40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 40:1
حٰمٓ حروف مقطعات کی بحث پہلے گذر چکی ہے ‘ بغوی نے سدی کا قول نقل کیا ہے کہ حٰمٓ اللہ کا اسم اعظم ہے۔ عکرمہ سے منقول ہے کہ الرحمن (مرکب ہے اس) کے حروف مقطعات ال ر ح م ن ہیں۔ سعید بن جبیر اور عطاء خراسانی نے کہا : حٰآ (سے اللہ کے اسماء کی طرف اشارہ ہے اس) کی حَ آغاز ہے اللہ کے اسماء حکیم ‘ حمید ‘ حئی اور حیان کا اور مَ آغاز ہے ملک ‘ مجید ‘ منان کا۔ کسائی نے کہا : حٰآ سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ ہونے والا ہے ‘ اس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ کسائی کے اس قول میں گویا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ حٰمٓ کا مطلب ہے حُمُّ ۔
Ayah 40:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب ودانا کی طرف سے ہے

تنزیل الکتاب من اللہ العزیز العلیم۔ یہ کتاب اللہ کی طرف سے اتاری گئی ہے جو زبردست ہے ‘ ہر چیز کا جاننے والا ہے ‘
Ayah 40:3

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

جو گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے اور سخت عذاب دینے والا اور صاحب کرم ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی طرف پھر کر جانا ہے

غافر الذنب وقابل التوب شدید العقاب ذی الطول گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے ‘ سخت سزا دینے والا ہے ‘ قدرت والا ہے۔ تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ یہ اللہ کی طرف سے نازل ہوئی کتاب ہے۔ الْعَزِیْز جو اپنی حکومت میں غالب ہے۔ الْعَلِیْم یعنی اپنی مخلوق کو جاننے والا ہے۔ قرآن مجید کا اعجاز اور اس کا پر حکمت ہونا اللہ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ پر دلالت کر رہا ہے ‘ شاید اسی وجہ سے تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ کے بعد اللہ کی ان دو صفتوں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا۔ غَافِرِ الذَّنْبِم وَقَابِلِ التَّوْبِ یعنی اہل ایمان کے گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے۔ توب ‘ تَابَ ‘ یَتُوْبُ کا مصدر ہے۔ بعض کے نزدیک توبۃ کی جمع ہے ‘ جیسے دومۃ کی جمع دوم اور حومۃ کی جمع حُوُمٌ آتی ہے۔ حضرت ابن عباس نے آیت مذکورہ کی تفسیر میں فرمایا : جو لَآ اِلٰہَ الاَّ اللہ کا قائل ہے ‘ اس کے گناہ بخشنے والا ہے اور جو لَآ اِلٰہَ الاَّ اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ ِکا قائل ہے ‘ اس کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ غافر الذنب اور قابل التوبدونوں فقروں میں اضافت معنوی ہے (اگرچہ صیغۂ صفت کی اضافت اس کے معمول یعنی مفعول کی طرف دونوں جگہ ہو رہی ہے۔ مترجم) کیونکہ مغفرت ذنوب اور قبول توبہ کا کوئی خاص زمانہ (ماضی یا مستقبل) مراد نہیں ہے بلکہ اللہ کی صفت استمراری مراد ہے۔ دونوں فقروں کے درمیان واؤ عاطفہ کا (جو جمعیت پر دلالت کرتا ہے) لانا دلالت کر رہا ہے کہ اللہ کی ذات میں دونوں صفتیں جمع ہیں۔ یا یوں کہا جائے کہ کچھ لوگ مغفرت گناہ اور قبول توبہکو ایک ہی چیز خیال کرتے ہیں اور یہ بات صحیح نہیں ہے ‘ اسلئے دونوں صفتوں میں تغایر ظاہر کرنے کیلئے حرف عاطف ذکر کردیا (کیونکہ اصل ضابطہ یہی ہے کہ معطوف اور معطوف علیہ میں مغایرت ہونی چاہئے ‘ مترجم) یا یوں کہو کہ اللہ کی ان دو صفتوں کا ظہور الگ موقع پر ہوتا ہے۔ مؤمن جس نے توبہ نہ کی ہو (اور بغیر توبہ کے مرجائے) اللہ اس کیلئے غافر الذنب ہے ‘ یعنی اس کے گناہ پر (قیامت کے دن) پردہ ڈال دینے والا ‘ اس کے گناہ کو (مخلوق کی نظروں سے) پوشیدہ رکھنے والا ہے۔ غفر کا لغوی معنی ہے پردہ ڈالنا ‘ چھپا دینا ‘ اور جس نے توبہ کرلی اس کی توبہ قبول کرنے ولا ہے۔ گناہ سے توبہ کرنے والا بےگناہ کی طرح ہوجاتا ہے۔ یہ حدیث مرفوع ہے ‘ ابن ماجہ نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے اور حکیم نے حضرت ابی کی روایت سے اور ابن النجار نے حضرت علی کی روایت سے اور ابن عساکر و بیہقی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے یہ حدیث بیان کی ہے۔ 1 ؂ شَدِیْدِ الْعِقَاب یعنی جو لَآ اِلٰہَ الاَّ اللہ کا قال نہ ہو ‘ اس کو سخت عذاب دینے والا۔ ذِی الطَّوْل مجاہد نے طول کا ترجمہ کیا ہے : وسعت اور غناء۔ قتادہ نے ترجمہ کیا : نعمتیں۔ بعض نے کہا : ذِی الطول یعنی قدرت والا۔ حسن نے کہا : فضل والا۔ بعض اہل تفسیر نے کہا ہے کہ غافر الذنب اور قابل التوب اور شدید العقاب ‘ یہ تینوں بدل ہیں ‘ صفات نہیں ہیں اور تینوں میں اضافت لفظیہ ہے جو مفید تعریف نہیں ہوتی ‘ اس قول پر کہنا پڑے گا کہ ذی الطول بھی بدل ہے صفت نہیں ہے ‘ کیونکہ اگر صفت قرار دیا جائے گا تو صفت پر بدل کا تقدم لازم آئے گا جو جائز نہیں ہے۔ زمخشری اور بیضاوی نے لکھا ہے کہ العزیز العلیم کی یہ سب صفات ہیں اور سب میں اضافت حقیقیہ ہے (جو مفید تعریف ہوتی ہے) اور جب سب کے اندر حقیقی اضافت ہے تو شدید العقاب میں بھی اضافت حقیقیہ ہی مانی جائے ‘ تنہا اس کو بدل دینے سے ترتیب عبارت میں بگاڑ آجائے گا۔ زجاج نے کہا : شدید العقاب بدل ہے ‘ صفت نہیں ہے۔ صاحب مدارک کے نزدیک بھی یہی صحیح ہے ‘ اس صورت میں ذی الطول کو بدل کہا جائے گا ‘ یہ بھی صفت نہ ہوگا۔ معنی کے لحاظ سے بیضاوی کا قول زیادہ وزنی ہے ‘ کیونکہ یہ سب توابع ہیں اور ان معانی کو بتا رہے ہیں جو ان کے متبوع کے اندر ہیں۔ ان صفات کو ذکر کرنے کا مقصد اللہ کی تعریف اور ترغیب و ترہیب ہے ‘ اور مقصود بالنسبت کی طرف مائل کرنا ہے۔ لا الہ الا ھو اس کے سوا کوئی قابل عبادت نہیں ‘ لہٰذا اسی کی عبادت میں کامل طور پر منہمک ہوجانا چاہئے۔ صاحب مدارک نے لکھا ہے : یہ بھی ذی الطول کی طرح صفت ہی ہے ‘ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ جملۂ استینافیہ ہے (ما قبل کی فت نہیں ہے) ۔ الیہ المصیر اسی کی طرف منتقل ہونا ہے ‘ پس وہی نافرمانوں اور اطاعت گذاروں کو عذاب وثواب دے گا۔
Ayah 40:4

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

خدا کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں۔ تو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے

ما یجادل فی ایت اللہ الا الذین کفروا اللہ کی آیات میں جھگڑا نہیں کرتے ‘ مگر وہی لوگ جو کافر ہیں۔ یعنی اللہ کی آیات کی تکذیب کر کے ان کو دفع کرنے میں یا آیات میں تناقض (اور اختلاف) ثابت کرنے میں یا آیات متشابہات کی ایسی تاولیں کرنے میں جو آیات محکمات یا متواتر احادیث کے خلاف ہیں۔ عمرو بن شعیب کے دادا کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو قرآن میں بحث کرتے سنا تو فرمایا : تم سے پہلے کی امتیں اسی وجہ سے تباہ ہوئیں کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کے بعض حصوں کو دوسرے حصوں سے لڑایا حالانکہ اللہ کی کتاب اس طور پر نازل ہوئی تھی کہ ہر حصہ دوسرے حصہ کی تصدیق کرتا تھا۔ تم لوگ قرآن کے بعض حصوں کی دوسرے حصوں کے ذریعہ سے تکذیب نہ کرو۔ اگر کچھ جانتے ہو تو کہہ دو ‘ نہیں جانتے تو اس شخص کے سپرد کر دو جو عالم ہو ‘ رواہ البغوی۔ مسلم کا بیان ہے کہ عبد اللہ بن عمرو یعنی عمرو بن شعیب کے دادا نے کہا : ایک روز میں دوپہر کے وقت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضور ﷺ نے دو آدمیوں کو ایک آیت (کے مفہوم اور مضمون) میں اختلاف کرتے سنا تو ہماری طرف نکل کر تشریف لائے ‘ اس وقت چہرۂ مبارک سے غصہ کی علامت دکھائی دے رہی تھی ‘ فرمایا : تم سے پہلے کے لوگ کتاب میں اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئے۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے ‘ رواہ البغوی۔ بیہقی نے شعب الایمان میں اور طیالسی نے حضرت عبد اللہ بن عمرو کی روایت سے یہ حدیث بیان کی ہے۔ ابو داؤد اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ کی مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ جب (شروع میں) اللہ نے محقق طور پر بتادیا کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے تو اس کے بعد جو لوگ اس میں جھگڑا کرتے اور حق کو باطل کے ذریعہ سے مغلوب اور کمزور کرنا چاہتے ہیں ‘ ان کے کافر ہونے کی صراحت کردی (بیضاوی کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ قرآن میں اسلئے جھگڑا کرتے ہیں کہ حق کو مغلوب کردیں اور قرآن کو جھوٹ ثابت کریں ‘ ان کے کافر ہونے کی صراحت فرمائی ہے) جدال اس غرض سے بھی ہوسکتا ہے کہ قرآن کے اصل مطلب کی گرہ کھل جائے ‘ قرآن کی عبارت سے حقائق کا استنباط کیا جائے اور جو کج رو لوگ قرآن کی آیات سے اپنا غلط مطلب اخذ کرتے ہیں اور قرآن پر طعن کرتے ہیں ‘ ان کے باطل خیالات اور غلط استخراجات کی تردید ہوجائے۔ اگر جدال ان اغراض کیلئے ہو تو ممنوع نہیں ‘ بلکہ عبادت عظیم ہے۔ 1 ؂ یہ حقیقت میں جدال فی القرآن ہی نہیں ہے (جدال تو صرف اسی صورت میں ہوگا جس کا بیان صدر کلام میں کردیا گیا ہے) اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے حدیث مذکور میں جدالاً بصورت تنکیر فرمایا اور اسی کو کفر قرار دیا۔ فلا یغررک تقلبھم فی البلاد سو ان (کافروں) کا شہروں میں (امن وامان سے) چلنا پھرنا آپ کو اشتباہ میں نہ ڈالے۔ تَقَلُّبُھُمْ یعنی اللہ نے جو ان کو ڈھیل دے رکھی ہے کہ دنیا کی کمائی خوب کر رہے ہیں اور بلاد شام و یمن میں نفع بخش تجارتیں کرنے کیلئے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ ابن ابن حاتم نے بروایت سدی ‘ ابو مالک کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول حارث بن قیس سہمی کے متعلق ہوا۔ آیت کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کی تجارتی آزادی سے تم کو دھوکا نہ کھانا چاہئے ‘ عنقریب ان کی پکڑ ہوجائے گی جیسے گذشتہ کافروں کی ہوئی تھی۔
Ayah 40:5

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد اور اُمتوں نے بھی (پیغمبروں کی) تکذیب کی۔ اور ہر اُمت نے اپنے پیغمبر کے بارے میں یہی قصد کیا کہ اس کو پکڑ لیں اور بیہودہ (شہبات سے) جھگڑتے رہے کہ اس سے حق کو زائل کردیں تو میں نے ان کو پکڑ لیا (سو دیکھ لو) میرا عذاب کیسا ہوا

کذبت قبلھم قوم نوح والاحزاب من بعدھم وھمت کل امۃ برسولھم لیاخذوہ وجدلوا بالباطل لید حضوا بہ الحق فاخذتھم فکیف کان عقاب ان سے پہلے قوم نوح نے اور ان کے بعد دوسرے گروہوں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا ‘ اور ہر امت (کے کافروں) نے (اپنے) پیغمبر کو گرفتار کرنے کا ارادہ کیا تھا اور ناحق جھگڑے برپا کئے تاکہ اس ناحق سے حق کو باطل کردیں۔ آخر میں نے ان کو دھر پکڑا (سو دیکھ لو) میری طرف سے (ان کو) کیسی سزا ہوئی۔ وَالْاَحْزَابُ مِنْم بَعْدِھِمْ یعنی قوم نوح کے بعد وہ کافر امتیں جو پیغمبروں کے خلاف جتھا بند ہوگئیں اور مقابلہ پر آگئیں ‘ جیسے قوم عاد وثمود۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے نوح کی بھی تکذیب کی اور دوسرے پیغمبروں کی بھی۔ لِیَأخُذُوْہُ حضرت ابن عباس نے اس کا ترجمہ کیا : تاکہ وہ اپنے پیغمبروں کو قتل کردیں اور ہلاک کردیں۔ بعض علماء نے ترجمہ کیا : تاکہ پیغمبر کو گرفتار کرلیں۔ عرب قید کو اخیذ (یعنی پکڑا ہوا ‘ گرفتار) کہتے ہیں۔ بِالْبَاطِلِ یعنی باطل قول کے ذریعہ سے جیسے انہوں نے کہا تھا : مَآ اَنْتُمْ الاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا (تم بس ہم جیسے ہی آدمی ہو) لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلآءِکَۃُ (ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے ؟ ) اَوْ نَرٰی رَبَّنَا (یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں) ۔ لِیُدْحِضُوْا تاکہ ڈگمگا دیں اور باطل کردیں۔ فَاَخَذْتُھُمْ سو ان کو سزا دینے کیلئے میں نے ان کو دھر پکڑا ‘ یعنی ہلاک کردیا۔ فَکَیْفَ کَانَ عِقَابِ سو دیکھ لو میری طرف سے انکو کیسی سزا ملی ‘ تم لوگ ویران کھنڈروں سے گذرتے ہو اور انکے نشانات دیکھتے ہو۔ کَیْفَ سے استفہام تقریری ہے اور تعجب دلا رہا ہے۔
Ayah 40:6

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح کافروں کے بارے میں بھی تمہارے پروردگار کی بات پوری ہوچکی ہے کہ وہ اہل دوزخ ہیں

وکذلک حقت کلمت ربک علی الذین کفروا انھم اصحب النار اور اسی طرح تمام کافروں پر آپ کے رب کا یہ قول ثابت ہوچکا ہے کہ وہ لوگ آخرت میں دوزخی ہوں گے۔ وَکَٰذلِکَ یعنی جس طرح دنیا میں کافروں کو ہلاک کرنا لازم تھا ‘ اسی طرح آخرت میں ان پر فرمان عذاب واجب ہوچکا تھا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جس طرح گذشتہ کافر امتوں پر فرمان عذاب پورا ہوا ‘ اسی طرح آپ کی امت میں سے جو لوگ کافر ہیں ‘ ان پر قول عذاب پورا ہوگا۔
Ayah 40:7

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

جو لوگ عرش کو اٹھائے ہوئے اور جو اس کے گردا گرد (حلقہ باندھے ہوئے) ہیں (یعنی فرشتے) وہ اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور مومنوں کے لئے بخشش مانگتے رہتے ہیں۔ کہ اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کو احاطہ کئے ہوئے ہے تو جن لوگوں نے توبہ کی اور تیرے رستے پر چلے ان کو بخش دے اور دوزخ کے عذاب سے بچالے

