40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 40:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

یہ کتاب اتاری گئی ہے اللہ کی طرف سے جو زبردست ہے سب کچھ جاننے والا ہے

1:۔ ابن الضریس (رح) نے اسحاق بن عبد اللہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر درخت کیلئے پھل ہے اور قرآن کے پھل حم (والی سورتیں) ہیں ایسے باغات میں سے جو سرسبز شاداب گھاس والے ہیں اور قریب قریب ہیں جس کو یہ پسند ہو کہ وہ جنت کے باغوں میں خوب چرے تو اس کو چاہئے کہ حا میم (والی سورتیں) پڑھے اور جو شخص جمعہ کی رات میں سورة دخان پڑھے گا تو وہ صبح اس حال میں کرے گا کہ وہ بخشا ہوا ہوگا۔ اور جو شخص (آیت) الم تنزیل “ السجدہ اور (آیت) ” تبرک الذی بیدہ الملک “ دن میں یا رات میں پڑھے گا تو گویا کہ اس نے لیلۃ القدر کی موافقت کی اور جس نے (آیت ) ” اذا زلزلت الارض زلزالھا “ پڑھی، گویا اس نے چوتھائی قرآن پڑھلیا۔ اور جس نے (آیت) ” قل یایھا الکفرون “ پڑھا گویا اس نے چوتھائی قرآن پڑھ لیا۔ اور جس نے (آیت ) ” قل ھواللہ احد “ پڑھا دس مرتبہ تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک محل جنت میں بنادیں گے حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا پھر تو ہم محلات کی کثرت کریں گے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بہت کثرت والے ہیں اور بہت پاکیزہ ہیں اور جس نے (آیت ) ” قل اعوذ برب الفلق “ اور (آیت ) ” قل اعوذ برب الناس “ پڑھا تو مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں رہتی مگر وہ کہتی ہے اے میرے رب ! اس کو بچالے میرے شر سے اور جس نے ” ام القرآن “ پڑھی (یعنی سورة فاتحہ) گویا اس نے چوتھائی قرآن پڑھ لیا۔ اور جس نے (آیت ) ” الھکم التکاثر “ پڑھی گویا اس نے ایک ہزار آیتیں پڑھیں۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حم ٓ“ اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ 3:۔ عبدالرزاق فی المصنف وابو عبیدہ (رح) وابن سعد (رح) وابن ابی شیبہ (رح) وابو داؤد ترمذی (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ نے مہلب بن ابی صفرہ (رح) سے روایت کیا کہ مجھے اس شخص نے بیان کیا جس نے نبی کریم ﷺ سے سنا اگر تم نے آج کی رات سورة حم پڑھی اور ان کی مدد نہ کی جائے گی۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ والنسائی وحاکم (رح) وابن مردویہ (رح) نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ تم میرے دشمنوں سے کل کو ملو گے تو تمہارا شعار (جس لڑائی میں ایک دوسرے کو پہچانا اور پکارا جاتا ہے) حم ہونا چاہئے تو ان کی مدد نہ کی جائے۔ 5:۔ ابونعیم (رح) نے دلائل میں انس ؓ سے روایت کیا کہ خیبر میں مسلمانوں کو شکت ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے لپ بھر مٹی لی اور اس کو ان کے چہروں پر پھینک دیا۔ اور فرمایا (آیت ) ’ حم لاینصرون “ تو (کافر) قوم شکست کھاگئی اور نہ ہم نے ان پر تیر چلایا اور نہ نیزہ مارا۔ 6:۔ بغوہ و طبرانی (رح) نے شیبہ بن عثمان ؓ سے روایت کیا کہ جب خیبر کا دن تھا تو رسول اللہ ﷺ نے کنکریاں لیں اور ان کے چہروں پر مار رہے تھے اور فرمایا ان کے چہرے بگڑ گئے (آیت ) ” حم لا ینصرون “
Ayah 40:3

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

گناہ کا بخشنے والا ہے اور توبہ قبول کرنے والا ہے سخت سزا دینے والا ہے، قدرت والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی طرف لوٹ کرجانا ہے

شرابی کی توبہ کا قبول ہونا : 7:۔ عبد بن حمید (رح) نے یزید بن اصم (رح) سے روایت کیا کہ ایک شامی آدمی بڑا طاقتور تھا۔ حضرت عمر ؓ نے اس کو گم پایا تو اس کے بارے میں پوچھا تو ان سے کہا گیا کہ وہ شراب پینے میں لگا ہوا ہے۔ عمر ؓ نے اپنے کاتب کو بلایا اور اس سے فرمایا لکھو : عمر بن خطاب کی طرف سے فلاں بن فلاں کی طرف، تم پر سلام ہو، میں تمہارے سامنے اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں (آیت ) ” غافر الذنب وقابل التوب شدید العقاب ذی الطول، لا الہ الا ھو، الیہ المصیر “ (گناہوں کو بخشنے والا اور توبہ کرنے والا سخت عذاب دینے والا بڑی قدرت اور نعمت والا اس کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں اس کے پاس لوٹ کرجانا ہے) پھر آپ نے دعا کی اور جو لوگ ان کے پاس تھا انہوں نے آمین کہی، سب نے اس کے لئے یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس پر نظر رحمت فرمائے اور اس کی توبہ قبول فرمائے جب خط اس کو پہنچا تو وہ خط کو پڑھنے لگا اور کہنے لگا (آیت ) ” غافر الذنب “ اللہ نے مجھ سے بخشش کا وعدہ فرمایا ہے (آیت ) ” وقابل التوب شدید العقاب “ (کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے میری توبہ قبول کرنے کا وعدہ فرمالیا اور اللہ نے مجھ کو اپنے عذاب سے ڈرایا) (آیت ) ” ذی الطول “ (اور بہت زیادہ مال والا ہے) (آیت ) ” الیہ المصیر “ (اس کے پاس لوٹ کر جانا ہے) وہ شخص بار بار ان الفاظ کو اپنے اوپر دہراتا ہے۔ یہاں تک کہ رونے لگا پھر توبہ کی اور بہترین توبہ کی جب عمر ؓ کو اس کا معاملہ پہنچا تو فرمایا تم لوگ بھی ایسا ہی کیا کرو جب تم اپنی حالت کو کسی لغزش میں دیکھو تو اسے درست کرلو اسے موقع دو اور اللہ سے اس کے لئے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے اور اس کے خلاف شیطان کی مدد کرنے والے نہ بن جاؤ۔ 8:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک نوجوان مدینہ منورہ میں عبادت کرنے والا تھا اور عمر ؓ اس سے محبت فرماتے تھے وہ مصر چلا گیا اور بگڑ گیا اور کسی برے کام سے نہیں رکتا تھا اس کے بعض گھر والے عمر کے پاس آئے ان سے حال پوچھا یہاں تک کہ اس جوان کے بارے میں بھی پوچھا اس آدمی نے مجھ سے اس کے بارے میں نہ پوچھو عمر ؓ نے فرمایا کیوں نہیں اس نے کہا وہ بگڑ گیا اور تقوی کا لباس اتار دیا عمر نجے اس کی طرف خط لکھا، عمر کی طرف سے فلاں کی طرف (آیت) حم ٓ (1) تنزیل الکتب من اللہ العزیز العلیم (2) ” غافر الذنب وقابل التوب شدید العقاب ذی الطول، لا الہ الا ھو، الیہ المصیر “ وہ نوجوان اس کو پڑھتا رہا اور خیر کی طرف لوٹ آیا۔ 9:۔ ابوالشیخ نے العظمہ میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” غافر الذنب وقابل التوب “ میں ” غافر الذنب “ سے مراد وہ شخص ہے جس نے توبہ نہیں کی۔ (آیت ) ” قابل التوب “ یعنی جس نے توبہ کی اس کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ 10:۔ ابن ابی حاتم وابن المنذر (رح) نے ابواسحاق سبیعی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی عمر بن خطاب کے پاس آیا اور کہا اے امیر المؤمنین اگر میں نے قتل کیا ہو کیا میرے لئے توبہ ہے تو انہوں نے اس پر (یہ آیت) پڑھی حم ٓ (1) تنزیل الکتب من اللہ العزیز العلیم (2) غافر الذنب وقابل التوب “ اور فرمایا تو (نیک) عمل کر اور مایوس نہ ہو۔ 11:۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی (رح) الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ذی الطول “ سے وسعت والا اور غناء والا مراد ہے۔ 12:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ذی الطول “ سے مراد ہے غناء والا ، 13:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ذی الطول “ سے مراد ہے نعمتوں والا۔ 14:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ذی الطول “ سے مراد ہے احسان والا۔ 15:۔ طبرانی (رح) فی الاوسط وابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” غافر الذنب وقابل التوب “ میں (آیت ) ” غافر الذنب “ اس کیلئے ” لا الہ الا اللہ “ کہتا ہے (آیت ) ” وقابل التوب “ اس کے لئے ہے جو (آیت ) ” لا الہ الا اللہ “ کہتا ہے “ (آیت) ’‘ شدید العقاب “ اس کے لئے ” لا الہ الا اللہ “ نہیں کہتا (آیت ) ” ذی الطول “ غناوالا ہے ” لا الہ الا ھو “ کفار قریش اللہ کو ایک نہیں مانتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے اکیلے ہونے کا اظہار فرمایا (آیت ) ” الیہ المصیر “ یعنی جو شخص کہتا ہے ” لا الہ الا ھو “ اس کا لوٹنا بھی اسی طرف ہے وہ اس کو جنت میں داخل کرے گا اور جو ” لا الہ الا ھو “ نہیں کہتا اس کا ٹھکانہ بھی اسی طرف ہے اور وہ اس کو جہنم میں داخل کرے گا۔ 16:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ثابت بنانی (رح) سے روایت کیا کہ میں مصعب بن زبیر ؓ سے ساتھ تھا کوفہ کے مضافات میں ایک باغ میں داخل ہوا تاکہ دو رکعت نماز پڑھوں میں نے ” حم لا مؤمن “ شروع کی یہاں تک کہ ” لا الہ الا ھو، الیہ المصیر “ تک پہنچا اچانک میرے پیچھے ایک آدمی خچر پر سوار تھا جس پر یمن کا بنا ہوا سوال تھا اس نے کہا جب تو کہے (آیت ) ” وقابل التوب “ تو یوں کہہ : اے توبہ قبول کرنے والے ! میری توبہ قبول کرلے، اور جب تو کہے (آیت ) ” شدید العقاب “ تو کہہ : اے سخت عذاب والے ! مجھے عذاب نہ دے۔ اور ابن ابی شیبہ (رح) کے الفاظ یوں ہے : مجھ سے درگزر فرما، اور جب تو کہے (آیت ) ” ذی الطول “ تو کہہ : اے خیر والے ! مجھ پر بھلائی کر۔ روای نے کہا میں نے ان کلمات کو کہا پھر میں مڑا تو کسی کو نہ دیکھا میں دروازہ کی طرف نکلا۔ میں نے کہا تمہارے پاس سے کوئی آدمی گزرا ہے جس نے یمنی سوتی لباس پہنا ہوا تھا لوگوں نے کہا ہم نے کسی کو نہیں دیکھا اور وہ کہتے تھے کہ وہ الیاس (علیہ السلام) تھے۔
Ayahs 40:4–6

