہے اور سرکشوں کے حق میں سخت سزا دینے والا ہے ۔ اور قدرت واقتدار کا مالک ہے ۔ یعنی اس کتاب میں یہ خوبی ہے ۔ کہ اپنے ماننے والے کو عزت و غلبہ بخشتی ہے ۔ اس میں اللہ کے بےپایاں علم کا مظاہرہ ہے ۔ گناہوں سے تھکے ہارے لوگوں کے لئے اس میں تسکین ہے ۔ وہ آئیں اور اس کی اطاعت کا عہد کریں ۔ تمام گناہ ان کے بخش دیئے جائیں گے ۔ اس میں ان لوگوں کے لئے بھی سامان طمانیت ہے ۔ جو مسلمان ہیں اور بتقاضائے بشریت ان سے معصیت کا صدور ہوجاتا ہے ۔ وہ اگر صدق دل سے توبہ کریں ۔ تو اللہ اس کو قبول فرمالیتا ہے ۔ اس کتاب میں یہ خصوصیت بھی ہے کہ اس کا انکار رب شدید العقاب کا انکار ہے ۔ اور اس کی غیرت کو آزماتا ہے ۔ جس کے متعلق طے ہے کہ وہ اس درجہ صاحب قوت واقتدار ہے ۔ کہ کوئی قوت اس کے فیصلوں کی تکمیل میں حائل نہیں ہوسکتی ۔ اس کے بعد اصل تعلیم کو پیش فرمایا ہے ۔ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اور ساری کائنات انسانی کو بالآخر اسی کے حضور میں پیش ہونا ہے ۔ اس انداز بیان میں کہ خدا غافر الذنب اور قابل القوب ہے ۔ کسی درجہ محبت اور شفقت کا اظہار ہے ۔ اور کس درجہ گناہگاروں کی دل دہی اور خاطر داری ہے ۔ کہ وہ کسی حالت میں بھی مایوس نہ ہوں ۔ وہ چاہے گناہوں سے سر سے پاؤں تک آلودہ ہوں جب بھی خلوص کے ساتھ اللہ کے سامنے آئیں گے ۔ تو اس کو نہایت مہربان اور شفیق پائیں گے ۔ پھر اس کے بعد شدید العقاب کہہ کر یہ کیا ہے ۔ کہ کہیں لوگ اس کی بخشش ہی پر بھروسہ نہ رکھیں ۔ اور یہ نہ سمجھ لیں ۔ کہ وہ تو عفو وحلم کا پیکر ہے ۔ ہمیں معاف ہی کردیگا ۔ بتایا ہے کہ جہاں اس کے عفو وکرم کی امید رکھو ۔ وہاں اس بات سے بھی ڈرو ۔ کہ وہ جب سزا دیتا ہے تو شدید سزا دیتا ہے ۔ ایمان کو گویا اس طرح امید وخوف کے بین بین رکھا ہے ۔ تاکہ اس میں توازن قائم رہے ۔ حل لغات :۔ الطول ۔ قوت اور قدرت ۔
Ayahs 40:4–5

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

اللہ کی آیتوں میں سوائے کافروں کے اور کوئی نہیں جھگڑتا ۔ سو ان کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے فریب نہ دے

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان سے پہلے قوم نوح نے اور ان کے بعد اور گروہوں سے جھٹلایا اور ہر امت نے اپنے رسول کو پکڑنے کا ارادہ کیا اور باطل بات سے جھگڑتے رہے تاکہ اس سے حق (ف 1) بات کو ڈگادیں ۔ پھر میں نے انہیں پکڑا تو میرا عذاب کیسا تھا ؟

ف 1: فرمایا ۔ کہ ان لوگوں کی تکذیب محض کفر وعناد پر مبنی ہے ۔ اور یہ اگر آسودگی اور آسائش سے شہروں اور ملکوں میں گھومتے پھرتے ہیں ۔ تو آپ یہ نہ سمجھ لیں ۔ کہ یہ لوگ اللہ کی گرفت سے بچ گئے ہیں ۔ ان سے پہلے بھی قوموں نے تکذیب کی ہے ۔ اور اپنے انبیاء کی مخالفت کی ہے ۔ اور ان کے خلاف سازشیں کی ہیں ۔ تاکہ حق کی آواز کو دبا لیں ۔ مگر ہمارے عذاب نے انہیں ہمیشہ اپنے ارادوں میں ناکام رکھا ۔ اسی طرح ان کے لئے بھی مقدر ہے ۔ کہ اللہ کے عذاب کو چکھیں ۔ اور جہنم میں اپنا ٹھکانا بتائیں ۔ عارضی طور پر ہم نے ان کو چلنے پھرنے کی مہلت دے رکھی ہے ۔ اس سے آپ اشتباہ میں نہ پڑیں ۔ آپ یقین رکھیں ۔ کہ ان لوگوں کو اپنے ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ اور اللہ کا دین پھیلے گا ۔ حل لغات :۔ تقلبھم ۔ چلنا پھرنا وحمت ۔ بری نیت سے کیا لیدحضوا ۔ دحض سے ہے جس کے معنی باطل کرنے اور ضائع کرنے کے ہیں جحلہ دا حصہ سے مراد وہ دلیل ہے ۔ جو مخالف کے زور استدلال کو توڑ دے ۔
Ayahs 40:6–7

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح تیرے رب کی بات کافروں پر پوری ہوچکی ، کہ وہ دوزخی ہیں

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

وہ فرشتے جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں ۔ اور وہ جو عرش کے گرد ہیں اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے ہیں ۔ اور اس پر ایمان لاتے اور ایمانداروں کے گناہ بخشواتے (ف 1) ہیں یہ دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب رحمت اور علم کے لحاظ سے تو ہر شئے پر حاوی ہے سو جنہوں نے توبہ کی اور تیری راہ کے تابع ہوئے انہیں بخش دے اور انہیں عذاب دوزخ سے بچا