الذین یحملون العرش ومن حولہ یسبحون بحمد ربھم اور جو (فرشتے) عرش خداوندی کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے گرداگرد ہیں ‘ وہ اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے رہتے ہیں۔ مَنْ حَوْلَہٗ یعنی عرش کا طواف کرنے والے ‘ حاملین عرش اور طوافین عرش ‘ تمام ملائکہ کے سردار ہیں ‘ انہی کو کروبی کہا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : حاملین عرش کے ٹخنوں سے زیر قدم (یعنی تلوے) تک پانچ سو سال کی مسافت (کے بقدر فاصلہ) ہے۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ ان کے قدم زمینوں کی انتہائی حد تک قائم ہیں اور آسمان ان کی کمر تک آتے ہیں (یعنی ان کا نصف اعلیٰ آسمان سے پار ہے) اور وہ (ہر وقت) کہتے ہیں : سُبْحَانَ ذِی الْعِزَّۃِ وَالْجَبَرُوْتِ سُبْحَانَ ذِی الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوْتِ سُبْحَانَ الْحَیِّ الَّذِیْ لاَ یَمُوْتُ سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلآءِکَۃِ وَالرُّوْحِ ۔ میسرہ بن عبدویہ نے کہا : ان کے قدم سب سے نچلی زمین میں ہیں اور ان کے سر عرش کو پھاڑ رہے ہیں (یعنی عرش کے اوپر ہیں) اور سب خشوع کی حالت میں ہیں ‘ نگاہ اوپر نہیں اٹھاتے اور ساتویں آسمان والوں سے زیادہ (ا اللہ کی ہیبت و جلال سے) خوفزدہ ہیں اور ساتویں آسمان والے چھٹے آسمان والوں سے زیادہ ترساں ہیں اور چھٹے آسمان والے اپنے (نیچے) متصل آسمان والوں کے مقابلہ میں زیادہ خائف ہیں۔ مجاہد نے کہا : ملائکہ اور عرش کے درمیان نور کے ستر پردے ہیں۔ محمد بن منکدر نے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے اجازت دی گئی ہے کہ حاملین عرش میں سے (کسی) ایک فرشتہ کی (کچھ) حالت بیان کرو ‘ اس کے کان کی لو سے کاندھے تک سات سو برس کی راہ کے برابر فاصلہ ہے ‘ رواہ ابو داؤد والضیاء بسند صحیح۔ حضرت جابر بن محمد نے اپنے والد کے حوالہ سے دادا کا قول نقل کیا ہے کہ عرش کے پایوں میں سے ایک پائے کی دوسرے پائے سے مسافت اتنی ہے جتنی تیز اڑان والے پرندے کی تین ہزار برس کی راہ طیران۔ عرش کو روزانہ ستر ہزار رنگ کے نور کے لباس پہنائے جاتے ہیں ‘ وہ نور ایسا ہے کہ کوئی مخلوق اس کی طرف نہیں دیکھ سکتی۔ اللہ نے تمام مخلوق کو عرش کے اندر ایسا پیدا کیا ہے جیسے بیابان میدان کے اندر کوئی چھلا پڑا ہو۔ مجاہد نے کہا : ساتویں آسمان اور عرش کے درمیان ستر ہزار حجاب (ترتیب وار) ہیں ‘ ایک نور کا حجاب ‘ پھر تاریکی کا حجاب ‘ پھر نور کا حجاب ‘ پھر تاریکی کا حجاب۔ وہب بن منبہ نے کہا : عرش کے گرد فرشتوں کی ستر ہزار قطاریں ہیں ‘ قطار در قطار ‘ قطار کے پیچھے قطار ‘ سب عرش کا طواف کر رہے ہیں (کبھی یہ سامنے آتے ہیں ‘ کبھی وہ آتے ہیں) جب ایک دوسرے کے سامنے آتا ہے تو ایک لَآ اِلٰہَ الاَّ اللہ کہتا ہے اور دوسرا اللہ اکبر کہتا ہے ‘ ان سے پچھلی صف والوں کو جب اگلی صف والوں کی تہلیل و تکبیر کی آواز سنائی دیتی ہے تو وہ بلند آواز سے کہتے ہیں : سُبْحَانَکَ وَبِحْمْدِکَ مَا اَعْظَمَکَ وَاَجَلَّکَ اَنْتَ اللہ لَآ اِلٰہَ غَیْرُکَ اَنْتَ الْاَکْبَرُ اَلْخَلْقُ کُلُّھُمْ رَاجِعُوْنَ اِلَیْکَ ۔ ملائکہ صف بستہ کھڑے ہیں ‘ ان کے ہاتھ گردنوں کی طرف ہیں اور کاندھوں پر رکھے ہوئے ہیں ‘ ان کی بھی ستر قطاریں ہیں ‘ ان سے پیچھے ملائکہ کی ایک لاکھ قطاریں ہیں جو دست بستہ ہیں ‘ بائیں ہاتھ پر دایاں ہاتھ رکھے ہوئے ہیں اور ہر ایک تسبیح وتحمید میں مشغول ہے۔ ان میں سے ہر فرشتے کے دونوں بازوؤں کے درمیان تین سو برس کی براہ کے بقدر دوری ہے اور کان کی لو سے کاندھے تک چار سو برس کی مسافت کے برابر فاصلہ ہے۔ جو ملائکہ عرش کے گرداگرد ہیں ‘ ان کے اور اللہ کے درمیان ستر حجاب آگ کے ‘ ستر حجاب تاریکی کے ‘ ستر حجاب نور کے ‘ ستر حجاب سفید موتی کے ‘ ستر حجاب یاقوت سرخ کے ‘ ستر حجاب زمرد سبز کے ‘ ستر حجاب برف کو ہی کے ‘ ستر حجاب پانی کے اور ستر حجاب اولوں کے حائل ہیں اور کچھ چیزیں ایسی حائل ہیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ حاملین عرش اور حوالئ عرش والوں کی صورتیں مختلف ہیں۔ کسی کا چہرہ بیل کا ‘ کسی کا شیر کا ‘ کسی کا گدھ کا اور کسی کا آدمی کے جیسا ہے۔ ہر ایک کے چار بازو ہیں ‘ دو پنکھ تو چہرے پر اس ڈر سے رکھے ہوئے ہیں کہ عرش کی طرف نگاہ نہ اٹھ جائے اور وہ بےہوش ہوجائے ‘ دو بازو نیچے کی طرف (عاجزی کی وجہ سے) گرائے ہوئے ہیں اور سوائے تسبیح وتحمید اور تکبیر و تمجید کے ان کا کوئی کلام نہیں۔ یُسَبِّحُوْنَ یعنی اللہ کی تمام صفات جلالی و جمالی بیان کرتے اور تمام اوصاف کا ذکر کر کے اس کی ثناء کرتے ہیں۔ بِحَمْدِ رَبِّھِمْ بیضاوی نے لکھا ہے کہ تسبیح کو اصل اور حمد کو حال اسلئے قرار دیا کہ حمد تو ملائکہ کی حالت کا مقتضا ہی ہے ‘ تسبیح مقتضاء حال نہیں ہے۔ ویومنون بہ ویستغفرون للذین امنوا ربنا وسعت کل شیء رحمۃ وعلما فاغفر للذین تابوا واتبعوا سبیلک وقھم عذاب الجحیم۔ اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کیلئے اس طرح استغفار کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! تیری رحمت اور علم ہر چیز کو شامل ہے۔ پس ان لوگوں کو جنہوں نے (شرک و کفر سے) توبہ کرلی اور تیرے راستہ پر چلے ‘ بخش دے اور ان کو جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھ۔
Ayah 40:8

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ان کو ہمیشہ رہنے کے بہشتوں میں داخل کر جن کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے اور جو ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے نیک ہوں ان کو بھی۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے

ربنا وادخلھم جنت عدن التی وعدتھم اے ہمارے رب ! اور دوامی جنتوں میں ان کو داخل فرما ‘ جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ یعنی وہ دل سے مانتے ہیں کہ اللہ ہمیشہ سے موجود ہے اور ہمیشہ رہے گا ‘ تمام چیزوں کا خالق ہے ‘ ایک ہے ‘ بےنیاز ہے ‘ نہ کسی کا باپ ہے نہ بیٹا ‘ اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ ا اللہ نے ملائکہ کی فضیلت اور عظمت کے اظہار کیلئے ان کے مؤمن ہونے کی صراحت کی اور اس طرف اشارہ کیا کہ بندگی ‘ عاجزی اور ایمان بالغیب کے لحاظ سے فرشتے بھی دوسری مخلوق کی طرح ہیں ‘ وہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ کی کوئی اولاد نہیں ‘ اسلئے کافروں کا یہ عقیدہ صحیح نہیں کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اس سے فرقۂ مجسمہ کے قول کی بھی تردید ہوگئی جو اللہ کا جسم قرار دیتے ہیں۔ شہر بن حوشب نے کہا : عرش کو اٹھانے والے آٹھ فرشتے ہیں ‘ چار کہتے ہیں : سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلٰی حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ (اے اللہ ! ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں اور تیری حمد کرتے ہیں ‘ تو حمد کا مستحق ہے اس بناء پر کہ باوجود جاننے کے تو حلم سے کام لیتا ہے) اور چار کہتے ہیں : سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلٰی عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ (اے اللہ ! تو مستحق حمد ہے ‘ اس بات پر کہ باوجود قدرت رکھنے کے تو درگذر فرماتا ہے) ۔ شہر بن حوشب نے کہا : گویا بنی آدم کے گناہوں کو وہ فرشتے دیکھتے ہیں (اسلئے اللہ کے حلم اور عفو کی ثنا کرتے ہیں) ۔ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اس آیت میں تنبیہ ہے اس امر پر کہ فرشتوں کا آدمیوں کے ساتھ ایمان میں مشترک ہونا آدمیوں کی خیرخواہی اور شفقت کا موجب ہے ‘ اگرچہ فرشتوں اور آدمیوں کی جنس میں اختلاف ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمانی اشتراک سب سے زیادہ قوی رابطہ ہے۔ اللہ نے فرمایا : اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ۔ رَبَّنَا یعنی وہ کہتے ہیں : اے ہمارے رب ! وَسِعْتَ کُلَّ شَیْءٍ الخ یعنی تیری رحمت اور علم ہر چیز کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہے۔ عموم رحمت و علم کو پرزور انداز میں بیان کرنے کیلئے طرز ادا کو الٹ دیا اور چونکہ اصل مقصد (علم کی وسعت نہیں بلکہ) رحمت ہے ‘ اسلئے علم پر رحمت کو مقدم کیا۔ فَاغفر ‘ فَ سببیہ ہے ‘ وسعت رحمت ‘ سبب مغفرت ہے (اعمال موجب مغفرت نہیں ہیں۔ مترجم) تَابُوْا یعنی کفر چھوڑ کر اسلام کی طرف لوٹ آئے۔ وَاتَّبَعُوْا سَبِیْلَکَ سبیل سے مراد دین الٰہی ہے جس کی تبلیغ کیلئے پیغمبروں کو بھیجا گیا تھا۔ وَقِھِمْ اور ان کو محفوظ رکھ۔ اِغْفِرْ کے لفظ میں جہنم سے بچانا اجمالاً آگیا ‘ لیکن دعاء مغفرت کو پختہ کرنے کیلئے اس لفظ میں طلب حفاظت کی صراحت فرما دی۔ مطرف نے کہا : مؤمنوں کے سب سے زیادہ خیرخواہ ملائکہ ہیں اور سب سے زیادہ کھوٹے اور منافق شیاطین ہیں۔ عَدْنٍ یعنی (دوامی) سکونت۔ 1 ؂ ومن صلح من اباءھم وازوجھم وذریتھم اور انکے ماں باپ اور اہل و عیال کو بھی جو (جنت میں داخل ہونے کی) صلاحیت رکھتے ہوں ‘ بہشت میں داخل فرما دے۔ صلاح سے مراد غالباً (درستی اعمال نہیں بلکہ) ایمان ہے۔ ہر مؤمن خواہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب (اور فاسق) ہو ‘ جنت میں داخل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اللہ جس کو بغیر عذاب کے (یا خفیف عذاب کے بعد) بخشنا چاہے گا ‘ بخش دے گا۔ اگر صلاح سے مراد مکمل عقائد کی صحت اور اعمال و افعال کی درستی ہو تو پھر ایسے صالحین تو الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِیْکَمیں داخل ہی ہیں (الگ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی) ۔ بغوی نے بروایت سعید بن جبیر بیان کیا کہ مؤمن جب جنت میں داخل ہوگا تو وہاں پوچھے گا : میرا باپ کہاں ہے ؟ میری ماں کہاں ہے ؟ میرے بچے کہاں ہیں ؟ میری بی بی کہاں ہے ؟ فرشتہ جواب دے گا : انہوں نے آپ کے ایسے اعمال نہیں کئے تھے (اسلئے یہاں نہیں پہنچ سکے) مؤمن کہے گا : میں تو جو نیک عمل کرتا تھا ‘ وہ اپنے لئے بھی کرتا تھا اور ان کیلئے بھی۔ حکم ہوگا : ان کو بھی (اسکے ساتھ) جنت میں داخل کر دو ۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت میں صلاح سے مراد صرف ایمان ہے۔ حدیث کی روایت اگرچہ موقوف ہے (کسی صحابی کی روایت کی صراحت نہیں ہے) لیکن (آخرت کے واقعات سے تعلق رکھنے کی وجہ سے) مرفوع کے حکم میں ہے۔ انک انت العزیز الحکیم بلاشبہ تو زبردست (اور) حکمت والا ہے۔ الْعَزِیْزُ سب پر غالب ‘ کوئی اس کے ارادے کو رد کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ الْحَکِیْمُ وہی عمل کرنے والا جو اس کی حکمت اور مصلحت کا مقتضٰی ہو ‘ وعدہ کو پورا کرنا بھی اسی میں شامل ہے۔
Ayah 40:9

