40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 40:1–9

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

اس کتاب کا نازل فرمایا جانا اللہ غالب (اور) جاننے والے کی طرف سے ہے

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

جو گناہ کا بخشنے والا اور توبہ کا قبول فرمانے والا ہے ، سخت سزا دینے والا (اور) کرم فرمانے والا۔ اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اسی کی طرف پھر کر جانا ہے

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

اللہ کی آیات (قرآن) میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں۔ سو ان کا شہروں میں چلنا پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈال دے

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اور دوسرے گروہوں نے جو ان کے بعد ہوئے ، بھی (رسولوں کو) جھٹلایا تھا۔ اور ہر امت نے اپنے پیغمبر کو گرفتار کرنے کا ارادہ کیا اور ناحق جھگڑتے رہے تاکہ اس (ناحق) سے حق کو باطل کردیں تو میں نے ان کو پکڑ لیا۔ سو (دیکھ لو) میرا عذاب کیسا ہوا

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح کافروں پر آپ کے پروردگار کا ارشاد پورا ہوا کہ وہ لوگ دوزخ (کے رہنے) والے ہیں

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

جو (فرشتے) عرش کو اٹھائے ہوئے اور جو اس کے گرداگرد ہیں وہ اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ پاکی بیان کرتے رہتے ہیں اور اس کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے بخشش مانگتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! آپ کی رحمت اور آپ کا علم ہر چیز پر احاطہ کیے ہوئے ہے ، تو جن لوگوں نے توبہ کی اور آپ کے راستے پر چلے ان کو بخش دیں اور دوزخ کے عذاب سے ان کو بچا لیں

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ان کو ہمیشہ رہنے کی بہشتوں میں جن کا آپ نے ان سے وعدہ فرمایا ہے ، داخل فرمائیے اور جو ان کے باپ دادوں اور بیویوں اور اولاد میں سے نیک ہوں ان کو بھی۔ بیشک آپ غالب حکمت والے ہیں

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور ان کو (ہر قسم کی) تکالیف سے بچا لیں اور جس کو آپ نے اس دن تکالیف سے بچا لیا پس یقینا اس پر آپ نے مہربانی فرمائی اور یہی بڑی کامیابی ہے

