Ayahs 40:1–21 قرآن حکیم خالص اتاری ہوئی کتاب : سو اس ضمن میں سب سے پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی گئی کہ یہ محض اتاری ہوئی کتاب ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ خالص اتاری ہوئی کتاب ہے "۔ یعنی یہاں پر " مُنزّل " نہیں " تَنِزیل " فرمایا گیا ہے جو کہ مصدر ہے۔ سو یہ کتاب محض نازل کردہ کتاب ہے اللہ وحدہ لاشریک کی طرف سے۔ اس میں کسی بھی دوسری ہستی کی طرف سے کسی بھی طرح کی کسی آمیزش یا دخل اندازی کا کوئی شائبہ تک نہیں۔ پس اس ارشاد عالی میں ایک طرف تو مخالفین کیلئے اظہار انتباہ ہے کہ اللہ پاک نے ان کی ہدایت و راہنمائی کیلئے یہ عظیم الشان اور جلیل القدر کتاب نازل فرمائی اور اس قدر اہتمام کے ساتھ نازل فرمائی تاکہ لوگ اس کی ہدایت کے ذریعہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوسکیں۔ سو اس اعتبار سے یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت و عنایت ہے جس سے اس نے اپنے بندوں کو سرفراز فرمایا ہے۔ اور دوسری طرف اس میں ان کیلئے سخت تہدید اور تنبیہ بھی ہے کہ اگر ان لوگوں نے اس نعمت عظمی کی قدر نہ کی اور یہ اس سے اعراض و روگردانی ہی کرتے گئے تو پھر یہ لوگ اللہ کی گرفت و پکڑ سے بچ نہیں سکیں گے کہ وہ " عزیز " بھی ہے اور " علیم " بھی۔ سو ایسے لوگ نہ اس سے کہیں مخفی اور پوشیدہ رہ سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی اسکا ہاتھ پکڑ سکتا ہے۔ وہ انکو دنیا میں بھی عذاب دے گا اور آخرت میں بھی۔ جیسا کہ اس کے علم کامل اور اس کی حکمت بالغہ کا تقاضا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ والعیاذ بہ جل وعلا -
Ayah 40:32 اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے عقاب کی دونوں شانوں کا ذکر۔ سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ گناہوں کو بخشنے والا، توبہ قبول کرنے والا بھی ہے اور بڑا ہی سخت عذاب دینے والا بھی "۔ یعنی وہ ان سب کے گناہ بخشنے والا اور ان پر اپنی رحمت فرمانے والا ہے جو صدق دل سے توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ ان لوگوں کو پکڑنے والا اور ان کو سخت سزا اور عذاب دینے والا بھی ہے جو کہ اڑے رہیں گے اپنی بغاوت و سرکشی اور ظلم و معصیت پر۔ تاکہ ہر کوئی اپنے کئے کرائے کا بھر پوربدلہ پا سکے۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہو سکیں۔ سو اس سے ترغیب و ترہیب کے دونوں پہلوؤں کو واضح فرمایا دیا گیا ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی شان کرم ہے اس مہربان مطلق ۔ جل و علا شانہ ۔ کی۔ سو ایسے میں اس کی رحمت و عنایت سے کوئی محروم ہو تو کیونکر ؟ سوائے ایسے بدبخت کے جس کی قسمت ہی پھوٹ گئی ہو۔ اور نحوست و بدبختی کی چھاپ اس پر لگ چکی ہو۔ اور عذاب کی بات اس پر پکی ہوگئی ہو ۔ والْعِیَاذ باللّٰہِ العظیم ۔ فَاغْفِرْلِی مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ یَا رَبِّیْ وَتَقَبَّلْ تَوْبَتِیْ فَانِّیْ اَتُوبُ اِلَیْکَ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ اَذْنَبْتُہ عَمَدًا اَوْخَطَائً سِرًّا اَوْ جَھْرًا مَا اَعْلمُ مِنْہُ وَمَا لَا اَعْلَمُ فَاِنَّکَ اَنْتَ الَاعَزَّ الاَکْرَمُ واَرُحَمَُ الرَّاحِمین واکَرُمُ الاکرمِین ۔ بہرکیف اس سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی رحمت و نقمت اور اس کے فضل و عقاب کی دونوں شانوں کو واضح فرما دیا گیا تاکہ نہ تو بندہ اس کی رحمت سے مایوس ہو اور نہ ہی اس کے عذاب سے بےفکر و لاپروا۔ بلکہ اس رحمان و رحیم کی رحمت کی پوری پوری امید بھی رکھے اور اس کے عذاب و عقاب کا خوف اور ڈر بھی۔ اسی لیے کہا جاتا کہ ایمان خوف اور امید دونوں کے درمیان ہے ۔ " الایمان بین الخوف والرجائ " ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا اور خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
3 اللہ بڑا ہی فضل ۔ و احسان ۔ والا ۔ سبحانہ و تعالیٰ : اتنے فضل و کرم والا کہ اس کے فضل و کرم اور انعام و احسان کی کوئی حد و انتہاء ہی نہیں۔ ہماری اس محدود زندگی کا ایک ایک لمحہ خدا ہی جانے اس کی کتنی کتنی رحمتوں اور عنایتوں کے سایوں میں گزرتا ہے۔ اور اس کی کتنی ہی رحمتیں اور نوازشیں ایسی ہیں جن کا ہمیں علم و ادارک ہی نہیں۔ ان سب سے اس نے ہمیں محض اپنے کرم بےپایاں سے نوازا ہے۔ اور جو ہمارے عالم وجود میں آنے سے بھی پہلے ہم پر متوجہ اور سایہ فگن تھیں۔ جن کا کسی قدر پتہ ہم کو اب لگ رہا ہے اور آگے جوں جوں انسانی معلومات کا دائرہ وسیع ہوتا جائے گا اور اس کے علم میں اضافہ ہوتا جائے گا مزید پتہ لگتا جائے گا۔ پھر اس دنیاوی زندگی کے خاتمے کے بعد شروع ہونے والی آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں ملنے والی اس کی لامتناہی نعمتوں کا ٹھکانا ہی کیا۔ پھر کتنے ظالم اور کس قدر بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اس سب کے باوجود اس سے منہ موڑ کر اوروں کے آگے جھکتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ " طول " کے معنیٰ فضل، غنی، قدرت اور بخشش کے ہیں۔ سو اس ارشاد عالی میں اس کی ان صفات کریمہ سے واضح فرما دیا گیا کہ وہ ان دونوں قسم کی صفات سے متصف اور ان دونوں طرح کے اختیارات کا مالک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس سے ایک طرف تو اس تنزیل حکیم کی عظمت شان بھی واضح ہوجاتی ہے اور یہ امر بھی کہ اس کے نزول کے بعد ہر شخص کے لیے یہ راہ کھلی ہے کہ وہ اس کو اپناکر اللہ تعالیٰ کی مغفرت و بخشش اور اس کی رحمت و عنایت کا حقدار و امیدوار بن جائے یا پھر اس کا انکار اور تکذیب کر کے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ وہ اس کے عذاب اور شان قدرت کا انتظار کرے ۔ والعیاذ باللہ ۔