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور ان کو عذابوں سے بچائے رکھ۔ اور جس کو تو اس روز عذابوں سے بچا لے گا تو بےشک اس پر مہربانی فرمائی اور یہی بڑی کامیابی ہے

وقھم السیات ومن تق السیات یومئذ فقد رحمتہ وذلک ھو الفوز العظیم اور (قیامت کے دن) ان کو (ہر طرح کی) تکلیفوں سے بچا اور تو نے جس کو اس روز برائیوں سے بچا لیا ‘ اس پر تیری بڑی مہربانی ہوگی اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ السَّیِّاٰت یعنی سزائیں ‘ تکالیف یا برے اعمال کا بدلہ ‘ یا یہ مطلب ہے کہ دنیا میں اعمال بد سے جس کو تو محفوظ رکھ لے تو یہ تیری رحمت ہے۔ یَوْمَءِذٍ اس روز ‘ یعنی بدلے کے دن (قیامت کے دن) یا دنیا میں۔ وَذٰلِکَ یعنی رحمت ‘ یا عذاب سے حفاظت یا دونوں کا مجموعہ۔ ایک سوال : ملائکہ کو جب معلوم ہے کہ اللہ نے مؤمنوں کو جنت میں داخل کرنے کا وعدہ فرما لیا ہے اور اللہ کے وعدہ کے خلاف ہونا ناممکن ہے تو پھر اللہ سے مؤمنوں کو جنت میں داخل کرنے کی دعا کرنا بےسود ہے۔ فرشتے ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اسی طرح مسلمان رسول اللہ ﷺ کیلئے دعا کرتے ہیں اور کہتے ہیں : اَللّٰھُمَّ اٰتِ مُحَمَّدًا انِلْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَالدَّرَجَۃَ الرَّفِیْعَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدَا انِالَّذِیْ وَعَدْتَّہٗ جب مسلمانوں کو معلوم ہے کہ مقام محمود عطا کرنے کا اللہ نے اپنے رسول سے وعدہ فرما لیا ہے تو پھر اس دعا کی کیا ضرورت ہے ؟ جواب : میں کہتا ہوں : اللہ نے فرشتوں کے دلوں میں مؤمنوں کی محبت (اور مسلمانوں کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت۔ مترجم) ڈال دی ہے ‘ اسی محبت کا تقاضا ہے کہ وہ مؤمنوں کیلئے (اور مسلمان رسول اللہ ﷺ کیلئے) دعا کرتے ہیں۔ پھر دعا کا مقصد مزید رحمت کی طلب بھی ہوتا ہے اور اللہ کے محبوب بندوں کیلئے دعا کرنے والوں کو خود بھی (اس دعا سے) اللہ کی رحمت اور رضامندی کا ایک حصہ ملتا ہے (یعنی دعا کے نتیجہ میں خود دعا کرنے والوں کا فائدہ بھی مضمر ہوتا ہے) ۔
Ayah 40:10

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا ان سے پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ جب تم (دنیا میں) ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے اور مانتے نہیں تھے تو خدا اس سے کہیں زیادہ بیزار ہوتا تھا جس قدر تم اپنے آپ سے بیزار ہو رہے ہو

ان الذین کفروا ینادون لمقت اللہ اکبر من مقتکم انفسکم اذ تدعون الی الایمان فتکفرون جو لوگ کافر ہوئے (اس وقت) ان کو پکارا جائے گا (اور کہا جائے گا) کہ جیسی تم کو (اس وقت) اپنے سے نفرت ہے ‘ اس سے بڑھ کر اللہ کو (اس وقت دنیا میں) تم سے نفرت تھی کہ جب تم کو ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم (ایمان کی دعوت قبول کرنے سے) انکار کرتے تھے۔ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْاکا ربط آیت مَا یُجَادِلُ فِیْ اٰیٰتِ اللہ الاَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْاسے ہے ‘ درمیان میں سارے جملے معترضہ ہیں جن میں فرشتوں کا مؤمن ہونا اور ان مؤمن بندوں کیلئے جو کافروں کے دشمن ہیں ‘ استغفار کرنا مذکور ہے۔ یُنَادَوْنَ یعنی دوزخ کے کارندے کافروں کو پکاریں گے ‘ کافر اس وقت دوزخ کے اندر ہوں گے اور خود اپنے نفسوں سے ان کو نفرت ہوگی ‘ کیونکہ انہی کے نفوس نے ان کو گناہ اور کفر پر آمادہ کیا تھا۔ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَی الْاِیْمَانِ اس جملہ کا تعلق مَقْتُ اللہ سے نہیں ہے ‘ کیونکہ مقت مصدر ہے اور مبتداء ہے اور اکبر اس کی خبر ہے ‘ اس طرح جملہ پورا ہوگیا اور جب مصدر کی خبر پوری ذکر کردی گئی اور جملہ پورا ہوگیا تو اب اس چیز کا تعلق اس مصدر سے نہیں ہوسکتا جو صلہ میں مذکور ہے۔ اسی طرح اس جملہ کا تعلق مقتکم سے بھی نہیں ہوسکتا ‘ کیونکہ کافروں کو تو اپنی جانوں سے نفرت عذاب میں مبتلا ہونے کے وقت ہوگی ‘ اسلئے اِذْ تُدْعَوْنَ کا تعلق ایک محذوف فعل سے مَقْتُ اللہ کا لفظ دلالت کر رہا ہے ‘ یا یوں کہا جائے کہ اِذْ تُدْعَوْنَ میں اِذ ظرفیہ نہیں ہے بلکہ تعلیلیہ ہے اور مَقْتُ اللہ اور مَقْتِکُمْ کا زمانہ ایک ہے (یعنی عذاب میں مبتلا ہوں گے تو کافروں کو اپنے سے نفرت ہوگی اور اس سے زیادہ اللہ کو ان سے نفرت ہوگی ‘ کیونکہ دنیا میں جب ان کو دعوت ایمان دی جاتی تھی تو وہ نہیں مانتے تھے ‘ پس کفر کرنا اور ایمان نہ لانا دونوں نفرتوں کا سبب ہوگا۔ مترجم)
Ayah 40:11

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو دفعہ بےجان کیا اور دو دفعہ جان بخشی۔ ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلنے کی کوئی سبیل ہے؟