فرشتے مسلمانوں کے لئے بخشش طلب کرتے ہیں 1: ایک طرف دنیا کے لئے بصیرت لوگ حضور ﷺ کی مخالفت کررہے ہے تھے ۔ اور آپ کو اور آپ کی جماعت کو حقارت اور ذلت کی نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔ دوسری طرف اللہ کو یہ منظور تھا ۔ کہ آسمانوں میں اللہ کی بہترین مخلوق حمد و ستائش کے ترانوں اور نغموں کے ساتھ مسلمانوں کے لئے بخشش اور مغفرت طلب کریں ۔ چناچہ ارشاد ہے ۔ کہ وہ ملائکہ جو عرش عظیم کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں ۔ ہر آن تسبیح و تمہید میں مصروف ہیں ۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے خلوص قلب کے ساتھ بخشش طلب کرتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز پر شامل ہے ۔ تو ان لوگوں کو جو تائب ہوچکے ہیں اور جنہوں نے تیرے دین کی پیروی اختیار کی ہے بخش دے ۔ اور ان کو دوزخ کے عذاب سے بچادے ۔ اور اسے ہمارے پروردگار ان کو حسب وعدہ جنت میں جگہ دے ۔ اور ان کے ماں باپ اور بیبیوں اور اولاد میں جو لائق ہوں ۔ ان کو بھی ان نعمتوں میں شریک کرلے ۔ تو زبردشت حکمت والا ہے ۔ اور ان کو ہر طرح دیکھ اور تکلیف سے بچا ۔ یقینا تیری رحمت ہوگی اور ان کے لئے بڑی کامیابی ۔ اس ضمن میں دو چیزیں قابل غور ہیں ۔ ایک تو یہ کہ عرش عظیم کو اٹھانے کے معنے کیا ہیں ۔ کیا یہ عرش اللہ کی قرار گاہ نہیں ہے ؟ اور کیا اس کو اٹھانے کے معنے یہ نہیں ہیں ۔ کہ اس دن فرشتے خدا کو اپنے کندھوں پر اٹھالیں گے ؟ ان شکوک کا جواب یہ ہے کہ سب سے پہلے اس چیز پر غور کرنا چاہیے ۔ کہ اللہ کے متعلق قرآن نے کس بخیل کو پیش کیا ہے ؟ اور اس کے بعد یہ چیز سوچنے کی ہے ۔ کہ عرش کے ساتھ اللہ کی وابستگی کس نوع کی ہے ؟ اس کے بعد غالباً اس قسم کے شکوک پیدا نہیں ہوسکتے ہیں ۔ بشرطیکہ وہ تخیل اور وابستگی اسی طرح کی ہو ۔ جس طرح کہ ذہین میں متب اور ہوتی ہے اور اگر قرآن صاف صاف کئی بار یہ اعلان کردے کہ خدا ہر چیز کا خالق ہے ۔ لیس کمثلہ شیء کا مصداق ہے ۔ جسمانیات سے معرا اور پاک ہے ۔ مقام اور مکان کا محتاج نہیں اور عرش سے تعلق محض تجلیات کا ہے ۔ کہ وہ اس کو بطور تجلی گاہ کے استعمال کرتا ہے ۔ تو پھر سرے سے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہتا ۔ دوسری بات یہ ہے ۔ کہ جب فرشتہ اللہ کی تجلیات کو براہ راست اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہونگے ۔ اور اس کے عرش تجلیات کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہونگے ۔ تو پھر وہاں اس چیز کے ذکر کی کیا حاجت تھی ۔ کہ وہ اس پر ایمان رکھیں گے ۔ کیونکہ ایمان کا تحقق تو وہاں ہوتا ہے ۔ جہاں مشاہدہ نہ ہو بلکہ نظر استدلال ہو اور یہاں خدا کی تجلیات کا مشاہدہ ہے جواب یہ ہے کہ اللہ کی عظمت اور جلالت قدر کا تقاضا یہ ہے کہ باوجودانتہائی قرب کے بھی وہاں بیشمار ایسے حجابات نور ہوں ۔ جو اس کی ذات اور تجلیات کے مشاہدہ کرنے والوں کے درمیان حائل ہوں ۔ اور وہاں عین اللہ کی حضوری میں بھی انسان مشاہدہ ذات پر قادر نہ ہوسکے ۔ بلکہ بصیرت ہی راہنمائی کرے ۔ اور ایمان ہی تسکین بخشے ۔ ہاں یہ درست ہے ۔ کہ یہ ایمان قوت و استحکام میں اس ایمان سے بدرجہاں مختلف ہے ۔ جو نظرواستدلال سے پیدا ہوتا ہے ۔ حل لغات : العسیات ۔ یعنی تکلیفات ۔ لمقت اللہ ۔ یعنی اللہ کا غصہ اور ناراضی اھذا النتین ۔ دو بار مارنے کے یہ معنی ہیں ۔ کہ جب کنتم عدم میں تھے ۔ جب بھی مردہ تھے ۔ پھر جب موت نے زندگی کے شیرازہ کو منتشر کردیا ۔ اس وقت بھی مردہ تھے ۔
Ayahs 40:8–14

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اور اے ہمارے رب ان کو ہمیشہ رہنے کے باغوں میں داخل کر جن کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کے باپوں اور اولاد میں سے جو نیک ہوں ان کو بھی (داخل کر) بیشک تو ہی زبردست حکمت والا ہے