تمت سورة زمر ۔ الحمد للہ۔ سورۃ المومن رکوع نمبر 1 ۔ آیات نمبر 1 تا 9: اسرار و معارف : اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے کتاب نازل فرما کر ہدایت کی راہ دکھائی کہ وہ بہت طاقت وقدرت رکھنے والا ہے اور ہر بات کو جانتا بھی ہے اسے انسانوں سے کسی مدد کی جرورت نہیں بلکہ وہ تو ایسا کریم ہے کہ اگر لوگ اس کی کتاب پر ایمان لا کر اس کے احکام کی پیروی کریں تو وہ ان کے گناہ معاف فرما دے اور ان کی توبہ قبول فرمائے بصورت دیگر اس کے عذاب بھی بہت سخت ہیں اور وہی صاحب اقتدار بھی ہے کوئی اس کے عذاب سے بھاگ نہیں سکتا اور اس کے علاوہ کوئی ایسی ہستی نہیں جس کی عبادت کی جائے نیز سب کو ہر حال میں لوٹ کر اسی کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔ کفار اگر اس کی نازل کردہ آیات میں جھگڑا کرتے ہیں اور ان پر ا اعتراض کرتے ہیں تو اس کا سبب ان کا کفر ہے کہ اس کی وجہ سے نور قرآن دیکھ کر نہیں پاتے اور اگر وقتی طور پر انہیں مہلت نصیب ہے اور شہروں اور ممالک پہ قابض ہیں تو یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں کہ یہی قانون قدرت ہے۔ سب کو ایک وقت تک مہلت دی جاتی ہے جیسے ان سے قبل نوح (علیہ السلام) کی قوم اور ان کے بعد بہت سی دوسری اقوام کہ انہیں مہلت ملی تو یہاں تک حد سے بڑھے کہ جو رسول ان کے پاس مبعوث ہوئے ان کے قتل کا ارادہ کرلیا اور ان کے ساتھ ناروا جھگڑے کھڑے کئے اور بجائے حق کو قبول کرنے کے انہوں نے انبیاء کو بھی حق سے ڈگمگانے کی کوشش کی جب بات یہاں تک بڑھی تو میرے عذاب نے انہیں پکڑ لیا اور پھر تاریخ گواہ ہے کہ اللہ کا عذاب کس قدر شدید تھا۔ اسی طرح ان پر آخرت کا عذاب بھی واقع ہوگا اور اللہ کا حکم کفار پر جاری ہوجائے گا کہ انہیں دوزخ میں ٹھکانہ دیا جائے۔ دوسری طرف اہل ایمان کے لیے کتنے انعامات ہیں کہ وہ فرشتے جو اللہ کا عرش اٹھائے ہوئے اور ہر وقت اسی کی تسبیح کرتے اور اسی کی ذات میں سرشار ہیں۔ وہ بھی اہل ایمان کے لیے دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ تیری رحمت وسیع تر اور تیرا علم کامل ہے تو خود سب سے بہتر جانتا ہے ہماری درخواست یہ ہے کہ جن لوگوں نے توبہ کی اور تیری راہ اپنائی تیرے نبی کا اتباع اختیار کیا۔ رب کریم انہیں بخش دے اور ان سے اگ کے عذاب کو دور رکھ۔ اور اے رب کریم انہیں جنت میں داخل فرما جس کا تو نے اہل ایمان سے وعدہ فرمایا ہے۔ نیز ان کے قریبی والدین ، بیویاں اور اولاد میں سے جو بھی ایمان لایا ہے سب کو ان کے ساتھ جمع فرما کہ تو جو چاہے کرسکتا ہے تو ہی بہتر حکمت والا ہے ان کو اپنی نافرمانی اور برائی سے مھفوظ رکھ کہ جس کسی کو تو نے برائی سے مھفوظ رکھ کہ جس کسی کو تو نے برائی سے محفوظ رکھا اس پر تیری خاص رحمت ہوئی۔ انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام معصوم ہوتے ہیں اور صحابہ یا دیگر اہل اللہ کو حفاظت الہیہ نصیب ہوتی ہے اور یہ محفوظ ہوتے ہیں یہی اللہ کے قرب اور رضامندی کی دلیل ہے کہ اللہ گناہ سے حفاظت فرمانے لگے یہ تمام اذکار و عبادات کا حاصل ہے۔ اور جس کو یہ نعمت نصیب ہوئی در حقیقت اسی کو بہت بڑی کامیابی نصیب ہوئی۔
Ayahs 40:10–20

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا (اس روز) ان لوگوں کو پکارا جائے گا کہ جس طرح (آج) تم کو اپنے سے نفرت ہے اللہ کو اس سے بڑھ کر (تم سے) نفرت تھی جب تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے تو تم انکار کرتے تھے

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

کہیں گے اے ہماری پروردگار ! آپ نے ہم کو دو بار مردہ رکھا اور دو بار ہمیں زندگی بخشی پش ہم اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں تو کیا (یہاں سے) نکلنے کی کوئی صورت ہے ؟

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے ہے کہ جب تنہا اللہ کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کردیتے تھے۔ اور اگر اس کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے تھے سو (اس پر) فیصلہ اللہ کا ہے جو عالی شان (اور) بڑے رتبے والے ہیں

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہی ہیں جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتے ہیں اور تم پر آسمان سے رزق اتارتے ہیں۔ اور نصیحت وہی حاصل کرتا ہے جو (اس کی طرف) رجوع کرتا ہے

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

سو تم لوگ اللہ کو خالص اعتقاد کرکے پکارو گو کافروں کو ناگوار ہی ہو

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہ (اللہ) درجات عالی (اور) عرش کے مالک ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں اپنے حکم سے وحی بھیجتے ہیں تاکہ ملاقات کے دن سے ڈرائے