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

اللہ کی آیات میں جھگڑ انہیں کرتے مگر وہی لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا۔ سو آپ کو دھوکہ میں نہ ڈالے ان کا شہروں میں چلنا پھرنا

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور ان کے بعد دوسری جماعتوں نے جھٹلایا اور ہر امت نے ارادہ کیا کہ اپنے رسول کو پکڑلیں اور باطل کے ذریعہ جھگڑا کریں تاکہ اس کے ذریعہ حق کو باطل کردیں، سو میں نے ان کو پکڑ لیا، سوکیسا تھا میرا عذاب

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح آپ کے رب کا قول کافروں پر ثابت ہوچکا کہ وہ دوزخ والے ہیں

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابوبالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مایجادل فی ایت اللہ الا الذین کفروا “ اللہ کی آیات میں جھگڑا نہیں کرتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں) اور (یہ آیت حرث بن قیس سلمی کے بارے میں نازل ہوئی۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابو جہیم ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے دو آدمیوں نے ایک آیت کے بارے میں جھگڑا کیا ان میں سے ایک نے کہا میں نے اسے رسول اللہ ﷺ کی زبان سے سیکھا ہے۔ اور دوسرے نے کہا میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کی زبان سے لیا ہے دونوں نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور اس بات کا ذکر کیا آپ نے فرمایا قرآن سات نعمتوں میں نازل ہوا اور اس میں جھگڑا کرنے سے بچو کیونکہ اس میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔ 6:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلا یغررک تقلبھم فی البلاد “ (ان کا شہروں میں چلنا پھرنا آپ کو دھوکہ میں نہ ڈالے) یعنی ان کا آنا اور جانا اور ان کا سفروں میں پھرنا (آیت ) ” والاحزاب من بعدھم “ یعنی نوح (علیہ السلام) کی قوم عاد اور ثمود کی قوموں کے بعد کہ وہ کافر جماعتیں تھیں (آیت ) ” وھمت کل امۃ برسولھم “ (اور ہر امت نے اپنے پیغمبر کا ارادہ کیا) تاکہ ان کو پکڑیں اور ان کو قتل کریں (آیت ) ” وکذلک حقت کلمت ربک علی الذین کفروا “ (اسی طرح ثابت ہوئی تیرے رب کی بات ان لوگوں پر جو کافر ہیں) یعنی ان پر عذاب ثابت ہوا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلا یغررک تقلبھم فی البلاد “ یعنی ان کا فساد کرنا اس میں اور ان کا کفر کرنا (آیت ) ” فاخذتھم فکیف کان عقاب “ (پھر ان کو پکڑا سو ہمارا عذاب کیسے ہوا) فرمایا اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب والے ہیں۔ اما قولہ تعالیٰ : وجدلوا بالباطل لیدحضوا بہ الحق : 8:۔ طبرانی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے باطل کی مدد کی تاکہ اپنے باطل کے ساتھ حق کو باطل کردے تو اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا ذمہ بری ہوگیا۔
Ayahs 40:7–9

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

جو فرشتے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو فرشتے ان کے گرداگرد ہیں وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے استغفار کرتے ہیں جو ایمان لائے اے ہمارے رب آپ کی رحمت اور آپ کا علم ہر چیز کو شامل ہے سو ان لوگوں کو بخش دیجئے جنہوں نے توبہ کی اور آپ کے راستے کا اتباع کیا اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیجئے

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اے ہمارے رب اور انہیں ہمیشہ رہنے کی بہشتوں میں داخل فرمائیے جن کا آپ نے ان سے وعدہ فرمایا ہے اور ان کے آباء اور ازواج ذریتوں میں جو صالح ہوئے ان کو بھی داخل فرمائیے بلاشبہ آپ زبردست ہیں، حکمت والے ہیں

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور ان کو تکلیفوں سے بچائیے اور اس دن جسے آپ نے تکلیفوں سے بچا لیا سو آپ نے اس پر رحم فرما دیا اور یہ بڑی کامیابی ہے