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور انہیں بدیوں سے بچا اور جسے تونے اس دل سے بدیوں بچایا ۔ بیشک اس پر تونے رحم کیا اور یہ بات جو ہے یہی بڑی مراد پائی ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

بیشک جو لوگ منکر ہیں ان کو پکار کر کہا جائیگا ۔ کہ جس قدر تم اپنی جانوں سے بیزار ہو اس سے زیادہ خدا تم سے بیزار ہوتا تھا جبکہ تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے پھر تم منکر ہوئے

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

کہیں گے اے ہمارے رب تو ہمیں دوبارمار چکا اور دو بار ہمیں جلا چکا پس ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا ۔ پس کیا اب نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے ؟

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

یہ اس لئے ہے کہ جب اللہ اکیلا پکارا جاتا تھا تو تم منکر ہوتے تھے اور جو اس کے ساتھ شرک کیا جاتا تھا تو مان لیتے تھے سو اب اللہ بلند بڑے کا ہی حکم ہے

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھلاتا اور تمہارے لئے آسمان سے روزی اتارتا ہے اور سوچتا وہی ہے جو رجوع رہتا ہے

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

پس اللہ کو اس طرح پکارو کہ نری اس کی عبادت ہو اگرچہ (ف 1) کافر برا مانیں

دعوت توحید 1: قرآن حکیم بطور مدارو مرکز کے جس مسئلہ کا ذکر کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ تمام عالم انسانی احساس مجد کے اس اصول سے براہ راست واقفیت پیدا کرے اور یہ تے کرلے کہ زندگی کی تمام تگ ودو میں اس اصول کو ملحوظ رکھا جائیگا کہ ہم ساری کائنات سے افضل ہیں ۔ اور رب اکوان ہمارا خدا ہے ۔ اسی کی بادشاہت ہے ۔ اور وہی بالا اور برتر ذات ہے ۔ اس عقیدہ یقینا یہ نتیجہ ہوگا ۔ کہ نفس میں وہ تمام خود داری اور رفعت کے جذبات پیدا ہوجائیں گے ۔ جن پر مضبوط اور صالح زندگی کا انحصار ہے ۔ توہمات مٹ جائیں گے اور ہر شخص اپنے میں ایک روحانی قوت اور طاقت محسوس کریگا ۔ ایک نوع کی بالیدگی اور ارتقاء پائیگا ۔ اور پھر ہینت اجتماعیہ کی شکل اس انداز میں ہوگی کہ ہر شخص مساوات اور محبت کے حقوق سے یکساں بہرہ مند ہوگا ۔ جب ہر شخص بطور عقیدہ کے سمجھ لیگا ۔ کہ ہم سب ایک ہی خالق اور آقا کے بندے ہیں ۔ اور وہ آقا بلاتفریق سب کا پروردگار ہے ۔ تو دنیا میں فضیلت جنسی کا امتیاز اٹھ جائیگا ۔ کالے اور گورے میں کوئی فرق نہیں رہیگا ۔ مشرق اور مغرب کے پلے برابر ہوجائیں گے اور اس طرح نوع انسانی بہت بڑی سعادت کو حاصل کرلیگی ۔ قرآن حکیم بار بار ، اس تصور کو پیش فرماتا ہے اور کہتا ہے ذرا غور تو کرو ۔ کیا وہ تمہیں اپنی نشانیاں نہیں دکھاتا ہے ۔ اور کیا اسی کے ہاتھ میں تمہاری ضروریات کی تکمیل نہیں ہے ؟ وہی تمہیں رزق بہم پہنچاتا ہے ۔ اور وہی تمہاری روزی کا سامان مہیا کرتا ہے ۔ مگر اس سادہ حقیقت کو بھی سمجھنے کے لئے جذبہ رجوع الی اللہ کی ضرورت ہے ۔ اگر طبیعت میں صلاحیت ہو انابت ہو ۔ اور حق کی طرف میلان ہو ۔ تو پھر انسان کا لامحالہ اس حقیقت پر ایمان ہوگا ۔ کہ سمجھے گا ۔ کہ خدائے آسمان و زمین ہماری ضروریات کا متکفل ہے ۔ ورنہ ہدایت کا حصول سخت مشکل ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ کہ میری عبادت خلوص اور دیانت سے کرو اور اس استحکام و عزیمت کے ساتھ کہ منکرین کی مخالفت سے تمہارے عقیدوں میں تزلزل پیدا نہ ہوسکے ۔ حل لغات :۔ رفیع الدرجات ۔ کے معنی جہاں خود بلند مرتبت ہونے کے ہیں ۔ وہاں یہ بھی ہوسکتے ہیں ۔ کہ وہ اللہ اپنے بندوں کے درجات روحانی میں اضافہ کرتا رہتا ہے ۔ اور ان کے مرتبوں کو بڑھاتا رہتا ہے ۔
Ayah 40:15

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

بلند درجوں والا عرش کا مالک اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی نازل کرتا ہے تاکہ وہ ملاقات (ف 2) کے دن سے ڈرائے