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس روز سب (اللہ کے) سامنے آموجود ہوں گے (کہ) ان کی کوئی بات اللہ سے چھپی نہ رہے کی۔ آج کسی کی بادشاہت ہے ؟ اللہ کی ، جو اکیلے (اور) غالب ہیں

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا آج (کسی پر) زیادتی نہ ہوگی۔ یقینا اللہ بہت جلد حساب لینے والے ہیں

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور ان کو قریب آنے والے دن (قیامت) سے ڈرائیے کہ جب دل غموں سے بھر کر گلوں تک آرہے ہوں گے۔ ظالموں (کافر ومشرک) کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارشی ، جس کی بات قبول کرلی جائے

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

وہ آنکھوں کی خیانت (تک) کو جانتے ہیں اور جو (باتیں) سینوں میں پوشیدہ ہیں (ان کو بھی)

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور اللہ سچائی کے ساتھ حکم فرماتے ہیں اور اس کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی طرح کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ (کیونکہ) بیشک اللہ ہی (سب کچھ) سننے والے (سب کچھ) دیکھنے والے ہیں

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 20: اسرار و معارف : آج تو جسمانی اور مادی فوائد کفار کو بہت عزیز ہیں مگر جہنم میں انہیں خود اپنی ذات سے بھی نفرت ہوگی اور انگلیاں کاٹ کاٹ کھائیں گے کہ لعنت ہو ایسے وجود پر جسے ہم پالتے رہے اللہ کی اطاعت نہ کی تو انہیں آواز دی جائے گی جب تم دنیا میں کفر پہ اصرار کرتے تھے اور ایمان نہ لاتے تھے تو اللہ کو تمہارے وجودوں سے اس سے زیادہ نفرت تھی جتنی خود سے آج تم کو ہے۔ تب پکار کر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار اب ہم جان گئے کہ تو نے ہمیں دو بار موت دی ایک بار تو مادہ کی صورت میں تھے پھر دنیا سے آخرت کے سفر پر موت کے راستے سے چلے اور دو بار زندگی بھی ایک بار دنیا میں دنیا میں حیات بخشی اور پیدا فرمایا اور پھر آخرت میں اب ہمیں تیری قدرت کاملہ کا پورا یقین ھاصل ہوگیا تو کیا اب اس جہنم کے عاب سے نکلنے کی کوئی سبیل ہے یا ہمارا آج کا اقرار کسی کام آسکتا ہے۔ ارشاد ہوگا ہرگز نہیں بلکہ جب اللہ کی توحید کی طرف دعوت دی جاتی تو تم کفر کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک ٹھہرایا جاتا تو تم بخوشی قبول کرلیتے تھے اور یہ اس کی عظمت کے اعتبار سے بہت بڑا جرم تھا اس کی ذات بہت بلند اور بہت عظمت والی ہے اب اس جرم کی سزا کا حکم بھی اسی ذات کا ہے لہذا ہمیشہ جہنم میں رہو وہی عظیم ذات ہے جو بندوں پر اپنی عظمت ویکتائی کی دلیلیں ظاہر فرماتا ہے اور وہی ہے جو سب کے لیے رزق کا اہتمام فرماتا ہے کہ آسمانوں اور بلندیوں سے بارش برسا کرکے بہت باریک نظام جاری کردیا ہے کہ ساری مخلوق کیلئے رزق پیدا فرماتا ہے مگر ان باتوں سے دلیل وہی حاصل کرتا ہے جس کے دل میں اللہ کی عظمت کا احساس بیدار ہو کہ یہی انابت الی اللہ عقل سلیم عطا کرتی ہے۔ اور اے مخاطب کفار خواہ کتنے ہی بگڑیں اور انہیں یہ بات کتنی بھی ناگوار گزرے مگر تم ہمیشہ پورے خلوص کے ساتھ اللہ واحد ہی کی عبادت کرو کہ وہی ذات سب سے بلند بھی ہے اور بلند درجات عطا کرنے والی بھی وہ مالک ہے عرش عظیم کا اور اپنی پسند سے اپنے جس بندے پر چاہتا ہے وحی نازل فرماتا ہے یعنی لوگوں کی رائے کا محتاج نہیں اپنے نبی خود مقرر فرمائے ہیں کہ لوگوں کو اس وقت سے خبردار کریں جب انہیں اللہ کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے وہ دن جب سب اللہ کے ربرو کھڑے ہوں گے وہ اللہ وہ عظیم ذات جس سے کسی کا کوئی راز چھپا نہ ہوگا سب کچھ جانتا ہوگا جو اعلان فرمائے گا کہ آج بتاؤ حکومت و حکمرانی کس ذات کی ہے تو سب کہیں گے اللہ ہی کو سزاوار ہے جس کا کوئی ثانی و ہمسر نہیں اور جو بہت زبردست ہے۔ اس روز ہر ایک کو اسکے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہوگی۔ نہ تاخیر کی جائے گی کہ اللہ بہت تیزی سے حساب لینے والا ہے گویا انصاف بروقت کیا جانا چاہیے کہ انصاف میں تاخیر کرنا خود بہت بڑی ناانصافی ہے۔ انہیں اس آنے والے سخت دن سے بروقت مطلع فرمائیے کہ جب شدت خوف اور ہیبت سے لوگوں کے دل گلے میں آن اٹکیں گے اور اپنی حالت پر قابو پانے کی کوشش میں لگے ہوں گے مگر ظلم کرنے والوں یعنی کفار کا اس روز کوئی دوست نہ ہوگا نہ کوئی ایسا سفارشی تلاش کرسکیں گے جس کی بات مان لی جائے۔ وہ ایسا باریک بین ہے کہ اگر کسی نے غلط نگاہ بھی ڈالی ہوگی تو یہ آنکھ کی خیانت بھی اس کے علم میں ہوگی اور دلوں کے چھپے بھیدوں سے بھی واقف ہوگا۔ اور اللہ ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور کفار نے جن کو اس کا شریک مان رکھا ہے وہ کچھ نہ کرپائیں گے نہ ان کی کوئی حیثیت ہوگی کہ یقینا صرف اللہ ایسی ذات ہے جو سب کچھ سنتا ہے اور سب کچھ دیکھتا بھی ہے یعنی ہر شے اس کے علم میں ہے۔
Ayahs 40:21–27