فرشتے اہل ایمان کیلئے توبہ کرتے ہیں 1:۔ ابویعلی وابن مردویہ (رح) نے (صحیح سند کے ساتھ) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے اجازت دی گئی کہ میں اس فرشتے کے بارے میں بیان کروں کہ اس کی ٹانگیں ساتویں زمین سے بھی نکل گئی ہیں۔ (یعنی نیچے چلی گئی ہیں اور عرش اس کے کندھوں پر ہے اور وہ کہتا ہے تیری ذات پاک ہے تو جہاں ہے اور تو کہاں ہوگا۔ 2:۔ ابوداؤد ابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ (رح) نے العظمہ وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں صحیح سند کے ساتھ جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے اجازت دی گئی کہ میں بیان کروں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایسے فرشتے کے بارے میں کہ اس کی کان کی لو سے لے کر اس کے کندھے کے درمیان تک سات سو سال کا فاصلہ ہے۔ 3:۔ ابن المنذر وابو الشیخ (رح) نے حبان بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ عرش کے اٹھانے والے آٹھ (فرشتے) ہیں ان کے قدم ساتویں زمین میں گڑے ہوئے ہیں اور ان کے سر ساتویں آسمان سے تجاوزکرگئے ہیں اور کی لمبائی کے برابر ہیں جن پر عرش ہے۔ 4:۔ ابوالشیخ (رح) نے ذاذان (رح) سے روایت کیا کہ عرش کے اٹھانے والے (فرشتے ایسے ہیں) کہ ان کے پاؤں زمین کی سب سے نچلی سطح پر گڑے ہوئے ہیں وہ اپنی نظروں کو اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے نور کی شعاع کی وجہ سے۔ 5:۔ ابن المنذر وابوالشیخ (رح) و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ہارون بن رباب (رح) سے روایت کیا کہ عرش کے اٹھانے والے آٹھ فرشتے ہیں ایک دوسرے کو دھیمی آواز کے ساتھ جواب دیتے ہیں ان میں سے چار فرشتے کہتے ہیں ” سبحنک وبحمدک علی عفوک بعد قدرتک “ (یعنی تیری ذات پاک ہے اور تیری حمد کے ساتھ تیرے درگزر کرنے پر تیری قدرت کے بعد) اور ان میں سے (دوسرے) چار فرشتے کہتے ہیں ” سبحنک وبحمدک علی حکمک بعد علمک “ (یعنی تیری ذات پاک ہے اور تیری حمد کے ساتھ تیرے حلم پر تیرے علم کے بعد) 6:۔ ابوالشیخ (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابوقبیل (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے عبد اللہ بن عمر ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عرش کے اٹھانے والے آٹھ فرشتے ہیں ان میں سے ایک کی آنکھ کے گوشے سے دونوں آنکھوں کے دوسرے حصے تک کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ 7:۔ ابوالشیخ نے وھب (رح) سے روایت کیا کہ عرش کے اٹھانے والے جو اس کو اٹھا رہے ہیں ان میں سے ایک فرشتہ کے چار چہرے ہیں اور چار پر ہیں دو پر اس کے چہرے پر ہیں وہ عرش کی طرف دیکھتا ہے۔ تو بےہوش ہوجائے گا اور دو پروں کے ساتھ وہ اڑتا ہے ان کے قدم گیلی مٹی میں ہیں اور عرش ان کے کندھوں پر ہے ان میں سے ہر ایک کا شہر بیل کا ایک چہرہ شیر کا اور ایک چہرہ انسان کا اور ایک چہرہ گدھ کا ہے، اس کے سواری کی کوئی گفتگو نہیں ” قدوس اللہ القوی “ (یعنی بہت پاک ہے اللہ کی ذات جو بہت طاقتور ہے اس کی عظمت نے زمین و آسمان کو بھر دیا ہے ) ۔ عرش الہی کو اٹھانے والے فرشتے : 8:۔ ابوالشیخ (رح) نے وھب (رح) سے روایت کیا کہ عرش کے اٹھانے والے چار ہیں جب قیامت کا دن ہوگا تو چار دوسرے فرشتوں کے ساتھ ان کی مدد کی جائے گی ان میں سے ایک فرشتہ انسان کی شکل میں ہے جو آدم کی اولاد کے لئے ان کے رزق کی سفارش کرتا ہے اور ان میں سے ایک فرشتہ گدھ کی شکل میں ہے جو پرندوں کے لئے ان کے رزق میں سفارش کرتا ہے اور ان میں سے ایک فرشتہ بیل کی شکل میں ہے۔ جو جانوروں کیلئے ان کے رزق سے سفارش کرتا ہے اور ان میں سے ایک فرشتہ شیر کی شکل میں جو درندوں کیلئے ان کے رزق کی سفارش کرتا ہے، جب وہ فرشتہ عرش کو اٹھاتے ہیں تو وہ اللہ کی عظمت کی وجہ سے اپنے گھٹنوں پر گرپڑتے ہیں تو ان کو ” لاحول ولا قوۃ الا باللہ “ کی تلقین کی جاتی ہے تو وہ اپنے پاؤں پر سیدھے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ 9:۔ ابوالشیخ (رح) نے مکحول ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عرش کے اٹھانے میں چار فرشتے ہیں ایک فرشتہ صورتوں کے سردار کی صورت پر ہے اور وہ آدم کا بیٹا ہے اور دوسرا فرشتہ درندوں کے سردار کی صورت پر ہے اور وہ شیر ہے اور تیسرا فرشتہ جانوروں کے سردار کی صورت پر ہے اور وہ بیل ہے اور وہ برابر غصہ میں ہے یوم عمل (یعنی دنیا کی تخلیق) سے اس گھڑی تک اور ایک فرشتہ پرندوں کی صورت پر ہے اور وہ گدھ ہے۔ 10:۔ ابن مردویہ (رح) نے ام سعد ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عرش موتیوں کے بنے ہوئے ایک فرشتہ کے اوپر ہے مرغے کی صورت میں اس کی ٹانگیں زمین کی تہہ میں ہیں اور اس کے پر مشرق میں ہیں اور اس کی گردن عرش کے نیچے ہے۔ 11:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ عرش کے اٹھانے والے سب کے سب مخلوق کی صورتوں پر ہیں پوچھا گیا : اے عکرمہ ! وہ صورتیں کیا ہیں ؟ تو آپ نے اپنا رخسار تھوڑا سا جھکایا۔ 12:۔ عبدبن حمید (رح) نے بسرہ ؓ سے روایت کیا کہ فرشتے طاقت نہیں رکھتے جو عرش کو اٹھانے والے ہیں کہ وہ اپنے اوپر سے نور کی شعاع کو دیکھیں۔ 13:۔ عبد بن حمید (رح) وابن مردویہ اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عرش کے اٹھانے والے (ایسے فرشتے ہیں کہ ان میں سے ایک کے کندھے سے لے کر اس کے قدموں کے نیچے تک پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اور ذکر کیا گیا کہ اس فرشتے کے قدم مشرق اور مغرب کے درمیان ہیں۔ 14:۔ عبدبن حمید (رح) نے میسرہ ؓ سے روایت کیا کہ عرش کے اٹھانے والے (ایسے ہیں) کہ ان کے پاؤں نچلی زمین میں ہیں اور ان کے سرعرش سے نکلے ہوئے ہیں اور وہ نگاہ کو پست کئے ہوئے ہیں اپنی نگاہوں کو اوپر نہیں اٹھاتے وہ ساتویں آسمان سے بھی زیادہ خوف والے ہیں اور ساتویں آسمان والے ساتھ والے (چھٹے) آسمان والوں سے زیادہ خوف رکھتے ہیں اور ساتھ والے آسمان والے نیچے والے آسمانوں سے زیادہ خوف رکھتے ہیں۔ 15:۔ بیہقی (رح) نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ فرشتے جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں وہ فارسی زبان میں بات کرتے ہیں۔ 16:۔ ابن ابی شیبہ نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ فرشتے جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں وہ فارسی زبان میں بات کرتے ہیں۔ 17:۔ ابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے اور پوچھا تمہیں کس چیز نے جمع کیا انہوں نے عرض کیا کہ ہم اپنے رب کے ذکر کرنے اور اس کی عظمت میں غور وفکر کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں آپ نے فرمایا تم ہرگز اس کی عظمت میں غور وفکر کو نہیں پاسکتے کیا میں تم کو تمہارے رب کی عظمت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ (ضرور بتائیے) فرمایا کہ عرش کے اٹھانے والوں میں سے ایک فرشتہ جس کو اسرافیل کہا جاتا ہے عرش کے گوشوں میں سے ایک گوشہ اس کے کاندھے پر ہے اس کے قدم نچلی ساتویں زمین میں گڑے ہوئے ہیں اور اس کا سر ساتویں آسمان سے باہر نکل گیا ہے۔ تمہارے رب تعالیٰ کی مخلوق میں سے اس طرح کی مخلوق ہے۔ 18:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ بعض قرأت میں یوں ہے (آیت ) ” الذین یحملون العرش ومن حولہ یسبحون بحمدربھم “۔ 19:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویستغفرون للذین امنوا “ (اور وہ استغفار کرتے) ہیں ان لوگوں کیلئے جو ایمان لائے) مطرف بن عبداللہ بن شجر نے فرمایا ہم نے اللہ کے بندوں میں سے اس کے بندے فرشتوں کو زیادہ خیرخواہی کرنے والا پایا اور ہم نے اللہ کے بندوں میں سے اس کے بندے شیاطین کو زیادہ دھوکہ دینے والا پایا۔ 20:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ بعض قرأت میں یوں ہے (آیت ) ” الذین یحملون العرش “ (وہ فرشتے جو عرش کو اٹھاتے ہیں) اللہ تعالیٰ کے قول میں (وہ کہتے ہیں) (آیت ) ” فاغفرللذین تابوا واتبعوا سبیلک “ (ان لوگوں کو بخش دیجئے نے شرک سے توبہ کی اور تیرے راستے کی پیروی کی) یعنی تیری اطاعت کی (آیت ) ” وادخلھم جنت عدن “ (اور ان کو عدن کے باغات میں داخل کیجئے) عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا اے کعب ! عدن کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ جنت میں سونے کے محلات ہیں، ان میں انبیاء، صدیقین اور عادل بادشاہ رہیں گے (آیت ) ” وقھم السیات “ (اور قیامت کے دن کو ہر طرح کی تکلیفوں سے بچا) اس میں (آیت ) ” السیات “ سے مراد عذاب ہے۔
Ayah 40:10