ف 2: یعنی وہ بلند مرتبت ذات جو عرش جلال وجبروت پر قرار پذیر ہے ۔ وہ کائنات کی مصالح کو خوب سمجھتی ہے ۔ اور وہ اس بات میں تمہارے مقاصد کی پرواہ نہیں کرتی ۔ یہ کوئی ضروری نہیں ۔ کہ تمہارے نزدیک جو نبوت کا مستحق ہو ۔ وہ پیغمبر قرار پائے ۔ اور جس کو تم دیکھو ۔ کہ دنیوی اعزاز سے محروم ہے ۔ اللہ بھی اس کو عہدہ رسالت سے سرفراز نہ کرے ۔ وہ اپنے معاملات میں خود مختار ہے ۔ اور اس کے ہاں فضیلت وشرف کا معیار وہ نہیں ہے ۔ جو تمہارے ہاں ہے ۔ وہ جس شخص میں اہلیت دیکھتا ہے ۔ اس کو نوازتا ہے ۔ اور امین بنا کر وحی فرماتا ہے وحی اور شریعت کو رفع سے تعبیر کرنے معنی یہ ہیں کہ جس طرح روح سے انسانی جسم میں تازگی اور نزہت پیدا ہوتی ہے ۔ اور انسانی زندگی کے لئے رفع کی احتیاج ہے ۔ اسی طرح شریعت اور مذہب جسم انسانی کی جان ہے ۔ اور روح حیات ہے بتوں کو کیوں پوجتے ہو ؟ قرآن حکیم بار بار شرک کی تردید کرتا ہے ۔ اور کہتا ہے کہ تمہارے بتوں کو اور معبودان باطل کو کائنات کے کاروبار میں کوئی دخل نہیں اور یہ مشرکانہ تصورات قیامت کے دن تمہیں اللہ کی گرفت سے نہیں چھڑا سکیں گے ۔ حل لغات :۔ یوم الطلاق ۔ قیامت کے دن جب روحیں ایک جگہ جمع ہوگی ۔ اور باری تعالیٰ کے حضور میں پیش ہونگی ۔ یوم الازفۃ وہ دن جو اپنی قطعیت کے اعتبار سے بالکل قریب الوقوع ہو اذ القلوب لدا الحناجر ۔ مجاز ہے مقصد یہ ہے کہ جب لوگ انتہائی اضطراب اور بےچینی کو محسوس کرینگے اور مارے ہول کے ان کے کلیجے منہ کو آنے لگیں گے ۔
Ayahs 40:16–21

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس دن کہ وہ نکل کھڑے ہونگے اللہ پر ان کی کوئی شئے پوشیدہ نہ رہیگی اس دن کس کی بادشاہت ہوگی ؟ اللہ کی جو اکیلا ہے دباؤ والا

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج ہر شخص اپنی کمائی کا بدلہ پائیگا ۔ آج ظلم نہیں بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور انہیں نزدیک آنے والے دن سے ڈرا جس وقت دل غم میں بھرے ہوئے گلوں کو آپہنچیں گے ۔ ظالموں کا نہ کوئی حمائتی ہوگا نہ شفیق کہ جس کی مانی جائے

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

اللہ آنکھوں کی چوری کو جانتا ہے اور اس کو بھی جو دلوں میں چھپا ہے

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور اللہ انصاف سے فیصلہ کرتا ہے اور جنہیں اس کے سوا پکارتے ہیں وہ کچھ بھی فیصلہ نہیں کرتے بیشک اللہ تعالیٰ سننے والا اور دیکھنے والا ہے

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

کیا اور انہوں نے ملک میں سیر نہیں کی کہ دیکھتے کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو ان سے پہلے تھے ؟ وہ ان سے زور میں بھی بڑھے ہوئے تھے جو زمین میں چھوڑ گئے ۔ سو اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑا ۔ اور ان کے لئے اللہ سے کوئی بچانے (ف 1) والا نہ تھا

ف 1: قابل غور چیز یہ ہے ۔ کہ کیونکر انسان ان پتھروں اور زید و روح کے لاشوں کو خدا سمجھ لیتا ہے ۔ اور کس طرح ان کی عبادت میں اسکو روحانی تسکین حاصل ہوتی ہے ۔ حالانکہ نہ یہ اس کی باتوں کو سن سکیں اور نہ ان کے نعمتہائے عقیدت سے واقفیت حاصل کرسکیں ۔ جو خدا ہماری آواز کو نہیں سنتا ۔ اور ہمارے دلی جذبات کو نہیں جانتا ۔ وہ کیونکر خدا ہوسکتا ہے ؟ ہم تو فطرتاً ایسا خدا چاہتے ہیں ۔ جو غموں اور مصیبتوں میں بغیر نالہ وفریاد اور شیون وبکا کے ہماری دستگیری کرے ۔ اور ہمیں روحانی تسکین عطا کرے ۔ جو براہ راست ہمارے کلیجے کے داغہائے الم کو دیکھتا ہو ۔ اور ہماری پردرد آواز کو سنتا ہو ۔ اور کیوں یہ فرض کرلیتے ہیں ۔ کہ یہ پتھر پسجیں گے اور اپنی غیر معمولی قدرتوں سے ان کی مشکلات کو دور کریں گے ۔ حالانکہ وہ پتھر ہیں ۔ بےجان ہیں اور بےحس ہیں ۔
Ayah 40:22

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

یہ اس لئے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول معجزے لے کر آتے رہے اور انہوں نے نہ مانا ۔ پھر خدا نے انہیں پکڑا بیشک وہ زور آور سخت عذاب (ف 2) دینے والا ہے