قالوا ربنا امتنا اثنتین واحییتنا اثنتین وہ لوگ کہیں گے : اے ہمارے رب ! تو نے ہم کو دو بار مردہ رکھا اور دوبار زندگی دی۔ یعنی ایک بار باپ کی پشت میں بصورت نطفہ بےجان پیدا کیا ‘ پھر ماں کے رحم میں زندگی عطا کر کے دنیا میں لایا ‘ پھر زندگی کی میعاد مقرر ختم ہونے کے بعد زندگی لے لی اور مردہ کردیا ‘ پھر قیامت کے دن دوبارہ زندہ کردیا ‘ کذا قال ابن عباس و قتادہ والضحاک۔ اسی مضمون کو اس آیت میں بھی بیان کیا ہے : کُنْتُمْ اَمْوَاتًا (ای نطفًا) فَاَحْیَاکُمْ (ای فی ارحام اُمّھاتکم) ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ (عندا نقضاء اجلکم) ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ (یوم القیٰمۃ) سدی نے کہا : پہلی بار موت تو دنیوی زندگی کے خاتمہ پر ہوئی ‘ پھر سوال جواب کیلئے قبر میں زندگی دی گئی ‘ پھر سوال کے بعد قبر میں مردہ کردیا ‘ پھر قیامت کے دن زندہ کیا ‘ دو بار موت اور دو بار زندگی سے یہی مراد ہے۔ سدی کا یہ قول اس خیال پر مبنی ہے کہ اماتت سے پہلے حیات ہونا ضروری ہے (اور نطفہ کی حالت میں حیات نہیں ہوتی ‘ حیات کا آغاز تو رحم مادر میں ہوتا ہے) سدی کا یہ خیال غلط ہے ‘ کیونکہ اماتت کا معنی (زندہ کو مردہ بنانا نہیں ہے بلکہ) کسی کو بےجان بنانا ہے ‘ خواہ ابتداء ہی میں اس کو بےجان بنایا گیا ہو یا زندگی دینے کے بعد اس کی زندگی سلب کرلی گئی ہو۔ جیسے کہا گیا : سُبْحَانَ مَنْ صَغَّرَ الْبَعُوْضَ وَکَبَّرَ الْفِیْلَ پاک ہے وہ اللہ جس نے مچھر کو چھوٹا اور ہاتھی کو بڑا بنایا (یہ مطلب نہیں کہ پہلے مچھر بڑا اور ہاتھی چھوٹا تھا ‘ پھر مچھر کو چھوٹا اور ہاتھی کو بڑا کردیا) رہی سوال و جواب کیلئے قبر کی زندگی تو وہ دنیوی زندگی کی طرح نہیں ہے (وہ تو برزخی زندگی ہے) اور اگر سوال کیلئے زندگی ہونا ضروری مانا جائے تو پھر عذاب قبر کیلئے بھی زندگی کی ضرورت لازم ہے اور جب سوال کے بعد زندگی ختم ہوجائے تو لازم آئے گا کہ کافروں پر عذاب قبر نہ ہو ‘ اور یہ عقیدہ تو واقعہ کے خلاف ہے (حدیث مبارک میں کافروں پر عذاب قبر ہونا صراحۃً مذکور ہے) ۔ فاعترفنا بذنوبنا فھل الی خروج من سبیل اب ہم اپنی خطاؤں کا اقرار کرتے ہیں ‘ تو کیا (اب) نکلنے کی کوئی صورت ہے ؟ فَاعْتَرَفْنَا اس میں فَ سببی ہے۔ جب وہ دوسری موت کے بعد دوسری زندگی کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو اپنے گناہ اور خطا کا اقرار کرلیں گے ‘ اس طرح دونوں موتوں اور دونوں زندگیوں کا مجموعہ اعتراف کا سبب ہوجائے گا۔ خُرُوْجٍ یعنی ایک بار نکلنے یا کسی طرح نکلنے کی کوئی راہ ہے کہ ہم اس پر چلیں اور تیز یا آہستہ رفتار سے چل کر دنیا میں لوٹ جائیں۔ یہ سوال بمعنی تمنا ہوگا ‘ یعنی کاش ایسا ہوجاتا۔
Ayah 40:12

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جب تنہا خدا کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کردیتے تھے۔ اور اگر اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جاتا تھا تو تسلیم کرلیتے تھے تو حکم تو خدا ہی کا ہے جو (سب سے) اوپر اور (سب سے) بڑا ہے

ذلکم بانہ اذا دعی اللہ وحدہ کفرتم وان یشرک بہ تؤمنوا فالحکم اللہ العلی الکبیر وجہ اس کی یہ ہے کہ جب صرف اللہ کا نام لیا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کرلیا جاتا تھا تو مان لیتے تھے ‘ سو (آج یہ) فیصلہ اللہ کا ہے جو عالی شان اور بڑے رتبہ والا ہے۔ اِذَا دُعِیَ اللہ وَحْدَہٗ یعنی جب لَآ اِلٰہَ الاَّ اللہ کہا جاتا تھا تو تم نہیں مانتے تھے ‘ اور کہتے تھے : اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰھًا وَّاحِدًا کیا اس نے سب معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ؟ تُؤْمِنُوْا یعنی شرک کو مانتے تھے۔ فَالْحُکْمُ لِلّٰہِ یعنی آج یہ حکم صرف اللہ کا ہے جو تنہا مستحق عبادت ہے اور شرک سے پاک ہے ‘ اسی نے تمہارے کفر کی وجہ سے تم کو دوامی شدید عذاب میں ماخوذ کیا ہے۔ اگر تمہارا اور کوئی معبود ‘ اللہ کا شریک ہوتا تو آج تم کو اس عذاب سے بچا لیتا اور تم کو آگ سے نکلنے کا موقع مل جاتا۔ الْعَلِیِّ الْکَبِیْرِ یعنی اللہ عالی شان ہے اور ہر شک سے بالا ہے ‘ کسی کو اس کے برابر نہیں قرار دیا جاسکتا۔
Ayah 40:13

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تم پر آسمان سے رزق اُتارتا ہے۔ اور نصیحت تو وہی پکڑتا ہے جو (اس کی طرف) رجوع کرتا ہے

ھو الذی یریکم ایتہ وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے۔ یعنی اپنی توحید کی اور ان تمام امور کی جن پر عقیدہ رکھنا ضروری ہے ‘ نشانیاں دکھاتا ہے۔ وینزل لکم من السماء رزقا اور اوپر سے تمہارے لئے رزق بھیجتا ہے۔ یعنی بارش نازل کرتا ہے جو تمہارے رزق کا سبب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب ایسی نشانیاں جو اللہ کی توحید کو ثابت کر رہی ہیں ‘ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو تو پھر نہ جاننے کا عذر نہیں کرسکتے۔ وما یتذکر الا من ینیب اور صرف وہی شخص نصیحت قبول کرتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع (کرنے کا ارادہ) کرتا ہے۔ یعنی نشانیاں اسی کیلئے نصیحت آفریں ہوتی ہیں ‘ جو تعصب وعناد کو چھوڑ کر خلوص کے ساتھ اللہ کی طرف توجہ (کرنے کا ارادہ) کرے۔ العلی الکبیر پر اللہ کی طرف سے دوزخیوں کا جواب ختم ہوگیا ‘ اس کے بعد ھُوَ الَّذِیْ سے جدید کلام شروع کیا گیا جس کے مخاطب رسول اللہ ﷺ اور دوسرے مؤمن ہیں۔
Ayah 40:14

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

تو خدا کی عبادت کو خالص کر کر اُسی کو پکارو اگرچہ کافر برا ہی مانیں

فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین ولو کرہ الکفرون پس (جب تم نے مشرکوں کا انجام سن لیا) تم خالص اعتقاد کر کے (تنہا) اللہ کو پکارو ‘ خواہ کافروں کو ناگوار ہی ہو۔ یعنی کافروں کو اس بات پر غصہ ہی آئے۔
Ayah 40:15

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

مالک درجات عالی اور صاحب عرش ہے۔ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی بھیجتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ڈراوے

رفیع الدرجت ذوالعرش یلقی الروح من امرہ علی من یشاء من عبادہ وہ عالی درجات والا ہے ‘ مالک عرش ہے ‘ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی یعنی اپنا حکم نازل فرماتا ہے۔ رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ یعنی اسکے درجات کمال بہت بلند ہیں ‘ کسی کا کمال اس کے کمال کے سامنے نمودار نہیں ہوسکتا۔ بعض اہل تفسیر نے اس فقرہ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ وہ اپنے انبیاء اور اولیاء کے درجات قرب جنت کے اندر اونچا کرنے والا ہے۔ سب کے درجات ترتیب کے ساتھ ہوں گے ‘ کوئی بہت اونچا ‘ کوئی اس کے قریب۔ ذوالْعَرْشِ یعنی عرش کا خالق اور مالک ہے۔ یُلْقِی الرُّوْحَ اپنی وحی نازل کرتا ہے۔ روح سے جسم کی زندگی وابستہ ہے اور وحی سے مردہ دل زندہ ہوجاتے ہیں۔ مِنْ اَمْرِہٖ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : امر سے مراد فضل ہے ‘ یعنی اپنے فضل سے وہ وحی نازل کرتا ہے ‘ اس صورت میں مِنْ ابتدائیہ ہوگا۔ بعض نے مِنْ کو بیانیہ کہا ہے (ہم نے جو ترجمہ نقل کیا ہے ‘ وہ مِنْ بیانیہ کا ہی ہے۔ مترجم) ا اللہ نے اپنے تین خصوصی اوصاف بیان کئے ‘ ان میں سے ہر ایک اللہ کی توحید اور بےنیازی پر دلالت کر رہا ہے اور (آخری جملہ) تمہید نبوت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ لینذر یوم التلاق تاکہ وہ (نبی لوگوں کو) اجتماع کے دن (یعنی قیامت کے دن) سے
Ayah 40:16