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

بلاشبہ جنہوں نے کفر کیا ان کو پکارا جائے گا تو یہ بات واقعی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جو تم سے بغض ہے وہ اس بغض سے بہت بڑا ہے جو تمہیں خود اپنی جانوں سے ہے تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے تو کفر اختیار کرتے تھے

1:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان الذین کفروا ینادون لمقت اللہ اکبر من مقتکم انفسکم “ (جو لوگ کافر ہوتے ہیں انکو پکار اجائے گا (اور کہا جائے گا) جیسی تم کو (اس وقت) اپنے سے نفرت ہے اس سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کو (اس وقت دنیا میں) تم سے نفرت تھی جب قیامت کا دن ہوگا تو کافر اس چیز کو دیکھیں گے کہ جس کی طرف وہ گئے تو وہ اپنے آپ سے نفرت کریں گے ان کو کہا جائے گا (آیت ) ’ لمقت اللہ “ (اللہ کی نفرت) خاص طور پر تم سے دنیا میں (زیادہ تھی) جب تم کو ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے (آیت) ” اکبر من مقتکم انفسکم “ (اللہ کی نفرت زیادہ تھی تمہاری اس نفرت سے جو تم کو اب اپنی جانوں سے ہے) آج کے دن۔ جہنمی اپنی انگلیوں کو کاٹیں گے : 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ وہ نفرت کریں گے اپنے آپ سے جب مؤمن جنت میں داخل ہوں گے اور وہ جہنم میں داخل کئے جائیں گے اور وہ نفرت کی وجہ سے اپنی انگلیوں کو کھائیں گے جہنم میں ان کو پکارا جائے گا (آیت ) ” لمقت اللہ “ اللہ کی نفرت خاص کر تم سے دنیا میں تھی۔ جب تم تو کو ایمان کی طرف پکارا جاتا تھا اور تم انکار کرتے تھے (آیت) ” اکبر من مقتکم انفسکم “ (اللہ کی نفرت زیادہ تھی تمہاری اس نفرت سے جو تم کو اپنی جانوں سے ہے) جہنم میں۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لمقت اللہ اکبر من مقتکم انفسکم “ سے مراد ہے کہ اللہ کی نفرت گمراہ لوگوں کے ساتھ جب ان پر ایمان پیش کیا جاتا تھا دنیا میں تو وہ اس کو چھوڑ دیتے تھے اور قبول کرنے سے انکار کردیتے تھے یہ زیادہ بڑی تھی اس نفرت سے جو (آج) انکو اپنی ذات سے نفرت ہے جب وہ عذاب کو دیکھیں گے قیامت کے دن۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے ذرالھمدانی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان الذین کفروا ینادون لمقت اللہ اکبر من مقتکم انفسکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وہ چیز ہے جو ان کو کہی جائے گی قیامت کی دن جب وہ اپنی جانوں سے نفرت کریں گے ان سے کہا جائے گا (آیت) ” لمقت اللہ اکبر من مقتکم انفسکم “ کہ اللہ کی نفرت تمہارے سے بڑھ کر ہے جب قیامت کے دن وہ اللہ کا عذاب دیکھیں گے تو وہ اپنے آپ سے نفرت کریں گے جب ان کو علم ہوگا کہ وہ دوزخ والوں میں سے ہیں۔
Ayahs 40:11–13

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے رب آپ نے ہمیں دو بار موت دی اور دوبارزندگی دی۔ سو ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا تو کیا نکلنے کی راہ ہے

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ جب صرف اللہ کا نام لیا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک بنایا جاتا تھا تو اسے مان لیتے تھے۔ سو فیصلہ اللہ کیلئے ہے جو بلند ہے بڑا ہے

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے رزق اتارتا ہے اور نصیحت حاصل نہیں کرتے مگر وہی لوگ جو رجوع کرتے ہیں

1:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” امتنا اثنتین واحییتنا اثنتین “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وہ مثل ہے جب سورة بقرہ میں ہے (آیت ) ” وکنتم امواتا فاحیاکم، ثم یمیتکم ثم یحییکم “ (البقرہ آیت 28) کہ تم مردہ تھے تم کو زندہ کیا پھر تم کو موت دیں گے پھر زندہ کریں گے) یعنی تم مردہ تھے اپنے باپوں کی پشتوں میں پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو نکالا اور زندہ کردیا پھر ان کو موت عطا کی پھر ان کو زندہ کرے گا موت کے بعد۔ 2:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” امتنا اثنتین واحییتنا اثنتین “ (ہم کو دوبارہ مردہ رکھا اور دوبارہ زندگی دی) سے مراد ہے کہ تم مردہ تھے تمہارے پیدا کرنے سے پہلے تو یہ موت ہے پھر تم کو زندہ کیا تو یہ زندگی ہے پھر تم کو موت دے گا اور تم قبروں کی طرف لوٹ جاؤ گے۔ تو یہ دوسری موت ہوگی پھر قیامت کے دن تم کو اٹھائے گا تو یہ زندگی ہوگی اس طرح دو موتیں اور دو زندگیاں ہیں۔ اسی کو فرمایا (آیت ) ” کیف تکفرون باللہ وکنتم امواتا فاحیاکم، ثم یمیتکم ثم یحییکم ثم الیہ ترجعون “ (البقرہ آیت 28) (تم کس طرح اللہ کا انکار کرتے ہو اور تم مردہ تھے پھر تم کو زندہ کیا پھر تم کو موت دے گا پھر زندہ کرے گا پھر اس کی طرف لوٹ کرجاؤگے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابو مالک ؓ سے روایت کیا کہ وہ مردہ تھے پھر ان کو اللہ تعالیٰ نے زندہ کیا پھر ان کو موت دے گا پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو زندہ کردیگا۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” امتنا اثنتین واحییتنا اثنتین “ سے مراد ہے کہ وہ مردہ تھے اپنے آپاؤ و اجداد کی پیٹھوں میں پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انکو زندہ کردیا پھر اللہ تعالیٰ ان کو موت دے گا جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں پھر ان کو زندہ کرے گا قیامت کے دن اٹھنے کیلئے۔ تو یہ دو زندگیاں اور دو موتیں ہیں (آیت ) ” فاعترفنا بذنوبنا فھل الی خروج من سبیل “ (ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں کیا کوئی راستہ جہنم سے) نکلنے کا ہے یعنی کیا دنیا میں دوبارہ جانے کا کوئی راستہ ہے۔
Ayah 40:14

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

سو تم اللہ کو پکارو، دین کو اسی کیلئے خالص کرتے ہوئے اگرچہ کافروں کو ناگوار ہو

1:۔ مسلم وابو داؤد والنسائی (رح) نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے بعد (یہ دعا پڑھتے تھے ) ۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر ولا الہ الا اللہ ولا نعبد الا ایاہ مخلصین لہ الدین ولو کرہ الکفرون۔ ترجمہ : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اس کی بادشاہی ہے اور اس کی تعریف ہیں اور وہ ہر چیز پر قاد رہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہم خاص کر اس کی عبادت کرتے ہیں خالص اسی کا اعتقاد رکھتے ہوئے اگرچہ کافر اس کو ناپسند کریں۔
Ayah 40:15

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہ رفیع الدرجات ہے، عرش والا ہے، وہ اپنے حکم سے وحی نازل فرماتا ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے، تاکہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرائے

1:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یلقی الروح من امرہ “ (اپنی وحی نازل کرتا ہے اپنے حکم سے) یعنی وحی اور رحمت (آیت ) ’ ’ لینذر یوم التلاق “ (تاکہ وہ لوگوں کو اجتماع کے دن سے ڈرائیں) یعنی جس دن آسمان اور زمین والے (آپس میں) ملاقات کریں گے اور خالق اور اس کی مخلوق (آپس میں) ملاقات کرے گی (آیت ) ” یوم ھم برزون “ (جس دن سب لوگ قبروں سے نکل کر آموجود ہوں گے) اور اس دن ان کو نہ پہاڑ اور نہ کوئی چیز چھپائے گی۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یوم التلاق “ اور ” یوم الازفہ “ اور اس طرح کے نام قیامت کے دن ہیں اللہ تعالیٰ نے اس دن کی عظمت بیان فرمائی اور اس سے اپنے بندوں کو ڈرایا۔ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز مخفی نہیں : 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یوم ھم برزون، لا یخفی علی اللہ منہم شیء (کہ جس دن وہ قبروں سے نکل کر آموجود ہوں گے ان کی کوئی بات اللہ سے پوشیدہ نہیں رہے گی) یعنی آج بھی اللہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں لیکن وہ قیامت کے دن اللہ کے لئے یوں ظاہر ہوں گے کہ وہ کسی پہاڑ اور مٹی کے مکان کے پیچھے چھپ نہ سکیں گے۔
Ayah 40:16

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس دن وہ لوگ ظاہر ہوں گے، اللہ تعالیٰ پر ان میں سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہ ہوگی، آج کس کیلئے ملک ہے اللہ وحدہ ہیں قہار ہیں ان کیلئے ہے

4:۔ عبد بن حمید (رح) فی زوائد الزھد وابن ابی حاتم (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) وابو نعیم (رح) نے الحلیہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آواز دینے والا آواز دے گا قیامت قائم ہونے سے پہلے اے لوگو ! تمہارے پاس قیامت آچکی۔ تو اس کو زندہ اور مردہ سب سنیں گے اور اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نازل ہوں گے اور فرمائیں گے (آیت ) ” لمن الملک الیوم للہ الواحد القھار “ آج کس کی بادشاہت ہے اللہ کے لئے ہے جو واحد اور قہار ہے۔ 5:۔ ابن ابی الدنیا فی البعث ودیلمی (رح) نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ صیحہ سے پہلے ایک آواز دینے والا آواز دے گا اے لوگو ! تمہارے پاس قیامت آگئی۔ اور اس کے ساتھ آواز کو بلند کرے گا تو اس کو زندہ اور مردہ سب سنیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نازل ہوں گے۔ پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا آج کے دن کس کی بادشاہت ہے اللہ کے لئے ہے جو واحد اور قہار ہے۔
Ayah 40:17

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج کے دن ہر جان کو اس کا بدلہ جائے گا جو اس نے کمایا آج کے دن ظلم نہیں ہے بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے

1:۔ الحاکم (وصححہ) اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صحابی کی طرف سے مجھے قصاص کے بارے میں ایک حدیث پہنچی ہے تو میں اپنے اونٹ کے پاس آیا اس پر اپنے کجاوے کو کسا پھر اس صحابی کی ملاقات کے لئے ایک ماہ تک سفر کرتا رہا میں مصر پہنچا اور عبداللہ بن انیس ؓ کے پاس آکر کہا کہ مجھ کو آپ کی طرف سے قصاص کے بارے میں (حدیث پہنچی ہے تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو جمع فرمائیں گے (اس حال میں کہ وہ) ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے ہوں گے، ہم نے کہا یہ دونوں کیا ہیں فرمایا ان کے ساتھ کوئی چیز نہیں ہوگی پھر وہ لوگوں کو ایسی آواز کے ساتھ پکارے گا کہ اس کو دور والا سنے گا جیسے اس کو قریب والا سنے گا (فرمائیں گے) میں بادشاہ ہوں حساب لینے والا ہوں اہل جنت میں سے کسی کے لائق نہیں ہے کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے اور نہ اہل دوزخ میں سے کو اجازت ہے کہ وہ دوزخ میں داخل ہوجائے جبکہ اس نے کسی کا کوئی ظلم کیا ہو یہاں تک کہ میں اس سے قصاص لے لوں حتی کہ تھپڑ مارنے کا بھی بدلہ لوں ہم نے کہا ہو کیسے ہوگا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے پاس غیر مخلوق آئیں گے اور کوئی پیسہ مال تو نہیں ہوگا تو کس طرح بدلہ دیا جائے گا۔ فرمایا نیکیوں اور برائیوں کے ساتھ اور رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” الیوم تجزی کل نفس بما کسبت لا ظلم الیوم ان اللہ سریع الحساب “ (آج کے دن ہر نفس کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا آج کے دن ظلم نہ ہوگا اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والے ہیں ) ۔ گناہوں کی تین قسمیں : 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ گناہ تین قسم کے ہیں وہ گناہ جو بخش دیا جاتا ہے اور وہ گناہ جو نہیں بخشا جائے گا اور وہ گناہ جس میں سے کوئی چیز نہیں چھوڑی جائے گی پس ہو گناہ جو بندے کو بخش دیا جائے گا وہ گناہ ہے جسے ایک بندہ کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے تو اس کو بخش دیا جاتا ہے اور وہ گناہ جو نہیں بخشا جاتا وہ شرک ہے اور وہ گناہ جس میں سے کوئی چیز نہیں چھوڑی جاتی۔ وہ بندے کا اپنے بھائی پر ظلم کرنا ہے پھر ابن عباس ؓ سے یہ آیت پڑھی (آیت) ” الیوم تجزی کل نفس بما کسبت لا ظلم الیوم ان اللہ سریع الحساب “ (آج کے دن ہر آدمی سے بدلہ لیاجائے گا جو اس نے کمایا آج کے دن ظلم نہ ہوگا بلاشبہ اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والے ہیں یہاں تک کہ سینگ والی بکری سے بغیر سینگ والی بکری کیلئے بدلہ لیاجائے گا، کیونکہ سینگ والی بکری کو سینگ مارنے میں قوت حاصل تھی۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ساری مخلوق کو جمع فرمائیں گے ایک سفید زمین میں گویا کہ وہ سفید پگھلی ہوئی چاندی ہے جس پر کبھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں ہوتی اور نہ اس پر غلط کام کیا گیا سب سے پہلے جو بات کرے وہ یہ ہوگی کہ ایک آواز دینے والا آج کی بادشاہی ہے) پھر خو دہی جواب دیں گے) اس اللہ کی بادشاہی ہے جو واحد قہار ہے (آیت) ” الیوم تجزی کل نفس بما کسبت لا ظلم الیوم ان اللہ سریع الحساب “ سب پہلے جن جھگڑوں کا فیصلہ ہوگا وہ قتل ہوگا قاتل اور مقتول لائے جائیں گے مقتول کو کہے گا (اے اللہ) اپنے اس بندے سے پوچھئے کہ اس نے مجھے قتل کیوں کیا تھا ؟ وہ فرمائے گا : ہاں اگر اس نے کہا کہ اس کو میں نے قتل کیا تھا تاکہ عزت اللہ کیلئے ہوجائے تو وہ (قتل) اللہ کے لئے ہوگا اور اگر اس نے کہا میں نے اس کو قتل کیا تھا تاکہ فلاں کے لئے عزت ہوجائے تو وہ (قتل) اللہ کے لئے نہ ہوگا اور وہ اپنے گناہ کا اقرار کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو قتل کرے گا۔ اور جس نے قتل کیا تو کیا تو وہ اسی حد تک پہنچے گے دنیا میں جس حد تک وہ پہنچے تھے اور وہ موت کا ذائقہ اس طرح چکھیں گے جیسے انہوں نے اس کو دنیا میں موت کا ذائقہ چکھایا تھا۔ میدان حشر میں لوگوں کی کیفیت : 4:۔ خطیب نے اپنی تاریخ میں (سندواہ کے ساتھ) حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن لوگ اکٹھے کئے جائیں گے جیسے ان کی ماؤں نے کو جنا ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کئے ہوئے۔ عائشہ ؓ نے فرمایا ہائے شرم گاہ کہ ہم میں سے بعض بعض کی طرف دیکھ رہا ہوگا۔ آپ ﷺ نے ان کے کاندھے پر مارتے ہوئے فرمایا ابوقحافہ کی بیٹی ! اس دن لوگ دیکھنے سے غافل ہوجائیں گے اور اپنی نگاہوں کو آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے ہوں گے وہ چالیس سال تک اسی طرح کھڑے رہیں گے نہ کھائیں گے نہ پئیں گے اور نہ بات کریں گے اپنی نظروں کو آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے ہوں گین ان کو پسینہ لگا دیئے ہوگا ان میں سے بعض کو ان کے قدموں تک پسینہ پہنچے گا اور ان میں (بعض کو) اس کی پنڈلیوں تک پسینہ پہنچے گا اور ان میں سے بعض کو رانوں تک پسینہ پہنچے گا۔ اور بعض کو اس کے پیٹ تک پہنچے گا اور بعض کو ان کے منہ تک پہنچے گا جو ان کو لگا دے رہا ہوگا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بندوں پر رحم فرمائیں گے، اور مقرب فرشتوں کو حکم فرمائیں گے تو وہ رب عزوجل کے عرش کو اٹھائیں گے یہاں تک کہ سفید زمین میں رکھ دیا جائے گا گویا کہ وہ زمین چاندی ہے اس پر حرام خون نہیں بہایا گیا، اس میں کوئی گناہ نہیں کیا گیا اور یہ پہلا دن ہوگا کہ آنکھ اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھے گی، پھر فرشتے کھڑے ہوں گے (آیت ) ” حآفین من حول العرش “ (عرش کے اردگرد حلقے باندھے ہوں گے) پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا ایسی آواز جس کو جنات اور انسان سب سنیں گے لوگ اس آواز کو سنیں گے پھر ایک آدمی اس موقف سے نکلے گا اور سب لوگ پسینہ سے شرابور ہوں گے پھر وہ اپنی نیکیاں پکڑنے سے شرابور ہوگا نیکیاں اسے اپنی ساتھ نکالیں گی ایک ایسی چیز نکالی جائے گی لوگ اس طرح کثرت سے کسی چیز کو نہیں دیکھیں گے اور لوگ پہچان لیں گے ان نیکیوں کو جب وہ رب العالمین کے ساتھ کھڑا ہوگا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اصحاب المظالم کہاں ہیں رحمن اس کو فرمائیں گے کیا تو نے فلاں بن فلاں پر اس طرح اور اس طرح ظلم کیا تھا وہ کہے گا ہاں میرے رب (کیا تھا) یہ وہ دن ہے جس کے بارے میں فرمایا (آیت) یوم تشھد علیہم السنتھم وایدیھم وارجلھم بما کانوا یعملون “ (النور آیت 24) (جس پر ان پر ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے جو وہ عمل کیا کرتے تھے) جب ہو اس سے فارغ ہوگا تو اس کی نیکیوں میں سے لیاجائے گا اور اس شخص کو دے دی جائیں گی جس نے اس ظلم کیا تھا اور یہ وہ دن ہوگا نہ دینار ہوگا نہ درھم ہوگا تو اس کی نیکیاں میں سے لیا جائے گا اور برائیوں کو چھوڑ دیا جائے گا جب کوئی نیکی باقی نہ رہے گی جو باقی ہوگا وہ کہے گا : اے ہمارے رب ہمارے علاوہ تو کیا فضیلت حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے حقوق پورے لے لئے اور ہم باقی ہیں کہا جائے گا جلدی نہ کر تو ان کی برائیاں لے کر ظالم پر ڈال دی جائیں گی جب کوئی مطالبہ کرنے والا باقی نہیں رہے گا تو کہا جائے گا لوٹ جا اپنی پناہ گاہ ھاویہ کی طرف (یعنی جہنم کی طرف) کیوں کہ (آیت ) ” لا ظلم الیوم، ان اللہ سریع الحساب “ (آج کے دن ظلم نہ ہوگا بلاشبہ اللہ تعالیٰ جلدی حساب لینے والے ہیں) کوئی مقرب فرشتہ کوئی نبی مرسل کوئی صدیق اور کوئی شہید نہیں رہے گا جو یہ گمان نہ کرے کہ وہ نجات نہیں پائے گا۔ جب وہ حساب کی سختی کو دیکھے گا۔
Ayah 40:18