زمین میں چل پھر کر دیکھو 2: خدا کی سنت اقوام وملل کے متعلق یہ رہی ہے ۔ کہ جب ان کے پاس اس کے رسول دلائل و شواہد لے کر آئے ہیں ۔ اور انہوں نے انہیں اسختصار سے ٹھکرادیا ہے ۔ تو اس کی غیرت جوش میں آئی ہے ۔ اور ان کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔ اور پھر کسی قسم کی رعایت کو محلوظ نہیں رکھا گیا اس لئے قریش مکہ کو بتلایا ہے ۔ کہ تم قوت اور دولت پر ناز نہ کرو ۔ تم سے پہلے بھی اس معمورہ ارضی پر قومیں آباد ہوچکی ہیں ۔ اور وہ تم سے قوت اور اقتدار میں کہیں زیادہ تھیں ۔ مگر جب انہوں نے نافرمانی کی اور اللہ کے حکموں کو ٹھکرایا ۔ تو پھر ان کو اس طرح فنا کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ کہ آج صرف عبرت وتذکیر کے لئے ۔ چند کھنڈرات باقی ہیں ۔ جو ان کے تکبر و غرور پر نوحہ کناں ہیں ۔ اور ہو شاندار شخصیتیں جن کو شبہ تھا ۔ کہ زمانہ ان کو کبھی فراموش نہیں کریگا ۔ قطعاً موجود نہیں ہیں ۔ اور حرف غلط کی طرح ان کا نام ونشان تک مٹ گیا ہے ۔ کیا اس کے بعد بھی تمہارا گمان ہے ۔ کہ باوجود حق وصداقت کی مخالفت کے تم لوگ باقی رکھے جاؤ گے ۔ اور خدا تمہاری قوت او طاقت سے ڈرجائیگا ۔ اور تم سے بالکل تعرض نہیں کریگا ۔ تم زمین میں چلو پھرو ۔ اور تاریخ اقوام کے ورق الٹ کر دیکھو ۔ اگر وہ اللہ کی گرفت سے بچ سکے ہوں تو تمہارے لئے بھی بچ نکلنے کے امکانات ہیں ۔ ورنہ تم کیونکر بچ سکوگے ۔ حل لغات :۔ اثارا ۔ جمع اثر ۔ یعنی اپنی عظمت و رفعت کے مادی نشانات واق ۔ بچا سوا قوی ۔ صاحب قوت واقتدار ۔
Ayahs 40:23–28

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اپنی نشانیاں اور کھلی سند دے کر بھیجا

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف سو وہ بولے کہ یہ جادوگر ہے جھوٹا

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

پھر جب ہمارے پاس سے حق بات لے کر (موسیٰ ) ان کے پاس پہنچا تو وہ بولے کہ جو لوگ موسیٰ کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے لڑکوں کو قتل کرو اور ان کی لڑکیوں کو جیتا رکھو اور کافروں کا جو داؤ ہوتا ہے سو غلط ہوتا ہے

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا کہ مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کروں اور چاہیے کہ وہ اپنے رب کو پڑا پکارے ۔ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ تمہارا دین نہ بگاڑ دے یا زمین میں فساد ظاہر نہ کرے

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ بیشک میں ہر متکبر سے جو حساب کے دن کو نہیں مانتا اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص نے جو اپنا ایمان چھپارہا تھا یوں (ف 1) کہا ۔ کیا تم ایک آدمی کو اس پر مارے ڈالتے ہو ، جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور حالانکہ بلاشبہ رب کی طرف سے تمہارے پاس کھلی نشانیاں لے کر آیا ہے ۔ اور اگر یہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اس پر پڑا ہے اور جو وہ سچا ہے تو کوئی وعدہ جو تم کو دیتا ہے ضرور تم پر آپڑیگا بیشک اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں کرتا ۔ جو حد سے نکلنے والا جھوٹا ہو

فرعون کے استبداد کا جواب 1: حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عہد بابرکت میں بنی اسرائیل مصر میں آئے ۔ اور پھر وہیں کے ہوکر رہ گئے ۔ تقریباً چار صدیاں انہوں نے یہاں امن و سکون کے ساتھ گزاریں اس کے بعد جب قبطیوں نے دیکھا ۔ کہ یہ لوگ اپنی ذہنی اور جسمانی لحاظ سے ہم سے کہیں بڑھ کر ہیں ۔ تو ان کو خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ قوت واقتدار کے تمام شعبوں پر نہ چھا جائیں ۔ اور ہمیں جو کہ مصر کے اصل باشندے ہیں ۔ نکال باہر نہ کریں ۔ اس لئے مخالفت اور عناد کے جذبات ان کے سینوں میں پیدا ہوئے ۔ اور آہستہ آہستہ بڑھنے لگے ۔ قراعنہ مصر نے قبیلوں کے ساتھ دیا اور بنی اسرائیل کی تذلیل وتحقیر ٹھان لی ۔ تقریباً نصف صدی کے معانداز طرز عمل نے تمام اختیارات کو قبطیوں کی طرف منتقل کردیا ۔ اور بنی اسرائیل نہایت ہی بری طرح غلامی کی زندگی بسر کرنے لگے اور پھر بھی ان کا جذبہ انتقام فرونہ ہوا ۔ یہ لوگ چاہتے تھے کہ ان سے ہر طرح کا انتقام لیں اور مصر میں اس طرح ان کو بےپست وپا کردیں کہ یہ کبھی بھی ہمارا مقابلہ نہ کریں اور ہمیشہ ہمارے محتاج رہیں اس وقت اللہ تعالیٰ نے فطرت موسیٰ کو بھیجا ۔ تاکہ وہ اس کے ظلم و استبداد کا مقابلہ کریں ۔ اور فرعون اور اس کے اعوان وانصار کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں ۔ فرعون کو جب حضرت موسیٰ کے ان عزائم کا پتہ چلا تو اس کے قتل کے درپے ہوا کہنے لگا کہ مجھے اجازت دو کہ میں اس کو مارڈالوں اور یہ جو ایک خدائے واحد کی طرف بلاتا ہے ۔ میں اس کی قوت بھی آزمادیکھوں مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ تمہارے اندر الحاد نہ پھیلا دے اور تمہارے دین کو بدل نہ ڈالے اور یا ملک میں ابتری اور خرابی نہ پھیلادے ۔ قرآن حکیم نے درمیان کے تمام واقعات کو یہاں احذف کردیا ہے ۔ کہ حضرت موسیٰ فرعون کے ارادوں کے خلاف کس طرح بچ نکلے اور اس کے قصر میں تربیت حاصل کی ۔ اور پھر اس کو تبلیغ کے لئے منتخب کیا ۔ معجزات سکھائے ۔ مقابلہ ہوا اور ان کی فتح ہوئی ۔ یہاں صرف اس قدر بتانا مقصود ہے ۔ کہ ہر سرکشی اور بغاوت کے لئے اللہ کے پاس ایک نوع کی ہدایت اور قوت ہے جس سے وہ کام لیتا ہے ۔ اور معاندین کو یا تو حلقہ بگوش اطاعت بنالیتا ہے یاکچل دیتا ہے ۔ اس لئے مکہ والے اپنے جہل اور تعصب میں اس درجہ مفرور نہ ہوجائیں ۔ کہ خدا کی گرفت سے اپنے کو آزاد سمجھیں ۔ حضرت موسیٰ نے جب فرعون کے اس ارادہ کے متعلق سنا ۔ تو کہنے لگے میں اس پروردگار کی پناہ میں ہوں جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے ۔ اس لئے ہر بےدین کے کبرونخوت سے محفوظ ہوں ایمان میں یہ عجیب قوت ہے کہ یہ خود اروں کو قبول اور پذیرائی کے لئے منتخب کرلیتا ہے اور اس کا انتخاب بھی اس نوع کا ہوتا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے یا تو یہ کیفیت ہے کہ فرعون اور اس کی قوم موسیٰ کی دعوت آزادی کی وجہ سے انگاروں پر لوٹ رہے ہیں ۔ یا فتوحات ایمانی کا یہ عالم ہے کہ فرعون ہی کے کنبہ والوں میں سے ایک شخص حضرت موسیٰ کی دعوت کو قبول کرلیتا ہے ۔ اور صاف طور پر اپنی قوم سے کہتا ہے کہ کیا تم ایک شخص کو محض اس لئے جان سے مار رہے ہو ۔ کہ وہ اللہ کی ربوبیت کا قائل ہے ۔ حل لغات :۔ کید ۔ تدبیر الفساد ۔ تباہی ۔ ضداصلاح ۔
Ayah 40:29