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس روز وہ نکل پڑیں گے ان کی کوئی چیز خدا سے مخفی نہ رہے گی۔ آج کس کی بادشاہت ہے؟ خدا کی جو اکیلا اور غالب ہے

یوم ھم بارزون لا یخفی علی اللہ منھم شیء ڈرائے جس دن کہ سب لوگ (قبروں سے نکل کر) آموجود ہوں گے ‘ ان کی کوئی بات اللہ سے پوشیدہ نہ ہوگی۔ لِیُنْذِرَ فاعلی ضمیر یا اللہ کی طرف راجع ہے ‘ یا روح (یعنی وحی) کی طرف ‘ یا مَنْ یَّشاء (یعنی پیغمبر) کی طرف ‘ مؤخر الذکر قول زیادہ واضح اوراقرب الی الفہم ہے۔ یُنْذر کا مفعول محذوف ہے ‘ اس سے اشارہ ہے ‘ عموم دعوت کی طرف (یعنی اللہ کا نبی سب لوگوں کو ڈرائے) ۔ یَوْمَ العَّلاَق یعنی جس روز کہ ساری سماوی اور ارضی مخلوق اکٹھی ہوگی۔ مقاتل اور قتادہ نے کہا : ملاقات کے دن سے مراد ہے وہ دن جب خالق اور مخلوق کا اجتماع ہوگا۔ میمون بن مہران نے کہا : ظالم اور مظلوم جمع ہوں گے اور مدعی ‘ مدعیٰ علیہ اکٹھے ہوں گے۔ بعض لوگوں نے کہا : پجاری اور ان کے معبود جمع ہوں گے۔ بعض نے کہا : ہر شخص کو اس کے اعمال کے ساتھ جوڑا جائے گا۔ حاکم ‘ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم اور ابن ابی الدنیا نے کتاب الاہوال میں حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس نے آیت یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآء بالْغَمَام پڑھی ‘ پھر فرمایا : قیامت کے دن ایک میدان میں اللہ (ساری) مخلوق کو جمع کرے گا ‘ جن ‘ انسان ‘ چوپائے ‘ پرندے سب جمع ہوں گے ‘ پھر نچلا آسمان شق ہوجائے گا اور اس کے باشندے نیچے اتریں گے اور ان کی تعداد جن و انس سے زائد ہوگی۔ اس طویل حدیث میں ساتوں آسمانوں کا شگافتہ ہونا اور ترتیب وار ہر آسمان کی مخلوق کا یکے بعد دیگرے نازل ہونا اور (پھر) اللہ کا جلوہ افروز ہونا بیان کیا ‘ اللہ کا جلوہ فرما ہونا متشابہات میں سے ہے (جس کی کیفیت ناقابل فہم اور خارج از بیان ہے) ہم نے اس کی تشریح سورة فرقان کی آیت یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآء بالْغَمَام اور سورة بقرہ کی آیت اَنْ یَّأتِیَھُمُ اللہ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلآءِکَۃُکی تفسیر میں کردی ہے۔ بَارِزُوْنَ یعنی قبروں سے برآمد ہوں گے یا بالکل سامنے ہوں گے ‘ کسی پہاڑ یا ٹیلے یا عمارت کی آڑ نہیں ہوگی ‘ یا ان کے نفوس کو جسمانی پردے چھپا نہ سکیں گے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ ان کے سارے اعمال ظاہر ہوجائیں گے اور چھپی ہوئی باتیں سامنے آجائیں گی۔ مِنْھُمْ یعنی ان کی شخصیت وفات مخفی رہے گی ‘ نہ کوئی عمل ‘ نہ کوئی حالت۔ لَا یَخْفٰی عَلَی اللہ کا جملہ یَوْمَ ھُمْ بَارِزُوْنَ کے معنی کی تاکید کر رہا ہے اور دنیا میں پوشیدہ رہنے کا جو تو ہم ہوسکتا ہے ‘ اس کو دور کر رہا ہے۔ لمن الملک الیوم اللہ الواحد القھار اس روز کس کی حکومت ہوگی ؟ بس اللہ ہی کی ہوگی جو یکتا اور (سب پر) غالب ہے۔ ساری مخلوق کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے سے پہلے اللہ بطور سوال یہ بات فرمائے گا ‘ لیکن کوئی جواب دینے والا نہ ہوگا تو خود ہی جواب میں فرمائے گا : لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ ۔ الْوَاحِدِ وہ یکتا ہے اپنی عظمت ذات اور کمال صفات میں ‘ پاک ہے ‘ الوہیت میں کسی کے شریک ہونے سے۔ الْقَھَّارِ سب پر غالب ہے ‘ ہر مخلوق کو مردہ کرنے اور حسب مشیت ہر قسم کا تصرف کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ ساری مخلوق کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے سے پہلے اللہ کی طرف سے خود ہی یہ سوال اور جواب ہونا ‘ حضرت ابوہریرہ کی ایک طویل مرفوع روایت میں آیا ہے جس کو طبرانی نے مطولات میں اور ابو یعلیٰ نے مسند میں اور بیہقی نے البعث میں اور کچھ دوسرے اہل روایت نے بیان کیا ہے۔ ابو داؤد نے البعث میں حضرت ابو سعید کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک منادی کھلی ہوئی بلند آواز سے پکار کر کہے گا : لوگو ! تم پر وہ گھڑی آگئی۔ اس نداء میں وہ آواز کو اتنا کھینچے گا کہ زندے مردے سب سن سکیں گے اور اللہ آسمان دنیا کی طرف نزول اجلال فرمائے گا ‘ پھر ایک منادی پکارے گا : لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلّٰہِ الْواحِدِ الْقَھَّارِ ۔ بیہقی نے حضرت انس کی روایت سے ایک مرفوع حدیث آیت وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِالخ کے ذیل میں نقل کی ہے جس میں آیا ہے کہ تین ملائکہ (بےہوش ہونے اور مرنے سے) مستثنیٰ ہوں رہیں گے : جبرئیل ‘ میکائیل اور ملک الموت۔ پھر اللہ فرمائے گا (باوجودیکہ وہ خوب جانتا ہے ‘ پھر بھی پوچھے گا) موت کے فرشتے ! کون باقی رہا ؟ ملک الموت عرض کرے گا : تیری ذات کریم اور تیرے بندے جبرئیل اور میکائیل اور ملک الموت۔ اللہ فرمائے گا : میکائیل کی جان قبض کرلے (ملک الموت میکائیل کی جان قبض کرلے گا) پھر باوجود جاننے کے فرمائے گا : ملک الموت ! اب کون باقی رہا ؟ ملک الموت عرض کرے گا : تیری ذات مبارک اور تیرا بندہ جبرئیل اور ملک الموت۔ فرمان ہوگا : جبرئیل کی جان بھی قبض کرلے (ملک الموت فوراً حکم کی تعمیل کرے گا) پھر اللہ باوجود جاننے کے پوچھے گا : اب کون باقی رہا ؟ ملک الموت عرض کرے گا : صرف تیری ذات مبارک اور موت کا فرشتہ ‘ اور وہ بھی مرنے والا ہے۔ حکم ہوگا : مرجا (ملک الموت مرجائے گا) اس کے بعد اللہ ندا دے گا : میں نے ہی شروع میں مخلوق کو پیدا کیا اور میں ہی دوبارہ پیدا کروں گا (آج) ظالم مغرور کہاں ہیں ؟ پھر ندا دے گا : لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ آج کس کی حکومت ہے ؟ جب کوئی جواب دینے والا نہ ہوگا تو خود ہی فرمائے گا : لِلّٰہِ الْواحِدِ الْقَھَّارِ بس اللہ ہی کی حکومت ہے جو یکتا اور قہار ہے۔ اسکے بعد دوبارہ صورپھونک ماری جائے گی تو یکدم سب کھڑے ہوجائیں گے۔ آیت کی رفتار بتارہی ہے کہ مخلوق کو قبروں سے باہر نکالنے اور زندہ کرنے کے بعد اللہ لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَالخ فرمائے گا اور اسی کا بیان اس جگہ کیا ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ اس وقت سارے ظاہری اسباب فنا ہوچکے ہوں گے ‘ درمیانی وسائط کا بھی کوئی وجود نہ ہوگا ‘ کوئی مجازی ظاہری حاکم بھی نہ ہوگا ‘ اسی حالت کی تصویر کشی اور حکامت اس آیت میں کی گئی ہے ‘ ورنہ حقیقی حکومت تو یہاں بھی اللہ کی ہے ‘ حقیقت حال تو ہمیشہ حکومت الٰہیہ ہونے کی شہادت دے رہی ہے۔
Ayah 40:17

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ آج (کسی کے حق میں) بےانصافی نہیں ہوگی۔ بےشک خدا جلد حساب لینے والا ہے