4 معبود برحق صرف اللہ وحدہ لا شریک : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں سوائے اس ۔ وحدہ لاشریک۔ کے "۔ یعنی جب ان نعمتوں، بخششوں اور عنایتوں میں اس کا کوئی شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پس نہ کوئی اس کی ذات وصفات میں اس کا شریک وسہیم ہوسکتا ہے اور نہ اس کے حقوق و اختیارات میں۔ وہی وحدہ لاشریک بلا شرکت غیرے معبود برحق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فَلا شَرِیْکَ لَہ لا فِیْ الْخَلْقِ وَ لَا فِی الاَمْرِ ۔ پس جب ان دونوں قسم کی صفات سے متصف اور ان دونوں طرح کے اختیارات کا مالک اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے تو ہر قسم کی عبادت کا حقدار بھی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور آخرکار سب کو اسی وحدہ لاشریک کی طرف لوٹنا اور اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا اس کے حضور حساب دینا اور اسکا صلہ و بدلہ پانا ہوگا۔ پس ہر کوئی اپنے بارے میں خود دیکھ لے کہ وہ کہاں کھڑا ہے اور کل کے اس یوم حساب کیلئے اس نے کیا تیاری کی ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس سے اس قطعی اور اہم بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا ہے کہ معبود برحق بہرحال اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے۔ عبادت کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کا حق اور اسی کا اختصاص ہے۔ اور سب نے بالآخر اسی کے حضور حاضر ہو کر اپنے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ پس جن لوگوں نے اپنے طور پر طرح طرح کے دوسرے خود ساختہ اور من گھڑت خدا بنا رکھے ہیں وہ قطعی طور پر گمراہ اور سراسر خسارے میں ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 40:45 اللہ کی آیتوں کے بارے میں جھگڑنا کافروں کا کام ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ کی آیتوں کے بارے میں کافر لوگ ہی جھگڑتے ہیں "۔ یہاں مجادلہ اور جھگڑا سے مراد وہ مجادلہ اور جھگڑا ہے جو حق کو نیچا دکھانے کے لئے اور اس میں اشتباہ و التباس اور کجی و انحراف پیدا کرنے کے لئے ہو۔ نہ وہ جو کہ اس کی وضاحت کے لئے اور اس کو سمجھنے سمجھانے کے لئے ہو۔ کہ وہ تو عین مطلوب اور ایک اہم عبادت ہے۔ اسی لئے ہم نے اس کا ترجمہ بھی عام اور معروف ترجموں سے ہٹ کر " جو اپنے کفر و باطل پر اڑے ہوئے ہیں " کے الفاظ سے کیا ہے۔ کیونکہ اس قسم کا مجادلہ اور بحث مباحثہ دراصل وہی لوگ کرتے ہیں جو اپنے کفر و باطل پر اڑے ہوئے ہوتے ہیں اور جن کو حق و صداقت کی تلاش نہیں ہوتی۔ بلکہ ان کا مقصد اپنے اختیار کردہ ٹیڑھے راستوں کو ہی صحیح اور درست کر کے دکھانا ہوتا ہے اور وہ حق کی پیروی کی بجائے اپنی خواہشات کے پیچھے چلنے ہی کے خواہش مند ہوتے ہیں کہ خواہش نفس ہی ان کا اصل معبود ہوتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ کافر چونکہ اس عذاب کو مانتے نہیں جس سے انکو ڈرایا اور خبردار کیا جاتا ہے اور اس پر انکو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو چھوٹ اور ڈھیل اس کے قانون امہال کی بنا پر دی جاتی ہے اس سے ایسے لوگ اور مست ہوجاتے ہیں اور انکے کبر و غرور اور ان کی رعونت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ جسکے نتیجے میں یہ دائمی عذاب کے شکنجے میں جکڑے جاتے ہیں اور بالآخر یہ بڑے ہی ہولناک اور دائمی عذاب میں مبتلا ہو کر رہیں گے۔ پس تمہیں اے مسلمانو ان کے بارے میں کسی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے۔ سو اس سے منکرین کے انکار اور ان کے سبب انکار کو واضح فرما دیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
6 منکرین و مکذبین کے لیے تنبیہ و تذکیر : منکرین و مکذبین کا اپنی ظاہری مادی اور دنیاوی کامیابیوں کی بنا پر کہنا اور ماننا یہ تھا کہ اگر ہم غلط اور باطل پر ہیں تو ہمیں اس طرح یہ دنیا کیوں ملی ہوئی ہے۔ اس لیے وہ حق کا انکار کرتے اور عذاب کی تنبیہات کا مذاق اڑاتے۔ سو ان کے اسی زعم باطل اور پندار فاسد پر ضرب لگانے اور سادہ لوح عوام کالانعام کی اس طرح غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ " پس تمہیں دھوکے میں نہ ڈالنے پائے ان ۔ منکروں ۔ کا چلنا پھرنا شہروں ۔ اور ملکوں ۔ میں " کہ آخرت کی دائمی زندگی اور وہاں کے ختم نہ ہونے والے عذاب کے مقابلے میں دنیاوی زندگی کی اس چند روزہ چہل و پہل کی کوئی حقیقت اور حیثیت ہی نہیں کہ دنیا کی یہ پوری زندگی بھی آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی کے اعتبار سے ایک دو منٹ بھی نہیں بنتی۔ تو پھر اس کی ایسی عیش پرستیوں سے کوئی عقل سلیم رکھنے والا آخر کس طرح کسی دھوکے میں پڑ سکتا ہے ؟ واضح رہے کہ " بلاد " جو کہ " بلد " کی جمع ہے، اس کے اصل معنیٰ شہر کے آتے ہیں۔ لیکن اس کا اطلاق ملک پر بھی ہوتا ہے بلکہ آج کل عرب ملکوں میں یہ لفظ اسی معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے۔ یعنی ملک کے معنیٰ میں۔ چناچہ دو ملکوں کے باہمی تعلقات کے بارے میں یہ لوگ بین البلدین کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ اور شہروں کے لئے یہ " مدن " کا لفظ استعمال کرتے ہیں جو کہ " مدینہ " کی جمع ہے۔ اس لئے ہم نے اپنے ترجمہ میں ان دونوں کا ذکر کردیا ۔ والحمد للہ ۔ بہرکیف کافروں اور منکروں کو جو چھوٹ اور ڈھیل انکے کفر و انکار کے باوجود ملی ہوئی ہے اس کی بنا پر کسی کو کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ کفر و انکار کا انجام بہرحال برا اور بہت برا ہے۔ اور انکو جو چھوٹ اور ڈھیل ملتی ہے اس سے انکے عذاب میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس اس طرح کی باتوں سے کبھی کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے۔ حق بہرحال وہی ہے جو اللہ اور اس کا رسول فرمائے۔ اسی کو اپنانے میں نجات اور کامیابی ہے اور اس سے اعراض و روگردانی میں محرومی ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 40:57 تاریخ سے درس عبرت و بصیرت کا سامان : سو اب ان تاریخی حوالوں سے دعاۃِ حق کیلئے تسلیہ و تسکین کا سامان اور منکرین کیلئے تنبیہ و تذکیر اور درسہائے عبرت و بصیرت کا انتظام فرمایا گیا ہے۔ پس اس میں ایک طرف تو آنحضرت ﷺ کے لئے اور آپ ﷺ کے توسط سے ہر داعی حق کے لئے تسلی و تسکین کا سامان ہے کہ جو کچھ کفار قریش اور دوسرے دشمنان دین اور مخالفانِ حق آج آپ ﷺ کے ساتھ کر رہے ہیں یہ کوئی نئی اور نرالی بات نہیں۔ بلکہ اس سے پہلے کے انبیائے کرام کے ساتھ ان کی امتوں نے بھی یہی کچھ کیا۔ اور دوسری طرف اس میں دشمنان دین اور مخالفینِ حق کفار و مشرکین کے لئے ایک تنبیہ اور وارننگ بھی ہے کہ تم سے پہلے جن جن امتوں اور قوموں نے حق اور اہل حق کے ساتھ دشمنی کی اور ان کو ستایا اور تنگ کیا، ان کا انجام تمہارے سامنے ہے۔ اگر تم نے اس سے درس عبرت نہ لیا اور اپنی روش نہ بدلی تو اسی انجام سے تمہیں بھی دوچار ہونا پڑے گا جس سے وہ لوگ دوچار ہوچکے ہیں۔ کہ اللہ کا قانون سب کے لئے عام اور یکساں ہے ۔ { فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً } ۔ سو حضرات انبیاء و رسل اور ان کی دعوت کی تکذیب اور اس کے انکار کا نتیجہ بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔
8 منکرین کی انتہائی بدبختی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے منکرین کے اپنے رسول پر ہاتھ ڈالنے کے جرم اور اس کے نتیجہ وانجام کا ذکر فرمایا گیا جو کہ ان کی انتہائی بدبختی کا ایک نمونہ و مظہر ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہر امت نے اپنے رسول پر ہاتھ ڈالنے کا ارادہ کیا "۔ تاکہ اس طرح یہ لوگ حق و صداقت کی آواز کو ہمیشہ کے لئے بند کردیں اور نور حق کو اپنے مونہوں کی پھونکوں سے بجھا دیں ۔ { وَیَاْبَی اللّٰہُ اِلَّا اَنْ یُتِمَّ نُوْرَہ } ۔ اللہ پاک نے تو اپنے نور حق کو بہرحال پورا کرکے رہنا ہے۔ سو اس ارشاد مقدس میں دعاۃِ حق کے لئے ایک بڑا درس عبرت ہے کہ جب اہل باطل نے انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی قدسی صفت جماعت کے ساتھ بھی یہ برتاؤ کیا اور ان کی آواز کو روکنے اور بند کرنے کے لئے ان لوگوں نے بھی باطل کے ہتھیاروں کو اس طرح استعمال کیا تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو پیغام حق پیش کرے اور سب اس کو خوشی خوشی قبول کرلیں۔ اور اس کی ہر بات اور آواز پر متفق ہوجائیں۔ سو ایسا نہ کبھی ہوا ہے اور نہ کبھی ہوسکتا ہے۔ پس کسی کو اس غلط فہمی میں کبھی نہیں رہنا چاہیئے کہ سب لوگ میری بات ٹھنڈے دل سے مان لیں گے اور تبلیغِ حق کے سفر میں مجھے کوئی تکلیف اور رکاوٹ پیش نہیں آئے گی۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں ایک طرف تو حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ کیلئے تسکین وتسلیہ کا عظیم الشان سامان ہے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی نصرت و امداد جب آپ کے ساتھ ہے تو پھر آپ ﷺ کو ان دشمنوں کی شرانگیزیوں کی کیا پروا ہوسکتی ہے ؟ اور دوسری طرف اس میں کفار قریش اور مشرکین مکہ کیلئے سخت تنبیہ اور تذکیر ہے کہ اگر انہوں نے اس طرح کے کسی اقدام کا ارادہ کیا تو اس کے نتائج پر غور کرلیں اور تاریخ سے سبق لے لیں۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے اللہ کے رسول کو قتل کرنے کیلئے ہر امکانی کوشش کی اور ان میں سے کچھ کو انہوں نے قتل بھی کردیا۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل سوء وشر۔
9 حق کا مقابلہ باطل کے ہتھیاروں سے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے حق کے مقابلے میں باطل کے ہتھیاروں سے کام لیا تاکہ اس طرح وہ حق کو نیچا دکھا سکیں۔ سو اس غرض خبیث کے لیے انہوں نے باطل کے ہتھیاروں کو طرح طرح سے استعمال کیا۔ طرح طرح کے شکوک و شبہات ڈال کر، ضعفاء و مساکین کو راہ حق و صواب سے پھیرنے کے لئے طرح طرح کے فریب دے کر اور ڈرا دھمکا کر اپنی دنیاوی دولت کی چمک دمک اور ریل پیل کے زور پر اور اس کے ذریعے طرح طرح کے گمراہ کن پروگرام بنا کر وغیرہ وغیرہ۔ سو ابنائے باطل، باطل کے اسی طرح کے ہتھیاروں کے ذریعے حق اور اہل حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے رہے۔ کل بھی ان کے یہی اطوار تھے اور آج بھی ان کے لچھن یہی ہیں۔ اور مادہ پرستی کے اس دور میں ایسے اشرار کے شر سے بچنا اور بھی زیادہ مشکل ہے ۔ اِلَّا مَنْ عَصَمَہُ اللّٰہ بِفَضْلہٖ وَکَرَمِہٖ ۔ جَعَلَ اللّٰہ کَیْد الْاَعْدَائِ فی نُحُوْرِہِمْ وَاَعَاذَنَا مِنْ شُرُوْرِہِمْ ۔ بہرکیف ابنائے کفر و باطن نے حق کے مقابلے میں باطل کے طرح طرح کے ہتھیاروں سے کام لیا تاکہ اس کو مٹا دیں لیکن حق تو باقی رہا اور باقی رہے گا کہ اس کی شان ہی باقی رہنا ہے اور ہمیشہ کیلئے باقی رہنا۔ البتہ حق کو مٹانے کیلئے زور لگانے والے خود مٹ مٹا کر قصہ پارینہ اور ہمیشہ کیلئے داستان عبرت بن گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔
10 پاداش عمل میں غور و فکر کی دعوت : سو پاداش عمل میں غور و فکر کی دعوت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ سو دیکھ لو کیسا تھا میرا عذاب ؟ پس آج کے اور اس کے بعد کے فرزندان باطل نے بھی بالآخر اسی قسم کے انجام سے دوچار ہونا ہے۔ اگر انہوں نے توبہ کر کے حق کی طرف رجوع نہ کیا کہ مرض دونوں کا ایک ہی ہے، اس لئے نتیجہ و انجام بھی دونوں کا لازماً ایک ہی ہوگا۔ رہ گئی یہ بات کہ ان کو یہ انجام کب اور کس شکل میں دیکھنا ہوگا اس کا علم اللہ ہی کے پاس ہے کہ وہی بہتر جانتا ہے کہ کس کی رسی کس قدر دراز کی جائے اور کس کو کب تک مہلت اور ڈھیل دی جائے اور کس کو کب دھر لیا جائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں پر " عذاب " کیلئے " عقاب " کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے جو کہ " عقب " سے مشتق و ماخوذ ہے۔ جسکے معنیٰ پیچھے اور انجام وغیرہ کے آتے ہیں۔ اسی لیے " ایڑھی " کو بھی عربی میں " عقب " کہا جاتا ہے۔ سو اس لفظ سے یہاں پر اس اہم حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اس طرح کے سرکشوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عذاب آتا ہے وہ دراصل انکے اعمال کا قدرتی ردِّعمل اور طبعی نتیجہ ہوتا ہے۔ سو یہ اللہ پاک کی طرف سے ایسے لوگوں پر کسی طرح کا کوئی ظلم نہیں ہوتا۔ لہذا ایسے لوگ ہرگز کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ہوتے۔ سو انکے انجام سے عبرت تو پکڑنی چاہیئے لیکن ان پر کسی طرح کا کوئی رحم اور ترس کبھی نہیں کھانا چاہیئے کہ وہ سب کچھ انکا خود اپنا ہی کیا دھرا ہوتا ہے۔ بلکہ ان کے اس انجام پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے ایسے اشرار کے ناپاک وجود سے اپنی دھرتی کو پاک کرلیا اور اپنے بندوں کو ان کے شرور و فتن سے بچا لیا ۔ فالحمد للہ رب العالمین وسحقا لاصحاب السعیر ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر مستقیم و ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین یا ذا الجلال والاکرام -