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے میری قوم آج تمہاری سلطنت سے کہ ملک میں غالب ہو رہے ہو ، سو اللہ کے عذاب سے کون ہماری (ف 1) مدد کریگا اگر ہم پر آگیا ۔ فرعون نے کہا کہ میں تم پر وہی دکھاتا ہوں جو میں دیکھتا ہوں ، اور تمہیں وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے

ف 1: حالانکہ وہ بیشمار دلائل بھی اپنی صداقت کے ثبوت میں پیش کرچکا ہے ۔ اس لئے بہتر رائے یہ ہے کہ تم اسے کچھ نہ کہو ۔ اگر یہ جھوٹا ہے تو اپنی سزا خودبھگت لے گا اور اگر صداقت شعار ہے تو پھر وہ عذاب ضرور آئیگا ۔ جس کا وہ تم سے وعدہ کررہا ہے اور یاد رکھو ۔ کہ آج یقینا ارض مصر میں تمہاری بادشاہی ہے ۔ مگر جب اللہ کے غضب اور غصہ میں تحریک ہوئی ۔ تو کون ہماری مدد کریگا مرد مومن کی وسعت نظری : مرد مومن نے قوم کو ارادہ قتل سے باز رکھنے کی کوشش کی ۔ بہت عقل مند اور صاحب بصیرت آدمی معلوم ہوتا ہے اور ان کی گفتگو سے یہ بھی ٹپکتا ہے ۔ کہ اسے اقوام وملل کی تاریخ پر پورا عبور حاصل تھا ۔ چناچہ جب فرعون نے اس کے جواب میں کہا ۔ کہ میری تو یہی رائے ہے ۔ جس کو میں بیان کرچکا ہوں ۔ اور میں تمہیں بالکل مصلحت کی باتیں بتاتا ہوں ۔ تو اس نے جواباً اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے کہا ۔ کہ اے قوم تم جو چاہو ۔ اپنے لئے طے کرلو ۔ مجھے تو ڈر ہے کہ تمہارا حشر بھی کہیں وہ نہ ہ ۔ جو پہلی قوموں کا ہوا ۔ حل لغات :۔ فعلیہ کذبۃ ۔ تو اس پر اس کے جھوٹ کا بوجھ ہوگا ۔ یعنی اس کا جھوٹ اسی پر ہوگا مسرف ۔ حدود انصاف سے آگے نکل جانے والا باس اللہ ۔ اللہ کا عذاب الاحزاب ۔ جمع حزب ۔ بمعنی گروہ ۔ یعنی ہلاک شدہ جماعتیں ۔
Ayahs 40:30–31

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

اور اس نے جو ایمان لایا کہا کہ اے میری قوم میں تمہاری نسبت ڈرتا ہوں کہ تم پر گذشتہ گروہوں کا ساون نہ آجائے

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

جیسے قوم نوح اور عاد اور ثمود اور جو ان کے پیچھے ہوئے اور اللہ بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا (ف 1)