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور آپ ان کو قریب آنے والی مصبیت کے دن سے ڈرائیے جس وقت قلوب گلوں کے پاس ہوں گے گھٹن میں پڑے ہوئے ہوں گے، ظالموں کے لئے نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارش کرنے والا ہوگا جس کی بات مانی جائے

1:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانذرھم یوم الازفۃ “ (اور آپ ان کو قریب آنے والی مصیبت کے بعد) یعنی قیامت کے دن سے ڈرائیے یعنی قیامت (آیت ) ” اذ القلوب لدی الحناجر “ (جبکہ کلیجے منہ کو آجائیں گے) یعنی دل ان کے گلوں میں اٹک جائیں گے خوف کی وجہ سے نہ باہر نکلیں گے اور نہ اپنی جگہوں کی طرف واپس لوٹیں گے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانذرھم یوم الازفۃ “ یعنی قیامت کے دن سے (آپ کو ڈرائیے) 3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اذ القلوب لدی الحناجر “ یعنی جب وہ دوزخ والے دوزخ کو دیکھیں گے کہ وہ ان کے حلق تک پہنچی ہوئی ہے تو نہ دل باہر آئیں گے وہ مرجائیں اور نہ اپنی جگہوں کی طرف ان کے پیٹوں میں واپس جائیں گے اور فرمایا (آیت ) ” کظمین “ یعنی رونے والے۔
Ayahs 40:19–20

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

وہ جانتا ہے آنکھوں کی خیانت کو اور ان چیزوں کو جنہیں سینے پوشیدہ رکھتے ہیں۔

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا اور اللہ کے سواج نہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی فیصلہ نہیں کرسکتے، بلاشبہ اللہ سننے والا ہے دیکھنے والا ہے

1:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یعلم خآئنۃ الاعین وما تخفی الصدور “ (وہ جانتا ہے آنکھوں کی چوری کو اور ان باتوں کو جو دلوں میں پوشیدہ ہیں) سے مراد ہے کہ ایک آدمی لوگوں میں موجود ہوتا ہے ان کے پاس سے ایک عورت گزرتی ہے وہ آدمی دوسرے لوگوں کو دیکھتا ہے کہ وہ اپنی نظر کو اس عورت سے بندکررہا ہے۔ اور جب ان کو غافل پاتا ہے تو آنکھ کے گوشتے سے اس کی طرف دیکھ لیتا ہے اور جب وہ لوگ اسے دیکھتے ہیں تو یہ اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کے دل کو جان چکے ہیں کہ وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی شرم گاہ کو دیکھے۔ 2:۔ ابونعیم فی الحلیہ وابن ابی حاتم و طبرانی (رح) فی الاوسط و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یعلم خآئنۃ الاعین وما تخفی الصدور “ یعنی تو نے اس عورت کی طرف دیکھا تاکہ تو خیانت کا ارادہ کرے یا نہیں (آیت ) ” وما تخفی الصدور “ یعنی جب اس پر قابو پائے کیا تو اس کے ساتھ زنا کرے گا یا نہیں کیا میں تم کو خبر نہ دوں (آیت) ” واللہ یقضی بالحق “ (اور اللہ تعالیٰ ٹھیک ٹھاک فیصلہ کردے گا) وہ قادر ہے اس بات پر کہ وہ بدلہ دے بھلائی کا بھلائی کے ساتھ اور برائی کا برائی کے ساتھ۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابو الشیخ (رح) نے فی العظمہ میں قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یعلم خآئنۃ الاعین “ یعنی وہ جانتا ہے آنکھوں کے اشارہ اور ان کی آنکھوں کے بند کرنے کا جب وہ ایسے کاموں میں یہکرے جن کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتے۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یعلم خآئنۃ الاعین “ یعنی آنکھ سے آنکھ سے دیکھنا اس چیز کو طرف جس سے منع کیا گیا۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابو الجوزا (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یعلم خآئنۃ الاعین “ سے مراد ہے کہ ایک آدمی کسی گھر میں لوگوں کے پاس جاتا ہے اور گھر میں ایک عورت ہوتی ہے تو وہ اپنے سر کو اٹھاتا ہے اور اس عورت کی طرف دیکھتا ہے پھر اپنے سر کو نیچے کرلیتا ہے۔ 6:۔ ابوداؤد والنسائی وابن مردویہ (رح) نے سعد ؓ سے روایت کیا کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو رسول اللہ ﷺ نے سب لوگوں کو امن دیا سوائے چار مردوں اور دو عورتوں کے اور فرمایا ان کو قتل کرو اگرچہ تم ان کو اس حال میں پاؤ کہ وہ کعبہ کے پروں کے ساتھ چمٹے ہوئے ہوں ان میں سے عبد اللہ بن سعد بن ابی سرج تھے انہوں نے عثمان بن عفان ؓ کے پاس اپنے آپ کو چھپالیا جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی بیعت کے لئے بلایا تو وہ ان کو لے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! عبداللہ کو بیعت کرلیجئے آپ نے اپنا سرمبارک اٹھایا اس کی طرف تین مرتبہ دیکھا اور ہر مرتبہ اس کی بیعت سے انکار فرمایا پھر اپنے اصحاب ؓ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کیا تم میں کوئی بھی ہدایت یافتہ نہیں تھا جو اس کی طرف کھڑا ہوجاتا جب وہ مجھ کو دیکھتا کہ میں نے اس کی بیعت لینے سے انکار کردیا ہے تو وہ اس کو قتل کردیتا ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم نے نہیں جانا کہ آپ کے دل میں کیا ہے کیوں نہیں آپ ہماری طرف اپنی آنکھ سے اشارہ فرمادیتے آپ نے فرمایا کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت کرنے والی ہو۔ 7:۔ خطیب فی تاریخہ وحاکم (رح) ترمذی (رح) نے ام معبد ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : اللہم طھر قلبی من النفاق وعملی من الریاء ولسانی من الکذب وعینی من الخیانۃ فانک تعلم خائنۃ الاعین وما تخفی الصدرو۔ ترجمہ : اے اللہ ! پاک کردے میرے دل کو نفاق سے اور میرے عمل کو ریاکاری سے اور میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھ کو خیانت سے بلاشبہ آپ جانتے ہیں آنکھوں کی خیانت کو اور جو کچھ سینے چھپاتے ہیں۔ 8:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واللہ یقضی بالحق “ یعنی اللہ تعالیٰ حق کے ساتھ فیصلہ کرنے پر قادر ہیں (آیت ) ” والذین یدعون من دونہ “ (اور وہ لوگ جو اللہ کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں) وہ اس بات پر قادر نہیں ہیں کہ حق کے مطابق فیصلہ کریں۔
Ayahs 40:21–23