Ayah 40:611 کافروں پر دوزخ کی بات پکی ہوگئی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی طرح کافروں کے بارے میں پکی ہوگئی آپ کے رب کی یہ بات کہ وہ قطعی طور پر دوزخی ہیں "۔ یعنی جس طرح کہ یہ پہلی امتیں اپنے کیفرِکردار کو پہنچی ہیں اس طرح آپ کی قوم کے کافروں کے بارے میں بھی یہ بات ثابت اور پکی ہوگئی ہے کہ انہوں نے بھی اسی انجام سے دوچار ہونا ہے۔ اور انہوں نے بھی دوزخی بن کر رہنا ہے کہ جرم دونوں کا ایک ہی ہے۔ یعنی حق کا انکار، اس کی تکذیب اور اہل حق سے بغض وعناد اور عدوات و دشمنی اور نور حق کو بجھانے کے لئے کوشش کرنے کا جرم کہ یہ باتیں ان سب میں بطور قدر مشترک پائی جاتی ہیں۔ (جامع البیان، المراغی، ابن کثیر، روح، خازن وغیرہ) ۔ سو اس سے ایک تو اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ کافر بہرحال اپنے ہولناک انجام سے دوچار ہو کر رہیں گے۔ وہ اس سے بچ نہیں سکیں گے کہ یہ کفر و انکار کا لازمی انجام اور طبعی نتیجہ ہے۔ اور تاریخ اس کی شاہد ہے۔ اور دوسری حقیقت اس سے یہ واضح فرما دی گئی کہ کافروں کیلئے اسی عذاب پر بس نہیں جو ان پر اس دنیا میں آتا ہے۔ بلکہ یہ تو ایک طرح کی تمہید ہے اس اصل عذاب کی جو کہ انکو آخرت میں عذاب دوزخ کی شکل میں بھگتنا ہوگا جو کہ بڑا ہی سخت اور انتہائی ہولناک عذاب ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { کَذٰلِکَ الْعَذَابُ ، وَلَعَذَاب الآخِرَۃِ اَکْبَرُ ، لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ } ۔ (القلم : 33) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 40:712 اہل ایمان کیلئے حاملین عرش کی دعائیں : سو اس ارشاد سے اہل ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں اور حاملین عرش کی دعاؤں کے شرف و اعزاز کو بیان فرمایا گیا ہے جو کہ ایک عظیم الشان اور بےمثال شرف و اعزاز ہے۔ اور یہ وہی مقرب فرشتے ہیں جو " کروبی " کہلاتے ہیں۔ اور ان کا بڑا خاص مرتبہ و مقام ہے۔ (ابن کثیر، جامع البیان وغیرہ) ۔ سو یہ اہل ایمان کے لئے ایک بڑا عظیم الشان اور بےمثال شرف و اعزاز ہے کہ ایسے مقرب اور عظیم الشان فرشتے بھی ان کے لئے اس طرح کی عمدہ اور عظیم الشان دعائیں کرتے ہیں۔ نیز اس سے ایمان کی عظمت شان کا اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ اس کی بنا پر حاملین عرش جیسے ملائکہ کرام بھی ایمان والوں کے لئے ایسی ایسی دعائیں کرتے ہیں ۔ اَللّٰہُمَّ زِدْنَا مِنْہُ وَثبّتْنَا عَلَیْہِ ۔ سو اس ارشاد سے ایک طرف تو ان مشرکوں کی حماقت کو آشکارا فرمایا گیا جو فرشتوں کو خداوند قدوس کی خدائی میں شریک قرار دیتے اور ان کی پوجا کرتے ہیں۔ سو بتادیا گیا کہ فرشتے خدا کی خدائی میں شریک تو کیا ہوتے وہ اس کی عظمت شان اور اس کے خوف و خشیت سے لرزاں و ترساں اس کی تسبیح و تقدیس کرتے اور اس کے احکام بجا لاتے ہیں۔ اور دوسری طرف اس سے یہ حقیقت بھی واضح فرما دی گئی کہ دولت ایمان ایسی عظیم الشان اور بےمثال دولت ہے کہ اس کی برکت سے اور اس کے نتیجے میں حاملین عرش جیسے مقرب فرشتے بھی اس خاکی انسان کیلئے دعائیں کرتے ہیں۔ اور تیسری طرف اس سے فرشتوں کے وجود خیر میں پائے جانے والے جذبہ صدق و اخلاص، نصح و خیر خواہی، ہمدردی خلائق اور اہل ایمان سے محبت و ہمدردی کا بھی پتہ چلتا ہے۔ سو ہمیں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے کہ ہم بھی دوسروں کے لیے نصح و خیرخواہی کے پاکیزہ جذبات سے عبارت بن جائیں۔ ہم سے دوسروں کو فیض اور خیر پہنچے۔ کسی کے لیے ایذا رسانی اور شرانگیزی کا ذریعہ اور باعث نہ بنیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
13 دولت ایمان کی عظمت شان کا ایک نمونہ و مظہر : کہ اس کے بعد اور اس کے نتیجے میں انسان اتنا بلند مرتبہ اور اس قدر رفیع الشان بن جاتا ہے کہ فرشتے بھی اس کے لیے اس طرح دعائیں کرتے ہیں۔ سو کفر و شرک اور کفار و مشرکین کے اس انجام کے برعکس نور ایمان کی برکت اور اہل ایمان کی عظمت شان اور ان کا مرتبہ و مقام ملاحظہ ہو کہ ایمان کے بعد فرش پر چلنے والے ان خاکی پتلوں کا حاملین عرش اور کروبیوں جیسے مقرب فرشتوں کے ساتھ ایمانی رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔ اور نوری فرشتے ان خاکی لوگوں اور فرشی بندوں کے لئے اس طرح دعا و استغفار کرتے ہیں ۔ فالحمد للّٰہِ الَّذِیْ شَرَّفَنَا بِنَعْمَۃِ الاِیْمَانِ ۔ اَللّٰہُمَّ ثَبِّتْنَا عَلَیْہ وَزِدْنَا مِنْہُ بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین ۔ سو جن لوگوں نے فرشتوں کو خداوند قدوس کی خدائی میں شریک قرار دے کر اپنے لیے ہلاکت و تباہی کا سامان کیا ان کے لیے یہ حقیقت واضح رہنی چاہیے کہ فرشتے خدا کی خدائی میں شریک نہیں بلکہ وہ اس کے بندے ۔ عباد مکرمون ۔ ہیں۔ اور عام فرشتے تو درکنار حاملین عرش فرشتے بھی خداوند قدوس کے خوف و خشیت سے لرزاں و ترساں اور اس کی تسبیح وتحمید میں مشغول رہتے ہیں۔ اور۔ { یُوْمِنُوْنَ بِہ } ۔ کی تصریح سے واضح فرما دیا گیا کہ وہ الوہیت کے کسی زعم میں مبتلا نہیں بلکہ وہ بھی خدا کے بندوں کی طرح اس پر ایمان رکھتے ہیں۔
14 فرشتوں کی دعاؤں کے عظیم الشان نمونے : سو فرشتوں کی ان دعاؤں سے دعا اور آداب دعا سے متعلق عظیم الشان نمونے سامنے آتے ہیں۔ سو اس سے فرشتوں کی دعا کا ادب و انداز ملاحظہ ہو کہ پہلے کس عمدہ اور خوبصورت طریقے سے اپنے رب کی حمد و ثنا کرتے ہیں۔ پھر اس کے حضور اپنی درخواست پیش کرتے ہیں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ دعا کی قبولیت کے لئے اس کے آداب میں سے ہے کہ دعا سے پہلے اللہ پاک کی حمد و ثنا کی جائے۔ اور الحمد للہ کہ راقم آثم نے اپنی کتاب " قرآن و سنت کی مقدس دعائیں " میں قرآن و سنت کی مقدس تعلیمات کی روشنی میں دعا سے متعلق ایسے اہم آداب و شرائط اور قبولیت دعا کے مواقع وغیرہ جملہ امور کو یکجا طور پر باحوالہ جمع کردیا ہے۔ جو کوئی تیس سال پہلے چھپ کر شائع ہوچکی ہے ۔ فالحمد للّٰہِ رب العٰلمین ۔ اللہ تعالیٰ قبول فرما کر راقم آثم کے اہل و اولاد اور جملہ متعلقین و منتسبین کے لیے قیامت تک باقی رہنے والا صدقہ جاریہ بنا دے ۔ آمین ثم آمین۔ نیز اس ارشاد ربانی سے ان لوگوں کی غلط فہمی کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جو فرشتوں کو خدا کی خدائی میں ازخود شریک قرار دے کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اڑ کر بیٹھ جائیں گے اور ہمیں بخشوا کر چھوڑیں گے۔ خواہ ہمارے عمل کچھ ہی کیوں نہ ہوں۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ فرشتے اس کی خدائی میں شریک نہیں بلکہ اس کی عاجز مخلوق ہیں۔ جن کا کام اس کے حضور عاجزانہ دعا و درخواست کرنا ہے اور بس۔ اور دعا وہ برابر کر رہے ہیں لیکن ان کی یہ دعا اور سفارش ان لوگوں کیلئے ہے جو بدعقیدگی اور بدعملی سے توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کے راستے کے پیرو بن جائیں نہ کہ ان لوگوں کیلئے جو کہ راستے کی پیروی کرنے کی بجائے حق اور اہل حق کے دشمن بن جائیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف فرشتوں کی یہ دعائیں دعا والتجا کے عظیم الشان نمونے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