(ف 1) تم بھی کہیں قوم نوح الور ثمود کی طرح کے عذاب کا شکار نہ بن جاؤ اے قوم مجھے اندیشہ ہے ۔ کہ قیامت کے دن جب تم موقف حساب سے پشت پھیر کر دوزخ کی طرف لوٹو گے ۔ تو تمہیں کوئی قوت نہ بچا سکے گی ۔ اس وقت یہ حکومت واقتدار اور بادشاہت اور اختیارات تمہارے کام نہ آسکیں گے ۔ تم کو معلوم ہے کہ جب حضرت یوسف تم میں پہلے پہل تشریف لائے تھے ۔ اور انہوں نے دلائل و شواہد سے اپنی نبوت کا اعلان کیا تھا ۔ تو تم اس وقت بھی شک وشبہ میں مبتلا رہے ۔ اور پھر جب ان کا انتقال ہوگیا ۔ تو تم نے ازراہ محرومی وبدبختی کہا ۔ کہ اچھا ہوا ۔ اب ان کے بعد تو کوئی شخص نہ آئے گا ۔ اور ہم کو عیس و عشرت کی زندگی سے نہ منع کریں گا اس وقت بھی تم نے خباثت نفس کا ثبوت دیا ۔ اور اسی وقت بھی تم توفیق ہدایت سے محروم ہورہے ہو ۔ یقینا ایسے فساق کو جو طبیعت کے شکی ہوں ۔ کبھی معاوت سے بہرہ مندی حاصل نہیں ہوتی ۔ معلوم ہوتا ہے ۔ یہ مرد مومن قوموں اور ملتوں پر جو عذاب آتا ہے اس کی حکمت کو خوب سمجھتا ہے ۔ ایسی لئے جہاں اپنی قوم کو تباہی اور ہلاکت سے متنبہ کرتا ہے ۔ وہاں کہتا ہے ۔ وما اللہ یرید ظلما للعباد یعنی یہ عذاب جو آتا ہے تو اس لئے نہیں ۔ کہ خدا کا جذبہ انتقام بھڑک اٹھتا ہے اور محض مظاہرہ جلال وجبروت میں اور انسان کے ایک طبقہ کو فنا کے گھاٹ اتاردیتا ہے ۔ بلکہ یہ مصلحت پر مبنی ہوتا ہے ۔ قوموں کو اس وقت ہلاک کیا جاتا ہے ۔ جب ان کے اعمال کی سمیت سارے جسم انسانی میں سرایت کرجائے ۔ اور خطرہ ہو کہ اس کا بقا آئندہ نسلوں کے لئے تباہ کن ہوگا ۔ اس وقت ان کو سزا دی جاتی ہے ۔ اور جسم انسانی سے ان کے تعلق حیات کو منطق کردیا جاتا ہے ۔ تاکہ جسم کا دوسرا حصہ آفت دنیا سے بچ جائے ۔ جس طرح زندگی قائم رکھنے کے لئے انسان کے بعض اعضاء کو کاٹ دیا جاتا ہے ۔ اور یہ عمل اس کے ساتھ مہربانی اور کرم گستری کا سمجھا جاتا ہے ۔ اسی طرح ان قوموں کو تباہ کردینا ۔ جن کے گناہوں سے ساری کائنات انسانی کے لئے خطرہ ہو نفس انسانیت کے ساتھ بہترین سلوک روا رکھنا اور زندگی کو بچا لینا ہے ۔ حل لغات :۔ التناد ۔ پکار ۔ دعوت ان یبعت اللہ یہ ملحوظ رہے کہ یہ قبطیوں کا عقیدہ نہیں تھا ۔ کیونکہ وہ تو حضرت یوسف کو پیغمبر ہی نہیں مانتے تھے ۔ بلکہ یہ اظہار مسرت کا ایک انداز تھا ۔ غرض یہ تھی کہ اچھا ہوا اس مصیبت سے پیچھا چھوٹا ۔ یعنی یہ ان کی خواہش تھی کہ اب کوئی دوسرا پیغمبر تشریف نہ لائے ۔ اور ہم کو نصیحت نہ فرمائے ۔ پیشگوئی نہ تھی ۔ جیسا کہ علامہ رازی نے تصریح فرمائی ہے ۔ کہ یہ انہوں نے علی سبیل التشھی کہا تھا ۔
Ayahs 40:32–37

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اور اے میری قوم میں تمہاری نسبت ہانک پکار کے دن سے ڈرتا ہوں

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جس دن پیٹھ پھیر کے بھاگوگے اللہ تمہیں بچانے والا نہیں رہے گا اور جسے اللہ گمراہ کرکے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اور اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس کھلی نشانیاں لے کر آیا ۔ پھر تم اس سے جو وہ تمہارے پاس نشانیاں لایا تھا ہمیشہ شک میں رہے یہاں تک کہ جب مرگیا تو تم نے کہا کہ اس کے بعد اللہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا اسی طرح اللہ اس شخص کو جو حد سے باہر نکلا ہوا شک میں گرفتار ہوتا ہے گمراہ کرتا ہے

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

جو اللہ کی آیتوں میں بغیر کسی سند کے جو ان کو پہنچتی ہو جھگڑتے ہیں ۔ یہ اللہ کے نزدیک اور مومنین کے نزدیک بڑی بےزاری ہے ۔ یوں اللہ ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر کرتا ہے

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا کہ اے ہامان میرے لئے ایک محل بناتا کہ میں رستوں پر پہنچوں

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

آسمانوں کے رستوں پر پھر میں موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں اور میں تو اسے جھوٹا (ف 1) خیال کرتا ہوں ۔ اور اسی فرعون کے برے عمل اس کے لئے آراستہ کئے گئے اور وہ راہ سے روکا گیا اور فرعون کا مکر صرف ہلاکت میں تھا