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے تاکہ دیکھ لیتے ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو ان سے پہلے تھے وہ قوت کے اعتبار سے ان سے زیادہ سخت تھے اور زمین میں نشانوں کے اعتبار سے بھی بڑھ کر تھے، سو اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کی گرفت فرمالی اور انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی بھی نہ تھا

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی ہوئی دلیلیں لے کر آئے سو انہوں نے کفر کیا پھر اللہ نے انکو پکڑ لیا، بیشک وہ قوی ہے سخت عذاب والا ہے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیات اور واضح دلیل کے ساتھ

1:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما کان لھم من اللہ من واق “ (اور اللہ کے عذاب سے کوئی ان کو بچانے والا نہ ہو) یعنی کوئی بچانے والا نہیں جو ان کو عذاب سے بچائے اور ان کو نفع دے۔
Ayahs 40:24–25

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

فرعون اور ہامان اور قارون کے پاس بھیجا سو ان لوگوں نے کہا کہ یہ جادوگر ہے بڑا جھوٹا ہے

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

سو جب ان کے پاس ہمارے پاس سے حق لے کر آیا تو کہنے لگے کہ جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دو اور کافروں کی تدبیر محض بےاثر رہی

1:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) فلما جآء ھم بالحق من عندنا قالوا اقتلوا ابنآء الذین امنوا “ (سو جب ان کے پاس دین حق آیا ہمارے طرف سے تو انہوں نے کہا : قتل کرو تم ان لوگوں کے بیٹوں کو جو ایمان لائے ان کا یہ حکم پہلے قتل کے بعد تھا۔ اور عبدبن حمید (رح) کے الفاظ یوں تھے : یہ قتل اس قتل کے علاوہ تھا جو پہلے تھا۔
Ayahs 40:26–27

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑو میں موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردوں اور وہ اپنے رب کو پکارے بلاشبہ میں ڈرتا ہوں کہ وہ تمہارے دین کو بدل دے یا زمین میں فساد پھیلا دے

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا بلاشبہ میں اپن رب کی پناہ لیتا ہوں جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی ہر متکبر سے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا

2:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقال فرعون ذرونی اقتل موسیٰ (اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو میں موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کروں گا) میں دیکھوں گا کون اسے مجھ سے بچاتا ہے۔ 3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انی اخاف ان یبدل دینکم اوان یظھر فی الارض الفساد “ (اور میں ڈرتا ہوں کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا زمین میں فساد ظاہر کرے گا کہ وہ قتل کریں، تمہارے بیٹوں کو اور چھوڑدیں تمہاری عورتوں کو جب وہ تم پر غلبہ پائیں جیسے تم ان کے ساتھ کرتے تھے۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انی اخاف ان یبدل دینکم “ یعنی تمہارے اس دین کو جس پر تم ہو اس کو وہ بدل دے (آیت ) ” اوان یظھر فی الارض الفساد “ اور ان کے نزدیک فساد یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کے ساتھ عمل کیا جائے (آیت ) ” الی فرعون وھامن وقارون فقالوا سحر کذاب “ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں فرماتے جو حد سے گزرنے والا اور بہت جھوٹا ہو) اس میں مسرف مرتاب “ سے مراد ہے مشرک جس نے شرک کرنے کی وجہ سے اپنے اوپر زیادتی کی۔
Ayah 40:28

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اور آل فرعون میں سے ایک مؤمن نے کہا جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے حالانکہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں لے کر آیا ہے، اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کا جھوٹ اسی پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہوگا تو تمہیں بعض وہ مصائب پہنچ جائیں گے جن کی وہ بطور پیشن گوئی خبر دے رہا ہے، بلاشبہ اللہ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزرجانے والا ہو بہت جھوٹا ہو