15 توبہ اور اتباع حق وسیلہ نجات و فلاح : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ توبہ اور سچی توبہ راہ ِحق کی پیروی و اتباع سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ یعنی یہ کہ مامورات پر چلتے اور تیرے حکم و ارشاد کے مطابق منہیات سے بچتے رہے۔ سو توبہ اور راہ ِحق کی پیروی و اتباع دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ ہے۔ اس لیے فرشتے ایسے ہی لوگوں کیلئے مغفرت و بخشش کی دعا کرتے ہیں۔ اور ایسے ہی لوگ فرشتوں کی دعاؤں کے مستحق بنتے اور ان سے سرفراز و فیضیاب ہوتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف فرشتوں کی اس دعا و استغفار سے ان کی اصل حیثیت کو واضح فرما دیا گیا کہ وہ خداوند قدوس کی خدائی میں شریک یا اس کی حکومت و بادشاہی میں کسی بھی درجے میں دخیل نہیں کہ جو چاہیں کردیں یا ناز و تدلل کے ذریعے اپنے رب سے جو چاہیں منوا دیں۔ ایسی کوئی بھی بات نہیں جیسا کہ مشرک لوگوں کے کچھ گروہوں نے سمجھ رکھا ہے۔ بلکہ ان کا کام صرف دعا و درخواست اور استغفار ہے۔ وہ اپنا معاملہ خدائے پاک کی رحمت اور اس کے علم ہی کے حوالے کرتے ہیں کہ تیری رحمت بھی سب پر حاوی ہے اور تیرا علم بھی ہر چیز پر محیط۔ سو معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
16 دوزخ کی آگ سے بچاؤ کی دعا و درخواست : سو فرشتوں کی اس دعا و درخواست اور اہل ایمان کے لیے بخشش و استغفار کے سلسلے میں مزید ذکر فرمایا گیا کہ وہ مزید عرض کرتے ہیں کہ " بچا دے تو انکو اے ہمارے مالک دوزخ کی آگ سے "۔ یعنی ان کو راہ حق پر دوام و استقامت نصیب فرما تاکہ یہ دوزخ کے دائمی عذاب سے بچ سکیں۔ کیونکہ تیرا وعدہ ہے کہ جو کوئی ایسا ہوگا اس کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیا جائے گا۔ اور تیرا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوسکتا ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی عظیم الشان دعائیں ہیں جو فرشتے اہل ایمان کیلئے کرتے ہیں۔ چناچہ حضرت مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے بندوں کا سب سے بڑا خیرخواہ فرشتوں کو پایا۔ اور ان کیلئے سب سے بڑا بدخواہ اور دھوکہ باز شیطان کو پایا۔ پھر انہوں نے اسی آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی۔ اور حضرت خلف بن ہشام البزار القاری کہتے ہیں کہ میں حضرت سلیم بن عیسیٰ کے سامنے تلاوت کر رہا تھا تو جب میں اس آیت کریمہ پر پہنچا تو وہ رو پڑے۔ پھر فرمایا اے خلف مومن کی عزت و شان اللہ تعالیٰ کے یہاں کتنی بڑی ہے۔ وہ اپنے بستر پر سویا پڑا ہوتا ہے مگر اللہ کے فرشتے اس کیلئے بخشش کی دعائیں کر رہے ہوتے ہیں۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ سو ایمان کی دولت سب سے بڑی اور عظیم الشان اور بےمثال دولت ہے جو انسان کو ایسی عظمتوں اور بلندیوں سے سرفراز و سرشار کردیتی ہے ۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بہذہ النعمۃ العظمی نعمۃ الایمان والیقین بمحض منہ وکرمہ والاحسان ۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ یا ذا الجلال والاکرام قدیم المن والاحسان ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
17 فرشتوں کی دعا جنتیوں کی آل اولاد کیلئے : یعنی ان متعلقین میں سے ان کے لیے جو اس کے لائق ہوں کہ وہ ایمان و یقین اور عقیدئہ صحیحہ کی دولت سے سرشار ہوں۔ کیونکہ کفر و شرک کی نحوست و نجاست کے ساتھ کوئی جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ ایمان اس کے لئے اولین شرط ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَتَہُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ } ۔ (الطور : 21) سو فرشتے اہل ایمان کے حق میں یہ دعا فرماتے ہیں کہ مالک ! ان کے ساتھ ان کے ان ماں باپ اور بیوی بچوں کو بھی جنت میں داخل فرما دے جو ایمان رکھتے ہوں۔ تاکہ اپنے اہل و عیال کی رفاقت و معیت سے وہاں پر ان کا لطف کامل ہو اور ان کا سرور دوبالا۔ چناچہ حضرت سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں اور طبرانی و ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے یہ مضمون مرفوعاً بھی روایت کیا ہے کہ مومن جنت میں داخل ہونے کے بعد اپنے رب سے عرض کرے گا کہ اے میرے مالک میرے ماں باپ اور اہل و عیال کہاں ہیں ؟ تو اسے بتایا جائے گا کہ ان کے اعمال چونکہ تمہارے برابر نہیں تھے اس لئے وہ تمہارے ساتھ اس طبقے میں نہیں ہیں۔ وہ عرض کرے گا کہ اے میرے مالک ! میں جو عمل کرتا تھا وہ صرف اپنے ہی لئے نہیں کرتا تھا بلکہ ان کے لئے بھی کرتا تھا۔ تو اس کے بعد اس کی خواہش کی بنا پر ان کو بھی اس کے پاس پہنچا دیا جائے گا۔ اس پر حضرت سعید بن جبیر ؓ نے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی۔ (جامع البیان، المراغی، ابن جریر، ابن کثیر اور قرطبی وغیرہ) ۔ حضرت مطرف بن عبداللہ بن الشخیر ؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ایماندار بندوں کے لئے سب سے زیادہ خیر خواہ اللہ تعالیٰ کے یہ فرشتے ہیں جو ان ایمان والوں کے لئے یہ دعا کرتے ہیں۔ اور ایمان والوں کے لئے سب سے زیادہ کھوٹ رکھنے والا شیطان ہے۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور شان کرم ملاحظہ ہو کہ ان کو ساتھ ملانے کے لئے اس مومن کے درجے کو گرا کر ان کے برابر نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کے مراتب کو بڑھا کر اس کے برابر کردیا جائے گا ۔ فَسبحان اللّٰہِ الکریم الوہَّاب ۔ سو اس خالق ومالک کا کام اور اس کی شان نوازنا ہی نوازنا ہے۔ ہر کسی کو نوازنا اور ہر حال میں اور ہر اعتبار سے نوازنا۔ مگر جو اپنی بدبختی اور خبث باطن کی بنا پر اس کی طرف سے منہ موڑ لے اور اپنے کاسہ گدائی کو اس کے آگے پھیلانے کی بجائے اس کو اوندھا اور الٹا کر دے اس کو اس واہب مطلق کی بخششوں سے کوئی فائدہ آخر کس طرح پہنچ سکتا ہے ؟ سو قصور ادھر سے نہیں کہ ادھر سے تو بخشش ہی بخشش اور عطا ہی عطا ہے۔ بلکہ قصور سب کا سب ادھر سے ہے کہ نہ جھولی پھیلائی جاتی ہے اور نہ کاسہ گدائی سیدھا رکھا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 40:818 برائیوں کے نتائج سے بچانے کی دعا و درخواست : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتے اپنی دعا و درخواست میں مزید عرض کرتے ہیں " اور بچا دے تو انکو اے ہمارے مالک ! برائیوں سے "۔ یعنی برائیوں کے نتائج سے جس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک تو اس طرح کہ ان کو ان برائیوں کے ارتکاب سے بچا تاکہ یہ ان کے برے انجام اور نتیجہ سے بچ سکیں کہ برائی کا نتیجہ بہرحال برا ہے۔ نیز اگر ان سے ایسی برائیوں کا صدور و ارتکاب بشری کمزوریوں کی بنا پر ہوجائے تو تو ان کو معاف فرما دے۔ تو " سّیآت " کا اطلاق برائیوں پر بھی ہوتا ہے اور برائیوں کے مآل و نتائج پر بھی۔ اس لئے یہاں پر یہ دونوں مفہوم مراد ہوسکتے ہیں۔ (ابن کثیر، روح، ابوالسعود، قرطبی اور مدارک وغیرہ) ۔ یہاں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ آخرت میں انسان کو اچھا برا جو بھی کوئی صلہ ملے گا وہ درحقیقت انسان کے اپنے اعمال ہی ہوں گے جو وہاں پر اپنی اصل اور حقیقی شکل میں سامنے آجائیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا وَّلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا } ۔ (الکہف : 49) اور " سیئات " بول کر اس سے ان کے نتائج مراد لینا دراصل بلاغت کے اس معروف اسلوب پر مبنی ہے کہ کبھی فعل اور اس کے نتیجے کے درمیان تلازم ظاہر کرنے کے لیے فعل بول کر اس کا نتیجہ وانجام مراد لیا جاتا ہے۔ بہرکیف فرشتے ایمان والوں کے لیے اپنی دعا و درخواست کے دوران اپنے رب سے مزید عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو ان کو برائیوں سے بچا لے کہ اول تو ان سے برائیاں سرزد ہی نہ ہونے پائیں اور اگر کبھی سرزد ہوجائیں تو ان کو ان سے اس طرح جھاڑ دے اور ان کو ایسا معاف فرما دے کہ یہ انکے شرور و نتائج سے محفوظ رہیں ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 40:919 اصل اور حقیقی کامیابی نعیم جنت سے سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " یہی ہے بڑی کامیابی " یعنی نعیم جنت سے سرفرازی جو کہ اصل اور حقیقی کامیابی ہے۔ جس کو اصل مقصود بنانا چاہیے۔ اور جس کے لئے انسان کو کوشش کرنی چاہیئے۔ کہ یہ کامیابی حقیقی دائمی اور ابدی ہے۔ اور اس کے سامنے کسی اور کامیابی کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہوسکتی۔ سو کیسی عمدہ پیاری اور جامع دعائیں ہیں یہ جو ایسے مقرب فرشتے اہل ایمان کے لئے کرتے ہیں۔ اور کتنی ہمدردی و محبت ہے فرشتوں کو ایمان والوں سے۔ اسی لئے حضرت مطرف بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے بندوں کے لئے فرشتوں سے بڑھ کر کوئی خیر خواہ نہیں پایا اور شیطان سے بڑھ کر ان کے لئے کوئی دشمن اور دھوکہ باز نہیں دیکھا۔ (ابن کثیر، مراغی وغیرہ) ۔ اور کتنی عظیم دولت ہے یہ ایمان کی دولت کہ اس کے باعث اس خاکی انسان کے لئے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے عرش معلی کے حاملین اور مقرب فرشتے ایسی ایسی دعائیں کرتے ہیں ۔ فلک الحمد یاربی وَلَکَ الشُّکْرُ عَلٰی مَا شَرَّفْتَنَا بِہِذِہ النِّعْمَۃِ فَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا عَلی الصِّراط الْمُسْتَقِیْمِ وَخُذْنَا بِنَوَاصِیْنَا اِلٰی مَا فِیْہِ حُبُّکَ وَرَضَاکَ یا ارحم الراحمین ۔ سو فرشتوں کی اس دعاء و استغفار سے ان کی اصل حقیقت اور حیثیت واضح ہوجاتی ہے کہ ان کا کام اور ان کی شان صرف دعا کرنا ہے جو وہ اہل زمین اور اہل ایمان کے لیے ہمیشہ کرتے ہیں۔ اور دعا و استغفار سے آگے بڑھ کر خدا کی خدائی میں شریک یا دخیل بن جانا جس طرح کہ مشرکین کے بعض گروہوں نے سمجھ رکھا ہے نہ ان کی شان ہے اور نہ ان کے بس میں۔ پس جو لوگ اس طرح کے من گھڑت اور مشرکانہ تصورات کی بنا پر نچنت اور بےفکر ولاپروا ہو کر بیٹھے ہیں وہ بڑے گمراہ اور نہایت خسارے میں ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 40:1020 منکروں اور مشرکوں کی تحقیر و تذلیل کا ایک منظر : سو اس سے کافروں کیلئے تحقیر و تذلیل کا ایک اور منظر پیش فرمایا گیا ہے اور اس میں ان کیلئے تنبیہ و تذکیر کا بڑا سامان ہے۔ سو اس طرح کی توبیخ و تقریع سے ایسے بدبختوں کے باطن کی مخفی آگ جو ان میں یاس و حسرت کی صورت میں پہلے ہی جل رہی ہوگی اور تیز ہوجائے گی۔ اور اس طرح یہ لوگ دوزخ کی ظاہری ہولناک آگ کے ساتھ باطن کی اس غیر مرئی آگ کے دوہرے عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ کافر لوگ تو آج اپنے خودساختہ شریکوں کے اعتماد پر مطمئن بیٹھے ہیں کہ ہم کچھ بھی کریں کوئی پروا نہیں۔ یہ ہمیں وہاں اونچے اونچے درجات و مراتب دلوا دیں گے۔ لیکن کل وہاں پر ہوگا یہ کہ انکو پکار کر کہا جائے گا کہ جتنا غصہ آج تم لوگوں کو اپنی اس محرومی اور برے انجام اور گمراہ لیڈروں کی گمراہی اور ان کی کج اندیشی پر آ رہا ہے اس سے کہیں زیادہ غصہ اور غضب اللہ پاک کو تم لوگوں پر اس وقت آیا کرتا تھا جبکہ تم کو ایمان کی دعوت دی جاتی تھی۔ مگر تم لوگ اپنی رعونت اور اپنے کبر و غرور میں اس سے منہ موڑا کرتے تھے۔ سو اب تم لوگ اپنی اس رعونت اور خداوند قدوس کے اس غیظ و غضب کا نتیجہ و انجام بھگتو اور بھگتنے رہو۔ اور اپنی اس بدبختی پر سر پیٹو۔ اب یہاں پر تمہاری مدد کرنے والا کوئی نہیں۔ یہ سب کچھ تمہارے اپنے ہی کیے کرائے کا نتیجہ ہے اور یہ سب کچھ تمہیں اتمام حجت کے بعد پیش آ رہا ہے۔ اس لیے اب تم اسی کے مستحق اور سزاوار ہو۔ سو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا یہ کتنا بڑا انعام و احسان ہے کہ اس نے آخرت کے اس جہان غیب میں پیش آنے والا یہ سب ماجرا اس قدر صراحت و وضاحت سے اتنا پیشگی اس دنیا ہی میں بتادیا لیکن غافل انسان اگر اس کے باوجود آنکھ نہ کھولے تو یہ کتنی بڑی بدبختی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 40:1121 کفار و منکرین کی یاس و حسرت کا ایک اور منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ منکر لوگ اس روز کہیں گے کہ " اے ہمارے رب واقعی آپ نے ہمیں دو مرتبہ موت بھی دی اور دو مرتبہ زندگی بھی "۔ کہ پہلے عدم محض سے وجود میں لایا پھر دنیاوی زندگی کے بعد موت دی۔ اور اس موت کے بعد اب دوبارہ زندہ کر کے اٹھا دیا۔ جیسا کہ سورة بقرہ میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ باللّٰہِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُم ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُم } ۔ (البقرۃ : 28) ۔ سو ان میں سے اپنی دونوں موتوں اور دنیاوی زندگی کو تو ہم پہلے ہی مانتے تھے کہ وہ بدیہی تھیں۔ البتہ اس دوسری زندگی کہ جو اب ہمیں ملی ہے اس کے ہم منکر تھے۔ مگر اب اس کا بھی مشاہدہ کرلیا اور اسے بھی مان لیا۔ مگر اس وقت کا یہ ماننا ان کو کوئی کام نہ دے سکے گا۔ کیونکہ یہ ایمان تو ایمان بالمشاہدہ ہوگا جبکہ مطلوب ایمان بالغیب ہے جو وہاں ملنا ممکن نہ ہوگا ۔ { وَاَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ } ۔ (سبا : 52) ۔ بہرکیف یہ لوگ نہایت حسرت اور افسوس سے کہیں گے کہ کیا اب ہمیں دوبارہ دنیا میں جانے کا موقع مل سکتا ہے ؟ تاکہ وہاں جاکر ایمان لے آئیں اور خوب خوب کمائی کریں۔ مگر اس کے بعد ان کو ایسا کوئی موقع کیونکر مل سکے گا ؟ اس کا موقع تو بہرحال ہاتھ سے نکل چکا ہوگا اور اس کے بعد ان کیلئے یاس و حسرت کے سوا کچھ باقی نہیں رہ جائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جیسا کہ دوسرے موقع پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَتَرَی الظَّالِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ ہَلْ اِلٰی مَرَدٍّ مِنْ سَبِیْلٍ } ۔ (الشوریٰ : 44) ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
22 منکرین کا بےوقت کا اقرار جرم و قصور : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت منکرین کہیں گے کہ ہم نے اعتراف کرلیا اپنے تمام گناہوں کا۔ یعنی زندگی بھر کے تمام گناہوں کا اور خاص کر حیات بعد الموت کے انکار کے اس بڑے گناہ کا جو کہ گناہوں کا گناہ ہے۔ اور جس کی کو کھ سے آگے بیشمار گناہ اور طرح طرح کے جرائم جنم لیتے ہیں۔ سو اپنے ایسے تمام گناہوں اور جرائم کا آج ہم صاف وصریح طور پر اقرار و اعتراف کرتے ہیں۔ تو کیا اب ہمارے لئے دنیا میں واپسی کی کوئی صورت ممکن ہوسکتی ہے ؟ تاکہ ہم اب ایمان و یقین لاکر اور اعمال صالحہ کی پونجی جمع کرکے اپنی گزشتہ تقصیرات اور کوتاہیوں کا تدارک اور تلافی مافات کرسکیں۔ مگر اب اس کا موقع کہاں۔ اب تو ایسے بدنصیبوں کے لئے ہمیشہ ہمیش کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت جو آج ہمیں ملی ہوئی ہے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے عطا فرمودہ کس قدر عظیم الشان نعمت اور کتنی بڑی دولت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک لمحہ سے صحیح طور پر مستفید ہونے کی توفیق وسعادت بخشتے ۔ آمین ثم آمین۔ نیز اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ کتنی بڑی نعمت ہے قرآن حکیم کی یہ نعمت جو ہمیں غیب کے ان عظیم الشان اور جلیل القدر حقائق سے اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ آگاہی بخشتی ہے۔ جن کا اور کہیں سے پتہ چلنا ممکن ہی نہیں۔ اور کتنا بڑا کرم و احسان ہے اس ربِّ رحمن رحیم کا جس نے محض اپنے فضل و کرم سے یہ عظیم الشان کتاب نازل فرما کر ہمیں ان غیبی حقائق سے اس طرح آگاہ فرمایا دیا تاکہ ہم آنے والے اس یوم عظیم کے لئے تیاری کرسکیں اور تاکہ کل کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں خبر نہ تھی ۔ { اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَائَ نَا مِنْ بَشِیْرٍ وَّلا نَذِیْرٍ } ۔ فالحمد للّٰہِ رَبِّ العالمین وَہُوَ الموفِّقُ لِکُلِّ خَیْرٍ وِبِہٖ نَسْتَعِیْنُ ۔ پھر بھی اس سے غفلت برتنا کتنی بڑی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف منکرین اس وقت اپنے جرم و قصور کا اعتراف تو کریں گے مگر بےوقت کا وہ اقرار و اعتراف بےسود اور لا حاصل ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سوائے ان کی آتش یاس و حسرت میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 40:12–1326 نشانہائے قدرت میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اللہ وہی ہے جو تمہیں دکھاتا ہے اپنی طرح طرح کی نشانیاں تاکہ تم لوگ غور و فکر سے کام لو "۔ یعنی اس کائنات میں پھیلی ہوئی طرح طرح کی وہ نشانیاں جو اس کی قدرت و وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں ۔ وَفِیْ کُلِّ شَئٍ لَہ شَاہِدٌ ۔ یَدُلُّ عَلیٰ اَنہ واحِدٌ۔ سو کائنات عالم کی اس کھلی کتاب میں پھیلی بکھری یہ نشانیاں اپنی زبان حال سے پکار پکار کر اس کے خالق ومالک کی قدرت، اس کی وحدانیت، اس کی حکمت بےنہایت اور اس کی رحمت بےپایاں کی گواہی دے رہی ہیں تاکہ انسان ان میں غور و فکر سے کام لے کر راہ حق و ہدایت کو اپنا سکے اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور ہو سکے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
27 سامان رزق و روزی میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی اتارتا ہے تمہارے لیے آسمان سے روزی "۔ یعنی وہ بارش اور پانی جس سے اس زمین میں طرح طرح کی چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ نیز روزی کی تقسیم اور اس کے بسط و قبض سے متعلق احکام بھی اوپر ہی سے آتے ہیں۔ سو وہی آسمان سے بارش نازل فرماتا ہے اور اس کے ذریعے زمین سے طرح طرح کی پیداواریں نکالتا ہے۔ سو اس میں علاوہ دوسرے بہت سے اہم حقائق کے اس اہم اور بنیادی حقیقت کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ زمین اور آسمان دونوں میں اور اس پوری کائنات کے ہر حصے میں ایک ہی ارادہ کارفرما ہے۔ یعنی خداوند قدوس کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کا۔ سو اس میں توحید خداوندی کی ایک عظیم الشان دلیل پائی جاتی ہے۔ پس آسمان اور زمین دونوں ایک ہی خدا کے حکم و تصرف میں ہیں۔ سو آسمان و زمین کی اس حکمتوں بھری کائنات میں ہر طرف عظیم الشان دلائل پھیلے بکھرے ہیں جو دلالت کرتے ہیں اس کے وجود باجود اور اس کی قدرت بےنہایت، حکمت بےغایت اور رحمت و عنایت شاملہ پر۔ جن کا تقاضا ہے کہ انسان دل وجان سے اپنے اس خالق ومالک کے حضور جھک جھک جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