میں موسیٰ کے خدا ل کو دیکھنا چاہتا ہوں 1: فرعون نے جب دیکھا ۔ کہ موسیٰ کے مشن کو کامیابی ہورہی ہے ۔ اور لوگ خفیہ خفیہ اس کی تعلیمات پر ایمان لارہے ہیں ۔ تو اس کے ازراہ استخفاف ہامان سے کہا کہ یہ موسیٰ کس خدا کی دعوت دیتے ہیں ؟ ذرا ایک بلند معیار وبالا مینار نو تعمیر کرو ۔ میں ابھی تو دیکھوں کہ آسمانوں میں موسیٰ کا خدا کیونکر قرار پذیر ہے ۔ کیا یہ لوگوں کو بتلانا چاہتا تھا ۔ کہ میرے سوا اور کون خدا ہوسکتا ہے ؟ اور اگر کوئی خدا ہے تو وہ آسمانوں میں ہوگا ۔ اور اس کو میری طرح نظر آنا چاہیے ۔ گویا اس بیوقوف نے یہ سمجھا ۔ کہ خدا بھی میری طرح کوئی جسمانی قوت ہے جو مکان وجہت کی محتاج ہے اور جس کو محسوس کیا جاسکتا ہے حالانکہ وہ ذات بےہمت ایسی ذات ہے جس تک ہمارے حواس اور خیال اور قیاس وہ ہم کی رسائی بھی نہیں ہوسکتی ۔ جو عقل وخرد سے بالا اور فہم و فراست سے کہیں برتر ہے ۔ جو گو کہ اعلیٰ درجے کے وصف تحقق سے متصف ہے ۔ مگر اپنے جلال اور جبروت کے سربراہوں میں کچھ اس طرح پنہاں ہیں ۔ کہ آنکھیں اس کو نہیں دیکھ سکتیں ۔ اور پیکر خیال اس تک نہیں پہنچ سکتا ۔ اس کی تجلیات ہر جگہ اور ہر مقام میں موجود ہیں ۔ مگر وہ بذاتہ کسی مکان و زمان سے نسبت احتیاج نہیں رکھتا اس لئے فرعون نے اس کے متعلق اگر یہ سمجھا کہ وہ آسمانوں میں اس نماز میں موجود ہے ۔ کہ میں اس کو دیکھ سکوں گا ۔ یہ تو محض اس کی غلط فہمی تھی ۔ یا وہ عمداً خدا کے وجود کا مضحکہ اڑانا چاہتا تھا ۔ اہل کتاب نے یہاں یہ کہا ہے ۔ کہ جس کا قرآن نے فرعون کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔ بہت بھوکا آدمی ہے اور فرعون کے اور اس کے درمیان صدیوں کا فاصلہ حائل ہے ۔ پھر یہ کیونکر تسلیم کرلیا جائے کہ وہ فرعون کے زمانے میں بطور وزیر کے موجود تھا ۔ اور فرعون نے اس سے کہا کہ وہ مینار تعمیر کرادے ۔ جواب یہ ہے کہ فرعون کا زمانہ ایسا زمانہ ہے جو تاریخی نہیں ہے اور کم از کم تو رات سے جس قدر تاریخ کا تعلق ہے ۔ وہ قطعی غیر مستند ہے ۔ سا لئے اس کی روشنی میں قرآن پر محاکر کرنا محض غلط ہے ۔ قرآن بجائے خود ایک مستند اور آخری تاریخ اقوام ہے ۔ یہ اعتراض اس وقت صحیح ہوسکتا ہے ۔ جبکہ کوئی کتاب ایسی موجود ہو ۔ جو ا اسشاد میں وہی درجہ رکھتی ہو ۔ جو قرآن حکیم کا ہے ۔ اور پھر اس میں یہ لکھا ہوتا ۔ کہ فرعون کے زمانہ میں ہامان نامی کوئی شخص نہ تھا ۔ اور جب یہ حیثیت نہیں ہے ۔ تو ہم کہہ سکتے ہیں ۔ کہ جو کچھ قرآن نے کہا ہے وہی درست ہے ۔ حل لغات :۔ سلطان ۔ دلیل قاہر ۔ محبت ۔ قدرت متکبر ۔ مغرور جبار ۔ سرکش ۔ جابر ۔ الاسباب ۔ ذرائع ۔ راستے ہلاکت وتباہی ۔ زیاں کاری ۔
Ayahs 40:38–40

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ Open ayah 40:38 in the Quran reader

اور اس ایماندار نے کہا ۔ اے قوم میری پیروی کرو ۔ میں تمہیں بھلائی کی راہ دکھاؤں گا

یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ Open ayah 40:39 in the Quran reader

اے میری قوم یہ دنیا کی زندگی تو صرف تھوڑا فائدہ ہے اور آخرت جو ہے وہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 40:40 in the Quran reader

جس نے بدی کی وہ اسی کے برابر جزا پائے گا ۔ اور جس نے نیکی کی مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہے تو وہی جنت میں جائیں گے ۔ وہاں بے (ف 1) بےحساب رزق پائیں گے

ف 1: اس مرد مومن نے اپنی قوم کو اچھی طرح حضرت موسیٰ کی تعلیمات سے روشناس کیا ۔ اور پوری ماعظانہ قوت سے کام لے کر ان کو سمجھایا کہ کسی طرح وہ رشدوہدایت کی راہ قبول کرلیں ۔ اور فرعون کی غلامی سے آزاد ہوجائیں ۔ کبھی یہ کہا کہ میں تمہیں ٹھیک ٹھیک راستہ پر گامزن کرنا چاہتا ہوں ۔ کبھی دنیائے دوں کے فنا اور عارضی ہونے کی طرف ان کی توجہ کو مبذول کیا ۔ اور کبھی یہ کہا ۔ کہ دیکھو تم پر تمہارے یہاں کے اعمال کی پوری پوری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ اگر برائی کا ارتکاب کروگے ۔ تو سزا ملے گی اور اگر نیک اور صالح ہوگے تو جنت کی نعمتوں سے تمہیں نوازا جائے گا ۔