الیوم تجزی کل نفس بما کسبت لا ظلم الیوم اس روز ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جائے گا ‘ کسی کی حق تلفی اس روز نہیں کی جائے گی۔ اَلْیَوْمَ یعنی اس روز جبکہ مجازی حکومت بھی کسی کی نہ ہوگی اور ظاہری حکومت بھی اللہ ہی کی ہوگی۔ لاَ ظُلْمَ الْیَوْمَ اس روز کسی کی حق تلفی نہ ہوگی ‘ یعنی نہ کسی کے ثواب میں کمی کی جائے گی ‘ نہ عذاب میں زیادتی جیسا اللہ نے وعدہ کیا ہے ‘ اسی کے مطابق بدلہ دیا جائے گا ‘ کیونکہ اس وقت حکومت صرف اللہ کی ہوگی اور اللہ کی حکومت میں ظلم کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ‘ ظلم کا تصور تو وہاں کیا جاسکتا ہے جو مالک کی اذن کے بغیر اس کے مملوک میں کیا جائے ‘ اللہ تو سب کا مالک ہے جو تصرف کرتا ہے ‘ اپنی ملک میں کرتا ہے۔ ان اللہ سریع الحساب بیشک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ یعنی اسکی مشیت یہ ہے کہ سب لوگوں کا حساب اس دنیا کے نصف یوم کی برابر مدت میں کر دے گا ‘ اگرچہ وہ ایک آن میں بھی سب کا حساب کرنے کی قدرت رکھتا ہے ‘ کیونکہ اسکو کسی عمل میں ایسی مشغولیت ہی نہیں ہوتی جو دوسرا کام کرنے میں رکاوٹ پیدا کر دے۔
Ayah 40:18

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور ان کو قریب آنے والے دن سے ڈراؤ جب کہ دل غم سے بھر کر گلوں تک آرہے ہوں گے۔ (اور) ظالموں کا کوئی دوست نہ ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات قبول کی جائے

وانذرھم یوم الازفۃ اذ القلوب لدی الحناجر کظمین اور آپ ان لوگوں کو قریب آنے والی مصیبت کے دن (یعنی قیامت کے دن) سے ڈرائیے جبکہ کلیجے منہ کو آجائیں گے اور (شدت غم سے) گھٹ گھٹ جائیں گے۔ اَلْاٰزِفَۃِ (قریب آنے والی) سے مراد قیامت ہے ‘ کیونکہ وہ قریب ہی آنے والی ہے۔ جو چیز یقینی آنے والی ہے ‘ وہ قریب ہی ہے۔ لَدَی الْحَنَاجِرِ یعنی دل اپنی جگہ چھوڑ دیں گے اور اچھل کر گلے میں آ پھنسیں گے ‘ نہ نیچے اتریں گے کہ چین آجائے ‘ نہ باہر ہی نکل پائیں گے کہ موت ہی آجائے۔ کٰظِمِیْنَ بےچین ‘ خوف و غم سے بھرے ہوئے۔ کظم کا معنی ہے غصہ ‘ خوف اور غم کی دل میں آمدورفت جو ناقابل برداشت نہ ہو۔ ما للظلمین من حمیم ولا شفیع یطاع ظالموں کا نہ کوئی ولی ‘ دوست ہوگا نہ سفارشی ‘ جس کی سفارش مانی جائے۔ ظَالِمُوْنَ سے مراد ہیں کافر۔ حَمِیْم قرابت دار ‘ مشفق۔ شفیع کے مطاع نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ کافروں کا کوئی سفارشی تو ہوگا جو سفارش کرے گا مگر اسکی سفارش مانی نہیں جائے گی ‘ بلکہ مطلق شفیع کی نفی مقصود ہے ‘ یعنی کوئی سفارشی ہی نہیں ہوگا ‘ اس صورت میں صفت (یعنی یطاع) کا کوئی مفہوم نہیں ہے ‘ یا یہ کہا جائے کہ یطاع کا لفظ کافروں کے مسلمہ کی بنا پر ذکر کیا گیا ہے۔ بت پرستوں کا خیال تھا کہ ہمارے معبود ہماری سفارش کریں گے ‘ اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ بالفرض اگر کافروں کا کوئی سفارشی ہوگا بھی تو اسکی سفارش قبول نہیں کی جائے گی۔
Ayah 40:19

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو (باتیں) سینوں میں پوشیدہ ہیں (ان کو بھی)

یعلم خائنۃ الاعین وما تخفی الصدور وہ (ا اللہ) جانتا ہے آنکھوں کی چوری کو اور ان باتوں کو جو دلوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ الخَاءِنَۃ صیغۂ اسم فاعل ‘ اس کا موصوف محذوف ہے ‘ یعنی خیانت کرنے والی نظر ‘ جیسے چوری سے اس کو دیکھنا جس کو دیکھنا حرام ہے ‘ یا خائنہ مصدر ہے جیسے عافیہ ‘ یعنی اللہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔ مَا تُخْفِی الصَّدُوْرُ جو بات بھی دلوں میں چھپی ہوئی ہو ‘ اللہ اسکو بھی جانتا ہے۔ بعض نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ کسی خوبصورت عورت کو خیانت کار نگاہ سے دیکھنے کے بعد جو آدمی اس کا شہوانی خیال دل میں پوشیدہ رکھتا ہے ‘ اللہ اسکو بھی جانتا ہے۔
Ayah 40:20

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور خدا سچائی کے ساتھ حکم فرماتا ہے اور جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی حکم نہیں دے سکتے۔ بےشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

وا اللہ یقضی بالحق اور اللہ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا۔ اللہ مالک مطلق ہے ‘ حکیم ہے ‘ علیم ہے ‘ ظاہر اور باطن سے واقف ہے ‘ اسلئے وہی فیصلہ کرے گا جو اس کے علم و حکمت کا تقاضا ہوگا اور اس کی حکمت کا تقاضا غلط نہ ہوگا۔ والذین یدعون من دونہ لا یقضون بشیء اور اللہ کے سوا یہ لوگ جن کو پکارتے ہیں ‘ وہ کسی طرح کا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے۔ مِنَ دُوْنِہٖ یعنی اللہ کے سوا بتوں کو ‘ شیطانوں کو اور ظالم بادشاہوں کو جو یہ لوگ پکارتے ہیں ‘ وہ کسی طرح کا فیصلہ نہ کرسکیں گے ‘ کیونکہ ان کو کوئی فیصلہ کرنے کی قدرت ہی نہیں ہوگی۔ ان اللہ ھو السمیع البصیر کیونکہ اللہ ہی بلاشبہ سب کچھ سننے والا (اور) سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ اس جملہ سے خیانت نگاہ کے علم اور قضا بالحق کی تائید ہو رہی ہے اور کافروں کیلئے ان کے قول و فعل پر عذاب کی (درپردہ) وعید بھی ہے ‘ اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں ‘ ان پر تعریض بھی ہے کہ وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو نہ دیکھتی ہیں ‘ نہ سنتی ہیں۔
Ayah 40:21

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔ وہ ان سے زور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے لحاظ سے کہیں بڑھ کر تھے تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ اور ان کو خدا (کے عذاب) سے کوئی بھی بچانے والا نہ تھا

اولم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین کانوا من قبلھم کانوا ھم اشد منھم قوۃ واثار فی الارض فاخذھم اللہ بذنوبھم وما کان لھم من اللہ من واق کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ جو (کافر) لوگ ان سے پہلے ہو گذرے ‘ ان کا کیسا انجام ہوا ؟ وہ لوگ قوت اور ان نشانات میں جو زمین پر چھوڑ گئے ‘ ان سے بہت زیادہ تھے ‘ بالآخر اللہ نے ان کے جرائم کی وجہ سے ان کو دھر پکڑا اور اللہ (کے عذاب) سے ان کو کوئی بچانے والا نہ ہوا۔ اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا کا علف محذ وف فعل پر ہے ‘ یعنی کیا یہ لوگ کفر کے برے انجام کے منکر ہیں اور کیا انہوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا ؟ کَانُوْا مِنْ قَبْلِھِمْ یعنی گذشتہ کافر امتیں جنہوں نے اپنے زمانہ کے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا ‘ جیسے قوم عاد و قوم ثمود۔ قُوَّۃً طاقت اور جماؤ۔ وَاٰ ثَارًا فِی الْاَرْضِ یعنی قلعے اور فصیل بند شہر۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ اٰثارًا کا تعلق (اَشَدّ سے نہیں ہے بلکہ) ایک محذ وف لفظ سے ہے ‘ اصل کلام یوں تھا : اَشَدَّ مِنْھُمْ قُوَّۃً وَّاَکْثَرَ اٰثَارًا۔ عرب کہتے ہیں : مُتَققَلِّدًا سَیْفًا وَّرُمْحًا (رُمْحًا کا تعلق مُتَقَلِّدًا سے نہیں ہے) ۔ فَاَخَذَھُمُ اللہ اللہ نے ان کو دھر پکڑا ‘ یعنی تباہ و ہلاک کردیا ‘ کسی کو طوفان سے ‘ کسی کو ایک چیخ سے ‘ کسی کو دوسرے طریقہ سے۔ وَمَا کَانَ لَھُمْ یعنی اللہ کے عذاب سے ان کو کوئی بچانے والا ہی نہ تھا کہ اسکے پاس جاتے اور اس سے بچاؤ کی التجا کرتے۔
Ayah 40:22