28 انابت اور رجوع الی اللہ کی اہمیت : ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ سبق نہیں لیتا مگر وہی جو رجوع کرتا ہے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اس کی طرف سچے دل سے رجوع کئے بغیر ہدایت و عبرت کی دولت نصیب نہیں ہوسکتی۔ سو اس سے انابت اور رجوع الی اللہ کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے کہ اس سے انسان کو سبق لینے اور صحیح سمت میں قدم اٹھانے کی توفیق نصیب ہوتی ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو خداوند قدوس کی یہ نشانیاں ہیں تو سب ہی کے لیے اور اس کی یہ مختلف شانیں لوگوں کی تعلیم و تذکیر کے لیے ظاہر تو برابر ہوتی رہتی ہیں لیکن ان سے فائدہ وہی اٹھا سکتا ہے جو اس طرف متوجہ ہو اور ایسا چاہتا ہو۔ اور جو اندھا بہرا بن کر اپنی خواہشات کے پیچھے لگ جائے اور کسی عبرت و بصیرت کا ارادہ ہی نہ کرتا ہو اس کی آنکھیں کسی بڑی سے بڑی نشانی سے بھی نہیں کھل سکتیں۔ اللہ اتباع ہویٰ اور قسوت قلب سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 40:1429 اللہ ہی کو پکارنے کا حکم وارشاد : سو اس ارشاد میں مسلمانوں کو ہدایت فرمائی گئی کہ مشرکوں کو اگر توحید سے چڑ ہے تو ہوتی رہے۔ تم لوگ اللہ وحدہ لا شریک ہی کو پکارو۔ سو ارشاد ہوا کہ " تم لوگ اللہ ہی کو پکارو اسی کیلئے خالص کرتے ہوئے دین کو "۔ یعنی جب تمہیں معلوم ہوگیا کہ کائنات کی ہر چیز اس کی وحدانیت کی گواہی دے رہی ہے اور تمہیں یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ہدایت و توفیق اس کی طرف سچے دل سے رجوع کئے بغیر نہیں مل سکتی تو اب تم اپنی عبادت کو اس کے لئے خالص کرتے ہوئے صرف اسی کو پکارو۔ اور کفار و مشرکین کو تمہارا یہ طریقہ خواہ کتنا ہی برا کیوں نہ لگے تم اس کی کوئی پروا مت کرو۔ ڈنکے کی چوٹ پر حق کا اعلان وبیان کرو اور اللہ وحدہ لا شریک ہی کو پکارو خالص اطاعت کے ساتھ اگرچہ یہ بات کافروں کو کتنی ہی بری لگے کہ معبود برحق تو بہرحال وہی وحدہ لا شریک ہے۔ لیکن افسوس کہ اس طرح کے صاف وصریح اوامرو ارشادات کے باوجود آج کا کلمہ گو مشرک غیر اللہ ہی کو پکارتا ہے۔ اور وہ مخلوق میں سے طرح طرح کی فانی ہستیوں کو از خود حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر پوجتا پکارتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ نفس و شیطان کے ہر شر سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 40:1530 اللہ بڑے ہی بلند درجوں والا ہے : اتنے بلند درجوں والا کہ اس کی بارگہ اقدس تک پہنچنے کے لیے فرشتوں کو اور فرشتوں کے سردار جبریل امین کو بھی پچاس ہزار برس لگتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { تَعْرُجُ الْمَلٓئِکُۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ فِی یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہُ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ } ۔ ( المعارج :4) ۔ یعنی سب سے بلند اور انتہائی عظمت والا اور اس دنیا میں جس کسی کو بھی جو کوئی مرتبہ و درجہ ملتا ہے وہ بھی اسی کی عطا و بخشش سے ملتا ہے۔ اس کی عظمت و شان اور اس کی خدائی میں شرکت کا کسی کو یارا نہیں ہوسکتا۔ اس تک کسی کی رسائی ممکن نہیں بجز اس کے کہ کوئی اس کی عبدیت و بندگی میں کمال حاصل کرکے اس کے قرب سے سرفراز ہوسکے۔ سو اس سے مشرکین کے تمام خودساختہ شرکیہ وسائط کی جڑ نکال دی گئی ۔ فالحمدللہ رب العالمین ۔ سو موجودات میں سب سے بڑی شان اسی کی ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں اور ہر طرح سے اور ہر اعتبار سے محتاج ہیں۔ اور وہ سب سے غنی اور بےنیاز ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی خاص عنایتوں کے سائے میں رکھے ۔ آمین۔
31 وہی ہے عرش کا مالک : یعنی وہ اس عرش کا مالک ہے جو کہ عالم اجسام میں سب سے بڑا ہے اور عالم ارواح بھی اس کے آگے مسنحر ہے۔ جیسا کہ آگے فرمایا جا رہا ہے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ عرش ساری کائنات پر چھت کی مانند ہے اور باقی سب مخلوق اس کے دائرے کے اندر ہے۔ سو ایسی عظمتوں اور رحمتوں کی مالک ذات تک رسائی کس کی ہوسکتی ہے ؟ سو اس کا عرش تخت سلطنت کی طرح ہے۔ اور اپنی اس کائنات پر حکمرانی بھی وہی فرما رہا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو وہ ہر لحاظ اور ہر اعتبار سے وحدہ لا شریک ہے۔ اس کی خدائی میں کسی کی بھی اور کسی بھی درجے میں کسی شرکت کا کوئی سوال نہیں۔ سو جن لوگوں نے ازخود اس کے شریک ٹھہرا رکھے ہیں وہ یقینا راہ حق و ہدایت سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
32 روح سے مراد وحی خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اتارتا ہے روح یعنی وحی اپنے حکم سے۔ سو " روح " سے یہاں پر مراد وحی ہے کہ اس سے قلوب کی زندگی ہے۔ اسی لئے قرآن پاک کو اور اس کے لانے والے فرشتے جبریل امین کو بھی " روح " فرمایا گیا ہے۔ سو جس طرح انسان کی مادی اور حیوانی زندگی مادی اور حیوانی روح کی محتاج ہوتی ہے اسی طرح اس کے باطن اور اس کے دل کی زندگی دین اور وحی سے ہے۔ ورنہ وہ مردہ ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ وحی اتارتا ہے اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے "۔ نیز جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِنَّہُ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الاَمِیْنُ عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُوْمِنِیْنَ } ۔ (الشعرائ : 192-193) ۔ والحمد للہ جل وعلا بکل حال من الاحوال -
33 اِنزال وحی کا مقصد انذار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی نازل فرماتا ہے تاکہ وہ خبردار کرے ملاقات کے دن سے "۔ یعنی جس دن سب ملیں گے سو اس دن ارواح ملیں گے۔ یعنی ارواح اپنے اجسام سے۔ پھر عابد اپنے معبود سے اور عامل اپنی سزا و جزا سے ملیں گے۔ اور اس دن سب کی اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی ہوگی اور ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا صلہ اور پھل پائے گا۔ سو وحی و رسالت کا اصل مقصد لوگوں کو اس دن سے آگاہ اور خبردار کرنا ہے تاکہ غافل دنیا بیدار ہو سکے اور اپنے مآل وانجام کے لیے فکر اور کوشش کرسکے۔ اور ہمیشہ کے ہاویہ ہلاکت و تباہی میں گرنے سے بچ سکے۔ قبل اس سے کہ فرصت حیات اس کے ہاتھ سے نکل جائے اور اس کو ہمیشہ کے عذاب کا لقمہ بننا پڑے۔ اور اس طور پر پھر اس کے لیے تدارک و تلافی کی کوئی صورت ممکن نہ رہے۔ سو یہ اس مالک الملک ربِّ رحمان کا ایسا عظیم الشان اور بےمثال احسان ہے جس کی عظمتوں کا کوئی کنارہ نہیں ہوسکتا اور جس جیسا دوسرا کوئی احسان ممکن نہیں ہوسکتا۔ مگر دنیا ہے کہ اس سب کے باوجود خواب خرگوش میں مست اور غفلت و لاپرواہی میں ڈوبی پڑی ہے اور اس کو اپنے انجام کی کوئی پروا نہیں ۔ الا ما شاء اللہ والعیاذ باللہ العظیم -