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ جو (کافر) ان سے پہلے گزرے ان کا کیا انجام ہوا وہ زور اور زمین میں نشانیاں (عمارتیں) بنانے کے لحاظ سے ان سے کہیں زیادہ تھے تو اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا اور ان کو اللہ (کے عذاب) سے بچانے والا کوئی نہ تھا

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر واضح دلیلیں لے کر آتے رہے تو یہ کفر کرتے تھے سو اللہ نے ان کو پکڑ لیا بیشک وہ بڑی قوت والے ، سخت عذاب دینے والے ہیں

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور روشن دلیل دے کر بھیجا

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا یہ تو جھوٹا جادوگر ہے

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو (مذکورہ لوگ) کہنے جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دو ۔ اور کافروں کی تدبیر محض بےاثر رہی

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور فرعون کہنے لگا مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردوں اور اس کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کو (مدد کے لئے) پکارے مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو نہ بدل دے یا ملک میں فساد پیدا (نہ) کردے

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا بیشک میں ہر تکبر کرنے والے سے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں

رکوع نمبر 3: آیات 21 تا 27 اسرار و معارف : یہ لوگ تو روئے زمین پر سفر کرنے والے ہیں انہوں نے یقینا پہلی اقوام کے آثار دیکھے ہوں گے جو یہ بتا رہے ہیں کہ ان کا انجام کیا ہوا جنہوں نے ان سے پہلے کفر کی راہ اختیار کی تھی وہ کس طرح تباہ ہوئے حالانکہ وہ ان لوگوں کی نسبت بہت زیادہ طاقتور تھے یہ بات ان کے چھوڑے ہوئے قلعوں اور آثار سے بھی ظاہر ہے مگر ان کی قوت و شوکت کسی کام نہ آئی اللہ کے عذاب نے انہیں ان کے گناہوں کے سبب آپکڑا تو انہیں کوئی ایسا آسرا نہ مل سکا جو ان سے دوستی کا دم بھرتا اور انہیں تباہی سے بچا لیتا ان پر بھی عذاب اسی وجہ سے آئے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول اللہ کی طرف سے دلائل لے کر مبعوث ہوئے مگر انہوں نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا چناچہ اللہ نے عذاب میں گرفتار کرلیے کہ اللہ بہت طاقت کا مالک اور سخت ترین عذاب دینے والا ہے پھر کسی کی طاقت اس کے عذاب کو روک نہیں سکتی اس کی مثال موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ بھی ہے کہ ہم نے انہیں واضح معجزات اور دلائل دے کر مبعوث فرمایا۔ فرعون ، ھامان اور قارون وغیرہ کی طرف یعنی ان کی قوم کے پاس مگر ان کا جواب بھی یہی تھا کہ معجزات دیکھ کر کہتے یہ جادو ہے اور توحید کے دلائل اور دعوی نبوت کے متعلق کہتے سب جھوٹ ہے ہم نے ان کی طرح حق اور صحیح بات اور سچا نبی بھیجا جبکہ ان کا حال یہ تھا کہ نجومیوں سے نبی کی پیشگوئی سن کر حکم دے دیا کہ آئندہ بنی اسرائیل کا پیدا ہونے والا ہر بچہ قتل کردیا جائے اور صرف بیٹیاں زندہ رکھی جائیں۔ مگر ان کی یہ چال بری طرح ناکام ہوئی اللہ کا رسول پیدا ہوا اور اللہ نے فرعون ہی سے اس کی پرورش کی خدمت لی۔ پھر جب انہوں نے اللہ کا پیغام پہنچایا تو فرعون بھڑک اٹھا کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو جان سے ماردوں گا پھر دیکھتا ہون اس کا رب اسے کیسے بچا سکتا ہے اس لیے کہ اس کی باتوں سے خطرہ ہے کہ تمہیں تمہارے دین سے تبدیل نہ کردے نیز یہ تو ملک میں فساد کھڑا کردے گا حالانکہ فساد تو کفر اور برائی میں تھا جس کا ہر انداز ظلم سے پر ہوتا ہے جبکہ دعوت ایمان ہی قیام امن کی درست اور اصل بنیاد ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جوابا فرمایا میں اس پروردگار کی پناہ چاہتا ہوں جو میرا بھی ہے اور تمہارا بھی وہی ہے ہر تکبر کرنے والے اور آخرت کے دن پر یقین نہ رکھنے والے کے مقابلے میں یعنی جب میں اس کی پناہ میں ہوں تو تم بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہو لہذا وہ نہ چاہے تو کچھ نہیں کرسکتے۔
Ayahs 40:28–37

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک ایمان دار شخص نے جو اپنا ایمان پوشیدہ رکھتا تھا کہا ، تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے میرا پروردگار اللہ ہے حالانکہ وہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے (اس دعویٰ پر) دلیلیں لے کر آیا ہے اور اگر (بالفرض) وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہوا تو کوئی سا (عذاب) جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر واقع ہو کر رہے گا۔ بیشک اللہ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتے جو حد سے گزرنے والا جھوٹ بولنے والا ہو

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے میری قوم ! آج تمہاری بادشاہت ہے اس سرزمین میں تم حاکم ہو ، سو اللہ کے عذاب میں ہماری کون مدد کرے گا اگر (اس کے قتل سے) وہ ہم پر آپڑا ؟ فرعون نے کہا میں تو تم کو وہی رائے دوں گا جو خود سمجھ رہا ہوں اور میں تم کو وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

اور اس ایمان والے شخص نے کہا اے میری قوم ! بیشک میں تمہاری نسبت ڈرتا ہوں (ہو سکتا ہے) کہ تم پر دیگر امتوں کے دن کی طرح کا (عذاب) آجائے