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی دلیلیں لاتے تھے تو یہ کفر کرتے تھے سو خدا نے ان کو پکڑ لیا۔ بےشک وہ صاحب قوت (اور) سخت عذاب دینے والا ہے

ذلک بانھم کانت یاتیھم رسلھم بالبینت فکفروا فاخذھم اللہ انہ قوی شدید العقاب یہ (پکڑ) اس وجہ سے ہوئی کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر واضح دلیلیں لے کر آتے رہے ‘ مگر انہوں نے ماننے سے انکار کردیا ‘ آخرکار اللہ نے ان کو دھر پکڑا۔ بلاشبہ وہ بڑی قوت والا ‘ سخت سزا دینے والا ہے۔ اَلْبَیِّنَات معجزات اور وہ احکام جن کی صحت و افادیت کھلی ہوئی تھی۔ قَوِیٌ پوری قدرت والا ‘ جو کچھ چاہے اس پر پورا قادر۔
Ayah 40:23

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا

ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا وسطن مبین۔ اور ہم نے موسیٰ کو اپنے احکام اور کھلی دلیل کے ساتھ
Ayah 40:24

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

(یعنی) فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا

الی فرعون وھامن وقارون فقالوا سحر کذاب فرعون اور ہامان اور قارون کے پاس بھیجا تو ان لوگوں نے کہا : یہ جادوگر ہے ‘ بڑا جھوٹا۔ (حضرت مفسر کے نزدیک) اٰیٰتِنَا سے مراد ہیں (9) نو معجزات اور سلطان مبین سے مراد ہے کھلی دلیل یا بعض خصوصی معجزات جیسے عصا وغیرہ ‘ اول صورت میں آیات اور سلطان مبین دونوں الگ الگ چیزیں ہوں گی اور دوسری صورت میں سلطان مبین کو بھی آیات میں داخل مانا جائے گا اور چونکہ بعض معجزات خصوصی اہمیت کے حامل تھے ‘ اسلئے تعمیم کے بعد خاص طور پر صراحت کے ساتھ ان کو سلطان مبین فرما دیا اور عام پر خاص کا عطف کردیا۔ فَقَالُوْا سَاحِرٌ یعنی انہوں نے موسیٰ کو ساحر کذاب کہا۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کیلئے تسکین آفریں پیام ہے اور ان قوموں کی بدانجامی کا اظہار ہے جو رسول اللہ ﷺ کے کافروں سے کچھ پہلے تھے ان سے زیادہ طاقتور تھے۔
Ayah 40:25

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ جو اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو۔ اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں

فلما جاءھم بالحق من عندنا قالوا قتلوا انباء الذین امنوا معہ واستحیوا نساءھم وماکید الکفرین الا فی ضلل سو جب موسیٰ (عام) لوگوں کے پاس دین حق ‘ جو ہماری طرف سے تھا ‘ لے کر پہنچے تو ان (عام) لوگوں نے (بطور مشورہ) کہا کہ جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لے آئے ہیں ‘ ان کے بیٹوں کو قتل کر دو اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دو ۔ اور کافروں کی تدبیر محض بےاثر رہی۔ یعنی جیسے پہلے تم نے کیا تھا کہ ان کے بیٹوں کو قتل کرایا تھا اور بیٹیوں کو زندہ چھور دیا تھا (تاکہ موسیٰ کے پیدا ہو کر زندہ رہنے کا راستہ ہی بند ہوجائے) اسی طرح اب دوبارہ کرو کہ اہل ایمان کے بیٹوں کو قتل کرا دو اور لڑکیوں کو (ہماری قوم کی خدمت کیلئے) زندہ چھوڑ دو ‘ تاکہ یہ لوگ موسیٰ کی مدد نہ کرسکیں۔ ضَلٰلٍ بےکار ‘ بےاثر۔ کافروں نے حضرت موسیٰ کے لائے ہوئے یام حق کو روکنا اور باطل کرنا چاہا ‘ اللہ نے انکی ساری تدبیروں کو بےاثر کردیا اور ان کو تباہ کردیا اور حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو بادشاہ بنا دیا۔
Ayah 40:26

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور فرعون بولا کہ مجھے چھوڑو کہ موسیٰ کو قتل کردوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلالے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو نہ بدل دے یا ملک میں فساد (نہ) پیدا کردے

وقال فرعون ذرونی اقتل موسیٰ ولیدع ربہ انی اخاف ان یبدل دینکم او ان یظھر فی الارض الفساد اور فرعون نے (اہل دربار سے) کہا : مجھے اجازت دو کہ میں موسیٰ (ہی) کو قتل کر دوں اور اس کو چاہئے کہ (اپنی مدد کیلئے) اپنے رب کو پکارے ‘ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ (کہیں) تمہارا مذہب دل دے گا یا ملک میں تباہی پھیلائے گا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ فرعون نے یہ بات اسلئے کہی تھی کہ کچھ درباری اس کو موسیٰ کو قتل کرنے سے روک رہے تھے ‘ کیونکہ ان کو اپنی تباہی کا اندیشہ تھا ‘ وہ فرعون سے کہتے تھے : موسیٰ ایک جادوگر ہے ‘ اگر آپ اس کو قتل کرا دیں گے تو لوگ خیال کریں گے کہ آپ دلائل سے اس کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے ‘ اسلئے قتل کرا دیا (اس طرح لوگ بگڑ اٹھیں گے) ۔ بیضاوی نے لکھا ہے : اس کلام سے مترشح ہو رہا ہے کہ فرعون کو موسیٰ کی نبوت کا یقن تھا ‘ اسلئے موسیٰ کو قتل کرنے سے ڈرتا تھا ‘ یا اس کو یہ خیال تھا کہ موسیٰ کو قتل کرنا اس کیلئے آسان نہیں ‘ اگر اس نے ایسا ارادہ کیا تو کامیابی نہ ہوگی ‘ اس بات کی تائید وَلْیَدْعُ رَبَّہٗ کے الفاظ سے ہو رہی ہے۔ فرعون نے اس فقرہ میں اپنی جرأت کا اظہار کیا اور یہ بات بتائی کہ مجھے پروا نہیں کہ موسیٰ اپنے رب کو پکارے اور وہ اس کی مدد کو آجائے۔ فرعون نے جو اہل دربار سے کہا : زَرُوْنِیْ اَقْتُلْ مُوْسٰی یہ محض اس کا فریب اور ملمع کاری تھی ‘ وہ دکھانا چاہتا تھا کہ اسکے ساتھی اور اس کی قوم والے اس کو موسیٰ کے قتل سے روک رہے ہیں ‘ حالانکہ موسیٰ کو قتل کردینے کے حکم سے جو امر مانع تھا ‘ وہ موسیٰ کی لاٹھی کا ڈر تھا جو فرعون کے دل میں بیٹھ گیا تھا۔ اِنِّیْٓ اَخَاف یعنی اگر میں اسکو قتل نہیں کراؤں گا تو مجھے اندیشہ ہے کہ وہ تمہارے مذہب کو بگاڑ دے گا ‘ بت پرستی کے دین کو بدل ڈالے گا۔ اَلْفَسَاد فساد سے مراد ہے تبدیل مذہب یا فتنہ و فساد اور جنگ وجدال۔
Ayah 40:27

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ میں ہر متکبر سے جو حساب کے دن (یعنی قیامت) پر ایمان نہیں لاتا۔ اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں

وقال موسیٰ انی عذت بربی وربکم منکل متکبر لا یؤمن بیوم الحساب اور موسیٰ نے (جب یہ بات سنی تو) کہا : میں اپنے اور تم سب کے رب کی پناہ لیتا ہوں ہر اس مغرور شخص کے شر سے جو روز حساب پر یقین نہیں رکھتا۔ اِنَّ حرف تاکید ہے ‘ کلام کا آغاز تاکیدی اسلوب سے یہ بتانے کیلئے کیا کہ شر کو دفع کرنے کا محکم سبب اللہ کی پناہ ہے اور چونکہ حفاظت اور تربیت مقصود تھی ‘ اسلئے (ا اللہ کے اوصاف میں سے) لفظ رب ذکر کیا اور چونکہ موسیٰ کی حفاظت سب قوم کی حفاظت کی حامل تھی ‘ اسلئے جس طرح رب کی اضافت اپنی طرف کی ‘ اسی طرح قوم کی طرف بھی کی۔ اس سے قوم کو اس بات پر آمادہ کرنا مقصود تھا کہ تم بھی میری موافقت کرو اور اللہ کی پناہ کے خواستگار ہوجاؤ ‘ اجتماعی دعا درجۂ قبول پر زیادہ فائز ہوتی ہے۔ حضرت موسیٰ نے فرعون کا خصوصی نام نہیں لیا ‘ بلکہ بطور عموم ہر مغرور منکر آخرت کے شر سے اللہ کی پناہ مانگی۔ اس میں فرعون بھی آگیا اور تمام مغرور منکروں کے شر سے بھی استعاذہ ہوگیا اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ فرعون کو شر پر آمادہ کرنے والا اس کا غرور اور انکار آخرت ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ ربکم میں خطاب (مؤمنوں کو نہ ہو بلکہ) فرعون اور اس کی قوم کو ہو اور اس میں تنبیہ ہو اس بات پر کہ میرا اور تم سب کا رب ایک ہی ہے ‘ کوئی دوسرا رب نہیں ہے۔