خاندان فرعون کا مؤمن : 1:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ فرعون والوں میں اس کے علاوہ کوئی اور مؤمن نہیں ہوا اور فرعون کی بیوی کے علاوہ (کوئی عورت مؤمن نہیں ہوئی) اور اس مؤمن کے علاوہ جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ڈرایا تھا جس نے کہا تھا (آیت ) ” ان الملأ یأتمرون بک لیقتلوک “ (بلاشبہ سرداروں نے حکم دیا تیرے بارے میں تاکہ وہ تجھ کو قتل کردیں) ابن المنذر (رح) نے فرمایا کہ کا نام حزقیل تھا۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابو اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ اس آدمی کا نام جو فرعون کی قوم میں سے ایمان لایا تھا حبیب تھا۔ 3:۔ البخاری (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے عروہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر بن العاص ؓ سے پوچھا کہ مجھے اس سب سے تکلیف دہ عمل کے بارے میں بتائیے جو مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا ہو تو انہوں نے کہا اسی اثناء میں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کعبہ کے صحن میں اچانک عقبہ بن ابی معیط آیا اور اس نے رسول اللہ ﷺ کے کندھے کو پکڑا اور آپ کے گلے میں کپڑے کو لپیٹا اور ان کا سخت گلا گھوٹنا ابوبکر ؓ آئے اور انہوں نے عقبہ کے کندھوں کو پکڑا اور نبی کریم ﷺ سے اس کو ہٹایا پھر فرمایا (آیت ) ” اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ وقد جآء کم بالبینت من ربکم “ (کیا تم اس آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف دلائل لے کر آیا ہے۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ و ترمذی (رح) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے دلائل میں عمر بن العاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے سخت روایت نہیں دیکھا ہوگا آپ بیت اللہ کا طواف کررہے تھے چاشت کے وقت جب آپ فارغ ہوئے تو مشرک لوگ آپ کے سامنے آگئے اور آپ کی چادر کو اکٹھا کرکے پکڑ لیا اور کہنے لگے کہ تو جو ہم کو منع کرتا ہے ان کی عبادت سے جن کی ہماری آباؤ اجداد عبادت کرتے ہیں آپ نے فرمایا میں وہ ہوں۔ ابوبکر ؓ کھڑے ہوئے اور وہ پیچھے سے آپ سے چمٹ گیا پھر فرمایا (آیت ) ” اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ وقد جآء کم بالبینت من ربکم “ ، وان یک کاذبا فعلیہ کذبہ وان یک صادقا یصبکم بعض الذی یعدکم ان اللہ لا یھدی من ھو مسرف کذاب “ (کیا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں بھی لے کر آیا ہے اگر وہ بالغرض جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اس پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہے تو وہ جس چیز سے تم کو ڈراتا ہے اس میں سے کچھ تو ضرور تم پر آپڑے گا اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزرجانے والا بڑا جھوٹا ہو) حضرت ابوبکر صدیق ؓ اپنی آواز کو بلند کئے ہوئے تھے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو چھوڑدیا۔ 5:۔ ابن مردویہ (رح) نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو مشرکین نے مارا یہاں تک کہ آپ بیہوش ہوگئے ابوبکر ؓ کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے یہ کہنے لگے افسوس ہے تم پر (آیت ) ” اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ “۔ مشرکوں نے پوچھا یہ کون ہے ؟ کہا کہ یہ ابوقحافہ کا بیٹا (یعنی ابوبکر ہیں) 6:۔ حکیم ترمذی اور ابن مردویہ (رح) نے اسماء بنت ابی بکر ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ سب سے بڑا بہادر صدیق اکبر ؓ ہے : 7:۔ بزار (رح) اور ابونعیم (رح) نے فضائل میں علی ؓ سے روایت کیا کہ اے لوگو ! مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر کے بارے میں بتاؤ لوگوں نے کہا آپ ہیں۔ فرمایا نہیں : لوگوں نے کہا پھر کون ہے ؟ فرمایا ابوبکر ؓ ہیں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ قریش نے ان کو پکڑا اور ایک دوسرے کو ابھار رہا ہے اور یہ دوسرے کو جوش دلا رہا ہے اور وہ کہہ رہے تھے یہ وہی ہے جس نے سارے معبودوں کو ایک معبود بنادیا ہے۔ علی ؓ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ہم میں سے کوئی قریب نہیں ہوا سوائے ابوبکر ؓ کے وہ ایک کو مارتے اور دوسرے سے مقابلہ کرتے اور فرماتے (آیت ) ” ویلکم اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ “ (افسوس ہے تم پر کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے) پھر علی ؓ نے وہ چادر اٹھائی جو آپ پر تھی اور روئے یہاں کہ کہ آپ کی داڑھی تر ہوگئی پھر فرمایا میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا فرعون کی قوم کا مؤمن بہتر ہے یا ابوبکر ؓ بہتر ہے ؟ فرعون کی قوم سے وہ آدمی اپنے آپ کو چھپاتا تھا اور یہ آدمی (یعنی ابوبکر) اپنے ایمان کا اعلان کرتا ہے۔
Ayahs 40:29–31

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے میری قوم آج زمین میں تمہاری حکومت میں تم غلبہ پائے ہوئے ہو سو اگر اللہ کا عذاب ہم تک آپہنچا تو ہمیں اس سے بچانے کیلئے کون مدد کرے گا ؟ فرعون نے کہا میں تو تمہیں وہی رائے دوں گا جسے میں خود ٹھیک سمجھ رہا ہوں اور میں تمہیں وہی راہ بتاؤں گا جو ہدایت کا راستہ ہے

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

اور اس شخص نے کہا جو ایمان لایا تھا کہ اے میری قوم میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم پر سابقہ جماعتوں جیسا دن نہ آپڑے

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

جیسا کہ قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد والوں کا حال ہوا، اور اللہ بندوں پر کسی طرح بھی ظلم کا ارادہ نہیں فرماتے

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مثل داب “ سے مراد ہے حال۔ 2:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مثل داب قوم نوح “ (قوم نوح کے حال کی طرح) اور وہ جماعتیں تھیں (آیت ) ” قوم نوح وعاد وثمود “ یعنی نوح (علیہ السلام) کی قوم عاد اور قوم ثمود۔
Ayahs 40:32–33

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اور اے میری قوم بلاشبہ میں تمہارے بارے میں (آیت) ” یوم التناد “ کا اندیشہ رکھتا ہوں

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جس دن تم پشت پھیر کر واپس لوٹوگے تمہارے لئے اللہ سے بچانے والا کوئی بھی نہ ہوگا اور اللہ جسے گمراہ کرے اسے کوئی بھی ہدایت دینے والا نہیں

یوم التناد کون سا ہے : 1:۔ ابن المبارک وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کو حکم دیں گے تو وہ نیچے اتریں گے اور ساری زمین کو اور جو کچھ اس میں سے ہے سب کو گھیر لیں گے پھر دوسرا آسمان پھر تیسرا آسمان پھر چوتھا آسمان پھر پانچواں آسمان پھر چھٹا آسمان اور پھر ساتواں آسمان پھٹے گا۔ سب فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے صفیں بنالیں گے پھر بڑا فرشتہ نازل ہوگا تاکہ جہنم کو چلا کرلے آئے جب اس کو زمین والے دیکھیں گے تو بھاگیں گے وہ زمین کے کناروں میں سے جس کنارے پر آئیں گے تو فرشتوں کو سات صفوں کو پائیں گے اور اپنی جگہ کی طرف لوٹ کر آجائیں گے جہاں تھے اسی کو فرمایا (آیت ) ” یوم التناد “ (وہ دن جس میں کثرت سے پکار مچی ہوگی) یعنی دال کی تشدید کے ساتھ (آیت ) ” یوم تولون مدبرین “ جس دن تم پشت پھیر کر لوٹوگے) (آیت ) ” مالکم من اللہ من عاصم “ (تمہارے لئے اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا) اسی کو فرمایا (آیت ) ” وجآء ربک والملک صفاصفا (32) وجا یء یومئذ بجھنم “ (الفجر آیت 32) (اور آئے گا تیرا رب اور فرشتے صف باندھ کر اور جس دن جہنم کو لایا جائے گا) اور فرمایا (آیت ) ” یمعشرالجن والانس ان استطعتم ان تنفذوا من اقطار السموت والارض فانفذوا لا تنفذون الا بسلطن (23) ” (الرحمن آیت (23) اے جنوں اور انسانوں کے گروہ اگر تم آسمان اور زمین کی حدود سے باہر نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ تم بغیر زور کے نہ نکل سکوگے) اور فرمایا (آیت ) ” وانشقت السمآء فھی یومئذ واھیۃ (16) والملک علی ارجآء ھا “ آسمان پھٹ جائے گا اور وہ اس دن کمزور ہوگا اور اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے) یعنی آسمان پھٹ جائے گا اس درمیان کہ وہ اس حال پر ہوں گے اچانک وہ آواز سنیں گے اور حساب کی طرف متوجہ ہوں گے۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یوم التناد “ سے مراد ہے کہ ہر قوم کو ان کے اعمال کے ساتھ بلایا جائے گا دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے اور جنت والے دوزخ والوں کو پکاریں گے (آیت ) ” یوم تولون مدبرین “ یعنی آگ کی طرف (آیت ) ” مالکم من اللہ من عاصم “ یعنی کوئی مدد کرنے والا نہ ہوگا۔ 3:۔ عبدبن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویقوم انی اخاف علیکم یو التناد “ (اے میری قوم میں ڈرتا ہوں تم پر اس دن سے جس میں کثرت سے پکار مچی ہوگی) جنت والے، دوزخ والوں کو پکاریں گے، (آیت ) ” ان قد وجدنا وعدنا ربنا حقا فھل وجدتم ما وعدربکم حقا “ (کہ ہم نے سچ پالیا جو ہم سے ہمارے رب نے وعدہ کیا تھا کیا تم نے بھی سچ پالیا جو تم سے تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا) اور دوزخ والے جنت والوں کو آواز دیں گے (آیت ) ” ان افیضوا علینا من المآء اومما رزقکم اللہ “ (کہ ہم پر بہادو پانی میں سے یا جو تم کو اللہ نے رزق دیا ہے) ہم کو دیدو۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یوم تولون مدبرین “ (جس دن تم پشت پھیر کر لوٹوگے اس حال میں کہ قادر ہوں گے عاجز نہیں ہوں گے۔