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

جیساقوم نوح (علیہ السلام) اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد والوں کا حال ہوا تھا اور اللہ بندوں پر کسی طرح کی زیادتی نہیں کرنا چاہتے

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! بیشک مجھے تمہاری نسبت اس دن (قیامت) کا خوف ہے جس میں بہت ندائیں ہوں گی

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جس دن تم پشت پھیر کر (دوزخ کی طرف) پلٹو گے اس دن تم کو اللہ (کے عذاب) سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ اور جس کو اللہ گمراہ کردیں تو اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اور بیشک اس سے پہلے تمہارے پاس یوسف (علیہ السلام) دلائل لے کر آچکے ہیں سو تم ان امور میں بھی برابر شک ہی میں رہے جو وہ تمہارے پاس لے کر آئے تھے حتیٰ کہ جب ان کی وفات ہوگئی تو تم کہنے لگے بس اب ان کے بعد اللہ کسی پیغمبر کو ہرگز نہ بھجیں گے۔ اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ کردیتے ہیں جو حد سے نکل جانے والا شک کرنے والا ہو

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

وہ جو اللہ کی آیتوں میں بغیر کسی دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں ، جو ان کے پاس آئی ہوں۔ اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک (یہ جھگڑا) سخت ناپسندیدہ ہے۔ اس طرح اللہ ہر تکبر کرنے والے سرکش کے دل پر مہر لگا دیتے ہیں

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا اے ہامان ! میرے لئے ایک بلند عمارت بنواؤ شاید میں راستوں تک جا پہنچوں

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

(یعنی) آسمانوں کے راستوں پر تو موسیٰ (علیہ السلام) کے معبود کو جھانک کر دیکھ لوں اور بیشک میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔ اور اسی طرح فرعون کو اس کے برے اعمال اچھے معلوم ہوتے تھے اور وہ راستے سے روک دیا گیا تھا۔ اور فرعون کی تدبیر غارت گئی

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 28 تا 37: اسرار و معارف : چناچہ قوم فرعون کا بندہ جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکا تھا مگر قوم پر ظاہر نہ ہونے دیا تھا بول اٹھا کہ تم لوگ اس بات پر ایک انسان کو قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ اللہ کو اپنا پروردگار مانتا ہے حالانکہ وہ اللہ ہی کو تمہارا پروردگار بھی ثابت کرتا ہے اور اسی کی طرف سے واضح دلائل کے ساتھ تمہارے پاس آیا ہے اگر بالفرض یہ جھوٹ کہتا ہے تو معمولی جرم نہیں کہ اللہ پر جھوٹ بولا جائے لہذا اسے اس کی سز ابھگتنا پڑے گی یعنی خود اللہ کی طرف سے سز اپائیگا تم کیوں تکلیف کرتے ہو لیکن یہ بھی دیکھو کہ یہ جو یہ کہ رہا ہے سچ ہوا تو تمہارا کیا بنے گا اگر تم انکار کرتے رہے تو جن عذابوں سے یہ ڈرا رہا ہے وہ تم پر آپڑیں گے یقیناً اللہ حد سے گزرنے والوں اور جھوٹ بولنے والوں کو ہدایت نصیب نہیں فرماتا کہ اگر معاذ اللہ یہ جھوٹے ہیں تو کامیاب نہ ہوں گے لیکن اگر یہ سچے ہیں تو تم حد سے گزر رہے ہو اور اپنے دین میں جھوٹے ہو لہذا تم انہیں قتل کر بھی نہ سکوگے کہ ایسے لوگ اپنے مقصد کو نہیں پایا کرتے اور کہا کہ آج تو ہماری قوم کے پاس سلطنت اور حکومت ہے اور دنیا پہ ہماری دھاک بیٹھی ہوئی ہے لیکن اگر اللہ کا عذاب آ گیا تو یہ سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گا اور کوئی بھی اس کے مقابلے میں ہماری مدد تک نہ کرسکے گا تو فرعون نے زچ ہو کر کہا کہ میں تو تمہیں وہی کہتا ہوں جو بہتر سمجھتا ہوں اور تمہیں تمہاری بہتری کی راہ دکھا رہا ہوں اس آدمی نے کہا جو ایمان لاچکا تھا کہ جسے تم بہتری کا راستہ کہہ رہے ہو یہ ان پہلی قوموں کا راستہ ہے جو عذاب الہی کا شکار ہوچکیں مجھے ڈر ہے تم لوگوں کے ساتھ بھی وہی نہ ہو جیسے نوح (علیہ السلام) کی قوم کے ساتھ ہوا یا عاد وثمود اور ان کے بعد کی کوئی اقوام کا انجام ہوا کہ اللہ تو اپنی مخلوق پر کبھی زیادتی کرنا پسند نہیں کرتے یہ قوموں کے تمہاری طرح کے فیصلوں کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ لوگوں مجھے تمہارے بارے روز حشر سے بہت ڈر لگ رہا ہے جب ہر کوئی چیخ و پکار کر رہا ہوگا اور پھر کوشش تو کروگے کہ یہاں سے بھاگ کر بچ جائیں لیکن اس روز کوئی تدبیر کوئی حیلہ اللہ کے عذاب سے بچا نہ سکے گا مگر یہ باتیں آج تمہاری سمجھ میں نہیں آتیں کہ جس دل میں اللہ سے کف ربس رہا ہو اللہ اسے گمراہ کردیتا ہے اور پھر کوئی اسے سمجھا بھی نہیں سکتا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں پہلے تمہار پاس یوسف (علیہ السلام) آئے تھے یعنی اسی قوم کے پاس ہمارے ہی اجداد کے پاس مگر ان کی باتوں پہ بھی تمہیں یقین نصیب نہ ہوا اور تم شک ہی میں گرفتار رہے خلوص دل سے نہ مانا۔ جب ان کا وصال ہوگیا تو تم نے کہا چلو یہ بھی تمام ہوا ہم نے جب ایک کو قبول نہیں کیا تو بھلا اللہ کسی دوسرے کو کیوں بھیجنے لگا لہذا اب کوئی نبی نہ آئے گا یہ گمراہ کن خیالات بےحیا و بےباک اور شکی لوگوں کو ہی آتے ہیں کہ اللہ انہیں اس میں مبتلا کردیتا ہے ایسے لوگ جو بغیر کسی دلیل کے احکام الہی اور پیغام رسالت میں جھگڑا کرتے ہیں اور قبول نہیں کرتے ان کا یہ مومنین کو بھی بہت برا لگتا ہے انہیں بھی دکھ ہوتا ہے اور اللہ کے نزدیک بھی بہت بڑا جرم ہے کہ ایک تو وہ جرم ہے ہی اوپر سے ایمانداروں اور اہل اللہ کو ایذا دینا اس کو دوچند کردیتا ہے جس کی بڑی سخت سزا ہے کہ اللہ ایسے متکبر اور سرکش لوگوں کے دلوں پہ مہر کردیتا ہے اور انہیں کبھی ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ فرعون لاجواب سا ہوگیا تو کہنے لگا ہامان ایک عمارت بنواؤ جو آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگے کہ شاید اوپر جا کر آسمانوں میں داخلے کا کوئی راستہ مل جائے اور وہاں جا کر دیکھوں تو سہی کہ موسیٰ کا معبود کیسا ہے۔ میں تو ان کی بات کو سچ گمان ہی نہیں کرتا لیکن اگر کوئی ہے تو دیکھ لیتے ہیں مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ فرعون نے واقعی تعمیر شروع کرائی جو بلندیوں تک پہنچتے پہنچتے خود ہی زمین بوس ہوگئی مگر یہ سب الٹی تدبیریں فرعون کو بہت اچھی دکھائی دیتی تھیں کہ اللہ ناراض ہوں تو برائی بھلی لگنے لگتی ہے اور یہ اللہ کا عذاب ہے کہ پھر ایسا بندہ فرعون کی طرح ہدایت کی راہ نہیں پا سکتا نیز فرعون کی یہ تدبیر بھی ناکام گئی۔